جموں و کشمیر
وزیر اعظم نریندر مودی کا تمام وعدوں کو پورا کرنے و دیگر کئی اہم امور پر تفصیلی خطاب
سری نگر وزیر اعظم نریندر مودی نے لوگوں سے کئے گئے تمام وعدوں کو موزون وقت پر پورا کرنے، جموں وکشمیر میں تعمیر وترقی کا جال بچھانے اور دوسرے اہم معاملات پر کھل کر بات کی۔انہوں نے کہا: ‘ہر چیز کا ایک صحیح وقت ہوتا ہے اور صحیح چیزیں صحیح وقت پر ہوں گی’۔
وزیر اعظم نریندر مودی کے خطاب کی جھلکیاں :
لوگوں سے کئے گئے وعدوں کو پورا کرنے کا عزم دہرایا :
نریندر مودی نے کہا: ‘آپ کو یقین کرنا ہوگا کہ یہ مودی ہے جو اپنے تمام وعدوں کو پورا کرتا ہے’۔انہوں 7ے کہا: ‘ہر چیز کا ایک صحیح وقت ہوتا ہے اور صحیح چیزیں صحیح وقت پر ہوں گی’۔ان کا کہنا تھا: ‘جموں وکشمیر ملک کا تاج ہے اور میں اس تاج کو خوبصورت اور خوشحال دیکھنا چاہتا ہوں’۔
نریندر مودی نے کہا: ‘جموں و کشمیر میں امن کا ماحول چھایا ہوا ہے جس کے شعبہ سیاحت پرمثبت اثرات کو دیکھا جا رہا ہے اور آج کشمیر ترقی کی نئی تاریخ رقم کر رہا ہے’۔انہوں نے کہا کہ وادی کشمیر کو بہت جلد ٹرین کے ذریعے ملک کے ساتھ جوڑا جائے گا اور اس حوالے سے یہاں لوگوں میں کافی جوش و خروش ہے۔
سونہ مرگ ٹنل کے بارے میں :
مسٹر مودی نے کہا کہ وہ سونہ مرگ ایک سیوک کی حیثیت سے آئے ہیں۔انہوں نے کہا: ‘ اس ٹنل سے جموں وکشمیر اور لداخ کے لوگوں کی سختیاں دور ہوں گی۔نریندمودی نے اپنے پرانے دنوں کو یاد کرتے ہوئے کہا: ‘میں بی جے پی کے ایک کارکن کی حیثیت سے کشمیر آیا کرتا تھا اور گھنٹوں کئی کلو میٹر پیدل طے کرتا تھا’۔انہوں نے کہا: ‘دو روز قبل ہمارے وزیر اعلیٰ نے اپنے ایکس ہینڈل پر کچھ تصویریں شیئر کیں جنہیں دیکھ کر میں آپ لوگوں کے درمیان آنے کے لئے بے صبری سے انتطار کر رہا تھا’۔ان کا کہنا تھا: ‘جب میں بی جے پی کا کارکن تھا تو میں یہاں اکثر و بیشتر آیا کرتا تھا، میں نے یہاں خواہ وہ سونہ مرگ ہے، گلمرگ ہے، بارہمولہ ہے یا گاندربل ہے، کافی وقت گذارا ہے’۔انہوں نے کہا: ‘ہم یہاں کئی کلو میٹر پیدل طے کرتے تھے ان دنوں بھی بھاری برف باری ہوتی تھی لیکن یہاں کے لوگوں کا جوش ہمیں کبھی سردی محسوس نہیں ہونے دیتا تھا’۔
لال چوک اور پولو وویو کے بارے میں :
پی ایم مودی نے کہاکہ لالچوک میں رات بھر بازاروں کی رونقیں بحال رہتی ہے اور لوگ یہاں پر آئیس کریم کھانے آتے ہیں۔انہوں نے کہاکہ پولیو وویو ایک نئے سیاحتی مرکز کے طورپر ابھر کر سامنے آرہا ہے اور یہاں آرٹسٹ اپنے ہنر دکھا کر سیاحوں کے دل موہ لیتے ہیں۔ان کے مطابق کشمیر کے لوگ اب فلمیں دیکھنے کے لئے سینما جاتے ہیں اور آرام سے خریداری کرتے ہیں۔
