تازہ ترین
مودی کا راجیہ سبھا میں دیا گیا جواب اُن کی کمزوری کا عکاس تھا: کھڑگے
نئی دہلی، کانگریس کے صدر ملیکارجن کھڑگے نے کہا ہے کہ وزیرِاعظم نریندر مودی کا راجیہ سبھا میں صدر جمہوریہ کے خطاب پر شکریہ کی تحریکِ پر دیا گیا جواب ان کی کمزوری کو ظاہر کررہاتھا اور ان کی زبان سے صاف تھا کہ وہ لوک سبھا میں قائدِ حزبِ اختلاف راہل گاندھی کے سوالوں سے بہت خوفزدہ ہیں۔
مسٹر کھڑگے نے جمعہ کو سوشل میڈیا فیس بک پر ایک پوسٹ میں کہا کہ پوری تقریر کے دوران مسٹر مودی خوفزدہ نظر آ رہے تھے۔ امریکہ کے سامنے خودسپردگی، راہل گاندھی کے سوالوں کا ڈر اور لوک سبھا میں اپنی بات رکھنے کے لیے نہ آپانے کو ان کا خوف ان کے چہرے پر صاف جھلک رہا تھا۔
کانگریس صدر نے کہا کہ مسٹر مودی سرکاری شعبے کی کمپنیوں کو بند کر رہے ہیں، حالانکہ انہی کمپنیوں کی وجہ سے ہندوستان کی ترقی ہوئی ہے اور ملک کی معیشت کو شکل ملی ہے، لیکن حیرت کی بات ہے کہ مسٹر مودی انہی کمپنیوں کو دیوالہ نکالنے والی قرار دے رہے ہیں۔ انہوں نے یہاں تک بھی کہا کہ یہ سرکاری کمپنیاں پیسے کی بربادی کا سبب ہیں، اس لیے وہ انہیں ختم کرنے پر تلے ہوئے ہیں۔
مسٹر کھڑگے نے وزیرِاعظم کے قبر کھودنے والے بیان پر کہا کہ کانگریس کسی شخص کی قبر کی بات نہیں کرتی بلکہ وہ ان خیالات کی قبر کی بات کرتی ہے جن میں ملک کی ترقی کے لیے کوئی رہنمائی نہیں ہے اور جن کے ذریعہ ملک کی مضبوط جمہوریت کوختم کرنے کا کام کیا جا رہا ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ وزیرِاعظم ہر بات کو اپنے اوپر لے لیتے ہیں۔ وہ خود کو غریب، چائے والا، پسماندہ وغیرہ کہتے ہیں، جبکہ کانگریس افراد نہیں بلکہ نظریات کی بات کرتی ہے۔
انہوں نے الزام لگایا کہ وزیرِاعظم نے سابق وزیرِاعظم ڈاکٹر منموہن سنگھ جی کے بارے میں غلط باتیں کہیں اور وہ اس کی تردید کرتے ہیں۔ انہوں نے ڈاکٹر سنگھ کے دورحکومت میں بدعنوانی وغیرہ کی بات غلط کہی ہے، وہ سن بے بنیاد ہیں۔ انہوں نے یہاں تک کہا تھا کہ وہ رین کوٹ ڈال کر نہاتے ہیں۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ مسٹر مودی بہت کمزور ہو چکے ہیں اور اُن کا حوصلہ ٹوٹ چکا ہے۔ اس طرح کی باتیں پارلیمنٹ اور خود مسٹر مودی کے لیے بھی مناسب نہیں ہیں۔
کانگریس صدر نے کہا کہ مسٹر مودی کانگریس لیڈر راہل گاندھی سے ڈرتے ہیں۔ انہیں خوف رہتا ہے کہ وہ نہ جانے کون سا سوال پوچھ لیں۔ یہی وجہ سے کہ مودی حکومت انہیں پارلیمنٹ میں بولنے نہیں دیتی اور پھر جو سوال اٹھائے جاتے ہپیں ان کا جواب نہیں دیا جاتا۔
انہوں نے وزیرِاعظم کے لوک سبھا میں صدر جمہوریہ کے خطاب پر شکریہ کا جواب دینے دینے کے لیے نہ آنے کا معاملہ بھی اٹھایا اور کہا کہ جس خفیہ اطلاع کی وجہ سے انہیں ایوان میں آنے سے روکا گیا تھا، ان کی خفیہ اطلاع اُس وقت کہاں چلی جاتی ہے جب ملک میں غریبوں اور عام لوگوں پر ظلم ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ جمہوریت کو کمزور کرنے کی کوشش ہے اور جب لوک سبھا کئی دن تک نہیں چلتی ہے تو اسے چلانے کی کوئی کوشش نہیں کی جاتی ہے۔
