ہندوستان
‘لک ایسٹ’ کو ‘ایکٹ ایسٹ’ پالیسی میں تبدیل کرنے سے شمال مشرق میں زبردست ترقی ہوئی ہے: دھنکڑ
نئی دہلی، نائب صدر جمہوریہ جگدیپ دھنکڑنے اروناچل پردیش میں ہوائی اڈے، ریل اور سڑک کے رابطے اور 4 جی نیٹ ورک کی دستیابی کو ترقی کی علامت قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ‘لک ایسٹ’ پالیسی کو ‘ایکٹ ایسٹ’ پالیسی میں تبدیل کرنے سے شمال مشرقی خطے میں زبردست ترقی ہوئی ہے۔
اروناچل پردیش کے کاملے ضلع کے کامپوریزو سرکل میں منعقدہ پہلے مشترکہ میگا نیوکم یولو فیسٹیول سے بطور مہمان خصوصی خطاب کرتے ہوئے مسٹر دھنکڑنے آج کہا “کئی دہائیاں پہلے حکومت ہند نے ‘لُک ایسٹ’ پالیسی شروع کی تھی۔ وزیر اعظم نریندر مودی نے اسے ‘ایکٹ ایسٹ’ میں بدل دیا کیونکہ محض دیکھنے سے کچھ حاصل نہیں ہوگا، عملدرآمد ضروری ہے۔ جب عمل ہوتا ہے تو حیرت انگیز تبدیلیاں دیکھنے کو ملتی ہیں۔ ‘‘
نائب صدر نے کہا کہ اروناچل پردیش میں 50,000 میگاواٹ بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت ہے۔ ایک میگاواٹ بجلی پیدا کرنے کے لیے 10 کروڑ روپے کی سرمایہ کاری کی ضرورت ہے، جس کا مطلب ہے کہ اروناچل پردیش میں 5 لاکھ کروڑ روپے کی سرمایہ کاری کا امکان ہے۔
خطے میں ہونے والی پیش رفت کے بارے میں بات کرتے ہوئے مسٹر دھنکڑنے کہا “ہندوستان کی تاریخ میں پہلی بار بدھ برادری کو اقلیت کا درجہ دیا گیا ہے اور ایک بدھ رہنما کو مرکزی وزیر کا عہدہ بھی دیا گیا ہے۔ یہ تاریخی فیصلہ پوری دنیا کو ایک طاقتور پیغام دیتا ہے۔
ثقافتی اتحاد پر زور دیتے ہوئے نائب صدر جمہوریہ نے کہا کہ ہندوستان جیسا کوئی دوسرا ملک نہیں ہے۔ آج آپ نیوکم یولو منا رہے ہیں، جبکہ ہولی، بیساکھی، لوہڑی، بیہو، پونگل اور نون جیسے تہوار بھی ملک بھر میں منائے جائیں گے۔ ہم ہندوستان میں جہاں کہیں بھی ہیں، ہمارے خیالات اور روایات متحد ہیں۔
دنیا بھر میں ہندوستان کی بڑھتی ہوئی ساکھ کا حوالہ دیتے ہوئے مسٹر دھنکڑنے کہا “آج ہندوستان ایک مضبوط ملک ہے۔ اب کوئی ہم پر میلی آنکھ نہیں ڈال سکتا۔ ہمارے وزیر اعظم کا شمار دنیا کے سرکردہ لیڈروں میں ہوتا ہے۔ ‘‘
مرکزی وزیر کرن رجیجو کے تعاون کی تعریف کرتے ہوئے نائب صدر جمہوریہ نے کہا ‘کرن رجیجو جی مرکزی حکومت میں ایک سینئر اور بااثر وزیر ہیں۔ وہ چار بار لوک سبھا کے لیے منتخب ہوئے ہیں۔ اس لیے میں کہتا ہوں، کرن جی، آپ نے فرنٹیئر ہائی وے کا خواب دیکھا ہے۔ آپ کا یہ خواب ضرور پورا ہو گا۔ میں جانتا ہوں کہ آپ نے اروناچل پردیش کے لیے کتنے خواب دیکھے ہیں اور کتنی بڑی تبدیلیاں لائی ہیں۔‘‘
اس موقع پر مسٹر رجیجو، راگا کے ممبر اسمبلی روتوم تبین، نیشی ایلیٹ سوسائٹی کے صدر تانا شورن، تانی سوپن دکن کے صدر ایچ ۔ کے۔ شالا، پہلی جوائنٹ میگا نیوکم یولو سیلیبریشن کمیٹی کے چیئرمین بوسملا، گوچی سنجے، مرکزی نیوکم کمیٹی کے اسسٹنٹ جنرل سکریٹری راب کارا دانی اور دیگر معززین بھی موجود تھے۔
یو این آئی ۔ ع خ
ہندوستان
اروناچل ہندستان کا اٹوٹ حصہ، سرحد کی صورتحال ہی چین کے ساتھ دوطرفہ تعلقات کی بنیاد:ہندستان
نئی دہلی ہندستان نے اروناچل پردیش کو اپنا ناقابلِ تقسیم اور اٹوٹ حصہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ چین کے ساتھ اس کے دوطرفہ تعلقات سرحد کی صورتحال پر مبنی ہوں گے اور سرحدی صورتحال کا ان تعلقات پر براہِ راست اثر ہوگا۔
