تازہ ترین
1996میں انتخاب نہ لڑتے تو اخوانی کمانڈر کوکہ پرے وزیر اعلیٰ ہوتا:عمر عبداللہ کا انکشاف
خبراردو:
نیشنل کانفرنس کے نائب صدر اور سابق وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے سنسنی خیز انکشاف کیا کہ اگر پارٹی 1996میں اسمبلی انتخابات میں حصہ نہیں لیتی تو اُس وقت کے بدنام زمانہ سرکار نواز بندوق بردار کوکہ پرے ریاست جموں وکشمیر کے وزیرا علیٰ ہوتے۔ ادھر این سی لیڈر نے گورنر ستیہ پال ملک پر چوٹ کرتے ہوئے کہا کہ انہیں ریاست کے انتظامی اُمور پر توجہ مرکوز کرنی چاہیے اور سیاسی معاملات میں آئے روز ٹانگ اڑانے سے گریز کرنا چاہیے۔
نیشنل کانفرنس کے نائب صدر اور سابق وزیرا علیٰ عمر عبداللہ نے جنوبی ضلع کولگام میں بھاری عوامی ریلی کے حاشیہ پر نامہ نگاروں کے ساتھ بات کرتے ہوئے اس بات کا سنسنی خیز انکشاف کیا کہ اگر پارٹی 1996کے اسمبلی انتخابات میں شرکت نہ کرتی تو اُس وقت کے بدنام زمانہ سرکار نواز بندوق بردار (اخوانی کمانڈر) کوکہ پرے ریاست جموں وکشمیر کے وزیر اعلیٰ ہوتے۔ عمر عبداللہ کا کہنا تھا کہ اس حقیقت سے کوئی بھی فرد بشر انکار نہیں کرسکتا کہ اگر ڈاکٹر فاروق عبداللہ اور نیشنل کانفرنس نے 1996میں اسمبلی انتخابات میں حصہ نہیں لیا ہوتا تو اُس وقت کے بدنام زمانہ اخوانی کمانڈر کوکہ پرے ریاست جموں وکشمیر کے وزیر اعلیٰ ہوتے۔انہوں نے کہا کہ 1996میں وادی میں حالات انتہائی پرآشوب تھے ، ہر طرف موت کا ڈر لگارہتا تھا لیکن اس کے باوجود ہماری پارٹی ، لیڈران اور کارکنان نے ریاست جموں وکشمیر کے مجموعی مفاد کی خاطر اپنی جانوں پر کھیل کر انتخابات میں حصہ لیا ۔ انہوں نے بتایا کہ اگر نیشنل کانفرنس اُس وقت یہ مشکل فیصلہ نہیں لیتی تو اُس وقت کے بدنام زمانہ اخوانی کمانڈر کوکہ پرے ریاست جموں وکشمیر کے وزیر اعلیٰ ہوتے۔حال ہی میں بیوروکریسی سے مستعفی ہوئے ڈاکٹر شاہ فیصل سے متعلق ایک سوال کے جواب میں عمر عبداللہ کا کہنا تھا کہ موصوف انتہائی قابل شخصیت ہیں لہٰذا وہ اپنی منزل کاانتخاب کرنے میں خود ہی بہتر فیصلہ لے سکتے ہیں۔
یہ ڈاکٹر شاہ فیصل پر ہی منحصر ہے کہ وہ بیوروکریسی سے مستعفی ہونے کے بعد کون سا راستہ اپنے لیے پسند کرتے ہیں۔یہ ڈاکٹر شاہ فیصل پر منحصر ہے کہ وہ کہاں جاتا ہے؟ اگر وہ نیشنل کانفرنس میں شامل ہونا چاہے گا تو یقینی طور پرپارٹی اس پر تبادلہ خیال کرے گی۔ عمر عبداللہ نے واضح کیا کہ ڈاکٹر شاہ فیصل نے ریاستی عوام کی خدمت کے لیے ہی بیوروکریسی سے استعفیٰ پیش کیا ہے لہٰذا اس طرح کی صورتحال میں وہی بہتر فیصلہ لے سکتے ہیں کہ وہ لوگوں کی خدمات کس طرح کریں گے۔نامہ نگاروں کے ساتھ بات چیت میں عمر عبداللہ کا کہنا تھا کہ پارٹی کو اُمید ہے کہ جنوبی کشمیر کے عوام ایک بار پھر پارٹی کو مضبوط منڈیٹ فراہم کرکے سرکار بنانے کا موقعہ فراہم کریں گے۔ گورنر ستیہ پال ملک کے ان ریمارکس جس میں انہوں نے آپریشن آل آؤٹ کی نفی کی تھی، پر تبصرہ کرتے ہوئے عمر عبداللہ نے کہا کہ گورنر کی طرف اس قسم کے بیان سے عوام میں کنفیوژن پیدا ہوا ہے۔ لوگ یہ سمجھنے سے قاصر ہے کہ فوج ایک طرف آپریشن آل آوٹ کا پرچار کرتی ہے تو دوسری جانب ریاستی گورنردوسرا ہی بیان جاری کرتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ نیشنل کانفرنس کبھی بھی آپریشن آل آؤٹ کی حمایت نہیں کرے گی جہاں عوام کو آئے روز سخت مشکلات اور تکلیف سے دوچار ہونا پڑے گا۔