Connect with us

تازہ ترین

واقعۂ کربلا

Published

on

ڈاکٹر غلام قادر لون
(یہ ڈاکٹر غلام قادر لون کی ایک تقریر ہے؛ جو انھوں نے بارہمولہ کی ایک تقریب میں کی تھی۔عزیزم سمنان صوفی نے اسے تحریری صورت میں پیش کیا ہے۔ افادہ عامہ کے لیے خذف و اضافہ کے بعد اسے شائع کیا جاتا ہے۔)

واقعہ کربلا کے تذکرے میں بعض کتابوں میں آیا ہے کہ حضرت حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ جب اہل بیت کے ساتھ میدان کربلا میں تھے تو رات کو آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خواب میں دیکھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت حسین سے فرمایا کہ آپ اس جگہ شہید ہوجائیں گے۔ چنانچہ دیکھتےہیں کہ عمربن سعد نے جو پیش کش کی تھی حضرت حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اسے ٹھکرا دیا۔ حضرت حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عبد اللہ ابن جعفر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے بھی کہا تھا کہ میں نے خواب میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے ایک کام کرنے کا حکم دیا ہے نتیجہ کچھ بھی ہو میں وہ کام ضرور انجام دوں گا۔ جب انہوں نے اس کام کے بارے میں سوال کیا حضرت حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا کہ میں وہ راز افشا نہیں کروں گا جب تک خدا کے حضور نہیں پہنچ جاؤں گا۔ چنانچہ جب بعض صحابہ نے انہیں مشورے دئے کہ آپ کوفہ نہ جائیں؛ آپ کے شہید ہوجانے کا اندیشہ ہے۔ تو انھوں نے یہ تمام مشورے نظر انداز کئے اور کوفہ کی طرف روانہ ہوئے۔

شہادت حسین کے واقعہ نے مسلمانوں کی تاریخ کو سب سے زیادہ متاثر کیا ہے۔ اس واقعے کا پس منظر جاننےکے لیے ضروری ہے کہ واقعہ سے پہلے کے پچاس برسوں کی تاریخ دیکھی جائے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے بعد کسی کو نامزد نہیں کیا تھا البتہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی علالت کے دوران آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی حکم کے مطابق حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے سترہ نمازوں کی امامت کی تھی جو اس امر کا واضح اشارہ تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ جانشین ہوں گے۔ سقیفہ بنی ساعدہ کے موقع پر حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے صحابہ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آپ لوگوں کے سامنے اس وقت حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور حضرت ابو عبیدہ بن الجراح ہیں ان دونوں میں کسی ایک کی بیعت کرلو مگر ان دونوں کا جواب تھا کہ آپ کے ہوتے ہوئے کسی اور کی بیعت کیسے ہوسکتی ہے۔ چنانچہ صحابہ نے ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو چن لیا۔

حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ دو سال تین ماہ خلیفہ رہے۔ وفات سے پہلے انھوں نے اپنے جانشین پر غور کیا اور صحابہ سے مشورے کے بعد انھوں نے حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو جانشین نامزد کیا جو ان کے رشتہ دار نہ تھے۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا دور خلافت مسلمانوں کازریں دورتها۔ دس سال بعد جب آپ پر قاتلانہ حملہ ہوا تو شہادت سے پہلے آپ نے چھ صحابہ نامزد کئے۔ ان چھ میں سے خلیفہ چننا تھا۔ چنانچہ ان چھ میں سے حضرت عثمان خلیفہ نامزد کئے گئے۔ان کی خلافت تیرہ سال تک رہی پہلے چھ سال امن میں گزرے مگر آخری برسوں میں ان کے خلاف۔ مختلف علاقوں میں شورشیں اٹھیں اس کی اصل وجہ یہ تھی کہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنے دور خلافت میں صحابہ کو مدینہ میں رہنے کا پابند کیا تھا۔ حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے صحابہ کو اجازت دی کہ اسلامی قلمرو کے جس شہر میں چاہیں رہ سکتے ہیں۔ جن صحابہ نے اسلام کی خاطر جنگیں لڑی تھیں وہ ایک ایک کرکے دنیا سے رخصت ہو رہے تھے۔ اسلامی فتوحات کے فیض سے جو لوگ اسلام میں داخل ہو رہے تھے انہیں صحابہ کی طرح تربیت کا موقع نہیں ملا تھا۔شورشوں میں یہی لوگ حصہ لے رہے تھے۔ چنانچہ حضرت عثمان بے دردی سے شہید کئے گئے۔ جن لوگوں نے حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو شہید کیا وہی حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس آئے اور کہا کہ بیعت کریں گے۔ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے انکار کیا تو ان لوگوں نے کہا کہ اگر آپ ہماری بیعت نہیں مانیں گے تو آپ کو بھی قتل کریں گے۔ مجبوراََ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ان سے بیعت لی۔ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے دارالخلافہ مدینہ سے کوفہ منتقل کیا۔ ان کی ساری زندگی جنگوں میں گزری۔اس لیے حالات بد سے بدتر ہوگے۔ 40ھ میں حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ پر قاتلانہ حملہ ہوا اور وہ شہید ہوگئے۔ ان کے بعد حضرت حسن خلیفہ ہونے وہ صرف چھ ماہ خلیفہ رہے۔ انھوں نے حضرت معاویہ سے مصالحت کی اور 41ھ میں بعض شرائط پر خلافت سے دستبردار ہوگئے۔ اس کے بعد حضرت معاویہ پورے عالم اسلام کے خلیفہ ہوگئے۔

۲۲ رجب 60 ھ میں حضرت معاویہ کا انتقال ہوگیا۔ انھوں نے اپنی زندگی ہی میں اپنے بیٹے یزید کو اپنا جانشین نامزد کیا تھا۔ حضرت معاویہ کو اندیشہ تھا کہ حضرت عبد الرحمٰن بن ابوبکر ،حضرت عبداللہ بن عمر، حضرت عبداللہ بن زبیر اور حضرت حسین کو خلیفہ تسلیم نہیں کریں گے۔ اول الذکر دو حضرات خلافت سے دلچسپی نہیں رکھتے تھے۔ حضرت عبداللہ بن زبیر کے بارے میں انہیں سخت خدشہ تھا۔ حضرت معاویہ نے یزید کو وصیت کی تھی ک اگر حضرت حسین کے ساتھ جنگ ہوجائے۔ تو ان پر قابو پانے کے بعد عزت اور احترام سے پیش آنا یہ ان کی آخری وصیت تھی۔

حضرت معاویہ کی وفات کے وقت مدینہ منورہ کے گورنر ولید تھے۔ انھیں جب خبر پہنچی کہ حضرت معاویہ کا انتقال ہوگیا اور یزید ان کے جانشین ہو گیے ہیں تو انھوں نے شام کے وقت حضرت حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو بلاوا ںیهجا۔ حضرت حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ اپنے ساتھ تیس سپاہیوں کو لے کر ولید کے پاس آئے۔ انھوں نے سپاہیوں کو دارالامارت کے باہر بٹھایا اور خود ولید کے پاس اندر گئے۔ ولید نے انھیں حضرت معاویہ کے انتقال اور یزید کے خلیفہ ہونے کی خبر سنائی اور کہا کہ آپ یزید کی بیعت کریں۔ حضرت حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جواب دیا کہ مجھ جیسا آدمی تنہا بیعت نہیں کرسکتا۔آپ مسجد نبوی میں کھڑے ہوں میں وہی جواب دوں گا۔ ولید کے پاس اس وقت مروان بھی تھا۔ اس نے ولید سے کہا کہ آپ حضرت حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اسی وقت بیعت لیں ورنہ وہ کبھی آپ کے ہاتھ نہیں آئیں گے مگر ولید نے مروان کی بات نہیں مانی اور حضرت حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو رخصت کیا۔ حضرت حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ رات کو مسجد نبوی میں رہے۔ خواب میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ آپ شہید ہوجائیں گے۔ حضرت حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ مکہ چلے گئے اور وہاں تین مہینے قیام کیا۔ مکہ میں حضرت حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس کوفہ کے سرکردہ لوگوں کے خطوط آئے کہ آپ کوفہ تشریف لائیں اور لوگوں سے بیعت لے کر خلافت کا منصب سنبھالیں ۔ یہاں کے لوگ دل وجان سے آپ کی تشریف آوری کے منتظر ہیں۔ حضرت حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حالات کا جائزہ لینے کے لیے اپنے چچیرے بھائی مسلم بن عقیل کو کوفہ روانہ کیا۔ وہ کوفہ روانہ ہوئے۔ دشوار گزار راستے سے سفر کرتے ہوئے وہ کوفہ پہنچے کوفہ میں ان کے آنے کی خبر ملی تو پہلے ہی دن دس ہزار لوگوں نے حضرت مسلم بن عقیل رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ہاتھ پر بیعت کی۔ بیعت کے لیے لوگ جوق در جوق آنے لگے تو حضرت حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو مسلم من عقیل نے خط لکھا کہ آپ فوراً کوفہ تشریف لائیں۔ یہاں کے لوگ تیار ہیں حضرت حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس خط پہنچا تو انھوں نے کوفہ روانہ ہونے کی تیاری کی۔ جب یہ خبر مکہ میں پھیلی تو بڑے بڑے صحابہ ان کے پاس آئے اور انھیں کوفہ جانے کا ارادہ ترک کرنے کی استدعا کی۔ کیوں کہ کوفہ کے لوگوں نے حضرت علی اور حضرت حسن کے ساتھ دغا بازی کی تھی۔ مگر حضرت حسین نے ان کی بات نہیں مانی – جب حضرت عبداللہ بن عباس نے دیکھا کہ آپ کوفہ جانے کے لیے مصر ہیں تو کہا کہ کم از کم اپنے بال بچوں کو اپنے ساتھ نہ لے جائیں مگر حضرت حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ نہ مانے۔ یہ دیکھ کرحضرت عبداللہ بن عباس روتے ہوئے ان سے رخصت ہوئے حضرت عبداللہ بن عمر نے سنا کہ حضرت حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کوفہ جارہے ہیں تو انھوں نے بھی کوشش کی حضرت حسین کوفہ جانے سے باز رہیں۔ مگر ان کی کوشش بھی بےسود رہی۔ اس وقت کوفہ کے گورنر حضرت نعمان بن بشیر تھے۔ ہجرت کے وقت مدینہ منورہ میں انصار کے یہاں سب سے پہلے یہی پیدا ہوئے تھے ، وہ دیکھ رہے تھے کہ لوگ ہزاروں کی تعداد میں مسلم بن عقیل کی بیعت کر رہے ہیں مگر انھوں نے تعرض نہیں کیا۔ چنانچہ عمار بن ولید نے یزید کو ایک خط بیھجکر کوفہ کی صورت حال سے آگاہ کیا۔ بنو امیہ کے طرف داروں نے بھی خطوط لکھے کہ نعمابن بشیر سے ان خطرات کا تدارک نہیں ہوسکتا۔

