تازہ ترین
وزیر اعظم دورۂ ریاست:وادی میں مکمل ہڑتال سے بازاروں میں سناٹا؛سڑکیں ویران ؛ریل اورانٹرنیٹ خدمات معطل
خبراردو:
وزیر اعظم نریندر مودی نے اتوارکو سخت سیکورٹی کے بیچ اپنا ایک روزہ دورہ مکمل کر لیا ۔اس دوران انہوں جموں ،کشمیر اور لداخ کے تینوں خطوں کے لئے الگ الگ تعمیراتی پروجیکٹوں کی سنگ بنیاد رکھی ہے ۔ادھر کشمیر میں مزاحمتی قیادت کی کال پر وزیر عظم کے دورے کے موقعے پرپوری وادی میں مکمل رہی ہے ۔جس کے نتیجے میں یہاں تمام بازار بند رہے جبکہ سڑکوں سے ٹرانسپوٹ غائب رہا ہے ۔اس دوران سرکار کی جانب سے دورے کے پیش نظر کسی کو بھی کو شہر کے اندر داخل ہونے کی اجازت نہیں دی گئی ۔جس دوران یہاں تمام سڑکوں پر سیکور ٹی کا سخت پہرہ بٹھایا گیا ،جبکہ فورسز نے ناکے اور خاردار تار اکثر سڑکوں پر چھائی تھی اور کسی بھی شخص کو شہر کے اندر داخل ہونے کی اجازت نہیں جا رہی تھی۔ ادھر انتطامیہ نے اتوار کے صبح محمد یاسین ملک کو گرفتار کر لیا ہے جکہ میرواعظ سمیت متعدد لیڈان کو ایک روز قبل ہی خانہ نظر بند کیا گیا ۔
وزیر اعظم نریندرمودی نے سخت سیکورٹی کے بیچ اتوار کوجموں لداخ اور کشمیر میں مختلف تعمیراتی پروجیکٹوں کی سنگ بنیاد رکھنے کے ساتھ ہی اپنا ایک روزہ دوروہ ریاست مکمل کر لیا ۔جس دوران ان کے دوران کے حفاظت کے سخت انتظامات کئیں گئیں ہیں ۔ جبکہ کشمیر وادی میں مزاحمتی کال پر مکمل ہڑتال رہی ہے ۔جس کے نتیجے میں وزیرعظم کے دورے کے موقعے پر مکمل ہڑتال رہی ۔جس دوران وادی کشمیر بشمول سرینگر میں تمام کار باری ادارے بند رہے جبکہ سڑکوں سے ٹرانسپورٹ غائب رہا ۔جبکہ نشاط سے ڈلگیٹ تک ایک روز قبل ہی علاقے کو سیل کیا گیا تھا جہاں کسی کوبھی چلنے کی اجزات نہیں دی جا رہی تھی۔
ادھر انتظامیہ نے پوری وادی میں سنیچر کے رات12بجے سے ہی انٹرنیٹ خدمات کو خدمات پر رول لگا دی . جبکہ وادی کشمیر میں چلنے والی ٹرین سروس کو بھی ہڑتال کے پیش نظر مکمل طور بند رکھا گیاتھا۔ وادی کشمیر میں وزیرعظم کو ایس کے آئی سی سی میں کئی پروجیکٹوں کا افتتاح اور سنگ بنیاد رکھنا تھا کے پیش نظر پورے شہر سرینگر کو سنیچر کی رات کو ہی سیل کیا تھا جس دوران پورے شہر کو فوجی چجاونی میں تبدیل کیا گیا تھا جہاں اضافی فورسز دستوں کو سرینگر میں تعینات کاگیا جس دوران شہر کی طرف جانے والی تمام رابطہ سڑکوں کو خار دار تار سے بند کیاگیا۔جس دوران کسی کو بھی شہر کے اندر داخل ہونے کی اجازت نہیں دی جا رہی ہے ۔بندشوں کے دوران شہر باہری علاقوں میں بھی سخت پابندیاں نافظ رہی ۔
اس دوران پوری وادی جس میں خاص کر جنوبی کشمیر اور شمالی کشمیر کے اہم شاہرائیں ویرانی کے مناظر پیش کر رہے تھے جبکہ سرینگر کے تمام علاقوں جن میں راج باغ ،ڈلگیٹ ،لاچوک ،نوہٹہ ،جہانگیر چوک ، مہاراج بازار ، ریڈیو کشمیرچوک ، رعناواری ، مائسمہ ، جواہر نگر ،وغیرہ کے ساتھ ساتھ شہر کے مضافات میں قائم حساس علاقوں میں سنیچر کی صبح سویرے سے اضافی سیکورٹی کو تعینات کر کے متحرک کیا گیا تھاتاکہ وزیر اعظم کے دورے کے دوران وادی میں کسی قسم کا کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش نہ آئے ۔
