جموں و کشمیر
وزیردفاع کا پاکستان کو پیغام:آپریشن سندور ابھی ختم نہیں ہوا، ہم پوری پکیچر دکھائیں گے
23منٹوںمیں دہشت گردوں کے9ٹھکانے زمین بوس
لوگوں کو ناشتہ کرنے میں جتنا وقت لگتا ہے، اتنے میں فضائیہ نے دہشت گردی کو کچل ڈالا
بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کو پاکستان کو دی جانے والی امداد پر نظر ثانی کرنی چاہیے: راج ناتھ سنگھ
سری نگر :جے کے این ایس: وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے جمعہ کو بھج ایئربیس سے پاکستان کو سخت پیغام دیتے ہوئے کہا ہے کہ آپریشن سندور ابھی ختم نہیں ہوا ہے۔انہوں نے کہا کہ وقت آنے پر پوری پکچر دکھائیں گے۔راجناتھ سنگھ نےبین الاقوامی مالیاتی فنڈ( IMF) سے پاکستان کو دی جانے والی ایک بلین امریکی ڈالر کی امداد پر نظر ثانی کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے خبردارکیاکہ اسلام آباد اسے دہشت گردی کی مالی معاونت کےلئے استعمال کر سکتا ہے۔جے کے این ایس مانٹرینگ ڈیسک کے مطابق جمعرات کو سری نگرکا دورہ کرنے کے بعد وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ آپریشن سندور کے بعد جمعہ کو بھج گجرات ایئربیس پہنچے۔ انہوں نے یہاں فوجیوں سے ملاقات کی۔ راج ناتھ سنگھ نے پاکستان کو سخت پیغام دیتے ہوئے کہا کہ آپریشن سندور ابھی ختم نہیں ہوا۔ انہوں نے کہا کہ وقت آنے پر پوری پکچر دکھائیں گے۔ وزیر دفاع نے ہندوستانی فضائیہ کی تعریف کی ہے۔وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے بھج میں کہا کہ یہ کوئی چھوٹی بات نہیں ہے کہ ہماری فضائیہ کو پاکستان کے کونے کونے تک رسائی حاصل ہے، یہ بات پوری طرح سے ثابت ہو چکی ہے۔
انہوںنے کہاکہ آج صورتحال یہ ہے کہ ہندوستان کے لڑاکا طیارے سرحد پارکئے بغیر یہاں سے ملک کے کونے کونے پر حملہ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے کہاکہ پوری دنیا نے دیکھا کہ کس طرح آپ نے پاکستانی سرزمین پر دہشت گردوں کے9 اڈوں کو تباہ کیا اور اس کے بعد کی کارروائی میں ان کے کئی ائیر بیس تباہ کر دئیے۔ وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے اپنی تقریر میں پاکستان پر طنز کرتے ہوئے کہا کہ لوگوں کو ناشتہ کرنے میں جتنا وقت لگتا ہے،اتنے وقت میں آپ(بھارتی فضائیہ) نے دشمنوں کو ختم کر دیا ہے۔ انہوں نے کہاکہ آپریشن سندور کے دوران آپ(بھارتی فضائیہ) نے جو کچھ بھی کیا اس سے تمام ہندوستانیوں کو فخر ہوا، چاہے وہ ہندوستان میں ہوں یا بیرون ملک۔انہوںنے کہاکہ پاکستان میں بڑھتی ہوئی دہشت گردی کو کچلنے کےلئے بھارتی فضائیہ کے لیے صرف 23 منٹ ہی کافی تھے۔ بھج ایئر بیس پربھارتی فضائیہ کے جوانوں سے خطاب کرتے ہوئے وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے کہاکہ کل ہی میں نے سری نگر میں اپنے بہادر فوجی جوانوں سے ملاقات کی۔ آج میں یہاں ہوائی جنگجوو ¿ں سے مل رہا ہوں۔
