ہندوستان
مرمو اور دھنکھڑ سمیت کئی لیڈروں نے ووٹ ڈالے
نئی دہلی، دہلی اسمبلی کی 70 سیٹوں کے لیے بدھ کی صبح 7 بجے سے ووٹنگ جاری ہے۔ صدر دجمہوریہ روپدی مرمو، نائب صدر جگدیپ دھنکھڑ، وزیر خارجہ ایس جے شنکر، لیفٹیننٹ گورنر وی کے سکسینہ، کانگریس لیڈر راہل گاندھی اور دہلی کی وزیر اعلیٰ آتشی سمیت کئی لیڈروں اور افسران نے مختلف پولنگ اسٹیشنوں پر اپنا ووٹ ڈالا۔ صبح 11 بجے تک اوسطاً 19.95 فیصد پولنگ ہوچکی ہے۔
صدر دروپدی مرمو نے نئی دہلی میں ڈاکٹر راجندر پرساد کیندریہ ودیالیہ میں اپنا ووٹ ڈالا۔ انہوں نے پہلی بار قومی راجدھانی علاقے میں ووٹ ڈالا ہے۔ مسٹر دھنکھڑ اپنی اہلیہ سدیش دھنکھڑ کے ساتھ نارتھ ایونیو میں سی پی ڈبلیو ڈی سروس سینٹر میں اپنا ووٹ ڈالنے کے لیے قطار میں کھڑے نظر آئے اور اس دوران انہوں نے قطار میں کھڑے لوگوں سے بات چیت کی۔
وزیر خارجہ ڈاکٹر ایس جے شنکر اور ان کی اہلیہ کیوکو جے شنکر نے این ڈی ایم سی اسکول آف سائنس اینڈ ہیومینٹیز، تغلق کریسنٹ میں قائم پولنگ اسٹیشن پر اپنا ووٹ ڈالا۔
دہلی کے لیفٹیننٹ گورنر ونے کمار سکسینہ نے اپنا ووٹ ڈالنے کے بعد کہا ’’میں نے دہلی کے لوگوں سے بڑی تعداد میں ووٹ ڈالنے کی اپیل کی ہے۔ میں چاہتا ہوں کہ دہلی کے لوگ ووٹنگ میں ریکارڈ بنائیں۔‘‘
لوک سبھا میں حزب اختلاف کے لیڈر اور کانگریس کے رکن پارلیمنٹ راہل گاندھی ووٹ ڈالنے نرمان بھون میں واقع پولنگ اسٹیشن پہنچے اور اپنا ووٹ ڈالا۔
دہلی کے وزیر اعلیٰ اور کالکاجی اسمبلی سیٹ سے عام آدمی پارٹی کی امیدوار آتشی نے کالکاجی کے ایک پولنگ بوتھ پر اپنا ووٹ ڈالا۔ محترمہ آتشی نے کہا کہ یہ صرف ایک الیکشن نہیں ہے، یہ ایک مذہبی جنگ ہے۔ یہ حق اور باطل کی لڑائی ہے۔
آپ کے قومی کنوینر اروند کیجریوال اپنی اہلیہ سنیتا کیجریوال اور والدین گوبند رام کیجریوال اور گیتا دیوی کے ساتھ اپنا ووٹ ڈالنے کے لیے لیڈی ارون سینئر سیکنڈری اسکول پہنچے۔ نئی دہلی اسمبلی حلقہ سے مسٹر کیجریوال کا مقابلہ کانگریس کے سندیپ ڈکشت اور بھارتیہ جنتا پارٹی کے پرویش ورما سے ہے۔
اس کے علاوہ کئی بڑی شخصیات نے بھی اپنا ووٹ ڈالا، جن میں بحریہ کے سربراہ ایڈمرل دنیش ترپاٹھی نے دہلی کی کے کامراج لین میں ڈالا۔ انہوں نے پولنگ بوتھ پر تبصرہ بھی لکھا۔ ہندوستانی آرمی چیف جنرل اوپیندر دویدی نے بھی کے کامراج لین میں واقع پولنگ اسٹیشن پر ووٹ ڈالا۔
الیکشن کمشنر ڈاکٹر سکھبیر سنگھ سندھو ووٹ ڈالنے موتی باغ اسمبلی کے پولنگ اسٹیشن پہنچے۔ انہوں نے کہا کہ دہلی میں صبح سے ہی صاف ستھرے طریقے سے ووٹنگ جاری ہے۔ کسی ناخوشگوار واقعے کی اطلاع نہیں ہے۔ تمام پولنگ اسٹیشنوں پر بہترین انتظامات ہیں۔ ووٹ ڈالنے کے لیے آنے والے لوگوں کا تجربہ اچھا ہے۔ میں تمام لوگوں سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ اپنے حق رائے دہی کا استعمال ضرور کریں۔
دہلی پولیس کمشنر سنجے اروڑہ اور ان کی اہلیہ نے موتی باغ کے ایک پولنگ اسٹیشن پر اپنا ووٹ ڈالا۔
قومی راجدھانی کے 1.56 کروڑ ووٹر شام 6 بجے تک ووٹ ڈال سکیں گے۔ اس کے لیے 13 ہزار کے قریب پولنگ مراکز قائم کیے گئے ہیں۔
یو این آئی۔ این یو۔
ہندوستان
اروناچل ہندستان کا اٹوٹ حصہ، سرحد کی صورتحال ہی چین کے ساتھ دوطرفہ تعلقات کی بنیاد:ہندستان
