تازہ ترین
معیشت : راہ پر ثابت قدمی
وقت پر روک تھام کے اقدامات ، قابل قدر مالیاتی توسیع اور مسلسل مالی تحریک نے معیشت کو مالی سال 2021 میں کسادبازاری سے بچایا.

راجیو مشرا
اقتصادی سروے کا معیشت کی صورتحال (ایس او ای) 21-2020 سے متعلق باب ۔ ایک وسیع نقطہ نظر، جو کہ کووڈ-19 کی دنیا میں بھارتی معیشت کا ایک رواں تذکرہ ہے۔ پہلے تو ماحصل کے محدود ہونے کی وجہ سے پہلے دباؤ میں آتا ہے اور بعد میں حکومت کی وقت پر اور مؤثر پالیسی مداخلت کی وجہ سے یہ بحالی کی طرف گامزن ہوئی۔ اس سے حکومت پالیسیوں کے مستقبل میں کام کرنے کا بھی پتہ چلتا ہے ، جن کا مقصدعالمی وبا سے پہلے کی ترقی کی راہ پر معیشت کو واپس لانا ہے۔
ایس او ای نے عالمی سطح پر درپیش زندگی بنام روزگار کی پالیسی سے متعلق پش وپیش کا ذکر کیا گیا ہے جو عالمی وبا کے شروع ہونے سے دنیا بھر کے ممالک کے سامنےموجود تھی اور جس نے ممالک کو مجبور کیا کہ وہ ان دونوں میں سے کسی ایک کا انتخاب کریں۔ عالمی وبا کی روک تھام کی حکمت عملی اختیار کرتے ہوئے بھارت نے ابتدائی طور پر زندگی کا انتخاب کیا لیکن جلد ہی عالمی وبا سے متعلق بندوبست کا نظام قائم ہونے پر معیشت کو پھر سے کھولنے میں دیر نہیں کی۔ نتیجہ یہ تھا کہ مالی سال 2021 کی پہلی سہ ماہی میں جی ڈی پی میں23.9 فیصد کی گراوٹ کے بعد دوسری سہ ماہی میں نسبتاً کم یعنی 7.5فیصد کی گراوٹ اور اس کے بعد عالمی وبا سے متاثرہ لوگوں کی تعداد میں مسلسل کمی آتی گئی۔ صحیح وقت پر لاک ڈاؤن اور دھیرے دھیرے معیشت کو کھولنے کے عمل کی وجہ سے بھارت اس پس وپیش کو دوسروں کے مقابلے میں جلدی دور کرپایا۔
ایس او ای میں جس مالیاتی حکمت عملی کا ذکر کیا گیا ہے وہ قرض حاصل کرنے کی لاگت کو کم کرنے اور لکویڈیٹی کو فروغ دیکر کاروبار کی مدد کرنے کیلئے ریزرو بینک آف انڈیا کے اقدامات کے آس پاس ہی رہی ہے۔ آر بی آئی نے پالیسی ریٹ میں کمی ، کھلے بازار کے آغاز، طویل مدتی ریپو آپریشن، بینکوں کے سی آر آر میں کمی، بینکوں کی قرض حاصل کرنے کی حدود میں اضافہ، میعادی قرض کی ادائیگی میں مہلت اور سود کے التوا کے اقدامات کیے اور حکومت کے لئے وسائل کا تعاون کیا۔
پالیسی ریٹ میں کافی حد تک کمی ، حکمت عملی کی ایک ایسی خصوصیت ہے جس میں سرمائے کے ملک سے باہر جانے کا جوکھم اٹھایا گیا۔ لیکن اپنے آپ کو عالمی وبا سے باہر نکالنے کیلئے ترقی یافتہ معیشتوں کو جس عالمی لکویڈیٹی کی افراط کا سامنا کرنا پڑا اس سے پیدا ہونے والی سست روی نے ملک کے سرمائے کو باہر جانے سے روکا۔ درحقیقت ترقی کا جو امکان اُبھرتی ہوئی معیشتوں میں اور خصوصی طور پر بھارت کی معیشت میں نظر آیا اس نے ملک میں مسلسل سرمائے کو راغب کیا۔
