جموں و کشمیر
ٹینگ پورہ حادثے میں دو نوجوان ہلاک، دو دیگرزخمی
سری نگرجموں وکشمیر کی گرمائی راجدھانی سری نگر کے ٹینگہ پورہ بائی پاس کے نزدیک بدھ کی شام سڑک کے ایک بھیانک حادثے میں دو نوجوان جاں بحق جبکہ دو دیگر زخمی ہوئے ہیں۔
اطلاعات کے مطابق تھار گاڑی جس میں دو سے تین نوجوان سوار تھے تیزی کے ساتھ گاڑی چلا رہے تھے کہ اسی اثنا میں ٹینگہ پورہ کے نزدیک گاڑی ڈرائیور کے قابو سے باہر ہو کر سڑک پر الٹ گئی۔
عین شاہدین نے بتایا کہ جس گاڑی کو حادثہ پیش آیا اس نے کئی گاڑیوں کو ٹکر ماری اور حادثہ اس قدر بھیانک تھا کہ تھار گاڑی پوری طرح سے تباہ ہو کررہ گئی۔
پولیس نے لاشوں کو تحویل میں لے کر قانونی اور طبی لوازمات پورے کرنے کی خاطر انہیں ہسپتال منتقل کیا۔
حادثے کی وجوہات جاننے کی خاطر پولیس نے کیس درج کرکے تحقیقات شروع کی ہے۔
یو این آئی- ارشید بٹ
جموں و کشمیر
جموں و کشمیر پولیس نے سرحد پار مشکوک سرگرمیوں کے درمیان سوشل میڈیا پر نگرانی بڑھائی
جموں، پاکستان میں مقیم ایک ایجنسی کے ساتھ حساس معلومات شیئر کرنے کے الزام میں جموں و کشمیر کے کٹھوعہ ضلع میں 24 سالہ ٹرک ڈرائیور کی گرفتاری کے بعد پولیس نے بین الاقوامی سرحد کے قریب واقع اضلاع میں سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر نگرانی بڑھا دی ہے۔
موصولہ رپورٹوں کے مطابق، کٹھوعہ کے ہریا چک علاقے میں مبینہ طور پر ہنی ٹریپ کا شکار بنے امن کمار کو حال ہی میں گرفتار کیا گیا ہے۔ اس پر الزام ہے کہ اس نے فوج کے ٹھکانوں، شاہراہوں، فلائی اوورز اور پلوں جیسی حساس جگہوں کی تصاویر اور معلومات پاکستانی آقاؤوں تک پہنچائیں۔ الزام ہے کہ وہ سرحد پار سے کام کرنے والے لوگوں کے ساتھ معلومات اکٹھی کرکے اسے شیئر کرتا تھا۔
سرکاری ذرائع نے بتایا کہ اس معاملے کے بعد سکیورٹی ایجنسیوں نے جموں و کشمیر میں لوگوں سے رابطہ کرنے کے لیے سوشل میڈیا کے استعمال پر باریکی سے نظر رکھنا شروع کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر پولیس، دوسری سکیورٹی ایجنسیوں کے ساتھ مل کر آن لائن سرگرمیوں پر نظر رکھ رہی ہے، خاص طور پر ان سرگرمیوں پر جن میں پاکستان میں موجود لوگوں کے ساتھ مشکوک رابطہ یا حساس سکیورٹی ٹھکانوں کے بارے میں معلومات حاصل کرنے کی کوششیں شامل ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ تحقیقات کا اہم مرکز ان لوگوں کی شناخت کرنا بھی ہے جو مبینہ طور پر یہ نیٹ ورک چلا رہے تھے اور یہ پتہ لگانا ہے کہ کون سی معلومات شیئر کی گئی تھیں اور اسے کیسے حاصل کیا گیا تھا۔
ذرائع نے کہا کہ ٹرک ڈرائیور کی گرفتاری نے ایک بار پھر ان خدشات کو اجاگر کیا ہے جو سرحدی علاقوں میں رہنے والے لوگوں سے حساس معلومات حاصل کرنے کی کوششوں میں سوشل میڈیا اور آن لائن تعلقات کے استعمال کے حوالے سے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سکیورٹی ایجنسیاں اپنی تحقیقات کر رہی ہیں اور مبینہ سرحد پار نیٹ ورک کی پوری معلومات کا پتہ لگانے کے لیے ڈیجیٹل اور مواصلاتی لنکس کی جانچ کر رہی ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ سرحدی علاقوں میں سوشل میڈیا ایپس اور دوسرے پلیٹ فارمز کے غلط استعمال پر نظر رکھی جا رہی ہے اور سکیورٹی ایجنسیوں کی فہرست میں شامل مشکوک نمبروں کی بھی نگرانی کی جا رہی ہے۔