یزید کو اس کے عیسائی مشیر سبرحون نے مشورہ دیا کہ نعمان بن بشیر کو معطل کیا جائے اور انکی جگہ عبید اللہ ابن زیاد کو گورنر مقرر کیا جائے ابن زیاد اس وقت بصرہ کا گورنر تھا اب کوفہ بھی ان کی ولایت میں دیا گیا ابن زیاد بڑا شاطر تھا اس نے کوفہ جانے کے لیے وہی راستہ اختیار کیا جو مدینہ منورہ سے کوفہ آتا تھا۔ وہ حجازی لباس پہنے تھا اس کے ساتھ 17 سوار تھےبصرہ میں داخل ہوتے وقت لوگ سمجھے کہ حضرت حسین رضی اللہ تعالی عنہ تشریف لائے ہیں وہ لوگوں سے السلام علیکم کہتا تو لوگ وعلیکم السلام مرحبا یا ابن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کہتے۔قصر امارت تک یہی حال رہا قصر امارت میں حضرت نعمان بن بشیر کو بھی دھوکا ہوا کہ حضرت حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہیں انہوں نے قصرامارت کے دروازے بند کیے اور کہا کہ میں تو نہ امارت آپ کے حوالے کروں گا اور نہ آپ سے لڑوں گا دوسری طرف سے آواز آئی دروازہ کھولو ورنہ میں خود کھولوں گا تو انہوں نے دروازہ کھول دیا۔ وہ اب بھی یہی سمجھے کہ حضرت حسین ہے مگر اندر جا کر معلوم ہوا کہ یہ ابن زیاد ہیں اس پر حضرت نعمان بن بشیر کو سخت ندامت ہوئی۔ قصر امارت میں داخل ہوکر ابن زیاد نے منادی کرا دی لوگ جمع ہوگئے۔ ابن زیاد لوگوں کے سامنے آیا اور تقریر کی کہ امیرالمومنین یزید نے مجھے تم پر حاکم بنا کر بھیجا ہے انہوں نے حکم دیا کہ ک فرمان بردار لوگوں پر احسان کرو اور نافرمانوں پر سختی کروں۔تقریر کے بعد اس نے کوفہ کے سرکردہ لوگوں کو گرفتار کرلیا اور ان سے ضمانت لی کے وہ کسی مخالف کو اپنے گھر میں پناہ نہیں دیں گے۔ اگر کسی نے کسی مخالف کو پناہ دے رکھی ہے تو وہ اسے حوالے کرے گا خلاف ورزی کرنے والوں کے جان و مال حلال ہوں گے۔ میں انھیں قتل کر کے ان کے سر انہیں کے دروازوں پر لٹکادوں گا اس کے ساتھ ساتھ ان کے گھر والے کبھی محفوظ نہیں ہوں گے۔

کوفہ کے لوگ ان دھمکیوں سے مرعوب ہو گئے جن لوگوں نے مسلم بن عقیل کی بیعت کی تھی ان میں سے صرف پانچ سو شام تک ان کے ساتھ رہ گئے۔اندھیرا چھا گیا تو وہ بھی ایک ایک کر کے رخصت ہوگئے۔ مسلم بن عقیل اس وقت تک مختار بن عبید کے گھر میں تھا انہوں نے حالات کا رخ دیکھ کر مختار کا گھر چھوڑا اور ہانی بن عروہ کے گھر میں پناہ لی۔ ابن زیاد نے ایک جاسوس کے ذریعے پتہ لگایا کہ مسلم بن عقیل نے ہانی کے گھر میں پناہ لے رکھی ہے۔ اس کے بعد مسلم بن عقیل کے پاس کوفہ کے لوگ جمع ہو گئے انہوں نے اپنے جوانوں کو لے کر قصر امارت کا محاصرہ کیا۔ ابن زیاد نے اپنے محل میں موجود کوفہ کے سرداروں سے کہا کہ

وہ باہر نکل کر اپنے اپنے قبیلہ کے سپاہیوں کو مسلم بن عقیل کا سر چھوڑنے پر آمادہ کرے ان سرداروں کے کہنے پر ان کے قبیلوں کے سپاہیوں نے ان کا ساتھ چھوڑ دیا اور صرف تیس جوان ان کے ساتھ رہ گئے۔ مغرب کے بعد اندھیرا چھا گیایا تو یہ بھی غائب ہوگئے چنانچہ انہوں نے ایک عورت کے مکان میں پناہ لی۔ ابن زیاد نے منادی کرا دی کہ تمام لوگ شہر کی جامع مسجد میں عشاء کی نماز پڑھیں جامع مسجد میں نماز پڑھا کر ابن زیاد نے تقریر کی اور لوگوں کو ڈرایا دھمکایا اس نے مسلم بن عقیل کو پکڑنے کے لیے حصین بن نمیر کو کوفہ کے ہر گھر کی تلاشی لینے کا حکم دیا۔ مسلم بن عقیل نے جس عورت کے گھر میں پناہ لی تھی اس کے بیٹے نے خود ہی کو کوفہ کے سردار کے بیٹے سے کہا کہ مسلم بن عقیل اس کے گھر میں موجود ہیں سردار کو جب پتہ چلا تو اس نے ابن زیاد کو اطلاع دی اس نے فوراً حکم دیا کہ مسلم کو گرفتار کر کے اس کے سامنے پیش کیا جائے۔ مسلم بن عقیل نے اپنی پناہ گاہ کے باہر لوگوں کے شور کی آواز سنی تو وہ سمجھ گئے کہ انھیں گرفتار کرنے کے لیے دشمن کے سپاہی آگئے ہیں وہ ہاتھ میں تلوار لے کر تن تنہا بڑی دلیری سے لڑنے لگے زخموں سے چور ہو کر دیوار کے سہارے کھڑے ہوگئے تو سپاہیوں نے گرفتار کر کے تلوار چھین لی۔ ابن زیاد کے محل میں پہچائے گئے جہاں چھت پر لے جا کر انہیں شہید کیا گیا۔ یہ واقعہ 9 ذالحجہ 60ھ کو پیش آیا ابن زیاد نے ان کا سر یزید کے پاس دمشق بھیج دیا اس کے بعد ایک شخص ان کے دو کم سن بچوں کے سر بھی ابن زیاد کے پاس لاۓ جو کربلا کی تاریخ کا ایک اور دردناک سانحہ ہے۔

حضرت حسین اسی دن کوفہ کے سفر پر روانہ ہوئے جس روز مسلم بن عقیل شہید کئے گئے راستے میں مختلف مقامات پر عراق سے آنے والوں نے انہیں کوفہ نہ جانے کا مشورہ دیا مگر آپ نے نہ مانا۔ ثقعلیہ کے مقام پر اطلاع ملی کے مسلم بن عقیل شہید ہو گئے ہیں انہوں نے وصیت کی تھی کہ حضرت حسین رضی اللہ تعالی عنہ کے حالات سے آگاہ کیا جائے تاکہ وہ کوفہ نہ آئے۔ حضرت حسین نے لوگوں کو جمع کرکے تقریر کی کہ کوفہ کے حالات بدل گئے ہیں ہمارے لوگوں نے ہمارا ساتھ چھوڑ دیا ہے تم میں سے جو واپس جانا چاہیے وہ واپس جائے ہماری طرف سے اس پر کوئی الزام نہیں حضرت حسین رضی اللہ عنہ کی تقریر سن کر سب لوگ چپھنا شروع ہوۓ۔ جو راستے میں ان سے ملے تھے اور صرف وہی لوگ رہ گئے جو مدینہ سے آئے تھے کچھ لوگوں نے رائے دی کہ ہمیں واپس چلنا چاہیے مگر مسلم بن عقیل کے بھائیوں نے واپس جانے سے انکار کیا۔ چلتے چلتے 6 محرم 61ھ کو ایک مقام پر پہنچ گئے۔حضرت حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے مقام کا نام دریافت کیا تو لوگوں نے بتایا کہ اس کا نام کربلا ہے۔

