تازہ ترین
مسلمانون کا عروج وزوال ملکر اب مستقبل کی فکر کرتے ہیں
قاری نصیر احمد پیر
اس بات میں کوئی شک نہیں ہے فی الوقت جب ہم گہراہی اور غور و فکر سے حالات و واقعات کا آئے روز مشاہدہ کرتے ہیں ریڈیو،ٹی وی، دیکھتے ہیں جرائد و رسائل پڑھتے ہیں تو ہمیں معلوم ہوتا ہے مجموعی طور اس وقت پوری دنیا میں غیر اقوام کے برعکس مسلمانوں کو سب سے زیادہ سیاسی، سماجی، معاشی، تعلیمی،مسائل کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے جب ہم تاریخ اسلام کا بغور مطالعہ کرتے ہیں تو مسلمانوں کا ماضی ہمیں درخشاں و تابندہ نظر آتا ہے مسلمانوں کے دور ِ ماضی کو دیکھ کرمعلوم ہوتا ہے مسلمانوں کو خلافت راشدہ سے لیکر اپنے آخری دور اقتدار خلافت عثمانیہ تک ان مسائل کا سامنا نہیں تھا بہر کیف اس وقت امت مسلمہ جس نازک مقام پر کھڑی ہے اس میں اغیار کی سازش اپنوں کی بے وفائی شامل ہے خلافت راشدہ کا آفتاب غروب ہونے کے ساتھ ہی امت مسلمہ کے لئے گوں نا گوں مسائل کھڑے ہوئے۔
آج مغربی ممالک کے کچھ دانشور صحافی خود کو افلاطون سمجھنے والے مسلمانوں کو طعنے دیتے ہیں کہ مسلمانوں کے پاس تعلیم نہیں ہے مسلمانوں کا ماضی کچھ نہیں تھا تاریخ شاہد ہے مسلمانوں نے دنیا کو کیا دیا امت مسلمہ نے یورپ کوجینے کا طریقہ سیکھایا مسلم قوم کے بہادروں اور جیالوں نے تاریخ رقم کی ہے ہم یہ بات دنیا کو فخر سے کہتے ہیں ہم نے دنیا کو ابن رشد سا فلاسفر، اور ابن سینا، اور ابن باجۃ، جیسا حکمائے حاذق اور ابن نفیس،جیسا گردش خون پر تحقیق کرنے والا سپیشللسٹ دیا اس بات کا اعتراف یورپ کے مشہور و معروف مورخ مثل گبن نے یہ خود تسلیم کر لیا ہے ہر علم کے موجد عرب کے مسلم علماء ہے یورپ نے ان علوم و فنون کو اس درجہ ترقی دی ہے جس کو ہم حیرت سے دیکھ رہے ہیں۔ مثال کیلئے یہاں ہم صرف دو مثالیں قارئین کی خدمت میں بطور نمونہ پیش کرتے ہیں ۔ اسپین میں مسلم قوم کا ماضی:عہد فاروقی میں بہت زیادہ فتوحات ہوئے ماوراء النہر کا علاقہ فتح ہوا دوسری طرف آرمنیا تک پہنچے لاکھوں مرلبع میل فتح کئے عیسائی مورخین نے اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ اگر خلیفہ دوم کی حکومت مزید تھوڑی مدت تک قائم دوائم رہتی تو آج پورا یورپ اسلام کی نوری کرنوں سے آباد ہوا ہوتا اسپین کو یورپ کا دورازہ کہتے ہیں خلیفہ عبد المک بن مروان کے دور اقتدار میں تین مشہور فوجی جرنل تھے جن کو کے کارنامے اسلامی تاریخ مین سنہری حروف کے ساتھ لکھے گئے ہیں محمد بن قاسم جسکو فاتح سند ھ مورخین نے لکھا ہے۔