تازہ ترین
وینزوئلا: قیدیوں اور پولس اہلکار کے درمیان زبردست تصادم، 29 قیدی ہلاک
خبراردو: وینزوئلا واقع جیل میں جمعہ کو قیدیوں اور پولس کے درمیان ہوئے زبردست تصادم میں 29 قیدیوں کی موت ہو گئی۔ اس واقعہ میں 19 پولس اہلکار کے زخمی ہونے کی خبریں بھی موصول ہو رہی ہیں۔
وینزوئلا کی ایک جیل میں ہوئے زبردست تصادم میں 29 قیدیوں کی موت ہو گئی اور 19 پولس اہلکار زخمی ہو گئے۔ یہ واقعہ جمعہ کو ایکاریگوا شہر کے ایک پولس لاک اَپ میں ہوا۔ ریاست کے پبلک سیکورٹی سکریٹری آسکر ویلیرو نے میڈیا سے کہا کہ ’’قیدیوں نے بھاگنے کی کوشش کی اور پھر گروپوں کے درمیان لڑائی شروع ہو گئی۔‘‘ انھوں نے یہ بھی کہا کہ ’’جب پولس نے قیدیوں کو بھاگنے سے روکا اور معاملے میں بیچ بچاؤ کیا تو قیدیوں نے اس کی مخالفت کی اور دونوں فریقین کے درمیان تصادم شروع ہو گیا جس میں 29 قیدی مارے گئے۔‘‘
ایک خبر رساں ادارہ کے مطابق ویلیرو نے کہا کہ قیدیوں نے تین گرینیڈ پھینکے جس میں 19 پولس افسر بھی زخمی ہو گئے۔ ایکاریگوا کے لاک اَپ میں اب بھی 350 سے زائد لوگ ٹرائل کا انتظار کر رہے ہیں۔ ایک آزاد ایڈووکیسی گروپ دی وینزوئلن پریزنس آبزرویٹری (او وی پی) نے ملک کی 30 جیلوں میں پرانے قیدیوں کی بھیڑ، بدعنوانی اور تشدد کے لیے آٹھ سال پہلے بنائی گئی وزارت برائے انصاف اور اصلاح محکمہ کو قصورار ٹھہرایا ہے۔
او وی پی کا کہنا ہے کہ ’’ایکاریگوا میں جو کچھ بھی ہوا وہ ایک اجتماعی قتل ہے۔‘‘ ایک دیگر این جی او نے کہا کہ یہ تصادم اس وقت شروع ہوا جب قیدی دیگر سہولیات کے مطالبے کو لے کر احتجاجی مظاہرہ کر رہے تھے۔
او وی پی کے مطابق جیل میں 35562 قیدیوں کے رہنے کی جگہ پر تقریباً 55 ہزار لوگ رہتے ہیں۔ گزشتہ ایک دہائی میں وینزوئلا کی جیلوں کے اندر کئی قیدیوں کی تشدد میں موت ہوئی ہے۔
جموں و کشمیر
جموں و کشمیر: مودی کی جانب سے قابل فخر قرار دیا گیا 2,000 سال قدیم بدھ مت مقام کو تباہی کا خطرہ
از: ماجد جہانگیر
سری نگر، شمالی کشمیر میں تقریباً 2,000 سال قدیم بدھ مت کا ایک آثارِ قدیمہ کمپلیکس، جسے وزیر اعظم نریندر مودی نے خطے کے مالا مال ثقافتی ورثے کے لیے ’قابل فخر لمحہ‘ قرار دیا تھا، اب ایک بالکل مختلف خطرے یعنی دریائے جہلم کی زد میں ہے۔
ایک حالیہ مطالعے میں خبردار کیا گیا ہے کہ 2050 تک اس مقام کے اطراف 10,000 مربع میٹر سے زیادہ زمین دریا برد ہو سکتی ہے، جبکہ حفاظتی اقدامات نہ کیے گئے تو مرکزی یادگار کو اگلی تین دہائیوں کے اندر منہدم ہونے کا شدید خطرہ ہے۔
یہ انتباہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ماہرین آثارِ قدیمہ مسلسل دوسرے سال اس مقام پر کھدائی کر رہے ہیں۔ وہ پہلی صدی عیسوی، یعنی کوشان دور سے تعلق رکھنے والے قدیم بدھ مت کے ایک نیم دائرہ نما اسٹوپا کمپلیکس کا مطالعہ کر رہے ہیں۔