وزارتِ خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے منگل کے روز یہاں میڈیا بریفنگ میں سوالات کے جواب دیتے ہوئے یہ بات کہی۔ دراصل چین کی جانب سے اروناچل پردیش اور اس کے کچھ مقامات کے نام تبدیل کرنے کے ردعمل میں ہندستان نے حال ہی میں اروناچل پردیش کی 27 اہم جگہوں کو سروے آف انڈیا کے نقشے میں سرکاری طور پر نشان زد کر دیا ہے۔ اس پر چین کی طرف سے منفی ردعمل سامنے آیا ہے۔ چین کے اس ردعمل کے بارے میں پوچھے جانے پر مسٹر جیسوال نے کہا کہ اروناچل پردیش ہندستان کا ناقابلِ تقسیم اور اٹوٹ حصہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے اور کوئی بھی اس ناقابلِ تردید سچائی کو بدل نہیں سکتا۔
دونوں ممالک کے درمیان سرحد پر صورتحال کے بارے میں پوچھے گئے سوال کے جواب میں ترجمان نے کہا کہ ہندستان سرحد سے جڑے معاملات کو انتہائی سنجیدہ مانتا ہے اور سرحد پر امن و استحکام اس کی ترجیح ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ سرحد کی صورتحال کا ہندستان اور چین کے تعلقات پر براہِ راست اثر پڑے گا۔ ترجمان نے کہا، “ہندستان اور چین کے درمیان سرحدی علاقوں سے جڑے معاملات میں، ہم نے ہمیشہ چین کے ساتھ بات چیت میں اس بات پر زور دیا ہے کہ ہم ان مسائل کو بے حد سنجیدہ مانتے ہیں اور ان علاقوں میں امن و استحکام برقرار رکھنا سب سے زیادہ اہم ہے۔ ہم نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ سرحدی معاملات کی صورتحال ہمارے وسیع دوطرفہ تعلقات کی صورتحال کی عکاسی کرے گی۔ اس بات کو 06 اگست کو حال ہی میں منعقدہ ‘ہند-چین سرحدی معاملات پر مشاورت اور ہم آہنگی کے ورکنگ میکانزم’ کی 36ویں میٹنگ میں بھی دہرایا گیا۔ اس میٹنگ میں دونوں فریقوں نے کھلی اور واضح بات چیت کی اورحقیقی کنٹرول لائن (ایل اے سی) پر صورتحال کا جائزہ لیا۔”
مسٹر جیسوال نے کہا کہ میٹنگ میں ہندستان نے اس بات پر زور دیا کہ دوطرفہ تعلقات کی ہمہ گیر ترقی کے لیے سرحدی علاقوں میں امن و استحکام برقرار رکھنا انتہائی ضروری ہے۔ اس بات پر اتفاق ہوا کہ لائن آف ایکچوئل کنٹرول پر غلط فہمی اور غلط اندازوں سے بچنے نیز باقی بچے ہوئے مسائل کو حل کرنے کے لیے ورکنگ میکانزم کی میٹنگوں، مقامی کمانڈر سطح کی میٹنگوں اور دیگر میکانزم سمیت موجودہ سفارتی اور فوجی ذرائع کا استعمال جاری رکھا جائے گا۔
یو این آئی ایف اے
ہندوستان
سندوش کمار نے نِرملا سیتارمن کے تبصرے راجیہ سبھا کے ریکارڈ سے ہٹانے کا مطالبہ کیا
نئی دہلی، کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا (سی پی آئی) کے راجیہ سبھا رکنِ پارلیمنٹ پی سندوش کمار نے وزیر خزانہ نِرملا سیتارمن کے ذریعہ پارلیمنٹ میں کمیونسٹ تحریک کے خلاف کیے گئے مبینہ قابلِ اعتراض تبصروں کو راجیہ سبھا کے ریکارڈ سے ہٹانے کا مطالبہ کیا ہے انہوں نے اس سلسلے میں راجیہ سبھا کے چیئرمین سی پی رادھا کرشنن کو منگل کے روز خط لکھا ہے۔
