تازہ ترین
قوم کے نام پی ایم مودی کا خطاب : ’چین-پٹرول‘ پر خاموشی، مفت راشن کے علاوہ کچھ نہیں
پی ایم مودی نے کہا کہ لاک ڈاؤن کے دوران بہت سنجیدگی سے قوانین و ضوابط پر عمل کیا گیا۔ اب حکومتوں کو مقامی انتظامیہ کو اور ملک کے باشندوں کو پھر سے اسی طرح کے احتیاط کا مظاہرہ کرنے کی ضرورت ہے۔
خبراردو:-
وزیر اعظم نریندر مودی نے آج ملک کے نام خطاب کیا جس کو لے کر لوگوں میں کافی جوش دیکھنے کو مل رہا تھا۔ لیکن جب انھوں نے اپنی تقریر مکمل کی تو لوگ یہ دیکھ کر حیران رہ گئے کہ انھوں نے سوائے مفت راشن تقسیم کرنے کی اسکیم میں توسیع کے علاوہ کچھ بھی خاص نہیں کہا۔ نہ ہی انھوں نے لداخ میں چین کی حرکتوں کے بارے میں کچھ کہا اور نہ ہی پٹرول و ڈیزل کی لگاتار بڑھتی قیمتوں کا کوئی تذکرہ کیا۔ انھوں نے صرف کورونا وبا کے پھیلتے اثرات کے تعلق سے عوام کے سامنے کچھ باتیں رکھیں۔
انھوں نے کہا کہ اَن لاک-1 کے بعد لوگوں نے لاپروائی کا مظاہرہ کرنا شروع کر دیا جو کہ کورونا انفیکشن پھیلنے کے لیے بہت خطرناک ہے اور لوگوں کو احتیاط سے کام لینا چاہیے۔ پی ایم مودی نے اپنے خطاب میں کیا کچھ کہا، وہ من و عن ‘قومی آواز’ کے قارئین کے لیے پیش خدمت ہے۔
ساتھیو نمسکار!
کورونا عالمی وبا کے خلاف لڑتے لڑتے اب ہم اَن لاک-2 میں داخل ہو رہے ہیں۔ اور ہم اس موسم میں بھی داخل ہو رہے ہیں جہاں سردی، زکام، کھانسی، بخار، یہ ساری چیزیں ہوتی ہیں۔ ایسے میں میری آپ سبھی ملک کے باشندوں سے گزارش ہے کہ اپنا دھیان رکھیں۔
ساتھیو، یہ بات درست ہے کہ اگر کورونا سے ہونے والی شرح اموات کو دیکھیں تو دنیا کے کئی ممالک کے مقابلے میں ہندوستان سنبھلی ہوئی حالت میں ہے۔ وقت پر کیے گئے لاک ڈاؤن اور دیگر فیصلوں نے ہندوستان میں لاکھوں لوگوں کی زندگی بچائی ہے لیکن ہم یہ بھی دیکھ رہے ہیں کہ جب سے ملک میں اَن لاک-1 ہوا ہے، انفرادی اور سماجی رویہ میں لاپروائی بڑھتی ہی چلی جا رہی ہے۔ پہلے ہم ماسک کو لے کر، دو گز کی دوری کو لے کر، 20 سیکنڈ تک دن میں کئی بار ہاتھ دھونے کو لے کر بہت محتاط تھے۔ لیکن آج جب ہمیں زیادہ احتیاط کی ضرورت ہے تو لاپروائی کرنا بہت ہی فکر انگیز ہے۔
ساتھیو، لاک ڈاؤن کے دوران بہت سنجیدگی سے قوانین و ضوابط پر عمل کیا گیا۔ اب حکومتوں کو مقامی انتظامیہ کو، ملک کے باشندوں کو پھر سے اسی طرح کے احتیاط کو دکھانے کی ضرورت ہے۔ خصوصی طور سے کنٹنمنٹ زون پر تو ہمیں بہت دھیان دینا ہوگا۔ جو بھی لوگ ضابطوں پر عمل نہیں کر رہے، ہمیں انھیں ٹوکنا ہوگا، روکنا ہوگا اور سمجھانا بھی ہوگا۔ ابھی آپ نے خبروں میں دیکھا ہوگا کہ ایک ملک کے وزیر اعظم پر 13 ہزار روپے کا جرمانہ اس لیے لگ گیا کیونکہ وہ پبلک پلیس پر ماسک کے بغیر چلے گئے تھے۔ ہندوستان میں بھی مقامی انتظامیہ کو اسی چستی سے کام کرنا چاہیے۔ یہ 123 کروڑ ہندوستانیوں کی حفاظت کرنے کی مہم ہے۔ ہندوستان میں گاؤں کا پردھان ہو یا ملک کا پردھان منتری، کوئی بھی قانون سے اوپر نہیں۔
