تازہ ترین
لیت پورہ حملے کی تحقیقات کے لیے ماہر کار انجینئروں کی خدمات طلب
خبراردو:
بین الاقوامی کار کمپنی ماروتی سوزوکی کے ماہر انجینئروں کی خدمات طلب کی ہے۔ اس دوران معلوم ہوا ہے کہ قومی تحقیقات ایجنسی حملے میں مبینہ طور ملوث مدثر احمد خان نامی جنگجو کے رول کی تحقیقات کررہی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ حملے میں استعمال کئے گئے آر ڈی ایکس جیش سے منسلک گروپ نے بین الاقوامی سرحد سے دراندازی کرتے ہوئے اس پار لایا ہے۔
رواں مسلح جدوجہد میں اب تک پیش آئے سب سے بڑے اور خوفناک خودکش حملے جو 14فروری کو پیش آیا اور جس میں سی آر پی ایف کے 49اہلکار موقعے پر ہی ہلاک جبکہ درجنوں بری طرح زخمی ہوگئے ، کی بڑے پیمانے پر تحقیقات شروع کردی گئی ہے۔ معلوم ہو اہے کہ قومی تحقیقات ایجنسی (این آئی اے) نے حملے میں استعمال کی گئی گاڑی کی گہرائی سے چھان بین کرانے کے لیے بین الاقوامی کار کمپنی ماروتی سوزوکی کے ماہر انجینئروں کی خدمات طلب کی ہے۔خفیہ ذرائع سے معلوم ہو اہے کہ حملے میں استعمال کی گئی گاڑی بارودی مواد پھٹنے کی وجہ سے مکمل طور پر تباہ ہوئی ہیں اور تحقیقات کے لیے سیکورٹی ایجنسیوں کو کوئی شئے بھی دستیاب نہیں ہورہی ہے۔
اس سلسلے میں سیکورٹی ایجنسیوں نے تحقیقات میں پیش رفت حاصل کرنے کے لیے بین الاقوامی کار کمپنی ماروتی سوزوکی کے اعلیٰ اور ماہر انجینئروں کی خدمات طلب کی ہے۔ادھر ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ قومی تحقیقاتی ایجنسی نے حملے میں مبینہ طور پر ملوث جیش جنگجو مدثر احمد خان کی تلاش بڑے پیمانے پر شروع کردی ہے۔ سیکورٹی ایجنسیوں کے پاس موصولہ خفیہ اطلاعات کے مطابق مدثر احمد خان نے خود کش حملے میں اہم کردار نبھایا ہے۔
سیکورٹی ایجنسیوں کو خفیہ ذرائع سے ایسی اطلاعات بھی موصول ہوئی ہیں جس میں کہا گیا ہے کہ حال ہی میں بین الاقوامی سرحد سے جن جیش جنگجوؤں نے اس پار داخل ہونے میں کامیابی حاصل کی تھی، انہی کی ذریعے سے حملے کے لیے استعمال کئے گئے بارودی مواد سرحد کے اس جانب پہنچایا گیا۔اس سلسلے میں قومی تحقیقاتی ایجنسی کی طرف سے جاری حال میں ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ گزشتہ ایک برس کے دوران لائن آف کنٹرول اور بین الاقوامی سرحد سے 35جنگجوؤں جن کا تعلق لشکر طیبہ اور جیش محمد سے بتایا گیا ہے ، نے اس پار داخل ہونے میں کامیابی حاصل کی ہے۔خفیہ ذرائع نے بتایا کہ’’ لیت پورہ خود کش حملے سے متعلق ہم مشکوک افراد سے پوچھ تاچھ کررہے ہیں۔ ہماراماننا ہے کہ خود کش حملے میں استعمال کئے گئے بارودی مواد (آر ڈی ایکس) کو بین الاقوامی سرحد سے مہینوں قبل کشمیر پہنچایا گیا جس کے ساتھ ساتھ دھماکہ سے متعلق ماہرین کی ٹیم نے بھی اس پار داخل ہونے میں کامیابی حاصل کی۔ذرائع نے بتایا کہ مدثر نامی جنگجو نوجوان کی تفصیلات خفیہ ایجنسیوں نے شیئر کی ہے۔ خفیہ ایجنسیوں کا ماننا ہے کہ لیت پورہ حملے کو منطقی انجام تک پہنچانے کے لیے مدثر کا اہم رول رہا ہے اور اگر اس پر شکنجہ کسا جائے تو ایسے میں سیکورٹی ایجنسیوں کو مدثر سے پوچھ تاچھ کے بعد مزید سراغ ملیں گے۔انہوں نے بتایا کہ خود کش حملے میں استعمال کی گئی گاڑی کی تفصیلات کا گہرائی سے جائزہ لینے کی خاطر بین الاقوامی کار کمپنی ماروتی سوزوکی کے ماہر انجینئروں کی خدمات طلب کی جائیں گی۔انہو ں نے کہا کہ خود کش حملے میں استعمال کی گئی ’’ایکو وین‘‘ کی مکمل تفصیلات کا پتہ لگانے کے لیے ماہر انجینئروں کا تعاون حاصل کیا جائیگا۔