ادھر وادی کے مختلف علاقوں سے شہر کی طرف آرہے موٹر سائیکل سواروں کے خلاف سنیچر کے صبح ہی اچانک پولیس نے کریکڈون شروع کیا تھا جس میں درجنوں سیکوٹر سواروں کو تھانوں میں جبط کیاگیا ۔ اس دوران موٹر سائیکل سواروں نے بتایاکہ ان کے پاس تمام ضروری کاغذات ہونے کے باوجودان کے موٹر سائیکل ضبط کر لی گئیں۔ تاہم پولیس نے بتایا تاہم کہا کہ موٹر سائیکلوں کو صرف حفاظتی اقدام کے بطور روکا جارہا ہے۔انہوں نے کہا کہ اگر کسی موٹر سائیکل کے پاس قانونی دستاویزات موجود نہ ہوں تو صرف اْسی کو ضبط کیا جارہا ہے۔ادھر پولیس نے لبریشن فرنٹ کے چیرمین محمد یاسین ملک کو اتوار کے صبح وزیر عظم کے دورے سے قبل ہی گرفتار ہے جبکہ میرواعظ سمیت متعدد لیڈان جن میں ،محمد اشرف صحرائی ، امتیاز حیدر کے علاوہ ایک درجن سے زیادہ لیڈان کو خانہ و تھانہ نظر بند رکھا ہے ۔قابل ذکر بات یہ ہے کہ زیر عظم نریندرمودی کے دورے کے موقعے پر مزاحمتی قیادت جس میں سید علی شاہ گیلانی ،میرواعظ عمر فاروق اورمحمد یاسین ملک نے پوری وادی میں ہڑتالی کال دی تھی۔خیال رہے وزیر عظم نرندر مودی کو جموں،وادی اور لداخ کے مختلف تعمیراتی پروجیکٹوں کا افتتاح کیاہے۔
دنیا
پینٹاگن کی امریکی حملوں کے جائزے میں 153 شہریوں کی ہلاکت کی تصدیق
واشنگٹن، امریکی وزارت دفاع (پینٹاگن) کے جائزے سے پتہ چلا ہے کہ یمن میں گزشتہ سال ایران کے حمایت یافتہ حوثی باغیوں کے خلاف تین امریکی فضائی حملوں میں 153 عام شہری ہلاک اور 243 زخمی ہوئے۔
یہ نتائج بدھ کو امریکی کانگریس کو بھیجی گئی شہری ہلاکتوں کی سالانہ رپورٹ میں سامنے آئے ہیں۔ جائزہ اپریل 2025 میں کیے گئے تین فضائی حملوں پر مرکوز تھا۔
حملوں میں یمنی دارالحکومت صنعا اور حوثیوں کے زیر کنٹرول راس عیسیٰ کی بندرگاہ اور اس کے اطراف کے علاقوں کو نشانہ بنایا گیا۔ اس وقت امریکی افواج حوثی باغیوں کے خلاف آپریشن کر رہی تھیں جو بحیرہ احمر میں تجارتی جہازوں اور اسرائیل پر حملہ کر رہے تھے۔
پینٹاگن کے جائزے کے مطابق تینوں حملوں میں مجموعی طور پر 153 شہری ہلاک اور 243 زخمی ہوئے۔ راس عیسیٰ بندرگاہ پر ہونے والا حملہ سب سے مہلک تھا، جس میں 80 افراد ہلاک اور 171 زخمی ہوئے۔ حملے کے بعد، جگہ پر زبردست آگ بھڑک اٹھی، جس سے کئی ٹینکر ٹرک تباہ ہوگئے۔ حوثی حامی المسیرہ ٹیلی ویژن چینل نے حملے کے بعد کی فوٹیج نشر کی۔
امریکی سینٹرل کمانڈ نے اس وقت کہا تھا کہ ان حملوں کا مقصد یمنی عوام کو نقصان پہنچانا نہیں تھا۔ کمانڈ کے مطابق، امریکی افواج نے ایران کے حمایت یافتہ حوثی باغیوں کے لیے ایندھن کے ایک ذرائع کو تباہ کرنے اور ان کی آمدنی کے ناجائز ذرائع کو متاثر کرنے کے لیے کارروائی کی۔ جائزے میں ان حملوں کے متاثرین کے خاندانوں کے لیے معاوضے یا بھتہ کی سفارش نہیں کی گئی۔ رپورٹ میں اس کی وجہ نہیں بتائی گئی۔
پینٹاگن کے مطابق ایسا معاوضہ امریکی فوجی کارروائیوں میں شہریوں کی ہلاکت یا زخمی ہونے کی صورت میں دیا جا سکتا ہے۔ یہ قانون کے تحت لازمی نہیں ہے اور غلط کام کا اعتراف نہیں کرتا۔
امریکی فوج پہلے بھی ایسے معاملات میں معاوضے کی پیشکش کر چکی ہے۔ 2021 میں افغانستان میں امریکی ڈرون حملے میں سات بچوں سمیت 10 افراد ہلاک ہوئے۔ اس واقعے کے بعد، پینٹاگون نے متاثرین کے خاندانوں کو اس طرح کے معاوضے کا وعدہ کیا.
