تازہ ترین
نیشنل کانفرنس ہیڈکوارٹر پر غیر معمولی اجلاس
جموں وکشمیر کی موجودہ سیکورٹی صورتحال بد سے بدتر، بدانتظامی جموں وکشمیر کا نیا معمول
سرینگر:نیشنل کانفرنس ہیڈ کواٹر سرینگر پر ایک غیر معمولی اجلاس کے دوران پارٹی کے کئی لیڈران نے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ جموں وکشمیر کی موجودہ سیکورٹی صورتحال بد سے بدتر ہوتی جارہی ہے۔انہوں نے مل ٹنسی کے گراف میں روز بہ روز اضافہ ہوتا جارہا ہے، تعمیر و ترقی کا کہیں نام و نشان نہیں، اقتصادی بدحالی نے یہاں کے لوگوں کو مکمل طو رپر اپنی لپیٹ میں لے لیا۔
کشمیر نیوز سروس کے مطابق جموں وکشمیر کی موجودہ سیکورٹی صورتحال بد سے بدتر ہوتی جارہی ہے، مل ٹنسی کے گراف میں روز بہ روز اضافہ ہوتا جارہا ہے، تعمیر و ترقی کا کہیں نام و نشان نہیں، اقتصادی بدحالی نے یہاں کے لوگوں کو مکمل طو رپر اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے، بے روزگارنوجوان کی تعداد حد سے تجاوز کرگئی، عوامی حکومت کی غیر موجودگی اور انتظامی انتشار ور خلفشار کا خمیازہ عام لوگوں کو بھگتنا پڑ رہا ہے۔
ان باتوں کا اظہار نیشنل کانفرنس کے رکن پارلیمان ایڈوکیٹ محمد اکبر لون پارٹی ہیڈکوارٹر پر ایک اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اجلاس میں صوبائی سکریٹری ایڈوکیٹ شوکت احمد میر کے علاوہ سینئر لیڈران پیر آفاق احمد، سید توقیر احمد، سید رفیق شاہ، ارشاد رسول کار، شوکت احمد وٹالی کے علاوہ دیگر عہدیداران بھی موجود تھے۔
محمد اکبر لون نے کہا کہ 5اگست کے غیر آئینی اور غیر جمہوری فیصلے کے بعد یہاں کا ہر ایک شعبہ متاثر ہوا اور کشمیر کو دہائیوں پیچھے دھکیل دیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ مرکزی حکومت کو نہ صرف 5اگست کے غیر دانشمندانہ فیصلوں کو منسوخ کرنا چاہئے بلکہ جموں وکشمیر کی معیشت کو ہوئے نقصان کی بھرپائی کرنے کیلئے بھی مالی پیکیج کا اعلان کر چاہئے۔
اُن کا کہنا تھا کہ اگر اب بھی مرکزی حکومت کی آنکھیں نہ کھلیں تو اس سے بڑی بدقسمتی کی کیا بات ہوسکتی ہے۔ ڈیلی ویجروں، کیجول لیبروں اور دیگر عارضی ملازمین کی حالت زار پر تشویش اور افسوس کا اظہار کرتے محمد اکبر لون نے کہا کہ جموں و کشمیر کے 60ہزار عارضی ملازمین سالہاسال سے اپنی مستقلی کے منظر ہیں۔ ان عارضی ملازمین کو زبردست مشکلات کا سامنا ہے۔ عارضی ملازمین کی مستقلی ایک انسانی مسئلہ ہے اور اسے جنگی بنیادوں پر حل کیا جانا چاہئے۔
انہوں نے کہا کہ عمر عبداللہ کی سربراہی والی حکومت نے اگرچہ ان عارضی ملازمین کی مستقلی کیلئے اقدامات کرنے کی حتمی کوشش کی لیکن مخلوط سرکار میں شامل اتحادیوں نے اس میں مختلف اڑچنیں پیدا کیں۔
محمد اکبر لون نے عارضی ملازمین کی فوری مستقلی کیلئے ٹھوس اور کارگر اقدامات اٹھانے کی ضرورت پر زور دیا۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے صوبائی سکریٹری ایڈوکیٹ شوکت احمد میر نے میں کشمیر ہاؤس کی تقسیم کو بدقسمتی سے تعبیر کرتے ہوئے کہا کہ ریاستی انتظامیہ اور مرکزی حکومت کو ایسے اقدامات کرنے سے گریز کرنا چاہئے اور اُس وقت تک ایسے فیصلوں سے اجتناب کیا جانا چاہئے جب تک عدالت عظمیٰ کا فیصلہ نہیں آجاتا۔
