ہندوستان
ملک کی اصل طاقت ہمارا متوسط طبقہ ہے: کیجریوال
نئی دہلی، عام آدمی پارٹی (اے اے پی) کے قومی کنوینر اروند کیجریوال نے کہا کہ ملک کا اصلی سپر پاور ہمارا متوسط طبقہ ہے۔
مسٹر کیجریوال نے بدھ کو ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ آج کوئی بھی پارٹی متوسط طبقے کے مفاد کی بات کرنے کو تیار نہیں ہے۔ آزاد ہندوستان کے 75 سال میں ایک حکومت کے بعد دوسری حکومت آئی اور ان سب نے متوسط طبقے کو دباکر، ڈراکر اور نچوڑکر رکھا ہوا ہے۔ ملک چلانے کے لیے لاکھوں کروڑوں کی تعداد میں مڈل کلاس ٹیکس بھر بھر کر دیتا ہے لیکن بدلے میں ان کوکچھ نہیں ملتا۔
انہوں نے کہا کہ ہندوستان کا متوسط طبقہ حکومت کا صرف اور صرف اے ٹی ایم بن کر رہ گیا ہے۔ سچ یہ ہے کہ ہندوستان کا متوسط طبقہ ٹیکس دہشت گردی کا شکار ہے۔ آخر یہ متوسط طبقہ کون ہے؟ اساتذہ، ڈاکٹرز، آئی ٹی پروفیشنلز، انجینئرز، اکاؤنٹنٹ، بینکرز، دکاندار اور وکلاء جیسے ہزاروں عام لوگ جو مل کر ہمارا ملک چلاتے ہیں، یہ مڈل کلاس ہیں۔ مڈل کلاس کے کوئی بہت بڑے خواب نہیں ہیں۔ سچ یہ ہے کہ آج زیادہ تر حکومتیں متوسط طبقے کے لیے نہ تو اچھے اسکول، نہ ہی اچھے اسپتال بنارہی ہیں۔ سچائی یہ ہے کہ اس طبقے کو سب سے زیادہ ہمارے ملک میں پریشان کیا جاتا ہے۔
اے اے پی لیڈر نے کہا کہ اگر ایک مڈل کلاس خاندان سال میں 10-12 لاکھ روپے کماتا ہے تو 50 فیصد سے زیادہ آمدنی صرف حکومت کو ٹیکس ادا کرنے میں چلی جاتی ہے۔ اب تو دودھ، دہی اور پوپ کارن پر بھی ٹیکس لگتا ہے۔ یہاں تک کہ پوجا کی اشیاء پر بھی ٹیکس بھرنا پڑتا ہے۔ گھر خریدنا ہے تو ٹیکس، گھر فروخت کرنا ہے تو ٹیکس، گاڑی خریدو تو ٹیکس، فروخت کرو تو ٹیکس۔ بچوں کو اچھی تعلیم دینی ہے تو پہلے پرائیویٹ اسکول کی مہنگی فیس کی مار اور اس کے اوپر اچھے کالج بھیجنے کے لئے ایجوکیشن لون لو اور اس کی ایم ایم آئی پر ڈبل مار پڑتی ہے۔ جیتے جی ٹیکس تو دینا پڑتا ہے لیکن اب تو حکومت نے ایسی حالت کردی ہے کہ مرنے کے بعد بھی ٹیکس دینا پڑتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہم مرکزی حکومت سے بھی اپیل کرتے ہیں کہ ہمارے ملک کی اصلی سپر پاور مڈل کلاس کو پہچانے۔ عام آدمی پارٹی سڑکوں سے پارلیمنٹ تک متوسط طبقے کی آواز بنے گی۔ ان کی آواز اٹھائیں گے اور ان کے مسائل اٹھائیں گے۔
اے اے پی لیڈر نے مرکزی حکومت سے سات مطالبات کرتے ہوئے کہا کہ تعلیمی بجٹ کو 2 فیصد سے بڑھا کر 10 فیصد کیا جائے اور ملک بھر کے پرائیویٹ اسکولوں کی فیس پر لگام لگائی جائے۔ اعلیٰ تعلیم کے لیے سبسڈی اور اسکالرشپ دی جائے۔ صحت کا بجٹ بھی بڑھاکر 10 فیصد کیا جائے اور ہیلتھ انشورنس سے ٹیکس ختم کیا جائے۔ انکم ٹیکس چھوٹ کی حد کو 7 لاکھ روپے سے بڑھا کر کم از کم 10 لاکھ کی جائے۔ ضروری اشیاء پر جی ایس ٹی ختم کیا جائے۔ بزرگ شہریوں کے لیے مضبوط ریٹائرمنٹ پلان اور پنشن پلان بنایا جائے اور ملک بھر کے تمام سرکاری اور نجی اسپتالوں میں بزرگ شہریوں کو مفت اور اچھا علاج فراہم کیا جائے۔ اس سے پہلے ریلوے میں بزرگ شہریوں کو 50 فیصد رعایت ملتی تھی جسے دوبارہ شروع کیا جانا چاہیے۔
یواین آئی۔الف الف
ہندوستان
اروناچل ہندستان کا اٹوٹ حصہ، سرحد کی صورتحال ہی چین کے ساتھ دوطرفہ تعلقات کی بنیاد:ہندستان