پینٹاگن کا یہ جائزہ ٹرمپ انتظامیہ کی فوجی کارروائیوں میں شہریوں کی ہلاکت کے بارے میں امریکی کانگریس میں بڑھتی ہوئی تشویش کے درمیان سامنے آیا ہے۔ اس سال کے شروع میں ایران کے ساتھ جنگ کے ابتدائی دنوں میں ایک پرائمری اسکول کو نشانہ بنانے والے امریکی میزائل حملے میں مبینہ طور پر 168 افراد ہلاک ہوئے تھے۔
امریکی فوج نے پہلی بار 2023 میں حوثی باغیوں کے خلاف حملے شروع کیے تھے۔ یہ کارروائی اس وقت شروع ہوئی جب حوثی باغیوں نے بحیرہ احمر میں تجارتی جہازوں کو ڈرون اور میزائلوں سے نشانہ بنانا شروع کیا، جو عالمی تجارت کے لیے ایک اہم سمندری راستہ ہے، جو نہر سویز کے ذریعے بحیرہ روم سے جڑتا ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
لبنان میں ہماری فوج تعینات رہے گی:اسرائیل کاتز
تل ابیب، اسرائیل کے فضائی حملوں میں لبنانی سرحد کے جنوبی حصے میں متعدد افراد کے زخمی ہونے کے دوران، وزیر دفاع کاٹز نے اسرائیل افواج کو لبنان، شام اور غزہ کے مقبوضہ علاقوں میں برقرار رکھنے کا واضح عہد کیا ہے۔
یہ حملے ایک ایسے ماحول میں ہوئے جہاں اسرائیل مقبوضہ علاقوں میں اپنی فوجی موجودگی کے خاتمے کے عالمی مطالبات کے باوجود، بیروت کے ساتھ طے پانے والے اس معاہدے کی مسلسل خلاف ورزی کر رہا ہے جو لبنانی اراضی سے اسرائیلی افواج کے مرحلہ وار انخلا کا تقاضا کرتا ہے۔
لبنانی نیشنل نیوز ایجنسی (این این اے) کی رپورٹ کے مطابق، بنت جبیل کے علاقے میں ایک اسرائیلی ڈرون نے کفرا میں ایک سڑک کو نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں کئی افراد زخمی ہوئے۔
این این اے کے مطابق، اسرائیلی افواج نے حدّاثا میں ایک بڑا دھماکہ کیا اور ایک اسرائیلی ڈرون نے بیت یہون کے بیرونی علاقوں میں دھماکہ خیز مواد گرایا۔
این این اے کے مطابق، اسرائیلی افواج نے مرجعیون کے علاقے میں دیر سیریان کے قریب فضائی حملہ کیا اور وادی سلوقی روڈ پر واقع وادی تولین میں دھماکے ہوئے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ صور کے علاقے میں اسرائیلی جنگی طیاروں نے منصوری پر دو الگ الگ حملے کیے، جب کہ ایک اسرائیلی ڈرون نے اس قصبے پر ایک شاک بم گرایا۔این این اے کی خبر کے مطابق، اسرائیلی ڈرونز نے بیروت کی فضاؤں میں انتہائی کم بلندی پر پروازیں کیں جو دارالحکومت کے جنوبی مضافات تک پہنچ گئیں۔
اسرائیلی وزیر دفاع یسرائیل کاٹز نے یہ بیانات جنوبی لبنان میں اسرائیلی افواج کے زیر قبضہ ایک علاقے سے اپنے ریکارڈ شدہ خطاب میں دیے۔
اپنے خطاب میں کاٹز نے مغرب میں بحیرہ روم کے ساحل سے لے کر مشرق میں قلعہ بوفورٹ اور جبل شیخ (ہرمون) کے دامن تک پھیلے ہوئے اس خطے کا ذکر کرتے ہوئے کہا، “جیسا کہ وزیر اعظم بن یامین نیتن یاہو اور میں نے واضح طور پر کہا ہے، ہم اس سیکیورٹی زون سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔ ہم یہاں سے نہیں جائیں گے اور انخلا نہیں کریں گے۔