ساتھیو، لاک ڈاؤن کے دوران ملک کی سب سے بڑی ترجیح رہی کہ ایسی حالت پیدا نہ ہو کہ کسی غریب کے گھر میں چولہا نہ جلے۔ مرکزی حکومت ہو، ریاستی حکومتیں ہوں، سول سوسائٹی کے لوگ ہوں، سبھی نے پوری کوشش کی ہے کہ اتنے بڑے ملک میں کوئی غریب بھائی بہن بھوکا نہ سوئے۔ ملک ہو یا شخص، وقت پر فیصلہ لینے سے، سنجیدگی سے فیصلہ لینے سے کسی بھی مشکل کا مقابلہ کرنے کی طاقت کئی گنا بڑھ جاتی ہے۔ اس لیے لاک ڈاؤن ہوتے ہی حکومت پردھان منتری غریب کلیان یوجنا لے کر آئی۔ اس منصوبہ کے تحت غریبوں کے لیے 1.75 لاکھ کروڑ روپے کا پیکیج دیا گیا۔
ساتھیو! گزشتہ تین مہینوں میں 20 کروڑ غریب فیملی کے جن دھن کھاتوں میں سیدھے 31 ہزار کروڑ روپے جمع کروائے گئے۔ اس دوران 9 کروڑ سے زیادہ کسانوں کے بینک کھاتوں میں 18 ہزار کروڑ روپے جمع ہوئے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی گاؤں میں مزدوروں کو روزگار دینے کے لیے پردھان منتری غریب کلیان روزگار ابھیان تیز رفتار کے ساتھ شروع کر دیا گیا ہے۔ اس پر حکومت 50 ہزار کروڑ روپے خرچ کر رہی ہے۔
لیکن ساتھیو، ایک اور بڑی بات ہے جس نے دنیا کو بھی حیران کر دیا ہے۔ حیرت میں ڈبو دیا ہے۔ وہ یہ کہ کورونا سے لڑتے ہوئے ہندوستان میں 80 کروڑ سے زیادہ لوگوں کو 3 مہینے کا راشن یعنی فیملی کے ہر رکن کو 5 کلو گیہوں یا چاول مفت دیا گیا۔ اس کے علاوہ فی فیملی کو ہر مہینے ایک کلو دال بھی مفت مہیا کرئی گئی۔ یعنی ایک طرح سے دیکھیں تو امریکہ کی کل آبادی سے ڈھائی گنا زیادہ لوگوں کو، برطانیہ کی آبادی سے بارہ گنا زیادہ لوگوں کو، اور یوروپی یونین کی آبادی سے تقریباً دو گنا سے زیادہ لوگوں کو ہماری حکومت نے مفت اناج دیا ہے۔
ساتھیو، آج میں اسی سے جڑا ایک اہم اعلان کرنے جا رہا ہوں۔ ساتھیو، ہمارے یہاں بارش کے موسم کے دوران اور اس کے بعد خصوصی طور پر زرعی سیکٹر میں، میڈیکل سیکٹر میں بھی زیادہ کام ہوگا۔ دیگر سیکٹرس میں تھوڑی سستی رہتی ہے۔ جولائی سے دھیرے دھیرے تہواروں کا بھی ماحول بننے لگتا ہے۔ اب آپ دیکھیے کہ 5 جولائی کو گرو پورنیما ہے، پھر ساون شروع ہوگا، پھر 15 اگست، گنیش چترتھی، اونم، نوراتری، درگا پوجا، دیوالی… تہواروں کا یہ وقت ضرورتیں بھی بڑھاتا ہے، خرچ بھی بڑھاتا ہے۔ ان سبھی باتوں کو دھیان میں رکھتے ہوئے یہ فیصلہ لیا گیا ہے کہ پردھان منتری غریب کلیان اَن یوجنا کی توسیع اب دیوالی اور چھٹھ پوجا تک یعنی نومبر مہینے کے آخر تک کر دیا جائے گا۔ یعنی 80 کروڑ لوگوں کو مفت اناج دینے والا منصوبہ اب جولائی، اگست، ستمبر، اکتوبر، نومبر میں بھی نافذ رہے گا۔
حکومت کے ذریعہ ان پانچ مہینوں کے لیے 80 کروڑ سے زیادہ غریب بھائی بہنوں کو ہر مہینے فیملی کے ہر رکن کو 5 کلو گیہوں یا 5 کلو چاول مفت مہیا کرایا جائے گا۔ اور ساتھ ہی ہر فیملی کو ہر مہینے ایک کلو چنا بھی مفت دیا جائے گا۔ ساتھیو، پردھان منتری غریب کلیان اَن یوجنا کی اس توسیع میں 90 ہزار کروڑ روپے سے زیادہ خرچ ہوں گے۔ اور اگر اس میں گزشتہ تین مہینے کا خرچ بھی جوڑ لیں تو یہ تقریباً ڈیڑھ لاکھ کروڑ روپیہ ہو جاتا ہے۔ اب پورے ہندوستان کے لیے ہم نے ایک خواب دیکھا ہے۔ کئی ریاستوں نے بہت اچھا کام بھی کیا ہے، باقی ریاستوں سے بھی ہم گزارش کر رہے ہیں کہ وہ کام کو آگے بڑھائیں۔
