تازہ ترین
ویڈیو:بلدیاتی انتخابات نتائج ، کیا کشمیر میں کنول کا پھول اب حقیقت بن رہا ہے؟
خبراردو:
ریاست جموں وکشمیر میں 13برس کے طویل وقفے کے بعد منعقدہ بلدیاتی انتخابات میں ڈالے گئے ووٹوں کی گنتی کے دوران کانگریس پارٹی نے اپنی حریف جماعت بی جے پی کا پتا صاف کرتے ہوئے جموں، کشمیر اور لداخ کے بیشتر حلقوں میں جیت درج کرلی ہے۔ اطلاعات کے مطابق ریاست جموں وکشمیر میں منعقد ہ بلدیاتی انتخابات میں ڈالے گئے ووٹوں کی گنتی سنیچر صبح 8بجے سے ہی جموں، کشمیر اور لداخ کے الگ الگ مراکز پر شروع کی گئی ۔ اس موقعے پر 1145حلقوں میں مختلف سیاسی پارٹیوں اور آزاد اُمیدواروں کی طرف سے 3372درخواست نامزدگی داخل ہوئیں جبکہ 8، 10، 13اور 16اکتوبر کو ریاست کے تینوں خطوں سے تعلق رکھنے والے رائے دہندگان نے اپنی رائے حق دہی کا استعمال کرتے ہوئے پولنگ مراکز کا رخ کرتے ہوئے من پسند اُمیدواروں کے حق میں ووٹ ڈالے۔ انتخابات کے دوران اگر چہ جموں اور لداخ میں عوامی کی بھاری تعداد نے پولنگ مراکز کا رخ کرتے ہوئے ووٹ ڈالے تاہم وادی کشمیر میں پولنگ مراکز پر الو بولتے ہوئے نظر آئے۔
کشمیر کے 598حلقوں پر 231اُمیدواروں کو بلامقابلہ کامیاب قرار دیا گیا جبکہ 181حلقوں پر کسی بھی سیاسی جماعت یا آزاد اُمیدوار نے درخواست نامزدگی داخل نہیں کی۔سنیچر کو ووٹنگ کی دوران کانگریس پارٹی نے اپنی حریف جماعت بی جے پی کا پتہ صاف کرتے ہوئے جموں، کشمیر اور لداخ کے بیشتر حلقوں پر جیت درج کرلی ہے۔ تفصیلات کے مطابق کانگریس پارٹی نے خطہ لداخ کے لیہہ صوبے میں سبھی 13حلقوں پر جیت درج کرلی ہے۔ معلوم ہوا ہے کہ سنیچر کو ووٹنگ کی گنتی کے دوران یہاں کانگریس پارٹی کے کارکنان نے خوشیاں منائی جب یہاں پارٹی نے سبھی حلقوں پر جیت درج کرلی۔ معلوم ہوا ہے کہ بی جے پی جنہوں نے لداخ ترقیاتی کونسل انتخابات میں چند ہفتے قبل ہی جیت درج کرلی تھی ، بلدیاتی انتخابات کے دوران یہاں اپنا کھاتہ نہ کھول سکی۔ ادھر کرگل میں بھی کانگریس نے 5وارڈوں پر جیت درج کرتے ہوئے بی جے پی کے لیے یہاں بھی زمین تنگ کردی ہے۔ معلوم ہوا ہے کہ یہاں پر 8حلقوں پر آزاد اُمیدواروں نے جیت درج کرلی ہے۔
خطہ چناب کے بانہال علاقے میں بھی کانگریس نے بھی بی جے پی کو کھاتہ کھولنے کی اجازت نہیں دی۔ کانگریس نے 4حلقوں پر جیت درج کرلی ہے جن میں 2خواتین اُمیدوار بھی شامل ہیں۔ اسی طرح جنوبی قصبہ اننت ناگ میں کانگریس نے 25حلقوں میں سے 20حلقوں پر کامیابی حاصل کرلی ہے۔ معلوم ہوا ہے کہ اننت ناگ میونسپل کمیٹی کے تحت آنے والے 20حلقوں میں سے 16حلقوں پر 240ووٹ حاصل کئے جبکہ یہاں 9حلقوں پر کسی بھی سیاسی جماعت یا آزاد اُمیدوار نے کاغذات نامزدگی داخل نہیں کرائے تھے۔ شمالی کشمیر کے بارہمولہ میونسپل کمیٹیپر کانگریس نے جیت درج کرلی ہے۔ معلوم ہوا ہے کہ وٹنگ کی گنتی کے دوران یہاں کانگریس نے 12میونسپل کمیٹیوں پرجبکہ بی جے پی نے 6میونسپل کمیٹیوں پر جیت درج کی۔تفصیلات کے مطابق بارہمولہ میونسپل کمیٹی میں 15حلقوں پر ووٹنگ منعقد کی گئی جن میں کانگریس نے 8، بی جے پی نے 5اور 2آزاد اُمیدواروں نے میدان مار لیا۔ذرائع نے بتایا کہ یہاں کانگریس نے 4نشستوں پر بلامقابلہ جیت درج کرلی جبکہ بی جے پی اور آزاد اُمیدوار نے بھی ایک ایک سیٹ پر بلامقابلہ کامیابی حاصل کی۔ سیکورٹی نوعیت سے حساس مانے والے جنوبی کشمیر میں کانگریس پارٹی نے کم ہی نشستوں پر جیت درج کرلی جبکہ یہاں بی جے پی کا ہی پلڑا بھاری رہا ہے.
تفصیلات کے مطابق مٹن میونسپل کمیٹی کے تحت آنے والے حلقوں میں سے بی جے پی نے 7پر جیت درج کرلی ہے جبکہ کانگریس پارٹی نے 2نشستیں یہاں سے حاصل کی ہیں۔کوکرناگ میونسپل کمیٹی کے تحت آنے والے حلقہ جات میں سے کانگریس نے 10پر کامیابی حاصل کرلی جبکہ یہاں 2آزاد اُمیدوار بھی اپنا کھاتہ کھولنے میں کامیاب رہے ۔ ذرائع نے بتایا کہ کوکرناگ میونسپل کمیٹی کے تحت حلقہ جات میں صرف 4حلقوں پر انتخابات ہوئے جبکہ 8حلقوں پر اُمیدواروں کو بلامقابلہ کامیاب قرار دیا گیا۔ اسی طرح یہاں 1حلقہ انتخاب پر کسی بھی پارٹی نے درخواست نامزدگی داخل نہیں کی تھی۔ وسطی ضلع گاندربل میں ووٹنگ کے دوران جو نتائج سامنے آئے ان کے مطابق 13حلقوں پر آزاد اُمیدواروں نے میدان مارلیا جبکہ بی جے پی اور کانگریس پارٹی نے 2، 2نشستیں حاصل کیں۔ معلوم ہوا ہے کہ 5حلقوں پر اُمیدواروں کو بلامقابلہ کامیاب قرار دیا گیا۔شمالی کشمیر کے ہندوارہ میونسپل کمیٹی کے تحت آنے والے حلقہ جات میں سبھی 13سیٹوں پر آزاد اُمیدواروں نے کامیابی حاصل کرلی ہے۔ معلوم ہوا ہے کہ یہاں 13میں سے صرف 7حلقوں پر ووٹنگ منعقد ہوئی جہاں آزادی اُمیدواروں نے میدان مارلیا جبکہ 6حلقوں پر بھی آزاد اُمیدواروں نے بلامقابلہ جیت درج کرلی۔بانڈی پورہ میونسپل کمیٹی پر بھی کانگریس نے 17میں سے 12حلقوں پر کامیابی حاصل کرلی جبکہ بی جے پی نے 3نشستیں حاصل کیں۔ معلوم ہوا ہے کہ یہاں 2حلقوں پر آزاد اُمیدواروں نے بھی میدان مارلیا ہے۔
حاجن میونسپل کمیٹی پر کانگریس نے 10نشستوں پر بلامقابلہ کامیابی حاصل کرلی ، اسی طرح سنبل میونسپل کمیٹی میں کانگریس نے8نشستیں حاصل کرلی ۔ معلوم ہوا ہے کہ یہاں 8حلقوں پر آزاداُمیدواروں نے ہی میدان صاف کیا۔ ادھر بی جے پی نے جنوبی کشمیر کے کولگام، اننت ناگ، شوپیان اور پلوامہ کے تحت آنے والی میونسپل کمیٹیوں پر 53حلقوں پرجیت درج کرتے ہوئے 20میونسپل کمیٹیوں پر قبضہ جمالیا جبکہ کانگریس بھی جنوبی اضلاع میں 28حلقوں پر جیت درج کرنے کے ساتھ ہی 3میونسپل کمیٹیوں پر قابض ہوگئی ہے۔