ابتدائی طور پر عالمی وبا کا سامنا کرنے کی مالیاتی حکمت عملی نے ملک کی آبادی کے کمزور طبقے کو تحفظ فراہم کرایا جس میں طبی امداد، خوراک کی سپلائی، نقد رقم کی منتقلی، قرض کی گارنٹی، سود کی سبسیڈی اور ٹیکس کا التوا شامل ہیں۔ اس سال بعد میں مالیاتی حکمت عملی کے تحت کھپت کو مستحکم کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔جیسا کہ ایس او ای میں وضاحت کی گئی ہے، مسلسل مالیاتی تحریک کی ضرورت پرائیویٹ کھپت کی مانگ میں اضافے کے مطابق بڑھتی گئی ۔ ابتدائی غیریقینی دور میں پرائیویٹ کھپت کی مانگ کم تھی اور ضروری اخراجات تک محدود تھی۔ کیوں کہ اس وقت لوگ احتیاطی طور پر بچت کی طرف مائل تھے۔ اسی کے مطابق ضروری کھپت کو پورا کرنے کیلئے مالیاتی اخراجات کیے گئے ۔لاک ڈاؤن میں نرمی لائے جانے پر غیریقینی صورتحال کے خاتمے سے لوگوں نے غیرضروری اشیاء پر سمجھداری کے ساتھ خرچ کرنا شروع کیا۔ ترقی نے رفتار پکڑی جس کے لئے معاشی بحالی کے فروغ کیلئے مزید مالیاتی تحریک کی ضرورت تھی۔ اس طرح پرائیویٹ کھپت میں تبدیلیوں کے ساتھ ساتھ مالیاتی اقدامات کے تال میل نے مالیاتی وسائل کے زیاں کو روکا۔
ایس او ای میں معیشت کے ترقی کے امکانات کو فروغ دینے کیلئے ڈھانچہ جاتی اصلاح کے رول کی وضاحت کی گئی ہے۔ زرعی بازار کو آزاد کرنے، ترقی اور روزگار پیدا کرنے میں مدد فراہم کرانے کیلئے ایم ایس ایم ای میں تصریحی تبدیلی ، مزدوروں سے متعلق چار قوانین تیار کیے جانے، کراس پاور سبسیڈیز میں کمی لائے جانے، سرکاری شعبے کے اداروں سے سرمایہ نکالنے اور کوئلے کی کاروباری کانکنی حکومت کے ذریعے اعلان شدہ اہم اصلاحات میں شامل ہیں۔ ان اصلاحات نے گزشتہ چھ سات برسوں میں نافذ کی گئی اصلاحات کے ساتھ ملکر نجی شعبے کی سرمایہ کاری کو پابندیوں سے آزاد کراتے ہوئے اس کیلئے مزید آسانی فراہم کرائی ہے۔
ایس او ای میں اقتصادی نظریے کے مطابق 22-2021 میں جی ڈی پی میں حقیقی ترقی کی شرح کا اندازہ11فیصد ہے۔ آئی ایم ایف نے جنوری 2021 کی اپنی اپ ڈیٹ میں اس کو 11.5فیصد بتایا ہے۔ یہ اندازے 21-2020 میں جی ڈی پی کی ترقی کو دیکھتے ہوئے پیش کیے گئے ہیں ۔ سلسلے وار طریقے سے پہلی ششماہی میں (-) 19.4فیصد سے دوسری ششماہی میں (+) 23.9 فیصد ہوجانے کی توقع ہے ۔پہلی ششماہی میں ہی پہلی سہ ماہی میں جی ڈی پی ترقی کی شرح (-) 29.3 فیصد تھی جو کہ دوسری سہ ماہی میں بڑھ کر (+) 23.2 فیصد ہوگئی۔ ترقی کی ایسی شرحیں کسادبازاری کا شکار معیشت میں نظر نہیں آتیں۔ اس کے برخلاف وقت پر روک تھام کے اقدامات ، قابل قدر مالیاتی توسیع اور مالیاتی تحریک اور ڈھانچہ جاتی اصلاحات کی وجہ سے معیشت میں ثابت قدمی نظر آتی ہے۔
راجیو مشرا اقتصادی صلاحکار زارت خزانہ
(یہ مصنف کے ذاتی خیالات ہیں)
دنیا
تجربہ کار آئی آر جی سی کمانڈر محسن رضائی ایران کے قومی سلامتی کے سربراہ مقرر
تہران، ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ سید مجتبیٰ حسینی خامنہ ای نے اسلامی انقلاب گارڈز کور (آئی آر جی سی) کے سابق کمانڈر محسن رضائی کو سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل (ایس این ایس سی) کا سکریٹری مقرر کیا ہے، جس سے یہ اشارہ ملتا ہے کہ ملک میں پرانے نظام کے بااثر حلقے اقتدار پر اپنی گرفت مضبوط کر رہے ہیں۔
71 سالہ رضائی ایک تجربہ کار فوجی کمانڈر اور نظام کی نمایاں شخصیت ہیں۔ انہیں ایس این ایس سی کا سکریٹری مقرر کیا گیا ہے۔ انہوں نے محمد باقر ذوالقدر کی جگہ لی ہے، جو مارچ سے اس عہدے پر فائز تھے۔
