تازہ ترین
ویڈیو:کلگام ہلاکتوں کے خلاف وادی سمیت خطہ چناب اور پیر پنچال تک ہمہ گیر ہڑتال ، مکمل رپورٹ
خبراردو:
جنو بی کشمیر کو لگام کے لار رو علاقے میں اتوار کو فوج اور جنگجوؤں کے در میان پیش آنے والی جھڑپ کے دوران مارے گئے 3مقامی جنگجوؤں اور ما بعد جھڑپ جائے مقام پر ہوائی فائرنگ ،پیلٹ اور بارودی مواد پھٹ جانے کے نتیجے میں مزید 7عام شہریوں کی ہلاکت کے خلاف سوموار کو مزاحمتی قیادت کی کال پر وادی سمیت خطہ چناب اور پیر پنچال کے بیشتر علاقوں میں مکمل اور ہمہ گیر ہڑتال رہی جس کے نتیجے میں یہاں تمام کاروباری ،تجارتی اور تعلیمی سر گر میاں مکمل طور مفلوج ہو کر رہ گئی جب کہ اس دوران سڑکوں پر بھی سناٹا چھایا رہا ۔
شہری ہلاکتوں کے خلاف ہڑ تال کے نتیجے میں سر ینگر ،بڈگام ،گاندر بل ،بارہمولہ ،بانڈی پورہ ،کپوارہ ،کولگام ،اننت ناگ،شو پیاں ،پلوامہ ،بانہال ،ڈوڈہ ،کشتوار سمیت دیگر کئی علاقوں میں کولگام سانحے کے خلاف عوام نے سخت غم و غصے کا اظہار کرتے ہو ئے زند گی کی جملہ سر گر میوں کو معطل رکھا ۔ادھر شہر سرینگرمیں کسی بھی امکانی گڑ بڑ سے نمٹنے اور ممکنہ عوامی احتجاج پر قابو پانے کے لئے انتظامیہ نے شہر کے 7حساس پولیس تھانوں جن میں رعنا واری ،خانیار ،نو ہٹہ ،صفا کدل ،کر ن نگر ،کرال کھڈ ،مائسمہ ،اور مہاراج گنج کے تحت آنے والے علاقوں میں بندشیں عائد رکھیں جس دوران یہاں سیکورٹی فورسز کے اضافی دستوں کو جگہ جگہ تعئنات کیا گیا تھا ۔

دھر وسطی ضلع بڈگام اور گاندر بل میں بھی شہری ہلاکتوں کے خلاف مکمل ہڑتال رہی جس کے دوران یہاں پر بھی بازاروں اور سڑکوں پر سنا تا چھایا رہا ۔ بڈگام کے چرار علاقے میں کو لگام ہلاکتوں کے خلاف مکمل بند رہا جس دوران یہاں معمولات زندگی بر ی طرح متاثر رہی ۔
ہڑتال کی وجہ سے یہاں بازار سنسان اور سڑکیں ویرانی کا منظر پیش کر رہی تھیں۔ادھر گاندر بل کے کنگن ،لار ،ددر ہامہ ،بہامہ سمیت در جنوں مقامات پر نو جوانوں نے احتجاجی مظاہرے کرتے ہو ئے فورسز کے خلاف جم کر نعرے بازی کی ۔معلوم ہوا ہے کہ کئی مقامات پر نو جوانوں نے پولیس و سی آر پی ایف کے دستوں پر سنگ باری کی جس کے جواب میں فورسز نے کاروائی کرتے ہو ئے مظاہرین کو منتشر کر دیا ۔

ادھر جنوبی کشمیر کے کولگام، اننت ناگ، شوپیان اور پلوامہ میں ہڑتال کی وجہ سے مکمل خاموشی چھائی رہی جس دوران یہاں جگہ جگہ فورسزاہلکاروں کو تعینات کردیا گیا تھا۔ انتظامیہ نے کولگام کے مین قصبہ میں سیکورٹی فورسز کی مشترکہ پارٹیوں کو کسی بھی گڑ بڑ سے نمٹنے کے لیے تیاری کی حالت میں رکھا گیا تھا۔ یہاں فوج، سی آر پی ایف اور ایس او جی کے اہلکارروں کو جگہ جگہ تعینات کیا گیا تاہم راہ چلتے لوگوں کی آمدو رفت میں کسی بھی قسم کی خلل نہیں ڈالی گئی۔ انہوں نے بتایا کہ سوموار کو کولگام اور مضافاتی علاقوں سے لوگوں کی بڑی تعداد نے اتوار کے روز جاں بحق ہوئے شہریوں کے گھروں کا رخ کرتے ہوئے اُن کے لواحقین کیساتھ دلی تعزیت کا اظہار کیا۔ادھر پلوامہ میں بھی مزاحمتی قیادت کی کال پر مکمل ہڑتال رہی جس دوران یہاں تجارتی و کارباری سرگرمیاں کلی طور پر ٹھپ رہی۔ نمائندے کے مطابق پلوامہ کے بیشتر علاقوں میں انتظامیہ نے سیکورٹی اہلکاروں کی اضافی نفری کو تعینات کیا تھا جس دوران یہاں کسی بھی شخص کو پرمارنے کی اجازت نہیں دی۔ انہوں نے بتایا کہ ہڑتال کی وجہ سے کاروباری، تجارتی اور عوامی سرگرمیاں ٹھپ ہوکر رہ گئیں۔ہڑتال کا اثر اس بات سے بخوبی لگایا جاسکتا ہے کہ یہاں ادویات فروش اور نانوانی کی دکانیں بھی بند رہیں جس دوران مختلف مریضوں کو ادویات کے حصول میں مشکلات درپیش رہیں۔ شوپیان میں بھی ہڑتالی کال سے زندگی کی رفتار تھم سی گئی جس دوران یہاں سیکورٹ کے غیر معمولی انتظامات کئے گئے تھے۔

ادھر شمالی کشمیر کے بارہمولہ، بانڈی پورہ، سوپور، رفیع آباد، حاجن، ہندوارہ، کپوارہ، کلنگام، لون ہرے، لنگیٹ، نطنوسہ ،ترہگام، ریگی پورہ سمیت کئی حساس مقامات پر فورسز اہلکاروں کے اضافی دستوں کو تعینات کیا گیا تھا۔ ادھر خطہ چناب کے بانہال ، رام بن سمیت پیر پنچال کے کئی علاقوں میں شہری ہلاکتوں کے خلاف عوام نے غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے مکمل ہڑتال کی۔ تفصیلات کے مطابق اتوار کو جنوبی کشمیر کے کولگام علاقے میں ہوئی شہری ہلاکتوں کے خلاف بانہال، رام بن سمیت کشتوار، ڈوڈہ اور راجوری کے کئی علاقوں میں مکمل ہڑتال کی گئی جس دوران یہاں عوامی، تجارتی و کاروباری سرگرمیاں ٹھپ ہوکر رہ گئیں۔ معلوم ہوا ہے کہ ہڑتال کی وجہ سے یہاں سڑکوں پر سے ٹریفک کی نقل و حرکت مکمل طور پر معطل رہی۔ ادھر وادی سمیت بیرون وادی میں شہری ہلاکتوں پر غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے طلبا برادری نے احتجاجی مظاہرے کئے جس دوران انہوں نے اقتدار پر براجمان قیادت کو شہری ہلاکتوں پر باند باندھنے کی اپیل کی۔ شمالی کشمیر میں قائم زرعی یونیورسٹی کے کیمپس میں طلبا کی ایک بڑی تعداد نے سوموار کو احتجاجی مظاہرے کرتے ہوئے فورسز کارروائی کے خلاف سخت نعرہ بازی کی۔ تفصیلات کے مطابق طلبا نے کیمپس کے احاطے میں زور دار احتجاجی مظاہرے کرتے ہوئے حکومت سے مانگ کی وہ شہری ہلاکتوں پر فوری روک لگائیں۔