کشمیر ہاؤس کی لداخ اور جموں وکشمیر میں تقسیم کو بھی سراسر ناانصافی قرار دیتے کہا کہ لداخ کی آبادی اڑھائی لاکھ ہے جبکہ جموں وکشمیر کی آبادی ایک کروڑ 25لاکھ ہے۔ انہوں نے کہا کہ کشمیر ہاؤس کو دو برابر حصوں میں تقسیم کرنا کہاں کا انصاف ہے۔ مرکز کو اگر تقسیم کا یہی پیمانہ رکھنا ہے تو پھر قرضوں کو بھی برابر تقسیم کیا جانا چاہئے تھا۔ ایڈوکیٹ شوکت احمد میر نے کہا کہ ہم ایسے اقدامات کی شدید مذمت کرتے ہیں اور اس فیصلے کی فوری واپسی کا مطالبہ کرتے ہیں۔
جموں و کشمیر
بڈگام کے یوسمرگ میں پاکستانی لشکر طیبہ کا جنگجو جھڑپ میں ہلاک
سری نگر، جموں و کشمیر کے بڈگام ضلع کے یوسمرگ کے بالائی علاقے میں سکیورٹی فورسز نے ایک جھڑپ کے دوران پاکستانی لشکر طیبہ کے مشتبہ دہشت گرد کو گولی مار کر ہلاک کر دیا۔ حکام نے یہ اطلاع دی۔
یہ جھڑپ منگل کی دیر رات یوسمرگ کے کورگ علاقے میں سکیورٹی فورسز کی جانب سے خفیہ اطلاع کی بنیاد پر مشترکہ تلاشی مہم شروع کیے جانے کے بعد شروع ہوئی۔
فوج نے بتایا کہ ہندوستانی فوج، جموں و کشمیر پولیس اور مرکزی ریزرو پولیس فورس نے یوسمرگ کے کورگ کے عمومی علاقے میں مشترکہ تلاشی مہم شروع کی تھی۔
سری نگر میں قائم چنار کور نے ایکس پر جاری ایک بیان میں کہا، ’’چوکس فوجیوں نے مشتبہ سرگرمی دیکھی اور جب انہیں چیلنج کیا گیا تو دہشت گردوں نے فائرنگ شروع کر دی، جس کے بعد شدید فائرنگ کا تبادلہ ہوا، جس میں ایک دہشت گرد مارا گیا۔ کارروائی جاری ہے۔‘‘
فوج اور پولیس نے ابھی تک ہلاک ہونے والے جنگجو کی شناخت ظاہر نہیں کی ہے، تاہم سکیورٹی ذرائع کو شبہ ہے کہ وہ پاکستانی شہری تھا اور لشکر طیبہ سے وابستہ تھا۔اس ماہ بڈگام کے جنگلات میں یہ دوسری جھڑپ ہے۔
4 ستمبر کو یاسر نامی ایک پاکستانی شہری، جو لشکر طیبہ سے وابستہ تھا اور مبینہ طور پر کئی برس سے جموں و کشمیر میں سرگرم تھا، بڈگام کے بلند پہاڑی علاقے اشدر گلی میں ایک جھڑپ کے دوران مارا گیا تھا۔
سکیورٹی فورسز کو شبہ تھا کہ اس جھڑپ کے دوران ایک اور جنگجو فرار ہونے میں کامیاب ہو گیا تھا۔ 4 ستمبر کی جھڑپ کے بعد سکیورٹی فورسز نے بڈگام کے پہاڑی اور جنگلاتی علاقوں میں مشتبہ جنگجو کا سراغ لگانے کے لیے تلاشی مہم مزید تیز کر دی تھی۔
یو این آئی ایم جے
دنیا
برطانیہ کے وزیر اعظم نے انتخابی اصلاحات کے لیے قومی کمیشن بنانے کا اعلان کیا
ماسکو، برطانیہ کے وزیر اعظم اینڈی برنہم نے ملک کے انتخابی نظام میں اصلاحات کے لیے ایک کمیشن قائم کرنے کا اعلان کیا ہے۔
برنہم نے منگل کو لیبر پارٹی کی سالانہ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا، ’’میں انتخابی اصلاحات کے لیے ایک نئے قومی کمیشن کے قیام کا اعلان کر رہا ہوں۔ میں تمام سیاسی جماعتوں کو اس کام میں شامل ہونے کی دعوت دیتا ہوں۔ ہم اگلا انتخاب انتخابی نظام میں تبدیلی کے عزم کے ساتھ لڑیں گے، تاکہ ہر شخص کے ووٹ کی اہمیت ہو اور ہر شخص کی آواز سنی جائے۔‘‘
برنہم نے زور دے کر کہا کہ صرف 30 فیصد ووٹروں کی حمایت سے حکومت بننا ملک کے سیاسی نظام کی ناکامی کی علامت ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ موجودہ سیاسی عدم استحکام کی سطح کے پیش نظر برطانیہ نہ تو اپنے داخلی مسائل حل کر سکتا ہے اور نہ ہی عالمی سطح پر ایک باوقار کردار ادا کر سکتا ہے۔ برنہم نے بتایا کہ وہ 10 برس میں ملک کے ساتویں وزیر اعظم ہیں۔