پورے ہندوستان کے لیے ایک راشن کارڈ کا انتظام بھی ہو رہا ہے۔ یعنی ایک ملک، ایک راشن کارڈ۔ اس کا سب سے بڑا فائدہ ان غریب ساتھیوں کو ملے گا جو روزگار یا دوسری ضرورتوں کے لیے اپنا گاؤں چھوڑ کر کہیں اور جاتے ہیں۔ کسی اور ریاست میں جاتے ہیں۔ ساتھیو، آج غریب کو، ضرورت مند کو، حکومت اگر مفت اناج دے پا رہی ہے تو اس کا سہرا اہم طور پر دو طبقات کو جاتا ہے۔ پہلا ہمارے ملک کے محنتی کسان، اور دوسرا ہمارے ملک کے ایماندار ٹیکس دہندہ۔ آپ کی محنت اور آپ کی خودسپردگی ہی ہے جس کی وجہ سے ملک یہ مدد کر پا رہا ہے۔ آپ نے ملک کے اناج کا ذخیرہ بھرا ہے جس سے آج غریب اور مزدور کا چولہا جل رہا ہے۔ آپ نے ایماندار سے ٹیکس بھرا ہے، اپنی ذمہ داری ادا کی ہے اس لیے آج ملک کا غریب اتنے بڑے بحران سے مقابلہ کر پا رہا ہے۔
میں آج ہر غریب کے ساتھ ہی ملک کے ہر کسان، ہر ٹیکس دہندہ کا دل کی عمیق گہرائیوں سے شکریہ ادا کرتا ہوں، انھیں سلام پیش کرتا ہوں۔ ساتھیو، آنے والے وقت میں ہم اپنی کوششوں کو مزید تیز کریں گے۔ ہم غریب، استحصال زدہ، محروم، ہر کسی کو مضبوط بنانے کے لیے لگاتار کام کریں گے۔ ہم سبھی احتیاط کا خیال رکھتے ہوئے معاشی سرگرمیوں کو مزید آگے بڑھائیں گے۔ ہم خودکفیل ہندوستان کے لیے دن رات ایک کریں گے۔ ہم سب لوکل کے لیے ووکل ہوں گے۔ اسی عزم کے ساتھ ہم 130 کروڑ ہندوستانی باشندوں کو مل جل کر کے، عزائم کے ساتھ کام بھی کرنا ہے اور آگے بھی بڑھنا ہے۔
پھر سے ایک بار میں آپ سب سے گزارش کرتا ہوں، آپ کے لیے بھی دعا گو ہوں کہ آپ سبھی صحت مند رہیے، دو گز کی دوری پر عمل کرتے رہیے، گمچھا، فیس کور، ماسک ہمیشہ استعمال کیجیے۔ کوئی لاپروائی مت برتیے۔ اسی گزارش، اسی خواہش کے ساتھ میں آپ سبھی کو بہت بہت نیک خواہشات پیش کرتا ہوں۔ شکریہ۔
(قومی آواز)
دنیا
ایرانی پاسداران کے اعلیٰ کمانڈر نے عراق کا دورہ کرکے مسلح گروہوں کی تخفیفِ اسلحہ کے منصوبے پر بات چیت کی: ذرائع
عراق کی بڑی سیاسی جماعتوں پر مشتمل شیعہ اتحاد کوآرڈی نیشن فریم ورک کے ایک عراقی ذریعے نے الجزیرہ کو بتایا ہے کہ ایرانی پاسدارانِ انقلاب (آئی آر جی سی) کی القدس فورس کے کمانڈر اسماعیل قاآنی نے رواں ہفتے کے آغاز میں بغداد کا غیر اعلانیہ دورہ کیا۔
نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر ذریعے نے بتایا کہ قاآنی نے پیر کے روز عراقی سیاسی و سکیورٹی رہنماؤں اور شیعہ نیم فوجی گروہوں کے کمانڈروں کے ساتھ پسِ پردہ ملاقاتیں کیں، جن میں عراقی حکومت کے مسلح گروہوں کو غیر مسلح کرنے اور ہتھیار ریاست کے کنٹرول میں لانے کے منصوبے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
