تازہ ترین
ویڈیو: یاسین ملک کی لبریشن فرنٹ غیرقانونی قرار
رضوان سلطان:
28فروری کو جماعت اسلامی پر پانچ سال کے لئے پابندی عائد کرنے کے بعد اب مرکز نے محمد یاسین ملک کی سربراہی والی جموں کشمیر لبریشن فرنٹ پر بھی پانچ سال کی پا بندی عائد کر دی ہے ۔
وزارت داخلہ کے سیکرٹری راجیو گوبا نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ فرنٹ کو انسداد غیر قانون سرگرمیوں کی دفعات کے تحت غیر قانونی قرار دیا گیا ۔
انہوں نے بیان میں کہ کہ لبریشن فرنٹ کشمیر کو بھارت سے الگ کرنے کے دعووں کی حوصلہ افزائی کرنے کے علاوہ اس کی حمایت بھی کرتی ہے ۔، اور جنگجو و علیحدگی گروپوں کی حمایت بھی کرتی ہے ۔
فرنٹ پر الزام عائد کیا گیا ہے کہ ۱۹۸۹ میں کشمیر ی پنڈتوں کے قتل میں مبینہ طور ملوث رہی ہے جس کی وجہ سے انہیں کشمیر سے ہجرت کرنا پڑی ۔
یاسین ملک کو حکومت کے طرف سے شروع کئے گئے کریک ڈاؤن کے دوران ۲۲ فروری کو گرفتار کیا گیا تھا اور ۷ مارچ کو ان پر پبلک سیفٹی ایکٹ عائد کر کے جموں منتقل کیا گیا تھا ۔
وہیں فرنٹ کے کارکنوں پر اب گرفتاری کریک ڈاون شر وع کیا گیا ہے ۔
ریاست کی سیاسی جماعتوں نے سخت برہمی کا اظہار کیا ہے ۔ نیشنل کانفرنس نائب صدر ڈاکٹر عمر عبداللہ نے ایک ٹویٹ کے ذریعے کہا کہ ’’ساڑھے چار سال تک یاسین ملک کوئی خطرہ نہیں تھا ، جماعت اسلامی بھی کوئی خطرہ نہیں تھی ‘‘۔
محبوبہ مفتی نے اسے نقصان دہ قدم قرار دے کر کہا کہ ’’یہ کشمیر کو ایک کھلی جیل میں تبدیل کرے گا ، انہوں نے مزید لکھا کہ یاسین ملک نے جموں کشمیر کو حل کرنے کیلئے کافی وقت پہلے تشدد کو خیر باد کہہ دیا اسے اس وقت کے وزیر اعظم اٹل بہاری واجپائی کی طرف سے شروع کئے گئے مذاکرات میں ایک فریق کی طرح مانا گیا ۔ اس تنظیم پر پابندی سے کیا حاصل ہو گا ‘‘۔؟؟
پیپلز کانفرنس کے چئیر مین سجاد غنی لون نے کہا کہ ’’جے کے ایل ایف نے ۱۹۹۰ میں تشدد کا راستہ ترک کیا ۔ خطرے کے باوجود یاسین ملک نے یہ فیصلہ لیا ،
لیکن اب پابندی عائد کی گئی ،پر امن اختلاف رائے کیلئے جگہ تنگ کی جا ر ہی ہے‘‘ ۔
جے کے ایل ایف کی بنیاد امان اللہ خان نے ۱۹۷۶ میں برمنگھم میں ڈالی تھی ، مقبول بٹ اسکے شریک بانی تصور کئے جاتے ہیں ، اما ن اللہ خان گلت میں پیدا ہوئے تھے ، انہوں نے ابتدائی تعلیم سرینگر سے حاصل کی تھی پھر وہ ۱۹۵۲ میں پاکستان جوچلے گئے تھے ،
۱۹۸۷ میں کشمیر میں انتخابات میں دھاندلی ہونے کے بعد ہزاروں کی تعداد میں نوجوانوں نے سرحد پار جا کر اسلحہ لایا ، جے کے ایل ایف نے انہیں اسلحہ بھی فراہم کیا ۔
یاسین ملک کی سربراہی میں جموں کشمیر میں بھی جے کے ایل ایف عسکری گروپ کی بنیاد ڈالی گئی ۔ اور دو سال کے اندر ہی اس نے جگہ بنائی ۔
۱۹۸۹ میں اسی گروپ نے مفتی سعید کی بیٹی روبیہ سعید کو اغوا کیا تھا ، اور اسکے بدلے ۱۳ عسکریت پسندوں کی رہائی کی مانگ کی گئی تھی ۔
۱۹۹۰ میں یاسین ملک کو زخمی حالت میں گرفتار کیا گیا ، جبکہ اس گروپ کے کہیں ا فردا مارے گے تھے ۔
