ہندوستان
نوجوانوں کے خوابوں کا ہندوستان پرامن،جامع ترقی و خوشحالی کا حامل ہوگا:پروفیسر ملند سدھاکر مراٹھے
نئی دہلی، ملک کی ہمہ جہت ترقی و خوش حالی اور نوجوانوں پرایک سے زائد موضوعکی تیاری پر زور دیتے ہوئے نیشنل بک ٹرسٹ انڈیا کے چیئرمین پروفیسر ملند سدھاکر مراٹھے نے کہا کہ نوجوانوں کے خوابوں کے ہندوستان میں بنیادی طور پرامن، جامع ترقی و خوشحالی شامل ہونا چاہئے۔یہ بات انہوں نے قومی اردو کونسل کے زیراہتمام ’نوجوانوں کے خوابوں کا ہندوستان:قومی تعلیمی پالیسی 2020 کے تناظر میں‘ کے عنوان سے منعقدہ ایک تقریب میں صدارتی خطاب کے دوران کہی۔
انہوں نے کہاکہ نوجوانوں کے خوابوں کا ہندوستان ہمہ جہت موضوعاتی مطالعہ اور ایسی ترقی ہونی چاہئے جو سماج کے تمام طبقات کو اپنے دائرے میں سمیٹ لے۔ انہوں نے کہا کہ آج کے مسابقتی دور میں نوجوانوں کو ایک دو موضوع میں مہارت کے ساتھ مختلف موضوعات کی معلومات حاصل کرنا ضروری ہے۔ پروفیسر ملند سدھاکر نے نوجوانوں کو ہمیشہ سیکھتے رہنے کی تلقین کرتے ہوئے کہا کہ وزیر اعظم نریندرمودی جی کی قیادت میں تشکیل پانے والی نئی تعلیمی پالیسی میں وکست بھارت کے تمام ممکنہ عوامل کو ملحوظ رکھا گیا ہے جنھیں روبہ عمل لانا خاص طور پر ہمارے تعلیمی اداروں، ان کے ذمے داران اور اساتذہ و طلبہ کی ذمے داری ہے۔ انہوں نے مزید کہاکہ ہندوستان کی ترقی کا خواب کالج میں دیکھنا ہوگا۔
قبل ازیں پروگرام کے آغاز میں کونسل کے ڈائرکٹر ڈاکٹر شمس اقبال نے استقبالیہ کلماتپیش اور مہمانوں کا خیر مقدم کیا۔انہوں نے کہا کہ نوجوان کسی بھی ملک کی تعمیر و ترقی میں بنیادی اہمیت رکھتے ہیں اور ہمارے وزیر اعظم نریندر مودی نے وکست بھارت کا جو وژن دیا ہے، اس میں بھی نوجوانوں کا خاص کردار ہوگا۔ انھوں نے کہا کہ کسی بھی ملک کی ہمہ جہت ترقی تبھی ممکن ہے جب وہ معاشی اعتبار سے خوشحال،سماجی سطح پر جامع اور ثقافتی اعتبار سے وائبرنٹ ہو۔ انھوں نے کہا کہ اس وقت پورے ملک میں کالج، یونیورسٹی اور اسکول کی سطح پر کروڑوں بچے اِنرولڈ ہیں، جن کی معیاری تعلیم و تربیت پر ہی ہمارے قومی مستقبل کا انحصارہے،اس لیے ہمیں نسلِ نو کی تعلیم و تربیت کے ساتھ ملک کی ترقی کے تئیں ان کے اندر غیر معمولی حساسیت و فعالیت پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔
مہمان خصوصی اور بین المذاہب ہم آہنگی فاؤنڈیشن کے سربراہ خواجہ افتخار احمد نے اپنے خطاب میں کہا کہ وکست بھارت کے خواب کو شرمندہئ تعبیر کرنے کے لیے ہمارے پاس بائیس سال کا عرصہ ہے، جس میں ہمیں ہر ممکن اجتماعی، انفرادی و ادارہ جاتی کوششیں کرنی ہوں گی۔ انھوں نے کہا کہ آج کا ہندوستان خوابوں سے بھرا ہوا ہے اور وہ خواب ہے ہر شعبے میں ہندوستان کو نمبر ایک بنانے کا، جس کے لیے ہمیں متحرک نوجوانوں کی خاص ضرورت ہے۔ انہوں نے کہاکہ اردو زبان کے حوالے سے کہا کہ اردو زبان میں اتنی طاقت ہے کہ نہ اسے کوئی مار سکتا ہے اور نہ ہی اسے ختم کرسکتا ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے کہاکہ ہندوستان کا ایک تہذیب کا نام ہے۔
مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی حیدرآباد کے سابق چانسلر فیروز بخت احمد نے اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا کہ نئی تعلیمی پالیسی کی خاص بات یہ ہے کہ اس میں نئی نسل کو معلومات سے لیس کرنے کے ساتھ نئے زمانے کے تقاضوں کے مطابق نئے ہنر سے آراستہ کرنے پر بھی خاص توجہ دی گئی ہے۔
ٹائمس آف انڈیا،ممبئی سے وابستہ مشہور انگریزی صحافی محمد وجیہ الدین نے کہا کہ نئی تعلیمی پالیسی نوجوانوں کو سپنے بننے کی تلقین،نئی تبدیلیوں، تکنیکی ترقیات سے ہم آہنگی، جدید اسکلز سیکھنے پر زور دیتی اور مستقبل کے چیلنجز کا سامنا کرنے کے لیے تیار کرتی ہے۔ انہوں نے نئی تعلیمی پالیسی میں اردو کے حوالے سے کہا کہ اردو کا علم ایک اضافی صلاحیت کا درجہ رکھتی ہے اور آپ کی اہمیت بڑھ جاتی ہے۔
ڈاکٹر سید مبین زہرا (یسو سی ایٹ پروفیسر، آتما رام سناتن دھرم کالج، دہلی یونیورسٹی)نے اپنی تقریر میں کہا کہ نئی تعلیمی پالیسی میں نوجوانوں کے خوابوں کی تکمیل کا وافر سامان مہیا کیا گیا ہے اور انھیں موجودہ زمانے میں ضروری علوم کے حصول کی نہ صرف ترغیب دی گئی ہے بلکہ اس کے مختلف آپشنز بھی دیے گئے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ نئی تعلیمی پالیسی وکست بھارت کے منصوبے کے حصول کا بھی راستہ بتاتی ہے، انڈسٹری اور اکیڈمک کے بیچ کے فاصلے کو دور کرتی ہے اور تعلیمی شعبے کو درپیش چیلنجز کو بھی بخوبی دور کرتی ہے۔
اس موقعے پر معزز مہمانوں کے ہاتھوں قومی تعلیمی پالیسی 2020 کو سامنے رکھتے ہوئے، نئی نسل کے لیے قومی اردو کونسل سے شائع کی گئیں چھ کتابوں کا اجرا بھی عمل میں آیا،جن میں باتونی روما (ڈاکٹر شہناز رحمن)، چائے بگان کا کنول (ڈاکٹر سلمان عبدالصمد)، رومی کے سہانے دن (ڈاکٹر توصیف بریلوی)، وطن کا سچا سپاہی مظہرالحق (نہاں رباب)، گول گھر کی سیر (نثار احمد) شامل تھیں۔اس پروگرام کی نظامت ڈاکٹر فیضان الحق نے کی اور نہاں رباب کے اظہارِ تشکر کے ساتھ اس کا اختتام عمل میں آیا۔ اس موقعے پر اہل علم و دانش اور طلبہ و طالبات کی خاصی تعداد موجود رہی۔
یو این آئی۔ ع ا۔
ہندوستان
جے رام رمیش کا مودی حکومت پر ٹرمپ کو خوش کرنے کا الزام، امریکی کارروائی کو پالیسی رعایتوں سے جوڑا
نئی دہلی، کانگریس کے جنرل سکریٹری انچارج مواصلات جے رام رمیش نے جمعرات کے روز نریندر مودی حکومت پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی خوشامد کی پالیسی اپنانے کا الزام لگایا اور دلیل دی کہ ہندوستانی آئی ٹی پیشہ ور افراد کو نشانہ بنانے والے واشنگٹن کے حالیہ اقدامات نے ہندوستان کے لیے باہمی فوائد حاصل کیے بغیر رعایتیں دینے کے خطرات کو بے نقاب کر دیا ہے۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ایکس’ پر ایک پوسٹ میں مسٹر رمیش نے کہا، “دھونس جمانے والوں کی خوشامد کبھی فائدہ نہیں پہنچاتی، یہ بات جمعرات کو ہندوستانی آئی ٹی پیشہ ور افراد کو براہ راست نشانہ بنانے والے امریکی حکومت کے اقدامات سے ایک بار پھر ثابت ہو گئی ہے۔”