کانگریس لیڈر نے مودی حکومت کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سامنے جھکنے کا الزام لگایا اور کہا کہ امریکہ کے ساتھ تجارتی معاہدے کے ذریعے ملک کی زراعت کو نقصان پہنچانے کی منصوبہ بندی کی گئی ہے۔
انہوں نے مودی حکومت پر دلت مخالف ہونے کا الزام بھی لگایا اور کہا کہ 2014 میں جب وہ لوک سبھا میں ایوان کے لیڈر تھے تو انہیں دلت ہونے کی وجہ سے قائدِ حزبِ اختلاف کا درجہ نہیں دیا گیا اور نہ ہی کسی کو لوک سبھا کا نائب اسپیکر بنایا گیا۔
یواین آئی۔الف الف
ہندوستان
ہندستان اور لائبیریا نے سمندری جہازوں اور ملاحوں پر حملوں کی شدید مذمت کی، فوری طور پرروک لگانے کا مطالبہ کیا
نئی دہلی، ہندستان اور لائبیریا نے خلیجی خطے اور اس کے آس پاس کے علاقوں نیز بحیرہ اسود میں گزشتہ چند دنوں میں تجارتی جہازوں اور ملاحوں پر ہوئے حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے انہیں فوری طور پر روکے جانے کا مطالبہ کیا ہے۔
اقوام متحدہ میں ہندستان کے مستقل مشن نے جمعرات کی دیر رات سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ میں کہا کہ دونوں ملکوں نے ایک مشترکہ بیان میں کہا ہے کہ ان حملوں سے سمندری تجارت متاثر ہوتی ہے اور بے گناہ لوگوں کی جانیں جاتی ہیں۔ ایسے افعال کو کسی بھی طرح درست نہیں ٹھہرایا جا سکتا۔ دونوں ملکوں نے خطے میں امن و استحکام برقرار رکھنے کے لیے ان حملوں کو فوری طور پر روکنے کی اپیل کی۔
ہندستان اور لائبیریا نے کہا ہے کہ وہ ایسے حملوں کو دوبارہ ہونے سے روکنے کے لیے باہمی تعاون بڑھانے اور ملاحوں کے حقوق کے تحفظ میں ایک دوسرے کی مدد کے لیے تیار ہیں۔
ہندستان اور لائبیریا نے حملوں میں جان گنوانے والے ملاحوں کے اہل خانہ سے تعزیت کا اظہار کیا۔ ساتھ ہی، زخمیوں کی جلد صحتیابی کی خواہش کی۔
قابل ذکر ہے کہ ہندستان اور لائبیریا نے گزشتہ ماہ سمندری جہازوں اور ملاحوں کی سکیورٹی کے لیے دوست ممالک کے گروپ ایس 4 کی شروعات کی تھی۔
یواین آئی۔الف الف
دنیا
فورٹ ہُڈ حملے کے مجرم کو ‘فائرنگ اسکواڈ’ سے دی جانے والی سزائے موت کی لائیو اسٹریمنگ کی جائے گی: پینٹاگن
واشنگٹن، امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ نے کہا ہے کہ عام لوگ امریکی فوج کے ایک سابق میجر کو ‘فائرنگ اسکواڈ’ سے دی جانے والی سزائے موت کو دیکھ سکیں گے۔
بی بی سی کی ایک رپورٹ کے مطابق محکمہ دفاع کے ایک اہلکار نے بتایا کہ ندال حسن کو دی جانے والی سزائے موت کی ‘لائیو اسٹریمنگ’ کی جائے گی۔ حسن نے 2009 میں فورٹ ہُڈ میں 13 نہتے امریکی فوجیوں کو گولی مار کر ہلاک کر دیا تھا۔
مانا جا رہا ہے کہ یہ تقریباً ایک صدی میں امریکہ میں دی جانے والی پہلی عوامی سزائے موت ہوگی۔ موت کی سزا پانے والے قیدیوں کے ساتھ کام کرنے والے وکیل جان ملز نے کہا کہ اس کی لائیو اسٹریمنگ کا فیصلہ “جدید دور میں غیر معمولی” ہے اور یہ “قانونی طور پر غیر یقینی صورتحال” والا معاملہ ہے۔