وزیر اعظم نے کہاکہ حالات بدلنے والے اتنے سارے کام کوئی سرکار اکیلے نہیں کرسکتی بلکہ اس کے لئے عوام الناس کا تعاون ناگزیر ہے۔انہوں نے مزید بتایا کہ کشمیر کےلوگوں نے جمہوریت کو مضبوط کیا جس سے ان کا مستقبل بھی روشن ہوا ہے۔
پی ایم مودی نے کہاکہ کشمیر بھارت کا تاج ہے اور میری دلی خواہش ہے کہ اس تاج میں مزید نکھار آجائے ۔ان کا کہنا تھا کہ کشمیر کے لوگوں نے اپنے سپنوں کو بدلنے کی خاطر کافی محنت کی اور میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ مودی آپ کے ساتھ قدم سے قدم ملا کر چلے گا۔انہوں نے کہاکہ جو کوئی بھی لوگوں کے سپنوں میں رکاوٹ ڈالنے کی کوشش کرئے گا تو اس کے ساتھ سختی سے نمٹاجائے گا۔
کشمیر کو ریلوے سے جوڑنے کے بارے میں :
مسٹر مودی نے کہا: ‘ اب کشمیر کو ریلوے سے جوڑا جا رہا ہے عوام ترقیاتی کاموں سے خوش ہیں سکول اور کالج بن رہے ہیں یہ نیا جموں و کشمیر ہے پوری قوم ہندوستان کو ترقی یافتہ ملک بنانے میں مصروف ہے یہ تب ممکن ہے جب معاشرے کے کسی بھی طبقے کو ترقی کی دوڑ میں نظر انداز نہ کیا جا سکے’۔انہوں نے کہا:: ‘گذشتہ دس برسوں کے دوران ہم نے جموں وکشمیر میں امن اور ترقی کے ماحول کے فائدے دیکھے ہیں اور سال گذشتہ کے دوران 2 کروڑ سے زیادہ سیاحوں نے جموں وکشمیر کی سیر کی’۔ان کا کہنا تھا کہ جموں وکشمیر تعمیر و ترقی کا ایک نیا باب رقم کر رہا ہے۔وزیر اعظم نے کہا کہ آنے والے دنوں میں جموں کشمیر میں ریل اور روڈ رابطے کے کئی پروجیکٹوں کا مکمل کیا جائے گا۔
زیر تعمیر زوجیلا ٹنل کے بارے میں :
زوجیلا ٹنل کی طرف اشارہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایک اور بڑے پروجیکٹ کی تکیمل قریب ہےاور اب کشمیر ریل میں بھی شامل ہو رہا ہے۔انہوں نے کہا: ‘مرکز میں ہماری حکومت آنے کے بعد سونہ مرگ ٹنل پر سال 2015 میں کام شروع کیا گیا تھا اور میں خوش ہوں کہ ہماری ہی حکومت میں یہ پایہ تکمیل کو پہنچا’۔کشمیر میں جاری سرد ترین موسم ‘چلہ کلان’ کا تذکرہ کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا: ‘یہ موسم سونہ مرگ جیسے سیاحتی مقامات کے لیے نئے مواقع لے کر آتا ہے کیونکہ اس موسم سے لطف اندوز ہونے کے لئے ملک بھر سے سیاح یہاں آتے ہیں’۔
سیاحت اور تعمیر وترقی کے بارے میں :
وزیر اعظم نریندر مودی نے اپنے خطاب میں کہاکہ کشمیر میں امن اور ترقی کا جو ماحول بنا ہے اس کا فائدہ سیاحتی شعبے کو ملا ہے ۔انہوں نے کہاکہ سال 2024میں زائد از دو کروڑ سیاح وارد جموں وکشمیر ہوئے۔ سونہ مرگ میں گزشتہ دس برسوں میں چھ گنا سیاحوں نے قدرتی نظاروں سے لطف اٹھایا اور اس کا فائدہ یہاں کے لوگوں کو پہنچا ہے۔انہوں نے کہاکہ شعبہ سیاحت میں ترقی کی وجہ سے ہوٹل والوں، ہوم سٹے والوں، ڈھابہ والوں ، ٹیکسی والوں غرض سبھی کو فائدہ پہنچا ہے۔