دوسرے دن ابن زیاد کے حکم پر عمر بن سعد چار ہزار سپاہ لے کر اسی جگہ پہچا عمر بن سعد کی کوشش تھی کہ حضرت حسین کو ان کے ہاتھوں کو کوئی تکلیف نہ پہنچے مگر ابن زیاد حسین سے بیعت لینے پر مصر تھا۔ 60 محرم تک عمر بن سعد اور حضرت حسین کے درمیان تھی بعد ملاقات ہوئی بعض مورخین لکھتے ہیں کہ عمر بن سعد نے حضرت حسین سے کہا آپ چلے جائیں جہاں آپ کو جانا ہے حضرت حسین رات کو چلتے تھے مگر صبح کو اسی جگہ ہوتے تھے جہاں سے سفر شروع کرتے تھے۔ اس سے حضرت حسین رضی اللہ تعالی عنہ سمجھ گئے کہ مقتل یہی ہے ابن زیادہ 7 محرم کو ایک خط عمر بن سعد کو بھیجا جس میں اصرار کیا گیا تھا کہ حضرت حسین رضی اللہ تعالی عنہ یز ید کی بیعت کریں۔ یہ بھی کہا گیا تھا کہ حضرت حسین رضی اللہ تعالی عنہ پر پانی بند کیا جائے چنانچہ عمر بن سعد نے 7 محرم کو حضرت حسین رضی اللہ تعالی عنہ اور ان کے ساتھیوں پر پانی بند کر دیا مگر عباس بن علی اپنے ساتھیوں کو لے کر دریا پر پہنچ گئے اور عمر بن سعد کے سپاہیوں سے مقابلہ کرتے ہوئے مشکوں میں پانی بھر کر لائے

اس دوران عمر بن سعد اور حضرت حسین رضی اللہ تعالی عنہ کی کئ بار ملاقاتیں ہوئیں عمر بن سعد نے ابن زیاد کو خط لکھا کہ خدا کا شکر ہے کہ فتنہ فرو ہو گیا۔ حضرت حسین رضی اللہ تعالی نے تین تجاویز سامنے رکھی ہیں امید ہے آپ بھی ان تجاویز کو مانیں گے۔ ابن زیاد نے خط دیکھا تو اس نے بھی ان تجاویز کو ماننے کا عندیہ دیا مگر شمر آڑے آیا اس نے ابن زیاد سے کہا کہ آپ حضرت حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو حکم دیں کہ اپنے آپ اور اپنے ساتھیوں کو آپ کے حوالے کردیں ابن زیاد؛ شمرکے جھانسے میں آیا۔ اس نے عمر بن سعد کو خط لکھا کے تم حضرت حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو ڈھیل دیتے ہو ہم اس لیے آپ کو نہیں بھیجا ہے۔ اس نے شمر سے کہا کہ اگر عمر بن سعد میرا حکم بجالاۓ تو اس کی اطاعت کرنا اگر وہ حکم عدولی کرے تو اسے ہٹانا اور فوج اپنی ماتحتی میں لینا اور اس کا سر کاٹ کر میرے پاس بھیجنا۔ ابن زیاد نے عمر بن سعد کے نام خط میں لکھا تھا کہ حضرت حسین رضی اللہ تعالی عنہ اور ان کے ساتھیوں سے بغیر کسی شرط کے ہتھیار ڈالنے کے لیے کہنا اگر وہ مان جائیں تو سب کو حفاظت میں میرے پاس بھیجنا۔ اگر انکار کرے تو ان پر حملہ کر کے انہیں قتل کر دو۔ اور قتل کے بعد ان کی لاش گھوڑوں سے روند ڈالو۔شمر نے خط لے جا کا عمر بن سعد کو دیا۔ عمر نے دیکھا تو سمجھ گیا کہ سارا کچھ شمر نے کروایا ہے۔ شمر نے عمر بن سعد سے کہا کیا تم امیر کے حکم کی اطاعت کرکے دشمن سے جنگ کرو گے تو مجھے بتاؤ اگر نہیں لڑنا ہے تو فوج کو حوالے کر دو۔ شمر کی پھوپھی ام البنین حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے نکاح میں تھیں۔ ان سے حضرت علی کے چار بیٹے عباس ،جعفر عبداللہ اور عثمان تھے جو کربلا میں حضرت حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ساتھ تھے۔ شمر نے ان چاروں کے لیے ابن زیاد سے امان حاصل کی تھی۔ جنگ سے پہلے اس نے ان چاروں کو بلایا اور کہا کہ میں نے ابن زیاد سے تم چاروں کے لیے امان حاصل کر لی مگر انہوں نے جواب دیا تم پر اور تمہاری امان پر لعنت ہو۔ ہمہارے لیے امان ہے مگر ابن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے امان نہیں تمہاری امان کے ہمیں حاجت نہیں۔

عمر بن سعدنے 9محرم ہی سے جنگ کی تیاریاں شروع کیں رات کو ان کی ملاقات حضرت حسین رضی اللہ تعالی عنہ کے بھائی حضرت عباس سے ہوئی۔ انہوں نے ایک رات کی مہلت مانگی تاکہ وہ اللہ کی عبادت کریں اور استغفار کرلیں عمر بن سعد نے یہ بات مان لیں اور واپس گئے اس کے بعد حضرت حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنے تمام ساتھیوں کے سامنے تقریر کی۔ انہوں نے خدا کی تعریف کرتے ہوئے اور اپنے خاندان میں نبوّت کی نعمت کا تذکرہ کرتے ہوئے دعا کی اللہ ہم سب کو شکر گزار بندوں میں شامل فرمائے انہوں نے کہا کہ میں نے اپنے ساتھیوں سے زیادہ وفادار اہل بیت سے زیادہ نیک اور صلہ رحمی کرنے والے کبھی نہیں دیکھے۔ اے ساتھیوں کل کا دن میرے اور دشمنوں کے درمیان فیصلے کا آخری دن ہے میرے دشمنوں کو صرف میری ضرورت ہے میں تمہیں اجازت دیتا ہوں میری طرف سے کوئی گلہ نہ ہوگا اور رات ہوچکی ہے میرے اہل بیت کا ساتھ پکڑ لو اندھیرے میں ادھر ادھر چلے جاؤ اور اپنی جانوں کو بچاؤ۔

حضرت حسین رضی اللہ تعالی عنہ کی تقریر سن کر ان کے بھائیوں، بیٹوں ،بھتیجوں اور عزیزوں نے بیک زبان کہا

ہم آپ کے بعد زندہ رہ کر کیا کریں گے۔ اپنی جانیں، اپنے اموال اور اپنے اہل و عیال سب آپ پر قربان کریں گے جو انجام آپ کا ہوگا وہی ہمارا ہوگا۔ آپ کے تمام عزیزوں اور ساتھیوں نے جذبہ عقیدت کا اظہار کیا۔ اپنے عزیزوں اور ساتھیوں کا اخلاص دیکھ کر حضرت حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ بہت متاثر ہوئے۔

رات کو آپ نمازوں میں مشغول رہے۔ دعائیں نانگیں اور استغفار کرتے رہے۔ اپنی بہن حضرت زینب کو وصیت کی کہ جب میں مروں تو گریباں چاک نہ کرنا ، نوحہ اور آہ و بکا نہ کرنا۔