ہم اس علاقے کو محفوظ بنائیں گے اور شمالی شہریوں کی سیکیورٹی کو یقینی بنائیں گے۔”
کاٹز نے کہا کہ اسرائیل لبنان، شام یا غزہ کے سیکیورٹی زونز سے کسی بھی صورت حال میں پیچھے نہیں ہٹے گا۔
وزیر دفاع نے دعویٰ کیا کہ اسرائیلی افواج کو شمالی اسرائیلی بستیوں اور اپنے فوجیوں کے تحفظ کے لیے اس علاقے میں تعینات کیا گیا ہے؛ انہوں نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ فوج نے قلعہ بوفورٹ پر قبضہ کر لیا ہے، جو ان کے بقول میتولا اور دیگر شمالی بستیوں کی حفاظت کرتا ہے۔
دوسری جانب، ایکسیوس کی رپورٹ کے مطابق، ٹرمپ انتظامیہ نے اسرائیلی وزیر دفاع کاٹز کے جنوبی لبنان میں قبضہ برقرار رکھنے کے بیانات پر تنقید کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ یہ بیانات امریکی اور لبنانی فریم ورک معاہدے کے تحت اسرائیلی حکومت کے وعدوں کے خلاف ہیں۔
ایکسیسوس کی رپورٹ کے مطابق، محکمہ خارجہ کے ایک اہلکار نے کہا کہ امریکہ توقع کرتا ہے کہ تمام فریقین اس فریم ورک کے مطابق کام کریں جس پر اتفاق ہوا ہے؛
اسرائیل نے بھی واضح طور پر کہا ہے کہ لبنان میں اس کا کوئی علاقائی مقصد نہیں ہے۔
جنوبی لبنان میں مستقل فوجی موجودگی، نہ تو متعلقہ فریم ورک کے تحت کیے گئے وعدوں سے میل کھاتی ہے اور نہ ہی دونوں ریاستوں کے طویل مدتی امن اور سلامتی کے موافق ہے۔”
یو این آئی۔ْ ع ا۔
جموں و کشمیر
یومِ آزادی کی تقریبات سے قبل پورے کشمیر میں سکیورٹی مزید سخت
سری نگر، یومِ آزادی کی تقریبات کے پیش نظر پورے کشمیر میں سکیورٹی انتظامات میں نمایاں اضافہ کیا گیا ہے۔ حکام نے 15 اگست کی تقریبات کو پرامن اور بلارکاوٹ یقینی بنانے کے لیے وادی کے مختلف علاقوں میں فل ڈریس ریہرسل بھی کی۔
جمعرات کو یہاں بخشی اسٹیڈیم میں فل ڈریس ریہرسل کے بعد صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کشمیر کے انسپکٹر جنرل آف پولیس (آئی جی پی) ودھی کمار بردی نے کہا کہ قومی تقریب کی تیاریوں کے سلسلے میں وادی کے تمام اضلاع میں سکیورٹی ریہرسل کی گئی ہے۔
بردی نے کہاکہ ’’وادی کے تمام اضلاع میں فل ڈریس ریہرسل کی گئی ہے۔ اس کے ساتھ سکیورٹی انتظامات کی بھی مکمل ریہرسل کی گئی ہے، تاکہ 15 اگست کو ہم مرکزی تقریب کو بلارکاوٹ منعقد کر سکیں۔‘‘
گزشتہ ماہ جنوبی کشمیر میں ہونے والے دو دہشت گردانہ حملوں کے بارے میں پوچھے جانے پر آئی جی پی نے کہا کہ وادی بھر میں سکیورٹی مزید سخت کر دی گئی ہے۔
انہوں نے کہاکہ ’’ان معاملات میں تحقیقات جاری ہیں۔ اس کے علاوہ متعلقہ اضلاع کی جانب سے تمام مضبوط سکیورٹی انتظامات کیے جا رہے ہیں۔ سکیورٹی کا نظام مزید سخت کیا گیا ہے۔‘‘
بردی نے لوگوں سے بھی اپیل کی کہ وہ بڑی تعداد میں یومِ آزادی کی تقریبات میں شرکت کریں اور 15 اگست کو ایک قومی تقریب قرار دیا۔