معلوم ہوا ہے کہ بی جے پی نے جنوبی کشمیر کی شوپیان میونسپل کمیٹی میں اچھے نمبرات حاصل کرلیے ہیں جس کے تحت پارٹی 12حلقوں پر بلامقابلہ کامیاب قرار پائی ہے۔ جنوبی کشمیر کے ہی دیوسر میونسپل کمیٹی پر بی جے پی نے 8سیٹیں حاصل کرلی ہیں۔پارٹی نے قاضی گنڈ میں اپنا کھاتہ کھولتے ہوئے 7میں سے 4حلقوں پر کامیابی حاصل کرلی ہے۔ اسی طرح پہلگام میونسپل کمیٹی کے تحت آنے والے 13حلقوں پر بی جے پی نے بلامقابلہ کامیابی حاصل کرلی ہے۔معلوم ہوا ہے کہ یہاں پر کسی بھی سیاسی جماعت یا آزاد اُمیدوار نے درخواست نامزدگی داخل نہیں کرائی تھی جس کے نتیجے میں بی جے پی کے لیے جیت یقینی بن چکی تھی۔
ادھر جنوبی قصبہ کی ڈورو میونسپل کمیٹی جوکانگریس کے ریاستی صدر غلام احمد میر کا حلقہ انتخاب ہے، کے تحت آنے والے 17حلقوں میں سے کانگریس نے 14پر جیت درج کرلی ہے . کوکرناگ میونسپل کمیٹی پر بھی کانگریس پارٹی نے 8حلقوں میں سے 6حلقوں پر کامیابی حاصل کرلی ہے۔ اسی طرح یاری پورہ میونسپل کمیٹی پر بھی پارٹی نے 13نشستوں پر کامیابی حاصل کرلی ہے۔ادھر وسطی ضلع بڈگام میں کانگریس نے بی جے پی کو پیچھے چھوڑتے ہوئے 6نشستوں پر کامیابی حاصل کرلی ہے۔ معلوا ہو اہے کہ یہاں بی جے پی نے 4نشستیں حاصل کیں۔اسی طرح یہاں کانگریس پارٹی چرار میونسپل کمیٹی کے تحت آنے والے 18حلقوں پر جیت درج کرلی۔ پارٹی نے چاڈورہ میونسپل کمیٹی کے تحت آنے والے 8حلقوں میں سے 6پر کامیابی کا جھنڈا گاڑدیا ۔ادھر جموں میں بی جے پی نے میدان مارتے ہوئے کانگریس کو پیچھے چھوڑتے ہوئے 43حلقوں پر جیت کرلی۔ تفصیلات کے مطابق جموں کے 75حلقوں پر بی جے پی نے 43، کانگریس نے 14اور آزاد اُمیدواروں نے 18حلقوں پر کامیابی حاصل کرلی ہے۔ ادھر ووٹوں کی گنتی عمل میں لانے کے لیے انتظامیہ نے گنتی مراکز کے ارد گرد سخت سیکورٹی کا پہرا بٹھایا دیا تھاجس دوران شیر کشمیر انٹرنیشنل کنونشن سنٹر بیلوارڈ کو سیکورٹی فورسز نے مکمل طور پر اپنی تحویل میں لیا تھا جبکہ اسی طرح جموں کے پالی ٹنکنک انسٹی چوٹ واقع بکرم چوک جموں کو بھی فورسز اہلکاروں نے اپنی تحویل میں لے کر ووٹنگ کی گنتی کو پرامن اور خوشگوار ماحول میں منعقد کیا۔
دنیا
ٹرمپ کا وسط مدتی انتخابات سے قبل ایران پر حملہ نہ کرنے کا اعلان
اے آئی سرچ لوگو
واشنگٹن، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکہ 3 نومبر کو ہونے والے وسط مدتی انتخابات سے قبل ایران پر حملہ نہیں کرے گا۔
