جموں و کشمیر
نمدہ سازی: وادیٔ کشمیر کا قدیم فن ہنوز باقی، مگر کاریگر مایوس
سری نگر، وادیٔ کشمیر اپنے قدرتی حسن و جمال اور ثقافتی ورثے کے ساتھ ساتھ اپنی روایتی دستکاریوں کے لیے بھی دنیا کے گوشہ و کنار میں مشہور ہے اورقالین بافی، پشمینہ اور لکڑی پر نقش و نگار کے ساتھ ساتھ “نمدہ سازی” بھی کشمیری تہذیب کا ایک اہم حصہ رہی ہے۔
نمدہ دراصل اون سے تیار ہونے والا ایک موٹا کپڑا ہے جو فرش پر بچھانے یا بستر کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔ کبھی یہ دستکاری گھروں کی زینت ہوا کرتی تھی اور بڑی منڈیوں میں اس کی مانگ رہتی تھی، مگر آج یہ فن زوال کے دہانے پر ہے۔
نمدہ سازی ایک محنت طلب اور صبر آزما عمل ہے۔ سب سے پہلے بھیڑ کی اون کو صاف کرکے مخصوص طریقے سے دھویا جاتا ہے۔ پھر اسے پانی اور صابن کے ساتھ بار بار دبایا اور رول کیا جاتا ہے تاکہ وہ سخت ہوکر ایک ٹھوس کپڑے کی شکل اختیار کرے۔ جب نمدہ تیار ہوجاتا ہے تو اس پر ہاتھ سے رنگین کشیدہ کاری کی جاتی ہے۔ یہی کاریگری اسے منفرد اور دلکش بناتی ہے۔ لیکن اتنے طویل اور مشکل عمل کے باوجود کاریگروں کو اس کا معاوضہ بہت کم ملتا ہے۔
سری نگر کے نوہٹہ علاقے کے کاریگر بشیر احمد نے یو این آئی کو بتایا کہ وہ گزشتہ پچاس برسوں سے اس پیشے سے وابستہ ہیں۔
انہوں نے اپنے حالاتِ زندگی بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں: ‘ہم ایک نمدہ بنانے کے لیے دن رات محنت کرتے ہیں۔ پہلے ہمارے نمدے دہلی، ممبئی اور خلیجی ممالک تک جاتے تھے۔
خریدار قدر کی نگاہ سے دیکھتے تھے۔ مگر آج کے حالات میں ہماری محنت کی صحیح قیمت نہیں ملتی۔ کئی بار تو اتنا نقصان ہوتا ہے کہ ہم سوچتے ہیں کہ یہ ہنر چھوڑ ہی دیں’۔
انہوں نے مزید کہا کہ ’سرکار نے بارہا وعدے کیے کہ نمدہ سازی سمیت روایتی فنون کو سہارا دیا جائے گا، مگر عملی اقدامات نہ ہونے کے برابر ہیں۔ ہمارے بچے اب اس پیشے کی طرف نہیں آتے کیونکہ اس سے گھر کا خرچ نہیں چلتا۔ اگر یہ سلسلہ اسی طرح چلتا رہا تو چند برسوں میں نمدہ سازی کا نام بھی لوگ بھول جائیں گے۔‘
بشیر احمد بٹ ماضی کو یاد کرتے ہوئے کہتے ہیں: ‘پائین شہر کے ہر محلے میں دس سے پندرہ نمدہ ساز ہوا کرتے تھے۔ ہر گھر میں یہ ہنر زندہ تھا، مگر آج پورے شہر میں نمدہ بنانے والے صرف چار کاریگر رہ گئے ہیں۔ اس سے بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ یہ کاروبار کس حد تک سکڑ گیا ہے اور ہمارا فن کہاں جا پہنچا ہے’۔
پرکھوں سے نمدہ سازی کے کاروبار سے وابستہ تاجر ارشید احمد نے یو این آئی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ یہ قدیم ہنر وادی میں آج بھی زندہ ہے، تاہم اس کے دائرے سکڑتے جا رہے ہیں۔
انہوں نے بتایا: ‘نمدہ سازی کا کام آج بھی وادی میں جاری ہے لیکن یہ مکمل طور پر ہاتھ سے تیار کیا جاتا ہے، جس کے باعث وقت اور محنت دونوں درکار ہوتے ہیں۔ کاریگروں کی تعداد دن بہ دن کم ہو رہی ہے اور اس وجہ سے نمدے کی دستیابی بھی محدود ہوگئی ہے’۔