10 محرم الحرام 61 ھ ۱۱ اکتوبر ۱۸۶ ءجمعہ کا دن تھا۔ نماز فجر کے بعد حضرت حسین ؓ نے اپنے ساتھیوں کی صف بندی کی اس کے بعد آپ نے دشمن فوجوں کے سامنے تقریر کی۔ حضرت حسین ؓ کے ساتھ بتیس سوار اور چالیس پیادے تھے۔ آپ کی تقریر نے مخالف کیمپ کے ایک شخص جس کا نام حر بن یزید تھا؛ اسی نے پہلے حضرت حسین کا راستہ روک دیا تھا۔ اس نے اپنا کیمپ چھوڑا اور حضرت حسین کے ساتھ شامل ہوا۔ حر نے اپنی قوم سے مخاطب ہوکر کہا کہ اگر تم نے توبہ نہ کی تو قیامت کے دن پیاسے تڑپوگے۔ مگر ان کی تقریر کے بعد ہی عمربن سعد کے غلام درید نے یہ کہتے ہوئے تیر چلایا کہ لوگو! گواہ رہو سب سے پہلے میں نے تیر چلایا۔ اس کے بعد دونوں طرف سے ایک ایک دو دو آدمی نکلتے اور مبارزت طلبی کرتے مگر حضرت حسین کی طرف سے لڑنے والے بہادر تھے۔ اس لیے نقصان عمر بن سعد کے سپاہیوں کا ہوتا تھا۔ اس لیے شمر نے چاروں طرف سے حملہ کردیا۔ حضرت حسین کے ساتھی ایک ایک کرکے سب شہید ہوئے جن میں ۲۵ مرد اورایک عورت تھی۔ اب بنو ہاشم کی باری تھی۔ سب سے پہلے حضرت حسین کے بیٹے علی اکبر میدان میں آئے۔ اس کے بعد مسلم میں عقیل کے بیٹے اور بھائی نکلے اور ایک ایک کرکے سب شہید ہوئے۔ حضرت حسن ؓ کے بیٹے قاسم تلوار لیکر میدان میں نکلے تو عمرو بن سعد کے ایک سپاہی نے ان کی گردن پر تلوار ماری۔ قاسم زمین پر گرے تو حضرت حسین نے سپاہی پر حملہ کرکے اس کا ہاتھ کاٹ ڈالا۔ اسے اپنے ہی سپاہیوں نے گھوڑوں سے روند ڈال کرہلاک کردیا۔ حضرت حسین ؓ اپنے خیمہ کے سامنے کھڑے تھے۔ اسی وقت ان کے ہاں ایک بچہ پیدا ہوا جس کا نام عبداللہ رکھا گیا۔ بچہ حضرت حسین کے پاس لایا گیا۔ آپ اس کے کان میں اذان دینے لگے۔ عمرو بن سعد کے ایک سپاہی نے تیر مارا جو بچے کے حلق میں لگا اور وہ اسی وقت شہید ہوگیا۔ یہ کر بلا کا سب سے کم عمر شہید تھا۔ اہل بیت میں سے دو کمسن بچے بھی حضرت حسین کے دفاع میں میں نکلے وہ بھی شہید ہوگئے۔ شمر کے پھوبھی زاد بھائی عباس بن علی ؓ، عبداللہ بن علی ؓ، جعفر بن علی ؓ اور عثمان بن علی ؓ بڑی بے جگری سے لڑے اور داد شجاعت دیتے ہوئے ایک ایک کرکے سب شہید ہوئے۔ اس کے بعد حضرت حسین لڑنے لگے۔ شمر ایک جماعت لیکر آپ پر حملہ آور ہوا۔ ایک سپاہی نے حضرت حسین کے سر پر تلوار ماری جو ٹوپی کر چیرتی ہوئی سر پر لگی۔ آپ ٹوپی اتار کر سر پر پٹی باندھ لی اور سرپر ٹوپی لگاکر اس پر عمامہ باندھ لیا۔ اس دوران ان کا نو عمر بھتیجا ہاتھ میں لکڑی لے کر خیمے سے نکلا اور حضرت حسین کے پہلو میں کھڑا ہوگیا۔ بچے نے حملہ آور سپاہی ابی بن کعب سے کہا کہ ارے خبیث ! تو میرے چچا کو قتل کرے گا۔ ابی بن کعب نے تلوار مار کر بچے کا ہاتھ کاٹ ڈالا۔ بچہ تکلیف سے چلانے چیخنے لگا تو حضرت حسین نے اسے اپنی آغوش میں اٹھالیا۔

حضرت زینب ؓ اپنے دو بچوں عون اور محمد کو لے آئی۔ ان میں ایک کی عمر ۶ سال اور دوسرے کی عمر ۸ سال کی تھی اور انہوں نے حضرت حسین سے کہا کہ یہ دونوں آپ پر قربان ہوجائیں گے حضرت حسین نے کہاکہ ان دونوں کو آپ واپس لیجائیں۔ انہوں نے ابھی دنیا میں دیکھا ہی کیا ہے مگر حضرت زینب نہ مانی یہ اتنے چھوٹے تھے کہ جب حضرت زینب نے ان کے کمر سے تلواریں باندھیں تو تلواریں زمین سے لگ رہی تھیں۔ یہ دونوں شہید ہوگئے۔

حضرت حسین کے بیٹے علی بن حسین ؓ جو زین العابدین کے لقب سے مشہور ہیں اس وقت بیمار تھے اور چارپائی پر لیٹے تھے۔ انہوں نے اسی حالت میں حضرت حسین سے اجازت طلب کی کہ میں بھی لڑوں گا مگر انہوں نے اجازت نہیں دی کہ تم بیمار ہو۔حضرت حسین خیمے سے نکلے اور بڑی بہادری سے لڑنے لگے۔ دشمن نے چاروں طرف سے ان پر حملہ کردیا آپ لڑتے لڑتے زخموں سے چور ہوچکے تھے۔ شمر کے ساتھیوں نے آپ پر تیروں کی بارش کردی۔ اسی دوران شمر چلایا تمہارا ناش ہو تم حسین کو قتل نہیں کرتے۔ یہ سن کر زرعہ بن شریک نے آپ کے بائیں بازو پر تلوار مار کر اسے جدا کردیا۔ پھر آپ کے شانے پر تلوار ماری سنان بن انس نے آپ کو نیزہ مارا جس سے آپ زمین پر گر پڑے۔ سنان نے آپ کا سر تن سے جدا کردیا۔

حضرت حسین ؓ کی شہادت کے بعد شمر اور اس کے سپاہی اہل بیت کے خیموں میں داخل ہوئے۔ شمر حضرت زین العابدین کو قتل کرنا چاہتے تھے جو بیمار تھے مگر حمید بن مسلم نے کہا کہ کیا تم بچوں کو بھی قتل کروگے۔ شمر کے دوسرے ساتھیوں نے بھی کہا کہ ہم اس بیمار کو قتل نہیں کریں گے۔ اسی دوران عمر بن سعد بھی آگیا اس نے کہا خبر دار کوئی شخص خیموں میں نہ جائے اور بیمار کو ہاتھ نہ لگائے اور جس نے جو کچھ لوٹا ہے وہ واپس کرے۔ اس نے خیموں پر کچھ سپاہی تعینات کئے تاکہ عورتوں اور بچوں کی حفاظت کی جائے۔

عمر بن سعد نے واپس آکر میدان میں پکارا کہ حسین کا جسم روندنے کے لیے کون کون تیار ہے۔ دس آدمیوں نے اپنے نام لکھوائے چنانچہ ان دس آدمیوں نے جسم اطہر کو روند ڈالا۔

شہادت کے وقت حضرت حسین کی عمر چھپن برس پانچ ماہ پانچ دن تھی۔آپ کے ساتھ بہتر آدمی شہید ہوئے جن میں اٹھارہ ابو طالب کی آل میں سے تھے۔ ان میں آپ کے بیٹے ، بھتیجے، بھانجے ، بھائی، چچازاد بھائی اور چچا زاد بھائیوں کے بیٹے تھے۔ عمر بن سعد کے اٹھاسی سپاہی کربلا میں ہلاک ہوئے تھے۔

شہادت کا یہ واقعہ یوم عاشورہ ١٠ محرام الحرام ٦١ ھ ۱۱ اکتوبر ۱۸۶ کو نماز ظہر کے بعد پیش آیا۔ اس دن جمعہ تھا۔ حضرت حسین نے اپنے ساتھیوں سے کہا کہ دشمنوں سے کہو کہ وہ ہمیں نماز پڑھنے دیں مگر دشمنوں نے یہ بات نہ مانی اس لیے حضرت حسین اور ان کے ساتھیوں نے میدان کا رزار ہی میں نماز خوف ادا کی۔

شہادت کے دو روز بعد عمر بن سعد اہل بیت کی عورتوں ، بچوں اور زین العابدین کو اپنے ساتھ لیکر کربلا سے کوفہ چلاگیا۔ ان کے جانے کے بعد ایک نزدیکی بستی غاصریہ کے لوگوں نے آکر نماز جنازہ ادا کی اور شہداء کی لاشیں دفن کردی۔

حضرت حسین ؓ نے کربلا کا راستہ اپنا کر دنیا کے تمام روشن ضمیروں کیلیے ایک نمونہ پیش کیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا بھر کے انقلابی انہیں اپنا رہنما اور پیشوا مانتے ہیں:

انسان کو بیدار تو ہولینے دو

ہر قوم پکارے گی ہمارے ہیں حسین ؓ

حضرت حسین نے ظلم کے خلاف آواز اٹھائی اور ظلم کے خلاف لڑتے ہوئے اپنی جان ، اپنی اولاد ، اپنا خاندان اور مال و متاع سب کچھ قربان کردیا اور یہ بلند مقام انہیں کیلیے خاص ہے۔ انہیں شہید کرنے والے بھی اپنے آپ کو دیندار سمجھتے تھے مگر بقول فیض:

جو ظلم پہ لعنت نہ کرے آپ لعین ہے

جو جبر کا منکر نہیں وہ منکر دین ہے

Continue Reading

دنیا

معاہدہ نہ ہونے پر وسط مدتی انتخابات کے بعد ایران پر دوبارہ فوجی کارروائی ممکن: ٹرمپ