انہوں نے کہا کہ ضلعی سطح کے ساتھ ساتھ انتظامی اور مرکز کے زیرِ انتظام علاقے کے دارالحکومت میں بھی تقریبات منعقد کی جائیں گی۔ انہوں نے عوام سے ان تقریبات کو کامیاب بنانے کی اپیل کی۔
دہلی کے لال قلعہ میں 25 نومبر کو ہونے والے دھماکے، جس میں 11 افراد ہلاک ہوئے تھے، کو مبینہ طور پر القاعدہ برصغیر (اے کیو آئی ایس) کی ایک ذیلی تنظیم سے باضابطہ طور پر جوڑے جانے سے متعلق رپورٹس کے بارے میں پوچھے جانے پر آئی جی پی نے کہا کہ پولیس کے پاس ایسی کوئی معلومات نہیں ہے اور اگر ضرورت ہوئی تو تفصیلات الگ سے شیئر کی جائیں گی۔
آئی جی پی نے کہاکہ ’’ابھی ہماری معلومات میں ایسی کوئی بات نہیں ہے۔‘‘
انہوں نے سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی کشمیری پنڈتوں کو مبینہ دھمکیوں کی رپورٹس پر تبصرہ کرنے سے بھی انکار کیا اور کہا کہ وہ اپنے بیان کو یومِ آزادی اور اس سے متعلق سکیورٹی انتظامات تک محدود رکھیں گے۔
حکام نے سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے ایک دھمکی آمیز خط میں چھ کشمیری پنڈتوں کے نام درج ہونے کے بعد سرکاری محکموں میں کام کرنے والے کشمیری پنڈت ملازمین کو زبانی طور پر مشورہ دیا ہے کہ وہ 20 اگست تک اپنے دفاتر میں حاضر نہ ہوں۔
وادی میں تقریباً 6,000 مہاجر ملازمین کام کر رہے ہیں۔ کشمیری پنڈتوں اور اقلیتی ملازمین کی رہائش والے کیمپوں اور دیگر مقامات پر بھی سکیورٹی بڑھا دی گئی ہے۔
یواین آئی۔ ظ ا
-
دنیا3 days agoایران کا فی الحال امریکہ کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں: ایرانی وزیر خارجہ
-
دنیا3 days agoسعودی عرب میں فیکٹری میں آگ کے سبب 16 بنگلہ دیشی مزدور ہلاک
-
دنیا3 days agoٹرمپ جوہری معاہدے کے بغیر ایران کے ساتھ تنازع ختم کرنے پر تیار: رپورٹ
-
ہندوستان3 days agoطلبہ پر کارروائی کے معاملے پر حکومت کو گھیرتے ہوئے راہل کا مضمون، کھڑگے اور پرینکا نے حمایت کی
-
دنیا2 days agoایران نے خود کو ایک ‘ناقابل تسخیر طاقت’ ثابت کیا ہے: عراقچی
-
جموں و کشمیر2 days agoیومِ آزادی سے قبل جموں و کشمیر پولیس نے سرحدی سامبا میں طویل فاصلے کی گشت اور فرضی انسدادِ دہشت گردی مشق کی
-
دنیا2 days agoشام کے سابق صدر بشار الاسد کو سزائے موت سنادی گئی
-
دنیا3 days agoکیسپین سمندر معاہدے کا مستقبل ایران کی پارلیمنٹ طے کرے گی: اسماعیل بقائی
-
دنیا2 days agoایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
-
دنیا3 days agoتجربہ کار آئی آر جی سی کمانڈر محسن رضائی ایران کے قومی سلامتی کے سربراہ مقرر
-
جموں و کشمیر2 days agoیومِ آزادی سے قبل کشمیر بھر میں کثیر سطحی سکیورٹی انتظامات
-
دنیا2 days agoموساد کے سابق سربراہ کا انکشاف، ماضی میں ایران کی فردو جوہری تنصیب کا کئی بار دورہ کیا