انہوں نے کہا: ‘ مارکیٹ میں طلب کے باوجود ہنر مندوں کی کمی نے اس روایتی دستکاری کو متاثر کیا ہے’۔
آج کے دور میں مشینوں سے بنے قالین، کمبل اور دیگر اشیاء نے نمدہ سازی کو تقریباً بازار سے باہر کردیا ہے۔ عالمی منڈی میں مصنوعی مصنوعات کی دستیابی نے روایتی دستکاریوں کی مانگ کم کردی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کاریگر اپنی محنت کا جائز معاوضہ حاصل نہیں کر پاتے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ نمدہ سازی کو بچانے کے لیے اسے جدید مارکیٹ سے جوڑنے اور ای-کامرس کے پلیٹ فارمز پر لانے کی ضرورت ہے۔ دنیا بھر میں دستکاریوں کی مانگ موجود ہے، بس انہیں صحیح پلیٹ فارمز تک پہنچانے کی حکمت عملی اپنانا ہوگی۔
نمدہ سازی صرف ایک ذریعۂ روزگار نہیں بلکہ کشمیر کی ثقافت اور شناخت کا حصہ ہے۔ یونیسکو کے مطابق، کشمیری دستکاریاں عالمی ورثے کی حیثیت رکھتی ہیں۔ اگر نمدہ سازی ختم ہوگئی تو وادی ایک اور قیمتی ورثے سے محروم ہو جائے گی۔
ثقافتی ماہرین کا کہنا ہے کہ نمدہ سازی کو اسکولوں اور تربیتی مراکز میں پڑھایا جانا چاہیے تاکہ نئی نسل اس ہنر کی طرف راغب ہو۔ اس کے ساتھ ساتھ ملکی اور غیر ملکی سیاحوں کے سامنے نمدہ سازی کی نمائش کرکے اسے ایک “کلچرل پروڈکٹ” کے طور پر متعارف کرایا جا سکتا ہے۔
وادی کے کئی لوگ اس بات پر زور دیتے ہیں کہ مقامی عوام کو بھی اس ہنر کی اشیاء خریدنے اور استعمال کرنے کی ترغیب دی جائے۔ اگر وادی کے باشندے خود نمدہ خریدنے لگیں تو کاریگروں کو سہارا مل سکتا ہے۔
اس ہنر سے وابستہ لوگوں کا کہنا ہے کہ اگرچہ صورتحال مایوس کن ہے مگر کئی کاریگر اب بھی پرامید ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر حکومت، سماج اور نجی ادارے مل کر منصوبہ بندی کریں تو نمدہ سازی دوبارہ اپنے سنہرے دور کی طرف لوٹ سکتی ہے۔ بین الاقوامی سطح پر کشمیری مصنوعات کی پہچان اب بھی موجود ہے، بس ضرورت اس بات کی ہے کہ اس فن کو جدید تقاضوں کے مطابق ڈھالا جائے۔
یو این آئی ارشید بٹ، ایم افضل۔ایف اےسری نگر،23ستمبر(یو این آئی) وادیٔ کشمیر اپنے قدرتی حسن و جمال اور ثقافتی ورثے کے ساتھ ساتھ اپنی روایتی دستکاریوں کے لیے بھی دنیا کے گوشہ و کنار میں مشہور ہے اورقالین بافی، پشمینہ اور لکڑی پر نقش و نگار کے ساتھ ساتھ “نمدہ سازی” بھی کشمیری تہذیب کا ایک اہم حصہ رہی ہے۔
نمدہ دراصل اون سے تیار ہونے والا ایک موٹا کپڑا ہے جو فرش پر بچھانے یا بستر کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔ کبھی یہ دستکاری گھروں کی زینت ہوا کرتی تھی اور بڑی منڈیوں میں اس کی مانگ رہتی تھی، مگر آج یہ فن زوال کے دہانے پر ہے۔
