پاکستان
مشیر تجارت کے بعد وزیرِ اعظم پاکستان کا مجوزہ دورۂ کابل کتنا اہم؟
اسلام آباد — پاکستان کے وزیرِ اعظم کے مشیر برائے تجارت عبدالرزاق داؤد کی قیادت میں پاکستان کا ایک تجارتی وفد ان دنوں افغانستان کے دورے پر ہے۔ جہاں دونوں ممالک کے وفود تجارتی روابط کو فروغ دینے سمیت علاقائی اُمور پر تبادلۂ خیال کر رہے ہیں۔یہ وفد پیر کو کابل پہنچا تھا جہاں پاکستان اور افغانستان کے درمیان وفود کی سطح پر ہونے والی ملاقات میں پاکستان افغانستان تجارتی راہداری کے نئے معاہدے کو حتمی شکل دینے اور باہمی تجارت کے فروغ کے لیے بات چیت ہوئی ہے۔عبدالرزاق داؤد نے منگل کو کابل میں افغانستان کی اعلٰی مفاہمی کونسل کے سربراہ عبداللہ عبداللہ سے بھی ملاقات کی۔عبداللہ عبداللہ نے ایک ٹوئٹ میں کہا کہ عبدالرزاق داؤد کی میزبانی کر کے انہیں خوشی ہوئی ہے۔ عبداللہ عبداللہ نے کہا کہ انہوں نے پاکستان کے وزیر اعطم کے مشیر تجارت سے امن کوششوں اور دو طرفہ امور پر تبادلۂ خیال کیا-
پاکستان کے مشیر تجارت نے کابل کے دورے سے قبل ایک ٹوئٹ میں کہا تھا کہ اس دورے کا مقصد دونوں ملکوں کے درمیان تجارت اور سرمایہ کاری کے شعبوں میں تعاون کو فروغ دینا ہے۔ان کے بقول پاکستان افغانستان کے ایک بڑے تجارتی شراکت داروں میں سے ایک ہے لیکن ان کے بقول کرونا وائرس کی عالمی وبا کی وجہ سے 2020 کے پہلے چھ ماہ کے دوران پاک افغان باہمی تجارت کے حجم میں بتدریج کمی ہوئی ہے۔بعض تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ عبدالرزاق داؤد کے دورے سے پاکستان اور افغانستان کے باہمی تجارتی تعلقات بہتر ہوں گے بلکہ پاکستان اور افغانستان کی کاروباری برادری کو درپیش مشکلات اور مسائل کو حل کرنے میں بھی مدد ملے گی۔پاکستان افغانستان مشترکہ چیمبر آف کامرس کے صدر زبیر موتی والا نے وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے پاکستان کے مشیر تجارت کے دورۂ کابل کو خوش آئند قرار دیا ہے۔
اُن کا کہنا ہے کہ یہ دورہ پہلے ہو جانا چاہے تھا کیوں کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان تجارتی معاملات پر اتفاق رائے نہ ہوا تو اس کا تجارت پر منفی اثر پڑے گا۔لیکن ان کے بقول اس دورے کے دوران پاکستان افغانستان تجارتی راہداری کے نئے معاہدے میں پیش رفت ہو سکتی ہے۔افغان امور کے تجزیہ کار اور صحافی طاہر خان کا کہنا ہے کہ پاکستان کے مشیر تجارت کے دورے کا بنیادی مقصد پاکستان افغانستان تجارتی کے معاہدے سے جڑے معاملات کو حل کرنا ہے۔اُن کے بقول اس دورے سے پاکستان اور افغانستان کے درمیان باہمی تجارت کی راہ میں حائل رکاوٹوں کو دور کرنے میں مدد ملی سکتی ہے۔