وزیر اعظم نریندر مودی نے کہاکہ گزشتہ دس برسوں کے دوران جموں وکشمیر میں تعمیر وترقی کے بہت سارے پروجیکٹ شروع کئے گئے ہیں۔انہوں نے کہاکہ پر امن ماحول سے ہی تعمیر وترقی ممکن ہے لہذا میں کشمیر کے لوگوں کو مبارکباد پیش کرتا ہوں کہ انہوں نے سرکار کو ہر سطح پر بھر پور تعاون فراہم کیا ۔
اکیسویں صدی کے کشمیر کے بارے میں :
وزیر اعظم نریندر مودی نے کہاکہ اکیسویں صدی کا جموں وکشمیر آج تعمیر وترقی کی نئی تاریخ رقم کر رہا ہے ، مشکل دنوں کو چھوڑ کر ہمارا کشمیر پھر سے زمین پر جنت ہونے کی پہچان کی طرف واپس بڑھ رہا ہے۔انہوں نے کہاکہ گزشتہ دس سالوں کے دوران مرکزی سرکار نے جموں وکشمیر کو امن کا گہوارا بنایا ہے اور آج سری نگر کے بازروں میں رات بھر رونقیں بحال رہتی ہیں۔ان کا مزید کہنا تھا کہ امن و امان کی واپسی میں جموں وکشمیر کے نوجوانوں، بزرگوں، دوشیزاوں اور خواتین نے کلیدی کردار ادا کیا ہے۔
کشمیرکی خوبصورتی کے بارے میں:
وزیر اعظم نریندر مودی نے سونہ مرگ میں عوامی اجتماع سے خطاب کے دوران کہاکہ کشمیر بھارت کا تاج ہے اور اس تاج کو مزید خوبصورت بنانے میں یہاں کے لوگ اپنا تعاون پیش کر رہے ہیںانہوں نے کہاکہ مجھے اس بات کی بے حد خوشی ہے کہ کشمیر کے لوگوں نے جمہوریت کو مضبوط کرنے کی خاطر سرکار کے ساتھ تعاون فراہم کیا۔
پی ایم مودی نے کہا :’میں کشمیر کے لوگوں کو بھروسہ دلانا چاہتا ہوں کہ ان کے سبھی خواب پورے ہونگے اور یہ مودی کا وعدہ ہے :‘
کشمیر کی مہمان نوازی کے بارے میں:
وزیر اعظم نے کہاکہ وادی کی سیر وتفریح پر آنے والے سیاح یہاں کی مہمان نوازی سے کافی خوش نظر آرہے ہیں۔یہاں وادی میں اس وقت چلہ کلان ہوتا ہے چالیس روزہ اس موسم کا لوگ ڈٹ کر مقابلہ کرتے ہیں اور اس کا ایک اور پہلو ہے کہ یہ موسم سونہ مرگ سیاحتی مقام کے لئے نئے مواقعے بھی لاتا ہے۔ ملک بھر سے سیلانی یہاں پہنچ رہے ہیں۔ کشمیر کی وادیوں میں آکر وہ لوگ آپ کی مہمان نوازی کا بھر پور آنند لیتے ہیں۔
مرکزی اسکیموں کے بارے میں :
وزیر اعظم نریندر مودی نے کہاکہ مرکزی اسکیم کے تحت غریبوں کو مفت رہائشی سہولیات فراہم کی جارہی ہیں اور آنے والے وقت میں مزید تین کروڑ نئے گھر تعمیر ہو رہے ہیں۔انہوں نے کہاکہ آج بھارت میں کروڑوں لوگوں کو مفت علاج ومعالجہ کی سہولیات میسر ہیں اور اس کا فائدہ جموں وکشمیر کے لوگوں کو بھی پہنچ رہا ہے۔انہوں نے کہاکہ ملک بھر میں نئے آئی آئی ٹیز، آئی آئی ایمز ، نئے ایمز ، نئے میڈیکل کالجز ، نرسنگ کالجز اور پالی ٹینک بن رہے ہیں۔ان کے مطابق جموں وکشمیر مین بھی گزشتہ دس سالوں میں ایک سے بڑھ ایک ایجوکیشن انسٹی چیوٹ بنائے گئے جس کا فائدہ یہاں کے نوجوانوں کو مل رہا ہے۔
کشمیر میں کھیل کود کو فروغ دینے کے بارے میں :