نمدہ سازی ایک محنت طلب اور صبر آزما عمل ہے۔ سب سے پہلے بھیڑ کی اون کو صاف کرکے مخصوص طریقے سے دھویا جاتا ہے۔ پھر اسے پانی اور صابن کے ساتھ بار بار دبایا اور رول کیا جاتا ہے تاکہ وہ سخت ہوکر ایک ٹھوس کپڑے کی شکل اختیار کرے۔ جب نمدہ تیار ہوجاتا ہے تو اس پر ہاتھ سے رنگین کشیدہ کاری کی جاتی ہے۔ یہی کاریگری اسے منفرد اور دلکش بناتی ہے۔ لیکن اتنے طویل اور مشکل عمل کے باوجود کاریگروں کو اس کا معاوضہ بہت کم ملتا ہے۔
سری نگر کے نوہٹہ علاقے کے کاریگر بشیر احمد نے یو این آئی کو بتایا کہ وہ گزشتہ پچاس برسوں سے اس پیشے سے وابستہ ہیں۔
انہوں نے اپنے حالاتِ زندگی بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں: ‘ہم ایک نمدہ بنانے کے لیے دن رات محنت کرتے ہیں۔ پہلے ہمارے نمدے دہلی، ممبئی اور خلیجی ممالک تک جاتے تھے۔
خریدار قدر کی نگاہ سے دیکھتے تھے۔ مگر آج کے حالات میں ہماری محنت کی صحیح قیمت نہیں ملتی۔ کئی بار تو اتنا نقصان ہوتا ہے کہ ہم سوچتے ہیں کہ یہ ہنر چھوڑ ہی دیں’۔
انہوں نے مزید کہا کہ ’سرکار نے بارہا وعدے کیے کہ نمدہ سازی سمیت روایتی فنون کو سہارا دیا جائے گا، مگر عملی اقدامات نہ ہونے کے برابر ہیں۔ ہمارے بچے اب اس پیشے کی طرف نہیں آتے کیونکہ اس سے گھر کا خرچ نہیں چلتا۔ اگر یہ سلسلہ اسی طرح چلتا رہا تو چند برسوں میں نمدہ سازی کا نام بھی لوگ بھول جائیں گے۔‘
بشیر احمد بٹ ماضی کو یاد کرتے ہوئے کہتے ہیں: ‘پائین شہر کے ہر محلے میں دس سے پندرہ نمدہ ساز ہوا کرتے تھے۔ ہر گھر میں یہ ہنر زندہ تھا، مگر آج پورے شہر میں نمدہ بنانے والے صرف چار کاریگر رہ گئے ہیں۔ اس سے بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ یہ کاروبار کس حد تک سکڑ گیا ہے اور ہمارا فن کہاں جا پہنچا ہے’۔
پرکھوں سے نمدہ سازی کے کاروبار سے وابستہ تاجر ارشید احمد نے یو این آئی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ یہ قدیم ہنر وادی میں آج بھی زندہ ہے، تاہم اس کے دائرے سکڑتے جا رہے ہیں۔
انہوں نے بتایا: ‘نمدہ سازی کا کام آج بھی وادی میں جاری ہے لیکن یہ مکمل طور پر ہاتھ سے تیار کیا جاتا ہے، جس کے باعث وقت اور محنت دونوں درکار ہوتے ہیں۔ کاریگروں کی تعداد دن بہ دن کم ہو رہی ہے اور اس وجہ سے نمدے کی دستیابی بھی محدود ہوگئی ہے’۔
انہوں نے کہا: ‘ مارکیٹ میں طلب کے باوجود ہنر مندوں کی کمی نے اس روایتی دستکاری کو متاثر کیا ہے’۔
آج کے دور میں مشینوں سے بنے قالین، کمبل اور دیگر اشیاء نے نمدہ سازی کو تقریباً بازار سے باہر کردیا ہے۔ عالمی منڈی میں مصنوعی مصنوعات کی دستیابی نے روایتی دستکاریوں کی مانگ کم کردی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کاریگر اپنی محنت کا جائز معاوضہ حاصل نہیں کر پاتے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ نمدہ سازی کو بچانے کے لیے اسے جدید مارکیٹ سے جوڑنے اور ای-