Published

on

واشنگٹن، یکم اکتوبر (یو این آئی) امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ اطمینان بخش معاہدہ نہ ہونے کی صورت میں امریکہ وسط مدتی انتخابات کے بعد تہران کے خلاف دوبارہ فوجی کارروائی کرسکتا ہے، تاہم انہوں نے ایران کے ساتھ دیرپا امن کے امکان پر بھی سوال اٹھایا۔

ٹائم میگزین کو دیے گئے انٹرویو میں ٹرمپ نے کہا کہ انہوں نے آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے سے متعلق ایرانی تجویز مسترد کردی کیونکہ اس کی شرائط ان کی توقعات کے مطابق نہیں تھیں۔ ان کے بقول ایران نے آبنائے کے صرف ’’کچھ حصوں‘‘ کو کھولنے کی پیشکش کی تھی۔

ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقی نے کہا تھا کہ تہران نے آبنائے ہرمز سات روز میں دوبارہ کھولنے کا منصوبہ امریکہ کو پیش کیا ہے۔ بعد میں ایرانی حکام اور سرکاری میڈیا نے بتایا کہ واشنگٹن نے جوابی تجویز دی ہے جس پر تہران غور کررہا ہے۔

ٹرمپ نے کہا کہ ایران کے خلاف امریکی فوجی کارروائی حالیہ ہفتوں میں بڑی حد تک رک گئی ہے، تاہم ضرورت پڑنے پر اسے دوبارہ شروع کیا جاسکتا ہے۔ وسط مدتی انتخابات کے بعد نئے حملوں کے امکان سے متعلق سوال پر انہوں نے کہا، ’’یہ ممکن ہے‘‘، اور امریکہ کے پاس ’’بہت سے ہتھیار‘‘ موجود ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ابتدا میں انہیں توقع تھی کہ جنگ چھ سے آٹھ ہفتے جاری رہے گی، لیکن ایران کی جوہری صلاحیتوں کی تباہی کے بعد انہوں نے کارروائی جاری رکھنے کا فیصلہ کیا تاکہ تہران اپنی صلاحیتیں کسی اور شکل میں دوبارہ بحال نہ کرسکے۔

دوسری جانب ایرانی صدر مسعود پیزشکیان نے کہا ہے کہ تہران واشنگٹن کے ساتھ مذاکرات کے لیے تیار ہے، باوجود اس کے کہ ان کے مطابق مذاکرات کے دوران امریکہ نے ایران پر تین حملے کیے۔ انہوں نے کہا، ’’ہم نے کبھی مذاکرات سے گریز نہیں کیا اور نہ کریں گے۔‘‘

پیزشکیان نے کہا کہ ایران اقتصادی مسائل حل کرنے اور پاکستان، عراق، ترکمانستان اور آذربائیجان کے راستے تجارتی روابط بڑھانے کی کوشش کررہا ہے۔

آبنائے ہرمز دنیا کے اہم ترین تیل بردار بحری راستوں میں شامل ہے۔ 2025 میں روزانہ تقریباً دو کروڑ بیرل تیل اور تیل کی مصنوعات اس راستے سے گزرتی تھیں، جو عالمی تیل تجارت کا تقریباً 20 فیصد ہے۔ عالمی ایل این جی کی تقریباً 20 فیصد تجارت بھی آبنائے سے ہوتی ہے، جس میں قطر کا نمایاں حصہ ہے۔

ایران کے شمال میں واقع آبنائے ہرمز کے جنوب میں عمان اور متحدہ عرب امارات ہیں اور یہ خلیج فارس کو بحیرہ عرب سے ملاتی ہے۔ یہ آبنائے توانائی کے علاوہ ایل این جی، کھاد، خوراک، ادویات اور دیگر اشیا کی عالمی ترسیل کے لیے بھی اہم ہے۔ عالمی کھاد تجارت کا تقریباً ایک تہائی حصہ معمول کے حالات میں اسی راستے سے گزرتا ہے۔

یو این آئی۔ ع ا۔

Continue Reading

دنیا

ایران امریکہ سے مذاکرات کی کوشش جاری رکھے گا: پیزشکیان

Published

on

تہران، ایرانی صدر مسعود پیزشکیان نے کہا ہے کہ امریکہ کی جانب سے مذاکرات کے دوران ایران پر تین حملوں کے باوجود تہران واشنگٹن کے ساتھ بات چیت کی کوشش جاری رکھے گا۔

نیم سرکاری خبر رساں ایجنسی تسنیم کے مطابق کاروباری شخصیات سے ملاقات میں پیزشکیان نے کہا، ’’ہم نے کبھی مذاکرات سے گریز نہیں کیا اور نہ کریں گے، اگرچہ امریکہ نے ہمارے ملک کو تین بار نشانہ بنایا۔‘‘

انہوں نے کہا کہ حکومت کاروباری شعبے کو درپیش مسائل حل کرنے کے لیے سنجیدگی سے کام کررہی ہے اور ایرانی قیادت معاشی مشکلات سے نمٹنے کی کوششوں میں ہم آہنگی پیدا کررہی ہے۔

پیزشکیان نے کہا کہ آبنائے ہرمز کے ذریعے بحری آمدورفت میں رکاوٹوں کے پیش نظر ایران پاکستان، عراق، ترکمانستان اور آذربائیجان سمیت پڑوسی ممالک کے راستے تجارتی روابط بڑھانے کی کوشش کررہا ہے۔

ادھر آبنائے ہرمز میں بحری نقل و حمل میں جاری رکاوٹوں پر عالمی سطح پر توانائی اور غذائی تحفظ کے حوالے سے تشویش بڑھ رہی ہے۔ اقوام متحدہ کے انڈر سیکریٹری جنرل اور آبنائے ہرمز ٹاسک فورس کے سربراہ جارج موریرا دا سلوا نے یورپی پارلیمنٹ کی خارجہ امور کمیٹی کو بتایا کہ بحران عالمی توانائی اور غذائی تحفظ کو متاثر کررہا ہے، جبکہ خلیج سے کھاد کی درآمد پر انحصار کرنے والے ترقی پذیر ممالک خاص طور پر متاثر ہوسکتے ہیں۔

انہوں نے سوڈان، صومالیہ، موزمبیق اور تنزانیہ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ان ممالک کی کھاد کی 50 سے 60 فیصد ضروریات خلیجی خطے سے پوری ہوتی ہیں۔

دا سلوا کے مطابق بحران کے باعث کھاد کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ اور اس کے استعمال میں کمی آئی ہے، جس سے زرعی پیداوار متاثر ہونے اور غذائی عدم تحفظ بڑھنے کا خدشہ ہے۔

انہوں نے بتایا کہ اقوام متحدہ نے آبنائے ہرمز سے کھاد کی ترسیل جاری رکھنے کے لیے ایک مجوزہ طریقہ کار تیار کیا ہے۔ اس کے تحت شپنگ ایجنٹس کھاد کی ترسیل کے لیے درخواستیں رجسٹر کریں گے اور منظوری کے بعد اقوام متحدہ متعلقہ فریقوں اور ریاستوں کے ساتھ رابطہ کرکے بحری جہازوں کے لیے محفوظ راستہ یقینی بنانے میں مدد کرے گا۔

یو این آئی ۔ ع ا۔

Continue Reading

ہندوستان

ڈیفنس اکاونٹس کے شعبے کے مالیاتی نظام کو زیادہ ڈیجیٹل اور شفاف بنانے کی ضرورت: راج ناتھ

Published

on

نئی دہلی، وزیرِ دفاع راج ناتھ سنگھ نے ڈیفنس اکاونٹس کے شعبے کے مالیاتی نظام میں زیادہ سے زیادہ انضمام، ڈیجیٹل کاری اور شفافیت پر زور دیا ہے۔

مسٹر سنگھ نے جمعرات کے روز یہاں ڈیفنس اکاونٹس کے شعبے کی 279ویں سالانہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے فوج، بحریہ اور فضائیہ کے مالیاتی نظام کو زیادہ سے زیادہ مربوط کرنے نیز مینجمنٹ انفارمیشن سسٹم کے اعداد و شمار کو حقیقی وقت میں اپ ڈیٹ کرنے کی ضرورت بتائی۔ انہوں نے کہا کہ روایت سے ہٹ کر بجٹ کا ‘سالانہ جائزہ’ لینے کے بجائے کسی بھی وقت جائزہ لینے پر توجہ دی جانی چاہیے۔ انہوں نے ڈیفنس اکاونٹس کے شعبے کو ملک کی دفاعی تیاریوں کی ریڑھ کی ہڈی قرار دیتے ہوئے اس کے تقریباً تین صدیوں کے تعاون کی ستائش کی۔

وزیرِ دفاع نے ڈیفنس اکاونٹس کے شعبے کے ڈیجیٹل نیز مربوط اکاؤنٹنگ اور ادائیگی کے نظام ‘سکشم’ کی بھی تعریف کی۔ انہوں نے کہا کہ اسے ہندوستانی فوج کے مالیاتی معلومات کے نظام سے جوڑنے سے بجٹ، منظوری اور بلوں سے متعلق معلومات کا ڈیجیٹل تبادلہ ممکن ہوا ہے اور بلوں کا عمل مکمل طور پر بغیر کاغذ ہو گیا ہے۔