وادی میں آئے روز کریک ڈاؤن کا سلسلہ جاری ہے، ہلاکتوں اور انسانی حقوق کی پامالیوں کے گراف میں ہوشربا اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، ان سب کارروائیوں کو آپ کیا نام دیں گے؟ لہٰذا نیشنل کانفرنس اس طرح کی جارحانہ کارروائیوں کی کبھی بھی حمایت نہیں کرے گی۔انہوں نے کہا کہ اس طرح کے جارحانہ کارروائیوں کے نتیجے میں ہی کشمیری نوجوان بندوق اُٹھانے پر مجبور ہوئے ہیں جس کو ہمیں سمجھنے کی ضرورت ہے۔ ہمیں نوجوانوں کے جذبات اور احساسات کو سمجھنا ہوگا اور اُسی کے مطابق اُن کو ایڈریس کرنے کی ضرورت ہے۔ این سی لیڈر نے ریاستی گورنر ستیہ پال ملک پر چوٹ کرتے ہوئے کہا کہ انہیں اپنے کام سے مطلب رکھنا چاہیے اور بلاوجہ سیاسی معاملات میں مداخلت سے پرہیز کرنا چاہیے۔
عمر عبداللہ کا کہنا تھا کہ گورنر ستیہ پال ملک ریاست کے سیاسی معاملات میں مداخلت سے اجتناب کریں اور انہیں اپنی منصبی ذمہ دارویوں کو پورا کرکے ریاست جموں وکشمیر میں آنے والے انتخابات کو منعقد کرانے کے لیے خوشگوار ماحول کو یقینی بنانا چاہیے۔انہوں نے اس بات پر زور دیتے ہوئے کہا کہ گورنر ستیہ پال ملک کو سیاسی بیان بازی سے مکمل طور پر اجتناب کرنا چاہیے اور ریاست میں منعقد ہ ہونے والے انتخابات کے لیے پرامن اور سازگار ماحول کو یقینی بنانے کے لیے اپنی منصبی ذمہ داریوں کو پورا کرنا چاہیے تاکہ لوگ انتخابات میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں۔عمر عبداللہ نے اپنے خطاب کے دوران کہا کہ سیاست کرنا ہم لوگوں کا کام ہے لہٰذا گورنر ہمارے کام میں ٹانگ اڑانے کی کوشش نہ کریں۔گورنر اور اُن کی انتظامیہ کا کام بس صرف اتنا ہے کہ وہ ریاست میں رواں سال کے وسط میں منعقد ہونے والے انتخابات کو یقینی بنانے کے لیے زمینی سطح پر خوشگوار ماحول تیار کرے۔
ہندوستان
مودی حکومت کی پالیسیوں نے معاشی لبرلائزیشن کو برباد کر دیا: کھرگے
نئی دہلی، کانگریس صدر ملکارجن کھرگے نے مودی حکومت کی معاشی پالیسیوں پر شدید نکتہ چینی کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس حکومت نے عام لوگوں کے مفادات کو نظر انداز کر کے صارفین کے لیے متعدد اختیارات کی مسابقت کو ختم کر دیا ہے اور منتخب سرمایہ دار دوستوں کو فائدہ پہنچایا جا رہا ہے، جس سے معاشی لبرلائزیشن کی بنیاد برباد ہو گئی ہے۔
مسٹر کھرگے نے جمعہ کے روز سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ایکس’ پر لکھا کہ مودی حکومت کی معاشی پالیسیوں کا مقصد معیشت کا کنٹرول اپنے چہیتے سرمایہ دار دوستوں کے ہاتھوں میں سونپنا ہے، تاکہ بدلے میں منافع میں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کا حصہ برقرار رہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ مسابقت کو ختم کر کے اجارہ داری اور دو کمپنیوں کے غلبے والے نظام کو نافذ کر کے بی جے پی کے خزانے کو بھرنے کا کام کیا گیا ہے۔