یو این آئی ایم جے
دنیا
ٹرمپ کا مصنوعی ذہانت کے شعبے کی نگرانی کے لیے کمیٹی بنانے کا منصوبہ
واشنگٹن، امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے منگل کو کہا کہ وہ مصنوعی ذہانت کی نگرانی کے لیے 10 افراد پر مشتمل ایک کمیٹی بنانے پر غور کر رہے ہیں۔
ٹرمپ نے مصنوعی ذہانت کی کمپنیوں کے اعلیٰ عہدیداروں کے ساتھ ملاقات کے بعد صحافیوں سے کہا، ’’ہم کسی طرح کی ایک کمیٹی بنانے کے بارے میں بھی سوچ رہے ہیں، جس میں شاید 10 افراد ہوں… تاکہ یہ کمیٹی پورے شعبے کی نگرانی کر سکے۔‘‘
صدر نے یقین ظاہر کیا کہ مصنوعی ذہانت کے نمونوں کو ’’اچھے مقصد کے لیے استعمال کیا جائے گا‘‘ اور مزید کہا کہ اگر انہیں برے مقاصد کے لیے استعمال کیا گیا تو ان کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔ اس کے علاوہ کمپنیوں کو اپنی نگرانی اور ضابطے کے لیے ’’بہت بڑے پیمانے پر‘‘ اقدامات کرنے ہوں گے۔
حالیہ ہفتوں میں مصنوعی ذہانت سے متعلق خطرات کے بارے میں عوامی سطح پر بحث جاری ہے۔ اینتھروپک کے 2 ملازمین نے اپنی رائے ظاہر کی کہ آئندہ 10 برس کے دوران مصنوعی ذہانت کے انسانیت کو تباہ کرنے کا امکان 10 فیصد ہے۔
12 ستمبر کو اینتھروپک کے سربراہ داریو امودی نے زیادہ طاقتور مصنوعی ذہانت کے نمونوں کی تیاری میں عالمی سطح پر رفتار کم کرنے کی اپیل کی تھی اور اس کے لیے سلامتی سے متعلق خدشات کا حوالہ دیا تھا۔
امریکی ارب پتی ایلن مسک اور اوپن اے آئی کے سربراہ سیم آلٹ مین نے بھی اس خیال کی حمایت کی تھی۔
14 ستمبر کو ٹرمپ نے ان دعوؤں کو مسترد کر دیا تھا کہ مصنوعی ذہانت دنیا پر قبضہ کر لے گی اور انسانیت کو تباہ کر دے گی۔ انہوں نے انہیں من گھڑت قرار دیا تھا۔ صدر مصنوعی ذہانت کے شعبے میں مسلسل ترقی کی حمایت کرتے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ امریکہ چین کو اس میدان میں سبقت حاصل کرنے کی اجازت نہیں دے سکتا۔
یو این آئی ایم جے
-
دنیا1 week agoمیں پورے ایران کو ہوا میں اڑا سکتا ہوں:ٹرمپ
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر کے ایل جی نے جاں بحق پی ایس آئی کی اہلیہ کو تقرری نامہ دیا
-
دنیا1 week agoروبیو کی آرکٹک اتحادی ممالک کے وزرائے خارجہ سے ملاقات، سلامتی اور سرمایہ کاری پر تبادلہ خیال
-
دنیا1 week agoکم جونگ ان نے شمالی کوریا کے نظریاتی طریقہ کار کو جدید بنانے پر زور دیا
-
ہندوستان1 week agoعالمی کشیدگی کے وقت کثیرالجہتی کو مضبوط کرنا ضروری: جے شنکر
-
ہندوستان1 week agoخواتین کی سکیورٹی یقینی بنائے بغیر بڑے منصوبوں کا کوئی مطلب نہیں : پرینکا
-
جموں و کشمیر1 week agoوقفہ صفر میں جنوبی کشمیر میں شاہراہ پر پابندیوں کا معاملہ اٹھایا گیا
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر میں سرکاری ملازمتوں کی 40,672 آسامیاں خالی
-
ہندوستان7 days agoہندوستان نے جموں و کشمیر پر او آئی سی کے رابطہ گروپ کے بیان کو مسترد کر دیا
-
دنیا1 week agoروس-یوکرین امن معاہدے کی شرائط پر بات چیت جاری : ٹرمپ
-
دنیا1 week agoسعودی اپیل کے بعد حوثیوں پر حملوں کے لیے امریکی جنگی طیاروں کی تیاری شروع ہو گئی تھی، لیکن ٹرمپ نے فیصلہ بدل دیا
-
دنیا1 week agoیمن کے بندرگاہی شہر موخا پر سعودی فضائی حملوں میں چھ افراد ہلاک
