فن و ادب
نوجواں دلوں کی دھڑکن رنبیر کپور43 برس کے ہوئے
28 ستمبر سالگرہ کے موقع پر
ممبئی بالی ووڈ میں کپور خاندان کی چوتھی نسل کی قیادت کرنے والے اداکار رنبیر کپور کی پیدائش 28 ستمبر 1982 کو ہوئی۔ رنبیر نے بالی وڈ میں اپنے آباؤ اجداد کا نام روشن کیا۔ 31 سالہ رنبیر پردادا پرتھوی راج کپور، دادا راج کپور اور معروف بالی ووڈ اداکار رشی کپور اور اداکارہ نیتو کپور کے بیٹے ہیں۔
اگر ہم رنبیر کے اب تک کے فلمی کیرئیر پر نظر ڈالیں تو رنبیر نے اپنے کیرئیر کا آغاز 2007 میں فلم ’ساوریا‘ سے کیا ہے جس میں انھوں نے ایک ایسے کردار کو مجسم کیا ہے جو اپنی زندگی کو کھل کر جینا پسند کرتا ہے، جس چیز کو پسند کرتا ہے اس کے بارے میں بات کرتا ہے، وہ بتاتا ہے کہ اسے جو برا لگتا ہے اس کے بارے میں بولنے سے وہ ہچکچاتا نہیں ہے۔ وہ عاشق جو اپنی محبت کا کھل کر اظہار کرنے سے نہیں ڈرتا لیکن ساتھ ہی اپنی محبت کو بدنام ہونے سے بچانے کے لیے ہر طرح کا خیال رکھتا ہے۔
اس فلم میں بھی رنبیر نے نوجوانوں کی قیادت کرتے ہوئے ایک شکست خوردہ عاشق کا کردار ادا کیا تھا۔ اگرچہ یہ فلم زیادہ کامیاب نہیں رہی، لیکن اس فلم سے رنبیر لوگوں کی نظروں میں آگئے اور وہ فلم فیئر بیسٹ میل ڈیبیو ایوارڈ سے نوازے جانے پر ہدایت کاروں کی پسند بننے لگے۔
اس فلم کے بعد رنبیر نے 2008 میں فلم ’بچنا حسینو‘ میں نہ صرف نوجوانوں میں اہم مقام بنایا بلکہ انہوں نے لڑکیوں کے دلوں کو بھی دھڑکائے بغیر نہیں چھوڑا۔ لڑکیاں بھی رنبیر کا انتظار کرنے لگیں کہ کب وہ ’بچنا حسینو‘ گاتے ہوئے ان کے درمیان آجائیں۔ کہنے کو تو رنبیر اس فلم میں پیار کو کھیل سمجھ کر یکے بعد دیگرے لڑکی کو دھوکہ دیتے گئے لیکن جب اسے حقیقی محبت ہوئی تو اپنی ساری غلطیوں کو سدھارنے کے لئے اس عاشق نے ہر ممکن تلافی کی کوشش کی۔ پھر چاہے اس کے لئے اسے نوکر، سکریٹری یا پھر ویٹر ہی کیوں نہ بننا پڑا ہو۔
تاہم اس فلم کے بعد رنبیر نے فلم ’لک بائی چانس‘ میں مزاحیہ کردار ادا کرنے میں کوئی ہچکچاہٹ محسوس نہیں کی۔ فلم ’ویک اپ سڈ‘ سے رنبیر کالج جانے والے لڑکوں اور لڑکیوں کے لیے رول ماڈل بن گئے۔ نوجوان اس کی نقل کرنے لگے اور اپنے کالج میں مستی کرنے لگے۔ اس فلم سے رنبیر نہ صرف نوجوانوں کی پہلی پسند بن گئے بلکہ انہیں اس فلم کے لیے بہترین اداکار کے طور پر بھی نامزد کیا گیا۔
اس کے بعد 2009 میں ریلیز ہونے والی ’عجب پریم کی غضب کہانی‘ میں رنبیر ہیپی کلب کے صدر کے طور پر کول اور معصوم نظر آئے، جو فلم کی ہیروئن جینی (کیٹرینہ کیف) کا دل جیتنے میں کامیاب نہ ہو سکے۔ اس فلم کے لیے رنبیر کو ایک بار پھر بہترین اداکار کے طور پر نامزد کیا گیا تھا۔
اس کے بعد 2009 میں فلم ’راکٹ سنگھ: سیلز مین آف دی ایئر‘ میں رنبیر نے ایک کم عقل لیکن جو اپنے مسائل کو قسمت کہنے کے بجائے لڑنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ رنبیر کو ’ویک اپ سڈ‘، ’عجب پریم کی غضب کہانی‘ اور ’راکٹ سنگھ‘ میں ان کی اداکاری کے لیے لگاتار فلم فیئر کریٹکس ایوارڈ سے نوازا گیا۔ اس وقت تو جیسے سبھی کے لبوں پر صرف رنبیر کپور کا ہی نام چڑھا ہوا تھا۔ اتنا ہوتا تو بس تھا
