تازہ ترین
نوجوانوں کی بے تحاشا گرفتاریوں پر جسٹس (ر) حسنین مسعودی سیخ پا
خبراردو: نیشنل کانفرنس لیڈر اور منتخب رکن پارلیمان برائے جنوبی کشمیر جسٹس (ر) حسنین مسعودی نے جنوبی کشمیر میں بڑے پیمانے پر نوجوانوں کو گرفتار کرنے کی کارروائیوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے ان کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا ہے۔
نیشنل کانفرنس لیڈر اور منتخب رکن پارلیمان برائے جنوبی کشمیر جسٹس (ر) حسنین مسعودی نے جنوبی کشمیر نیں فورسز کے ہاتھوں نوجوانوں کی بڑے پیمانے پر پکڑ دھکڑ کا سلسلہ جاری رکھنے کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ڈاڈسرہ ترال میں گزشتہ دنوں انصار غزوةالہند کے مقامی جنگجو ذاکر موسیٰ کی ہلاکت کے بعد جنوبی کشمیر کے اننت ناگ، کولگام ، پلوامہ اور شوپیان میں پولیس و فورسز نے بڑے پیمانے پر نوجوانوں کو گرفتار کرنے کا سلسلہ شروع کردیا ہے۔
کھنہ بل میں پارٹی کارکنان کے ایک اجلاس سے خطاب کے دوران جسٹس (ر) حسنین مسعودی نے بتایا کہ موصولہ اطلاعات کے مطابق کوکرناگ، اننت ناگ، قاضی گنڈ، اونتی پورہ، پانپور، سیر ہمدان اور دیگر علاقوں میں پولیس و فورسز نے سینکڑوں نوجوانوں کو جن میں بیشترکم عمر ہیں ، کو گرفتار کرلیاہے۔ انہوں نے بتایا کہ گرفتار شدہ نوجوانوں اور کم عمر لڑکوں کو بے بنیاد الزامات اور شک کی بنیاد پر پولیس نے مختلف تھانوں میں مقید رکھا ہے۔ جسٹس مسعودی کے بقول روزانہ سینکڑوں کی تعداد میں والدین پولیس تھانوں کے باہر اس انتظار میں بیٹھے ہوتے ہیں کہ کب ان کے بچوں کو رہا کیا جائیگا۔
انہوں نے انتظامیہ سے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ نوجوانوں کے خلاف مقدمات دائر کرنے کے بجائے انہیں فوری طور پر آزاد کیا جائے کیوں کہ پولیس نے محض شک کی بنیاد پر انہیں گرفتار کرلیا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ پولیس نے ایسے نوجوانوں کو محض کسی مذہبی تقریب میں شرکت کرنے کی پاداش میں گرفتار کرکے ان کے خلاف مقدمات درج کئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ یہ بڑی ناانصافی ہوگی کہ ایسے نوجوانوں کے مستقبل پر کاری ضرب لگائی جائے اور انہیں غیر یقینی کے دلدل میں دھکیلا جائے۔انہوں نے انتظامیہ کو یاددلاتے ہوئے کہا کہ ظلم و جبر سے یہاں کی صورتحال بہتر ہونے کے بجائے مزید ابتر ہوجائےگی۔ جسٹس (ر) مسعودی کے مطابق ماضی قریب میں بعض حالات میں ایسے نوجوانوں نے جنگجوئیت کی راہ اختیار کی۔ انہوں نے انتظامیہ اور پولیس کو ماضی کے حالات سے سبق حاصل کرنے کا مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ گرفتار شدہ نوجوانوں اور کم عمر لڑکوں کو جلد رہا کیا جائے تاکہ ان کے مستقبل پر کوئی آنچ نہ آنے پائے۔
ہندوستان
فارم-6 میں ہوئی غیر قانونی تبدیلی، گیانیش کمار نے اپنے عہدے کا غلط استعمال کیا: راہل
نئی دہلی، لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی نے آن لائن فارم-6 میں غیر قانونی اور یکطرفہ تبدیلیاں کیے جانے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار نے عہدے کا غلط استعمال کر کے بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی مدد کی ہے۔
