جموں و کشمیر
وقف (ترمیمی)ایکٹ2025کی قانونی حیثیت کو چیلنج کرنے والی عرضیاں سپریم کورٹ سماعت کےلئے فہرست پر غور کرے گی چیف جسٹس سنجیو کھنہ اور جسٹس سنجے کمار اور کے وی وشواناتھن پر مشتمل بنچ کا فیصلہ
سری نگر:جے کے این ا یس : سپریم کورٹ نے پیر کو وقف (ترمیمی) ایکٹ، 2025 کے آئینی جواز کو چیلنج کرنے والی عرضیوں کی فوری سماعت کےلئے فہرست بنانے پر غور کرنے پر اتفاق کیا۔چیف جسٹس سنجیو کھنہ اور جسٹس سنجے کمار اور جسٹس کے وی وشواناتھن پر مشتمل بنچ نے جمعیةعلماءہند کی طرف سے پیش ہونے والے سینئر وکیل کپل سبل کی عرضیوں کا نوٹس لیا کہ اس معاملے پر کئی عرضیاں ہیں اور انہیں فوری سماعت کےلئے درج کرنے کی ضرورت ہے۔ کپل سبل کے علاوہ، سینئر ایڈوکیٹ ابھیشیک سنگھوی اور وکیل نظام پاشا نے فوری فہرست کےلئے دیگر درخواستوں کا ذکر کیا۔جے کے این ایس مانٹرینگ کے مطابق چیف جسٹس سنجیو کھنہ، جس نے فوری فہرست کےلئے مقدمات کا زبانی ذکر کرنے کے عمل کو ختم کر دیا ہے، وکلاءسے کہا کہ وہ بنچ کے سامنے معاملات درج کروانے کےلئے خطوط دائر کریں یا میل بھیجیں۔جب سینئر وکیل کپل سبل نے کہا کہ یہ پہلے ہی ہو چکا ہے، چیف جسٹس نے کہاکہ میں دوپہر میں ذکر شدہ خط دیکھوں گا اور کال کروں گا، ہم اس کی فہرست بنائیں گے۔ وکیل نظام پاشا نے لوک سبھا ممبر پارلیمنٹ اسد الدین اویسی کی طرف سے دائر عرضی کا ذکر کیا۔صدر دروپدی مرمو نے ہفتہ کو وقف (ترمیمی) بل 2025 کو اپنی منظوری دے دی، جسے اس سے قبل دونوں ایوانوں میں گرما گرم بحث کے بعد پارلیمنٹ سے منظور کیا گیا تھا۔کانگریس کے ممبرپارلیمنٹ جاوید، اے آئی ایم آئی ایم کے صدر اسد الدین اویسی اور اے اے پی ایم ایل اے امانت اللہ خان سمیت کئی درخواستیں سپریم کورٹ میں دائر کی گئی تھیں جس میں اس ایکٹ کے جواز کو چیلنج کیا گیا تھا۔جمعیة علماءہند نے اپنی درخواست میں کہا ہے کہ یہ قانون ملک کے آئین پر براہ راست حملہ ہے، جو نہ صرف اپنے شہریوں کو مساوی حقوق فراہم کرتا ہے بلکہ انہیں مکمل مذہبی آزادی بھی دیتا ہے۔ اس نے دعویٰ کیا کہ یہ ایکٹ مسلمانوں کی مذہبی آزادی چھیننے کی ایک خطرناک سازش ہے۔جمعیتہ علماءہند نے کہاکہ یہ بل مسلمانوں کی مذہبی آزادی کو چھیننے کی ایک خطرناک سازش ہے، لہذا، ہم نے وقف (ترمیمی) ایکٹ، 2025 کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا ہے، اور جمعیة علماء ہند کی ریاستی اکائیاں بھی اپنی اپنی ریاستوں کی ہائی کورٹس میں اس قانون کے آئینی جواز کو چیلنج کریں گی۔جمعیة علماء ہند کے صدر مولانا ارشد مدنی نے نہ صرف وقف (ترمیمی) ایکٹ کی مختلف دفعات کو چیلنج کیا ہے بلکہ اس قانون کو لاگو ہونے سے روکنے کےلئے عدالت میں ایک عبوری درخواست بھی دائر کی ہے۔سپریم کورٹ میں دائر کی گئی اپنی علیحدہ درخواست میں، کیرالہ میں سنی مسلم علماءاور علماءکی مذہبی تنظیم سمستھا کیرالہ جمعیت العلماءنے دعویٰ کیا ہے کہ یہ ایکٹ مذہب کے معاملے میں اپنے معاملات کو خود سنبھالنے کے لیے مذہبی فرقے کے حقوق میں ایک صاف مداخلت ہے۔