انہوں نے ہندوستانی پیشہ ور افراد کے خلاف مبینہ کارروائی کو صدر ٹرمپ کو خوش کرنے کی حکومت کی کوششوں سے جوڑتے ہوئے سوال اٹھایا کہ کیا دوطرفہ بات چیت کے حوالے سے نئی دہلی کا طریقہ کار ہندوستانی معاشی اور تکنیکی مفادات کا مناسب تحفظ کر رہا ہے۔
مسٹر رمیش نے الزام لگایا، “یہ اقدام مودی حکومت کی جانب سے یو پی آئی ایم ڈی آر چارجز عائد کر کے صدر ٹرمپ کو خوش کرنے کے فوراً بعد سامنے آیا ہے، جس سے واضح طور پر اور براہ راست امریکی کمپنیوں کو فائدہ پہنچے گا۔” تاہم انہوں نے اپنی پوسٹ میں اس طریقہ کار کی وضاحت نہیں کی جس کے ذریعے مرچنٹ ڈسکاؤنٹ ریٹ میں تبدیلیوں سے امریکی کمپنیوں کو براہ راست فائدہ پہنچے گا۔
مسٹر رمیش نے یہ بھی دلیل دی کہ واشنگٹن کے اقدامات کا جواب دینے کے لیے حکومت کے پاس قانونی اور ریگولیٹری آپشنز موجود ہیں، جن میں ڈیجیٹل پرسنل ڈیٹا پروٹیکشن ایکٹ، 2023 اور اس کے نفاذ کے ضابطے شامل ہیں۔
انہوں نے الزام لگایا کہ وزیر اعظم مودی “گیانیش گیٹ” کے گرد گھومنے والے ملکی سیاسی تنازع کی وجہ سے کارروائی کرنے سے ہچکچا رہے ہیں۔ “گیانیش گیٹ” الیکشن کمیشن آف انڈیا کے کام کاج اور ووٹر فہرستوں کی جاری خصوصی تفصیلی نظر ثانی (ایس آئی آر) پر چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے خلاف اپوزیشن کی مہم ہے۔
کانگریس رہنما کی اس مداخلت نے سیاسی بحث میں دو انتہائی متنازعہ امور کو ایک ساتھ لا کھڑا کیا ہے: امریکی امیگریشن اور معاشی پالیسیوں کے تحت ہندوستانی ٹیکنالوجی پیشہ ور افراد کے ساتھ سلوک، اور وہ شرائط جن پر مودی حکومت ٹرمپ انتظامیہ کے ساتھ روابط بڑھا رہی ہے۔ ہندوستانی آئی ٹی سروسز کمپنیاں اور ٹیکنالوجی پیشہ ور افراد طویل عرصے سے امریکی مارکیٹ تک رسائی پر منحصر رہے ہیں، جس کی وجہ سے ویزا ضابطہ، کام کی اجازت کی ضروریات اور متعلقہ اخراجات میں تبدیلیاں اس شعبے کے لیے انتہائی اہمیت کی حامل ہیں۔
کسی بھی اضافی پابندی یا مالی بوجھ کے اثرات دونوں ممالک میں کام کرنے والے ہندوستانی کارکنوں، مالکان اور ٹیکنالوجی کے کاروبار پر پڑ سکتے ہیں۔
مرچنٹ ڈسکاؤنٹ ریٹس (ایم ڈی آر) کے حوالے سے مسٹر رمیش کا اشارہ ڈیجیٹل ادائیگیوں کی پروسیسنگ سے متعلق چارجز سے ہے۔ یہ سوال کہ ان چارجز کا بوجھ کون اٹھاتا ہے، ادائیگی کی پروسیسنگ کے اخراجات کیسے تقسیم ہوتے ہیں اور کون سے سروس فراہم کنندگان مستفید ہوتے ہیں، تاجروں، صارفین اور ڈیجیٹل ادائیگیوں کے نظام میں کام کرنے والی کمپنیوں کے لیے اہم نتائج رکھتا ہے۔
مسٹر رمیش نے الزام لگایا کہ حکومت کے موقف سے امریکی کمپنیوں کو فائدہ ہوگا، لیکن ان کی پوسٹ میں اس مخصوص دعوے کو ثابت کرنے کے لیے مزید تفصیلات فراہم نہیں کی گئی تھیں۔
2023 میں نافذ العمل ہونے والا ڈیجیٹل پرسنل ڈیٹا پروٹیکشن ایکٹ ڈیجیٹل ذاتی ڈیٹا کی پروسیسنگ کے لیے ہندوستان کے قانونی ڈھانچے کو قائم کرتا ہے۔ یہ ایسے ڈیٹا کو سنبھالنے والے اداروں کے لیے ذمہ داریاں متعین کرتا ہے اور افراد کے لیے تحفظات فراہم کرتا ہے۔