انہوں نے سال 26-2025 میں بجٹ کے 100 فیصد اخراجات پر شعبے اور تینوں افواج کی مشترکہ کوششوں کی ستائش کی۔ پنشن سے متعلق شکایتوں کے ازالے کے لیے بات چیت پر مبنی آرٹیفیشل انٹیلی جنس (اے آئی) نظام تیار کرنے کی تجویز دیتے ہوئے انہوں نے شکایتوں اور عدالتی معاملات کے جلد تصفیے پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ ملک کے دفاع میں زندگی وقف کرنے والوں کے جائز بقایا جات اور سروس حقوق کے معاملات میں نظام مضبوط، غیر جانبدار، حساس اور ذمہ دار ہونا چاہیے۔

مسٹر سنگھ نے مکمل طور پر خودکار محصولات کی خریداری کے نظام ‘سمپورن’ کو جلد نافذ کرنے پر بھی زور دیا۔ اس موقع پر انہوں نے دفاعی مالیاتی معلومات کے نظاموں کے انضمام، دفاعی اخراجات کی نگرانی اور وزارتِ دفاع میں فنڈز کے سنگل اکاؤنٹ کے نظام سے جڑی تین اہم پہل قدمیوں کا بھی آغاز کیا۔

ان میں ‘سکشم’ کو ہندوستانی فوج کے مالیاتی معلومات کے نظام سے جوڑنا، وزارتِ دفاع میں فنڈز کے سنگل اکاؤنٹ کا نظام اور دفاع کے لیے نیا قومی کمپائلیشن سسٹم شامل ہیں۔ نئے کمپائلیشن سسٹم سے بجٹ اور اخراجات کی مزید دقیق نگرانی نیز وزارتِ مالیات، وزارتِ دفاع اور متعلقہ حکام کے لیے تفصیلی رپورٹنگ میں مدد ملے گی۔

تقریب میں ڈیفنس منسٹرز ایکسیلنس ایوارڈز-2026) بھی دیے گئے۔ یہ ایوارڈز دفاعی مالیاتی انتظام میں سدھار، جدت، اہلیت اور شفافیت کے لیے دیے گئے۔ انہوں نے ڈیفنس اکاونٹس کے شعبے کی تین مطبوعات کا بھی اجراکیا۔ ان میں دفاعی اخراجات پر جامع اعداد و شمار کے کتابچہ-2026، رکشا لیکھا بھارتی اور مارکیٹ انٹیلی جنس رپورٹ 25-2026 شامل ہیں۔

یواین آئی ایف اے

Continue Reading
Advertisement
دنیا16 hours ago

معاہدہ نہ ہونے پر وسط مدتی انتخابات کے بعد ایران پر دوبارہ فوجی کارروائی ممکن: ٹرمپ

دنیا16 hours ago

ایران امریکہ سے مذاکرات کی کوشش جاری رکھے گا: پیزشکیان

ہندوستان16 hours ago

ڈیفنس اکاونٹس کے شعبے کے مالیاتی نظام کو زیادہ ڈیجیٹل اور شفاف بنانے کی ضرورت: راج ناتھ

دنیا16 hours ago

فلائی دبئی کاک پٹ حملے میں ایران کے ملوث ہونے کا کہنا قبل از وقت: نیتن یاہو

دنیا17 hours ago

متحدہ عرب امارات کا فلائی دبئی کے طیارے میں کاک پٹ چاقو زنی کی تحقیقات کا حکم

دنیا17 hours ago

ہیگستھ کا امریکی فوج میں تبدیلی کے لیے چھ بڑے اقدامات کا اعلان

دنیا17 hours ago

جنوبی کوریا امریکہ میں 200 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کرے گا

جموں و کشمیر17 hours ago

سری نگر پولیس نے بین ریاستی منشیات نیٹ ورک کا پردہ فاش کیا، آٹھ افراد گرفتار

جموں و کشمیر17 hours ago

کشمیر میراتھن اتحاد اور نوجوانوں کے متبادل خواہشات کا پیغام دیتی ہے: ایل جی سنہا

دنیا19 hours ago

پاکستان کے افغانستان میں فضائی حملے، 22 عسکریت پسندوں کی ہلاکت کا دعویٰ، کابل کے مطابق 9 شہری جاں بحق

جموں و کشمیر19 hours ago

اے سی بی نے سری نگر میں 50000 روپے رشوت کے الزام میں ایگریکلچر کے ڈپٹی ڈائریکٹر اور معاون کو گرفتار کیا

ہندوستان20 hours ago

راہل نے آن لائن فارم-6 میں تبدیلی پر الیکشن کمیشن، ٹی سی ایس سے پوچھے سوالات

جموں و کشمیر20 hours ago

جے اینڈ کے: لیفٹیننٹ جنرل سیٹھ نے جموں میں قائم وائٹ نائٹ کور کے جی او سی کا عہدہ سنبھالا

جموں و کشمیر20 hours ago

جموں و کشمیر: لیفٹیننٹ گورنر کے جعلی لیٹر ہیڈ اور دستخط استعمال کرنے کے الزام میں ایک شخص کے خلاف فردِ جرم داخل

ہندوستان22 hours ago

کمرشیل ایل پی جی گیس سلنڈر مہنگا ہوا

دنیا22 hours ago

نیتن یاہو کا فلائی دبئی کے طیارے میں سیکڑوں جانیں بچانے پر ہندوستانی پائلٹ کا شکریہ

جموں و کشمیر2 days ago

پیرا نے جموں و کشمیر کے چیف سیکریٹری اور قانون سکریٹری کے خلاف مراعات کی تحریک پیش کی

جموں و کشمیر2 days ago

فوج نہ صرف ملک کا دفاع کرتی ہے بلکہ جموں و کشمیر کے لوگوں کے لیے مدد، ہمدردی اور شفا کا ذریعہ بھی ہے: لیفٹیننٹ گورنر سنہا

دنیا2 days ago

ایران کو قطر کے ذریعے آبنائے ہرمز کی تجویز پر امریکی جواب موصول

جموں و کشمیر2 days ago

جاوید ڈار نے اسمبلی میں سی اے جی کی رپورٹیں پیش کیں

جموں و کشمیر2 days ago

اپوزیشن لیڈر کا عمر پر ریاستی حیثیت کی بحالی کے مطالبے کو ’سبوتاژ‘ کرنے کا الزام، جموں و کشمیر اسمبلی کا اجلاس ’بدقسمت‘ قرار

جموں و کشمیر2 days ago

جموں و کشمیر کے اسپیکر نے حکومت کو 15 دن میں کار پالیسی کو حتمی شکل دینے کی ہدایت دی

ہندوستان2 days ago

ہندوستان پر 100 فیصد امریکی برآمدی ڈیوٹی کے خدشے کے درمیان مودی اور ٹرمپ نے کی ٹیلی فون پر بات چیت

ہندوستان2 days ago

بیلا کلسٹر کے 729 ووٹوں میں سے 728 کو حذف کرنا ووٹ کی چوری : راہل

دنیا2 days ago

امریکی فوج کے انخلا کے بعد عراق کو نئی سکیورٹی صورتحال میں توازن کے چیلنج کا سامنا

دنیا2 days ago

قطری ثالثی کی امریکہ، ایران کے درمیان مذاکرات میں معمولی پیش رفت

جموں و کشمیر2 days ago

جموں و کشمیر پولیس نے سرحد پار مشکوک سرگرمیوں کے درمیان سوشل میڈیا پر نگرانی بڑھائی

جموں و کشمیر2 days ago

لون نے اسمبلی میں ای ڈبلیو ایس سرٹیفکیٹ میں فرق پر تشویش کا اظہار کیا

جموں و کشمیر2 days ago

فوج صرف ملک کی سرحد کی حفاظت ہی نہیں، بلکہ جموں و کشمیر کے لوگوں کو امداد، ہمدردی اور علاج بھی فراہم کرتی ہے: سنہا

ہندوستان2 days ago

شیئر بازاروں میں گراوٹ جاری، سینسیکس 49 پوائنٹس پھسلا

ہندوستان2 days ago

قابلِ تجدید توانائی کے لیے بنے گا خصوصی گرڈ، 1.86 لاکھ کروڑ کی پی ایم دھارا اسکیم منظور

ہندوستان2 days ago

ڈیفنس اکاؤنٹس ڈیپارٹمنٹ کے 279ویں سالانہ دن پر کئی نئی پہل کی شروعات کریں گے راج ناتھ

ہندوستان2 days ago

گیانیش کمار استعفیٰ دیں، ہٹائے گئے ووٹروں کی فہرست عام کی جائے: کھرگے

دنیا2 days ago

ہیگستھ امریکی جنرل اور ایڈمرل کے عہدوں میں 20 فیصد کمی کریں گے

دنیا2 days ago

امریکی سپریم کورٹ نے تارکین وطن کو تیسرے ممالک بھیجنے کی اجازت دے دی

جموں و کشمیر2 days ago

بڈگام کے یوسمرگ میں پاکستانی لشکر طیبہ کا جنگجو جھڑپ میں ہلاک

دنیا2 days ago

برطانیہ کے وزیر اعظم نے انتخابی اصلاحات کے لیے قومی کمیشن بنانے کا اعلان کیا

دنیا2 days ago

ٹرمپ کا مصنوعی ذہانت کے شعبے کی نگرانی کے لیے کمیٹی بنانے کا منصوبہ

ہندوستان3 days ago

ترکیہ کے صدر کو ہندوستان کی خود مختاری سے جڑے معاملے میں بولنے کا کوئی حق نہیں: وزارتِ خارجہ