جنرل موسی بن نضیر فاتح شمالی افریقہ اور جنرل طارق بن زیاد فاتح اسپین مسلمانوں کا اسپین پر قبضہ 712ٗء میں ہوا جو سات سو اسی تک قائم و دائم رہا عیسایوں نے پھر اسپین پر 1492ٗٗء پر قبضہ کیا اور اسپین سے مسلمانوں کا مکمل صفایا کرنا شروع کیا مسلمانوں کا پہلا دشمن کنک فروی نند تھا جس نے سب سے پہلے یہ اعلان کیا کہ کس طرح مسلمانوں کا صفایا کیا جائے گا یہاں یہ بات غور طلب ہے،مسلمانوں نے سات سو اسی تک حکومت کی پھر مسلم اقتدار کو زوال کیسے آیا تو اسکا جواب مورخین نے یہ لکھا ہے کہ اس کی صرف ایک وجہ تھی وہ یہ کہ مسلمانوں نے آپس میں فرقے بنائے اور کچھ مسلمان اپنی صفیں چھوڑ کر عیسائیوں کی حمایت کرنے لگے جس کی وجہ سے عیسائی اسپین پر قابض ہوئے بہر کیف مسلمانوں نے اسپین پر فتح حاصل کی اب تھوڑا سا فاصلہ رہ گیا تقریباََپورے یورپ پر مسلمان فتح حاصل کر جاتے لیکن دور فاروقی میں یہاں فتح رک گئی اب مزید آگے جانے کا ارادہ تھا لیکن چکی کا پہیہ واپس پلٹنے لگا بہر کیف وقت گزرتا گیا یورپ نے واپس مسلم اسپین کو قبضے میں لیا اوراسپین کو دیکھ کر ششدر رہ گئے کیونکہ اسپین ایک ترقی یافتہ ملک بنا ہوا تھا جو ہر اعتبار سے اپنی مثال اپ تھا جو اس بات کو زبان ِحال سے بیان کر رہا تھا یورپ کے رہنے والو مسلمانوں کاماضی عدل،امن،ترقی، خوشحالی، شرم و حیا پر مبنی تھا یورپ نے جب اسپین میں تاریخی جگہوں کو دیکھا مکانات دیکھے ٹھیک انہوں نے مسلمانوں کے مکانات دیکھ کر اپنے مکانات تعمیر کئے 16ء تک یورپین فوج لائن میں بیٹھ کر برہنہ پیشاب کرتے تھے لیکن اسپین پر قابض ہونے کے بعد مسلمانوں کے بیت الخلاء دیکھ کر انہوں نے بھی بیت الخلاء بنانے شروع کر دئے تاریخ گواہ ہے اسپین پر قابض ہونے سے پہلے مغربی ممالک کے عقلمندوں کو پیشاب کرنے کا طریقہ تک بھی نہیں آتا تھا۔عہد فارقی کی فتوحات دیکھ کر مفکر ملت شاعر مشرق علامہ اقبالؒ نے فرمایا
دی آذانیں ہم نے کھبی یورپ کے کلیساوں میں کھبی افریقہ کے تپتے ہوئے سحروں میں
دشت تودشت ہے دریا بھی نہ چھوڑے ہم نے بہر ظلمات میں دوڑا دئے گھوڑے ہم نے
ارض ہند میں مسلم قوم کا ماضی :مسلم قوم کا دور حکومت ہندوستان میں بھی اپنی مثال آپ رہا ہے، موجودہ ہندوستان کی موجودہ حکومت کیلئے ماضی کامسلم دور حکومت سبق ہے،مسلمانوں نے ہندوستان پر کل ملا کر تقریباََ ایک ہزار سال تک حکومت کی ہے جن میں سر فہرست خاندان مغل،خاندان تغلق،خاندان غلامان،خاندان خلیجی،خاندان لودھی،خاندان سید،شامل ہے مغلیہ سلطنت کا دور مغل بابر شاہ سے شروع ہوااور بد قسمتی مغل بادشاہ جہانگیر کے دور حکومت میں جب انگریز ہندوستان تجارت کی غرض سے آئے انہوں نے اندر ہی اندر سے مغل سلطنت کے خاتمے کیلئے کام کرنا شروع کیا اور ہندوستان پر قابض ہونا چاہتے تھے ایسٹ انڈیا کمپنی کی آڑ میں ہتھیار جمع کئے اور پھر منظم ہوئے اور پھر با قاعدہ مغل سلطنت کے ساتھ نبرد آزما ہوئے مغل سلطنت کے دور کا آخری بادشاہ مغل شاہ ظفر رہا شاہ ظفر کے والد مرحوم اورنگزیب عالم گیر رنگون جیل میں انتقال کر گئے تھے ان کو برطانوی ظالم قابض حکومت نے انکو جیل میں بند کیا تھا پھر اس مغل سلطنت کا ہمیشہ کیلئے ہندوستان سے انخلاء ہوا اور برطانیہ بلا آ خر دہلی کے شاہی تخت پر قابض ہوا،مذکورہ بالا تمام خاندانوں کا تذکرہ اس وقت نہیں کیا جا سکتا ہے البتہ اسکا مختصر نقشہ قارئین کی خدمت میں پیش خدمت ہے۔ خاندانِ غلامان نے 1260سے 12 90 تک خاندان خلیجی نے 1290سے 1321تک خاندان تغلق نے 1321سے1412خاندان سید نے 1414سے 1451تک خاندان لودھی نے 1451سے1526تک خاندان مغل نے1526سے لیکر1857تک حکومت کی پھر یہاں پر مغل سلطنت کا خاتمہ کیا پھر مسلمان متحد ہوئے اور انگریز کے خلاف علم ِجہاد بلند لہذا ایک زور دار تحریک چلائی، گئی جو آج بھی کتب تاریخ میں، ریشمی رومال،کے نام سے جانی جاتی ہے خیر ارض ہند سے ہمیشہ کیلئے مسلمانوں نے برطانیہ کو نکال دیا مگر افسوس آج کہا جاتا ہے یہ چمن تمہارا نہیں ہمارا ہے۔ تو مسلمانوں کا ماضی بالخصوص ارض ہند کے دور اقتدار کے دوران انتہائی اہمیت کا حامل رہا ہے۔مسلمانوں کے دور اقتدار میں ہندوستان ترقی کے عروج پر تھا اور جب برطانیہ ہندوستان آ یا،تو انہوں نے ہندوستان کو سونے کی چڑیا لقب،دیا تھا ایسٹ انڈیا کمپنی نے جب ہندوستان کو آباد دیکھا،تو اسکی نیت بدل گئی اور اسی لئے ہندستان پر قبضہ کیا تاکہ یہ سارے وسائل مجھے ہاتھ میں آئیں گے۔جب آج آزادی ہند کا تذکرہ کیا جاتا ہے تو ہمارے سامنے شیر میسور ٹیپو سلطان حاٖفظ ضامن شہید شاہ اسماعیل شہید اشفا ق اللہ خان کی تصویر ذہنوں میں آتی ہے مختصر ہندوستان کو مسلمانوں نے بنایا اور جب دشمن نے اس کو چھینا چاہا تو پھر اس کو واپس لینے کیلئے مسلمانوں نے جان دی،بہر کیف مسلمانوں کا ماضی ارض ہند میں بھی درخشاں و تابندہ نظر آتا ہے۔مسلمانوں کو ان سیاسی، معاشی، تعلیمی، مسائل کا سامنا نہیں تھا ہندوستان میں مسلم حکومت کے دور اقتدار میں اقلیتوں کو بھی ان مسائل کا سامنا نہیں تھا ہندوستان کی معاشی حالت بہتر تھی جس کا اعتراف مسلم مورخ نہیں بلکہ غیر مسلم مورخ صحافی دانشور حضرات بھی کر چکے ہیں ۔مسلم قوم کا ماضی سنہری حروف سے لکھا گیا ہے جب تک ارض ہند کی باگ دوڈ زمام ِ اقتدار مسلمانوں کے ہاتھ میں تھا تو ہندوستان میں تمام مذاہب کے رہنے والے خوشحال تھے اس بات کا اعتراف کوئی مسلم نہیں بلکہ ایک برطانوی غیر مسلم ان الفاظ میں بیان کرتا ہے۔ مسٹر باسو لکھتا ہے رعایا کی خوشحالی اور سرمایہ داری کے اعتبار سے بھی مسلمانوں کا دور حکومت سونے کے حروف سے لکھے جانے کے قابل ہے دولت مندی اور آرام چین کا جو نقشہ شاہجاں کے وقت میں دیکھنے میں آیا تھا بلا شبہ بے مثل و بے نظیر تھا
(بحوالہ برطانوی سامراج نے ہمیں کیسے لوٹا،مصنف حسین احمد مدنی ؒ)اسی کتاب کے حوالے سے ایک اور غیر مسلم مسٹر وڈ کے ان اقتباسات کو نقل کیا گیا ہے سراج الدین دولہ کے انتقال کے بعد جن لوگوں نے بنگال سے کوچ کیا ان سے اس بات کی تصدیق کرانا چاہتے ہیں اس وقت یہ سلطنت دنیا میں سب سے زیادہ آباد اور کاشت کے لحاظ سے بہترین تھی یہاں کے شرفاء اور تاجر دولت اور عیش میں لوٹ لگاتے تھے اور ادنی درجہ کے کسانوں اور کاریگروں پر خوشحالی اور آسانی کی برکتیں نازل ہوتی تھیں۔