کل میں نے شمالی علاقے میں اپنے فوجیوں سے ملاقات کی اور آج میں ملک کے مغربی حصے میں فضائی جنگجوو ¿ں اور دیگر سیکورٹی اہلکاروں سے ملاقات کر رہا ہوں۔ وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے کہاکہ میں دونوں محاذوں پر بلند حوصلہ اور توانائی دیکھ کر بہت پرجوش ہوں۔ مجھے یقین ہے کہ آپ ہندوستان کی سرحدوں کو محفوظ رکھیں گے۔وزیر دفاع نے کہا کہ آپ نے آپریشن سندور کے دوران جو کچھ کیا اس سے پوری قوم کا سر فخر سے بھر گیا ہے۔ بھارتی فضائیہ کےلئے صرف23 منٹ پاکستانی سرزمین پر بڑھتے ہوئے دہشت گردی کو کچلنے کےلئے کافی تھے۔انہوںنے کہاکہ اگر میں یہ کہوں تو غلط نہ ہوگا کہ لوگوں کو ناشتہ کرنے اور پینے میں جتنا وقت لگتا ہے، آپ نے اپنے دشمنوں سے نمٹا ہے۔
دشمن کے علاقے میں آپ کے گرائے گئے میزائلوں کی گونج پوری دنیا نے سنی۔ اور درحقیقت وہ بازگشت صرف میزائل کی نہیں تھی، وہ بازگشت آپ کی بہادری اور ہندوستان کی بہادری کی تھی۔راجناتھ سنگھنے کہا کہ آپریشن سندور میں ہندوستانی فضائیہ کے موثر کردار کو نہ صرف اس ملک میں بلکہ دیگر ممالک میں بھی سراہا جا رہا ہے۔ آپ نے اس آپریشن میں نہ صرف دشمن پر غلبہ حاصل کیا بلکہ ان کا قلع قمع کرنے میں بھی کامیابی حاصل کی۔ دہشت گردی کے خلاف اس آپریشن کی قیادت ہماری فضائیہ نے کی۔ ہماری فضائیہ ایک ایسی ”اسکائی فورس“ ہے، جس نے اپنی بہادری، ہمت اور جاہ و جلال سے آسمان کی نئی اور بلندیوں کو چھو لیا ہے۔وزیردفاع نے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (IMF) سے پاکستان کو دی جانے والی ایک بلین امریکی ڈالر کی امداد پر نظر ثانی کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے خبردارکیاکہ اسلام آباد اسے دہشت گردی کی مالی معاونت کے لیے استعمال کر سکتا ہے۔ فوجی اہلکاروں سے خطاب میں وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے کہا کہ ہندوستان نہیں چاہتا کہ وہ آئی ایم ایف کو جو فنڈنگ دیتا ہے اس کا استعمال براہ راست یا بالواسطہ طور پر پاکستان یا کسی دوسرے ملک میں دہشت گردی کا بنیادی ڈھانچہ بنانے کے لیے کیا جائے۔انہوں نے کہا کہ مجھے یقین ہے کہ آج کے دور میں پاکستان کو کسی بھی قسم کی مالی امداد دہشت گردی کی مالی معاونت سے کم نہیں۔وزیردفاع نے کہا کہ بھارت چاہے گا کہ آئی ایم ایف پاکستان کو دی جانے والی ایک ارب ڈالر کی امداد پر نظر ثانی کرے اور مستقبل میں کسی قسم کی امداد دینے سے گریز کرے ۔راجناتھ سنگھ نے کہا کہ آپریشن سندورمیں ہندوستان کی مسلح افواج نے نہ صرف دشمن پر غلبہ حاصل کیا بلکہ انہیں ختم کرنے میں بھی کامیابی حاصل کی۔انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف مہم کو مو ثر طریقے سے آگے بڑھانے پر ہندوستانی فضائیہ کی تعریف کی۔وزیردفاع نے کہاکہ ہماری فضائیہ نے اپنی بہادری، ہمت اور شان سے نئی اور عظیم بلندیوں کو چھو لیا ہے۔
جموں و کشمیر
معروف کشمیری مصنف سروا نند کول ‘پریمی’، ان کے چھوٹے بیٹے ویریندر کول کے قتل کیس میں جموں و کشمیر میں نو مقامات پر چھاپے
