تازہ ترین
ویڈیو: سٹیٹ سبجیکٹ اسکینڈل ،بے نقاب
رضوان سلطان:
ریاست کی کچھ سیاسی پارٹیاں نے حال ہی میں ہوئے پنچائتی وبلدیاتی انتخابات میں احتجاجاََ اس لیے حصہ نہیں لیا کیوں کہ انہیں لگ رہا تھا کہ مرکز 35 اے کو ختم کرنے کی سازش کر رہا ہے ۔ جس میں ریاست کی سابق وزیر اعلی محبوبہ مفتی سب سے آگے تھیں ۔
انہوں نے تو یہاں تک کہہ دیا تھا کہ اگر ۳۵ اے کو ہٹا یا گیا تو ہندوستانی ترنگے کو کشمیر میں کوئی کاندھا دینیو الا نہیں رہے گا ۔
لیکن ان لیڈران کی لنکا اپنے ہی گھر کے بھیدی رہے بشارت بخاری نے ڈھا دی ۔
اور ان کا اصلی چہرہ بھی عوام کو دیکھا دیا ہے۔
1996 میں ریاست میں غیر ریاستی باشندوں یہاں پر جعلی سٹیٹ سبجیکٹس حاصل کر کے جموں کے علاقوں میں رہنے کی رپورٹس کے بعد فاروق عبداللہ کی سرکار نے ان افراد کی نشادہی کرنے کیلئے یک نفری کمیشن بنایا جس کی سربراہی جسٹس پرے کر رہے تھے ۔اور اسے domicile Certificate Commission نام دیا گیا ،۔
۲۰۰۱ میں اس کمیشن کی طرف سے پیش کی گئی سفارشات کے بعد بیس خاندانوں کی جعلی سٹیٹ سبجیکٹس منسوخ کی گئی تھیں ۔
جبکہ اس کمیشن نے وقت وقت پر ریاستی سرکار کو جعلی سٹیٹ سبجکٹس کے متعلق سفارشات پیش کی ہیں ۔ْ
اب ۲۰۱۵ میں بھی اس کمیشن نے تب کی بھاجپا پی ڈ ی پی سرکار کے سامنے جموں میں ایسے ۱۳۶ نام جو جعلی سٹیٹ سبجکٹس کے ساتھ جموں میں رہ رہے ہیں پیش کئے لیکن سرکار کی طرف سے کوئی کارروائی نہ ہونے کے بعد اب کچھ روز قبل پی ڈپی کے کارکن نے اس کا سیدھا ملبہ آج کے این سی لیڈر بشارت بخاری پر ڈالتے ہوئے یہ کہا کہ وہ ہی تب وزیر مال تھے انہوں نے وہ فائیلیں دبا لی ہونگی ۔
لیکن اب بشارت بخاری نے ایک پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ وہ ۲۰۱۶ میں وزیر مال بنے ، اور ان کے پاس یہ سفارشات جسٹس پرے نے پیش کیں ۔ اسکے بعد بشارت بخاری نے جب یہ فائل اسمبلی میں لائی تو انہیں بھاجپا لیڈران سے سخت مخالفت کا سمانا کرنا پڑا ۔
وہیں انہوں نے ان ۱۳۶ ناموں کی سٹیٹ سبجیکٹس رد کرنے کیلئے وزیر اعلی کے پاس فائیلیں بھیج دیں ۔ لیکن جب تک بشارت بخاری وزیر مال تھے نہ ہی تب سی ایم آفس سے یہ فائل واپس آئی اور نہ ہی آج تک اس فائل کے متعلق کچھ پتہ چل پایا ہے ۔اور یہ افراد آج بھی جموں میں رہ رہے ہیں ان کے علاوہ کتنے ہوں کوئی نہیں جانتا ۔
یہ ہیں وہ سیاسی لیڈران جو ۳۵ اے کی حفاظت کی بات کرتے ہیں ۔
۱۹۲۷ میں کشمیری پنڈتوں کے احتجاج کے بعد کہ یہاں دوسری ریاستوں کے لوگ نوکریاں حاصل کر کے ان کی نوکریاں چھین رہے ہیں ۔ جس کے بعد سٹیٹ سبجیکٹ لاء ۱۹۲۷ میں مہاراجہ ہری سنگھ نے بنایا ۔
اسکے بعد ۱۹۵۴ میں اس شق کو جموں کشمیر آئین میں بھی شامل کیا گیا ۔
دنیا
غزہ سٹی کے پولیس سربراہ اسرائیلی حملوں میں ہلاک، اسرائیل کی مہلک کارروائیاں جاری