ادھر بیرون وادی جواہر لعل نہرو یونیور سٹی کی طلبا انجمن نے بھی کولگام میں ہوئی شہری ہلاکتوں پر حکومت کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا کہ نئی دہلی انتخابات میں سیاسی فائدہ حاصل کرنے کی خاطر کشمیر میں افرا تفری کو ہوا دے رہی ہے۔ انہوں نے واقعے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ نئی دہلی ملک میں ہونے والے انتخابات میں سیاسی فائدہ حاصل کرنے کی خاطر کشمیر میں خونین کھیل کھیل رہی ہے۔ جے این یو کی طلبہ تنظیم کے سیکرٹری جنرل اعجاز احمد راتھر نے بتایا کہ لارو کولگام میں شہریوں کی ہلاکت ایک المناک سانحہ ہے جس کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے۔ موجودہ حکومت نے کشمیر میں خونین کھیل جاری رکھا ہے اور آئے روز ایسے واقعات رونما ہورئے ہیں جس سے انسانی دل چھلنی ہوتے ہیں۔ ادھر نتظامیہ نے آزادی پسند قیادت کی طرف سے دئے گئے احتجاجی پرو گرام کے پیش نظر حریت سے وابستہ اکثر لیڈران کو تھانہ و خانہ نظر بند کر دیا ۔

انتظامیہ نے مشترکہ مزاحمتی قیادت سے وابستہ سید علی شاہ گیلانی، میر واعظ عمر فاروق اور محمد یٰسین ملک سمیت حریت سے وابستہ دیگر لیڈان بشمول محمد اشرف صحرائی ، ہلال احمد وار، مختار احمد وازہ سمیت درجنوں لیڈروان و کارکنان کو قبل از وقت ہی خانہ و تھانہ نظر بند کردیا۔ادھر امن و قانون کی صور تحال کو بر قرار رکھنے اوربے لگام افوا بازی پر روک لگانے کے لئے انتظامیہ نے جنوبی کشمیر کے کولگام ،اننت ناگ ،شو پیاں اور پلوامہ میں مو بائیل انٹر نیٹ خد مات کو معطل رکھا جبکہ اس دوران ریلوے حکام نے بھی سیکورٹی خد شے کے پیش نظر بارہمولہ بانہال ریل سروس کو معطل رکھا ۔
دنیا
ریاض ہوائی اڈے پر دو حملوں میں تین سعودی شہری ہلاک، متعدد زخمی
ریاض، سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں واقع کنگ خالد بین الاقوامی ہوائی اڈے پر جمعرات کو دو الگ الگ حملوں میں تین سعودی شہریوں کی موت ہو گئی، جبکہ مختلف ممالک کے متعدد شہری زخمی ہو گئے۔
سعودی عرب کی جنرل اتھارٹی آف سول ایوی ایشن (جی اے سی اے) نے یہ اطلاع دی۔
اتھارٹی کے مطابق، زخمیوں کو معمولی سے لے کر شدید نوعیت کی چوٹیں آئی ہیں۔ انہیں فوری طبی امداد فراہم کرنے کے لیے اسپتال میں داخل کرایا گیا ہے۔
سعودی فضائی نقل و حمل اتھارٹی کے مطابق، پہلا حملہ ہوائی اڈے کے احاطے اور بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنا کر کیا گیا، جبکہ دوسرا حملہ سعودی ایئرلائنز کے ایک طیارے پر ہوا۔
اتھارٹی نے بتایا کہ واقعے کے بعد ہوائی اڈے پر پروازوں کی آمد و رفت عارضی طور پر معطل کر دی گئی تھی، تاہم فضائی ٹریفک کو جلد معمول پر لانے کے لیے اقدامات شروع کر دیے گئے ہیں۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
روس اور یوکرین کے دو طرفہ حملوں میں کم از کم 38 افراد ہلاک، 100 سے زیادہ زخمی
ماسکو، یف،
روسی اور یوکرینی حکام نے شہروں اور بنیادی ڈھانچے پر مہلک حملوں کی اطلاع دی جب ماسکو اور کیف ایک دوسرے کو نشانہ بناتے رہے اور کشیدگی میں اضافہ جاری رہا۔
چرنی ہیف کے گورنر ویاسیِسلاو چاوس نے جمعرات کو کہا کہ یوکرین کے شمالی شہر پرلوکی پر روسی میزائل حملے میں 22 افراد ہلاک اور 50 سے زائد زخمی ہو گئے۔