ذرائع نے بتایا کہ جائے واردات سے سیکورٹی ایجنسیوں نے مسخ شدہ نمبر پلیٹ برآمد کیا ہے اور اسی سلسلے میں گہرائی سے چھان بین کے لیے سوموار کو وارد ہوچکی ماہر انجینئروں کی ٹیم سیکورٹی ایجنسیوں کو تحقیقات میں مدد فراہم کریں گے۔ذرائع کا کہنا تھا کہ ماہر انجینئروں کی ٹیم گاڑی کی منوفیکچرنگ تاریخ کا پتہ لگانے کے علاوہ گاڑی مالک اور شوروم جہاں سے گاڑی کو خریدا گیا ہے کا پتہ لگانے کے لیے سیکورٹی ایجنسیوں کی مدد کریں گے۔انہوں نے بتایا کہ خود کش بمبار عادل احمد ڈار کی ویڈیو کلب جو حملے کے فوراً بعد جاری کردی گئی تھیں کا جائزہ لینے کی خاطر چندی گڑھ کی فارنسک لیبارٹی سے ماہرین کی خصوصی ٹیم کام پر لگی ہوئی ہے۔ معلوم ہوا ہے کہ چندی گڑھ سے بلائی گئی ماہرین کی ٹیم ویڈیو کلپ کا باریک بینی سے جائزہ لے رہی ہے اور امید کی جارہی ہے کہ آنے والے دنوں میں تحقیقاتی ٹیم کو کوئی بڑا سراغ ہاتھ لگے۔
ادھر قومی تحقیقاتی ایجنسی اور ریاستی پولیس نے حملے کے فوراً بعد جنوبی کشمیر میں جنگجوؤں کیلئے کام کرنے والے بالائے زمین ورکروں کو پوچھ تاچھ کے لیے بڑے پیمانے پر گرفتاری عمل میں لائی ہے تاکہ تحقیقاتی ٹیم کو خود کش حملے سے متعلق کوئی سراغ ہاتھ لگ سکے۔
ہندوستان
مودی حکومت کی پالیسیوں نے معاشی لبرلائزیشن کو برباد کر دیا: کھرگے
نئی دہلی، کانگریس صدر ملکارجن کھرگے نے مودی حکومت کی معاشی پالیسیوں پر شدید نکتہ چینی کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس حکومت نے عام لوگوں کے مفادات کو نظر انداز کر کے صارفین کے لیے متعدد اختیارات کی مسابقت کو ختم کر دیا ہے اور منتخب سرمایہ دار دوستوں کو فائدہ پہنچایا جا رہا ہے، جس سے معاشی لبرلائزیشن کی بنیاد برباد ہو گئی ہے۔
مسٹر کھرگے نے جمعہ کے روز سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ایکس’ پر لکھا کہ مودی حکومت کی معاشی پالیسیوں کا مقصد معیشت کا کنٹرول اپنے چہیتے سرمایہ دار دوستوں کے ہاتھوں میں سونپنا ہے، تاکہ بدلے میں منافع میں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کا حصہ برقرار رہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ مسابقت کو ختم کر کے اجارہ داری اور دو کمپنیوں کے غلبے والے نظام کو نافذ کر کے بی جے پی کے خزانے کو بھرنے کا کام کیا گیا ہے۔
کانگریس صدر نے کہا کہ ٹیلی کام کے شعبے میں 2014 سے پہلے 13 کمپنیاں تھیں، جبکہ اب صرف تین بڑی نجی کمپنیاں رہ گئی ہیں۔ اسی طرح اندرونِ ملک ہوا بازی کے شعبے میں 2014 سے پہلے سات کمپنیوں کے مقابلے اب صرف دو بڑی کمپنیاں رہ گئی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ڈیجیٹل ادائیگی، سیمنٹ اور فوڈ ڈیلیوری ایپس سمیت مختلف شعبوں میں حکومت کی ترجیح مسابقت کو ختم کرنا رہی ہے۔ مسٹر کھرگے نے کہا کہ کانگریس معاشی لبرلائزیشن کی بانی ہے، جبکہ بی جے پی پر اپنے منافع کے لیے ‘معاشی دہشت گردی’ نافذ کرنے کا الزام لگایا۔