رضائی طویل عرصے سے امریکہ کے ساتھ مذاکرات کے بارے میں گہری بداعتمادی کا اظہار کرتے رہے ہیں اور ان کی تقرری ایران کی قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی کے حوالے سے نسبتاً زیادہ سخت گیر رویے کی جانب اشارہ کرتی ہے۔
سرکاری طور پر جاری کیے گئے فرمان کے مطابق، سپریم لیڈر نے انہیں سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل میں اپنا نمائندہ مقرر کیا اور رضائی کے ’’قیمتی تجربات‘‘ کو سراہتے ہوئے انہیں ’’آٹھ سالہ مقدس دفاع‘‘ کا ایک پیش رو قرار دیا۔ ’’مقدس دفاع‘‘ سے مراد 1980 کی دہائی کی ایران۔عراق جنگ ہے۔
رضائی نے 1981 سے 1997 تک آئی آر جی سی کی کمان سنبھالی۔ وہ اس وقت مصلحت تشخیصی کونسل کے رکن اور سپریم کونسل برائے اقتصادی رابطہ کاری کے سکریٹری بھی ہیں۔
فرمان میں محمد باقر ذوالقدر کی اس عہدے پر ’’شب و روز کی کوششوں‘‘ پر ان کا شکریہ بھی ادا کیا گیا اور سبکدوش ہونے والے نمائندے کی خدمات کو سراہا گیا۔
سپریم لیڈر نے فرمان میں لکھا، ’’مجھے امید ہے کہ آپ اس اہم ذمہ داری کی انجام دہی میں مکمل کامیابی حاصل کریں گے۔‘‘
انہوں نے مزید کہا، ’’ہمارے آقا امام مہدی کی برکتوں کے سائے میں آپ ہمیشہ ایران کی سربلند قوم کے وفادار سپاہی بنے رہیں۔‘‘
ایس این ایس سی کی سربراہی باضابطہ طور پر صدر مسعود پزشکیان کرتے ہیں اور یہ کونسل ایران کی سلامتی اور خارجہ پالیسی میں رابطہ کاری کا اہم کردار ادا کرتی ہے۔ اس میں سپریم لیڈر کے نمائندے کے علاوہ اعلیٰ فوجی، انٹیلی جنس اور حکومتی عہدیدار شامل ہیں۔
رضائی پہلے ہ۔ی سپریم لیڈر آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای کے قابلِ اعتماد معاونین کے محدود حلقے کا حصہ تھے اور ان کے فوجی مشیر کے طور پر خدمات انجام دے رہے تھے۔ تاہم، نئی تقرری نے انہیں ایران کے سکیورٹی نظام کے انتہائی بااثر عہدوں میں سے ایک پر پہنچا دیا ہے۔
رضائی کو 1980 کی دہائی میں ایران۔عراق جنگ کے دوران اسلامی انقلابی گارڈز کور کا کمانڈر انچیف مقرر کیا گیا تھا۔ وہ پانچ دہائیوں سے زیادہ عرصے سے ایران کے سیاسی، سکیورٹی اور فوجی نظام کے مرکز میں رہے ہیں۔ آئی آر جی سی میں رضائی کو ان کے پیشرو ذوالقدر کے مقابلے میں کہیں زیادہ اختیارات حاصل رہے ہیں۔
رضائی نے 1979 کے اسلامی انقلاب کے دوران اسلامی انقلابی زیرِ زمین سرگرمیوں میں حصہ لیتے ہوئے اور اسلامی گوریلا گروپوں کے ساتھ مل کر لڑتے ہوئے ایران کے سیاسی و سکیورٹی نظام میں اپنا مقام بنایا۔ انہوں نے آئی آر جی سی کے ابتدائی منشور کی تیاری میں بھی مدد کی۔ بعد ازاں وہ اس فورس کے سب سے طویل عرصے تک کمانڈر رہنے والے سربراہ بنے اور آئی آر جی سی کو ایران کے طاقتور ترین اداروں میں تبدیل کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔
ایران کے سکیورٹی نظام میں گہری جڑیں رکھنے والے رضائی بعد میں مصلحت تشخیصی کونسل میں شامل ہوئے، جو سپریم لیڈر کو مشورے دیتی ہے اور سابق صدر ابراہیم رئیسی کے دور میں نائب صدر کے طور پر بھی خدمات انجام دیں۔ رضائی نے چار مرتبہ صدارتی انتخابات میں حصہ لیا، تاہم کبھی کامیاب نہیں ہوئے۔
حالیہ عرصے میں رضائی نے امریکہ کے خلاف سخت گیر مؤقف اختیار کیا ہے۔ انہوں نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ’’دانش مندی اور تدبر کی کمی‘‘ کا شکار قرار دیا۔
ایران کے سرکاری نشریاتی ادارے آئی آر آئی بی کو دیے گئے ایک انٹرویو میں رضائی نے کہا کہ حالیہ کشیدگی کے دوران ایران کے جوابی حملوں نے خطے میں امریکی افواج کو اپنی پوزیشن تبدیل کرنے پر مجبور کر دیا۔
انہوں نے کہا، ’’ایران نے ان کے منصوبے کو ناکام بنا دیا۔ ٹرمپ کی ایران کے خلاف تیسری جنگ درمیان ہی میں شکست سے دوچار ہو گئی، جس سے ان کی سابقہ ناکامیوں میں ایک اور سنگین ناکامی کا اضافہ ہوا۔‘
رضائی نے گزشتہ ہفتے ایکس پر جاری کردہ اپنی ایک پوسٹ میں خبردار کیا کہ اگر ایران کی بندرگاہوں کی امریکی ناکہ بندی جاری رہی تو ’’امریکی بحری جہازوں اور افواج کو سنگین خطرات اور جانی نقصان کا سامنا کرنا پڑے گا۔‘‘ رضائی یہ بھی کہہ چکے ہیں کہ اہم آبی گزرگاہ پر ایران اور عمان کی خودمختاری ہے۔
گزشتہ ماہ رضائی نے امریکہ کے ساتھ مذاکرات کو ’’ختم‘‘ قرار دیا تھا، تاہم ساتھ ہی کہا تھا کہ مذاکرات ’’صرف عبور کرنے کے لیے ایک پل ہیں، کوئی مستقل عہد نہیں۔‘
امریکی میڈیا کو دیے گئے ایک انٹرویو میں رضائی نے کہا کہ اگر مذاکرات ناکام ہو جاتے ہیں تو ایران اپنی سرزمین پر ممکنہ امریکی حملے کے لیے تیار ہے اور ’’دنیا ایران کی حقیقی صلاحیتوں سے واقف ہو جائے گی۔‘‘
ذوالقدر نے اس وقت یہ عہدہ سنبھالا تھا جب کونسل کے سابق سیکریٹری علی لاریجانی رواں سال کے اوائل میں ایران پر امریکی۔اسرائیلی حملوں کے دوران اسرائیلی حملے میں ہلاک ہو گئے تھے۔
یہ کونسل، جس میں اعلیٰ سول اور فوجی عہدیدار شامل ہیں، امریکہ کے ساتھ جاری تنازع کے حوالے سے ایران کی پالیسی طے کرنے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
ایران کا فی الحال امریکہ کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں: ایرانی وزیر خارجہ
تہران، ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ وہ فی الوقت امریکہ کے ساتھ کسی بھی قسم کے مذاکراتی عمل میں مصروف نہیں ہیں اور جب تک واشنگٹن انتظامیہ متفقہ معاہدے کی خلاف ورزیوں کا ازالہ نہیں کرتی مذاکرات دوبارہ شروع نہیں ہوں گے۔
ایران کے سرکاری ٹیلی ویژن سے بات کرتے ہوئے عراقچی نے امریکہ کے ساتھ رابطوں اورآبنائے ہرمز کے حوالے سے بیان دیا۔
فریقین کے درمیان ثالثوں کے ذریعے پیغامات کے تبادلے کے جاری رہنے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے عراقچی نے کہا، “اس وقت ہم امریکہ کے ساتھ کسی بات چیت میں نہیں ہیں۔ ثالثوں کے ذریعے پیغامات کا تبادلہ ہو رہا ہے مگر اسے مذاکرات کہنا درست نہیں۔”
عراقچی نے کہا کہ ثالث دوبارہ باہمی سمجھ بوجھ کی بنیاد قائم کرنے کے لیے کوششیں جاری رکھے ہوئے ہیں اور مذاکرات کے دوبارہ شروع ہونے کے لیے امریکہ کو متفقہ معاہدے کی خلاف ورزیوں کے حوالے سے اپنی ذمہ داریوں کو پورا کرنا ہوگا۔