لیکن رنبیر کپور نے فلم ’راج نیتی‘ میں کمال ہی کر دیا۔ رنبیر ثمر پرتاپ کے کردار میں اس قدر جمے کہ ناقدین بھی ان کی تعریف کرنے سے خود کو نہ روک سکے۔ بیرون ملک تعلیم حاصل کرنے کے بعد بھی ثمر پرتاپ ہندوستانی سیاست میں اس طرح شامل ہوئے کہ کسی کو یقین نہیں آرہا تھا کہ یہ وہی رنبیر ہے جو کبھی کم عقل، کبھی سست لڑکے اور کبھی نوجوان عاشق کے کردار میں نظر آتا ہے۔ رنبیر نے ایک نوجوان سیاستدان کے طور پر اپنے سنجیدہ کردار سے اس فلم میں جان ڈال دی۔ اس کے بعد بھی رنبیر رکے نہیں بلکہ بچوں کو خوش کرنے کے لیے ’چلر پارٹی‘ کے گانے ’ٹائے ٹائے فش‘ پر تھرکتے بھی نظر آئے۔
اس سب کے درمیان رنبیر کے راک اسٹار رول کو کیسے بھلایا جا سکتا ہے؟ ’راک اسٹار‘ میں رنبیر نے ثابت کیا کہ ان کا کوئی ثانی نہیں ہے۔ رنبیر جتنے جذبے سے اداکاری کرتے ہیں اتنا ہی جذبہ رکھنے والے عاشق بھی ہیں، جسے اپنی منزل حاصل کرنے سے کوئی نہیں روک سکتا۔
رنبیر کی فلم ’برفی‘ میں رنبیر نہیں بلکہ ان کی اداکاری کا بول بالا رہا۔ کہا جاتا ہے کہ بہت سے لوگوں کچھ چیزیں وارث میں ملی ہوتی ہیں۔ رنبیر کو دیکھ کر کچھ ایسا ہی لگتا ہے جیسے انہیں اداکاری ورثے میں ملی ہے۔
ویسے بھی بالی ووڈ میں بہت کم اداکار ایسے ہیں جو اپنے والدین کے انڈسٹری میں ہونے کے بعد بھی اپنی الگ پہچان بنانے میں کامیاب رہے ہیں۔ لیکن رنبیر وہ شخص ہے جس نے نہ صرف اپنے والدین کو عزت دی بلکہ یہ بھی ثابت کیا کہ کپور خاندان میں اداکاری کوٹ کوٹ کر رچی بسی ہوئی ہے۔ یہاں تک کہ ان کے ہم عصر اداکار بھی اتنے اچھے مقام تک نہیں پہنچ سکے جو مقام چند سالوں میں رنبیر نے حاصل کیا۔
کسی نے درست کہا ہے کہ قسمت ان کا ساتھ دیتی ہے جس میں کچھ کرنے کا ہنر ہو۔ یہی وجہ ہے کہ رنبیر کو اتنے کم وقت میں انوراگ باسو، امتیاز علی، سنجے لیلا بھنسالی، راجکمار سنتوشی، پرکاش جھا اور سدھارتھ آنند جیسے بڑے ہدایت کاروں کے ساتھ کام کرنے کا موقع ملا۔
رنبیر کے اب تک کے کریئر پر نظر ڈالیں تو لگتا ہے کہ سدھارتھ آنند کی بات سچ ثابت ہو رہی ہے۔ تب سدھارتھ نے رنبیر کے بارے میں کہا تھا کہ رنبیر انتھونی (فلم ’امر اکبر انتھونی‘ میں امیتابھ کا کردار) کا کردار ادا کرنے کے لیے بہترین اداکار ہیں۔ وہ ’قلی‘ کا کردار ادا کر سکتے ہیں، وہ وہ تمام کردار کر سکتے ہیں جو امیتابھ کے بہترین کردار سمجھے جاتے ہیں۔ان جیسا کوئی اور فنکار نہیں لیکن ان میں یہ صلاحیت ہے۔ سدھارتھ نے رنبیر کی تعریف کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ہندی فلموں کا مکمل ہیرو بننے کے لئے رنبیر کے پاس وہ سب کچھ ہے جو امیتابھ میں ہے۔
رنبیر کپور کی شادی بالی وڈ کی معروف اداکارہ اور مہیش بھٹ اور سونی رزادانی کی صاحب زادی عالیہ بھٹ سے ہوئی ہے۔ ان کی ایک بیٹی ہے۔