غزہ، تازہ اسرائیلی حملوں میں غزہ سٹی کے پولیس عہدیدار جمال ابو کامل اور خان یونس میں ایک اور شخص ہلاک ہوگیا۔
غزہ کی وزارت داخلہ کے مطابق 43 سالہ کرنل جمال ابو کامل جمعرات کو اس وقت ہلاک ہوئے جب اسرائیلی ڈرون نے غزہ سٹی کے جنوب مغرب میں الرشید اسٹریٹ پر ان کی گاڑی کو تین میزائلوں سے نشانہ بنایا۔ حملے میں دو دیگر افراد بھی زخمی ہوئے۔
یہ ہلاکت اسرائیل کی جانب سے غزہ کی پٹی میں ایک ہفتے تک جاری رہنے والی فضائی حملوں کی عارضی معطلی ختم کرنے کے ایک روز بعد ہوئی ہے۔ اس وقفے کے دوران بھی اسرائیلی زمینی حملے جاری رہے، جبکہ اسرائیل اکتوبر میں طے پانے والی نام نہاد ’جنگ بندی‘ کی مسلسل خلاف ورزی کر رہا ہے۔
اسرائیلی فوج نے کہا کہ اس نے ابو کامل کو ’’خطرے کو ختم کرنے‘‘ کے لیے نشانہ بنایا اور دعویٰ کیا کہ وہ حماس کے کمانڈر تھے، تاہم اس دعوے کے ثبوت فراہم نہیں کیے گئے۔
غزہ کی پولیس فورس نے اس دعوے کو مسترد کرتے ہوئے ایک بیان میں کہا کہ ابو کامل ’’اپنی پولیس کی ذمہ داریاں انجام دینے کے پابند تھے اور ان کا کسی دوسری سرگرمی سے کوئی تعلق نہیں تھا‘‘۔
غزہ کی وزارت داخلہ نے کہا کہ ابو کامل کو اسرائیلی حملے میں ’’شہید‘‘ کیا گیا۔
حماس نے بھی اس ہلاکت کی مذمت کرتے ہوئے اسے ’’قابض افواج کی جانب سے فلسطینی عوام کے خلاف کیے جانے والے وحشیانہ جرائم کا تسلسل‘‘ قرار دیا۔ حماس نے کہا کہ یہ غزہ کی پٹی میں افراتفری اور بدامنی پھیلانے کی اسرائیل کی ’’ناکام اور قابلِ افسوس کوششوں‘‘ کا حصہ ہے۔
جمعرات کو اس سے قبل جنوبی غزہ کے خان یونس میں دو افراد کو لے جانے والی ایک موٹر سائیکل کو بھی اسرائیلی حملے میں نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں ایک شخص ہلاک اور دوسرا شدید زخمی ہوگیا۔ اسرائیل نے ایک بار پھر دعویٰ کیا کہ حملے کا ہدف حماس کا ایک کمانڈر تھا، تاہم اس دعوے کے لیے بھی کوئی ثبوت فراہم نہیں کیا گیا۔
بدھ کو اسرائیل نے غزہ میں 3 اگست کے بعد پہلا فضائی حملہ کیا۔ بیت لاہیا میں ایک گاڑی کو نشانہ بنانے والے حملے میں بلدیاتی ادارے کا ایک ملازم ہلاک اور پانچ دیگر افراد زخمی ہوگئے۔
امریکی دباؤ کے تحت اسرائیل نے ایک ہفتے سے زائد عرصے تک غزہ میں فضائی حملے روک رکھے تھے۔ یہ اقدام امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے جنگ کے خاتمے کے منصوبے میں ’’اہم پیش رفت‘‘ کے اعلان کے بعد کیا گیا تھا۔
ٹرمپ نے گزشتہ ماہ اعلان کیا تھا کہ اسرائیل اور حماس نے ان کے 15 نکاتی منصوبے پر اتفاق کیا ہے، جس پر غزہ بورڈ آف پیس کے ذریعے عمل درآمد کیا جانا تھا۔ منصوبے کے تحت اسرائیلی فوج کو غزہ سے انخلا کرنا تھا جبکہ حماس کو غیر مسلح ہونا تھا۔