ذریعے کے مطابق، “تہران نے قاآنی کے ذریعے پیغام بھیجا کہ اس وقت گروہوں سے ہتھیار واپس نہ لیے جائیں۔” ذریعے نے مزید کہا کہ ایران کا اندازہ ہے کہ خطے میں ایک نئی جنگ شروع ہوسکتی ہے۔
ذرائع نے بتایا کہ ایرانی پیغام میں حکومت اور ان مسلح گروہوں کے درمیان تصادم سے بچنے کے لیے سیاسی سمجھوتہ تلاش کرنے پر زور دیا گیا جو اپنے ہتھیار حوالے کرنے سے انکار کررہے ہیں۔ ان کے مطابق عراقی سیاسی جماعتیں حکومتی منصوبے پر عمل درآمد کے لیے طاقت کے استعمال کی مخالف ہیں۔
عراقی وزیراعظم علی الزیدی کو بڑھتے ہوئے سیاسی اور سکیورٹی بحران کا سامنا ہے، جبکہ تمام ہتھیار ریاست کے کنٹرول میں لانے کے لیے 30 ستمبر کی مقررہ ڈیڈ لائن قریب آرہی ہے۔ انہوں نے پارلیمنٹ کو بتایا کہ ان کی حکومت 2024 میں امریکی قیادت والے اتحاد کے فوجی مشن کے ساتھ طے پانے والے معاہدے پر عمل درآمد کے لیے پُرعزم ہے، جس کے تحت ستمبر کے آخر تک اس مشن کی جنگی فوجی موجودگی ختم ہونا ہے۔
عراقی حکومت کی جانب سے ہتھیاروں پر ریاستی اجارہ داری قائم کرنے، ایران نواز مسلح گروہوں کو غیر مسلح کرنے اور تہران کے ساتھ بغداد کے تعلقات کے معاملات گزشتہ ماہ وزیراعظم الزیدی کے دورۂ امریکہ کے دوران بھی زیر بحث آئے تھے۔ مئی میں عہدہ سنبھالنے کے بعد یہ ان کا پہلا غیر ملکی دورہ تھا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات کے چند روز بعد الزیدی تہران گئے، جہاں انہوں نے ایرانی صدر مسعود پزشکیان سے بھی مذاکرات کیے۔
منگل کو الزیدی نے پارلیمنٹ کی سکیورٹی اور دفاعی کمیٹی کو آئینی تقاضوں کے مطابق ہتھیاروں کو ریاست تک محدود کرنے کے لیے قانون کا مسودہ تیار کرنے کی ہدایت کی۔ انہوں نے خبردار کیا کہ غیر منظم ہتھیار ریاست کے لیے سب سے خطرناک خطرہ ہیں کیونکہ وہ قانون کی بالادستی اور سکیورٹی اداروں کے اختیار کو کمزور کرتے ہیں۔
تاہم متعدد مسلح گروہوں نے ریاستی سکیورٹی فورسز میں ضم ہونے پر رضامندی ظاہر کی ہے، لیکن بعض طاقتور شیعہ نیم فوجی گروہوں، جن میں کتائب حزب اللہ اور حرکت النجباء شامل ہیں، کی جانب سے مزاحمت حکومت کی کوششوں کو ناکام بنا سکتی ہے۔
اس ماہ کے آغاز میں اسٹیٹ ایڈمنسٹریشن کولیشن کے اجلاس میں، جس میں اہم شیعہ جماعتوں کے علاوہ بعض سنی اور کرد سیاسی جماعتیں بھی شامل ہیں، ہتھیاروں کو ریاست کے کنٹرول تک محدود کرنے کی ضرورت پر زور دیا گیا۔ اتحاد نے ان اداروں کو، جو سرکاری اداروں سے باہر ملک کی سلامتی کے لیے خطرہ بننے والی سرگرمیوں میں ملوث ہیں، “غیر قانونی عناصر جن کے خلاف کارروائی ضروری ہے” قرار دیا۔
اتحاد نے حکومتی ڈیڈ لائن ختم ہونے کے بعد کسی بھی مسلح سرگرمی کے خلاف انسدادِ دہشت گردی قانون کے اطلاق کا بھی عندیہ دیا۔
دوسری جانب دیگر شیعہ رہنما کشیدگی کم کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ ذریعے نے الجزیرہ کو بتایا کہ حکمت تحریک کے سربراہ عمار الحکیم کشیدگی کم کرنے اور مسلح گروہوں کو ڈیڈ لائن کے باقی ماندہ ایک ماہ کے دوران ہتھیار ریاست کے کنٹرول میں دینے پر آمادہ کرنے کی کوششوں کی قیادت کررہے ہیں۔