رنبیر کی دیگر فلموں میں برہماستر، انیمل، جوانی دیوانی، اے دل ہے مشکل، سنجے دت کی بایو پک سنجو، شمشیرا، تماشہ، بے شرم، انجانہ انجانی، روئے شامل ہیں۔
یو این آئی۔ این یو۔
فن و ادب
نانا پاٹیکر: انسانی سچائی کی بے مثال آواز خاموش ہو گئی
نئی دہلی، معروف اداکار، فلم ساز اور تھیٹر فنکار نانا پاٹیکر، جن کی پُرجوش اداکاری، منفرد آواز اور انسانی جذبات سے بھرپور کرداروں نے ہندوستانی سنیما کو کئی یادگار کردار دیے، جمعرات کی صبح 75 سال کی عمر میں گوا میں انتقال کر گئے۔ ان کے انتقال کے ساتھ 5 دہائیوں سے زیادہ عرصے پر محیط ایک شاندار فلمی سفر کا اختتام ہو گیا۔
نانا پاٹیکر، جن کا اصل نام وشواناتھ پاٹیکر تھا، کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ انہیں گوا کے ڈونا پاؤلا میں واقع اپنی رہائش گاہ پر شدید دل کا دورہ پڑا۔ انہیں فوری طور پر منی پال اسپتال لے جایا گیا، جہاں ڈاکٹروں نے تقریباً 45 منٹ تک انہیں بچانے کی کوشش کی، لیکن صبح 5:20 بجے انہیں مردہ قرار دے دیا گیا۔ ان کے بیٹے ملہار پاٹیکر نے ان کے انتقال کی تصدیق کی۔
ان کے اچانک انتقال کی خبر سے ہندوستانی فلمی صنعت میں غم کی لہر دوڑ گئی۔ لوگوں نے صرف ایک معروف اداکار کے انتقال پر افسوس نہیں کیا بلکہ ایسے فنکار کے کھو جانے کا دکھ منایا جس کی محض ایک نظر، ایک لمحے کی خاموشی یا مکالمے کی ایک سطر بھی پردے کو ہلا دینے کی صلاحیت رکھتی تھی۔ نانا پاٹیکر کبھی روایتی معنوں میں فلمی ستارہ نہیں رہے۔ وہ ایسے اداکار تھے جو عام لوگوں کی جذباتی دنیا میں اتر جاتے تھے، ان کے غصے، زخموں، بے بسی، مزاحمت، کمزوری اور کبھی کبھی بے باک مزاح کو اپنے کرداروں میں پوری سچائی سے پیش کرتے تھے۔
ان کی اداکاری میں ایک ایسی بے ساختگی تھی جو مرکزی دھارے کی فلموں کے بناوٹی انداز کو قبول نہیں کرتی تھی۔ ان کی منفرد آواز اور مکالمے ادا کرنے کی غیر معمولی صلاحیت عام سے عام جملے کو بھی جذبات اور اثر سے بھر دیتی تھی۔ وہ اپنی آواز بلند کیے بغیر بھی پورے منظر پر چھا جانے کی صلاحیت رکھتے تھے اور خاموشی کے ذریعے بھی کسی کردار کی پوری جذباتی داستان بیان کر دیتے تھے۔
یکم جنوری 1951 کو مہاراشٹر کے رائے گڑھ ضلع کے مروڈ-جنجیرہ میں پیدا ہونے والے نانا پاٹیکر نے مشکلات سے بھرے بچپن کے بعد اپنی نسل کے سب سے قابل احترام اداکاروں میں جگہ بنائی۔ انہوں نے 1978 میں ‘گمن’ کے ذریعے ہندی سنیما میں قدم رکھا اور ہندی و مراٹھی فلموں میں مشکل اور چیلنجنگ کردار ادا کرتے ہوئے اپنے لیے ایک منفرد مقام بنایا۔
ان کی اصل شناخت ایسے کرداروں سے بنی جن میں ظاہری خوبصورتی سے زیادہ اداکاری کی طاقت اور شخصیت کا اثر درکار تھا۔ 1989 کی فلم ‘پرندہ’ میں بے رحم انا کا خوفناک کردار ادا کرنے پر انہیں بہترین معاون اداکار کا قومی فلم ایوارڈ ملا۔ اس کے بعد انہوں نے ‘پراہار: دی فائنل اٹیک’ میں شاندار اداکاری کی، جس کی ہدایت کاری بھی انہوں نے کی تھی۔ اس کے علاوہ ‘انگار’، ‘ترنگا’، ‘اگنی ساکشی’ اور ‘خاموشی: دی میوزیکل’ جیسی فلموں میں بھی ان کی اداکاری کو بے حد سراہا گیا۔