نئی دہلی ہندستان نے اروناچل پردیش کو اپنا ناقابلِ تقسیم اور اٹوٹ حصہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ چین کے ساتھ اس کے دوطرفہ تعلقات سرحد کی صورتحال پر مبنی ہوں گے اور سرحدی صورتحال کا ان تعلقات پر براہِ راست اثر ہوگا۔
وزارتِ خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے منگل کے روز یہاں میڈیا بریفنگ میں سوالات کے جواب دیتے ہوئے یہ بات کہی۔ دراصل چین کی جانب سے اروناچل پردیش اور اس کے کچھ مقامات کے نام تبدیل کرنے کے ردعمل میں ہندستان نے حال ہی میں اروناچل پردیش کی 27 اہم جگہوں کو سروے آف انڈیا کے نقشے میں سرکاری طور پر نشان زد کر دیا ہے۔ اس پر چین کی طرف سے منفی ردعمل سامنے آیا ہے۔ چین کے اس ردعمل کے بارے میں پوچھے جانے پر مسٹر جیسوال نے کہا کہ اروناچل پردیش ہندستان کا ناقابلِ تقسیم اور اٹوٹ حصہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے اور کوئی بھی اس ناقابلِ تردید سچائی کو بدل نہیں سکتا۔
دونوں ممالک کے درمیان سرحد پر صورتحال کے بارے میں پوچھے گئے سوال کے جواب میں ترجمان نے کہا کہ ہندستان سرحد سے جڑے معاملات کو انتہائی سنجیدہ مانتا ہے اور سرحد پر امن و استحکام اس کی ترجیح ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ سرحد کی صورتحال کا ہندستان اور چین کے تعلقات پر براہِ راست اثر پڑے گا۔ ترجمان نے کہا، “ہندستان اور چین کے درمیان سرحدی علاقوں سے جڑے معاملات میں، ہم نے ہمیشہ چین کے ساتھ بات چیت میں اس بات پر زور دیا ہے کہ ہم ان مسائل کو بے حد سنجیدہ مانتے ہیں اور ان علاقوں میں امن و استحکام برقرار رکھنا سب سے زیادہ اہم ہے۔ ہم نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ سرحدی معاملات کی صورتحال ہمارے وسیع دوطرفہ تعلقات کی صورتحال کی عکاسی کرے گی۔ اس بات کو 06 اگست کو حال ہی میں منعقدہ ‘ہند-چین سرحدی معاملات پر مشاورت اور ہم آہنگی کے ورکنگ میکانزم’ کی 36ویں میٹنگ میں بھی دہرایا گیا۔ اس میٹنگ میں دونوں فریقوں نے کھلی اور واضح بات چیت کی اورحقیقی کنٹرول لائن (ایل اے سی) پر صورتحال کا جائزہ لیا۔”
مسٹر جیسوال نے کہا کہ میٹنگ میں ہندستان نے اس بات پر زور دیا کہ دوطرفہ تعلقات کی ہمہ گیر ترقی کے لیے سرحدی علاقوں میں امن و استحکام برقرار رکھنا انتہائی ضروری ہے۔ اس بات پر اتفاق ہوا کہ لائن آف ایکچوئل کنٹرول پر غلط فہمی اور غلط اندازوں سے بچنے نیز باقی بچے ہوئے مسائل کو حل کرنے کے لیے ورکنگ میکانزم کی میٹنگوں، مقامی کمانڈر سطح کی میٹنگوں اور دیگر میکانزم سمیت موجودہ سفارتی اور فوجی ذرائع کا استعمال جاری رکھا جائے گا۔
یو این آئی ایف اے
ہندوستان
سندوش کمار نے نِرملا سیتارمن کے تبصرے راجیہ سبھا کے ریکارڈ سے ہٹانے کا مطالبہ کیا
نئی دہلی، کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا (سی پی آئی) کے راجیہ سبھا رکنِ پارلیمنٹ پی سندوش کمار نے وزیر خزانہ نِرملا سیتارمن کے ذریعہ پارلیمنٹ میں کمیونسٹ تحریک کے خلاف کیے گئے مبینہ قابلِ اعتراض تبصروں کو راجیہ سبھا کے ریکارڈ سے ہٹانے کا مطالبہ کیا ہے انہوں نے اس سلسلے میں راجیہ سبھا کے چیئرمین سی پی رادھا کرشنن کو منگل کے روز خط لکھا ہے۔