عراقی سینٹر فار اسٹریٹجک اسٹڈیز کے سربراہ غازی فیصل نے کہا کہ عراقی مسلح گروہوں کی جانب سے اپنے ہتھیار برقرار رکھنا معاملے کو ایک وسیع تر سکیورٹی بحران میں تبدیل کرسکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ اگر یہ گروہ پڑوسی ممالک کو نشانہ بنانے کے لیے عراقی سرزمین اور اپنی فوجی صلاحیتوں کو استعمال کرتے رہے تو ان ممالک کو براہ راست جواب دینے یا خطرات کے ذرائع کا مقابلہ کرنے کے لیے مشترکہ سکیورٹی انتظامات قائم کرنے پر مجبور ہونا پڑ سکتا ہے۔
فیصل کے مطابق خلیج اور اہم بحری راستوں کی سلامتی کے لیے بننے والے نئے علاقائی سکیورٹی اتحاد بھی ان مسلح گروہوں کو محض عراقی سیاسی جماعتوں کے طور پر نہیں بلکہ علاقائی سکیورٹی کے ایک اہم فریق کے طور پر دیکھنے پر مجبور ہوسکتے ہیں۔
ان کے بقول، بحران سے نکلنے کا سب سے حقیقت پسندانہ راستہ یہ ہے کہ ہتھیاروں کو ریاست کے کنٹرول میں رکھنے کے اصول کو مضبوطی سے نافذ کیا جائے اور جنگ و امن کا فیصلہ صرف عراقی آئینی اداروں تک محدود ہو، کیونکہ جو ریاست طاقت کے استعمال کا مکمل اختیار اپنے پاس نہیں رکھتی، وہ اپنی قومی سلامتی کی مکمل ضمانت نہیں دے سکتی۔
گزشتہ ہفتے بغداد میں مسلح گروہوں کی جانب سے سعودی اور امریکی حملوں کا جواب دینے کی دھمکیوں کے پس منظر میں سکیورٹی کشیدگی میں اضافہ دیکھا گیا تھا۔ ان حملوں میں گزشتہ ماہ کے آخر میں پاپولر موبلائزیشن فورسز (PMF) کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا تھا۔
امریکی سینٹرل کمانڈ نے ایک بیان میں کہا تھا کہ اس نے 28 جولائی کو سعودی عرب کے ساتھ مل کر ان “ایران نواز دہشت گردوں” کے خلاف مشترکہ حملے کیے جوآئی آر جی سی کی ہدایت پر امریکی افواج اور سعودی توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے کی تیاری کررہے تھے۔
سعودی وزارت خارجہ نے بھی عراق میں “ایران نواز دہشت گرد ملیشیاؤں” پر الزام عائد کیا تھا کہ انہوں نے سعودی عرب کے خلاف ڈرون حملے کرکے “غیر ذمہ دارانہ طور پر کشیدگی بڑھانے” کا راستہ اختیار کیا۔
تاہم عراقی حکومت اور سیاسی گروہوں کی کوششوں سے کشیدگی پر قابو پانے میں کامیابی ملی، جس کے نتیجے میں کشیدگی کم کرنے اور سفارتی سرگرمیوں کے لیے ایک راستہ کھلا ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
ہندوستان
مسٹر کووند کی سوانح عمری جدوجہد، عزم اور کامیابی کی ایک متاثر کن کہانی : لوک سبھا اسپیکر
نئی دہلی، وزیر اعظم نریندر مودی نے آج یہاں سابق صدر رام ناتھ کووند کی سوانح عمری ‘ٹرائمف آف دی انڈین ریپبلک: مائی لائف، مائی اسٹرگلس’ نامی کتاب کا اجرا کیا لوک سبھا اسپیکر اوم برلا اس موقع پر موجود تھے اور کہا کہ اس کتاب کا اجراء فخر کی بات ہے معززین سے خطاب کرتے ہوئے برلا نے کہا کہ سابق صدرجمہوریہ رام ناتھ کووند کی سوانح عمری، جو اعلیٰ آئینی نظریات کا مظہر ہے، عزم، جدوجہد اور کامیابیوں کی ایک متاثر کن کہانی ہے۔ تعلیم کے حصول کے دورانمسٹر کووند کو اپنی ابتدائی زندگی میں درپیش مشکلات اور چیلنجوں کے بارے میں بات کرتے ہوئے، انہوں نے کہا کہ ایک عاجز اور معاشی طور پر کمزور پس منظر سے ملک کے اعلیٰ ترین آئینی عہدے تک کا سفر ان کے غیر معمولی عزم کو ظاہر کرتا ہے اور یہ عزم آنے والی نسلوں کے لیے ایک لازوال ترغیب کا ذریعہ رہے گا۔