جاری یو این آئی۔ ۔ایم جے
فن و ادب
رانی مکھرجی کو راج کپور خصوصی تعاون ایوارڈ
ممبئی، بالی ووڈ اداکارہ رانی مکھرجی کو ہندوستانی سنیما میں نمایاں تعاون اور مہاراشٹر کے ساتھ ان کی طویل وابستگی کے لیے مہاراشٹر حکومت کی جانب سے باوقار راج کپور خصوصی تعاون ایوارڈ سے نوازا گیا ہے۔
62ویں مہاراشٹر ریاستی فلم ایوارڈز کی تقریب میں وزیر اعلیٰ دیویندر فڑنویس نے رانی مکھرجی کو یہ اعزاز پیش کیا۔
اعزاز ملنے پر رانی نے کہا، ’’میرے لیے مہاراشٹر صرف ایک ریاست نہیں ہے۔ مہاراشٹر میری جائے پیدائش، میری جائے کار اور میری زندگی کا لازمی حصہ ہے۔‘‘
انہوں نے کہا، ’’سنیما میرے لیے ایک گہرا جذبہ ہے اور مہاراشٹر اس جذبے کا گھر ہے۔ یہ ایوارڈ میرے لیے اس لیے بھی خاص ہے کہ یہ مجھے میرے اپنے لوگوں اور اس جگہ سے مل رہا ہے، جس سے میں گہری وابستگی رکھتی ہوں۔‘‘
ممبئی میں پیدا ہونے اور پرورش پانے والی رانی نے تقریباً 3 دہائیوں پر محیط اپنے فلمی کریئر میں ’بلیک‘، ’نو ون کلڈ جیسیکا‘، ’ہچکی‘، ’مردانی‘ سلسلے کی فلموں اور ’مسز چٹرجی ورسز ناروے‘ جیسی فلموں میں مؤثر کردار ادا کیے ہیں۔
رانی نے کہا کہ انہوں نے ہمیشہ ایسی کہانیوں اور کرداروں کا انتخاب کیا جن میں انہیں سچائی اور حوصلہ نظر آیا۔ انہوں نے پردے پر مضبوط خواتین کی نمائندگی کرنے کی اپنی کوشش کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ انہیں ہمیشہ ایسی خواتین متاثر کرتی رہی ہیں جو کسی دوسرے شخص کے انہیں بچانے کا انتظار نہیں کرتیں۔
رانی نے یہ اعزاز مہاراشٹر کے فنکاروں، تکنیکی ماہرین، فلم سازوں اور پوری فلم برادری کے نام کرتے ہوئے کہا کہ ریاست نے نسلوں سے ہندوستانی سنیما کو تشکیل دینے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔
رانی نے کہا، ’’جب بھی میں اس ایوارڈ کو دیکھوں گی، مجھے صرف ایک ایوارڈ نظر نہیں آئے گا۔ مجھے اپنا ممبئی، اپنا مہاراشٹر نظر آئے گا۔‘‘
یو این آئی۔ ایم جے
فن و ادب
جموں و کشمیر کی پانچ فلمیں پہلے بین الاقوامی فلم فیسٹیول کے لیے منتخب
سری نگر، جموں و کشمیر کے ہدایت کاروں کی بنائی ہوئی پانچ فلموں کو پہلے بین الاقوامی فلم فیسٹیول آف جموں و کشمیر 2026 کے مسابقتی ’’جموں و کشمیر سلیکٹ‘‘ حصے کے لیے منتخب کیا گیا ہے۔
منتخب فلموں میں محمد ولی کی ہدایت کاری میں بننے والی ’سرچنگ فار دی گرینڈپا‘، روہن رویندرن نائر کی ’عریفہ‘، سدھارتھ کول اور انکت ولی کی ’بٹ کوچ‘ (گم شدہ گلی)، کپل متو کی ’تصرف دار‘ (کشمیر کے جنات) اور بابا تصدق حسین کی ’نقشِ دور‘ (غلام نبی دھر کی کہانی) شامل ہیں۔
