تازہ ترین
لاک ڈاؤن مرحلہ دوم کا 13واں اور سخت ترین بندشوں کا تیسرا دن ، علاقہ بندی ،ناکہ بندی اور تار بندی برقرا
وادی کے طول وعرض میں معمو لات زندگی ٹھپ ،سڑکیں سنسان بازار ویران
خبراردو:-
سرینگر:وادی کشمیر میں گزشتہ13روز سے جاری لاک ڈاءون کے مرحلہ دوم کے دوران بدھ کی شام 6بجے سے نافذ سخت ترین بندشوں اور پابندیوں کا سلسلہ سنیچر وار کو بھی جاری رہا جسکے نتیجے میں وادی کے طول وعرض میں معمولات زندگی کا پہیہ جام رہا ۔
کشمیر نیوز سروس کے مطابق انتظامیہ کی جانب سے کورونا وائرس کے برق رفتار پھیلاءو کو روکنے کےلئے بدھ کی شام سے نافذ سخت ترین ناکہ بندی ،علاقہ بندی اور تا ر وتالہ بندی کا سلسلہ ہنوز جاری ہے ۔ دارالحکومت سرینگر میں پولیس کی جپسیوں پر نصب لاءوڈ اسپیکروں کے ذریعے سنیچر کی علی الصبح بھی کرفیو جیسی پابندیوں اور بندشوں کا اعلان کیا گیا ،جس دوران پولیس نے لوگوں کو گھروں میں ہی رہنے کی تلقین کی ۔
لوگوں کی آزاد نقل وحرکت کو روکنے کےلئے شہر میں کم وبیش سبھی علاقوں کو خار دار تاروں سے سیل کیا گیا تھا جبکہ مرکزی رابطہ سڑکوں پر جگہ جگہ پولیس وفورسز نے مشترکہ طور ناکے لگائے تھے ،جہاں سے گزر نے والی نجی گاڑیوں اور موٹر سائیکل سواروں کو روک کر پوچھ تاچھ اور مءومنٹ پاس چیک کرنے کے بعد ہی آگے جانے کی اجازت دی جارہی تھی اور جو افراد غیر ضروری طور گھروں سے باہر آئے تھے ،اُنہیں واپس لوٹنے کےلئے کہا جاتا تھا ۔
سخت ترین لاک ڈاءون کے نتیجے میں تجارتی مرکز لالچوک سمیت شہر کے سبھی چھوٹے بڑے بازار بند رہے ۔ شہر میں صبح کے وقت کھلنے والی دکانیں سنیچرکو بھی بند رہیں جبکہ سبزیوں ،دودھ اور دگر ضروری ایشاء کی دکانیں صبح کے وقت چند گھنٹوں کےلئے کھلی رہیں ،جس دوران لوگوں نے روزمرہ استعمال ہونے والی غذائی اجناس کی خریداری کی ۔ شہر کے درجنوں علاقوں کی ناکہ بندی کی گئی ،جو ہنوز جاری ہے جبکہ مزید علاقوں کو اس کے دائر ے میں لایا جارہا ہے ۔
ضلع ترقیاتی کمشنر ڈاکٹر شاہد اقبال چودھری کا کہنا ہے کہ شہر میں 100مقامات کی نشاندہی کی گئی ،جہاں کورونا کیسز میں کافی نمایاں اضافہ ہوا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ شہر میں 3600افراد وائر س سے متاثر ہو ئے اور اسپتالوں سے درجنوں مریضوں کو صحتیابی کے بعد رخصت کیا گیا ۔
ادھروادی کشمیر میں 13روز قبل سخت ترین بندشیں اور پابندیاں دوبارہ عائد کی گئی تھیں ۔ یہ پابندیاں کورونا وائرس کے مثبت معاملات اور اموات میں مسلسل اضافے کے پیش نظر نافذ کی گئی تھیں ،تاہم بدھ کو جموں وکشمیر کی انتظامیہ نے ایک آرڈر جاری کرتے ہوئے بانڈی پورہ ضلعے کو چھوڑ دیگر 9اضلاع سرینگر ،بڈگام ،گاندر بل ،بارہمولہ ،کپوارہ ،پلوامہ ،اننت ناگ ،کولگام اور شوپیان میں مکمل لاک ڈاؤن نافذ کرنے کا اعلان کیا ۔ اس اعلان کے تحت وادی کشمیر کے9اضلاع میں سنیچر کو مسلسل تیسرے روز بھی سخت ترین بندشیں عائد رہیں ۔