مسٹر برلا نے مزید کہا کہ مسٹر کووند نے آئینی اقدار کے تئیں اپنی غیر متزلزل وابستگی کے ذریعے ایک وکیل کے طور پر ایک انمٹ نشان چھوڑا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ بطور ممبر پارلیمنٹ ان کا دور ان کی درج فہرست ذاتوں اور درج فہرست قبائل کی فلاح و بہبود، سماجی انصاف اور عوامی زندگی میں قابلیت کے لیے ایک سنہری باب ہے۔
گورنر کے طور پر مسٹر کووند کے دور کا ذکر کرتے ہوئے مسٹر برلا نے کہا کہ انہوں نے اعلیٰ تعلیم کے میدان میں شفافیت، معیار اور تکنیکی اختراع کو ایک نئی سمت دی۔ ہندوستان کے صدر کے طور پر، انہوں نے ہندوستانی جمہوریت کی آئینی روایات کو مضبوط کرتے ہوئے، سماجی ہم آہنگی اور جامع ترقی کے لیے ایک غیر متزلزل عزم کا مظاہرہ کیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ کئی ممالک کے اپنے دوروں کے ذریعے انہوں نے ہندوستان کے بین الاقوامی سفارتی تعلقات کو مضبوط بنانے میں بھی اپنا حصہ ڈالا۔
مسٹر برلا نے یہ بھی کہا کہ کووڈ-19 وبائی مرض کے پیش نظر، مسٹر کووند نے ہمت، اتحاد اور ملک کے لوگوں میں اعتماد پیدا کیا اور راشٹرپتی بھون کو عوام کے لیے مزید قابل رسائی بنایا۔ انہوں نے اسے مسٹر کووند کی اہم کامیابیوں میں سے ایک قرار دیا۔
لوک سبھا کے اسپیکر نے مزید کہا کہ صدر کے عہدے سے سبکدوش ہونے کے بعد بھی مسٹر کووند اپنی سوچ، عوامی زندگی میں بھرپور تجربہ اور سماجی انصاف کے لیے اپنی وابستگی کے ذریعے ملک، آئین اور سماج کے لیے اپنا حصہ ڈال رہے ہیں۔ انہوں نے یقین ظاہر کیا کہ ‘ٹرائمف آف دی انڈین ریپبلک: مائی لائف، مائی اسٹرگلس’ کے ذریعے قارئین مسٹر کووند کی زندگی کے اہم واقعات کے بارے میں جانیں گے، جو انہیں عوامی زندگی میں بامعنی کردار ادا کرنے کی ترغیب دیں گے۔ اپنے خطاب کے اختتام پر،مسٹر برلا نے کتاب کی اشاعت پر مسٹر رام ناتھ کووند کو دلی مبارکباد اور نیک خواہشات کا اظہار کیا۔
یو این آئی۔ْ ع ا۔
جموں و کشمیر
اسپورٹس کوٹا پر مبنی ملازمتیں: جے اینڈ کے بی جے پی نے اعلیٰ سطحی جانچ کا مطالبہ کیا، احتجاجی کھلاڑیوں کی حمایت کی
جموں، جموں و کشمیر بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) نے بدھ کے روزیوتھ سروسیز اینڈ اسپورٹس ڈپارٹمنٹ کی جانب سے 10 جون کو نوٹیفائی کردہ سرکاری ملازمتوں کے لیے بہترین کھلاڑیوں کے انتخاب میں مبینہ بے ضابطگیوں کی اعلیٰ سطح اور غیر جانبدارانہ جانچ کا مطالبہ کیا۔
یہ مطالبہ اس وقت سامنے آیا جب بی جے پی رہنماؤں نے کئی مستحق اور کامیاب کھلاڑیوں کو ملازمتوں سے محروم کیے جانے کے خلاف احتجاج کرنے والے کھلاڑیوں کے ایک گروپ سے ملاقات کی۔