کامرس کے پلیٹ فارمز پر لانے کی ضرورت ہے۔ دنیا بھر میں دستکاریوں کی مانگ موجود ہے، بس انہیں صحیح پلیٹ فارمز تک پہنچانے کی حکمت عملی اپنانا ہوگی۔
نمدہ سازی صرف ایک ذریعۂ روزگار نہیں بلکہ کشمیر کی ثقافت اور شناخت کا حصہ ہے۔
یونیسکو کے مطابق، کشمیری دستکاریاں عالمی ورثے کی حیثیت رکھتی ہیں۔ اگر نمدہ سازی ختم ہوگئی تو وادی ایک اور قیمتی ورثے سے محروم ہو جائے گی۔
ثقافتی ماہرین کا کہنا ہے کہ نمدہ سازی کو اسکولوں اور تربیتی مراکز میں پڑھایا جانا چاہیے تاکہ نئی نسل اس ہنر کی طرف راغب ہو۔ اس کے ساتھ ساتھ ملکی اور غیر ملکی سیاحوں کے سامنے نمدہ سازی کی نمائش کرکے اسے ایک “کلچرل پروڈکٹ” کے طور پر متعارف کرایا جا سکتا ہے۔
وادی کے کئی لوگ اس بات پر زور دیتے ہیں کہ مقامی عوام کو بھی اس ہنر کی اشیاء خریدنے اور استعمال کرنے کی ترغیب دی جائے۔ اگر وادی کے باشندے خود نمدہ خریدنے لگیں تو کاریگروں کو سہارا مل سکتا ہے۔
اس ہنر سے وابستہ لوگوں کا کہنا ہے کہ اگرچہ صورتحال مایوس کن ہے مگر کئی کاریگر اب بھی پرامید ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر حکومت، سماج اور نجی ادارے مل کر منصوبہ بندی کریں تو نمدہ سازی دوبارہ اپنے سنہرے دور کی طرف لوٹ سکتی ہے۔ بین الاقوامی سطح پر کشمیری مصنوعات کی پہچان اب بھی موجود ہے، بس ضرورت اس بات کی ہے کہ اس فن کو جدید تقاضوں کے مطابق ڈھالا جائے۔
یو این آئی ارشید بٹ، ایم افضل۔ایف اے
جموں و کشمیر
مشتبہ افراد اور دہشت گردانہ سرگرمیوں کی فوری اطلاع دیں: جموں و کشمیر پولیس کی عوام سے اپیل
جموں، جموں و کشمیر پولیس نے پونچھ ضلع کے بفلیاز میں پولیس-عوام شراکت داری گروپ (پی سی پی جی) کے اجلاس کے دوران شہریوں سے اپیل کی کہ وہ کسی بھی مشتبہ شخص یا دہشت گردانہ سرگرمی کے بارے میں فوری طور پر پولیس کو اطلاع دیں۔
یہ اجلاس ایڈیشنل ایس پی پونچھ ڈاکٹر اجے شرما کی صدارت میں منعقد ہوا، جس میں دیگر پولیس افسران بھی موجود تھے۔
اجلاس میں عوامی نمائندوں، سماجی کارکنوں، سابق فوجیوں، مذہبی نمائندوں اور مقامی باشندوں نے شرکت کی۔ اس کا مقصد پولیس اور عوام کے درمیان تال میل کو مضبوط بنانا اور منشیات، دہشت گردی کے خلاف کارروائی، خواتین و بچوں کی حفاظت، سائبر جرائم اور عوامی مسائل سے متعلق امور پر تبادلۂ خیال کرنا تھا۔
اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے ایڈیشنل ایس پی پونچھ ڈاکٹر اجے شرما نے عوام کی فعال شرکت کو سراہا اور کہا کہ امن و سلامتی برقرار رکھنے کے لیے شہریوں کی جانب سے بروقت اور قابل اعتماد معلومات فراہم کرنا انتہائی اہم ہے۔
منشیات کی لعنت کے حوالے سے انہوں نے زور دیا کہ اس کاروبار میں ملوث اصل سپلائرز اور منشیات فروخت کرنے والوں کی شناخت کرکے انہیں گرفتار کیا جائے۔ اس کے ساتھ ہی نشے کی لت سے چھٹکارا دلانے، بحالی اور کونسلنگ کے اقدامات کو بھی فروغ دیا جائے، تاکہ اصلاح کے خواہش مند افراد کو مدد فراہم کی جاسکے۔