نئی دہلی ہندستان نے اروناچل پردیش کو اپنا ناقابلِ تقسیم اور اٹوٹ حصہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ چین کے ساتھ اس کے دوطرفہ تعلقات سرحد کی صورتحال پر مبنی ہوں گے اور سرحدی صورتحال کا ان تعلقات پر براہِ راست اثر ہوگا۔
وزارتِ خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے منگل کے روز یہاں میڈیا بریفنگ میں سوالات کے جواب دیتے ہوئے یہ بات کہی۔ دراصل چین کی جانب سے اروناچل پردیش اور اس کے کچھ مقامات کے نام تبدیل کرنے کے ردعمل میں ہندستان نے حال ہی میں اروناچل پردیش کی 27 اہم جگہوں کو سروے آف انڈیا کے نقشے میں سرکاری طور پر نشان زد کر دیا ہے۔ اس پر چین کی طرف سے منفی ردعمل سامنے آیا ہے۔ چین کے اس ردعمل کے بارے میں پوچھے جانے پر مسٹر جیسوال نے کہا کہ اروناچل پردیش ہندستان کا ناقابلِ تقسیم اور اٹوٹ حصہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے اور کوئی بھی اس ناقابلِ تردید سچائی کو بدل نہیں سکتا۔
دونوں ممالک کے درمیان سرحد پر صورتحال کے بارے میں پوچھے گئے سوال کے جواب میں ترجمان نے کہا کہ ہندستان سرحد سے جڑے معاملات کو انتہائی سنجیدہ مانتا ہے اور سرحد پر امن و استحکام اس کی ترجیح ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ سرحد کی صورتحال کا ہندستان اور چین کے تعلقات پر براہِ راست اثر پڑے گا۔ ترجمان نے کہا، “ہندستان اور چین کے درمیان سرحدی علاقوں سے جڑے معاملات میں، ہم نے ہمیشہ چین کے ساتھ بات چیت میں اس بات پر زور دیا ہے کہ ہم ان مسائل کو بے حد سنجیدہ مانتے ہیں اور ان علاقوں میں امن و استحکام برقرار رکھنا سب سے زیادہ اہم ہے۔ ہم نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ سرحدی معاملات کی صورتحال ہمارے وسیع دوطرفہ تعلقات کی صورتحال کی عکاسی کرے گی۔ اس بات کو 06 اگست کو حال ہی میں منعقدہ ‘ہند-چین سرحدی معاملات پر مشاورت اور ہم آہنگی کے ورکنگ میکانزم’ کی 36ویں میٹنگ میں بھی دہرایا گیا۔ اس میٹنگ میں دونوں فریقوں نے کھلی اور واضح بات چیت کی اورحقیقی کنٹرول لائن (ایل اے سی) پر صورتحال کا جائزہ لیا۔”
مسٹر جیسوال نے کہا کہ میٹنگ میں ہندستان نے اس بات پر زور دیا کہ دوطرفہ تعلقات کی ہمہ گیر ترقی کے لیے سرحدی علاقوں میں امن و استحکام برقرار رکھنا انتہائی ضروری ہے۔ اس بات پر اتفاق ہوا کہ لائن آف ایکچوئل کنٹرول پر غلط فہمی اور غلط اندازوں سے بچنے نیز باقی بچے ہوئے مسائل کو حل کرنے کے لیے ورکنگ میکانزم کی میٹنگوں، مقامی کمانڈر سطح کی میٹنگوں اور دیگر میکانزم سمیت موجودہ سفارتی اور فوجی ذرائع کا استعمال جاری رکھا جائے گا۔
یو این آئی ایف اے
ہندوستان
سندوش کمار نے نِرملا سیتارمن کے تبصرے راجیہ سبھا کے ریکارڈ سے ہٹانے کا مطالبہ کیا
نئی دہلی، کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا (سی پی آئی) کے راجیہ سبھا رکنِ پارلیمنٹ پی سندوش کمار نے وزیر خزانہ نِرملا سیتارمن کے ذریعہ پارلیمنٹ میں کمیونسٹ تحریک کے خلاف کیے گئے مبینہ قابلِ اعتراض تبصروں کو راجیہ سبھا کے ریکارڈ سے ہٹانے کا مطالبہ کیا ہے انہوں نے اس سلسلے میں راجیہ سبھا کے چیئرمین سی پی رادھا کرشنن کو منگل کے روز خط لکھا ہے۔