ٹرمپ نے جمعرات کی شب اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ٹروتھ سوشل’ پر لکھا، ”اسلامی جمہوریہ ایران کے ساتھ ہماری مفید بات چیت جاری ہے۔ ہم امریکہ میں 3 نومبر کو ہونے والے وسط مدتی انتخابات سے قبل کسی بھی وقت ایران پر حملہ نہیں کریں گے۔”
ٹرمپ کے اس بیان کے بعد جمعہ کی صبح تیل کی قیمتوں میں کمی درج کی گئی، کیونکہ حالیہ ہفتوں کے دوران توانائی سے مالا مال خلیجی خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث تیل کی سپلائی متاثر ہونے کے خدشات میں کچھ کمی آئی۔
جمعرات کو کاروبار کے دوران ممکنہ طور پر دوبارہ جنگ چھڑنے کے خدشات نے تیل کی قیمتوں میں اضافہ کیا تھا۔ بعض تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ ٹرمپ کا بیان تیل کی قیمتوں کو دوبارہ نیچے لانے کی کوشش بھی ہو سکتا ہے۔
ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا کہ تہران آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے سے متعلق اپنے سات روزہ منصوبے پر امریکہ کے جواب کا جائزہ لے رہا ہے اور آئندہ چند روز میں اپنا ردعمل دے گا۔
ایران کی خبر رساں ایجنسی تسنیم کے مطابق، عراقچی نے مزید کہا کہ ثالثوں کے ذریعے مذاکرات جاری ہیں۔
ایرانی ذرائع ابلاغ نے جمعہ کو آبنائے ہرمز کے جنوبی حصے میں ”شدید دھماکوں” کی اطلاع دی۔ خبر رساں ایجنسی فارس نے نامعلوم فوجی ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ ممکن ہے غیر مجاز راستے استعمال کرنے والے تیل بردار جہاز سمندری بارودی سرنگوں سے ٹکرا گئے ہوں۔
منگل کو امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے کہا تھا کہ جنگ کے خاتمے کے لیے کسی معاہدے کے تحت ایران کو یورینیم افزودہ کرنے کی اپنی صلاحیت میں ”بامعنی” کمی کرنا ہوگی۔ ماہرین کے مطابق، یہ مطالبہ واشنگٹن کے اس سابقہ اصرار میں نرمی کا اشارہ ہو سکتا ہے کہ تہران یورینیم کی افزودگی مکمل طور پر ترک کر دے۔
پیر کو ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے واشنگٹن کے ساتھ مذاکرات کو ”بے سود” قرار دیتے ہوئے الزام لگایا تھا کہ امریکہ مذاکرات کو ایران پر حملے کے لیے استعمال کر رہا ہے۔
دریں اثنا، روسی صدر ولادیمیر پوتن نے جمعرات کو ایرانی صدر سے کہا کہ روس ایران کے خلاف امریکہ کی قیادت میں جاری جنگ ختم کرانے کے لیے ”ہر ممکن کوشش” کرے گا۔ روسی خبر رساں ایجنسیوں نے یہ اطلاع دی۔
یو این آئی۔ ع ا۔
ہندوستان
جے رام رمیش کا مودی حکومت پر ٹرمپ کو خوش کرنے کا الزام، امریکی کارروائی کو پالیسی رعایتوں سے جوڑا