۱۹۹۴ میں جیل سے رہائی ملنے کے بعد یاسین ملک نے سیز فائر کا اعلان کر دیا ۔ امان اللہ خان کو پر امن جدوجہد پسند نہیں آئی انہوں نے یاسین ملک کو صدر کے عہدے سے ہٹا یااور یاسین ملک نے انہیں چیر مین شپ سے ۔
۱۹۹۶ میں جے کے ایل ایف کو pro-Independence نظریے کی بنیاد پر پاک زیر انتظام کشمیر میں انتخابات میں حصہ نہیں لینے دیا گیا ۔
یاسین ملک نے جموں کشمیر جے کے ایل ایف سمبھالا اور ۱۹۹۵ میں مسلہ کشمیر کو پر امن طریقے سے حل کا اعلان کیا ۔
تاہم ۲۰۰۵ میں یاسین ملک کو پاکستان جانے کی اجازت ملنے کے بعد انہوں نے امان اللہ خان سے مل کر دس سال کے بعد پھر سے متحد ہوگئے ۔
لیکن یاسین مسلہ کشمیر کو پر امن طریقے سے حل کرنے پر قائم رہے ، ان کا ماننا ہے کہ پاک زیر انتظام کشمیر اور جموں کشمیر کو الگ کیا جائے ۔ اور وہ پنڈتوں کے واپسی کے حق میں بھی ہیں ، ان کا ماننا ہے کہ کشمیر ان کی اپنی زمین ہے ۔
دنیا
فورٹ ہُڈ حملے کے مجرم کو ‘فائرنگ اسکواڈ’ سے دی جانے والی سزائے موت کی لائیو اسٹریمنگ کی جائے گی: پینٹاگن
واشنگٹن، امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ نے کہا ہے کہ عام لوگ امریکی فوج کے ایک سابق میجر کو ‘فائرنگ اسکواڈ’ سے دی جانے والی سزائے موت کو دیکھ سکیں گے۔
بی بی سی کی ایک رپورٹ کے مطابق محکمہ دفاع کے ایک اہلکار نے بتایا کہ ندال حسن کو دی جانے والی سزائے موت کی ‘لائیو اسٹریمنگ’ کی جائے گی۔ حسن نے 2009 میں فورٹ ہُڈ میں 13 نہتے امریکی فوجیوں کو گولی مار کر ہلاک کر دیا تھا۔
مانا جا رہا ہے کہ یہ تقریباً ایک صدی میں امریکہ میں دی جانے والی پہلی عوامی سزائے موت ہوگی۔ موت کی سزا پانے والے قیدیوں کے ساتھ کام کرنے والے وکیل جان ملز نے کہا کہ اس کی لائیو اسٹریمنگ کا فیصلہ “جدید دور میں غیر معمولی” ہے اور یہ “قانونی طور پر غیر یقینی صورتحال” والا معاملہ ہے۔
ہیگسیتھ نے کہا، “ہم یہ بات یقینی بنائیں گے کہ لوگ اسے دیکھ سکیں، تاکہ یہ عوامی ہو۔ لوگوں کو یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ اس قسم کی چیزوں کے سنگین نتائج ہوتے ہیں۔”
پینٹاگن نے اس ہفتے کے آغاز میں اعلان کیا تھا کہ وہ حسن کو سزائے موت دے گا، جو 60 سے زائد برسوں میں پہلی فوجی سزائے موت ہوگی۔
ہیگسیتھ نے کنزرویٹو ٹی وی چینل ‘ریئل امریکاز وائس’ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہا کہ حسن کو “فوجیوں کے فائرنگ اسکواڈ کا سامنا کرنا پڑے گا۔ جیسا کہ ہونا چاہیے۔”
جب ہیگسیتھ سے پوچھا گیا کہ کیا حسن نے کوئی آخری درخواست کی ہے یا صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے رابطہ کیا ہے، تو انہوں نے کہا: “کوئی فرق نہیں پڑتا۔ ہم اسے 3 دسمبر کو دیکھیں گے۔”
پینٹاگن کے ترجمان شان پارنیل نے پیر کو کہا تھا کہ وزیر دفاع نے اس کی سفارش کی تھی اور ٹرمپ نے اسے منظوری دے دی ہے۔ بی بی سی نے وائٹ ہاؤس سے اس بارے میں تبصرہ مانگا ہے کہ کیا ٹرمپ لائیو اسٹریم کے ذریعے عوامی سطح پر سزائے موت دیے جانے کی حمایت کرتے ہیں۔