کانگریس صدر نے کہا کہ ٹیلی کام کے شعبے میں 2014 سے پہلے 13 کمپنیاں تھیں، جبکہ اب صرف تین بڑی نجی کمپنیاں رہ گئی ہیں۔ اسی طرح اندرونِ ملک ہوا بازی کے شعبے میں 2014 سے پہلے سات کمپنیوں کے مقابلے اب صرف دو بڑی کمپنیاں رہ گئی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ڈیجیٹل ادائیگی، سیمنٹ اور فوڈ ڈیلیوری ایپس سمیت مختلف شعبوں میں حکومت کی ترجیح مسابقت کو ختم کرنا رہی ہے۔ مسٹر کھرگے نے کہا کہ کانگریس معاشی لبرلائزیشن کی بانی ہے، جبکہ بی جے پی پر اپنے منافع کے لیے ‘معاشی دہشت گردی’ نافذ کرنے کا الزام لگایا۔
مسٹر کھرگے نے دعویٰ کیا کہ حکومت کی معاشی پالیسیوں سے مائیکرو، اسمال اینڈ میڈیم انٹرپرائزز (ایم ایس ایم ای) اور دیگر چھوٹے و درمیانے درجے کی صنعتوں کو نقصان پہنچا ہے نیز ملک کے نوجوانوں کو شدید بے روزگاری کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
یواین آئی ایف اے
ہندوستان
انڈیا اتحاد کے رہنماؤں سے جمعہ کی رات آٹھ بجے ملاقات کریں گی مرمو
نئی دہلی، انڈیا اتحاد کے رہنما جمعہ کی رات آٹھ بجے صدرِ جمہوریہ دروپدی مرمو سے ملاقات کر کے ووٹر لسٹ کی خصوصی تفصیلی نظرثانی (ایس آئی آر) کےعمل کے ذریعے دھاندلی کرنے اور الیکشن کمیشن کے طریقہ کار سے متعلق مسائل پر اپنے خدشات پیش کریں گے۔
ذرائع کے مطابق انڈیا اتحاد کے رہنماؤں نے 30 ستمبر کو یہاں منعقدہ میٹنگ میں صدرِ جمہوریہ سے ملاقات کر کے ان مسائل پر ان کے سامنے اپنا موقف رکھنے کا فیصلہ کیا تھا۔ اتحاد کے رہنما ایس آئی آر کے عمل اور چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے طریقہ کار سے متعلق اپنے خدشات سے صدرِ جمہوریہ کو آگاہ کرنا چاہتے ہیں۔
اس سلسلے میں صدرِ جمہوریہ سے ملاقات کے لیے پہلی بار دو اکتوبر کو مکتوب بھیج کر وقت مانگا گیا تھا۔ راشٹرپتی بھون کی طرف سے وفد میں شامل ہونے والے رہنماؤں کے نام مانگے جانے کے بعد اتحاد نے پانچ اکتوبر کو دوبارہ مکتوب بھیجا اور سات، آٹھ یا نو اکتوبر میں سے کسی بھی دن ملاقات کا وقت دینے کی درخواست کی تھی۔
انڈیا اتحاد کے رہنما چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار پر ووٹر لسٹ میں مبینہ دھاندلیوں کے تعلق سے سوال اٹھاتے ہوئے ان کے استعفے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ اس معاملے پر اتحاد کے اراکینِ پارلیمنٹ نے مظاہرے اور مارچ بھی نکالے ہیں۔
کانگریس نے الیکشن کمیشن کے خلاف اپنے احتجاج کو تیز کرنے کے لیے تقریباً ڈیڑھ ماہ تک جاری رہنے والی تحریک کے پروگرام کی بھی توثیق کی ہے۔ کانگریسی رہنما راہل گاندھی اور پرینکا گاندھی واڈرا کو پولیس مظاہرے کے دوران مسلسل دو بار حراست میں بھی لے چکی ہے۔
یواین آئی ایف اے
ہندوستان
ہندوستان نے امریکہ کے پی ای آر ایم پروگرام پر روک پر تشویش کا اظہار کیا، کہا – یہ دونوں ممالک کے مفادات کے خلاف
نئی دہلی، ہندوستان نے امریکی محکمہ محنت کے مستقل لیبر سرٹیفیکیشن پروگرام (پی ای آر ایم) سے جڑے فیصلے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسے دونوں ممالک کے مفادات کے خلاف بتایا ہے۔
امریکہ کی جانب سے جمعرات کی رات اس قدم کے اعلان کے بعد وزارتِ خارجہ نے جمعہ کے روز ایک بیان جاری کر کے کہا کہ اس قدم سے متاثرہ کمپنیوں کے اہل ملازمین کے گرین کارڈ کے عمل پر اثر پڑ سکتا ہے۔ تاہم پی ای آر ایم درخواستوں پر روک سے موجودہ ایچ-1بی ویزا یا ویزا ہولڈرز اور ان کے زیرِ کفالت افراد کی حیثیت پر خود بخود کوئی اثر نہیں پڑتا۔