نئی دہلی، کانگریس کے جنرل سکریٹری انچارج مواصلات جے رام رمیش نے جمعرات کے روز نریندر مودی حکومت پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی خوشامد کی پالیسی اپنانے کا الزام لگایا اور دلیل دی کہ ہندوستانی آئی ٹی پیشہ ور افراد کو نشانہ بنانے والے واشنگٹن کے حالیہ اقدامات نے ہندوستان کے لیے باہمی فوائد حاصل کیے بغیر رعایتیں دینے کے خطرات کو بے نقاب کر دیا ہے۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ایکس’ پر ایک پوسٹ میں مسٹر رمیش نے کہا، “دھونس جمانے والوں کی خوشامد کبھی فائدہ نہیں پہنچاتی، یہ بات جمعرات کو ہندوستانی آئی ٹی پیشہ ور افراد کو براہ راست نشانہ بنانے والے امریکی حکومت کے اقدامات سے ایک بار پھر ثابت ہو گئی ہے۔”
انہوں نے ہندوستانی پیشہ ور افراد کے خلاف مبینہ کارروائی کو صدر ٹرمپ کو خوش کرنے کی حکومت کی کوششوں سے جوڑتے ہوئے سوال اٹھایا کہ کیا دوطرفہ بات چیت کے حوالے سے نئی دہلی کا طریقہ کار ہندوستانی معاشی اور تکنیکی مفادات کا مناسب تحفظ کر رہا ہے۔
مسٹر رمیش نے الزام لگایا، “یہ اقدام مودی حکومت کی جانب سے یو پی آئی ایم ڈی آر چارجز عائد کر کے صدر ٹرمپ کو خوش کرنے کے فوراً بعد سامنے آیا ہے، جس سے واضح طور پر اور براہ راست امریکی کمپنیوں کو فائدہ پہنچے گا۔” تاہم انہوں نے اپنی پوسٹ میں اس طریقہ کار کی وضاحت نہیں کی جس کے ذریعے مرچنٹ ڈسکاؤنٹ ریٹ میں تبدیلیوں سے امریکی کمپنیوں کو براہ راست فائدہ پہنچے گا۔
مسٹر رمیش نے یہ بھی دلیل دی کہ واشنگٹن کے اقدامات کا جواب دینے کے لیے حکومت کے پاس قانونی اور ریگولیٹری آپشنز موجود ہیں، جن میں ڈیجیٹل پرسنل ڈیٹا پروٹیکشن ایکٹ، 2023 اور اس کے نفاذ کے ضابطے شامل ہیں۔
انہوں نے الزام لگایا کہ وزیر اعظم مودی “گیانیش گیٹ” کے گرد گھومنے والے ملکی سیاسی تنازع کی وجہ سے کارروائی کرنے سے ہچکچا رہے ہیں۔ “گیانیش گیٹ” الیکشن کمیشن آف انڈیا کے کام کاج اور ووٹر فہرستوں کی جاری خصوصی تفصیلی نظر ثانی (ایس آئی آر) پر چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے خلاف اپوزیشن کی مہم ہے۔
کانگریس رہنما کی اس مداخلت نے سیاسی بحث میں دو انتہائی متنازعہ امور کو ایک ساتھ لا کھڑا کیا ہے: امریکی امیگریشن اور معاشی پالیسیوں کے تحت ہندوستانی ٹیکنالوجی پیشہ ور افراد کے ساتھ سلوک، اور وہ شرائط جن پر مودی حکومت ٹرمپ انتظامیہ کے ساتھ روابط بڑھا رہی ہے۔ ہندوستانی آئی ٹی سروسز کمپنیاں اور ٹیکنالوجی پیشہ ور افراد طویل عرصے سے امریکی مارکیٹ تک رسائی پر منحصر رہے ہیں، جس کی وجہ سے ویزا ضابطہ، کام کی اجازت کی ضروریات اور متعلقہ اخراجات میں تبدیلیاں اس شعبے کے لیے انتہائی اہمیت کی حامل ہیں۔
کسی بھی اضافی پابندی یا مالی بوجھ کے اثرات دونوں ممالک میں کام کرنے والے ہندوستانی کارکنوں، مالکان اور ٹیکنالوجی کے کاروبار پر پڑ سکتے ہیں۔