حماس نے کہا تھا کہ وہ مکمل جنگ کی واپسی سے بچنے کے لیے معاہدے کو قبول کرتی ہے، تاہم اس کا اصرار تھا کہ منصوبے پر عمل درآمد اسرائیل کی جانب سے پہلے اپنی فوجیں واپس بلانے اور حملے روکنے سے مشروط ہوگا۔تاہم اسرائیلی وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو نے اتوار کو معاہدے کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیلی فوج غزہ سے اس وقت تک واپس نہیں جائے گی جب تک حماس کو ’’حقیقی طور پر غیر مسلح‘‘ نہیں کردیا جاتا۔ اس اعلان کے تین روز بعد اسرائیلی فضائی حملے دوبارہ شروع ہوگئے۔
غزہ کی وزارت صحت کے مطابق 10 اکتوبر 2025 کو ’’جنگ بندی‘‘ نافذ ہونے کے بعد سے اسرائیل کے تقریباً روزانہ ہونے والے حملوں میں 1,250 سے زیادہ فلسطینی ہلاک ہوچکے ہیں۔
جمعرات کو فلسطینی وزارت خارجہ و تارکین وطن نے امریکی حمایت یافتہ غزہ امن منصوبے پر عمل درآمد کا مطالبہ کیا۔
وزارت نے غزہ واپس آنے والے فلسطینیوں کے خلاف اسرائیلی فورسز کے حملوں اور مقبوضہ مغربی کنارے میں آبادکاروں کے مسلسل حملوں کی بھی مذمت کی۔
یو این آئی۔ ع ا۔
ہندوستان
وزیراعظم نے تقسیم کے المیے کو یاد کیا، بچ جانے والوں کی ہمت اور لچک کی ستائش کی
نئی دہلی، وزیراعظم نریندر مودی نے جمعہ کے دن تقسیم کے متاثرین اور بچ جانے والوں کو یاد کیا اور ملک کی تقسیم سے پیدا ہوئے عظیم انسانی دکھوں کو یاد کرتے ہوئے ان لوگوں کی تعریف کی جنہوں نے اس صدمے پر قابو پایا اور اپنی زندگیوں کو ازسرنو شروع کیا۔
تقسیم کے مظالم کے یادگاری دن کے موقع پر مسٹر مودی نے کہا کہ تقسیم نے “کئی زندگیوں کو تباہ کر دیا”، خاندانوں کو بے گھر کر دیا، اپنوں کو جدا کر دیا اور سرحد کے دونوں طرف کے لوگوں کو بے پناہ تکلیف پہنچائی۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں وزیراعظم نے کہا کہ “آج ہم #PartitionHorrorsRemembranceDay منا رہے ہیں۔ ہم ان تمام لوگوں کی ہمت کو یاد کرتے ہیں جو تقسیم سے متاثر ہوئے تھے۔”
مسٹر مودی نے کہا کہ “یہ تاریخ کا ایک ایسا لمحہ تھا جس نے کئی زندگیوں کو تباہ کر دیا… خاندان بے گھر ہوئے، اپنے پیارے کھو دیاگیا اور بے پناہ تکلیفیں برداشت کی گئیں۔”
اس کے ساتھ ہی انہوں نے تباہی کے باوجود تقسیم کے بعد بچ جانے والوں کی اپنی زندگیوں کو ازسرنو شروع کرنے کے عزم کو اجاگر کیا۔ انہوں نے کہا کہ “اس پر قابو پاتے ہوئے، لوگوں نے صفر سے اپنی زندگیوں کو دوبارہ شروع کیا، مصیبت کو کامیابی میں بدلا اور ہمارے ملک کی ترقی میں بے پناہ تعاون دیا۔”
مسٹر مودی نے کہا کہ تقسیم کا سامنا کرنے والوں کے سفر انسانی استحکام کے ثبوت کے طور پر قائم ہیں۔ انہوں نے کہا کہ “ان کی زندگی کے سفر ہمیں انسانی جذبے کی طاقت کی یاد دلاتے ہیں۔”
وزیراعظم نے اس موقع پر ملک کی باہمی ہم آہنگی، بھائی چارے اور قومی اتحاد کے عزم کو مزید مضبوط کرنے کی بھی اپیل کی۔ انہوں نے کہا کہ “یہ دن ہمارے ملک میں ہم آہنگی اور بھائی چارے کو برقرار رکھنے اور اجتماعی طور پر ایک وکست بھارت کی تعمیر کے لیے کام کرنے کے ہمارے عزم کو مزید گہرا کرے۔”