پاکستان کے وزیرِ اعظم کے مشیر تحارت ایسے وقت میں افغانستان کا دورہ کر رہے ہیں ہے جب افغانستان کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان گران ہیواد کے مطابق پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان بھی صدر اشرف غنی کی دعوت پر رواں ہفتے افغانستان کا دورہ کرنے والے ہیں۔ تاہم پاکستان کی وزارت خارجہ طرف سے اس دورے کے تصدیق ہونا باقی ہے۔تجزیہ کار طاہر خان کا کہنا ہے کہ وزیراعظم عمران کے دورۂ کابل کے دوران دونوں ملکوں کے درمیان تجارت کے فروغ کے لیے معاہدہ ہو سکتا ہے۔طاہر خان کے بقول پاکستان کے وزیر اعظم کی افغان قیادت سے ہونے والی ملاقاتوں کے دوران افغان امن عمل اور افغانستان میں جنگ بندی کے معاملے پر تبادلۂ خیال ہو سکتا ہے۔طاہر خان کہتے ہیں کہ افغان قیادت یہ سمجھتی ہے کہ امریکہ اور افغان امن معاہدے میں تعاون کی طرح پاکستان افغان امن عمل میں بھی اپنا کردار ادا کر سکتا ہے۔ان کے بقول افغانستان میں تشدد کی کارروائیوں میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے اور افغان حکومت بھی طالبان سے جنگ بندی کا مطالبہ کر رہی ہے۔ لہٰذا وہ عمران خان سے بھی کہیں گے کہ وہ طالبان پر اپنا اثر و رسوخ استعمال کریں اور اُنہیں تشدد ختم کرنے پر آمادہ کریں۔
دوسری طرف طالبان افغانستان کے مستقبل سے متعلق کسی معاہدے سے پہلے جنگ بندی پر تیار نہیں ہیںپاکستان کا یہ مؤقف رہا ہے کہ اسلام آباد افغان امن عمل میں اپنا مثبت کردار ادا کرتا آ رہا ہے۔ لیکن بعض مبصرین کا کہنا ہے کہ طالبان پر اسلام آباد کا اثر و رسوخ بہت محدود ہے۔دوسری جانب سلامتی کے امور کے تجزیہ کار طلعت مسعود کا کہنا ہے کہ عمران خان کا دورۂ پاکستان اور افغانستان کے درمیان اعتماد سازی کے لیے اہم ہو گا۔طلعت مسعود کا کہنا ہے کہ وزیرِ اعظم اپنے دورۂ کابل کے دوران یہ باور کرائیں گے کہ پاکستان افغانستان میں قیامِ امن کے لیے افغانستان کی ہر ممکن مدد اور تعاون اور اپنی سرزمین کو کسی دوسرے ملک کے خلاف استعمال کرنے کی اجازت نہیں دے گا۔ان کے بقول پاکستان کے وزیرِ اعظم کی کوشش ہے کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان باہمی تجارت کو فروغٖ حاصل ہو اور دنوں ملکوں کے اقتصادی اور معاشی حالات بہتر ہوں۔یاد رہے افغانستان کی وزارت خارجہ کے ترجمان گران ہیواد یہ کہہ چکے ہیں کہ پاکستان کے وزیراعظم عمران خان رواں ہفتے افغان صدر اشرف غنی کی دعوت پر کابل کا دورہ کریں گے جو ان کا افغانستان کا پہلا دورہ ہو گا۔ تاہم پاکستان کی وزارتِ خارجہ سے اس دورے کی باضابطہ تصدیق ہونا باقی ہے۔
پاکستان
بلوچستان میں خوفناک حادثہ، مسافر بس کھائی میں گرنے سے 39 افراد جاں بحق
کوئٹہ،بلوچستان کے ضلع ژوب میں خوفناک حادثہ پیش آیا ہے جہاں بس گہری کھائی میں گرنے سے 39 مسافر جاں بحق ہو گئے ہیں۔
اے آر وائی نیوز کے نمائندے رفیق ژوب مطابق حادثہ شیرانی کے علاقے دانہ سر میں اس وقت پیش آیا، جب موڑ کاٹتے ہوئے تیز رفتاری کے باعث بس کے بریک فیل ہو گئے، جس کے نتیجے میں بس گہری کھائی میں جا گری۔