ذرائع سے پتہ چلا ہے کہ ایسی رپورٹیں تھیں کہ سرحد کے قریب رہنے والے کچھ لوگ سرحد پار اپنے آقاؤقوں کو اہم معلومات دے سکتے ہیں اس لیے سکیورٹی ایجنسیوں الرٹ پر ہیں اور ہر مشکوک سرگرمی پر باریکی سے نظر رکھ رہی ہیں۔
قابل ذکر ہے کہ جموں پولیس نے منگل کو بہار کے اصل رہائشی ایک شخص کو ارنیا علاقے میں بین الاقوامی سرحد کے پاس سے مبینہ طور پر پاکستان میں رابطہ ہونے کے الزام میں گرفتار کیا کیونکہ اس کے موبائل فون میں کچھ مشکوک نمبر پائے گئے تھے۔ وہ مبینہ طور پر اپنے موبائل فون پر وی پی این سروس کا بھی استعمال کر رہا تھا۔
یواین آئی۔الف الف
جموں و کشمیر
لون نے اسمبلی میں ای ڈبلیو ایس سرٹیفکیٹ میں فرق پر تشویش کا اظہار کیا
سرینگر، جموں و کشمیر پیپلز کانفرنس کے صدر اور ہندواڑہ کے رکن اسمبلی سجاد لون نے بدھ کو اسمبلی میں اقتصادی طور پر کمزور (ای ڈبلیو ایس) سرٹیفکیٹ جاری کرنے میں علاقائی عدم توازن پر تشویش کا اظہار کیا اور پورے مرکز کے زیر انتظام علاقے میں غربت کی ایک جیسی تعریف کا مطالبہ کیا۔
انہوں نے کہا کہ فوڈ، سول سپلائیز اور کنزیومر افیئرز ڈیپارٹمنٹ کے ریکارڈ کے مطابق کشمیر میں 37 لاکھ سے زیادہ اے اے وائی اور بی پی ایل پرائمری ہاؤس ہولڈ راشن کارڈز ہیں، جبکہ جموں میں تقریباً 29 لاکھ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ سال تقریباً 24,000 ای ڈبلیو ایس سرٹیفکیٹ جموں گئے اور صرف تقریباً 2,400 کشمیر گئے، جو کہ تقریباً 92 اور 8 فیصد کا تناسب ہے۔ انہوں نے ایوان میں کہا، “فی کس امداد ایک جیسی ہے اور سماجی حالات بھی ایک جیسے ہیں،” انہوں نے مزید کہا کہ دونوں علاقوں کی صدیوں سے ایک جیسی تاریخ رہی ہے۔
انہوں نے اثاثوں کے معیار کو اہم مسئلہ قرار دیا، اگر کوئی سال میں آٹھ لاکھ روپے سے کم کماتا ہے، تو اسے غریب مانا جا سکتا ہے، لیکن ساڑھے تین مرلے کا مکان ہونے پر وہ ‘امیر’ بن سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جو شخص راشن کارڈ کے لیے غریب مانا جاتا ہے، اسے نوکری کے لیے درخواست دیتے وقت امیر سمجھا جاتا ہے۔
مسٹر لون نے ایوان میں ملنے والے جوابات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ حکومت کے اقتدار میں آنے کے بعد سے تقریباً 7,500 بھرتیاں ہوئی ہیں، اور تقریباً 750 ای ڈبلیو ایس کے تحت آئیں۔ انہوں نے کہا کہ راشن کارڈ پر مبنی معیار کے تحت ان عہدوں میں سے 412 کشمیر اور 337 جموں کے لئے تقسیم ہوجاتے۔
انہوں نے کہا کہ تقریباً 40,000 بھرتیاں زیر التوا ہونے کے باعث، تقریباً 4,000 ای ڈبلیو ایس کے تحت آتی ہیں۔ ان کے حساب سے موجودہ اثاثوں پر مبنی معیار کے مطابق ان میں سے تقریباً 320 عہدے کشمیر اور 3,680 جموں کو ملیں گے، جبکہ اے اے وائی/بی پی ایل پر مبنی معیار سے تقریباً 2,200 عہدے کشمیر اور 1,800 جموں کو ملیں گے۔