مسٹر کمار نے کہا کہ انکم ٹیکس (ترمیم) آرڈیننس 2026 کو منسوخ کرنے کے مطالبے پر ہونے والی بحث کے دوران وزیر خزانہ نے سی پی آئی (ایم) کے رکنِ پارلیمنٹ جان برٹاس کے حوالے سے کمیونسٹوں کو “ٹوٹل کائر” بتاتے ہوئے پوری کمیونسٹ تحریک پر تبصرہ کیا۔ سی پی آئی کے رکنِ پارلیمنٹ نے ان تبصروں پر سخت اعتراض ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ سیاسی اختلاف کو ذاتی اہانت یا کسی پوری سیاسی تحریک کی تذلیل تک محدود نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ کمیونسٹوں نے ملک کی جدوجہدِ آزادی میں حصہ لیا، جیل گئے اور انگریزی حکومت کے مظالم اور جبر کا سامنا کیا نیز جمہوریت، مزدوروں کے حقوق، سماجی انصاف اور عوام کے حقوق کی جدوجہد میں اہم قربانیاں دیں۔
سی پی آئی کے رکنِ پارلیمنٹ نے چیئرمین سے پارلیمانی ضوابط اور قائم کردہ روایتوں کے مطابق قابلِ اعتراض تبصروں کو سرکاری ریکارڈ سے ہٹانے کی اپیل کی۔ انہوں نے کہا کہ پارلیمنٹ کے وقار کو برقرار رکھنے کے لیے تلخ سیاسی بحث تو قابلِ قبول ہے لیکن کسی نظریے یا سیاسی تحریک کے خلاف ذاتی اہانت اور قابلِ اعتراض تبصرے مناسب نہیں ہیں۔
یو این آئی ایف اے
ہندوستان
پارلیمنٹ کے احاطے میں اپوزیشن ارکانِ پارلیمنٹ کا احتجاج
نئی دہلی، کانگریس اور اپوزیشن جماعتوں کے ارکانِ پارلیمنٹ نے چڑھاوا چوری اور طلبہ پر پولیس کارروائی کے معاملے پر حکومت سے جواب طلب کرنے کے اپنے مطالبات کی حمایت میں منگل کے روز پارلیمنٹ کی کارروائی شروع ہونے سے پہلے پارلیمنٹ ہاؤس کے احاطے میں احتجاج کیا۔
مظاہرین ارکانِ پارلیمنٹ ہاتھوں میں بینرز اور تختیاں تھامے حکومت مخالف نعرے لگاتے رہے۔ احتجاجی ارکانِ پارلیمنٹ وزیرِ داخلہ امت شاہ سے پولیس کارروائی پر جواب دینے اور چڑھاوا چوری کے معاملے کی وسیع پیمانے پر تحقیقات کرانے کا مطالبہ کر رہے تھے۔
بارش کی بوچھاڑوں کے درمیان احتجاج کرنے والے ارکانِ پارلیمنٹ میں کانگریس کی پرینکا گاندھی واڈرا، سماج وادی پارٹی کے اکھلیش یادو، اودھیش پرساد، ترنمول کانگریس کی پرتیما منڈل، جھارکھنڈ مکتی مورچہ، شیو سینا (ادھو گروپ) اور دیگر کئی جماعتوں کے ارکانِ پارلیمنٹ موجود تھے۔
یواین آئی۔الف الف
-
دنیا2 days agoایران کا فی الحال امریکہ کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں: ایرانی وزیر خارجہ
-
ہندوستان2 days agoطلبہ پر کارروائی کے معاملے پر حکومت کو گھیرتے ہوئے راہل کا مضمون، کھڑگے اور پرینکا نے حمایت کی
-
دنیا2 days agoسعودی عرب میں فیکٹری میں آگ کے سبب 16 بنگلہ دیشی مزدور ہلاک
-
دنیا20 hours agoایران نے خود کو ایک ‘ناقابل تسخیر طاقت’ ثابت کیا ہے: عراقچی
-
جموں و کشمیر19 hours agoیومِ آزادی سے قبل جموں و کشمیر پولیس نے سرحدی سامبا میں طویل فاصلے کی گشت اور فرضی انسدادِ دہشت گردی مشق کی
-
دنیا2 days agoٹرمپ جوہری معاہدے کے بغیر ایران کے ساتھ تنازع ختم کرنے پر تیار: رپورٹ
-
دنیا2 days agoتجربہ کار آئی آر جی سی کمانڈر محسن رضائی ایران کے قومی سلامتی کے سربراہ مقرر
-
دنیا20 hours agoشام کے سابق صدر بشار الاسد کو سزائے موت سنادی گئی
-
دنیا24 hours agoیمن میں حوثیوں کے المخا اور مارب پر بیلسٹک میزائل حملے
-
دنیا24 hours agoٹرمپ کا ایران سے معاوضے کا مطالبہ، آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
-
دنیا23 hours agoایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
-
ہندوستان21 hours agoپارلیمنٹ کے احاطے میں اپوزیشن ارکانِ پارلیمنٹ کا احتجاج