دہشت گردی کے خلاف کارروائی کے موضوع پر ایڈیشنل ایس پی نے خبردار کیا کہ ملک دشمن عناصر نوجوانوں کو گمراہ کرنے کے لیے منشیات، ہتھیاروں، دہشت گردی، مذہب اور دیگر جذباتی معاملات کا استحصال کرسکتے ہیں۔
انہوں نے شہریوں سے اپیل کی کہ وہ کسی بھی مشتبہ شخص، نقل و حرکت، آمد و رفت یا دہشت گردانہ سرگرمی کی فوری اطلاع پولیس کو دیں۔ انہوں نے واضح طور پر کہا کہ دہشت گردوں کو پناہ، حمایت یا کسی بھی قسم کی مدد فراہم نہ کی جائے۔
انہوں نے ماضی میں دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں، بشمول آپریشن سرپ وناش، میں مقامی باشندوں کے اہم کردار کو بھی تسلیم کیا۔
ایڈیشنل سپرنٹنڈنٹ آف پولیس نے پہاڑی اور دشوار گزار علاقوں میں درپیش سلامتی کے چیلنجوں کے پیش نظر نگرانی مزید سخت کرنے، مؤثر معلومات جمع کرنے اور انہیں بروقت متعلقہ حکام تک پہنچانے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔
انہوں نے عوام سے غیر قانونی کان کنی، درختوں کی غیر مجاز کٹائی، تجاوزات اور جنگلاتی یا پہاڑی زمین کو غیر قانونی طور پر صاف کرنے کے واقعات کی اطلاع دینے کی اپیل کی۔
مویشیوں کی اسمگلنگ پر گہری تشویش ظاہر کرتے ہوئے انہوں نے متعلقہ افسران کو ہدایت دی کہ اس معاملے میں کسی قسم کی نرمی نہ برتی جائے اور خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی یقینی بنائی جائے۔
مقامی تنازعات کے حوالے سے انہوں نے باشندوں کو مشورہ دیا کہ وہ ایف آئی آر اور جوابی ایف آئی آر درج کرانے کے ذریعے معمولی معاملات کو بلاوجہ طول دینے سے گریز کریں اور جہاں ممکن ہو، چھوٹے تنازعات کو پُرامن طریقے سے حل کریں۔
یواین آئی۔ ظ ا
جموں و کشمیر
جموں و کشمیر میں سی جی ڈی پالیسی نافذ، تمام 20 اضلاع میں گیس کنکٹیویٹی اور سنگل ونڈو منظوری
سری نگر، جموں و کشمیر حکومت نے جموں و کشمیر سٹی گیس ڈسٹری بیوشن (سی جی ڈی) پالیسی 2026 کو نافذ کردیا ہے، جس کے تحت تمام 20 اضلاع میں مرحلہ وار سی جی ڈی نیٹ ورک کی توسیع، مقررہ مدت میں سنگل ونڈو منظوری اور بڑے صنعتی علاقوں کو ترجیحی بنیاد پر گیس کنکٹیویٹی فراہم کرنے کا انتظام کیا گیا ہے۔
وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے جمعرات کو پالیسی کے نوٹیفکیشن کو جموں و کشمیر میں صاف ایندھن تک رسائی بڑھانے، صنعتی مسابقت کو مضبوط بنانے اور توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو جدید بنانے کی سمت ایک اہم قدم قرار دیا۔
ایک سرکاری ترجمان نے بتایا کہ وزرا کی کونسل کی منظوری کے بعد جاری کی گئی اس پالیسی میں گھریلو صارفین، تجارتی اداروں، صنعتوں اور ٹرانسپورٹ شعبے میں پائپڈ نیچرل گیس (پی این جی) اور کمپریسڈ نیچرل گیس (سی این جی) کے استعمال کو فروغ دینے کے لیے واضح، سرمایہ کار دوست اور مقررہ مدت پر مبنی فریم ورک قائم کیا گیا ہے۔