مرچنٹ ڈسکاؤنٹ ریٹس (ایم ڈی آر) کے حوالے سے مسٹر رمیش کا اشارہ ڈیجیٹل ادائیگیوں کی پروسیسنگ سے متعلق چارجز سے ہے۔ یہ سوال کہ ان چارجز کا بوجھ کون اٹھاتا ہے، ادائیگی کی پروسیسنگ کے اخراجات کیسے تقسیم ہوتے ہیں اور کون سے سروس فراہم کنندگان مستفید ہوتے ہیں، تاجروں، صارفین اور ڈیجیٹل ادائیگیوں کے نظام میں کام کرنے والی کمپنیوں کے لیے اہم نتائج رکھتا ہے۔
مسٹر رمیش نے الزام لگایا کہ حکومت کے موقف سے امریکی کمپنیوں کو فائدہ ہوگا، لیکن ان کی پوسٹ میں اس مخصوص دعوے کو ثابت کرنے کے لیے مزید تفصیلات فراہم نہیں کی گئی تھیں۔
2023 میں نافذ العمل ہونے والا ڈیجیٹل پرسنل ڈیٹا پروٹیکشن ایکٹ ڈیجیٹل ذاتی ڈیٹا کی پروسیسنگ کے لیے ہندوستان کے قانونی ڈھانچے کو قائم کرتا ہے۔ یہ ایسے ڈیٹا کو سنبھالنے والے اداروں کے لیے ذمہ داریاں متعین کرتا ہے اور افراد کے لیے تحفظات فراہم کرتا ہے۔
تاہم، یہ قانون کسی دوسرے ملک کے خلاف جوابی کارروائی کے لیے عام مقصد کا ذریعہ نہیں ہے۔ اس ایکٹ یا اس کے ضابطہ پر مبنی کسی بھی ردعمل کو حالات پر لاگو ہونے والے مخصوص احکام پر مبنی ہونا پڑے گا اور ہندوستان کی قانونی ذمہ داریوں کے مطابق رہنا ہوگا۔
“گیانیش گیٹ” کا حوالہ الیکشن کمیشن کے طرز عمل اور ووٹر فہرستوں کی نظر ثانی پر کانگریس اور بی جے پی کے درمیان وسیع تر تصادم کی بھی عکاسی کرتا ہے۔ اپوزیشن جماعتوں نے ایس آئی آر کے عمل پر سوال اٹھائے ہیں اور چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار سے جواب دہی کا مطالبہ کیا ہے، جبکہ پول پینل نے اپنے طریقوں کا دفاع کیا ہے۔
اس تنازع کو واشنگٹن کے ساتھ ہندوستان کے روابط سے جوڑ کر مسٹر رمیش نے مودی حکومت پر اپنے سیاسی حملے کو اندرونی انتخابی مسائل سے آگے بڑھا کر خارجہ تعلقات اور معاشی پالیسی سے نمٹنے تک وسعت دینے کی کوشش کی ہے۔
مسٹر رمیش نے ڈیٹا پروٹیکشن قانون کی ان مخصوص دفعات کی نشاندہی نہیں کی جن کا حکومت سہارا لے سکتی ہے، اور نہ ہی انہوں نے واشنگٹن کے اقدامات کے جواب میں ہندوستان کے لیے جوابی اقدامات کی وضاحت کی۔ اس کے باوجود ان کے تبصروں نے مودی حکومت پر اپنی وسیع تر تنقید کے حصے کے طور پر ہندوستانی ٹیکنالوجی پیشہ ور افراد کے تحفظ، امریکی مارکیٹ میں ہندوستانی کاروبار کے ساتھ سلوک اور ہندوستان اور امریکہ کے معاشی روابط کی شرائط کو شامل کرنے کے کانگریس کے ارادے کا اشارہ دیا ہے۔
یو این آئی ایف اے
ہندوستان
ہندستان اور لائبیریا نے سمندری جہازوں اور ملاحوں پر حملوں کی شدید مذمت کی، فوری طور پرروک لگانے کا مطالبہ کیا