اگرچہ گزشتہ سال 17 ممالک میں 2,700 سے زائد افراد کو سزائے موت دی گئی تھی، لیکن صرف دو ممالک نے ہی اسے عوامی طور پر انجام دیا۔
ایمنسٹی انٹرنیشنل کے مطابق، 2025 میں ایران میں گیارہ اور افغانستان میں چھ افراد کو عوامی طور پر سزائے موت دی گئی تھی۔
امریکی فوج کے سکریٹری نے منگل کو بتایا کہ یہ سزا 3 دسمبر کو ٹیکساس کے فورٹ ہُڈ میں دی جائے گی۔
دوسری جنگ عظیم کے بعد فائرنگ اسکواڈ سے دی جانے والی یہ پہلی فوجی سزائے موت ہوگی۔
ورجینیا کے امریکی فوج کے ماہرِ نفسیات حسن نے عدالت میں اعتراف کیا کہ امریکی فوجی اڈے پر ہوئے اب تک کے سب سے مہلک غیر جنگی حملے میں وہی بندوق بردار تھا۔
گولی باری 5 نومبر 2009 کو ایک بھیڑ بھاڑ والی میڈیکل عمارت میں ہوئی تھی، جہاں تعینات ہونے والے فوجی طبی معائنے اور ویکسین کا انتظار کر رہے تھے۔
عدالت میں حسن نے “کسی بھی غلطی” کے لیے معافی مانگی۔ 2013 میں اپنے کورٹ مارشل کے دوران انہوں نے کہا تھا کہ انہیں لگتا تھا کہ وہ مسلمانوں اور افغانستان میں طالبان کا دفاع کر رہے تھے۔
فوجی قانون کے مطابق، فوجی سزائے موت کے لیے امریکی صدر کی منظوری ضروری ہے۔ اس کے لیے اپیل کی جائزہ کارروائی کی بھی ضرورت ہوتی ہے، جس میں ایک ہائی کورٹ فیصلے کی جانچ کرتی ہے اور آگے بڑھنے کے لیے اس کی قانونی حیثیت پر آخری فیصلہ لیتی ہے۔
ملز نے کہا کہ حسن کے لیے اپیل کا عمل ابھی ختم نہیں ہوا ہے۔ امکان ہے کہ وہ اپنی سزا اور سزا پر نظرثانی کے لیے فیڈرل کورٹ میں اپیل کریں گے، جس سے شاید سزائے موت پر روک لگ سکتی ہے۔ اس لیے، ملز نے کہا کہ اگر سزائے موت دی جاتی ہے تو انہیں حیرت ہوگی۔
انہوں نے کہا، “ٹرمپ انتظامیہ کا فائرنگ اسکواڈ کے ذریعے سزائے موت کو لائیو اسٹریم کرنے کا خیال صرف توجہ حاصل کرنے کی کوشش ہے۔ اس کے ہونے کا امکان کم ہے، اور اس سے انصاف ملنے کی تو کوئی امید ہی نہیں ہے۔”
یواین آئی۔الف الف
ہندوستان
جنتر منتر پر مظاہرے کے لیے 10 دن پہلے درخواست کی شرط بے تکی: کانگریس
نئی دہلی، کانگریس نے جنتر منتر پر مظاہرے کے لیے 10 دن پہلے درخواست دینے کی شرط پر اعتراض ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ کسی واقعے پر فوری احتجاج کے لیے لوگوں کو اتنے دن انتظار کرنے پر مجبور نہیں کیا جا سکتا۔
کانگریس کے اتر پردیش انچارج راجندر پال گوتم نے بدھ کے روز یہاں پارٹی ہیڈکوارٹر میں ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ یہ خبر حیران کن ہے کہ جنتر منتر پر کسی بھی مظاہرے کے لیے کم از کم 10 دن پہلے درخواست دینی ہوگی۔ انہوں نے دہلی پولیس کے اس فرمان پر اعتراض ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ اگر آج کسی کے ساتھ ظلم ہو جائے، کسی کا بے رحمی سے قتل ہو جائے یا جمہوریت پر حملہ کر دیا جائے تو کیا لوگوں کو اس کے احتجاج کے لیے 10 دن انتظار کرنا ہوگا؟
انہوں نے کہا کہ انہیں نہیں لگتا کہ سپریم کورٹ یا کسی حکومت نے ایسا کوئی قانون بنایا ہے یا بنا سکتی ہے کہ ایک آزاد ملک میں لوگ اپنے بنیادی حقوق کا استعمال کرنے کے لیے اتنے دن انتظار کریں۔