ہندوستان کی معاشی خوشحالی تو دنیا بھر میں مشہور تھی اسی لئے اس سے سونے کی چڑیا کہا جاتا تھا ہندوستان کی معاشی استحکام اور خوشحالی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے ایک وقت بادشاہ اورنگزیب عالمگیر نے صرف آگرہ اور دہلی کے خزانوں کی پڑتال کا حکم دیا تھا چھ ماہ تک کہیں ہزار نفوس چاندی کے سکے تولنے میں مصروف رہے اور معلوم ہوا خزانہ شاہی کا صرف ایک ہی کونہ تولہ جا سکتا ہے اشرفیوں اور جواہرات کی نوبت نہیں آئی (بحوالہ برطانوی سامراج نے ہمیں کیسے لوٹا،مصنف حسین احمد مدنی ؒ)حقیقت یہ ہے اس سے پہلے امت مسلمہ کیلئے معاش کھبی مسئلہ نہیں رہا تھا،امت مسلمہ معاشی طور پر خوش حال ہی رہی،جب کوئی بھی فرد بغیر تعصب کے امت مسلمہ کی تاریخ کا مطالعہ کرتا ہے تو وہ یہ بات کہنے پر مجبور ہو جاتا ہے امت مسلمہ نے اپنی دور حکومت میں اقلیتوں کو تحفظ دیا اور مجموعی طور پر پورے ملک کے رہنے والے خوشحال زندہ گی بسر کررہے تھے۔
حال ہے بد حال کیوں:مجموعی طور اگر دیکھا جائے مسلم قوم مجموعی طور پر پریشان ہے مجموعی طور پر طرح طرح کے مسائل کا سامنا صرف امت مسلمہ کو کرنا پڑ رہا ہے برما میں مسلمان کٹ رہے ہیں عزتیں لٹ رہی ہے گلستان اجڑ رہے ہیں فلسطین میں مسلمانوں کو اپنے کئے کی سزا مل رہی ہیں کیونکہ انہوں کار خیر کے نام پر جرم عظیم کیا انہوں یہودیوں کو جگہ دی اور آج وہ یہودی انکو فلسطین سے نکال رہے ہیں چچنیا، برما،صومالیہ، عراق، شام، یمن،لیبیا، میں مسلمان یا اپنوں کے ہاتھوں نشانہ بن رہے ہیں یا کہیں غیر مسلموں کے ہاتھوں پٹ رہے ہیں ایک طرف مسلمان پٹ رہے ہیں ووسری طرف مسلمانوں کو ہی سب سے زیادہ سیاسی سماجی تعلیمی معاشی مسائل کا سامنا کرنا پڑرہا ہے گوناگوں مسائل سے امت مسلم کو نکلنے کیلئے امت مسلم کے قائدین کو اپنے مفادات سے اوپر اٹھ کر متحد ہونے کی ضرورت ہے اور مستقبل کیلئے ایک مکمل لائحہ عمل مرتب دینے کی ضرورت ہے
مستقبل کو بنائیں روشن.مستقبل کا سبق شاعر مشرق مفکر ملت ڈاکٹر علامہ اقبال ؒ نے یوں فرمایا
سبق پھر پڑھ صداقت کا شجاعت کا عدالت کا لیا جائے گا تجھ سے کام دنیا کی امامت کا
امت مسلم کے زوال کی سب سے بڑی وجہ اپسی اختلافات ہے اختلافات کی وجہ سے ہی امت مسلم کے ہاتھ سے دور خلافت بھی ہاتھ سے گیا اور آج غیر مسلم قوم کاغلام مسلمان بن گیا ہے معمولی سی باتوں پر ایک دوسرے کو کافر سمجھنا اس سے اسلام کو فائدہ ہے اور نا ہی اس سے مسلمانوں کو فائدہ ہے البتہ اسلام مخالف عناصر کو فائدہ ہو رہا ہے۔ لہذا اپنی صفوں میں اتفاق و اتحاد محبت و الفت پیدا کریں اپنے معاشرے اپنی سوسائٹی سے نفرت کو ختم کریں اور مستقبل کیلئے ایک مضبوظ لائحہ عمل مرتب کریں امت کے قائدین پر اس وقت ایک بہت بڑی ذمہ داری عائد ہوتی ہے ہر فرد ہے ملت میں مقدر کا ستارہ فرداََ فرداََ امت مسلم ذمہ داری دیانت داری کا مظاہرہ کرے مصلحت کے نام پر بزدلی اختیار کھبی نہیں کرنی ہوگی اس بات میں کوئی دو رائے نہیں ہے سب سے زیادہ قدرتی وسائل امت مسلم کے پاس ہے انکا صحیح استعمال کرکے امت مسلم کی فلاح و بہبود کیلئے کام کریں جو بھی اس وقت ہمارے پاس موجود ہے تعلیم،اقتدر یا وسائل انکو غنیمت سمجھ کر انکی قدر کریں اور جو ہمارے پاس موجود نہیں ہے اسکو حاصل کرنے کی کوشش کریں۔