پارٹی کے قومی سکریٹری اور جموں ساؤتھ کے رکن اسمبلی ڈاکٹر نریندر سنگھ کی قیادت میں بی جے پی کے وفد نے، جس میں باہو کے رکن اسمبلی وکرم رندھاوا، جموں ایسٹ کے رکن اسمبلی یودھویر سیٹھی، جموں ویسٹ کے رکن اسمبلی اروند گپتا، مڑھ کے رکن اسمبلی سریندر بھگت اور جے اینڈ کے بی جے پی کے ترجمان زورا ور سنگھ جاموال شامل تھے، احتجاجی کھلاڑیوں سے ملاقات کی اور انہیں انصاف کے مطالبے میں پارٹی کی مکمل حمایت کا یقین دلایا۔
وفد نے جے اینڈ کے بی جے پی کے صدر اور راجیہ سبھا کے رکن ستپال شرما نیز قائد حزب اختلاف اور رکن اسمبلی سنیل شرما کی ہدایت پر احتجاجی کھلاڑیوں سے ملاقات کی۔
احتجاجی کھلاڑیوں سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر نریندر سنگھ نے عمر عبداللہ کی قیادت والی حکومت کو ان کی شکایتوں کو دور کرنے میں ناکامی پر تنقید کا نشانہ بنایا اور انتظامیہ پر الزام لگایا کہ کھلاڑیوں کے کئی دنوں سے احتجاج کے باوجود اس نے خاموشی اختیار کر رکھی ہے۔
مسٹر سنگھ نے کہا، “ہم نے لیفٹیننٹ گورنر کو حالیہ بھرتی میں جموں و کشمیر کے نمایاں کھلاڑیوں کے ساتھ ہوئی مبینہ ناانصافی کے بارے میں تمام معاون دستاویزات کے ساتھ ایک تفصیلی خط سونپا ہے۔”
انہوں نے کہا کہ اس معاملے کی غیر جانبدارانہ جانچ کی ضرورت ہے تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ آیا انتخاب کے عمل کے دوران مستحق کھلاڑیوں کو نظر انداز کیا گیا تھا۔
انہوں نے کہا، “ہمیں منتخب ہونے والے امیدواروں سے کوئی شکایت نہیں ہے لیکن یہ قائم کرنے کے لیے غیر جانبدارانہ جانچ ضروری ہے کہ آیا تمام مستحق امیدواروں پر منصفانہ غور کیا گیا تھا۔”
سنگھ نے دعویٰ کیا کہ لیفٹیننٹ گورنر نے بی جے پی وفد کو یقین دلایا ہے کہ اس معاملے کا باریک بینی سے جائزہ لیا جائے گا تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ کچھ مستحق کھلاڑیوں کو فہرست سے مبینہ طور پر کیوں باہر رکھا گیا۔
اپنے اپنے خطاب میں بی جے پی رہنماؤں نے احتجاجی کھلاڑیوں کی شکایتوں کو دور کرنے میں کھیل کی وزارت کے کردار پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ کھیل کے وزیر کا تعلق جموں سے ہونے کی وجہ سے انہیں مداخلت کرنی چاہیے تھی اور احتجاجی کھلاڑیوں سے ملنا چاہیے تھا۔
انہوں نے کہا، “کھیل کے وزیر کے پاس اس مسئلے کو حل کرنے کا اختیار ہے۔ دیگر مستحق امیدواروں کو بھی ایڈجسٹ کیا جا سکتا تھا، لیکن وزیر نے ان نوجوان کھلاڑیوں سے ملاقات تک نہیں کی ہے۔”
بی جے پی رہنماؤں نے مزید الزام لگایا کہ انتخاب کے عمل نے معذور کھلاڑیوں سمیت دیگر کھلاڑیوں میں کافی تشویش پیدا کر دی ہے اور دعویٰ کیا کہ کچھ کھلاڑی اپنی شکایتوں پر حکومت کے ردعمل کا انتظار کرتے کرتے بیمار پڑ گئے ہیں۔
انہوں نے کہا، “کھلاڑیوں کے انتخاب میں جو کچھ ہوا ہے اس سے عمل پر سنگین سوالات اٹھتے ہیں اور مکمل تحقیقات کا مطالبہ ہوتا ہے۔ جن لوگوں نے جموں و کشمیر اور ملک کا نام روشن کیا ہے وہ اعتراف اور انصاف کے مستحق ہیں۔”