پی ایم مودی نے سونہ مرگ میں عوامی اجتماع سے خطاب کے دوران کہاکہ سری نگر میں گزشتہ سال انٹرنیشنل میراتھن کا اہتمام ہوا ۔ مجھے پوری طرح یاد ہے کہ اس میراتھن میں وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے بھی حصہ لیا تھا۔انہوں نے کہاکہ جب وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کے ساتھ دہلی میں ملاقات ہوئی تو انہیں میراتھن میں حصہ لینے پر مبارکباد پیش کی ۔
وزیر اعظم نے کہاکہ حال ہی میں چالیس برسوں کے بعد سری نگر میں انٹرنیشنل کرکٹ لیگ کا اہتمام ہوا ۔ نیز جھیل ڈل کے اردگرد کار رسینگ کے نظارے دیکھ کر سیاح بھی جھوم اٹھے۔ان کا مزید کہنا تھا کہ گلمرگ تو ایک طرف سے ونٹر گیمز کا دارلخلافہ بنتا جارہا ہے، گلمرگ میں لگاتار چار کھیلو انڈیا ٹورنمنٹ کا انعقاد ہوا اور امسال بھی گلمرگ میں ہی کھیلو انڈیا کے میچز ہونگے۔
مودی نے کہا :’گزشتہ دو سال کے دوران ڈھائی ہزار کھلاڑی جموں وکشمیر آئے اور یہاں زائد از نویں کھیلو انڈیا سینٹر بنائے گئے ہیں جہاں پر چار ہزار نوجوانوں کو تربیت فراہم کی جارہی ہیں۔
تعلیم یافتہ نوجوانوں کو روزگار فراہم کرنے کے بارے میں :
پی ایم مودی نے کہاکہ ہماری کوشش ہے کہ یہاں پر زیادہ سے زیادہ انڈسٹری قائم کی جائے تاکہ نوجوانوں کیلئے روزگار کے مواقعے پیدا ہوں۔انہوں نے کہاکہ 13ہزار کروڑ روپیہ کی سرمایہ کاری سرکار کو موصول ہوئی ہے اور اسے ہزاروں نوجوانوں کو روزگار مل پائے گا۔ان کے مطابق موجودہ مرکزی سرکار کی یہ کوشش رہی ہے کہ یہاں کے نوجوانوں کو روزگار فراہم ہو اور اس کے لئے زمینی سطح پر اقدامات اٹھائے جارہے ہیں۔
جموں وکشمیر بینک کے بارے میں :
وزیر اعظم مودی نے کہاکہ جموں وکشمیر بینک بھی اب بہتر کام کررہا ہے اور اس کا بزنس ایک لاکھ ساٹھ ہزار کروڑ سے بڑھ کر دو لاکھ تیس ہزار کروڑروپیہ تک پہنچ گیا ہے یعنی بینک اب ترقی کی راہ پر گامزن ہے۔انہوں نے کہاکہ جموں وکشمیر بینک کی جانب سے نوجوانوں کو اپنے پیروں پر کھڑا کرنے کی خاطر لون بھی فراہم کئے جارہے ہیں۔انہوں نے مزید بتایا کہ جموں وکشمیر بینک کی ترقی سے یہاں کے نوجوانوں، کسانوں، باغبانوں ، دکانداروں اورکاروباریوں کو فائدہ پہنچے گا۔
یو این آئی، ارشید بٹ
جموں و کشمیر
جموں میں آبادیاتی تبدیلیوں سے متعلق پینل کو پناہ گزینوں کی تنظیم نے یادداشت پیش کی
جموں، پی او جے کے سے بے گھر افراد کی تنظیم ایس او ایس انٹرنیشنل کے ایک وفد نے منگل کو یہاں جسٹس پرکاش پربھاکر نولیکر (ریٹائرڈ) کی سربراہی میں آبادیاتی تبدیلیوں سے متعلق پینل کو ایک تفصیلی یادداشت پیش کی۔