ہندوستان
جنتر منتر پر مظاہرے کے لیے 10 دن پہلے درخواست کی شرط بے تکی: کانگریس
نئی دہلی، کانگریس نے جنتر منتر پر مظاہرے کے لیے 10 دن پہلے درخواست دینے کی شرط پر اعتراض ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ کسی واقعے پر فوری احتجاج کے لیے لوگوں کو اتنے دن انتظار کرنے پر مجبور نہیں کیا جا سکتا۔
کانگریس کے اتر پردیش انچارج راجندر پال گوتم نے بدھ کے روز یہاں پارٹی ہیڈکوارٹر میں ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ یہ خبر حیران کن ہے کہ جنتر منتر پر کسی بھی مظاہرے کے لیے کم از کم 10 دن پہلے درخواست دینی ہوگی۔ انہوں نے دہلی پولیس کے اس فرمان پر اعتراض ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ اگر آج کسی کے ساتھ ظلم ہو جائے، کسی کا بے رحمی سے قتل ہو جائے یا جمہوریت پر حملہ کر دیا جائے تو کیا لوگوں کو اس کے احتجاج کے لیے 10 دن انتظار کرنا ہوگا؟
انہوں نے کہا کہ انہیں نہیں لگتا کہ سپریم کورٹ یا کسی حکومت نے ایسا کوئی قانون بنایا ہے یا بنا سکتی ہے کہ ایک آزاد ملک میں لوگ اپنے بنیادی حقوق کا استعمال کرنے کے لیے اتنے دن انتظار کریں۔
کانگریسی رہنما نے کہا کہ آئین شہریوں کو اظہارِ رائے کی آزادی دیتا ہے اور دھرنا- مظاہرے کے ذریعے حکومت پر دباؤ بنانے کا حق بھی دیتا ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ بھارتیہ جنتا پارٹی تحقیاقی ایجنسیوں کا استعمال کر رہی ہے اور الیکشن کمیشن کو بی جے پی کی ‘بی ٹیم’ بنا دیا گیا ہے۔
مسٹر گوتم نے کہا کہ جواب دہی سے بچنے کے لیے وزیرِ داخلہ امت شاہ پولیس کو آگے کر دیتے ہیں اور گزشتہ دو دنوں میں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی کے ساتھ پولیس نے جس طرح کا سلوک کیا، وہ شرمناک ہے۔
یواین آئی ایف اے
ہندوستان
سعودی عرب کے ہوائی اڈوں پر حملوں کی ہندوستان نے شدید مذمت کی
نئی دہلی، ہندوستان نے سعودی عرب کے ابہا بین الاقوامی ہوائی اڈے اور ریاض کے کنگ خالد بین الاقوامی ہوائی اڈے کو نشانہ بنا کر گزشتہ چند دنوں میں کیے گئے حملوں کی مذمت کی ہے۔
وزارتِ خارجہ نے جمعرات کے روز ایک بیان جاری کر کے کہا کہ ان حملوں میں شہریوں کی موت اور کئی لوگوں کے زخمی ہونے کی اطلاع ملی ہے۔ ہندوستان نے کہا کہ شہری انفراسٹرکچر کو نشانہ بنانا مکمل طور پر ناقابلِ قبول ہے۔
ہندوستان نے حملوں میں جاں بحق ہونے والے لوگوں کے خاندانوں کے ساتھ دلی تعزیت کا اظہار کیا اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کی دعا کی۔ ہندوستان نے سعودی عرب کے عوام اور حکومت کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے ان کے ساتھ کھڑے رہنے کا اعادہ کیا۔