چاوس نے ٹیلگرام پر اپنے بیان میں کہا کہ پرلوکی میں ہلاک ہونے والوں میں پانچ بچے بھی شامل تھے۔ چار موقع پر ہلاک ہوئے اور ایک بچہ اسپتال میں چل بسا۔
یوکرینی فضائیہ کا کہنا ہے کہ اس کے فضائی دفاع نے رات بھر روس کی طرف سے داغے گئے 130 اسٹرائیک ڈرونوں میں سے 117 اور کم از کم 44 بیلسٹک اور کروز میزائلوں کو مار گرایا۔
یوکرینی صدر وولودیمیر زیلنسکی کا کہنا ہے کہ یہ حملے مزید فضائی دفاعی نظاموں اور گولہ بارود کی فراہمی کے مطالبات کو تقویت دیتے ہیں۔
زیلنسکی نے کہا کہ “خطرہ ہر وقت موجود ہے، لہذا ہماری فضائی دفاعی بیٹریوں کے پاس میزائل تیار ہونے چاہئیں “اور کیف اپنے شراکت داروں سے فوری ترسیل اور مناسب پیداوار پر انحصار کر رہا ہے۔
مقامی حکام نے جمعرات کو کہا کہ ایک دوسرے روسی حملے میں مشرقی یوکرینی شہر کراماتورسک میں دو مسافر بسوں کو نشانہ بنایا گیا جس میں 30 افراد ہلاک اور 18 زخمی ہو گئے۔
دونتسک کے علاقائی دفترِ گورنر کا کہنا ہے کہ صبح کے حملے میں ہلاکتوں کی تعداد 30 تک پہنچ گئی ہے، اور عوامی نقل و حمل معطل کر دی گئی ہے۔
دریں اثنا، روسی حکام نے کہا کہ ساحلی شہر نووروسیسک پر ایک یوکرینی ڈرون حملے میں ایک بچہ سمیت چار افراد ہلاک اور 29 زخمی ہو گئے۔ تین زخمیوں کی حالت نازک ہے۔
علاقائی گورنر وینیامین کونڈراتیف نے یوکرین پر شہریوں کو نشانہ بنانے کا الزام لگایا اور کہا کہ تین مکانات، پانچ اپارٹمنٹس، ایک گرجا گھر اور ایک کنڈرگارٹن کو نقصان پہنچا۔
ڈرون کے ملبے نے قریب کے شہر اناپا میں بھی مکانات اور ایک کنڈرگارٹن کو نقصان پہنچایا، اگرچہ وہاں کوئی جانی نقصان رپورٹ نہیں ہوا۔
روسی وزارت دفاع نے دعویٰ کیا کہ اس کے فضائی دفاع نے 11 علاقوں، بحیرہ اسود اور روس کے الحاق شدہ کریمیا علاقے کی فضاوں میں 596 یوکرینی ڈرونز مار گرائے ہیں۔
یوکرینی فوج نے کہا کہ اس نے رات کے دوران نووروسیسک نیول بیس کو نشانہ بنایا، جس سے بیس اور سمندری تیل ٹرمینل میں آگ لگ گئی۔ اس نے اس بیس کو روسی بحیرہ اسود بیڑے کے جہازوں کی موجودگی، مرمت اور لاجسٹک سپورٹ کے لیے اہم مرکز قرار دیا۔ اس دعوے کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہو سکی۔
روسی سرکاری خبر رساں ادارے تاس نے رپورٹ کیا کہ ایک دوسرےڈرون حملے نے روسی ٹیکنالوجی کمپنی یانڈیکس کے زیرِ انتظام ساسوو میں واقع ایک ڈیٹا سینٹر میں آگ لگا دی ۔
یانڈیکس نے کہا کہ حملے سے اس کے انفراسٹرکچر کا کچھ حصہ متاثر ہوا، جس کی وجہ سے اس نے اس تنصیب میں آپریشنز معطل کر دیے ہیں اور ممکنہ طور پر کچھ خدمات متاثر ہو سکتی ہیں۔ کمپنی نے کوئی جانی نقصان نہ ہونے کی اطلاع دی۔