ایس او ایس انٹرنیشنل کے چیئرمین راجیو چونی کی قیادت میں وفد میں پروفیسر این این شرما (نائب چیئرمین)، ونود کمار دتہ (جنرل سکریٹری)، بھائی رام سنگھ (سکریٹری) اور وید راج بالی (سکریٹری) شامل تھے۔ وفد نے یادداشت پیش کرتے ہوئے 1947 سے پاکستان کے زیر قبضہ جموں و کشمیر (پی او جے کے) کی ہندو اور سکھ آبادی کے ساتھ روا رکھے گئے تاریخی ناانصافی کو ریکارڈ پر لایا اور پینل سے ٹھوس اصلاحی اقدامات کرنے کا مطالبہ کیا۔
جاری کردہ بیان کے مطابق یادداشت میں نشاندہی کی گئی کہ 1947 کے حملے کے بعد اس وقت کی جموں و کشمیر حکومت نے ابتدائی طور پر تقریباً 31,600 خاندانوں کا اندراج کیا تھا، جبکہ تقریباً 9,500 خاندانوں کو معمولی اور غیر معقول وجوہات کی بنیاد پر من مانے طریقے سے رجسٹریشن سے محروم کر دیا گیا۔
رجسٹرڈ خاندانوں میں سے صرف تقریباً 26,300 خاندانوں کو ریاست کے اندر آباد کیا گیا، جبکہ تقریباً 5,300 رجسٹرڈ خاندانوں کے ساتھ ساتھ 9,500 غیر رجسٹرڈ خاندانوں کو ہندوستان کے دیگر حصوں میں پناہ لینے پر مجبور ہونا پڑا۔ باقاعدہ طور پر رجسٹر کیے گئے خاندانوں کے ریکارڈ اب بھی جموں و کشمیر حکومت کے سرکاری ریکارڈ میں موجود ہیں۔
یادداشت میں کہا گیاکہ ’’یہ خاندان مہاراجہ ہری سنگھ کے 1927 کے اسٹیٹ سبجیکٹ قانون کے تحت ریاست کے اصل باشندے تھے اور انہوں نے بارہا اپنے آبائی وطن واپس جانے کی خواہش کا اظہار کیا ہے۔‘‘
تاہم بحالیِ آبادکاری کی کسی جامع پالیسی یا ادارہ جاتی مدد کی مکمل عدم موجودگی کے باعث ان کے پاس دوسری جگہ اپنی زندگی دوبارہ شروع کرنے کے علاوہ کوئی راستہ نہیں تھا۔ بیان کے مطابق اس وقت ریاست سے باہر رہنے والی ان کی آبادی کا تخمینہ پانچ سے چھ لاکھ ہے۔
ایس او ایس انٹرنیشنل نے یہ بھی نشاندہی کی کہ جموں و کشمیر کی اُس وقت کی حکومت کے 2014 کے کابینہ فیصلے میں ہر متاثرہ خاندان کو 25 لاکھ روپے نقد امداد، تعلیم یافتہ بے روزگار نوجوانوں کے لیے 8,500 سرکاری ملازمتیں اور پیشہ ورانہ و تکنیکی اداروں میں ریزرویشن دینے کا وعدہ کیا گیا تھا، لیکن جموں و کشمیر یا سابق ریاست سے باہر جلاوطنی کی زندگی گزارنے والے خاندانوں کے لیے اس پر عمل نہیں کیا گیا۔
جاری۔یواین آئی۔ طـ ا
جموں و کشمیر
یومِ آزادی سے قبل کشمیر بھر میں کثیر سطحی سکیورٹی انتظامات
سری نگر، 15 اگست کو یومِ آزادی کی تقریبات کے پیش نظر سری نگر اور وادیٔ کشمیر کے دیگر علاقوں میں کثیر سطحی سکیورٹی انتظامات کیے گئے ہیں۔
سری نگر میں جہاں وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ بخشی اسٹیڈیم میں قومی پرچم لہرائیں گے، سکیورٹی فورسز نے تقریب کے مقام اور اس سے متصل علاقوں میں سکیورٹی نظام کو مزید مضبوط کر دیا ہے۔
کشمیر کے انسپکٹر جنرل پولیس وی کے بردی نے منگل کو کہا کہ یومِ آزادی کی تقریبات کو خوش اسلوبی سے منعقد کرنے کے لیے نہ صرف مرکزی مقام بلکہ پورے شہر اور وادی کے مختلف اضلاع میں بھی وسیع سکیورٹی انتظامات کیے جا رہے ہیں۔