نئی دہلی، ہندستان اور لائبیریا نے خلیجی خطے اور اس کے آس پاس کے علاقوں نیز بحیرہ اسود میں گزشتہ چند دنوں میں تجارتی جہازوں اور ملاحوں پر ہوئے حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے انہیں فوری طور پر روکے جانے کا مطالبہ کیا ہے۔
اقوام متحدہ میں ہندستان کے مستقل مشن نے جمعرات کی دیر رات سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ میں کہا کہ دونوں ملکوں نے ایک مشترکہ بیان میں کہا ہے کہ ان حملوں سے سمندری تجارت متاثر ہوتی ہے اور بے گناہ لوگوں کی جانیں جاتی ہیں۔ ایسے افعال کو کسی بھی طرح درست نہیں ٹھہرایا جا سکتا۔ دونوں ملکوں نے خطے میں امن و استحکام برقرار رکھنے کے لیے ان حملوں کو فوری طور پر روکنے کی اپیل کی۔
ہندستان اور لائبیریا نے کہا ہے کہ وہ ایسے حملوں کو دوبارہ ہونے سے روکنے کے لیے باہمی تعاون بڑھانے اور ملاحوں کے حقوق کے تحفظ میں ایک دوسرے کی مدد کے لیے تیار ہیں۔
ہندستان اور لائبیریا نے حملوں میں جان گنوانے والے ملاحوں کے اہل خانہ سے تعزیت کا اظہار کیا۔ ساتھ ہی، زخمیوں کی جلد صحتیابی کی خواہش کی۔
قابل ذکر ہے کہ ہندستان اور لائبیریا نے گزشتہ ماہ سمندری جہازوں اور ملاحوں کی سکیورٹی کے لیے دوست ممالک کے گروپ ایس 4 کی شروعات کی تھی۔
یواین آئی۔الف الف
-
جموں و کشمیر1 week agoسری نگر پولیس نے بین ریاستی منشیات نیٹ ورک کا پردہ فاش کیا، آٹھ افراد گرفتار
-
دنیا1 week agoقطری ثالثی کی امریکہ، ایران کے درمیان مذاکرات میں معمولی پیش رفت
-
دنیا7 days agoروس پر براہِ راست حملے کی صورت میں ہر قسم کے ہتھیار استعمال کرنےکا معاملہ ایجنڈے پر ہو گا :پوتن
-
دنیا1 week agoہیگستھ امریکی جنرل اور ایڈمرل کے عہدوں میں 20 فیصد کمی کریں گے
-
جموں و کشمیر7 days agoگاندھی کے عدم تشدد اور سودیشی کے نظریات آج بھی اہم ہیں: جموں کے ڈویژنل کمشنر
-
ہندوستان7 days agoوندے بھارت نے چِناب پل اور کیبل اسٹڈ انجی پل کو 100 کلومیٹر کی رفتار سے عبور کیا
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر میراتھن اتحاد اور نوجوانوں کے متبادل خواہشات کا پیغام دیتی ہے: ایل جی سنہا
-
ہندوستان1 week agoگیانیش کمار استعفیٰ دیں، ہٹائے گئے ووٹروں کی فہرست عام کی جائے: کھرگے
-
ہندوستان1 week agoڈیفنس اکاؤنٹس ڈیپارٹمنٹ کے 279ویں سالانہ دن پر کئی نئی پہل کی شروعات کریں گے راج ناتھ
-
ہندوستان1 week agoشیئر بازاروں میں گراوٹ جاری، سینسیکس 49 پوائنٹس پھسلا
-
دنیا6 days agoخمیس مشیط کی جانب داغے گئے تین حوثی بیلسٹک میزائل تباہ
-
جموں و کشمیر1 week agoاپوزیشن لیڈر کا عمر پر ریاستی حیثیت کی بحالی کے مطالبے کو ’سبوتاژ‘ کرنے کا الزام، جموں و کشمیر اسمبلی کا اجلاس ’بدقسمت‘ قرار