جموں و کشمیر3 days ago

جموں و کشمیر اسمبلی میں بی جے پی کے احتجاج کے بعد عمر نے ارکان اسمبلی اور وزراء کی تنخواہوں میں اضافے کے بل واپس لیے

جموں و کشمیر3 days ago

جموں و کشمیر: سی آئی ایس ایف کیمپ میں فائرنگ، 4 اہلکاروں کی مبینہ موت

جموں و کشمیر3 days ago

پہلی بار جموں میں قومی پیراگلائڈنگ ایکوریسی کپ، 24 سے 26 اکتوبر تک مقابلے ہوں گے

جموں و کشمیر3 days ago

گزشتہ 12 برسوں میں ادھم پور میں انقلابی تبدیلی آئی: ڈاکٹر جتیندر

دنیا3 days ago

خلیجی تنازع کے عالمی معاشی اثرات کے درمیان قطر کی امریکہ، ایران کے درمیان ثالثی جاری رکھنے کی کوشش

دنیا3 days ago

آبنائے ہرمز کھولنے کی تجویز پر امریکہ کے جواب کا انتظار ہے: ایران

جموں و کشمیر3 days ago

جموں جی آر پی نے 12 سال بعد مفرور کو گرفتار کر لیا

جموں و کشمیر3 days ago

جموں و کشمیر اسمبلی کے اختیارات کو نوکرشاہی سے ملے چیلنج پر کانگریس ایم ایل اے کے سوالات

دنیا3 days ago

عالمی قوانین کے زوال سے دنیا ’ہابسیائی‘ نظام کی طرف بڑھ سکتی ہے: جے شنکر

دنیا3 days ago

آر اے ایف بیس کے قریب مشتبہ منصوبے کے پیچھے غیر ملکی ہاتھ : امریکہ

دنیا3 days ago

ہیگستھ نے 2026 کے انتخابات کو غیر ملکی خطرات سے بچانے کے لیے امریکی دفاعی اداروں کو ہدایات دیں

جموں و کشمیر8 months ago

ورلڈ کپ کی گونج، کشمیری ولو کے بیٹس کی مانگ میں زبردست اضافہ

ہندوستان6 months ago

مغربی ایشیا کے بحران کے باعث عالمی بینک نے مالی سال 27 کے لیے ہندوستان کی شرح نمو کم کر کے 6.6 فیصد کر دی

اداریہ5 years ago

یوکرین کے خلاف روس کا رویہ تشویشناک : برطانیہ

ہندوستان5 months ago

غیر آئینی طریقوں سے پارٹیوں کو توڑنا جمہوری ڈھانچے پر براہ راست حملہ ہے: بھگونت مان

جموں و کشمیر7 months ago

“وادی کشمیر میں اسرائیل اور امریکہ مخالف احتجاجی مظاہروں کی لہر”

اہم خبریں4 years ago

عید کی آمد کے ساتھ ہی لوگوں کی کثیر تعداد بازاروں میں دھیکنے کو مل رہی ے۔ کھچ مناظر ان تصاویر میں

تازہ ترین7 months ago

خامنہ ای کی مبینہ شہادت: کشمیر میں ریلیاں، ایم ایم یو کی مکمل ہڑتال کی کال

تازہ ترین4 years ago

عید کی آمد پر سرینگر کے مختلف بازاروں میں خرید و فروخت کے کھچ مناظر

تازہ ترین8 months ago

لمبرداروں اور چوکیداروں کا مسائل کے حل کے لیے حکومت کو میمورنڈم

جموں و کشمیر8 months ago

ڈیلی ویجروں کا بحران

جموں و کشمیر6 months ago

جموں جناح، علامہ اقبال اور سر سید احمد خان سے نفرت کیوں کرتا ہے؟

تازہ ترین8 months ago

وضاحت | وحید الرحمن پرّا کے ’’جموں و کشمیر کا مفاہمت، صدمے سے شفا اور وقار بل، 2026‘‘ کی تشریح

پاکستان5 months ago

پاکستان اور چین کا ایران۔امریکہ کشیدگی کم کرنے پر زور، اسحق ڈار اور وانگ ای میں رابطہ

اہم خبریں8 months ago

وزیراعلیٰ عمر عبداللہ نے بجٹ 2026-27 پیش کرنے کے بعد میڈیا سے خطاب کیا

تازہ ترین4 years ago

کشمیری کسان شہتوت کی کاشتکاروں کرتے ہوئے۔

تجزیہ10 months ago

دہشت گردی کے بھولے ہوئے متاثرین

اداریہ5 years ago

بی جے پی ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کررہی ہے،کمیشن میں شکایت درج کرائیں گے:اکھلیش

کھیل8 months ago

ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ 2026: آئی سی سی کے موقف کی بی سی سی آئی نے بھی تائید کر دی

تازہ ترین8 months ago

پاکستان نے سخت مقابلے میں نیدرلینڈز کو تین وکٹوں سے شکست دی

تازہ ترین8 months ago

لوک سبھا کی کارروائی دن بھر کے لیے ملتوی

اداریہ5 years ago

ممبئی سیریل بلاسٹ کا ملزم یو اے ای میں گرفتار

تازہ ترین8 months ago

مرکزی بجٹ خود کفیل، مضبوط اور عالمی سطح پر مسابقتی ہندوستان کے وزیراعظم مودی کے عزم کے مطابق ہے: کھنڈیلوال

تازہ ترین3 years ago

شیلاء رشید کا سفر موقعہ پرستی یا دوگلا پن

اہم خبریں8 months ago

جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی میں سجاد غنی لون کی دھواں دار تقریر

تصاویر6 years ago

ٹک ٹاک اپنے عالمی توسیعی پروگرام کے لیے تین ہزار انجینئرز بھرتی کرے گا

تصاویر6 years ago

مصر میں فرعونوں کے دور کے درجنوں تابوتوں کی سنسنی خیز دریافت

دنیا8 months ago

واشنگٹن پوسٹ کی رپورٹ نے کھلبلی مچا دی، خلیجی اتحادیوں کا ٹرمپ کو ممکنہ تباہی سے خبردار

تازہ ترین8 months ago

ڈنمارک میں اسرائیلی سفارت خانے کے قریب گرینڈ دھماکہ کے ملزم دو سویڈش شہریوں کو جیل

ہندوستان8 months ago

صدر کے خطاب میں ترقی یافتہ ہندوستان کے اہداف نمایاں: سونووال

تازہ ترین11 months ago

ستائیسویں ترمیم: پاکستان کی فوج کس طرح قانون کے ذریعے آئین پر اثرانداز ہو رہی ہے

تازہ ترین8 months ago

سری لنکا کی پاکستان سے ہندوستان ٹی20 میچ کے بائیکاٹ پر نظرِ ثانی کی اپیل

دنیا7 months ago

پاکستانی فوج کا افغانستان کے خلاف فضائی آپریشن شروع

تجزیہ10 months ago

کشمیر میں بجلی نرخوں میں اضافہ عوام پر سیدھا وار

تازہ ترین9 months ago

امکان کی سیاست اور مفتی محمد سعید کا نظریہ

تازہ ترین8 months ago

کشمیری کسانوں کے لیے بڑی پیش رفت، جدید ٹیکنالوجی کا آغاز

جموں و کشمیر2 months ago

اسپورٹس کوٹا پر مبنی ملازمتیں: جے اینڈ کے بی جے پی نے اعلیٰ سطحی جانچ کا مطالبہ کیا، احتجاجی کھلاڑیوں کی حمایت کی

اہم خبریں6 years ago

اس صدی کے آخر تک برفانی ریچھ دنیا سے مٹ جائیں گے

تازہ ترین4 years ago

چھیڑ چھاڑ کا سامنا کرنے والی خواتین ہم سے رابطہ کریں۔

جموں و کشمیر2 years ago

چین، امریکہ پاکستان کو بھارت کے خلاف مدد کررہا ے/ انٹرویو

تازہ ترین3 years ago

متحدہ عرب امارات کا ہندو مندر اور نریندر مودی کی لوک سبھا الیکشن مہم

تازہ ترین4 years ago

راہل مشتاق: غیر ملکی نسل کے مرغوں کا پالٹری فارم قائم کرنے والا نوجوان

جموں و کشمیر8 months ago

کشمیر میں اگلے 36 گھنٹوں کے دوران ہلکے برف و باراں کا امکان

تازہ ترین4 years ago

ڈل جھیل پر پرندوں کا جنگل سیاحوں کی توجہ کا نیا مرکز

اداریہ5 years ago

میری جنگ دستوری سیکولرزم سے نہیں، سیاسی سیکولرزم سے ہے: اویسی

تازہ ترین8 months ago

امت شاہ کا تین روزہ دورہ جموں و کشمیر:سیاسی ملاقاتیں اور اعلیٰ سطحی سکیورٹی میٹنگیں ایجنڈے میں شامل