سرینگر، جموں و کشمیر کی اسٹیٹ انویسٹی گیشن ایجنسی (ایس آئی اے) نے بدھ کے روز معروف کشمیری شاعر و مصنف سروا نند کول ‘پریمی’ اور ان کے چھوٹے بیٹے ویریندر کول کے 1990 میں ہونے والے قتل کے سلسلے میں جموں و کشمیر میں نو مقامات پر چھاپے مارے۔
حکام نے بتایا کہ یہ تلاشی ضلع اننت ناگ کے ڈورو تھانے میں درج ایف آئی آر کے تحت لی گئی۔ اس کیس کی تحقیقات اب ایس آئی اے کے سپرد کر دی گئی ہیں۔
بدھ کے روز چلائے گئے اس آپریشن کے دوران تلاشی والے مقامات، برآمد شدہ مواد یا ثبوتوں کے حوالے سے تفصیلی معلومات کا ابھی انتظار ہے۔
مسٹر پریمی (65) اور ان کے بیٹے ویریندر (27) کو مئی 1990 میں جنوبی کشمیر کے ضلع اننت ناگ میں واقع ان کے آبائی گاؤں میں دہشت گردوں نے قتل کر دیا تھا۔ اس واقعے کے ایک ہفتے کے اندر ہی کول خاندان نے کشمیر چھوڑ دیا تھا۔
مسٹر پریمی ایک معروف شاعر، مصنف اور مترجم تھے، جنہوں نے تین درجن سے زائد کتابیں تصنیف کی تھیں۔ ان کی اہم ادبی تخلیقات میں ‘بھگود گیتا’ کا اردو میں، ‘رامائن’ کا کشمیری میں اور ربندر ناتھ ٹیگور کی ‘گیتانجلی‘ کا ترجمہ شامل ہے۔
یہ تازہ چھاپے ایس آئی اے کی جانب سے 1990 میں کشمیری پنڈت نرس سرلا بھٹ کے قتل سے جڑے ایک اور طویل عرصے سے زیر التواء کیس میں چارج شیٹ داخل کرنے کے ایک ماہ سے زائد عرصے بعد سامنے آئے ہیں۔
ایجنسی نے 29 جون کو سرینگر کی ایک خصوصی عدالت کے سامنے 737 صفحات پر مشتمل چارج شیٹ پیش کی تھی، جس میں محترمہ سرلا بھٹ کے اغوا اور قتل کے کیس میں جیل میں بند محمد یاسین ملک سمیت جموں کشمیر لبریشن فرنٹ (جے کے ایل ایف) کے پانچ کارندوں کے نام شامل ہیں۔ ملزمان میں سے تین کی موت ہو چکی ہے، جبکہ خورشید احمد چالکو فرار ہے اور اس کے پاکستان بھاگ جانے کا اندیشہ ہے۔
ایس آئی اے نے کشمیر میں دہشت گردی کے ابتدائی دور کے پرانے مقدمات کی تحقیقات کی کوششوں کے تحت سرلا بھٹ کیس کو دوبارہ کھولا تھا۔
یواین آئی۔الف الف
جموں و کشمیر
جموں میں آبادیاتی تبدیلیوں سے متعلق پینل کو پناہ گزینوں کی تنظیم نے یادداشت پیش کی
جموں، پی او جے کے سے بے گھر افراد کی تنظیم ایس او ایس انٹرنیشنل کے ایک وفد نے منگل کو یہاں جسٹس پرکاش پربھاکر نولیکر (ریٹائرڈ) کی سربراہی میں آبادیاتی تبدیلیوں سے متعلق پینل کو ایک تفصیلی یادداشت پیش کی۔
ایس او ایس انٹرنیشنل کے چیئرمین راجیو چونی کی قیادت میں وفد میں پروفیسر این این شرما (نائب چیئرمین)، ونود کمار دتہ (جنرل سکریٹری)، بھائی رام سنگھ (سکریٹری) اور وید راج بالی (سکریٹری) شامل تھے۔ وفد نے یادداشت پیش کرتے ہوئے 1947 سے پاکستان کے زیر قبضہ جموں و کشمیر (پی او جے کے) کی ہندو اور سکھ آبادی کے ساتھ روا رکھے گئے تاریخی ناانصافی کو ریکارڈ پر لایا اور پینل سے ٹھوس اصلاحی اقدامات کرنے کا مطالبہ کیا۔