بارہمولہ ،کپوارہ ،بڈگام ،گاندر بل ،پلوامہ ،کولگام ،شوپیان اور اننت ناگ میں بھی سرینگر کی طرح ہو کاعا لم رہا ۔ سبھی اضلاع میں پولیس اور فورسز کی بھاری نفری تعینات کی گئی تھی جبکہ مرکزی قصبوں میں ناکہ بندی ،تالہ بندی اور تار بندی کو مزید سخت کردیا گیا اور لوگوں کی نقل وحرکت کو گھروں تک محدود رکھا گیا ۔
سنیچر کو اسپتالوں یا لازمی سروس محکموں سے جڑے ملازمین ہی نجی گاڑیوں اور موٹر سائیکلوں پر سوار ہو کر ڈیوٹی دینے کےلئے گھروں سے باہر آئے تھے ۔ مجموعی آبادی گھروں میں محصور ہو کر رہ گئی جبکہ لوگوں نے بھی گھروں میں ہی رہنے کو ترجیح دی ۔
پوری وادی میں جمعرات کو پبلک ٹرانسپورٹ سڑکوں سے غائب رہا جسکی وجہ سے سڑکیں سنسان اور بازار ویران نظر آرہے تھے ۔ بانڈی پورہ میں کووڈ ۔ 19گائیڈ لائنز (قواعد وضوابط ) کے تحت معمول کی سرگرمیاں جاری رہیں ۔ حکومتی اعلان کے تحت5روزہ سخت ترین لاک ڈاؤن کے دوران زرعی اور باغبانی کی سرگرمیاں ہی جاری ہیں جبکہ لازمی سروس سے وابستہ مال بردار گاڑیوں کی بلا خلل آوا جاہی بھی جاری ہے ۔
صوبائی کمشنر کشمیر پی کے پولے ،نے کہا تھا کہ وادی میں عیدقربان کے موقعے پر تین روز کےلئے بازار کھلے رہیں گی ۔ یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ جموں وکشمیر میں کووڈ ۔ 19کیسوں میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے جبکہ اموات میں بھی کافی اضافہ دیکھنے کو ملا رہا ہے ۔
جموں و کشمیر
دہلی میں مودی کے حامی کشمیری نوجوان پر حملے کے خلاف سری نگر میں احتجاج
سری نگر، نئی دہلی کے کناٹ پلیس میں کانگریس کے احتجاج کے دوران سری نگر کے رہائشی فہیم نذیر شاہ پر مبینہ حملے کے خلاف جمعہ کو کشمیری نوجوانوں کے ایک گروپ نے سری نگر میں احتجاج کیا اور اس واقعے میں ملوث افراد کے خلاف سخت قانونی کارروائی کا مطالبہ کیا۔
احتجاجی نوجوان ہاتھوں میں پلے کارڈز اٹھائے ہوئے تھے اور کانگریس کے خلاف نعرے لگا رہے تھے۔ انہوں نے شہر کے مرکزی علاقے کی جانب مارچ کرنے کی کوشش کی، تاہم پولیس نے انہیں روک دیا۔
وزیراعظم نریندر مودی کے حامی فہیم نذیر شاہ پر مبینہ طور پر جمعرات کو اس وقت حملہ کیا گیا، جب وہ ایک پلے کارڈ لے کر کانگریس کے احتجاجی مقام پر پہنچے۔ پلے کارڈ پر ”وزیراعظم اور وزیر داخلہ سے معافی مانگو” درج تھا۔ وہاں انہوں نے نعرے بھی لگائے۔ اس واقعے کے بعد، بالخصوص بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی جانب سے شدید مذمت کی گئی۔