ہندوستان نے کہا کہ پی ای آر ایم پروگرام، ایچ-1بی ویزا پروگرام سے مختلف ہے۔ متاثرہ کمپنیوں کے اہل ملازمین کی مستقل رہائش یعنی گرین کارڈ حاصل کرنے کے عمل پر اس کا کچھ اثر ہو سکتا ہے، لیکن اس سے موجودہ ایچ-1بی ویزا کی میعاد اپنے آپ ختم نہیں ہوتی۔
وزارتِ خارجہ نے کہا ہے کہ ہندوستانی ٹیلنٹ کے امریکہ جانے سے دونوں ممالک کی معیشتوں کو فائدہ ہوتا ہے۔ اس سے ہندوستانیوں کو مواقع ملتے ہیں، جبکہ امریکی کمپنیوں کو ہنر مند ملازمین، نئی ٹیکنالوجی، تحقیق، جدت طرازی، پیداواری صلاحیت اور مسابقتی صلاحیت بڑھانے میں مدد ملتی ہے۔ اس سے امریکہ میں روزگار کے مواقع پیدا ہوتے ہیں اور شیئر ہولڈرز کے اثاثوں میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔
ہندوستان نے کہا کہ امریکہ کا یہ قدم دونوں ممالک کے مشترکہ اہداف کو آگے بڑھانے میں مدد نہیں کرتا۔ ہندوستان نے امریکی نائب صدر کے اس معاملے پر کیے گئے تبصروں پر بھی اعتراض ظاہر کیا۔ ہندوستان کے مطابق ایسے تبصرے غیر مناسب ہیں اور امریکہ کی معیشت نیز جدت طرازی میں ہندوستانی پیشہ ور افراد کی خدمات کو نظر انداز کرتے ہیں۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ ہندوستانی پیشہ ور افراد امریکہ کی معیشت اور جدت طرازی کے نظام میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ امریکہ کی تاریخ بھی ایسے تارکینِ وطن کی خدمات سے بنی ہے جنہوں نے اپنے کام، کاروبار اور نئے خیالات سے ملک کی ترقی میں مدد کی ہے۔ ہندوستان نے کہا کہ دردناک تاریخی اور نوآبادیاتی دور کی یاد دلانے والے الفاظ کا استعمال انتہائی قابلِ اعتراض ہے۔
وزارتِ خارجہ نے کہا کہ وہ اس معاملے سے جڑی صورتحال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہے۔
یواین آئی ایف اے
-
جموں و کشمیر1 week agoسری نگر پولیس نے بین ریاستی منشیات نیٹ ورک کا پردہ فاش کیا، آٹھ افراد گرفتار
-
دنیا1 week agoقطری ثالثی کی امریکہ، ایران کے درمیان مذاکرات میں معمولی پیش رفت
-
دنیا1 week agoروس پر براہِ راست حملے کی صورت میں ہر قسم کے ہتھیار استعمال کرنےکا معاملہ ایجنڈے پر ہو گا :پوتن
-
ہندوستان1 week agoوندے بھارت نے چِناب پل اور کیبل اسٹڈ انجی پل کو 100 کلومیٹر کی رفتار سے عبور کیا
-
جموں و کشمیر7 days agoگاندھی کے عدم تشدد اور سودیشی کے نظریات آج بھی اہم ہیں: جموں کے ڈویژنل کمشنر
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر میراتھن اتحاد اور نوجوانوں کے متبادل خواہشات کا پیغام دیتی ہے: ایل جی سنہا
-
دنیا6 days agoخمیس مشیط کی جانب داغے گئے تین حوثی بیلسٹک میزائل تباہ
-
ہندوستان1 week agoڈیفنس اکاؤنٹس ڈیپارٹمنٹ کے 279ویں سالانہ دن پر کئی نئی پہل کی شروعات کریں گے راج ناتھ
-
جموں و کشمیر1 week agoجاوید ڈار نے اسمبلی میں سی اے جی کی رپورٹیں پیش کیں
-
ہندوستان1 week agoشیئر بازاروں میں گراوٹ جاری، سینسیکس 49 پوائنٹس پھسلا
-
دنیا7 days agoامریکہ، ایران جنگ بندی معاہدے کی راہ میں بداعتمادی اور گہرے اختلافات حائل
-
ہندوستان1 week agoکھرگے- راہل نے گاندھی اور شاستری کو یومِ پیدائش پر خراجِ عقیدت پیش کیا