تاہم، یہ قانون کسی دوسرے ملک کے خلاف جوابی کارروائی کے لیے عام مقصد کا ذریعہ نہیں ہے۔ اس ایکٹ یا اس کے ضابطہ پر مبنی کسی بھی ردعمل کو حالات پر لاگو ہونے والے مخصوص احکام پر مبنی ہونا پڑے گا اور ہندوستان کی قانونی ذمہ داریوں کے مطابق رہنا ہوگا۔
“گیانیش گیٹ” کا حوالہ الیکشن کمیشن کے طرز عمل اور ووٹر فہرستوں کی نظر ثانی پر کانگریس اور بی جے پی کے درمیان وسیع تر تصادم کی بھی عکاسی کرتا ہے۔ اپوزیشن جماعتوں نے ایس آئی آر کے عمل پر سوال اٹھائے ہیں اور چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار سے جواب دہی کا مطالبہ کیا ہے، جبکہ پول پینل نے اپنے طریقوں کا دفاع کیا ہے۔
اس تنازع کو واشنگٹن کے ساتھ ہندوستان کے روابط سے جوڑ کر مسٹر رمیش نے مودی حکومت پر اپنے سیاسی حملے کو اندرونی انتخابی مسائل سے آگے بڑھا کر خارجہ تعلقات اور معاشی پالیسی سے نمٹنے تک وسعت دینے کی کوشش کی ہے۔
مسٹر رمیش نے ڈیٹا پروٹیکشن قانون کی ان مخصوص دفعات کی نشاندہی نہیں کی جن کا حکومت سہارا لے سکتی ہے، اور نہ ہی انہوں نے واشنگٹن کے اقدامات کے جواب میں ہندوستان کے لیے جوابی اقدامات کی وضاحت کی۔ اس کے باوجود ان کے تبصروں نے مودی حکومت پر اپنی وسیع تر تنقید کے حصے کے طور پر ہندوستانی ٹیکنالوجی پیشہ ور افراد کے تحفظ، امریکی مارکیٹ میں ہندوستانی کاروبار کے ساتھ سلوک اور ہندوستان اور امریکہ کے معاشی روابط کی شرائط کو شامل کرنے کے کانگریس کے ارادے کا اشارہ دیا ہے۔
یو این آئی ایف اے
ہندوستان
ہندستان اور لائبیریا نے سمندری جہازوں اور ملاحوں پر حملوں کی شدید مذمت کی، فوری طور پرروک لگانے کا مطالبہ کیا
نئی دہلی، ہندستان اور لائبیریا نے خلیجی خطے اور اس کے آس پاس کے علاقوں نیز بحیرہ اسود میں گزشتہ چند دنوں میں تجارتی جہازوں اور ملاحوں پر ہوئے حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے انہیں فوری طور پر روکے جانے کا مطالبہ کیا ہے۔
اقوام متحدہ میں ہندستان کے مستقل مشن نے جمعرات کی دیر رات سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ میں کہا کہ دونوں ملکوں نے ایک مشترکہ بیان میں کہا ہے کہ ان حملوں سے سمندری تجارت متاثر ہوتی ہے اور بے گناہ لوگوں کی جانیں جاتی ہیں۔ ایسے افعال کو کسی بھی طرح درست نہیں ٹھہرایا جا سکتا۔ دونوں ملکوں نے خطے میں امن و استحکام برقرار رکھنے کے لیے ان حملوں کو فوری طور پر روکنے کی اپیل کی۔
ہندستان اور لائبیریا نے کہا ہے کہ وہ ایسے حملوں کو دوبارہ ہونے سے روکنے کے لیے باہمی تعاون بڑھانے اور ملاحوں کے حقوق کے تحفظ میں ایک دوسرے کی مدد کے لیے تیار ہیں۔
ہندستان اور لائبیریا نے حملوں میں جان گنوانے والے ملاحوں کے اہل خانہ سے تعزیت کا اظہار کیا۔ ساتھ ہی، زخمیوں کی جلد صحتیابی کی خواہش کی۔
قابل ذکر ہے کہ ہندستان اور لائبیریا نے گزشتہ ماہ سمندری جہازوں اور ملاحوں کی سکیورٹی کے لیے دوست ممالک کے گروپ ایس 4 کی شروعات کی تھی۔
یواین آئی۔الف الف
ہندوستان
جنتر منتر پر مظاہرے کے لیے 10 دن پہلے درخواست کی شرط بے تکی: کانگریس