جموں و کشمیر8 months ago

زعفران پیداوار میں کمی کا دعویٰ غلط؛ 3715 ہیکٹیر رقبہ برقرار: حکومت

اداریہ5 years ago

اردو شعر و ادب کا ’تحریک آزادی‘ میں ناقابل فراموش کردار رہا ہے: پروفیسر نجمہ اختر

جموں و کشمیر11 months ago

لیفٹنٹ گورنر نے کیا گورنمنٹ کوٹھی باغ گرلز ہائر سیکنڈری اسکول سری نگر میںDREAMا سکول پروجیکٹ کا افتتاح

تازہ ترین4 years ago

کشمیر: شدید زلزلے کے دوران اپنے جانوں کی پرواہ کئے بغیر ڈاکٹروں اور دیگر عملے نے خاتون کا کامیاب آپریشن کیا

تازہ ترین4 years ago

جموں وکشمیر میں اسمبلی انتخابات کے انعقاد کے لئے قومی سیاسی جماعتوں اور الیکشن کمیشن آف انڈیا کے ساتھ ملاقی ہونگے: فاروق عبداللہ

جموں و کشمیر5 months ago

پہلگام میں محسوس ہوتی عجیب خاموشی

جموں و کشمیر6 months ago

جموں و کشمیر میں نئی انتظامی ڈویژنز کی تجویز: چناب اور پیر پنجال کی وضاحت

جموں و کشمیر7 months ago

“وادی کشمیر میں اسرائیل اور امریکہ مخالف احتجاجی مظاہروں کی لہر”

جموں و کشمیر8 months ago

ڈیلی ویجروں کا بحران

تازہ ترین8 months ago

ایس ایم ایچ ایس اسپتال کے باہر غیر قانونی پارکنگ

تازہ ترین8 months ago

کشمیری کسانوں کے لیے بڑی پیش رفت، جدید ٹیکنالوجی کا آغاز

جموں و کشمیر8 months ago

ورلڈ کپ کی گونج، کشمیری ولو کے بیٹس کی مانگ میں زبردست اضافہ

اہم خبریں8 months ago

وزیراعلیٰ عمر عبداللہ نے بجٹ 2026-27 پیش کرنے کے بعد میڈیا سے خطاب کیا

اہم خبریں8 months ago

جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی میں سجاد غنی لون کی دھواں دار تقریر

تازہ ترین8 months ago

وضاحت | وحید الرحمن پرّا کے ’’جموں و کشمیر کا مفاہمت، صدمے سے شفا اور وقار بل، 2026‘‘ کی تشریح

جموں و کشمیر11 months ago

لیفٹنٹ گورنر نے کیا گورنمنٹ کوٹھی باغ گرلز ہائر سیکنڈری اسکول سری نگر میںDREAMا سکول پروجیکٹ کا افتتاح

جموں و کشمیر3 years ago

جموں وکشمیر کے صحت شعبے میں اہم اصلاحات لاے جارہے ے

تجزیہ3 years ago

پاکستان میں سیاسی بحران اور بینلاقوامی میڈیا کی کوریج

تازہ ترین3 years ago

8 فروری 2024 کے الیکشنز اور 1971 کے الیکشنز میں یکسانیت اور ملک کا تقسیم

تازہ ترین3 years ago

کشمیر میں عیسایت اور مسیحاؤں کے سماجی کام

تازہ ترین3 years ago

متحدہ عرب امارات کا ہندو مندر اور نریندر مودی کی لوک سبھا الیکشن مہم

تازہ ترین3 years ago

جموں وکشمیر میں الیکشنز کو کیوں التواء میں ڈالا گیا ؟

جموں و کشمیر3 years ago

بیگ کی واپسی اور پی ڈی پی کا مستقبل

تازہ ترین3 years ago

شیلاء رشید کا سفر موقعہ پرستی یا دوگلا پن

جموں و کشمیر3 years ago

جی ٹونٹی اجلاس: کشمیر میں ہڑتال قصہ پارینہ، یہاں کے لوگوں نے ہڑتالی کلچر کو مسترد کیا:مرکزی وزیر مملکت

تازہ ترین3 years ago

سری نگر جموں شاہراہ پر ٹریفک کی آمدورفت بحال

تازہ ترین3 years ago

جموں وکشمیر میں کووڈ کی نئی لہر سے بچے متاثر، یومیہ ایک سے دو کیس رپورٹ

تازہ ترین4 years ago

کپواڑہ میں کمسن بچی کے قتل کے الزام میں باپ گرفتار: ایس ایس پی کپواڑہ

تازہ ترین4 years ago

کشمیر میں رک رک کر بارشوں کا سلسلہ جاری، باغ مالکان سے باغوں کی دو پاشی نہ کرنے کی تاکید

تازہ ترین4 years ago

جائیداد ٹیکس کا فیصلہ سرکار کا ہے ہمیں اس پر عملدرآمد کرانا ہے: جی ایم سی میئر

جموں و کشمیر4 years ago

راہل گاندھی کی نا اہلی کے خلاف جموں وکشمیر میں کانگریس کا احتجاج

تازہ ترین4 years ago

کپوارہ میں ایل او سی کے نزدیک ماتا شاردا مندر کا کھل جانا ایک خوش آئند بات ہے: محبوبہ مفتی

تازہ ترین4 years ago

کشمیر: شدید زلزلے کے دوران اپنے جانوں کی پرواہ کئے بغیر ڈاکٹروں اور دیگر عملے نے خاتون کا کامیاب آپریشن کیا

تازہ ترین4 years ago

منصوبہ بند سازش کے تحت بٹہ مالو بس اسٹینڈ کو دوسری جگہ منتقل کیا گیا، رونقیں دوبارہ واپس لوٹ آئیں گی: رویندر رینا

تازہ ترین4 years ago

فرضی پی ایم او عہدیدار معاملہ: یہ انٹلی جنس کی ناکامی نہیں بلکہ فیلڈ افسر کی لاپرواہی ہے: اے ڈی جی پی کشمیر

تازہ ترین4 years ago

کشمیر اس قدر خوبصورت کہ جہاں کیمرہ رکھا جائے گا وہ فلم شوٹنگ کے لئے بہتر جگہ: بالی ووڈ ادا کار عمران خان

جموں و کشمیر4 years ago

Video ایڈیشنل ڈائریکٹر پی ایم او معاملہ:تحقیقات کے لئے سہہ رکنی ٹیم تشکیل: پولیس

جموں و کشمیر4 years ago

|Video رام بن میں ٹرک دریائے چناب میں جا گرا، بچاؤ آپریشن جاری

تازہ ترین4 years ago

تازہ ترین4 years ago

جموں وکشمیر میں اسمبلی انتخابات کے انعقاد کے لئے قومی سیاسی جماعتوں اور الیکشن کمیشن آف انڈیا کے ساتھ ملاقی ہونگے: فاروق عبداللہ

تازہ ترین4 years ago

ویڈیو| ٹیولپ گریڈن کے بلوم کے پیچھے موجود ہیروز کو جانیں۔

جموں و کشمیر4 years ago

کشمیر سے ایم بی اے پاس آؤٹ نے غیر ملکی نسلوں کے ساتھ منفرد پولٹری فارم قائم کیا

تازہ ترین4 years ago

سری نگر کے مائسمہ میں آتشزدگی، تین دکان خاکستر

تازہ ترین4 years ago

پراپرٹی ٹیکس کے خلاف چیمبر آف کامرس نے 11مارچ کو جموں بندھ کی کال دی

تازہ ترین4 years ago

حبیبی کچن سڑک کے کنارے ایک شاہانہ ریستوراں

جموں و کشمیر4 years ago

مختلف اسامیوں کے امیدواروں کا سری نگر میں ایپ ٹک کمپنی کے خلاف احتجاج

تازہ ترین4 years ago

ڈل جھیل پر پرندوں کا جنگل سیاحوں کی توجہ کا نیا مرکز

تازہ ترین4 years ago

راہل مشتاق: غیر ملکی نسل کے مرغوں کا پالٹری فارم قائم کرنے والا نوجوان

تازہ ترین4 years ago

چھیڑ چھاڑ کا سامنا کرنے والی خواتین ہم سے رابطہ کریں۔

تازہ ترین4 years ago

شالیمار زرعی یونیورسٹی میں میلہ, ایک لاکھ لوگوں نے شمولیت اختیار کی

تازہ ترین4 years ago

ہندوستان-اٹلی نے اسٹریٹجک پارٹنرشپ کا اعلان کیا۔

تازہ ترین4 years ago

جائیداد ٹیکس کے خلاف جموں میں تاجروں کا احتجاج

تازہ ترین4 years ago

این آئی اے نے سری نگر میں العمر کے چیف مشتاق زرگر کے مکان کو قرق کر دیا

تازہ ترین4 years ago

سری نگر کے بٹہ مالو علاقے میں گاڑی کی ٹکر سے پولیس اہلکار کی رائفل سے اچانک گولی نکلی

تازہ ترین4 years ago

کشمیر میں طویل سرمائی تعطیلات کے بعد اسکول دوبارہ کھل گئے

Advertisement

Trending