مسٹر کمار نے کہا کہ انکم ٹیکس (ترمیم) آرڈیننس 2026 کو منسوخ کرنے کے مطالبے پر ہونے والی بحث کے دوران وزیر خزانہ نے سی پی آئی (ایم) کے رکنِ پارلیمنٹ جان برٹاس کے حوالے سے کمیونسٹوں کو “ٹوٹل کائر” بتاتے ہوئے پوری کمیونسٹ تحریک پر تبصرہ کیا۔ سی پی آئی کے رکنِ پارلیمنٹ نے ان تبصروں پر سخت اعتراض ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ سیاسی اختلاف کو ذاتی اہانت یا کسی پوری سیاسی تحریک کی تذلیل تک محدود نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ کمیونسٹوں نے ملک کی جدوجہدِ آزادی میں حصہ لیا، جیل گئے اور انگریزی حکومت کے مظالم اور جبر کا سامنا کیا نیز جمہوریت، مزدوروں کے حقوق، سماجی انصاف اور عوام کے حقوق کی جدوجہد میں اہم قربانیاں دیں۔
سی پی آئی کے رکنِ پارلیمنٹ نے چیئرمین سے پارلیمانی ضوابط اور قائم کردہ روایتوں کے مطابق قابلِ اعتراض تبصروں کو سرکاری ریکارڈ سے ہٹانے کی اپیل کی۔ انہوں نے کہا کہ پارلیمنٹ کے وقار کو برقرار رکھنے کے لیے تلخ سیاسی بحث تو قابلِ قبول ہے لیکن کسی نظریے یا سیاسی تحریک کے خلاف ذاتی اہانت اور قابلِ اعتراض تبصرے مناسب نہیں ہیں۔
یو این آئی ایف اے
ہندوستان
پارلیمنٹ کے احاطے میں اپوزیشن ارکانِ پارلیمنٹ کا احتجاج
نئی دہلی، کانگریس اور اپوزیشن جماعتوں کے ارکانِ پارلیمنٹ نے چڑھاوا چوری اور طلبہ پر پولیس کارروائی کے معاملے پر حکومت سے جواب طلب کرنے کے اپنے مطالبات کی حمایت میں منگل کے روز پارلیمنٹ کی کارروائی شروع ہونے سے پہلے پارلیمنٹ ہاؤس کے احاطے میں احتجاج کیا۔
مظاہرین ارکانِ پارلیمنٹ ہاتھوں میں بینرز اور تختیاں تھامے حکومت مخالف نعرے لگاتے رہے۔ احتجاجی ارکانِ پارلیمنٹ وزیرِ داخلہ امت شاہ سے پولیس کارروائی پر جواب دینے اور چڑھاوا چوری کے معاملے کی وسیع پیمانے پر تحقیقات کرانے کا مطالبہ کر رہے تھے۔
بارش کی بوچھاڑوں کے درمیان احتجاج کرنے والے ارکانِ پارلیمنٹ میں کانگریس کی پرینکا گاندھی واڈرا، سماج وادی پارٹی کے اکھلیش یادو، اودھیش پرساد، ترنمول کانگریس کی پرتیما منڈل، جھارکھنڈ مکتی مورچہ، شیو سینا (ادھو گروپ) اور دیگر کئی جماعتوں کے ارکانِ پارلیمنٹ موجود تھے۔
یواین آئی۔الف الف
-
دنیا2 days agoایران کا فی الحال امریکہ کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں: ایرانی وزیر خارجہ
-
ہندوستان2 days agoطلبہ پر کارروائی کے معاملے پر حکومت کو گھیرتے ہوئے راہل کا مضمون، کھڑگے اور پرینکا نے حمایت کی
-
دنیا2 days agoسعودی عرب میں فیکٹری میں آگ کے سبب 16 بنگلہ دیشی مزدور ہلاک
-
دنیا20 hours agoایران نے خود کو ایک ‘ناقابل تسخیر طاقت’ ثابت کیا ہے: عراقچی
-
دنیا20 hours agoشام کے سابق صدر بشار الاسد کو سزائے موت سنادی گئی
-
جموں و کشمیر20 hours agoیومِ آزادی سے قبل جموں و کشمیر پولیس نے سرحدی سامبا میں طویل فاصلے کی گشت اور فرضی انسدادِ دہشت گردی مشق کی
-
دنیا2 days agoٹرمپ جوہری معاہدے کے بغیر ایران کے ساتھ تنازع ختم کرنے پر تیار: رپورٹ
-
دنیا24 hours agoایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
-
ہندوستان22 hours agoپارلیمنٹ کے احاطے میں اپوزیشن ارکانِ پارلیمنٹ کا احتجاج
-
دنیا2 days agoتجربہ کار آئی آر جی سی کمانڈر محسن رضائی ایران کے قومی سلامتی کے سربراہ مقرر
-
دنیا24 hours agoیمن میں حوثیوں کے المخا اور مارب پر بیلسٹک میزائل حملے
-
دنیا24 hours agoٹرمپ کا ایران سے معاوضے کا مطالبہ، آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
