ہندوستان
موبائل کمپنیوں کے فون کال ریٹ بڑھانے کے من مانی فیصلے پر مودی جواب دیں: کانگریس
نئی دہلی، کانگریس نے کہا ہے کہ موبائل کمپنیوں نے یکطرفہ طور پر فون کال کی شرحوں میں اضافہ کرکے ملک کے موبائل صارفین پر 34824 کروڑ روپے کا سالانہ بوجھ ڈال دیا ہے اور حکومت ان کی من مانی پر قابو نہیں پا رہی ہے وزیراعظم مودی کو جواب دینا چاہئے کانگریس کے جنرل سکریٹری اور راجیہ سبھا کے رکن رندیپ سنگھ سرجے والا نے جمعہ کو یہاں پارٹی ہیڈکوارٹر میں ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ ملک کے 109 کروڑ موبائل فون صارفین پر سالانہ 34,824 کروڑ روپے کا بوجھ پڑا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک کے 109 کروڑ صارفین ووڈا فون، ریلائنس اور ایئرٹیل کا استعمال کرتے ہیں اور مودی حکومت نے عام انتخابات مکمل ہونے کے تقریباً ایک ماہ بعد 3 جولائی کو کال ریٹ بڑھا کر ان 109 کروڑ صارفین کی جیبوں پر ڈاکہ ڈالا ہے۔
مسٹر سرجے واللا نے کہا “ملک کی موبائل مارکیٹ کی نجی سروس فراہم کرنے والی ان تین کمپنیوں میں ریلائنس جیو کے 48 کروڑ، ایئرٹیل کے 39 کروڑ اور ووڈافون آئیڈیا کے 22 کروڑ 37 لاکھ صارفین ہیں۔ ٹیلی کام ریگولیٹری اتھارٹی آف انڈیا-ٹرائی کی ایک رپورٹ کے مطابق سیل فون کمپنیاں ہر سیل فون صارف سے ماہانہ 152.55 پیسے کماتی ہیں۔ اس بار ان کمپنیوں نے نرخوں میں اضافہ کرکے من مانی کا مظاہرہ کیا ہے۔
کانگریس کے لیڈر نے کہا “یہ کمپنیاں اتنی من مانی کرتی ہیں کہ وہ اپنی مرضی کے مطابق فون کے نرخ بڑھا رہی ہیں۔ اسی سلسلے میں 27 جون کو ریلائنس جیو نے اپنی شرحیں 12 فیصد سے بڑھا کر 27 فیصد کر دیں، 28 جون کو ایئرٹیل نے اپنی شرحیں 11 فیصد سے بڑھا کر 21 فیصد کر دیں اور 29 جون کو ووڈافون آئیڈیا نے بھی اپنی شرحیں 10 فیصد سے بڑھا کر 24 فیصد کر دیں۔ اس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ تینوں کمپنیوں نے صلاح مشورہ کرکے صرف 72 گھنٹوں میں سیل فون کے چارجز میں اضافے کا اعلان کیا۔
مسٹر سرجے والا نے کہا کہ اوسطاً جیو ریلائنس نے ہر صارف پر 30.51 روپے کا بوجھ ڈالا ہے جو کہ سالانہ 17,568 کروڑ روپے ہے، جب کہ ایئرٹیل نے 22.88 روپے بڑھ کر 10,704 کروڑ روپے اور ووڈافون آئیڈیا 24.40 روپے بڑھ کر 6,552 روپے ہو گئی ہے اور کروڑوں روپے کا بوجھ ڈال دیا ہے۔ سوال یہ ہے کہ سیل فون ٹیرف میں سالانہ 34,824 کروڑ روپے کے یکطرفہ اضافے کو مودی حکومت کی نگرانی اور ضابطے کے بغیر کیسے اجازت دی جا سکتی ہے۔
کانگریس لیڈر نے سوال کیا کہ مودی حکومت اور ٹرائی نے 109 کروڑ سیل فون صارفین کے تئیں اپنی ذمہ داری کیوں چھوڑ دی ہے۔ انہوں نے یہ بھی پوچھا کہ کیا مودی حکومت نے عام انتخابات تک سیل فون کی قیمتوں میں اضافے کو نہ روکنا اور پھر 109 کروڑ صارفین پر بوجھ ڈال کر ان سے اضافی 34,824 کروڑ روپے لوٹنے کا جواز پیش کیا؟
یو این آئی ۔ ع خ
ہندوستان
اروناچل ہندستان کا اٹوٹ حصہ، سرحد کی صورتحال ہی چین کے ساتھ دوطرفہ تعلقات کی بنیاد:ہندستان
نئی دہلی ہندستان نے اروناچل پردیش کو اپنا ناقابلِ تقسیم اور اٹوٹ حصہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ چین کے ساتھ اس کے دوطرفہ تعلقات سرحد کی صورتحال پر مبنی ہوں گے اور سرحدی صورتحال کا ان تعلقات پر براہِ راست اثر ہوگا۔