گزشتہ چند مہینوں میں ماسکو اور کیف نے ایک دوسرے کے لاجسٹکس مراکز، بندرگاہوں اور توانائی کے بنیادی ڈھانچوں کو زیادہ حد تک نشانہ بنانا شروع کر دیا ہے۔
دونوں فریق یہ انکار کرتے ہیں کہ وہ جان بوجھ کر شہری بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنا رہے ہیں، اور ان کا کہنا ہے کہ ان کے حملے عسکری اہداف یا فوجی سرگرمیوں سے متعلق تنصیبات کو نشانہ بناتے ہیں۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
یوکرین کے ٹرانسپورٹ نظام پر روسی حملے تیز، کراماتورسک میں مزید ہلاکتیں
کیف، یوکرین کے مشرقی شہر کراماتورسک میں جمعرات کی صبح روسی گلائیڈ بم کے دو مسافر بسوں پر حملے میں کم از کم 30 افراد ہلاک اور 18 زخمی ہوگئے۔ علاقائی حکام نے یہ اطلاع دی۔
یوکرینی حکام نے حملے کو دانستہ کارروائی قرار دیا ہے۔ ان کے مطابق، روسی علاقے میں موجود طیاروں سے گرائے جانے والے گلائیڈ بم زمین پر پہلے سے مقررہ مقامات کو نشانہ بنا سکتے ہیں۔ اس حملے میں شہر کی ایک سڑک کو نشانہ بنایا گیا، جو محاذِ جنگ سے تقریباً 20 کلومیٹر دور واقع ہے۔
علاقائی انتظامیہ کے سربراہ وادیم فیلاشکن نے ٹیلی گرام پر لکھا، ”روسی جان بوجھ کر شہریوں کو نشانہ بنا رہے ہیں۔ ان کے لیے مسافروں سے بھری بس ایک پُرکشش ہدف ہے، کیونکہ ایک ہی حملے میں زیادہ سے زیادہ افراد کو ہلاک کیا جا سکتا ہے۔”
انہوں نے کہا کہ روس جنگ کے تمام قابلِ تصور اصولوں اور بین الاقوامی انسانی قانون کے ضابطوں کو نظرانداز کر رہا ہے اور ایسے اہداف منتخب کر رہا ہے جہاں شہریوں کو زیادہ سے زیادہ نقصان پہنچایا جا سکے۔
فیلاشکن نے روسی حملوں میں شدت کے پیش نظر کراماتورسک اور پڑوسی شہر سلوویانسک میں تمام عوامی ٹرانسپورٹ کی آمد و رفت معطل کرنے کا حکم دیا ہے۔
روس اب یوکرین کے نقل و حمل کے بنیادی ڈھانچے، بشمول ٹرینوں، منی بسوں، پیٹرول پمپوں، پلوں، سمندری بندرگاہوں اور مال بردار جہازوں کو نشانہ بنا رہا ہے، جس سے ملک کا ٹرانسپورٹ نظام مفلوج ہو رہا ہے۔
کیف میں قائم تھنک ٹینک پینٹا کے سربراہ وولودیمیر فیسینکو نے الجزیرہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ”یہ روس کی ایک نئی حکمت عملی ہے۔ پہلے اس کی توجہ یوکرین کی بجلی کی فراہمی اور حرارتی نظام کو بند کرنے پر تھی، لیکن اب اس کا مقصد بنیادی ڈھانچے کو بھی ناکارہ بنانا اور نقل و حمل کے نظام کو مکمل طور پر مفلوج کرنا ہے۔”
انہوں نے کہا کہ ریلوے لائنوں اور پیٹرول پمپوں پر حملوں سے روسی حکمت عملی کو کسی حد تک کامیابی مل رہی ہے اور وہ اپنی شرائط پر یوکرین کو امن کے لیے مجبور کرنا چاہتا ہے۔ان کے مطابق، ان حملوں کا مقصد عوام پر نفسیاتی دباؤ ڈالنا اور ان کے معمولاتِ زندگی کو درہم برہم کرنا بھی ہے۔
