تازہ ترین
لداخ میں وائرس سے متاثرہ مریضوں کی تعداد10ہوگئی
خطہ لداخ میں مزید 2افراد کے کورونا وائرس ٹیسٹ مثبت آئے ہیں جس سے خطے میں متاثرہ مریضوں کی تعداد بڑھ کر10ہوگئی ہے۔ادھر جموں وکشمیر میں مشتبہ کیسز کی تعداد3330ہے جبکہ سبھی افراد کو زیر نگرانی رکھا گیا ہے۔کشمیر نیوز سروس کے مطابق خطہ لداخ میں مزید دو افراد کے کورو نا وائرس کے ٹیسٹ مثبت آئے ہیں اور اس طرح یہاں متاثرہ افراد کی تعداد10ہوگئی ہے۔
لداخ کے امورات کے کمشنر سیکریٹری،رگزن سمپہل نے کہا ہے کہ لداخ میں کووڈ۔19کے دو مزید ٹیسٹ رپورٹ درج کیے گئے ہیں۔بتایا کہ یہاں متاثرہ افراد کی تعداد 10ہوگئی جن میں فوجی اہلکار بھی شامل ہے۔یہ دونوں افراد کورونا وائرس سے متاثرہ افراد کے قریبی رشتہ دار ہیں۔ دونوں کا تعلق لداخ کے چھوشت علاقے سے ہے اور انہیں ہارٹ فانڈیشن ہسپتال میں قرنطینہ میں رکھا گیا ہے۔مرکزی وزارت صحت وخاندانی بہبود کا کہناتھا کہ بھارت میں جمعرات کی شام تک 195کورونا وائرس کے مثبت کیسز ہیں۔عالمی ادارہ صحت نے کورونا وائرس کو عالمگیر وباقرار دیا ہے جبکہ جموں وکشمیر کی انتظامیہ نے بھی اسے وبا سے تعبیر کیا۔جموں کشمیرمیں نوول کورونا وائرس سے متعلق روزانہ میڈیا بلیٹن کے مطابق 3330افراد مشتبہ کیسز میں آئے ہیں اور انہیں نگرانی میں رکھا گیا ہے۔ علاوہ ازیں 2465افراد کو گھروں میں کورنٹائن(قرنطینہ) کے لئے رکھا گیا ہے۔
ہسپتال کے کورنٹائن میں 44افراد جبکہ گھروں میں 416افراد کو نگرانی کے لئے رکھا گیا ہے۔بلیٹن میں مزید کہا گیاہے کہ405افراد نے قرنطینہ کی28روزہ مدت مکمل کرلی ہے۔بلیٹن میں مزید کہا گیاہے کہ 186نمونے ٹیسٹنگ کے لئے بھیج دیئے گئے ہیں جن میں سے 178کے نمونے منفی جبکہ صرف 4 کیسزکے نمونے مثبت پائے گئے اور20مارچ2020 تک4کیسزکی رپورٹیں آنا باقی تھی۔ کشمیر کے دارالحکومت سرینگر میں کورونا وائرس کے پیش نظر امتناعی احکامات جاری کر دئے ہیں۔
انتظامیہ نے شہر سرینگر سمیت متعدد علاقوں کو لاک ڈاون کردیا ہے۔ سڑکوں اور کاروباری اداروں کو بند کرکے لوگوں کو اپنے گھروں تک ہی محدود کردیا گیا ہے۔ کشمیر میں کورونا وائرس کو پھیلا سے روکنے کے لیے سرینگر ضلع مجسٹریٹ شاہد اقبال چودھری نے جمعہ کے روز ضلع بھر میں سخت پابندیاں عائد کرنے کا حکم دیا تھا۔شاہد اقبال چودھری نے سرکاری بیان میں کہا کہ سرینگر میں کہیں بھی عوامی نقل و حرکت یا سرگرمی کی اجازت نہیں ہوگی۔ضلع اننت ناگ کے ڈاک بنگلو کھنہ بل،مٹن پاۂ بگ چوک،سرنل، براکپورہ اور کئی دیگر مقامات پر پولیس عملہ کو تعینات کیا گیا ہے اور ان مقامات پر ناکے قائم کئے گئے ہیں۔