سری نگر میں احتجاج کرنے والوں نے سوال کیا کہ سیاسی خیالات کا اظہار کرنے پر فہیم شاہ کو نشانہ کیوں بنایا گیا؟ انہوں نے کہا کہ ہر شہری کو تشدد کے خوف کے بغیر اپنی رائے ظاہر کرنے کا حق حاصل ہے۔
ایک احتجاجی نے سوال کیاکہ ”کیا ان کا قصور یہ تھا کہ وہ کشمیری یا مسلمان ہیں، یا انہوں نے وزیراعظم کی حمایت میں بینر اٹھایا تھا؟” انہوں نے مطالبہ کیا کہ کشمیریوں کا احترام کیا جائے اور وہ جہاں بھی جائیں، ان کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے۔
ایک دوسرے احتجاجی نے کہا کہ فہیم شاہ کے ساتھ اظہارِ یکجہتی اور انہیں انصاف دلانے کے مطالبے کے لیے یہ مظاہرہ منعقد کیا گیا۔ انہوں نے مرکزی وزیر داخلہ اور دہلی انتظامیہ سے اپیل کی کہ اس واقعے کے ذمہ دار افراد کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے۔
یواین آئی۔ ظ ا
ہندوستان
اتر پردیش میں راجیہ سبھا کی تمام 10 نشستوں پر بلا مقابلہ انتخاب، بی جے پی کے 8 اور سماجوادی پارٹی کے 2 امیدوار کامیاب
لکھنؤ، اتر پردیش میں راجیہ سبھا کی تمام 10 سیٹوں پر بلامقابلہ انتخاب ہو گیا ہے۔ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے آٹھ اور سماج وادی پارٹی (ایس پی) کے دو امیدواروں کو منتخب قرار دیا گیا ہے۔ ووٹنگ کی ضرورت نہیں تھی کیوں کہ تمام نشستوں پر امیدواروں کی تعداد نشستوں کی تعداد کے برابر تھی۔ کاغذات نامزدگی کی جانچ پڑتال اور دستبرداری کا عمل مکمل ہونے کے بعد ریٹرننگ آفیسر نے تمام 10 امیدواروں کو بلا مقابلہ منتخب قرار دے دیا۔
بعد ازاں اسمبلی میں منتخب اراکین اسمبلی کو سرٹیفکیٹ پیش کیے گئے۔ بی جے پی کے منتخب امیدواروں میں ودیا ساگر سونکر، پرینکا سنگھ راوت، گوپی کرشنا پانڈے، دھرمپال سنگھ، رادھاکانت اوجھا، پرکاش پال، رام پرتاپ سنگھ چوہان اور شروتی گنگوار شامل ہیں، جب کہ سماج وادی پارٹی کے پروفیسر رام گوپال یادو اور دھن راج پریمل ناتھوپوانی راجپوت سبھا کے لیے منتخب ہوئے۔ چوں کہ ان راجیہ سبھا سیٹوں کے لیے کوئی اور امیدوار مقابلہ نہیں کر رہا تھا، اس لیے الیکشن بغیر ووٹ کے ختم ہو گیا۔ الیکشن کے بعد اتر پردیش سے بی جے پی کے آٹھ اور سماج وادی پارٹی کے دو نمائندے راجیہ سبھا کے لیے منتخب ہوئے۔
یو این آئی۔ این یو۔ م الف
فن و ادب
ریکھا کی ادکاری ہندی سنیما کی تاریخ کا ایک یادگار باب
ممبئی،
ریکھا محض ایک اداکارہ نہیں بلکہ ہندی سنیما کی تاریخ کا ایک یادگار باب ہیں۔ ان کی اداکاری، شخصیت اور فن آنے والی نسلوں کے لیے بھی اہمیت رکھتے ہیں۔ ان کا فلمی سفر اس حقیقت کی گواہی دیتا ہے کہ اصل عظمت صرف شہرت حاصل کرنے میں نہیں، بلکہ اپنے فن کے ذریعے وقت کی حدود سے آگے نکل جانے میں ہے۔
ریکھا کی زندگی کامیابی، جدوجہد، تنہائی، شہرت اور خود کو نئے انداز میں پیش کرنے کی ایک طویل داستان ہے۔ انہوں نے بچپن کی مشکلات سے نکل کر ہندوستانی فلمی دنیا میں وہ مقام حاصل کیا جس تک پہنچنا ہر فنکار کے لیے ممکن نہیں ہوتا۔