ہیگسیتھ نے کہا، “ہم یہ بات یقینی بنائیں گے کہ لوگ اسے دیکھ سکیں، تاکہ یہ عوامی ہو۔ لوگوں کو یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ اس قسم کی چیزوں کے سنگین نتائج ہوتے ہیں۔”
پینٹاگن نے اس ہفتے کے آغاز میں اعلان کیا تھا کہ وہ حسن کو سزائے موت دے گا، جو 60 سے زائد برسوں میں پہلی فوجی سزائے موت ہوگی۔
ہیگسیتھ نے کنزرویٹو ٹی وی چینل ‘ریئل امریکاز وائس’ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہا کہ حسن کو “فوجیوں کے فائرنگ اسکواڈ کا سامنا کرنا پڑے گا۔ جیسا کہ ہونا چاہیے۔”
جب ہیگسیتھ سے پوچھا گیا کہ کیا حسن نے کوئی آخری درخواست کی ہے یا صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے رابطہ کیا ہے، تو انہوں نے کہا: “کوئی فرق نہیں پڑتا۔ ہم اسے 3 دسمبر کو دیکھیں گے۔”
پینٹاگن کے ترجمان شان پارنیل نے پیر کو کہا تھا کہ وزیر دفاع نے اس کی سفارش کی تھی اور ٹرمپ نے اسے منظوری دے دی ہے۔ بی بی سی نے وائٹ ہاؤس سے اس بارے میں تبصرہ مانگا ہے کہ کیا ٹرمپ لائیو اسٹریم کے ذریعے عوامی سطح پر سزائے موت دیے جانے کی حمایت کرتے ہیں۔
اگرچہ گزشتہ سال 17 ممالک میں 2,700 سے زائد افراد کو سزائے موت دی گئی تھی، لیکن صرف دو ممالک نے ہی اسے عوامی طور پر انجام دیا۔
ایمنسٹی انٹرنیشنل کے مطابق، 2025 میں ایران میں گیارہ اور افغانستان میں چھ افراد کو عوامی طور پر سزائے موت دی گئی تھی۔
امریکی فوج کے سکریٹری نے منگل کو بتایا کہ یہ سزا 3 دسمبر کو ٹیکساس کے فورٹ ہُڈ میں دی جائے گی۔
دوسری جنگ عظیم کے بعد فائرنگ اسکواڈ سے دی جانے والی یہ پہلی فوجی سزائے موت ہوگی۔
ورجینیا کے امریکی فوج کے ماہرِ نفسیات حسن نے عدالت میں اعتراف کیا کہ امریکی فوجی اڈے پر ہوئے اب تک کے سب سے مہلک غیر جنگی حملے میں وہی بندوق بردار تھا۔
گولی باری 5 نومبر 2009 کو ایک بھیڑ بھاڑ والی میڈیکل عمارت میں ہوئی تھی، جہاں تعینات ہونے والے فوجی طبی معائنے اور ویکسین کا انتظار کر رہے تھے۔
عدالت میں حسن نے “کسی بھی غلطی” کے لیے معافی مانگی۔ 2013 میں اپنے کورٹ مارشل کے دوران انہوں نے کہا تھا کہ انہیں لگتا تھا کہ وہ مسلمانوں اور افغانستان میں طالبان کا دفاع کر رہے تھے۔
فوجی قانون کے مطابق، فوجی سزائے موت کے لیے امریکی صدر کی منظوری ضروری ہے۔ اس کے لیے اپیل کی جائزہ کارروائی کی بھی ضرورت ہوتی ہے، جس میں ایک ہائی کورٹ فیصلے کی جانچ کرتی ہے اور آگے بڑھنے کے لیے اس کی قانونی حیثیت پر آخری فیصلہ لیتی ہے۔
ملز نے کہا کہ حسن کے لیے اپیل کا عمل ابھی ختم نہیں ہوا ہے۔ امکان ہے کہ وہ اپنی سزا اور سزا پر نظرثانی کے لیے فیڈرل کورٹ میں اپیل کریں گے، جس سے شاید سزائے موت پر روک لگ سکتی ہے۔ اس لیے، ملز نے کہا کہ اگر سزائے موت دی جاتی ہے تو انہیں حیرت ہوگی۔
انہوں نے کہا، “ٹرمپ انتظامیہ کا فائرنگ اسکواڈ کے ذریعے سزائے موت کو لائیو اسٹریم کرنے کا خیال صرف توجہ حاصل کرنے کی کوشش ہے۔ اس کے ہونے کا امکان کم ہے، اور اس سے انصاف ملنے کی تو کوئی امید ہی نہیں ہے۔”
یواین آئی۔الف الف
ہندوستان
جنتر منتر پر مظاہرے کے لیے 10 دن پہلے درخواست کی شرط بے تکی: کانگریس