مسٹر گاندھی نے پیر کے روز سوشل میڈیا ‘ایکس’ پر کہا، “اب یہ واضح ہو گیا ہے کہ مسٹر گیانیش کمار نے فارم-6 میں غیر قانونی اور یکطرفہ تبدیلی کی ہے اور یہ تبدیلی واضح طور پر بی جے پی کی مدد کے لیے کی گئی۔ یہ ان کے عہدے کے غلط استعمال کا ایک اور ثبوت ہے۔ اس معاملے کی سازش میں شامل تمام لوگوں کو ‘ووٹ چوری’ کے لیے جوابدہ ٹھہرایا جائے گا۔”
انہوں نے کہا کہ آن لائن فارم-6 میں غیر قانونی تبدیلی کی بات الیکشن کمیشن کے اپنے کمشنروں نے بھی درج کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ بھی سامنے آنا چاہیے کہ الیکشن کمیشن میں کس کے حکم پر ٹاٹا کنسلٹنسی سروسز (ٹی سی ایس) سے یہ تبدیلی کروائی گئی۔ مسٹر گاندھی نے کہا کہ گیانیش کمار اور اس معاملے میں شامل دیگر تمام لوگوں کو جمہوریت پر کیے گئے اس مبینہ مجرمانہ حملے کے لیے جوابدہ ٹھہرایا جائے گا۔
مسٹر گاندھی نے اپنے پوسٹ میں 26 ستمبر کو الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری کردہ وضاحت بھی شیئر کی ہے جس میں کہا گیا تھا کہ ایس آئی آر ( کی مدت کے لیے فارم-6 کے ساتھ منسلک ڈیکلریشن کو سپریم کورٹ نے برقرار رکھا ہے۔ کمیشن نے کہا تھا کہ غیر ایس آئی آر مدت میں ضوابط کے مطابق لاگو فارم کا استعمال کیا جائے گا۔
قابلِ ذکر ہے کہ سپریم کورٹ نے پیر کے روز چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کو معطل کرنے کا مطالبہ کرنے والی درخواست پر کوئی یکطرفہ عبوری حکم جاری کرنے سے انکار کر دیا۔ عدالت نے کہا کہ وہ ووٹر لسٹ کے ایس آئی آر سے جڑے اہم فیصلے، چیف الیکشن کمشنر کی جانب سے یکطرفہ طور پر لیے جانے کے الزامات پر پہلے الیکشن کمیشن اور دیگر مدعا علیہان کا موقف سنے گی۔
یواین آئی۔الف الف
جموں و کشمیر
جموں بار ایسوسی ایشن نے موٹر وہیکل کے نئے ای-چالان نظام پر تشویش ظاہر کی
جموں، جموں و کشمیر ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن، جموں (رجسٹرڈ) نے پیر کو موٹر وہیکل قانون کے تحت الیکٹرانک ٹریفک چالان نظام سے متعلق حالیہ ترامیم اور پالیسی تبدیلیوں پر تشویش ظاہر کی۔
ایسوسی ایشن کے ارکان نے یہاں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مؤثر ٹریفک نظام، سڑکوں کی حفاظت اور ٹریفک قوانین کے ذمہ دارانہ نفاذ کی اہمیت کو تسلیم کیا اور اس بات پر تشویش ظاہر کی کہ نئے ای-چالان نظام کو جس طریقے سے نافذ کیا جا رہا ہے، اس کا عام شہریوں، گاڑی مالکان اور ڈرائیوروں پر ممکنہ اثر پڑ سکتا ہے۔
جے کے بی اے جے کے صدر کے نرمل کوتوال نے نائب صدر بلدیو سنگھ، جنرل سکریٹری پردیپ مجوترا، جوائنٹ سکریٹری انشو مہاجن اور خزانچی راہل اگروال کے ہمراہ کہا کہ ٹریفک قوانین کے نفاذ میں تکنیکی ترقی کے ساتھ شفافیت، جواب دہی، طریقہ کار میں انصاف اور شہریوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے مناسب انتظامات بھی ضروری ہیں۔
ایسوسی ایشن نے ای-چالان خودکار طور پر جاری کرنے اور ان کی وصولی سے پیدا ہونے والی عملی مشکلات کی جانب توجہ دلائی، خاص طور پر ان حالات میں جب کوئی شہری مبینہ خلاف ورزی، ڈرائیور کی شناخت، الیکٹرانک ریکارڈ کی درستگی یا چالان جاری کیے جانے کے حالات پر اعتراض کرے۔
انہوں نے مزید زور دیا کہ ٹیکنالوجی کے اعتبار سے کتنا ہی جدید نفاذ کا نظام کیوں نہ ہو، وہ قدرتی انصاف کے بنیادی اصولوں اور قانونی طریقہ کار سے الگ ہو کر کام نہیں کرسکتا۔