پالیسی کے تحت جموں و کشمیر کے تمام 20 اضلاع میں سٹی گیس ڈسٹری بیوشن نیٹ ورک کو مرحلہ وار توسیع دی جائے گی، جس سے صارفین تک زیادہ صاف اور قابل اعتماد قدرتی گیس پہنچے گی اور روایتی ایندھن سے منتقلی میں مدد ملے گی۔
پالیسی کا ایک اہم مقصد سنگل ونڈو اور مقررہ مدت میں منظوری کے نظام کے ذریعے منصوبوں کے نفاذ کو آسان اور تیز بنانا، سی این جی اسٹیشن قائم کرنے کے طریقہ کار کو ہموار کرنا اور رائٹ آف وے کے معیارات کو یکساں بنانا ہے۔ اس کے علاوہ بڑے صنعتی علاقوں، جن میں کٹھوعہ، سانبہ اور پلوامہ کے صنعتی علاقے شامل ہیں، کو ترجیحی بنیاد پر گیس کنکٹیویٹی فراہم کی جائے گی، تاکہ صنعتی ترقی کو فروغ ملے اور قابل اعتماد توانائی تک رسائی بہتر ہو۔
پی این جی اور سی این جی کے بنیادی ڈھانچے کی توسیع سے محفوظ، صاف اور زیادہ سستی توانائی کے متبادل دستیاب ہونے، ایندھن کی لاگت کم کرنے، صنعتی کارکردگی اور مسابقت بہتر بنانے اور ابھرتے ہوئے صاف توانائی کے شعبے میں سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی کی توقع ہے۔
پالیسی میں مقامی روزگار، اپرنٹس شپ اور ہنرمندی کی ترقی کو بھی فروغ دینے کا انتظام کیا گیا ہے، جس سے گیس ڈسٹری بیوشن کے بنیادی ڈھانچے اور متعلقہ خدمات کی تعمیر، آپریشن اور دیکھ بھال کے شعبوں میں روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔
وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے وزیر برائے خوراک، شہری رسد و امور صارفین ستیش شرما اور متعلقہ محکمہ کو پالیسی کے نوٹیفکیشن پر مبارکباد دیتے ہوئے اسے جموں و کشمیر میں صاف ستھری ترقی، پائیدار ترقی اور جدید توانائی کے نظام کی جانب ایک اہم قدم قرار دیا۔
وزیر اعلیٰ نے کہاکہ ”سٹی گیس ڈسٹری بیوشن پالیسی سے صاف اور قابل اعتماد توانائی تک رسائی کو وسعت دینے میں مدد ملے گی، جبکہ صنعت اور سرمایہ کاری کے لیے سازگار ماحول بھی پیدا ہوگا۔ یہ جموں و کشمیر کے لیے زیادہ صاف، مؤثر اور پائیدار توانائی کے مستقبل کی تعمیر کی جانب ایک اہم قدم ہے۔”
یواین آئی۔ ط ا
جموں و کشمیر
فاروق عبداللہ نے نانا پاٹیکر کو ‘بہت اچھا دوست’ اور ‘بہت اچھا انسان’ قرار دے کر یاد کیا
سری نگر، نیشنل کانفرنس کے صدر اور جموں و کشمیر کے سابق وزیر اعلیٰ فاروق عبداللہ نے جمعرات کو معروف اداکار نانا پاٹیکر کو اپنا ”بہت اچھا دوست” اور ”بہت اچھا انسان” قرار دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے اپنی زندگی غریبوں اور ضرورت مندوں کی مدد کے لیے وقف کردی تھی۔
75 سالہ نانا پاٹیکر جمعرات کی صبح گوا میں واقع اپنی رہائش گاہ پر دل کا دورہ پڑنے سے انتقال کرگئے۔
عبداللہ نے صحافیوں سے کہاکہ ”وہ میرے بہت اچھے دوست تھے اور سب سے بڑھ کر ایک بہت اچھے انسان تھے۔ انہوں نے اپنی پوری زندگی غریبوں اور ضرورت مندوں کی مدد کی۔” انہوں نے کہاکہ ”وہ قبائلی دیہات میں پسماندہ لوگوں کے درمیان رہتے تھے اور ضرورت مند افراد کے مسائل حل کرنے کے لیے کام کرتے تھے۔”