روس نے جنگ کے دوران مسلسل اس بات کی تردید کی ہے کہ وہ یوکرین کے شہریوں کو نشانہ بناتا ہے، تاہم یوکرینی عوام کے لیے یہ دعوے بے معنی ہیں۔ اقوام متحدہ کے مطابق، 2026 کے پہلے آٹھ ماہ میں 15,280 شہری ہلاک یا زخمی ہوئے، جو 2025 کے اسی عرصے کے مقابلے میں 55 فیصد زیادہ ہے۔
2022 میں روس کے مکمل پیمانے پر حملے کے بعد یوکرین کی فضائی حدود میں شہری طیاروں کی پروازیں بند ہیں۔ ایسے میں ٹرینیں، بسیں اور ٹرک شہریوں اور کاروباری اداروں کے لیے زندگی کی اہم سہولت بن چکے ہیں۔ ان کے ذریعے فوجی اور انسانی امداد کا سامان بھی منتقل کیا جاتا ہے۔
یوکرین کی مال برداری کا تقریباً دو تہائی حصہ ریل گاڑیوں کے ذریعے منتقل ہوتا ہے۔ اس میں اسٹیل کی سلیبیں، اناج اور نباتاتی تیل کی برآمدات شامل ہیں، جو ملکی معیشت کو سہارا دیتی ہیں۔
سرکاری ریلوے کمپنی یوکرزالیزنیتسیا کے مطابق، 2022 سے اب تک کم از کم 521 انجن ڈرون حملوں اور گولہ باری کا نشانہ بن چکے ہیں، جن میں سے تقریباً تین پانچواں حصہ رواں سال متاثر ہوا۔
بعض انجن چلتی ٹرینوں کے دوران نشانہ بنے، جب کہ ڈرون حملوں سے مسافر ڈبوں میں بھی آگ لگنے، ہلاکتوں اور زخمی ہونے کے واقعات پیش آئے۔
جنوری میں شمال مشرقی علاقے خارکیف میں ایک ایسے ہی حملے میں پانچ مسافر ہلاک ہو گئے تھے۔ یوکرین کے صدر وولودیمیر زیلنسکی نے اس حملے کو ”دہشت گردی” قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ اس کا کوئی فوجی جواز نہیں تھا۔
یو این آئی۔ ع ا۔
-
جموں و کشمیر1 week agoسری نگر پولیس نے بین ریاستی منشیات نیٹ ورک کا پردہ فاش کیا، آٹھ افراد گرفتار
-
دنیا1 week agoقطری ثالثی کی امریکہ، ایران کے درمیان مذاکرات میں معمولی پیش رفت
-
دنیا1 week agoروس پر براہِ راست حملے کی صورت میں ہر قسم کے ہتھیار استعمال کرنےکا معاملہ ایجنڈے پر ہو گا :پوتن
-
ہندوستان7 days agoوندے بھارت نے چِناب پل اور کیبل اسٹڈ انجی پل کو 100 کلومیٹر کی رفتار سے عبور کیا
-
جموں و کشمیر7 days agoگاندھی کے عدم تشدد اور سودیشی کے نظریات آج بھی اہم ہیں: جموں کے ڈویژنل کمشنر
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر میراتھن اتحاد اور نوجوانوں کے متبادل خواہشات کا پیغام دیتی ہے: ایل جی سنہا
-
ہندوستان1 week agoگیانیش کمار استعفیٰ دیں، ہٹائے گئے ووٹروں کی فہرست عام کی جائے: کھرگے
-
دنیا6 days agoخمیس مشیط کی جانب داغے گئے تین حوثی بیلسٹک میزائل تباہ
-
ہندوستان1 week agoڈیفنس اکاؤنٹس ڈیپارٹمنٹ کے 279ویں سالانہ دن پر کئی نئی پہل کی شروعات کریں گے راج ناتھ
-
ہندوستان1 week agoشیئر بازاروں میں گراوٹ جاری، سینسیکس 49 پوائنٹس پھسلا
-
ہندوستان1 week agoکھرگے- راہل نے گاندھی اور شاستری کو یومِ پیدائش پر خراجِ عقیدت پیش کیا
-
دنیا1 week agoایران امریکہ سے مذاکرات کی کوشش جاری رکھے گا: پیزشکیان