تقسیم کے مظالم کا یادگاری دن 14 اگست کو 1947 میں ہندوستان کی تقسیم سے جڑے دکھ، نقل مکانی اور جانی نقصان کی یاد میں منایا جاتا ہے۔ اس تقسیم کے نتیجے میں جدید تاریخ کی سب سے بڑی اجتماعی نقل مکانی ہوئی، کیونکہ شدید فرقہ وارانہ تشدد کے درمیان لاکھوں لوگوں نے ہندوستان اور پاکستان کے درمیان نئی کھینچی گئی سرحدوں کو پار کیا۔
مودی حکومت نے 2021 میں اس دن کو منانے کا اعلان کیا تھا اور کہا تھا کہ اس کا مقصد تقسیم کے دوران لوگوں کی برداشت کردہ تکلیفوں کو یاد کرنا اور سماجی ہم آہنگی کی حفاظت اور تقسیم اور نفرت کو دوبارہ پنپنے سے روکنے کی اہمیت کو اجاگر کرنا ہے۔
یو این آئی۔این یو۔
دنیا
امریکہ ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی غیر معینہ مدت تک برقرار رکھ سکتا ہے: پیٹ ہیگسیتھ
واشنگٹن، وزیرِ دفاع پیٹ ہیگسیتھ کا کہنا ہے کہ امریکی فوج جب تک ضرورت ہو، ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی برقرار رکھ سکتی ہے۔
مسٹر ہیگسیتھ نے صحافیوں کو بتایا کہ ”امریکہ کی بحریہ اس طرح کی ناکہ بندی کو غیر معینہ مدت تک برقرار رکھ سکتی ہے کیونکہ ہم بحری جہازوں کو اسی طرح تبدیل کرتے رہیں گے، جیسا کہ ہم کرتے آئے ہیں اور آئندہ بھی کرتے رہیں گے۔”
یو این آئی۔ م ع
-
دنیا4 days agoایران کا فی الحال امریکہ کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں: ایرانی وزیر خارجہ
-
ہندوستان4 days agoطلبہ پر کارروائی کے معاملے پر حکومت کو گھیرتے ہوئے راہل کا مضمون، کھڑگے اور پرینکا نے حمایت کی
-
دنیا4 days agoسعودی عرب میں فیکٹری میں آگ کے سبب 16 بنگلہ دیشی مزدور ہلاک
-
جموں و کشمیر3 days agoیومِ آزادی سے قبل جموں و کشمیر پولیس نے سرحدی سامبا میں طویل فاصلے کی گشت اور فرضی انسدادِ دہشت گردی مشق کی
-
جموں و کشمیر2 days agoاسپورٹس کوٹا پر مبنی ملازمتیں: جے اینڈ کے بی جے پی نے اعلیٰ سطحی جانچ کا مطالبہ کیا، احتجاجی کھلاڑیوں کی حمایت کی
-
دنیا4 days agoٹرمپ جوہری معاہدے کے بغیر ایران کے ساتھ تنازع ختم کرنے پر تیار: رپورٹ
-
دنیا3 days agoایران نے خود کو ایک ‘ناقابل تسخیر طاقت’ ثابت کیا ہے: عراقچی
-
دنیا3 days agoشام کے سابق صدر بشار الاسد کو سزائے موت سنادی گئی
-
دنیا4 days agoکیسپین سمندر معاہدے کا مستقبل ایران کی پارلیمنٹ طے کرے گی: اسماعیل بقائی
-
دنیا4 days agoتجربہ کار آئی آر جی سی کمانڈر محسن رضائی ایران کے قومی سلامتی کے سربراہ مقرر
-
دنیا3 days agoموساد کے سابق سربراہ کا انکشاف، ماضی میں ایران کی فردو جوہری تنصیب کا کئی بار دورہ کیا
-
دنیا3 days agoایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