انہوں نے کہاکہ ’’شہریوں کو مبینہ خلاف ورزی کی بنیاد جاننے، غلط چالان پر اعتراض کرنے، مناسب اصلاح یا نظرثانی کی درخواست کرنے اور جہاں کوئی غلطی ہوئی ہو وہاں مؤثر تدارک حاصل کرنے کا بامعنی اور آسان موقع ملنا چاہیے۔‘‘
ایسوسی ایشن نے ان عوامی افراد کو پیش آنے والی مشکلات پر بھی تشویش ظاہر کی جو تکنیکی سہولیات سے پوری طرح لیس نہیں ہیں یا جنہیں الیکٹرانک چالان تک رسائی حاصل کرنے، اسے سمجھنے یا اس پر اعتراض کرنے میں دشواری کا سامنا ہوسکتا ہے۔
انہوں نے مزید زور دیا کہ ڈیجیٹل نظام انصاف اور عوامی خدمات تک رسائی کو آسان بنانے کا ذریعہ ہونا چاہیے، نہ کہ شہریوں کے لیے مزید رکاوٹیں پیدا کرنے کا۔
یو این آئی۔ این یو۔
جموں و کشمیر
جموں و کشمیر پولیس نے مبینہ طور پر غیر قانونی منشیات رکھنے پر بلیوار میں میڈیکل شاپ سیل کردی
جموں، جموں و کشمیر پولیس نے محکمہ ڈرگ کنٹرول کے تعاون سے کٹھوعہ ضلع کے بلیوار علاقے میں ایک میڈیکل شاپ کو مبینہ طور پر عادت بنانے والی منشیات کی کھیپ برآمد ہونے کے بعد سیل کردیا۔ حکام نے اتوار کو یہ اطلاع دی۔
کٹھوعہ ضلع کے بلیوار میں سب ڈسٹرکٹ اسپتال کے قریب غیر قانونی منشیات برآمد ہونے کے بعد پولیس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے دکان کو مبینہ طور پر ڈرگس اینڈ کاسمیٹکس ایکٹ کی خلاف ورزی کرتے ہوئے پایا۔
ایک سرکاری بیان کے مطابق پولیس کو بلیوار کے سب ڈسٹرکٹ اسپتال کے قریب غیر قانونی منشیات کی مشتبہ کھیپ موجود ہونے کی ٹیلی فون پر اطلاع ملی۔ اطلاع ملتے ہی پولیس کی ایک ٹیم نے ڈرگ انسپکٹر کے ساتھ کھیپ کو روکا اور اس کی جانچ کی۔
حکام نے بتایا کہ جانچ کے دوران ٹیم نے مہاجن میڈیکل ایجنسی سے پریگابلن 300 ملی گرام کے 320 کیپسول برآمد کیے۔
حکام کے مطابق برآمد کی گئی ادویات کے ساتھ متعلقہ بل یا واؤچر موجود نہیں تھے، جو قابل اطلاق ڈرگ کنٹرول ضوابط کی خلاف ورزی ہے۔
برآمدگی کے بعد لٹ لگانے والی منشیات کو غیر مجاز طور پر رکھنے اور فروخت کرنے کے الزام میں ڈرگس اینڈ کاسمیٹکس ایکٹ، 1940 کی متعلقہ دفعات کے تحت میڈیکل شاپ کو سیل کردیا گیا۔
یو این آئی۔ این یو۔
-
دنیا1 week agoایران کے پاس امریکہ کے ساتھ مذاکرات کی کوئی منصوبہ بندی نہیں :ایرانی میڈیا
-
دنیا6 days agoایران نے ثالثوں کے ساتھ مغربی ایشیا میں لڑائی ختم کرنے کے طریقوں پر تبادلہ خیال کیا: عراقچی
-
جموں و کشمیر1 week agoمحبوبہ مفتی کی 29 ستمبر کو دہلی میں احتجاج میں شرکت کی اپیل
-
ہندوستان1 week agoمودی-شاہ انتخابی میچ فکسنگ کے لیے گیانیش کمار کا استعمال کرتے ہیں: راہل
-
ہندوستان1 week agoاپوزیشن پر ای ڈی-سی بی آئی، عوام پر تھپڑ-لاٹھی-گولی: کھرگے
-
دنیا1 week agoٹرمپ نے ایرانی ہرمز امن معاہدے کو مسترد کردیا، تیل کے بھاو 105 ڈالر سے تجاوز کر گئے
-
دنیا1 week agoیوکرین میں روسی حملوں میں آٹھ افراد ہلاک، درجنوں زخمی
-
دنیا6 days agoامریکہ گرین لینڈ میں نایاب معدنیات کی کان کنی کر سکتا ہے: روبیو
-
دنیا1 week agoٹرمپ نے ایران تنازع ختم ہونے کے اشارے دیے، تاہم نئے حملوں کا امکان مسترد نہیں کیا
-
دنیا6 days agoعالمی قوانین کے زوال سے دنیا ’ہابسیائی‘ نظام کی طرف بڑھ سکتی ہے: جے شنکر
-
جموں و کشمیر1 week agoابھرتے ہوئے طبی اختراعی نظام میں شامل ہوں: ڈاکٹر جتیندر کی جموں و کشمیر سے اپیل
-
دنیا6 days agoغزہ میں اسرائیلی جنگ کے تین سال بعد تباہی کی ہولناک تصویر، سیٹلائٹ تصاویر سے تباہی کا پیمانہ نمایاں