جولائی 2026 میں ’اینشینٹ ایشیا‘ جریدے میں شائع ہونے والے اس مطالعے میں 1976 سے 2022 کے درمیان مقام کے اطراف ہونے والی تبدیلیوں کا نقشہ تیار کرنے کے لیے 46 سال کی سیٹلائٹ تصاویر اور جغرافیائی اطلاعاتی نظام (جی آئی ایس) کے تجزیے کا استعمال کیا گیا۔ مطالعے میں دریائے جہلم کے کنارے بڑے پیمانے پر کٹاؤ اور دریا کے بہاؤ کے راستے میں تبدیلی پائی گئی، جس کا سب سے شدید مرحلہ 1989 سے 2000 کے درمیان ریکارڈ کیا گیا۔
ان 11 برسوں کے دوران زمین کے کٹاؤ کی اوسط سالانہ شرح بڑھ کر 3,616.09 مربع میٹر ہو گئی، جبکہ 1976 سے 1989 کے درمیان یہ شرح 818.15 مربع میٹر سالانہ اور 2000 سے 2022 کے درمیان 361.5 مربع میٹر سالانہ تھی۔ محققین نے مجموعی طور پر 1989 سے 2000 کے دوران 39,777 مربع میٹر زمین کے کٹاؤ کا ریکارڈ درج کیا۔
محققین نے اس غیر معمولی کٹاؤ کی وجہ دریا کے قدرتی عمل کے ساتھ انسانی مداخلت، خاص طور پر دریا کے اندر بڑے پیمانے پر اور غیر منظم کان کنی کو قرار دیا ہے۔
مطالعے کے مطابق، کان کنی کے لیے بنائے گئے گڈھوں نے دریا کے بہاؤ کو تبدیل کر دیا اور دریا کے سب سے گہرے بہاؤ کو آثارِ قدیمہ کے مقام کے قریب کر دیا، جس سے دریا کا کنارہ کمزور ہو گیا۔ دریا کے کنارے موجود قدرتی نباتات کے خاتمے سے بھی کٹاؤ کے خلاف کنارے کی قدرتی مزاحمت مزید کم ہو گئی۔
جہلم کے دائیں کنارے پر واقع زہان پور کمپلیکس تین اسٹوپوں کی ایک قطار پر مشتمل ہے۔ محققین نے ’پلیس اے‘ کے نام سے معروف علاقے کو کٹاؤ کا مرکز قرار دیا ہے، جہاں آثارِ قدیمہ کے باقیات زمین کی کششِ ثقل کے باعث منہدم ہونے، دریا کے خم دار بہاؤ کی سمت میں تبدیلی اور دریا کی براہ راست کٹائی کے خطرے سے دوچار ہیں۔
2000 کے بعد کٹاؤ کی شرح کو بنیاد بنا کر خطی تخمینے کے ذریعے محققین نے اندازہ لگایا ہے کہ 2022 سے 2050 کے درمیان تقریباً 10,122 مربع میٹر زمین دریا برد ہو سکتی ہے۔
تاہم مضمون نگار نے خبردار کیا ہے کہ یہ تخمینہ تحفظ اور انتظامی منصوبہ بندی کے لیے ہے، اسے قطعی ہائیڈرولوجیکل پیش گوئی نہیں سمجھا جانا چاہیے۔ اس میں شدید سیلابی واقعات یا جہلم کے طاس میں ممکنہ غیر خطی تبدیلیوں کو شامل نہیں کیا گیا ہے، جو کٹاؤ کی رفتار میں مزید اضافہ کر سکتی ہیں۔
محققین نے کہا کہ اس سے بھی زیادہ تشویش ناک بات خود مرکزی یادگار کی کمزوری ہے۔
مطالعے میں کہا گیا ہے، ’’ہماری پیش گوئی کے مطابق اگر حفاظتی اقدامات نہیں کیے گئے تو مرکزی یادگار کو اگلی تین دہائیوں کے اندر منہدم ہونے کا شدید خطرہ ہے۔‘‘
محققین نے دریا کے کنارے کو مستحکم کرنے اور آثارِ قدیمہ کے باقیات کو محفوظ رکھنے کے لیے ساختی اور قدرتی بنیادوں پر مبنی اقدامات کا مجموعہ تجویز کیا ہے۔ ان میں حفاظتی دیواریں، گیبیونز اور گہری جڑوں والی نباتات کو منصوبہ بندی کے ساتھ لگانے پر مبنی بائیو انجینئرنگ اقدامات شامل ہیں۔
ان نتائج نے زہان پور میں جاری آثارِ قدیمہ کے کام کی فوری ضرورت کو مزید اجاگر کر دیا ہے۔ یہ مقام کشمیر کے نسبتاً کم معروف بدھ مت ماضی کے بارے میں نئے شواہد فراہم کر رہا ہے۔