ٹرانسپورٹ کو قصبہ کے اندر جانے کی اجازت نہیں دی جا رہی۔یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ لداخ سمیت پورے جموں و کشمیر میں پہلے ہی تمام تعلیمی ادارے، ریستوراں اور دوسرے طعام خانے، کلب، پبلک پارکس اور باغات بند کر دیے گئے ہیں۔اسی طرح بین الریاستی ٹرانسپورٹ سروسز کو بھی معطل کیا گیا ہے۔ علاقے میں غیر ملکی سیاحوں کے داخلے پر مکمل پابندی عائد ہے جب کہ سری نگر کے مرکزی اسپتال میں او پی ڈی سروس کو بھی بند کر دیا گیا ہے۔ہر قسم کے اجتماعات کے انعقاد پر پابندی لگا دی گئی ہے۔ جموں کے قریب ترکوٹا پہاڑیوں میں واقع ہندوؤں کی اہم عبادت گاہ ’ویشنو دیوی‘ مندر کو زائرین کے لیے بند کر دیا گیا ہے۔
جموں و کشمیر میں اب تک 14 افراد میں کرونا وائرس کی تشخیص ہو چکی ہے جن میں سے 10 کا تعلق لداخ، 3 کا جموں اور ایک کا وادی کشمیر سے ہے۔لداخ سے تعلق رکھنے والے مریضوں میں سے ایک بھارتی فوج کی لداخ اسکاؤٹس کا ایک43 سالہ سپاہی ہے جو25 فروری سے ایک ہفتے کی چھٹی پر تھا۔ اس سے ایران میں زیارتوں کے بعد واپس لوٹنے والے سپاہی کے والد کا کرونا ٹیسٹ مثبت آیا تھا۔یہ بھارتی فوج میں کرونا وائرس کا پہلا کیس تھا جس کے بعد سپاہی کے دس ساتھیوں کو قرنطینہ میں رکھا گیا ہے۔
ہندوستان
مودی حکومت کی پالیسیوں نے معاشی لبرلائزیشن کو برباد کر دیا: کھرگے
نئی دہلی، کانگریس صدر ملکارجن کھرگے نے مودی حکومت کی معاشی پالیسیوں پر شدید نکتہ چینی کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس حکومت نے عام لوگوں کے مفادات کو نظر انداز کر کے صارفین کے لیے متعدد اختیارات کی مسابقت کو ختم کر دیا ہے اور منتخب سرمایہ دار دوستوں کو فائدہ پہنچایا جا رہا ہے، جس سے معاشی لبرلائزیشن کی بنیاد برباد ہو گئی ہے۔
مسٹر کھرگے نے جمعہ کے روز سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ایکس’ پر لکھا کہ مودی حکومت کی معاشی پالیسیوں کا مقصد معیشت کا کنٹرول اپنے چہیتے سرمایہ دار دوستوں کے ہاتھوں میں سونپنا ہے، تاکہ بدلے میں منافع میں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کا حصہ برقرار رہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ مسابقت کو ختم کر کے اجارہ داری اور دو کمپنیوں کے غلبے والے نظام کو نافذ کر کے بی جے پی کے خزانے کو بھرنے کا کام کیا گیا ہے۔
کانگریس صدر نے کہا کہ ٹیلی کام کے شعبے میں 2014 سے پہلے 13 کمپنیاں تھیں، جبکہ اب صرف تین بڑی نجی کمپنیاں رہ گئی ہیں۔ اسی طرح اندرونِ ملک ہوا بازی کے شعبے میں 2014 سے پہلے سات کمپنیوں کے مقابلے اب صرف دو بڑی کمپنیاں رہ گئی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ڈیجیٹل ادائیگی، سیمنٹ اور فوڈ ڈیلیوری ایپس سمیت مختلف شعبوں میں حکومت کی ترجیح مسابقت کو ختم کرنا رہی ہے۔ مسٹر کھرگے نے کہا کہ کانگریس معاشی لبرلائزیشن کی بانی ہے، جبکہ بی جے پی پر اپنے منافع کے لیے ‘معاشی دہشت گردی’ نافذ کرنے کا الزام لگایا۔
مسٹر کھرگے نے دعویٰ کیا کہ حکومت کی معاشی پالیسیوں سے مائیکرو، اسمال اینڈ میڈیم انٹرپرائزز (ایم ایس ایم ای) اور دیگر چھوٹے و درمیانے درجے کی صنعتوں کو نقصان پہنچا ہے نیز ملک کے نوجوانوں کو شدید بے روزگاری کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