اداکار کے ساتھ اپنی وابستگی کو یاد کرتے ہوئے عبداللہ نے کہا کہ نانا پاٹیکر کئی مرتبہ جموں و کشمیر آئے تھے۔
انہوں نے کہاکہ ”وہ بار بار یہاں آتے تھے اور مجھ سے ملاقات کرتے تھے۔ ایک مرتبہ وہ میری ایک شادی میں بھی آئے تھے، جہاں مجھے ان کے ساتھ رقص کرنے کا موقع ملا۔”
سابق وزیر اعلیٰ نے کہا کہ اداکار میں ”نرم دلی” کی ایک نایاب خوبی تھی اور انہوں نے کبھی مذہبی معاملات کو لوگوں کی مدد کی راہ میں حائل نہیں ہونے دیا۔
انہوں نے کہاکہ ”وہ کبھی مذہب نہیں دیکھتے تھے، بلکہ کسی شخص کے درد کو دیکھتے تھے اور اسے زیادہ سے زیادہ کم کرنے کی کوشش کرتے تھے۔”
عبداللہ نے کہا کہ معاشرے کے لیے نانا پاٹیکر کی خدمات کو فراموش نہیں کیا جائے گا۔
انہوں نے کہاکہ ”اللہ نے انہیں بہت نوازا تھا۔ انہوں نے لوگوں کی مدد کے لیے جو کچھ کرسکتے تھے، کیا اور ان کی خدمات کو کوئی فراموش نہیں کرسکتا۔ ان کی یاد ہمیشہ ہمارے ساتھ رہے گی۔”
اداکار کے انتقال پر اظہارِ افسوس کرتے ہوئے عبداللہ نے کہا کہ جمعرات کی صبح یہ خبر سن کر انہیں بہت دکھ ہوا اور انہوں نے آنجہانی کی روح کے لیے دعا کی۔
نانا پاٹیکر کی اداکاری کی صلاحیتوں کی تعریف کرتے ہوئے عبداللہ نے انہیں ایک شاندار اداکار قرار دیا اور کہا کہ ان کی آخری فلم، جس کی شوٹنگ انہوں نے حال ہی میں گوا میں مکمل کی تھی، ان کی صلاحیتوں کی بھی عکاسی کرے گی۔
یواین آئی۔ ط ا
-
جموں و کشمیر1 week agoسری نگر پولیس نے بین ریاستی منشیات نیٹ ورک کا پردہ فاش کیا، آٹھ افراد گرفتار
-
دنیا1 week agoقطری ثالثی کی امریکہ، ایران کے درمیان مذاکرات میں معمولی پیش رفت
-
دنیا1 week agoروس پر براہِ راست حملے کی صورت میں ہر قسم کے ہتھیار استعمال کرنےکا معاملہ ایجنڈے پر ہو گا :پوتن
-
ہندوستان1 week agoوندے بھارت نے چِناب پل اور کیبل اسٹڈ انجی پل کو 100 کلومیٹر کی رفتار سے عبور کیا
-
جموں و کشمیر7 days agoگاندھی کے عدم تشدد اور سودیشی کے نظریات آج بھی اہم ہیں: جموں کے ڈویژنل کمشنر
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر میراتھن اتحاد اور نوجوانوں کے متبادل خواہشات کا پیغام دیتی ہے: ایل جی سنہا
-
ہندوستان1 week agoشیئر بازاروں میں گراوٹ جاری، سینسیکس 49 پوائنٹس پھسلا
-
دنیا6 days agoخمیس مشیط کی جانب داغے گئے تین حوثی بیلسٹک میزائل تباہ
-
ہندوستان1 week agoڈیفنس اکاؤنٹس ڈیپارٹمنٹ کے 279ویں سالانہ دن پر کئی نئی پہل کی شروعات کریں گے راج ناتھ
-
جموں و کشمیر1 week agoجاوید ڈار نے اسمبلی میں سی اے جی کی رپورٹیں پیش کیں
-
دنیا7 days agoامریکہ، ایران جنگ بندی معاہدے کی راہ میں بداعتمادی اور گہرے اختلافات حائل
-
ہندوستان1 week agoکھرگے- راہل نے گاندھی اور شاستری کو یومِ پیدائش پر خراجِ عقیدت پیش کیا