عباس عراقچی نے کہا، “جب تک مفاہمت ِیادداشت کی خلاف ورزیاں ختم نہیں ہوتیں اور امریکہ نے متفقہ معاہدے کی خلاف ورزیوں کا ازالہ نہیں کیا، مذاکرات کے دوبارہ شروع ہونے کا امکان ممکن نہیں۔”
ہرمز کے سلسلے میں عمان کے ساتھ جاری مذاکرات کے بارے میں عراقچی نے اعادہ کیا اس ملک کے ساتھ کسی معاہدے تک پہنچ جانا اس بات کی ضمانت نہیں کہ آبنائے ہرمز دوبارہ کھل جائے گی۔اس کے لیے دیگر شرائط بھی پوری ہونی چاہئیں۔ یہ شرائط ثالثوں کے ذریعے امریکی فریق تک پہنچا دی گئی ہیں۔”
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
سعودی عرب میں فیکٹری میں آگ کے سبب 16 بنگلہ دیشی مزدور ہلاک
ڈھاکہ، بنگلہ دیش کی وزارتِ سمندر پار روزگار اور بہبودِ تارکینِ وطن نے اتوار کے روز سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں ایک صوفہ فیکٹری میں لگنے والی آگ کے نتیجے میں کم از کم 16 بنگلہ دیشی تارکینِ وطن مزدوروں کی ہلاکت کا اعلان کیا ہے۔
وزارت نے اس معلومات کی تصدیق سعودی عرب کے محکمہ فائر بریگیڈ کے حوالے سے کی ہے۔
وزیر عارف الحق چودھری نے ان قیمتی جانوں کے ضیاع پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔
چودھری نے اپنے بیان میں کہا کہ سعودی عرب میں روزی کمانے کے لیے محنت کرنے والے ان تارکینِ وطن کی اس طرح کی بے وقت اور المناک اموات انتہائی دل دہلا دینے والی ہیں۔ ملک کی معیشت میں ان کا تعاون بہت بڑا ہے۔
وزیر نے بتایا کہ سعودی عرب میں بنگلہ دیشی سفارت خانہ جائے حادثہ پر موجود ہے اور مقامی حکام کے ساتھ 24 گھنٹے رابطے میں ہے۔ انہوں نے متعلقہ حکام کو ہدایت دی ہے کہ وہ ہلاک ہونے والے تارکینِ وطن کی میتوں کی وطن واپسی کے عمل کو تیز کریں اور ان کے خاندانوں کو تمام ضروری سرکاری امداد اور معاوضے کی فراہمی یقینی بنائیں۔
دوسری جانب، بنگلہ دیشی وزارتِ خارجہ نے بھی کہا ہے کہ صورتحال کی کڑی نگرانی کی جا رہی ہے اور ہر ممکن مدد فراہم کی جا رہی ہے۔
سعودی عرب بنگلہ دیشی تارکینِ وطن مزدوروں کے لیے سب سے اہم ترین منزل بنا ہوا ہے، جہاں تقریباً 35 لاکھ بنگلہ دیشی شہری مقیم ہیں اور کام کر رہے ہیں۔
کم مہارت والے کاموں میں مصروف ان بنگلہ دیشی تارکینِ وطن مزدوروں نے گزشتہ سال اپنے ملک کو 2.7 ارب ڈالر سے زائد زرمبادلہ بھیجا ہے ۔
یو این آئی۔ ع ا۔
-
ہندوستان6 hours agoطلبہ پر کارروائی کے معاملے پر حکومت کو گھیرتے ہوئے راہل کا مضمون، کھڑگے اور پرینکا نے حمایت کی
-
دنیا5 hours agoسعودی عرب میں فیکٹری میں آگ کے سبب 16 بنگلہ دیشی مزدور ہلاک
-
دنیا8 hours agoٹرمپ جوہری معاہدے کے بغیر ایران کے ساتھ تنازع ختم کرنے پر تیار: رپورٹ
-
دنیا1 hour agoایران کا فی الحال امریکہ کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں: ایرانی وزیر خارجہ
-
دنیا11 minutes agoتجربہ کار آئی آر جی سی کمانڈر محسن رضائی ایران کے قومی سلامتی کے سربراہ مقرر