ایڈوکیٹ ذوالفقار علی پی ایس کے توسط سے دائر درخواست میں کہا گیا کہ یہ ترامیم وقفوں کے مذہبی کردار کو مسخ کریں گی اور وقف اور وقف بورڈ کے نظم و نسق میں جمہوری عمل کو بھی ناقابل تلافی نقصان پہنچائیں گی۔لہذا، یہ پیش کیا جاتا ہے کہ 2025 کا ایکٹ مذہب کے معاملے میں اپنے معاملات کو منظم کرنے کےلئے ایک مذہبی فرقے کے حقوق میں کھلی مداخلت ہے جو کہ ہندوستان کے آئین کے آرٹیکل 26 کے تحت محفوظ ہے، سمستھا کیرالہ جمعیت العلماءکی طرف سے عرضی پیش کی گئی۔اس نے الزام لگایا کہ2025 ایکٹ آئین کے وفاقی اصولوں کے خلاف ہے کیونکہ یہ وقف کے سلسلے میں ریاستی حکومتوں اور ریاستی وقف بورڈ کے تمام اختیارات چھین لیتا ہے اور تمام اختیارات مرکزی حکومت کے ہاتھ میں جمع کر دیتا ہے۔عرضی میں کہا گیا کہ ”ان دفعات کا مجموعی اثر بڑے پیمانے پر وقفوں کےلئے انتہائی نقصان دہ ہوگا اور مسلم کمیونٹی ان دفعات کے نفاذ کی وجہ سے وقف املاک کے بڑے حصے سے محروم ہوجائے گی۔“ان کے علاوہ، ایک این جی او’ ایسوسی ایشن فار دی پروٹیکشن آف سول رائٹس‘نے بھی سپریم کورٹ میں ایک پٹیشن دائر کی ہے جس میں ایکٹ کی آئینی جواز کو چیلنج کیا گیا ہے۔جاوید کی درخواست میں الزام لگایا گیا کہ ایکٹ نے وقف املاک اور ان کے انتظام پر من مانی پابندیاںلگائی ہیں، جس سے مسلم کمیونٹی کی مذہبی خودمختاری کو نقصان پہنچا ہے۔ایڈوکیٹ انس تنویر کے توسط سے دائر درخواست میں کہا گیا ہے کہ اس قانون نے ایسی پابندیاں عائد کر کے مسلم کمیونٹی کے ساتھ امتیازی سلوک کیا ہے جو دیگر مذہبی اوقاف کے انتظام میں موجود نہیں ہیں۔اپنی الگ درخواست میں، اویسی نے کہا کہ یہ بل وقف سے مختلف تحفظات چھین لیتا ہے جو وقف اور ہندو، جین اور سکھ مذہبی اور خیراتی اوقاف کو یکساں طور پر دیا جاتا ہے۔اویسی کی درخواست، ایڈوکیٹ احمد کے ذریعہ دائر کی گئی کہ دوسرے مذاہب کے مذہبی اور خیراتی وقفوں کے لیے وقفوں کو دیے گئے تحفظ کو کم کرنا مسلمانوں کے خلاف معاندانہ امتیازی سلوک ہے اور آئین کے آرٹیکل14 اور 15 کی خلاف ورزی ہے، جو مذہب کی بنیاد پر امتیازی سلوک کی ممانعت کرتی ہے۔
درخواست میں استدلال کیا گیا کہ ترامیم وقفوں اور ان کے ریگولیٹری فریم ورک کو فراہم کردہ قانونی تحفظ کو ناقابل واپسی طور پر کمزور کرتی ہیں جبکہ دوسرے اسٹیک ہولڈرز اور مفاد پرست گروہوں کو غیر مناسب فائدہ دیتی ہیں، کئی سالوں کی پیشرفت کو نقصان پہنچاتی ہیں اور وقف کے انتظام کو کئی دہائیوں تک پیچھے دھکیلتی ہیں۔اپنی علیحدہ درخواست میں امانت اللہ خان نے وقف (ترمیمی) بل کو غیر آئینی اور آئین کے آرٹیکل14، 15،21، 25،26،29،30 اور 300A کی خلاف ورزی قرار دینے کی استدعا کی ہے۔
جموں و کشمیر