یواین آئی ایف اے
ہندوستان
انڈیا اتحاد کے رہنماؤں سے جمعہ کی رات آٹھ بجے ملاقات کریں گی مرمو
نئی دہلی، انڈیا اتحاد کے رہنما جمعہ کی رات آٹھ بجے صدرِ جمہوریہ دروپدی مرمو سے ملاقات کر کے ووٹر لسٹ کی خصوصی تفصیلی نظرثانی (ایس آئی آر) کےعمل کے ذریعے دھاندلی کرنے اور الیکشن کمیشن کے طریقہ کار سے متعلق مسائل پر اپنے خدشات پیش کریں گے۔
ذرائع کے مطابق انڈیا اتحاد کے رہنماؤں نے 30 ستمبر کو یہاں منعقدہ میٹنگ میں صدرِ جمہوریہ سے ملاقات کر کے ان مسائل پر ان کے سامنے اپنا موقف رکھنے کا فیصلہ کیا تھا۔ اتحاد کے رہنما ایس آئی آر کے عمل اور چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے طریقہ کار سے متعلق اپنے خدشات سے صدرِ جمہوریہ کو آگاہ کرنا چاہتے ہیں۔
اس سلسلے میں صدرِ جمہوریہ سے ملاقات کے لیے پہلی بار دو اکتوبر کو مکتوب بھیج کر وقت مانگا گیا تھا۔ راشٹرپتی بھون کی طرف سے وفد میں شامل ہونے والے رہنماؤں کے نام مانگے جانے کے بعد اتحاد نے پانچ اکتوبر کو دوبارہ مکتوب بھیجا اور سات، آٹھ یا نو اکتوبر میں سے کسی بھی دن ملاقات کا وقت دینے کی درخواست کی تھی۔
انڈیا اتحاد کے رہنما چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار پر ووٹر لسٹ میں مبینہ دھاندلیوں کے تعلق سے سوال اٹھاتے ہوئے ان کے استعفے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ اس معاملے پر اتحاد کے اراکینِ پارلیمنٹ نے مظاہرے اور مارچ بھی نکالے ہیں۔
کانگریس نے الیکشن کمیشن کے خلاف اپنے احتجاج کو تیز کرنے کے لیے تقریباً ڈیڑھ ماہ تک جاری رہنے والی تحریک کے پروگرام کی بھی توثیق کی ہے۔ کانگریسی رہنما راہل گاندھی اور پرینکا گاندھی واڈرا کو پولیس مظاہرے کے دوران مسلسل دو بار حراست میں بھی لے چکی ہے۔
یواین آئی ایف اے
ہندوستان
ہندوستان نے امریکہ کے پی ای آر ایم پروگرام پر روک پر تشویش کا اظہار کیا، کہا – یہ دونوں ممالک کے مفادات کے خلاف
نئی دہلی، ہندوستان نے امریکی محکمہ محنت کے مستقل لیبر سرٹیفیکیشن پروگرام (پی ای آر ایم) سے جڑے فیصلے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسے دونوں ممالک کے مفادات کے خلاف بتایا ہے۔
امریکہ کی جانب سے جمعرات کی رات اس قدم کے اعلان کے بعد وزارتِ خارجہ نے جمعہ کے روز ایک بیان جاری کر کے کہا کہ اس قدم سے متاثرہ کمپنیوں کے اہل ملازمین کے گرین کارڈ کے عمل پر اثر پڑ سکتا ہے۔ تاہم پی ای آر ایم درخواستوں پر روک سے موجودہ ایچ-1بی ویزا یا ویزا ہولڈرز اور ان کے زیرِ کفالت افراد کی حیثیت پر خود بخود کوئی اثر نہیں پڑتا۔
ہندوستان نے کہا کہ پی ای آر ایم پروگرام، ایچ-1بی ویزا پروگرام سے مختلف ہے۔ متاثرہ کمپنیوں کے اہل ملازمین کی مستقل رہائش یعنی گرین کارڈ حاصل کرنے کے عمل پر اس کا کچھ اثر ہو سکتا ہے، لیکن اس سے موجودہ ایچ-1بی ویزا کی میعاد اپنے آپ ختم نہیں ہوتی۔