بردی نے نامہ نگاروں سے کہاکہ ’’جیسا کہ آپ جانتے ہیں، 15 اگست کو سری نگر میں مرکزی تقریب منعقد ہونے والی ہے۔
اس کے لیے سکیورٹی انتظامات اور پریڈ کی تیاریاں جاری ہیں۔ مکمل لباس میں ریہرسل کی جا رہی ہیں تاکہ 15 اگست کی مرکزی تقریب سری نگر میں بخوبی منعقد کی جا سکے۔‘‘
انہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر پولیس نے پوری وادی میں کثیر سطحی سکیورٹی انتظامات کیے ہیں۔
آئی جی پی نے کہاکہ ’’جموں و کشمیر پولیس نے نہ صرف سری نگر بلکہ وادی کے مختلف اضلاع میں بھی کثیر سطحی سکیورٹی انتظامات کیے ہیں۔ یہ انتظامات صرف تقریبات کے مقامات تک محدود نہیں ہیں بلکہ شہر کے اطراف بھی کیے گئے ہیں۔ اس بار بھی اسی طرح کے انتظامات کیے گئے ہیں۔‘‘
جنوبی کشمیر میں حالیہ واقعات کے بعد ممکنہ دہشت گردانہ حملوں یا دیگر خطرات کے بارے میں کسی پیش رفت کے متعلق پوچھے جانے پر بردی نے کہا کہ معاملہ زیرِ تفتیش ہونے کی وجہ سے اس کی تفصیلات ظاہر کرنا مناسب نہیں ہوگا۔
انہوں نے کہاکہ ’’دیکھیے، یہ تفتیش کا معاملہ ہے۔ اس لیے میرے خیال میں ابھی اس کی تفصیلات ظاہر کرنا مناسب نہیں ہوگا۔
جب بھی ایسی کوئی بات ہوگی جسے آپ کے ساتھ شیئر کرنا ضروری ہوگا، ہم مناسب وقت پر آپ کو اس سے آگاہ کریں گے۔‘‘
یومِ آزادی کی تقریبات کے دوران عوام کے لیے پولیس کے پیغام کے بارے میں بردی نے کہا کہ یہ تقریب عوام کی ہے اور انہوں نے شہریوں سے بڑی تعداد میں تقریبات میں شرکت کرنے کی اپیل کی۔
آئی جی پی نے کہاکہ ’’دیکھیے، یہ عوام کی تقریب ہے۔ پولیس اس میں مددگار یا منتظم کا کردار ادا کرتی ہے۔ چونکہ یہ عوام کی تقریب ہے، اس لیے ہم لوگوں سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ بڑی تعداد میں اس میں شرکت کریں اور اسے کامیاب بنائیں۔‘‘
دریں اثنا، منگل کو سکیورٹی اداروں نے یومِ آزادی کی تقریبات میں خلل ڈالنے کی کسی بھی کوشش کو ناکام بنانے کے لیے سخت سکیورٹی اقدامات کے تحت سری نگر بھر میں تخریب کاری مخالف جانچ، علاقے میں غلبہ قائم کرنے کی کارروائیوں، نگرانی اور تلاشی کی کارروائیاں تیز کر دیں۔
کئی چیک پوسٹوں پر دو پہیہ گاڑیوں کو روکا گیا اور سواروں کی شناخت کی تصدیق کے ساتھ ان کی تلاشی بھی لی گئی۔
یواین آئی۔ـظ ا
جموں و کشمیر
یومِ آزادی سے قبل جموں و کشمیر پولیس نے سرحدی سامبا میں طویل فاصلے کی گشت اور فرضی انسدادِ دہشت گردی مشق کی
جموں، آئندہ یومِ آزادی کی تقریبات کے پیش نظر آپریشنل تیاریوں کا جائزہ لینے، سکیورٹی انتظامات کو مضبوط بنانے اور کسی بھی ہنگامی صورت حال سے فوری طور پر نمٹنے کو یقینی بنانے کے لیے جموں و کشمیر پولیس نے منگل کو سامبا ضلع کے سرحدی علاقوں میں طویل فاصلے کی گشت (ایل آر پی) اور فرضی انسدادِ دہشت گردی مشق کا انعقاد کیا۔