قابلِ ذکر ہے کہ منگل اور بدھ کے روز مبینہ طور پر حوثی باغیوں کے حملوں میں جان و مال کا کافی نقصان ہوا ہے۔
یواین آئی ایف اے
ہندوستان
جنتر منتر پر مظاہرے کی اجازت کے تعلق سے یوتھ کانگریس کی عرضی پر جمعہ کو سماعت
نئی دہلی، دہلی ہائی کورٹ میں چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے خلاف جنتر منتر پر مظاہرے کی اجازت دینے سے دہلی پولیس کے انکار کو چیلنج کرنے والی یوتھ کانگریس کی عرضی پر جمعہ کے روز سماعت ہو سکتی ہے۔
یوتھ کانگریس نے بتایا کہ تنظیم کے سینئر ایڈوکیٹ سنجے گھوش نے بدھ کے روز دہلی ہائی کورٹ کے کارگزار چیف جسٹس نتن واسودیو سامبرے کی بنچ کے سامنے عرضی کا ذکر کیا تھا۔ عدالت نے اس کے بعد معاملے کو جمعہ کے روز سماعت کے لیے فہرست بند کیا ہے۔ یوتھ کانگریس نے امید ظاہر کی ہے کہ معاملے پر جمعہ کے روز سماعت ہوگی۔
عرضی یوتھ کانگریس کے قومی صدر ادے بھانو چب کے ذریعے تنظیم کے لیگل سیل کے چیئرمین ایڈوکیٹ روپیش سنگھ بھدوریا نے دائر کی ہے۔ اس میں دہلی پولیس کے یکم اکتوبر کے اس حکم کو چیلنج کیا گیا ہے جس میں 25 ستمبر کو مجوزہ 100 سے 150 لوگوں کے پرامن مظاہرے کی اجازت دینے سے انکار کیا گیا تھا۔
یوتھ کانگریس نے کہا کہ اس نے مظاہرے کے دوران سکیورٹی، ٹریفک، نظم و ضبط اور امن و قانون سے جڑی تمام شرائط پر عمل کرنے کا یقین دلایا تھا۔
عرضی کے مطابق پرامن اجتماع اور اظہارِ رائے کے بنیادی حق کو انتظامی صوابدید کی بنیاد پر من مانے طریقے سے پابند نہیں کیا جا سکتا۔ یوتھ کانگریس نے کہا ہے کہ ایسے امتناع آئینی، ضرورت کے مطابق اور متناسب ہونے چاہئیں۔
یواین آئی ایف اے
-
جموں و کشمیر1 week agoسری نگر پولیس نے بین ریاستی منشیات نیٹ ورک کا پردہ فاش کیا، آٹھ افراد گرفتار
-
دنیا1 week agoقطری ثالثی کی امریکہ، ایران کے درمیان مذاکرات میں معمولی پیش رفت
-
دنیا7 days agoروس پر براہِ راست حملے کی صورت میں ہر قسم کے ہتھیار استعمال کرنےکا معاملہ ایجنڈے پر ہو گا :پوتن
-
ہندوستان7 days agoوندے بھارت نے چِناب پل اور کیبل اسٹڈ انجی پل کو 100 کلومیٹر کی رفتار سے عبور کیا
-
دنیا1 week agoہیگستھ امریکی جنرل اور ایڈمرل کے عہدوں میں 20 فیصد کمی کریں گے
-
جموں و کشمیر7 days agoگاندھی کے عدم تشدد اور سودیشی کے نظریات آج بھی اہم ہیں: جموں کے ڈویژنل کمشنر
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر میراتھن اتحاد اور نوجوانوں کے متبادل خواہشات کا پیغام دیتی ہے: ایل جی سنہا
-
دنیا6 days agoخمیس مشیط کی جانب داغے گئے تین حوثی بیلسٹک میزائل تباہ
-
ہندوستان1 week agoگیانیش کمار استعفیٰ دیں، ہٹائے گئے ووٹروں کی فہرست عام کی جائے: کھرگے
-
جموں و کشمیر1 week agoبڈگام کے یوسمرگ میں پاکستانی لشکر طیبہ کا جنگجو جھڑپ میں ہلاک
-
ہندوستان1 week agoڈیفنس اکاؤنٹس ڈیپارٹمنٹ کے 279ویں سالانہ دن پر کئی نئی پہل کی شروعات کریں گے راج ناتھ
-
ہندوستان1 week agoشیئر بازاروں میں گراوٹ جاری، سینسیکس 49 پوائنٹس پھسلا