مسٹر کھرگے نے دعویٰ کیا کہ حکومت کی معاشی پالیسیوں سے مائیکرو، اسمال اینڈ میڈیم انٹرپرائزز (ایم ایس ایم ای) اور دیگر چھوٹے و درمیانے درجے کی صنعتوں کو نقصان پہنچا ہے نیز ملک کے نوجوانوں کو شدید بے روزگاری کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
یواین آئی ایف اے
ہندوستان
انڈیا اتحاد کے رہنماؤں سے جمعہ کی رات آٹھ بجے ملاقات کریں گی مرمو
نئی دہلی، انڈیا اتحاد کے رہنما جمعہ کی رات آٹھ بجے صدرِ جمہوریہ دروپدی مرمو سے ملاقات کر کے ووٹر لسٹ کی خصوصی تفصیلی نظرثانی (ایس آئی آر) کےعمل کے ذریعے دھاندلی کرنے اور الیکشن کمیشن کے طریقہ کار سے متعلق مسائل پر اپنے خدشات پیش کریں گے۔
ذرائع کے مطابق انڈیا اتحاد کے رہنماؤں نے 30 ستمبر کو یہاں منعقدہ میٹنگ میں صدرِ جمہوریہ سے ملاقات کر کے ان مسائل پر ان کے سامنے اپنا موقف رکھنے کا فیصلہ کیا تھا۔ اتحاد کے رہنما ایس آئی آر کے عمل اور چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے طریقہ کار سے متعلق اپنے خدشات سے صدرِ جمہوریہ کو آگاہ کرنا چاہتے ہیں۔
اس سلسلے میں صدرِ جمہوریہ سے ملاقات کے لیے پہلی بار دو اکتوبر کو مکتوب بھیج کر وقت مانگا گیا تھا۔ راشٹرپتی بھون کی طرف سے وفد میں شامل ہونے والے رہنماؤں کے نام مانگے جانے کے بعد اتحاد نے پانچ اکتوبر کو دوبارہ مکتوب بھیجا اور سات، آٹھ یا نو اکتوبر میں سے کسی بھی دن ملاقات کا وقت دینے کی درخواست کی تھی۔
انڈیا اتحاد کے رہنما چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار پر ووٹر لسٹ میں مبینہ دھاندلیوں کے تعلق سے سوال اٹھاتے ہوئے ان کے استعفے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ اس معاملے پر اتحاد کے اراکینِ پارلیمنٹ نے مظاہرے اور مارچ بھی نکالے ہیں۔
کانگریس نے الیکشن کمیشن کے خلاف اپنے احتجاج کو تیز کرنے کے لیے تقریباً ڈیڑھ ماہ تک جاری رہنے والی تحریک کے پروگرام کی بھی توثیق کی ہے۔ کانگریسی رہنما راہل گاندھی اور پرینکا گاندھی واڈرا کو پولیس مظاہرے کے دوران مسلسل دو بار حراست میں بھی لے چکی ہے۔
یواین آئی ایف اے
ہندوستان
ہندوستان نے امریکہ کے پی ای آر ایم پروگرام پر روک پر تشویش کا اظہار کیا، کہا – یہ دونوں ممالک کے مفادات کے خلاف
نئی دہلی، ہندوستان نے امریکی محکمہ محنت کے مستقل لیبر سرٹیفیکیشن پروگرام (پی ای آر ایم) سے جڑے فیصلے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسے دونوں ممالک کے مفادات کے خلاف بتایا ہے۔
امریکہ کی جانب سے جمعرات کی رات اس قدم کے اعلان کے بعد وزارتِ خارجہ نے جمعہ کے روز ایک بیان جاری کر کے کہا کہ اس قدم سے متاثرہ کمپنیوں کے اہل ملازمین کے گرین کارڈ کے عمل پر اثر پڑ سکتا ہے۔ تاہم پی ای آر ایم درخواستوں پر روک سے موجودہ ایچ-1بی ویزا یا ویزا ہولڈرز اور ان کے زیرِ کفالت افراد کی حیثیت پر خود بخود کوئی اثر نہیں پڑتا۔