پی ڈی پی نے وزیرِ اعظم کے خواتین ریزرویشن کے مطالبے پر سوال اٹھایا، کہا 2023 کا قانون نافذ کیا جائے
سری نگر، پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کی صدر محبوبہ مفتی نے ہفتہ کے روز وزیرِ اعظم نریندر مودی کی جانب سے خواتین کے لیے ریزرویشن کی حمایت میں دیے گئے بیان پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ اس وقت توجہ آئینی اقدار کے تحفظ پر ہونی چاہیے۔
سری نگر کے بخشی اسٹیڈیم میں یومِ آزادی کی تقریب میں شرکت کے بعد صحافیوں سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ ’’میری نظر میں آج کا دن ریزرویشن سے کہیں زیادہ بڑے مسئلے سے متعلق ہے۔ اس ملک کے لاکھوں اور کروڑوں لوگوں نے ہمیں جو آزادی حاصل ہوئی، اس کے لیے قربانیاں دی ہیں۔‘‘
ان کا یہ بیان وزیرِ اعظم مودی کی یومِ آزادی کی تقریر کے بعد سامنے آیا، جس میں انہوں نے تمام سیاسی جماعتوں سے پارلیمنٹ اور ریاستی اسمبلیوں میں خواتین کے لیے ریزرویشن کے نفاذ کی حمایت کرنے کی اپیل کی تھی۔
جموں و کشمیر کی سابق وزیرِ اعلیٰ نے کہا کہ مہاتما گاندھی، جواہر لال نہرو، مولانا ابوالکلام آزاد، سردار ولبھ بھائی پٹیل اور ڈاکٹر بی آر امبیڈکر جیسے رہنماؤں نے ایسے ہندوستان کا تصور پیش کیا تھا جہاں لوگ آزادی کے ساتھ زندگی گزار سکیں، اپنی مرضی سے طرزِ زندگی اختیار کر سکیں اور مساوی حقوق سے لطف اندوز ہوں۔
انہوں نے مرکز کی بی جے پی حکومت سے غور کرنے کی اپیل کی کہ آیا ہندوستان واقعی آئین میں بیان کردہ اصولوں کی عکاسی کرتا ہے۔
محبوبہ مفتی نے کہا کہ ڈاکٹر امبیڈکر کی قیادت میں اور اُس وقت کی کانگریس قیادت کی حمایت سے تیار کیے گئے آئین نے تمام شہریوں کے لیے انصاف اور مساوات کی ضمانت دی ہے اور مذہب و ذات کی بنیاد پر امتیاز کو مسترد کیا ہے۔
پی ڈی پی صدر نے کہا کہ آئین مساوات کی ضمانت دیتا ہے اور مذہب یا ذات کی بنیاد پر امتیاز کی ممانعت کرتا ہے۔
انہوں نے سوال کیاکہ ’’تو میں محسوس کرتی ہوں کہ 80 سال بعد کیا ہمیں پیچھے کی جانب لے جایا جا رہا ہے؟ کیا ہمیں 1947 کی طرف لے جایا جا رہا ہے، جب ہندو مسلم تنازعات تھے، برطانوی حکومت تھی، ہمارے پاس کوئی حقوق نہیں تھے اور آمریت تھی؟‘‘
جموں و کشمیر کی سابق وزیرِ اعلیٰ نے کہا کہ موجودہ وقت میں آئینی اقدار کا تحفظ زیادہ اہم اور فوری مسئلہ ہے۔
خواتین کے لیے ریزرویشن کے معاملے پر محبوبہ مفتی نے کہا کہ ان کی پارٹی اس اقدام کی حمایت کرتی ہے اور نشاندہی کی کہ پارلیمنٹ پہلے ہی 2023 میں متعلقہ قانون منظور کر چکی ہے۔
انہوں نے کہاکہ ’’جہاں تک ریزرویشن کا تعلق ہے، ہم ریزرویشن چاہتے ہیں اور اس کے لیے 2023 میں قانون پہلے ہی منظور کیا جا چکا ہے۔ اب صرف اسے نافذ کرنے کی ضرورت ہے۔ تو اپوزیشن کو اس پر کیا اعتراض ہے؟‘‘
یواین آئی۔ ظ ا
جموں و کشمیر