جاری کردہ بیان کے مطابق یادداشت میں نشاندہی کی گئی کہ 1947 کے حملے کے بعد اس وقت کی جموں و کشمیر حکومت نے ابتدائی طور پر تقریباً 31,600 خاندانوں کا اندراج کیا تھا، جبکہ تقریباً 9,500 خاندانوں کو معمولی اور غیر معقول وجوہات کی بنیاد پر من مانے طریقے سے رجسٹریشن سے محروم کر دیا گیا۔
رجسٹرڈ خاندانوں میں سے صرف تقریباً 26,300 خاندانوں کو ریاست کے اندر آباد کیا گیا، جبکہ تقریباً 5,300 رجسٹرڈ خاندانوں کے ساتھ ساتھ 9,500 غیر رجسٹرڈ خاندانوں کو ہندوستان کے دیگر حصوں میں پناہ لینے پر مجبور ہونا پڑا۔ باقاعدہ طور پر رجسٹر کیے گئے خاندانوں کے ریکارڈ اب بھی جموں و کشمیر حکومت کے سرکاری ریکارڈ میں موجود ہیں۔
یادداشت میں کہا گیاکہ ’’یہ خاندان مہاراجہ ہری سنگھ کے 1927 کے اسٹیٹ سبجیکٹ قانون کے تحت ریاست کے اصل باشندے تھے اور انہوں نے بارہا اپنے آبائی وطن واپس جانے کی خواہش کا اظہار کیا ہے۔‘‘
تاہم بحالیِ آبادکاری کی کسی جامع پالیسی یا ادارہ جاتی مدد کی مکمل عدم موجودگی کے باعث ان کے پاس دوسری جگہ اپنی زندگی دوبارہ شروع کرنے کے علاوہ کوئی راستہ نہیں تھا۔ بیان کے مطابق اس وقت ریاست سے باہر رہنے والی ان کی آبادی کا تخمینہ پانچ سے چھ لاکھ ہے۔
ایس او ایس انٹرنیشنل نے یہ بھی نشاندہی کی کہ جموں و کشمیر کی اُس وقت کی حکومت کے 2014 کے کابینہ فیصلے میں ہر متاثرہ خاندان کو 25 لاکھ روپے نقد امداد، تعلیم یافتہ بے روزگار نوجوانوں کے لیے 8,500 سرکاری ملازمتیں اور پیشہ ورانہ و تکنیکی اداروں میں ریزرویشن دینے کا وعدہ کیا گیا تھا، لیکن جموں و کشمیر یا سابق ریاست سے باہر جلاوطنی کی زندگی گزارنے والے خاندانوں کے لیے اس پر عمل نہیں کیا گیا۔
جاری۔یواین آئی۔ طـ ا
جموں و کشمیر
یومِ آزادی سے قبل کشمیر بھر میں کثیر سطحی سکیورٹی انتظامات
سری نگر، 15 اگست کو یومِ آزادی کی تقریبات کے پیش نظر سری نگر اور وادیٔ کشمیر کے دیگر علاقوں میں کثیر سطحی سکیورٹی انتظامات کیے گئے ہیں۔
سری نگر میں جہاں وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ بخشی اسٹیڈیم میں قومی پرچم لہرائیں گے، سکیورٹی فورسز نے تقریب کے مقام اور اس سے متصل علاقوں میں سکیورٹی نظام کو مزید مضبوط کر دیا ہے۔
کشمیر کے انسپکٹر جنرل پولیس وی کے بردی نے منگل کو کہا کہ یومِ آزادی کی تقریبات کو خوش اسلوبی سے منعقد کرنے کے لیے نہ صرف مرکزی مقام بلکہ پورے شہر اور وادی کے مختلف اضلاع میں بھی وسیع سکیورٹی انتظامات کیے جا رہے ہیں۔
بردی نے نامہ نگاروں سے کہاکہ ’’جیسا کہ آپ جانتے ہیں، 15 اگست کو سری نگر میں مرکزی تقریب منعقد ہونے والی ہے۔
اس کے لیے سکیورٹی انتظامات اور پریڈ کی تیاریاں جاری ہیں۔ مکمل لباس میں ریہرسل کی جا رہی ہیں تاکہ 15 اگست کی مرکزی تقریب سری نگر میں بخوبی منعقد کی جا سکے۔‘‘
انہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر پولیس نے پوری وادی میں کثیر سطحی سکیورٹی انتظامات کیے ہیں۔
آئی جی پی نے کہاکہ ’’جموں و کشمیر پولیس نے نہ صرف سری نگر بلکہ وادی کے مختلف اضلاع میں بھی کثیر سطحی سکیورٹی انتظامات کیے ہیں۔ یہ انتظامات صرف تقریبات کے مقامات تک محدود نہیں ہیں بلکہ شہر کے اطراف بھی کیے گئے ہیں۔ اس بار بھی اسی طرح کے انتظامات کیے گئے ہیں۔‘‘