حادثے کی اطلاع ملتے ہی پولیس، ضلع انتظامیہ اور ریسکیو ادارے جائے حادثہ پہنچ گئے اور امدادی سرگرمیاں شروع کر دیں۔
حادثہ اتنا سنگین تھا کہ بس مکمل طور پر تباہ ہو گئی اور بس کے حصوں کو کاٹ کر لاشوں اور زخمیوں کو نکالنا پڑا۔ جاں بحق ہونے والوں میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔
ریسکیو حکام نے لاشوں اور زخمیوں کو قریبی اسپتال پہنچایا، جہاں کئی زخمیوں کی حالت تشویشناک بتائی جاتی ہے۔
ڈی سی ژوب حضرت ولی کاکڑ کے مطابق حادثے میں 16 افراد موقع پر ہی جاں بحق ہو گئے تھے جب کہ باقی افراد نے امدادی سرگرمیوں اور اسپتال پہنچنے کے بعد دم توڑا۔
یو این آئی۔ ع ا۔
پاکستان
پاکستان کے افغانستان میں دہشت گردوں کے ٹھکانوں پر حملے، 29 دہشت گرد ہلاک
اسلام آباد، پاکستان نے افغانستان کے مشرقی علاقوں میں دہشت گردوں کی پناہ گاہوں کو نشانہ بنا کر فضائی حملے اور زمینی کارروائیاں کی ہیں۔
حکام کے مطابق یہ کارروائیاں پاکستان کی سرحد کے اندر ہونے والے مہلک حملوں کے جواب میں کی گئی ہیں۔ کاروائیوں کے نتیجے میں 29 دہشت گرد ہلاک ہوگئے ہیں۔
پاکستان کے وزیرِ اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے کہا ہے کہ “پکتیا، پکتیکا اور کنڑ میں تین اہداف کو انتہائی درست فضائی حملوں کے ذریعے تباہ کر دیا گیا ہے”۔ تارڑ کے مطابق یہ فضائی حملے ایک وسیع آپریشن کا حصہ تھے جس میں پاکستان۔افغانستان سرحد پر خفیہ معلومات کی بنیاد پر زمینی کارروائیاں بھی شامل تھیں۔
انہوں نے کہا ہےکہ اس آپریشن کا ہدف جماعت الاحرار تھا جسے عموماً تحریک طالبان پاکستان سے منسلک ایک دہشت گرد تنظیم قرار دیا جاتا ہے۔ عطا اللہ تارڑ نے کہا ہےکہ رات کے وقت کی جانے والی یہ کارروائی کراچی میں ہفتے کے روز ہونے والے اور تین نیم فوجی اہلکار وں کی ہلاکت کا سبب بننے والےحملے کے جواب میں کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ پاکستان کے سرحدی صوبوں میں حالیہ پُرتشدد واقعات بھی اس کارروائی کا سبب بنے ہیں۔
ایسوسی ایٹڈ پریس نے حکام کے حوالے سے شائع کردہ خبر میں کہا ہے کہ پاکستان کی سکیورٹی فورسز نے اتوار کے روز پاکستان۔افغانستان سرحد پر خفیہ معلومات کی بنیاد پر زمینی آپریشن کیا جس کے بعد دہشت گردوں کی پناہ گاہوں پر “انتہائی درست حملے” کیے گئے، جن میں 29 دہشت گرد مارے گئے ہیں۔ پاکستان نے رواں مہینے کے آغاز میں کئے گئے حملے سمیت حالیہ مہینوں میں افغانستان کے اندر متعدد فضائی حملے کیے ہیں۔ دونوں ہمسایہ ممالک کے درمیان سرحد اکتوبر میں تشدد میں اضافے کے بعد سے بڑی حد تک بند ہےاور دونوں ممالک کے درمیان تجارتی سرگرمیاں بھی معطل ہیں۔
یو این آئی۔ ع ا۔
پاکستان
جمعہ کو امریکہ اور ایران میں ’’اسلام آباد معاہدے‘‘ کی میزبانی پاکستان کرے گا