وزارتِ خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے منگل کے روز یہاں میڈیا بریفنگ میں سوالات کے جواب دیتے ہوئے یہ بات کہی۔ دراصل چین کی جانب سے اروناچل پردیش اور اس کے کچھ مقامات کے نام تبدیل کرنے کے ردعمل میں ہندستان نے حال ہی میں اروناچل پردیش کی 27 اہم جگہوں کو سروے آف انڈیا کے نقشے میں سرکاری طور پر نشان زد کر دیا ہے۔ اس پر چین کی طرف سے منفی ردعمل سامنے آیا ہے۔ چین کے اس ردعمل کے بارے میں پوچھے جانے پر مسٹر جیسوال نے کہا کہ اروناچل پردیش ہندستان کا ناقابلِ تقسیم اور اٹوٹ حصہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے اور کوئی بھی اس ناقابلِ تردید سچائی کو بدل نہیں سکتا۔
دونوں ممالک کے درمیان سرحد پر صورتحال کے بارے میں پوچھے گئے سوال کے جواب میں ترجمان نے کہا کہ ہندستان سرحد سے جڑے معاملات کو انتہائی سنجیدہ مانتا ہے اور سرحد پر امن و استحکام اس کی ترجیح ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ سرحد کی صورتحال کا ہندستان اور چین کے تعلقات پر براہِ راست اثر پڑے گا۔ ترجمان نے کہا، “ہندستان اور چین کے درمیان سرحدی علاقوں سے جڑے معاملات میں، ہم نے ہمیشہ چین کے ساتھ بات چیت میں اس بات پر زور دیا ہے کہ ہم ان مسائل کو بے حد سنجیدہ مانتے ہیں اور ان علاقوں میں امن و استحکام برقرار رکھنا سب سے زیادہ اہم ہے۔ ہم نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ سرحدی معاملات کی صورتحال ہمارے وسیع دوطرفہ تعلقات کی صورتحال کی عکاسی کرے گی۔ اس بات کو 06 اگست کو حال ہی میں منعقدہ ‘ہند-چین سرحدی معاملات پر مشاورت اور ہم آہنگی کے ورکنگ میکانزم’ کی 36ویں میٹنگ میں بھی دہرایا گیا۔ اس میٹنگ میں دونوں فریقوں نے کھلی اور واضح بات چیت کی اورحقیقی کنٹرول لائن (ایل اے سی) پر صورتحال کا جائزہ لیا۔”
مسٹر جیسوال نے کہا کہ میٹنگ میں ہندستان نے اس بات پر زور دیا کہ دوطرفہ تعلقات کی ہمہ گیر ترقی کے لیے سرحدی علاقوں میں امن و استحکام برقرار رکھنا انتہائی ضروری ہے۔ اس بات پر اتفاق ہوا کہ لائن آف ایکچوئل کنٹرول پر غلط فہمی اور غلط اندازوں سے بچنے نیز باقی بچے ہوئے مسائل کو حل کرنے کے لیے ورکنگ میکانزم کی میٹنگوں، مقامی کمانڈر سطح کی میٹنگوں اور دیگر میکانزم سمیت موجودہ سفارتی اور فوجی ذرائع کا استعمال جاری رکھا جائے گا۔
یو این آئی ایف اے
ہندوستان
سندوش کمار نے نِرملا سیتارمن کے تبصرے راجیہ سبھا کے ریکارڈ سے ہٹانے کا مطالبہ کیا
نئی دہلی، کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا (سی پی آئی) کے راجیہ سبھا رکنِ پارلیمنٹ پی سندوش کمار نے وزیر خزانہ نِرملا سیتارمن کے ذریعہ پارلیمنٹ میں کمیونسٹ تحریک کے خلاف کیے گئے مبینہ قابلِ اعتراض تبصروں کو راجیہ سبھا کے ریکارڈ سے ہٹانے کا مطالبہ کیا ہے انہوں نے اس سلسلے میں راجیہ سبھا کے چیئرمین سی پی رادھا کرشنن کو منگل کے روز خط لکھا ہے۔