نئی دہلی، کانگریس نے جنتر منتر پر مظاہرے کے لیے 10 دن پہلے درخواست دینے کی شرط پر اعتراض ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ کسی واقعے پر فوری احتجاج کے لیے لوگوں کو اتنے دن انتظار کرنے پر مجبور نہیں کیا جا سکتا۔
کانگریس کے اتر پردیش انچارج راجندر پال گوتم نے بدھ کے روز یہاں پارٹی ہیڈکوارٹر میں ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ یہ خبر حیران کن ہے کہ جنتر منتر پر کسی بھی مظاہرے کے لیے کم از کم 10 دن پہلے درخواست دینی ہوگی۔ انہوں نے دہلی پولیس کے اس فرمان پر اعتراض ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ اگر آج کسی کے ساتھ ظلم ہو جائے، کسی کا بے رحمی سے قتل ہو جائے یا جمہوریت پر حملہ کر دیا جائے تو کیا لوگوں کو اس کے احتجاج کے لیے 10 دن انتظار کرنا ہوگا؟
انہوں نے کہا کہ انہیں نہیں لگتا کہ سپریم کورٹ یا کسی حکومت نے ایسا کوئی قانون بنایا ہے یا بنا سکتی ہے کہ ایک آزاد ملک میں لوگ اپنے بنیادی حقوق کا استعمال کرنے کے لیے اتنے دن انتظار کریں۔
کانگریسی رہنما نے کہا کہ آئین شہریوں کو اظہارِ رائے کی آزادی دیتا ہے اور دھرنا- مظاہرے کے ذریعے حکومت پر دباؤ بنانے کا حق بھی دیتا ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ بھارتیہ جنتا پارٹی تحقیاقی ایجنسیوں کا استعمال کر رہی ہے اور الیکشن کمیشن کو بی جے پی کی ‘بی ٹیم’ بنا دیا گیا ہے۔
مسٹر گوتم نے کہا کہ جواب دہی سے بچنے کے لیے وزیرِ داخلہ امت شاہ پولیس کو آگے کر دیتے ہیں اور گزشتہ دو دنوں میں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی کے ساتھ پولیس نے جس طرح کا سلوک کیا، وہ شرمناک ہے۔
یواین آئی ایف اے
-
جموں و کشمیر1 week agoسری نگر پولیس نے بین ریاستی منشیات نیٹ ورک کا پردہ فاش کیا، آٹھ افراد گرفتار
-
دنیا1 week agoقطری ثالثی کی امریکہ، ایران کے درمیان مذاکرات میں معمولی پیش رفت
-
دنیا7 days agoروس پر براہِ راست حملے کی صورت میں ہر قسم کے ہتھیار استعمال کرنےکا معاملہ ایجنڈے پر ہو گا :پوتن
-
ہندوستان7 days agoوندے بھارت نے چِناب پل اور کیبل اسٹڈ انجی پل کو 100 کلومیٹر کی رفتار سے عبور کیا
-
دنیا1 week agoہیگستھ امریکی جنرل اور ایڈمرل کے عہدوں میں 20 فیصد کمی کریں گے
-
جموں و کشمیر7 days agoگاندھی کے عدم تشدد اور سودیشی کے نظریات آج بھی اہم ہیں: جموں کے ڈویژنل کمشنر
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر میراتھن اتحاد اور نوجوانوں کے متبادل خواہشات کا پیغام دیتی ہے: ایل جی سنہا
-
دنیا6 days agoخمیس مشیط کی جانب داغے گئے تین حوثی بیلسٹک میزائل تباہ
-
ہندوستان1 week agoگیانیش کمار استعفیٰ دیں، ہٹائے گئے ووٹروں کی فہرست عام کی جائے: کھرگے
-
جموں و کشمیر1 week agoبڈگام کے یوسمرگ میں پاکستانی لشکر طیبہ کا جنگجو جھڑپ میں ہلاک
-
دنیا1 week agoایران امریکہ سے مذاکرات کی کوشش جاری رکھے گا: پیزشکیان
-
ہندوستان1 week agoڈیفنس اکاؤنٹس ڈیپارٹمنٹ کے 279ویں سالانہ دن پر کئی نئی پہل کی شروعات کریں گے راج ناتھ