کانگریسی رہنما نے کہا کہ آئین شہریوں کو اظہارِ رائے کی آزادی دیتا ہے اور دھرنا- مظاہرے کے ذریعے حکومت پر دباؤ بنانے کا حق بھی دیتا ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ بھارتیہ جنتا پارٹی تحقیاقی ایجنسیوں کا استعمال کر رہی ہے اور الیکشن کمیشن کو بی جے پی کی ‘بی ٹیم’ بنا دیا گیا ہے۔
مسٹر گوتم نے کہا کہ جواب دہی سے بچنے کے لیے وزیرِ داخلہ امت شاہ پولیس کو آگے کر دیتے ہیں اور گزشتہ دو دنوں میں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی کے ساتھ پولیس نے جس طرح کا سلوک کیا، وہ شرمناک ہے۔
یواین آئی ایف اے
ہندوستان
سعودی عرب کے ہوائی اڈوں پر حملوں کی ہندوستان نے شدید مذمت کی
نئی دہلی، ہندوستان نے سعودی عرب کے ابہا بین الاقوامی ہوائی اڈے اور ریاض کے کنگ خالد بین الاقوامی ہوائی اڈے کو نشانہ بنا کر گزشتہ چند دنوں میں کیے گئے حملوں کی مذمت کی ہے۔
وزارتِ خارجہ نے جمعرات کے روز ایک بیان جاری کر کے کہا کہ ان حملوں میں شہریوں کی موت اور کئی لوگوں کے زخمی ہونے کی اطلاع ملی ہے۔ ہندوستان نے کہا کہ شہری انفراسٹرکچر کو نشانہ بنانا مکمل طور پر ناقابلِ قبول ہے۔
ہندوستان نے حملوں میں جاں بحق ہونے والے لوگوں کے خاندانوں کے ساتھ دلی تعزیت کا اظہار کیا اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کی دعا کی۔ ہندوستان نے سعودی عرب کے عوام اور حکومت کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے ان کے ساتھ کھڑے رہنے کا اعادہ کیا۔
قابلِ ذکر ہے کہ منگل اور بدھ کے روز مبینہ طور پر حوثی باغیوں کے حملوں میں جان و مال کا کافی نقصان ہوا ہے۔
یواین آئی ایف اے
-
جموں و کشمیر1 week agoسری نگر پولیس نے بین ریاستی منشیات نیٹ ورک کا پردہ فاش کیا، آٹھ افراد گرفتار
-
دنیا1 week agoقطری ثالثی کی امریکہ، ایران کے درمیان مذاکرات میں معمولی پیش رفت
-
دنیا7 days agoروس پر براہِ راست حملے کی صورت میں ہر قسم کے ہتھیار استعمال کرنےکا معاملہ ایجنڈے پر ہو گا :پوتن
-
جموں و کشمیر7 days agoگاندھی کے عدم تشدد اور سودیشی کے نظریات آج بھی اہم ہیں: جموں کے ڈویژنل کمشنر
-
ہندوستان7 days agoوندے بھارت نے چِناب پل اور کیبل اسٹڈ انجی پل کو 100 کلومیٹر کی رفتار سے عبور کیا
-
دنیا1 week agoہیگستھ امریکی جنرل اور ایڈمرل کے عہدوں میں 20 فیصد کمی کریں گے
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر میراتھن اتحاد اور نوجوانوں کے متبادل خواہشات کا پیغام دیتی ہے: ایل جی سنہا
-
ہندوستان1 week agoگیانیش کمار استعفیٰ دیں، ہٹائے گئے ووٹروں کی فہرست عام کی جائے: کھرگے
-
دنیا6 days agoخمیس مشیط کی جانب داغے گئے تین حوثی بیلسٹک میزائل تباہ
-
ہندوستان1 week agoڈیفنس اکاؤنٹس ڈیپارٹمنٹ کے 279ویں سالانہ دن پر کئی نئی پہل کی شروعات کریں گے راج ناتھ
-
جموں و کشمیر1 week agoجاوید ڈار نے اسمبلی میں سی اے جی کی رپورٹیں پیش کیں
-
ہندوستان1 week agoشیئر بازاروں میں گراوٹ جاری، سینسیکس 49 پوائنٹس پھسلا