مسٹر کمار نے کہا کہ انکم ٹیکس (ترمیم) آرڈیننس 2026 کو منسوخ کرنے کے مطالبے پر ہونے والی بحث کے دوران وزیر خزانہ نے سی پی آئی (ایم) کے رکنِ پارلیمنٹ جان برٹاس کے حوالے سے کمیونسٹوں کو “ٹوٹل کائر” بتاتے ہوئے پوری کمیونسٹ تحریک پر تبصرہ کیا۔ سی پی آئی کے رکنِ پارلیمنٹ نے ان تبصروں پر سخت اعتراض ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ سیاسی اختلاف کو ذاتی اہانت یا کسی پوری سیاسی تحریک کی تذلیل تک محدود نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ کمیونسٹوں نے ملک کی جدوجہدِ آزادی میں حصہ لیا، جیل گئے اور انگریزی حکومت کے مظالم اور جبر کا سامنا کیا نیز جمہوریت، مزدوروں کے حقوق، سماجی انصاف اور عوام کے حقوق کی جدوجہد میں اہم قربانیاں دیں۔
سی پی آئی کے رکنِ پارلیمنٹ نے چیئرمین سے پارلیمانی ضوابط اور قائم کردہ روایتوں کے مطابق قابلِ اعتراض تبصروں کو سرکاری ریکارڈ سے ہٹانے کی اپیل کی۔ انہوں نے کہا کہ پارلیمنٹ کے وقار کو برقرار رکھنے کے لیے تلخ سیاسی بحث تو قابلِ قبول ہے لیکن کسی نظریے یا سیاسی تحریک کے خلاف ذاتی اہانت اور قابلِ اعتراض تبصرے مناسب نہیں ہیں۔
یو این آئی ایف اے
ہندوستان
پارلیمنٹ کے احاطے میں اپوزیشن ارکانِ پارلیمنٹ کا احتجاج
نئی دہلی، کانگریس اور اپوزیشن جماعتوں کے ارکانِ پارلیمنٹ نے چڑھاوا چوری اور طلبہ پر پولیس کارروائی کے معاملے پر حکومت سے جواب طلب کرنے کے اپنے مطالبات کی حمایت میں منگل کے روز پارلیمنٹ کی کارروائی شروع ہونے سے پہلے پارلیمنٹ ہاؤس کے احاطے میں احتجاج کیا۔
مظاہرین ارکانِ پارلیمنٹ ہاتھوں میں بینرز اور تختیاں تھامے حکومت مخالف نعرے لگاتے رہے۔ احتجاجی ارکانِ پارلیمنٹ وزیرِ داخلہ امت شاہ سے پولیس کارروائی پر جواب دینے اور چڑھاوا چوری کے معاملے کی وسیع پیمانے پر تحقیقات کرانے کا مطالبہ کر رہے تھے۔
بارش کی بوچھاڑوں کے درمیان احتجاج کرنے والے ارکانِ پارلیمنٹ میں کانگریس کی پرینکا گاندھی واڈرا، سماج وادی پارٹی کے اکھلیش یادو، اودھیش پرساد، ترنمول کانگریس کی پرتیما منڈل، جھارکھنڈ مکتی مورچہ، شیو سینا (ادھو گروپ) اور دیگر کئی جماعتوں کے ارکانِ پارلیمنٹ موجود تھے۔
یواین آئی۔الف الف
-
دنیا1 day agoایران کا فی الحال امریکہ کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں: ایرانی وزیر خارجہ
-
دنیا1 day agoسعودی عرب میں فیکٹری میں آگ کے سبب 16 بنگلہ دیشی مزدور ہلاک
-
دنیا2 days agoٹرمپ جوہری معاہدے کے بغیر ایران کے ساتھ تنازع ختم کرنے پر تیار: رپورٹ
-
ہندوستان1 day agoطلبہ پر کارروائی کے معاملے پر حکومت کو گھیرتے ہوئے راہل کا مضمون، کھڑگے اور پرینکا نے حمایت کی
-
دنیا1 day agoتجربہ کار آئی آر جی سی کمانڈر محسن رضائی ایران کے قومی سلامتی کے سربراہ مقرر
-
جموں و کشمیر8 hours agoیومِ آزادی سے قبل جموں و کشمیر پولیس نے سرحدی سامبا میں طویل فاصلے کی گشت اور فرضی انسدادِ دہشت گردی مشق کی
-
دنیا12 hours agoٹرمپ کا ایران سے معاوضے کا مطالبہ، آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
-
دنیا12 hours agoایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
-
دنیا11 hours agoکولمبیا میں زلزلے سے ہلاکتوں کی تعداد 132 ہو گئی، صدر کا قومی ایمرجنسی کا اعلان
-
ہندوستان10 hours agoپارلیمنٹ کے احاطے میں اپوزیشن ارکانِ پارلیمنٹ کا احتجاج
-
دنیا8 hours agoایران نے خود کو ایک ‘ناقابل تسخیر طاقت’ ثابت کیا ہے: عراقچی
-
دنیا8 hours agoشام کے سابق صدر بشار الاسد کو سزائے موت سنادی گئی