خیال کیا جاتا ہے کہ یہ کمپلیکس قدیم ثقافتی اور تجارتی منظرنامے کا حصہ تھا، جو کشمیر کو گندھارا اور وسطی ایشیا سے جوڑتا تھا۔ محققین کی جانب سے پیش کیے گئے تاریخی حوالوں میں وسیع تر بارہمولہ خطے کو بدھ مت کے ان مراکز سے بھی جوڑا گیا ہے، جہاں ساتویں صدی میں چین کے سیاح اور عالم ہیون سانگ نے کشمیر کا سفر کرتے ہوئے دورہ کیا تھا۔
اس مقام کو گزشتہ سال دسمبر میں اس وقت قومی سطح پر توجہ حاصل ہوئی، جب وزیر اعظم نریندر مودی نے اپنے ماہانہ ریڈیو پروگرام ’من کی بات‘ میں اس کا ذکر کیا۔
زہان پور میں بڑے اسٹوپوں کی دریافت کا حوالہ دیتے ہوئے مودی نے اسے جموں و کشمیر کے لیے ’قابل فخر لمحہ‘ قرار دیا اور خطے کے مالا مال ثقافتی ورثے کا ذکر کیا۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ فرانس کے ایک عجائب گھر میں محفوظ تین اسٹوپوں کی ایک پرانی اور دھندلی تصویر نے کشمیر کے بدھ مت ماضی کی جانب توجہ مبذول کرانے میں مدد کی۔
اس کے بعد آثارِ قدیمہ کی کھدائی دوسرے سال میں داخل ہو گئی ہے اور محققین نیم دائرہ نما اسٹوپا کمپلیکس اور اس کے اطراف موجود آثار کا مسلسل جائزہ لے رہے ہیں۔
لیکن حالیہ مطالعے سے ظاہر ہوتا ہے کہ اب آثارِ قدیمہ کے ماہرین کو دریا سے مقابلے کے لیے وقت کے خلاف دوڑنا پڑ سکتا ہے۔
محققین نے کہا کہ زہان پور کا معاملہ یہ ظاہر کرتا ہے کہ آزادانہ طور پر دستیاب سیٹلائٹ تصاویر اور جغرافیائی اعداد و شمار کو کس طرح حساس اور خطرے سے دوچار ثقافتی ورثے کے مقامات کو لاحق خطرات کی نشاندہی اور تحفظ کی کوششوں کی رہنمائی کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔
ان کے مطابق، یہ مطالعہ پالیسی سازوں اور تحفظِ آثار کے اداروں کو محض نگرانی سے آگے بڑھ کر فعال اقدامات کی جانب لے جانے کے لیے ایک ’’واضح اور اعداد و شمار پر مبنی بنیاد‘‘ فراہم کرتا ہے۔
یواین آئی۔ ط ا
دنیا
فرانس میں طلبہ کے احتجاج کے دوران 1,000 سے زائد افراد زخمی
پیرس، فرانس میں ہائی اسکول کے طلبہ کے بڑے پیمانے پر احتجاجی مظاہروں کے دوران 1,000 سے زائد افراد زخمی ہو گئے ہیں۔ ‘لی فیگارو’ اخبار نے حکام کے حوالے سے پیر کے روز یہ معلومات فراہم کی ہیں۔
رپورٹ کے مطابق، 715 پولیس اہلکار اور جنڈرم (خاص پولیس فورس)، نیز 215 طلبہ اور تعلیمی نظام سے وابستہ 85 ملازمین زخمی ہوئے۔ فرانس میں ہائی اسکول کے طلبہ ستمبر کے وسط سے ہی پڑھائی کے بھاری بوجھ، اساتذہ کی کمی اور تعلیم سے جڑے دیگر مسائل کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں۔ کچھ معاملات میں یہ احتجاجی مظاہرے بدامنی میں تبدیل ہو گئے۔
پولیس کی کارروائی کے حوالے سے بڑھتی ہوئی تشویش کے درمیان، منگل کے روز ملک بھر میں حمایتی ریلیوں میں ہزاروں افراد کی شرکت کی توقع ہے۔