یومِ آزادی کے موقع پر وزیرِ اعلیٰ عمر عبداللہ نے بلیدان استمبھ پر پھول چڑھائے
سری نگر، ملک کے 80ویں یومِ آزادی کے موقع پر جموں و کشمیر کے وزیرِ اعلیٰ عمر عبداللہ نے ہفتہ کے روز سری نگر میں واقع بلیدان استمبھ پر پھول چڑھا کر شہیدوں کی عظیم قربانیوں کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔
حکام نے بتایا کہ وزیرِ اعلیٰ نے شہر کے مرکزی علاقے میں واقع یادگار پر پھولوں کی چادر چڑھائی اور ملک کی خدمت میں اپنی جانیں قربان کرنے والوں کے احترام میں ایک منٹ کی خاموشی اختیار کی۔
اس موقع پر جموں و کشمیر کے پولیس سربراہ نلن پربھات، اے ڈی جی پی ہیڈکوارٹرز، کشمیر کے ڈویژنل کمشنر، اعلیٰ افسران، سکیورٹی اہلکار اور دیگر افراد موجود تھے۔
یواین آئی۔ظ ا
جموں و کشمیر
جموں و کشمیر: کشتواڑ میں ایس یو وی نالے میں جاگری، پانچ افراد ہلاک
جموں، جموں و کشمیر کے کشتواڑ ضلع کے دچھن علاقے میں ایک ایس یو وی کے حادثے کا شکار ہوکر نالے میں جا گرنے سے کم از کم پانچ افراد ہلاک ہوگئے۔
حکام نے بتایا کہ ایس یو وی کشتواڑ سے دچھن کی جانب جارہی تھی کہ ڈرائیور نے گاڑی پر قابو کھو دیا، جس کے نتیجے میں گاڑی مدوسر نالہ میں جاگری۔
حادثے کی اطلاع ملتے ہی پولیس، فوج کے اہلکاروں اور مقامی باشندوں نے فوری طور پر امدادی کارروائی شروع کردی۔
حکام نے بتایاکہ ’’پانچ لاشیں نکال لی گئی ہیں، جبکہ امدادی کارروائی جاری ہے۔‘‘
انہوں نے کہا کہ مزید تفصیلات کا انتظار ہے۔
یواین آئی۔ ظ ا
-
جموں و کشمیر4 days agoاسپورٹس کوٹا پر مبنی ملازمتیں: جے اینڈ کے بی جے پی نے اعلیٰ سطحی جانچ کا مطالبہ کیا، احتجاجی کھلاڑیوں کی حمایت کی
-
ہندوستان6 days agoطلبہ پر کارروائی کے معاملے پر حکومت کو گھیرتے ہوئے راہل کا مضمون، کھڑگے اور پرینکا نے حمایت کی
-
جموں و کشمیر5 days agoیومِ آزادی سے قبل جموں و کشمیر پولیس نے سرحدی سامبا میں طویل فاصلے کی گشت اور فرضی انسدادِ دہشت گردی مشق کی
-
دنیا6 days agoسعودی عرب میں فیکٹری میں آگ کے سبب 16 بنگلہ دیشی مزدور ہلاک
-
دنیا6 days agoایران کا فی الحال امریکہ کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں: ایرانی وزیر خارجہ
-
دنیا6 days agoٹرمپ جوہری معاہدے کے بغیر ایران کے ساتھ تنازع ختم کرنے پر تیار: رپورٹ
-
دنیا6 days agoتجربہ کار آئی آر جی سی کمانڈر محسن رضائی ایران کے قومی سلامتی کے سربراہ مقرر
-
دنیا5 days agoشام کے سابق صدر بشار الاسد کو سزائے موت سنادی گئی
-
دنیا6 days agoکیسپین سمندر معاہدے کا مستقبل ایران کی پارلیمنٹ طے کرے گی: اسماعیل بقائی
-
دنیا5 days agoایران نے خود کو ایک ‘ناقابل تسخیر طاقت’ ثابت کیا ہے: عراقچی
-
دنیا5 days agoایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
-
دنیا5 days agoموساد کے سابق سربراہ کا انکشاف، ماضی میں ایران کی فردو جوہری تنصیب کا کئی بار دورہ کیا