مسٹر کمار نے کہا کہ انکم ٹیکس (ترمیم) آرڈیننس 2026 کو منسوخ کرنے کے مطالبے پر ہونے والی بحث کے دوران وزیر خزانہ نے سی پی آئی (ایم) کے رکنِ پارلیمنٹ جان برٹاس کے حوالے سے کمیونسٹوں کو “ٹوٹل کائر” بتاتے ہوئے پوری کمیونسٹ تحریک پر تبصرہ کیا۔ سی پی آئی کے رکنِ پارلیمنٹ نے ان تبصروں پر سخت اعتراض ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ سیاسی اختلاف کو ذاتی اہانت یا کسی پوری سیاسی تحریک کی تذلیل تک محدود نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ کمیونسٹوں نے ملک کی جدوجہدِ آزادی میں حصہ لیا، جیل گئے اور انگریزی حکومت کے مظالم اور جبر کا سامنا کیا نیز جمہوریت، مزدوروں کے حقوق، سماجی انصاف اور عوام کے حقوق کی جدوجہد میں اہم قربانیاں دیں۔
سی پی آئی کے رکنِ پارلیمنٹ نے چیئرمین سے پارلیمانی ضوابط اور قائم کردہ روایتوں کے مطابق قابلِ اعتراض تبصروں کو سرکاری ریکارڈ سے ہٹانے کی اپیل کی۔ انہوں نے کہا کہ پارلیمنٹ کے وقار کو برقرار رکھنے کے لیے تلخ سیاسی بحث تو قابلِ قبول ہے لیکن کسی نظریے یا سیاسی تحریک کے خلاف ذاتی اہانت اور قابلِ اعتراض تبصرے مناسب نہیں ہیں۔
یو این آئی ایف اے
ہندوستان
پارلیمنٹ کے احاطے میں اپوزیشن ارکانِ پارلیمنٹ کا احتجاج
نئی دہلی، کانگریس اور اپوزیشن جماعتوں کے ارکانِ پارلیمنٹ نے چڑھاوا چوری اور طلبہ پر پولیس کارروائی کے معاملے پر حکومت سے جواب طلب کرنے کے اپنے مطالبات کی حمایت میں منگل کے روز پارلیمنٹ کی کارروائی شروع ہونے سے پہلے پارلیمنٹ ہاؤس کے احاطے میں احتجاج کیا۔
مظاہرین ارکانِ پارلیمنٹ ہاتھوں میں بینرز اور تختیاں تھامے حکومت مخالف نعرے لگاتے رہے۔ احتجاجی ارکانِ پارلیمنٹ وزیرِ داخلہ امت شاہ سے پولیس کارروائی پر جواب دینے اور چڑھاوا چوری کے معاملے کی وسیع پیمانے پر تحقیقات کرانے کا مطالبہ کر رہے تھے۔
بارش کی بوچھاڑوں کے درمیان احتجاج کرنے والے ارکانِ پارلیمنٹ میں کانگریس کی پرینکا گاندھی واڈرا، سماج وادی پارٹی کے اکھلیش یادو، اودھیش پرساد، ترنمول کانگریس کی پرتیما منڈل، جھارکھنڈ مکتی مورچہ، شیو سینا (ادھو گروپ) اور دیگر کئی جماعتوں کے ارکانِ پارلیمنٹ موجود تھے۔
یواین آئی۔الف الف
-
دنیا2 days agoسعودی عرب میں فیکٹری میں آگ کے سبب 16 بنگلہ دیشی مزدور ہلاک
-
دنیا2 days agoایران کا فی الحال امریکہ کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں: ایرانی وزیر خارجہ
-
ہندوستان2 days agoطلبہ پر کارروائی کے معاملے پر حکومت کو گھیرتے ہوئے راہل کا مضمون، کھڑگے اور پرینکا نے حمایت کی
-
جموں و کشمیر15 hours agoیومِ آزادی سے قبل جموں و کشمیر پولیس نے سرحدی سامبا میں طویل فاصلے کی گشت اور فرضی انسدادِ دہشت گردی مشق کی
-
دنیا19 hours agoیمن میں حوثیوں کے المخا اور مارب پر بیلسٹک میزائل حملے
-
دنیا19 hours agoٹرمپ کا ایران سے معاوضے کا مطالبہ، آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
-
دنیا2 days agoٹرمپ جوہری معاہدے کے بغیر ایران کے ساتھ تنازع ختم کرنے پر تیار: رپورٹ
-
ہندوستان17 hours agoپارلیمنٹ کے احاطے میں اپوزیشن ارکانِ پارلیمنٹ کا احتجاج
-
دنیا15 hours agoایران نے خود کو ایک ‘ناقابل تسخیر طاقت’ ثابت کیا ہے: عراقچی
-
دنیا15 hours agoشام کے سابق صدر بشار الاسد کو سزائے موت سنادی گئی
-
دنیا19 hours agoایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
-
دنیا2 days agoتجربہ کار آئی آر جی سی کمانڈر محسن رضائی ایران کے قومی سلامتی کے سربراہ مقرر