فرانسیسی وزیرِ اعظم سیبسٹین لیکورنو نے ملک گیر طلبہ کے احتجاج کو پرسکون کرنے کی کوشش میں ہڑتال کرنے والے اسکول کے طلبہ کی شکایتوں کو “جائز” تسلیم کیا ہے۔ ‘دی گارڈین’ کی رپورٹ کے مطابق، حکومت نے وزراء کو طلبہ کے پانچ اہم مطالبات سے نمٹنے کے لیے اکتوبر 2026 کے آخر تک تجاویز کا جائزہ لینے اور انہیں پیش کرنے کا حکم دیا ہے۔
یواین آئی/اسپوتنک۔الف الف
ہندوستان
جے شنکر گھانا، کوٹ ڈی آئیوائر اور ایتھوپیا کے چھ روزہ دورے پر
نئی دہلی، وزیر خارجہ ڈاکٹر ایس جے شنکر منگل کے روز سے تین افریقی ممالک گھانا، کوٹ ڈی آئیوائر اور ایتھوپیا کے سرکاری دورے پر رہیں گے۔
وزارتِ خارجہ نے بتایا کہ وزیرِ خارجہ تینوں ممالک کی قیادت اور وہاں کے اپنے ہم منصبوں کے ساتھ دو طرفہ تعلقات، تجارت، اقتصادی تعاون، ترقیاتی تعاون اور صلاحیت سازی سمیت متعدد امور پر تبادلہ خیال کریں گے۔ میٹنگوں میں ہندستان اور ان تینوں ممالک کے درمیان دوستی اور تعاون سے جڑے تعلقات کا جائزہ لیا جائے گا۔ بات چیت میں تجارت اور اقتصادی تعلقات، ترقیاتی تعاون، صلاحیت سازی اور دونوں ممالک کے عوام کے درمیان رابطوں سمیت دو طرفہ تعلقات کے تمام اہم شعبوں پر گفتگو کی جائے گی۔
ڈاکٹر جے شنکر علاقائی اور عالمی سطح کے باہمی مفاد سے جڑے مسائل پر بھی متعلقہ ممالک کے ساتھ خیالات کا تبادلہ کریں گے۔ ایتھوپیا کے دارالحکومت ادیس ابابا میں وزیرِ خارجہ علاقائی مشن کے سربراہوں کی کانفرنس کی صدارت بھی کریں گے۔ وزارتِ خارجہ نے کہا ہے کہ وزیرِ خارجہ کا یہ دورہ افریقہ کے ساتھ ہندوستان کی شراکت داری کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کی عکاسی کرتا ہے۔ یہ دورہ گلوبل ساؤتھ کے ساتھ ہندوستان کی یکجہتی کو بھی آگے بڑھائے گا۔
یواین آئی۔الف الف
-
دنیا1 week agoایران کے پاس امریکہ کے ساتھ مذاکرات کی کوئی منصوبہ بندی نہیں :ایرانی میڈیا
-
دنیا1 week agoایران نے ثالثوں کے ساتھ مغربی ایشیا میں لڑائی ختم کرنے کے طریقوں پر تبادلہ خیال کیا: عراقچی
-
دنیا1 week agoٹرمپ نے ایران تنازع ختم ہونے کے اشارے دیے، تاہم نئے حملوں کا امکان مسترد نہیں کیا
-
دنیا1 week agoیوکرین میں روسی حملوں میں آٹھ افراد ہلاک، درجنوں زخمی
-
دنیا1 week agoامریکہ گرین لینڈ میں نایاب معدنیات کی کان کنی کر سکتا ہے: روبیو
-
جموں و کشمیر5 days agoسری نگر پولیس نے بین ریاستی منشیات نیٹ ورک کا پردہ فاش کیا، آٹھ افراد گرفتار
-
دنیا7 days agoعالمی قوانین کے زوال سے دنیا ’ہابسیائی‘ نظام کی طرف بڑھ سکتی ہے: جے شنکر
-
دنیا6 days agoقطری ثالثی کی امریکہ، ایران کے درمیان مذاکرات میں معمولی پیش رفت
-
ہندوستان1 week agoاپوزیشن پر ای ڈی-سی بی آئی، عوام پر تھپڑ-لاٹھی-گولی: کھرگے
-
دنیا1 week agoٹرمپ نے ایرانی ہرمز امن معاہدے کو مسترد کردیا، تیل کے بھاو 105 ڈالر سے تجاوز کر گئے
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر پولیس نے جعلی کرنسی کے ریکیٹ کا پردہ فاش کیا، تین افراد گرفتار
-
دنیا7 days agoغزہ میں اسرائیلی جنگ کے تین سال بعد تباہی کی ہولناک تصویر، سیٹلائٹ تصاویر سے تباہی کا پیمانہ نمایاں