جنوبی کشمیر میں حالیہ واقعات کے بعد ممکنہ دہشت گردانہ حملوں یا دیگر خطرات کے بارے میں کسی پیش رفت کے متعلق پوچھے جانے پر بردی نے کہا کہ معاملہ زیرِ تفتیش ہونے کی وجہ سے اس کی تفصیلات ظاہر کرنا مناسب نہیں ہوگا۔
انہوں نے کہاکہ ’’دیکھیے، یہ تفتیش کا معاملہ ہے۔ اس لیے میرے خیال میں ابھی اس کی تفصیلات ظاہر کرنا مناسب نہیں ہوگا۔
جب بھی ایسی کوئی بات ہوگی جسے آپ کے ساتھ شیئر کرنا ضروری ہوگا، ہم مناسب وقت پر آپ کو اس سے آگاہ کریں گے۔‘‘
یومِ آزادی کی تقریبات کے دوران عوام کے لیے پولیس کے پیغام کے بارے میں بردی نے کہا کہ یہ تقریب عوام کی ہے اور انہوں نے شہریوں سے بڑی تعداد میں تقریبات میں شرکت کرنے کی اپیل کی۔
آئی جی پی نے کہاکہ ’’دیکھیے، یہ عوام کی تقریب ہے۔ پولیس اس میں مددگار یا منتظم کا کردار ادا کرتی ہے۔ چونکہ یہ عوام کی تقریب ہے، اس لیے ہم لوگوں سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ بڑی تعداد میں اس میں شرکت کریں اور اسے کامیاب بنائیں۔‘‘
دریں اثنا، منگل کو سکیورٹی اداروں نے یومِ آزادی کی تقریبات میں خلل ڈالنے کی کسی بھی کوشش کو ناکام بنانے کے لیے سخت سکیورٹی اقدامات کے تحت سری نگر بھر میں تخریب کاری مخالف جانچ، علاقے میں غلبہ قائم کرنے کی کارروائیوں، نگرانی اور تلاشی کی کارروائیاں تیز کر دیں۔
کئی چیک پوسٹوں پر دو پہیہ گاڑیوں کو روکا گیا اور سواروں کی شناخت کی تصدیق کے ساتھ ان کی تلاشی بھی لی گئی۔
یواین آئی۔ـظ ا
-
دنیا2 days agoایران کا فی الحال امریکہ کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں: ایرانی وزیر خارجہ
-
ہندوستان2 days agoطلبہ پر کارروائی کے معاملے پر حکومت کو گھیرتے ہوئے راہل کا مضمون، کھڑگے اور پرینکا نے حمایت کی
-
دنیا2 days agoسعودی عرب میں فیکٹری میں آگ کے سبب 16 بنگلہ دیشی مزدور ہلاک
-
دنیا24 hours agoایران نے خود کو ایک ‘ناقابل تسخیر طاقت’ ثابت کیا ہے: عراقچی
-
جموں و کشمیر24 hours agoیومِ آزادی سے قبل جموں و کشمیر پولیس نے سرحدی سامبا میں طویل فاصلے کی گشت اور فرضی انسدادِ دہشت گردی مشق کی
-
دنیا2 days agoٹرمپ جوہری معاہدے کے بغیر ایران کے ساتھ تنازع ختم کرنے پر تیار: رپورٹ
-
دنیا24 hours agoشام کے سابق صدر بشار الاسد کو سزائے موت سنادی گئی
-
دنیا2 days agoکیسپین سمندر معاہدے کا مستقبل ایران کی پارلیمنٹ طے کرے گی: اسماعیل بقائی
-
دنیا1 day agoیمن میں حوثیوں کے المخا اور مارب پر بیلسٹک میزائل حملے
-
دنیا21 hours agoموساد کے سابق سربراہ کا انکشاف، ماضی میں ایران کی فردو جوہری تنصیب کا کئی بار دورہ کیا
-
دنیا1 day agoٹرمپ کا ایران سے معاوضے کا مطالبہ، آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
-
دنیا1 day agoایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