حکام کے مطابق فیسٹیول کے لیے قائم پیش نظارہ کمیٹی نے موصولہ فلموں کا جائزہ لینے اور ان کی فنی خوبیوں اور مسابقتی حصے کے لیے موزونیت کا جائزہ لینے کے بعد ان فلموں کی سفارش کی۔ اس انتخاب میں مختلف النوع کہانیوں، اصناف اور نقطۂ نظر کو جگہ دی گئی ہے، جن میں خاص طور پر جموں و کشمیر کے ثقافتی ورثے، سماجی حقائق اور انسانی تجربات سے جڑی کہانیوں پر توجہ دی گئی ہے۔
کشمیری اور ہندی زبانوں میں بنائی گئی یہ پانچوں فلمیں بچپن، خاندان اور یادداشت سے لے کر نقل مکانی، شناخت، ورثے، ثابت قدمی اور کشمیر کے بدلتے سماجی منظرنامے جیسے موضوعات کا احاطہ کرتی ہیں۔
’سرچنگ فار دی گرینڈپا‘ عید کے موقع پر کشمیر کے ایک گاؤں میں رہنے والے دو کم عمر بہن بھائیوں کی کہانی ہے۔ ’عریفہ‘ ایک ایسی خاتون کے گرد گھومتی ہے جو کشمیر میں اپنے آبائی گھر واپس آتی ہے اور بچپن اور اپنے والد سے جڑی یادوں کا سامنا کرتی ہے۔
’بٹ کوچ‘ ایک کشمیری مہاجر خاندان کی کہانی کے ذریعے نقل مکانی، شناخت اور گھر سے جڑے دیرینہ تصور کو پیش کرتی ہے۔ ’تصرف دار‘ کشمیر کے ماضی کے پراسرار واقعات، یادوں اور زخموں کو ایک دوسرے سے جوڑتی ہے، جبکہ ’نقشِ دور‘ پدم شری سے سرفراز لکڑی کے ایک کاریگر کی زندگی اور خدمات کو پیش کرتی ہے جو سری نگر کے وسطی علاقے میں رہتے ہوئے کشمیر کی دستکاری، ثقافتی ورثے اور ثابت قدمی کو اجاگر کرتے ہیں۔
منتخب فلمیں چار روزہ بین الاقوامی فلم فیسٹیول کے مسابقتی پروگرام کا حصہ ہوں گی، جہاں ناظرین اور فلم سازوں کو جموں و کشمیر سے تعلق رکھنے والی منفرد فلمی آوازوں اور کہانیوں سے روبرو ہونے اور ان پر تبادلۂ خیال کا موقع ملے گا۔
یو این آئی۔ م ع
-
جموں و کشمیر1 week agoسری نگر پولیس نے بین ریاستی منشیات نیٹ ورک کا پردہ فاش کیا، آٹھ افراد گرفتار
-
دنیا1 week agoقطری ثالثی کی امریکہ، ایران کے درمیان مذاکرات میں معمولی پیش رفت
-
دنیا1 week agoروس پر براہِ راست حملے کی صورت میں ہر قسم کے ہتھیار استعمال کرنےکا معاملہ ایجنڈے پر ہو گا :پوتن
-
جموں و کشمیر7 days agoگاندھی کے عدم تشدد اور سودیشی کے نظریات آج بھی اہم ہیں: جموں کے ڈویژنل کمشنر
-
ہندوستان1 week agoوندے بھارت نے چِناب پل اور کیبل اسٹڈ انجی پل کو 100 کلومیٹر کی رفتار سے عبور کیا
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر میراتھن اتحاد اور نوجوانوں کے متبادل خواہشات کا پیغام دیتی ہے: ایل جی سنہا
-
ہندوستان1 week agoشیئر بازاروں میں گراوٹ جاری، سینسیکس 49 پوائنٹس پھسلا
-
دنیا6 days agoخمیس مشیط کی جانب داغے گئے تین حوثی بیلسٹک میزائل تباہ
-
ہندوستان1 week agoڈیفنس اکاؤنٹس ڈیپارٹمنٹ کے 279ویں سالانہ دن پر کئی نئی پہل کی شروعات کریں گے راج ناتھ
-
جموں و کشمیر1 week agoجاوید ڈار نے اسمبلی میں سی اے جی کی رپورٹیں پیش کیں
-
دنیا1 week agoایران امریکہ سے مذاکرات کی کوشش جاری رکھے گا: پیزشکیان
-
جموں و کشمیر1 week agoاپوزیشن لیڈر کا عمر پر ریاستی حیثیت کی بحالی کے مطالبے کو ’سبوتاژ‘ کرنے کا الزام، جموں و کشمیر اسمبلی کا اجلاس ’بدقسمت‘ قرار