اسلام آباد،جمعہ کو امریکہ اور ایران میں ’’اسلام آباد معاہدے‘‘ کی میزبانی پاکستان کرے گا پاکستان کی سفارتی کوششیں رنگ لے آئیں اور تیسری عالمی جنگ کے بادل چھٹ گئے، پاکستان جمعہ 19 جون 2026، کو سوئٹزرلینڈ کے شہر جنیوا میں امریکہ اور ایران کے درمیان ایک تاریخی امن معاہدے کی دستخطی تقریب کی میزبانی کرے گا وزیر اعظم شہباز شریف اعلیٰ سطح وفد کے ہمراہ تقریب میں شرکت کریں گے، وزیر اعظم نے قومی اسمبلی سے خطاب میں کہا جنگ کی تاریک رات کے بعد امن کا سورج طلوع ہو گیا، عظیم کامیابی پر مؤرخ پاکستان کا نام سنہرے حروف سے لکھے گا۔
شہباز شریف نے پیر کے روز کہا ہم بالآخر آنے والے جمعہ کو جنیوا میں امن معاہدے پر دستخط ہوتے دیکھنے جا رہے ہیں۔
انھوں نے پیر کی صبح اعلان کیا تھا کہ امریکہ اور ایران کے درمیان طویل اور گہری مذاکراتی کوششوں کے بعد ایک معاہدہ طے پا گیا ہے، جس کے تحت دونوں ممالک نے لبنان سمیت تمام محاذوں پر فوجی کارروائیوں کے فوری اور مستقل خاتمے کا اعلان کیا ہے۔
پاکستان 8 اپریل کو جنگ بندی کرانے میں کامیابی کے بعد سے دونوں فریقوں کے درمیان ثالثی کا کردار ادا کر رہا ہے۔ اور اب فریقین کے درمیان ایک مفاہمتی یادداشت الیکٹرانک طور پر دستخط بھی ہو گئے ہیں، اور امریکہ نے آبنائے ہرمز میں ناکہ بندی بھی ختم کر دی ہے جس کے سبب ایرانی تیل بردار بحری جہاز گزرنا شروع ہو گئے ہیں۔
یو این آئی۔ ع ا۔
-
ہندوستان3 days agoطلبہ پر کارروائی کے معاملے پر حکومت کو گھیرتے ہوئے راہل کا مضمون، کھڑگے اور پرینکا نے حمایت کی
-
دنیا3 days agoایران کا فی الحال امریکہ کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں: ایرانی وزیر خارجہ
-
جموں و کشمیر2 days agoیومِ آزادی سے قبل جموں و کشمیر پولیس نے سرحدی سامبا میں طویل فاصلے کی گشت اور فرضی انسدادِ دہشت گردی مشق کی
-
دنیا3 days agoسعودی عرب میں فیکٹری میں آگ کے سبب 16 بنگلہ دیشی مزدور ہلاک
-
دنیا2 days agoایران نے خود کو ایک ‘ناقابل تسخیر طاقت’ ثابت کیا ہے: عراقچی
-
جموں و کشمیر1 day agoاسپورٹس کوٹا پر مبنی ملازمتیں: جے اینڈ کے بی جے پی نے اعلیٰ سطحی جانچ کا مطالبہ کیا، احتجاجی کھلاڑیوں کی حمایت کی
-
دنیا4 days agoٹرمپ جوہری معاہدے کے بغیر ایران کے ساتھ تنازع ختم کرنے پر تیار: رپورٹ
-
دنیا2 days agoشام کے سابق صدر بشار الاسد کو سزائے موت سنادی گئی
-
دنیا3 days agoکیسپین سمندر معاہدے کا مستقبل ایران کی پارلیمنٹ طے کرے گی: اسماعیل بقائی
-
دنیا3 days agoایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
-
دنیا3 days agoتجربہ کار آئی آر جی سی کمانڈر محسن رضائی ایران کے قومی سلامتی کے سربراہ مقرر
-
جموں و کشمیر2 days agoیومِ آزادی سے قبل کشمیر بھر میں کثیر سطحی سکیورٹی انتظامات