بی جے پی نے مطالبہ کیا کہ حکومت فوری طور پر انتخابی فہرست کا جائزہ لے اور شفاف اندازے کے بعد تمام واقعی اہل اور مستحق کھلاڑیوں کو سرکاری ملازمتیں فراہم کرے۔
انہوں نے مزید الزام لگایا کہ موجودہ پالیسی کے نتیجے میں مستحق کھلاڑی باہر ہو گئے ہیں اور انہوں نے نمایاں کھلاڑیوں کی فہرست میں کسی بھی قسم کی خامی کی نشاندہی کے لیے انکوائری کا مطالبہ کیا۔
انہوں نے سوال کیا، “ایک ہی ضلع اور مبینہ طور پر ایک ہی کھیل سے 72 افراد کو کیسے ایڈجسٹ کیا جا سکتا ہے جب کہ دیگر واقعی باصلاحیت افراد کو مبینہ طور پر نظر انداز کر دیا گیا ہے؟” انہوں نے مطالبہ کیا کہ انتخاب کے معیار اور پالیسی کے نفاذ کو عوام کے سامنے معائنے کے لیے رکھا جائے۔
بی جے پی رہنماؤں نے الزام لگایا کہ یہ تنازعہ علاقائی عدم توازن کے ایک بڑے مسئلے کی عکاسی کرتا ہے اور نیشنل کانفرنس کی قیادت والی حکومت پر جموں کے نوجوانوں کی امنگوں کو نظر انداز کرنے کا الزام لگایا۔
بی جے پی رہنماؤں نے کہا، “یہ صرف ایک انتظامی ناکامی نہیں ہے۔ اس سے یہ سنگین سوالات اٹھتے ہیں کہ آیا علاقائی تعصب نے اس عمل پر اثر ڈالا ہے۔ ہمارے کھلاڑی جموں و کشمیر کا فخر اور مستقبل ہیں، اور ان کے ساتھ ناانصافی نہیں کی جا سکتی۔”
بی جے پی نے کہا کہ وہ جموں و کشمیر کے تمام واقعی کھلاڑیوں کے ساتھ کھڑی ہے اور جب تک معاملہ حل نہیں ہو جاتا ان کے خدشات کو اٹھاتی رہے گی۔
انہوں نے خبردار کیا کہ اگر حکومت احتجاجی کھلاڑیوں کی شکایتوں پر کارروائی کرنے میں ناکام رہی تو یہ مسئلہ ایک وسیع تر عوامی تحریک کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔
یو این آئی۔ م س۔ م الف
-
دنیا2 days agoایران کا فی الحال امریکہ کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں: ایرانی وزیر خارجہ
-
دنیا1 day agoایران نے خود کو ایک ‘ناقابل تسخیر طاقت’ ثابت کیا ہے: عراقچی
-
جموں و کشمیر1 day agoیومِ آزادی سے قبل جموں و کشمیر پولیس نے سرحدی سامبا میں طویل فاصلے کی گشت اور فرضی انسدادِ دہشت گردی مشق کی
-
ہندوستان3 days agoطلبہ پر کارروائی کے معاملے پر حکومت کو گھیرتے ہوئے راہل کا مضمون، کھڑگے اور پرینکا نے حمایت کی
-
دنیا2 days agoسعودی عرب میں فیکٹری میں آگ کے سبب 16 بنگلہ دیشی مزدور ہلاک
-
دنیا2 days agoتجربہ کار آئی آر جی سی کمانڈر محسن رضائی ایران کے قومی سلامتی کے سربراہ مقرر
-
دنیا1 day agoشام کے سابق صدر بشار الاسد کو سزائے موت سنادی گئی
-
دنیا3 days agoٹرمپ جوہری معاہدے کے بغیر ایران کے ساتھ تنازع ختم کرنے پر تیار: رپورٹ
-
دنیا1 day agoموساد کے سابق سربراہ کا انکشاف، ماضی میں ایران کی فردو جوہری تنصیب کا کئی بار دورہ کیا
-
ہندوستان1 day agoپارلیمنٹ کے احاطے میں اپوزیشن ارکانِ پارلیمنٹ کا احتجاج
-
ہندوستان1 day agoسندوش کمار نے نِرملا سیتارمن کے تبصرے راجیہ سبھا کے ریکارڈ سے ہٹانے کا مطالبہ کیا
-
دنیا2 days agoیمن میں حوثیوں کے المخا اور مارب پر بیلسٹک میزائل حملے