عہدیداروں کے مطابق اسپیشل آپریشن گروپ (ایس او جی)، سامبا نے جموں-پٹھان کوٹ قومی شاہراہ پر جٹوال سے لالہ چک تک طویل فاصلے کی گشت کی۔
انہوں نے بتایا کہ گشت کے بعد سرحدی سڑک پر واقع بی پی پی لالہ چک میں فرضی مشق کی گئی، جس کا مقصد فرضی دہشت گردانہ صورت حال سے نمٹنے کے لیے حصہ لینے والے اہلکاروں کی تیاری کا جائزہ لینا تھا۔ مشق کے دوران دو فرضی دہشت گردوں کو تنصیب پر حملہ کرتے ہوئے دکھایا گیا۔
انہوں نے کہاکہ ’’فرضی خطرے پر فوری کارروائی کرتے ہوئے ایس او جی کے اہلکاروں نے علاقے کو مناسب طریقے سے گھیرے میں لے لیا اور دونوں فرضی دہشت گردوں کو کامیابی سے بے اثر کر دیا۔‘‘
عہدیداروں نے بتایا کہ اس مشق کا مقصد ایس او جی سامبا اور بی پی پی لالہ چک کے حصہ لینے والے اہلکاروں کے ردعمل کے نظام، باہمی تال میل، حربی تیاری اور ہنگامی صورت حال سے نمٹنے کی صلاحیتوں کو جانچنا تھا۔
ایس ایس پی سامبا نے پولیس کی جانب سے مضبوط سکیورٹی انتظامات برقرار رکھنے اور عوام کی سلامتی و تحفظ کو یقینی بنانے کے عزم کا اعادہ کیا، خاص طور پر آئندہ یومِ آزادی کی تقریبات اور جاری شری امرناتھ یاترا کے پیش نظر۔
یواین آئی۔ظ ا
-
دنیا1 day agoایران کا فی الحال امریکہ کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں: ایرانی وزیر خارجہ
-
ہندوستان1 day agoطلبہ پر کارروائی کے معاملے پر حکومت کو گھیرتے ہوئے راہل کا مضمون، کھڑگے اور پرینکا نے حمایت کی
-
دنیا1 day agoسعودی عرب میں فیکٹری میں آگ کے سبب 16 بنگلہ دیشی مزدور ہلاک
-
دنیا1 day agoٹرمپ جوہری معاہدے کے بغیر ایران کے ساتھ تنازع ختم کرنے پر تیار: رپورٹ
-
دنیا1 day agoتجربہ کار آئی آر جی سی کمانڈر محسن رضائی ایران کے قومی سلامتی کے سربراہ مقرر
-
دنیا7 hours agoیمن میں حوثیوں کے المخا اور مارب پر بیلسٹک میزائل حملے
-
دنیا7 hours agoٹرمپ کا ایران سے معاوضے کا مطالبہ، آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
-
دنیا7 hours agoایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
-
دنیا6 hours agoکولمبیا میں زلزلے سے ہلاکتوں کی تعداد 132 ہو گئی، صدر کا قومی ایمرجنسی کا اعلان
-
ہندوستان5 hours agoپارلیمنٹ کے احاطے میں اپوزیشن ارکانِ پارلیمنٹ کا احتجاج
-
جموں و کشمیر3 hours agoیومِ آزادی سے قبل جموں و کشمیر پولیس نے سرحدی سامبا میں طویل فاصلے کی گشت اور فرضی انسدادِ دہشت گردی مشق کی
-
ہندوستان5 hours agoسندوش کمار نے نِرملا سیتارمن کے تبصرے راجیہ سبھا کے ریکارڈ سے ہٹانے کا مطالبہ کیا