نئی دہلی، کانگریس نے جنتر منتر پر مظاہرے کے لیے 10 دن پہلے درخواست دینے کی شرط پر اعتراض ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ کسی واقعے پر فوری احتجاج کے لیے لوگوں کو اتنے دن انتظار کرنے پر مجبور نہیں کیا جا سکتا۔
کانگریس کے اتر پردیش انچارج راجندر پال گوتم نے بدھ کے روز یہاں پارٹی ہیڈکوارٹر میں ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ یہ خبر حیران کن ہے کہ جنتر منتر پر کسی بھی مظاہرے کے لیے کم از کم 10 دن پہلے درخواست دینی ہوگی۔ انہوں نے دہلی پولیس کے اس فرمان پر اعتراض ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ اگر آج کسی کے ساتھ ظلم ہو جائے، کسی کا بے رحمی سے قتل ہو جائے یا جمہوریت پر حملہ کر دیا جائے تو کیا لوگوں کو اس کے احتجاج کے لیے 10 دن انتظار کرنا ہوگا؟
انہوں نے کہا کہ انہیں نہیں لگتا کہ سپریم کورٹ یا کسی حکومت نے ایسا کوئی قانون بنایا ہے یا بنا سکتی ہے کہ ایک آزاد ملک میں لوگ اپنے بنیادی حقوق کا استعمال کرنے کے لیے اتنے دن انتظار کریں۔
کانگریسی رہنما نے کہا کہ آئین شہریوں کو اظہارِ رائے کی آزادی دیتا ہے اور دھرنا- مظاہرے کے ذریعے حکومت پر دباؤ بنانے کا حق بھی دیتا ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ بھارتیہ جنتا پارٹی تحقیاقی ایجنسیوں کا استعمال کر رہی ہے اور الیکشن کمیشن کو بی جے پی کی ‘بی ٹیم’ بنا دیا گیا ہے۔
مسٹر گوتم نے کہا کہ جواب دہی سے بچنے کے لیے وزیرِ داخلہ امت شاہ پولیس کو آگے کر دیتے ہیں اور گزشتہ دو دنوں میں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی کے ساتھ پولیس نے جس طرح کا سلوک کیا، وہ شرمناک ہے۔
یواین آئی ایف اے
-
جموں و کشمیر1 week agoسری نگر پولیس نے بین ریاستی منشیات نیٹ ورک کا پردہ فاش کیا، آٹھ افراد گرفتار
-
دنیا1 week agoقطری ثالثی کی امریکہ، ایران کے درمیان مذاکرات میں معمولی پیش رفت
-
دنیا1 week agoروس پر براہِ راست حملے کی صورت میں ہر قسم کے ہتھیار استعمال کرنےکا معاملہ ایجنڈے پر ہو گا :پوتن
-
دنیا1 week agoہیگستھ امریکی جنرل اور ایڈمرل کے عہدوں میں 20 فیصد کمی کریں گے
-
ہندوستان7 days agoوندے بھارت نے چِناب پل اور کیبل اسٹڈ انجی پل کو 100 کلومیٹر کی رفتار سے عبور کیا
-
جموں و کشمیر7 days agoگاندھی کے عدم تشدد اور سودیشی کے نظریات آج بھی اہم ہیں: جموں کے ڈویژنل کمشنر
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر میراتھن اتحاد اور نوجوانوں کے متبادل خواہشات کا پیغام دیتی ہے: ایل جی سنہا
-
ہندوستان1 week agoگیانیش کمار استعفیٰ دیں، ہٹائے گئے ووٹروں کی فہرست عام کی جائے: کھرگے
-
ہندوستان1 week agoڈیفنس اکاؤنٹس ڈیپارٹمنٹ کے 279ویں سالانہ دن پر کئی نئی پہل کی شروعات کریں گے راج ناتھ
-
ہندوستان1 week agoشیئر بازاروں میں گراوٹ جاری، سینسیکس 49 پوائنٹس پھسلا
-
دنیا6 days agoخمیس مشیط کی جانب داغے گئے تین حوثی بیلسٹک میزائل تباہ
-
جموں و کشمیر1 week agoاپوزیشن لیڈر کا عمر پر ریاستی حیثیت کی بحالی کے مطالبے کو ’سبوتاژ‘ کرنے کا الزام، جموں و کشمیر اسمبلی کا اجلاس ’بدقسمت‘ قرار