ہندوستان نے کہا کہ پی ای آر ایم پروگرام، ایچ-1بی ویزا پروگرام سے مختلف ہے۔ متاثرہ کمپنیوں کے اہل ملازمین کی مستقل رہائش یعنی گرین کارڈ حاصل کرنے کے عمل پر اس کا کچھ اثر ہو سکتا ہے، لیکن اس سے موجودہ ایچ-1بی ویزا کی میعاد اپنے آپ ختم نہیں ہوتی۔
وزارتِ خارجہ نے کہا ہے کہ ہندوستانی ٹیلنٹ کے امریکہ جانے سے دونوں ممالک کی معیشتوں کو فائدہ ہوتا ہے۔ اس سے ہندوستانیوں کو مواقع ملتے ہیں، جبکہ امریکی کمپنیوں کو ہنر مند ملازمین، نئی ٹیکنالوجی، تحقیق، جدت طرازی، پیداواری صلاحیت اور مسابقتی صلاحیت بڑھانے میں مدد ملتی ہے۔ اس سے امریکہ میں روزگار کے مواقع پیدا ہوتے ہیں اور شیئر ہولڈرز کے اثاثوں میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔
ہندوستان نے کہا کہ امریکہ کا یہ قدم دونوں ممالک کے مشترکہ اہداف کو آگے بڑھانے میں مدد نہیں کرتا۔ ہندوستان نے امریکی نائب صدر کے اس معاملے پر کیے گئے تبصروں پر بھی اعتراض ظاہر کیا۔ ہندوستان کے مطابق ایسے تبصرے غیر مناسب ہیں اور امریکہ کی معیشت نیز جدت طرازی میں ہندوستانی پیشہ ور افراد کی خدمات کو نظر انداز کرتے ہیں۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ ہندوستانی پیشہ ور افراد امریکہ کی معیشت اور جدت طرازی کے نظام میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ امریکہ کی تاریخ بھی ایسے تارکینِ وطن کی خدمات سے بنی ہے جنہوں نے اپنے کام، کاروبار اور نئے خیالات سے ملک کی ترقی میں مدد کی ہے۔ ہندوستان نے کہا کہ دردناک تاریخی اور نوآبادیاتی دور کی یاد دلانے والے الفاظ کا استعمال انتہائی قابلِ اعتراض ہے۔
وزارتِ خارجہ نے کہا کہ وہ اس معاملے سے جڑی صورتحال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہے۔
یواین آئی ایف اے
-
جموں و کشمیر1 week agoسری نگر پولیس نے بین ریاستی منشیات نیٹ ورک کا پردہ فاش کیا، آٹھ افراد گرفتار
-
دنیا1 week agoقطری ثالثی کی امریکہ، ایران کے درمیان مذاکرات میں معمولی پیش رفت
-
دنیا1 week agoروس پر براہِ راست حملے کی صورت میں ہر قسم کے ہتھیار استعمال کرنےکا معاملہ ایجنڈے پر ہو گا :پوتن
-
ہندوستان1 week agoوندے بھارت نے چِناب پل اور کیبل اسٹڈ انجی پل کو 100 کلومیٹر کی رفتار سے عبور کیا
-
جموں و کشمیر7 days agoگاندھی کے عدم تشدد اور سودیشی کے نظریات آج بھی اہم ہیں: جموں کے ڈویژنل کمشنر
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر میراتھن اتحاد اور نوجوانوں کے متبادل خواہشات کا پیغام دیتی ہے: ایل جی سنہا
-
دنیا6 days agoخمیس مشیط کی جانب داغے گئے تین حوثی بیلسٹک میزائل تباہ
-
ہندوستان1 week agoڈیفنس اکاؤنٹس ڈیپارٹمنٹ کے 279ویں سالانہ دن پر کئی نئی پہل کی شروعات کریں گے راج ناتھ
-
جموں و کشمیر1 week agoجاوید ڈار نے اسمبلی میں سی اے جی کی رپورٹیں پیش کیں
-
ہندوستان1 week agoشیئر بازاروں میں گراوٹ جاری، سینسیکس 49 پوائنٹس پھسلا
-
دنیا1 week agoایران امریکہ سے مذاکرات کی کوشش جاری رکھے گا: پیزشکیان
-
جموں و کشمیر1 week agoاپوزیشن لیڈر کا عمر پر ریاستی حیثیت کی بحالی کے مطالبے کو ’سبوتاژ‘ کرنے کا الزام، جموں و کشمیر اسمبلی کا اجلاس ’بدقسمت‘ قرار