‘خوب صورت’ کی زندہ دل منجو ہو، ‘امراو جان’ کی غم زدہ شاعرہ، ‘گھر’ کی دکھ سہنے والی عورت یا ‘خون بھری مانگ’ کی مضبوط کردار والی ہیروئن، ریکھا نے ہر کردار میں اپنی الگ شناخت قائم کی۔
بالی وڈ کی امراؤ جان، قاتل نگاہیں اور نمکین رنگت والی مشہور اداکارہ ریکھا دس اکتوبر 1954 کو مدراس کے ایک گھرانے میں پیدا ہوئیں۔ اُن کا حقیقی نام بھانو ریکھا گنیشن ہے۔ان کے والد جیمنی گنیشن اور ان کی ماں تیلگو اداکارہ پشپ دیوی نے باقاعدہ شادی نہیں کی تھی۔ بچپن سے ہی تیلگو فلموں سے اپنا فلمی سفر شروع کرنے والی ریکھا کو کافی جدوجہد کرنی پڑی۔
ریکھا نے محض گیارہ سال کی عمر میں تیلگو فلم میں اداکاری سے اپنےکیرئیر کاآغاز کیا، 1969 میں ہندی فلم ‘دو شکاری’ کی ہیروئن کے روپ میں جلوہ گر ہوئیں اور جلد ہی فلمی دنیا پر راج کرنے لگیں۔
سال 1976 میں انہوں نے پہلی بار امیتابھ بچن کے ساتھ فلم ‘دو انجانے’ میں کام کیا اور فلم کو امر کردیا۔ اس کے بعد یہ جوڑی نٹور لال، خون پسینہ، مقدر کا سکندر اور بہت سی فلموں میں ایک ساتھ نظر آئی ۔
1978 میں فلم ‘مقدرکا سکندر’ نے ریکھا کو شہرت کی بلندیوں پر پہنچادیا اورانہیں فلم فیئر ایوارڈ سے بھی نوازا گیا۔
جاری یو این آئی۔ ایم جے
-
جموں و کشمیر1 week agoسری نگر پولیس نے بین ریاستی منشیات نیٹ ورک کا پردہ فاش کیا، آٹھ افراد گرفتار
-
دنیا1 week agoروس پر براہِ راست حملے کی صورت میں ہر قسم کے ہتھیار استعمال کرنےکا معاملہ ایجنڈے پر ہو گا :پوتن
-
جموں و کشمیر1 week agoگاندھی کے عدم تشدد اور سودیشی کے نظریات آج بھی اہم ہیں: جموں کے ڈویژنل کمشنر
-
ہندوستان1 week agoوندے بھارت نے چِناب پل اور کیبل اسٹڈ انجی پل کو 100 کلومیٹر کی رفتار سے عبور کیا
-
دنیا7 days agoخمیس مشیط کی جانب داغے گئے تین حوثی بیلسٹک میزائل تباہ
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر میراتھن اتحاد اور نوجوانوں کے متبادل خواہشات کا پیغام دیتی ہے: ایل جی سنہا
-
دنیا1 week agoمعاہدہ نہ ہونے پر وسط مدتی انتخابات کے بعد ایران پر دوبارہ فوجی کارروائی ممکن: ٹرمپ
-
دنیا1 week agoایران امریکہ سے مذاکرات کی کوشش جاری رکھے گا: پیزشکیان
-
ہندوستان1 week agoکھرگے- راہل نے گاندھی اور شاستری کو یومِ پیدائش پر خراجِ عقیدت پیش کیا
-
دنیا1 week agoامریکہ، ایران جنگ بندی معاہدے کی راہ میں بداعتمادی اور گہرے اختلافات حائل
-
ہندوستان1 week agoڈیفنس اکاونٹس کے شعبے کے مالیاتی نظام کو زیادہ ڈیجیٹل اور شفاف بنانے کی ضرورت: راج ناتھ
-
دنیا7 days agoیمن میں حوثیوں کے خلاف کارروائیاں، 1540 ہلاک و زخمی ہونے کا دعویٰ