وزارتِ خارجہ نے کہا ہے کہ ہندوستانی ٹیلنٹ کے امریکہ جانے سے دونوں ممالک کی معیشتوں کو فائدہ ہوتا ہے۔ اس سے ہندوستانیوں کو مواقع ملتے ہیں، جبکہ امریکی کمپنیوں کو ہنر مند ملازمین، نئی ٹیکنالوجی، تحقیق، جدت طرازی، پیداواری صلاحیت اور مسابقتی صلاحیت بڑھانے میں مدد ملتی ہے۔ اس سے امریکہ میں روزگار کے مواقع پیدا ہوتے ہیں اور شیئر ہولڈرز کے اثاثوں میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔
ہندوستان نے کہا کہ امریکہ کا یہ قدم دونوں ممالک کے مشترکہ اہداف کو آگے بڑھانے میں مدد نہیں کرتا۔ ہندوستان نے امریکی نائب صدر کے اس معاملے پر کیے گئے تبصروں پر بھی اعتراض ظاہر کیا۔ ہندوستان کے مطابق ایسے تبصرے غیر مناسب ہیں اور امریکہ کی معیشت نیز جدت طرازی میں ہندوستانی پیشہ ور افراد کی خدمات کو نظر انداز کرتے ہیں۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ ہندوستانی پیشہ ور افراد امریکہ کی معیشت اور جدت طرازی کے نظام میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ امریکہ کی تاریخ بھی ایسے تارکینِ وطن کی خدمات سے بنی ہے جنہوں نے اپنے کام، کاروبار اور نئے خیالات سے ملک کی ترقی میں مدد کی ہے۔ ہندوستان نے کہا کہ دردناک تاریخی اور نوآبادیاتی دور کی یاد دلانے والے الفاظ کا استعمال انتہائی قابلِ اعتراض ہے۔
وزارتِ خارجہ نے کہا کہ وہ اس معاملے سے جڑی صورتحال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہے۔
یواین آئی ایف اے
-
جموں و کشمیر1 week agoسری نگر پولیس نے بین ریاستی منشیات نیٹ ورک کا پردہ فاش کیا، آٹھ افراد گرفتار
-
دنیا1 week agoقطری ثالثی کی امریکہ، ایران کے درمیان مذاکرات میں معمولی پیش رفت
-
دنیا1 week agoروس پر براہِ راست حملے کی صورت میں ہر قسم کے ہتھیار استعمال کرنےکا معاملہ ایجنڈے پر ہو گا :پوتن
-
ہندوستان1 week agoوندے بھارت نے چِناب پل اور کیبل اسٹڈ انجی پل کو 100 کلومیٹر کی رفتار سے عبور کیا
-
جموں و کشمیر7 days agoگاندھی کے عدم تشدد اور سودیشی کے نظریات آج بھی اہم ہیں: جموں کے ڈویژنل کمشنر
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر میراتھن اتحاد اور نوجوانوں کے متبادل خواہشات کا پیغام دیتی ہے: ایل جی سنہا
-
دنیا6 days agoخمیس مشیط کی جانب داغے گئے تین حوثی بیلسٹک میزائل تباہ
-
ہندوستان1 week agoڈیفنس اکاؤنٹس ڈیپارٹمنٹ کے 279ویں سالانہ دن پر کئی نئی پہل کی شروعات کریں گے راج ناتھ
-
جموں و کشمیر1 week agoجاوید ڈار نے اسمبلی میں سی اے جی کی رپورٹیں پیش کیں
-
ہندوستان1 week agoشیئر بازاروں میں گراوٹ جاری، سینسیکس 49 پوائنٹس پھسلا
-
ہندوستان1 week agoکھرگے- راہل نے گاندھی اور شاستری کو یومِ پیدائش پر خراجِ عقیدت پیش کیا
-
دنیا1 week agoایران امریکہ سے مذاکرات کی کوشش جاری رکھے گا: پیزشکیان