مسٹر لون نے دلیل دی کہ موجودہ ریزرویشن پہلے سے ہی کشمیری نوجوانوں کو ملازمتوں کے بازار سے باہر کر رہے ہیں، اور ای ڈبلیو ایس کا یہ عدم توازن اس میں مزید اضافہ کرتا ہے۔
انہوں نے کہا، “اس میں کوئی راکٹ سائنس نہیں ہے،” اور کسی بھی ماہر اقتصادیات یا شماریات دان کو اس فرق کی وضاحت کرنے کا چیلنج دیا۔
مسٹر لون نے کیرالہ کی مثال دی، جو اے اے وائی اور بی پی ایل راشن کارڈ کی حیثیت کو اپنے ای ڈبلیو ایس کے معیار کے طور پر استعمال کرتا ہے، اور کیرالہ کا فارم اسمبلی اور وزیر کو پیش کرنے کی پیشکش کی۔ انہوں نے یہ بھی دلیل دی کہ یہ معاملہ مرکز کے زیر انتظام علاقے پر آئینی طور پر پابند نہیں ہے۔
آرٹیکل 16 ریاستوں کو خاندانی آمدنی اور دیگر اشاریوں کی بنیاد پر اقتصادی طور پر کمزور طبقات کی تصدیق کرنے کی اجازت دیتا ہے، اور انہوں نے کہا کہ مرکز کی 2019 کی پرسنل اینڈ ٹریننگ ڈیپارٹمنٹ کی تعریف مرکزی ملازمتوں کے لیے جاری رہ سکتی ہے، جبکہ مرکز کے زیر انتظام جموں و کشمیر عہدے کے لیے اپنی تعریف اپناتا ہے۔
مسٹر لون نے کہا، “ایک غریب شخص کے پاس بنیادی طور پر گھریلو راشن کارڈ یا اے اے وائی کارڈ ہوتا ہے،” انہوں نے حکومت سے روزگار اور کھانے پینے کی اشیاء کے لیے ایک ہی تعریف اپنانے کی اپیل کی۔ “آپ کی دو الگ الگ تعریفیں نہیں ہو سکتیں۔”
یواین آئی۔الف الف
جموں و کشمیر
فوج صرف ملک کی سرحد کی حفاظت ہی نہیں، بلکہ جموں و کشمیر کے لوگوں کو امداد، ہمدردی اور علاج بھی فراہم کرتی ہے: سنہا
سرینگر، جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے بدھ کے روز کہا کہ ہندستانی فوج نہ صرف بیرونی خطرات سے ملک کی حفاظت کرنے والی طاقت کے طور پر ابھری ہے، بلکہ مرکز کے زیر انتظام علاقے کے لوگوں کے لیے امداد، ہمدردی اور علاج کا ذریعہ بھی بنی ہے۔
مسٹر سنہا نے ‘آپریشن درشٹی’ کے تحت منعقدہ 11 ویں میگا آئی سرجری کیمپ کی اختتامی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ‘آپریشن درشٹی’ خدمت، ہمدردی، ہمت اور عزم کی ایک زندہ مثال ہے۔ انہوں نے بتایا کہ سرینگر کیمپ میں کامیابی کے ساتھ 144 سرجریاں کی گئیں، جبکہ ضلع کپواڑہ کے تنگدھار کیمپ نے سرحدی علاقے میں منعقدہ پہلے میگا آئی سرجری کیمپ کے طور پر تاریخی حصولیابی درج کی۔
انہوں نے کہا کہ سخت جغرافیائی حالات اور مسلسل خطرے کے باوجود ڈاکٹروں اور جوانوں نے زیر زمین آپریشن تھیٹر بنایا اور صرف دو دنوں میں 220 مریضوں کی آنکھوں کی روشنی بحال کی۔
انہوں نے کہا، “جن لوگوں نے تنگدھار کے جغرافیائی حالات کو دیکھا ہے، وہ سمجھتے ہیں کہ وہاں امداد پہنچانا اپنے آپ میں ایک چیلنج ہے۔ پہاڑوں کو پار کرنا پڑتا ہے، دشوار گزار علاقوں سے گزرنا پڑتا ہے اور کئی بار خطرے کے درمیان بھی آگے بڑھنا پڑتا ہے۔ پھر بھی اسی چیلنجنگ اور غیر یقینی ماحول میں بریگیڈیئر سنجے مشرا کی قیادت میں ہمارے ڈاکٹروں اور بہادر جوانوں نے امید کا ایک مرکز بنایا۔”
لیفٹیننٹ گورنر نے بتایا کہ جدید سرجیکل آلات کو ہوائی راستے سے تنگدھار پہنچایا گیا، جس سے اس علاقے میں جدید ترین آنکھوں کا علاج ممکن ہو سکا، جہاں پہلے ایسی سہولیات کا تصور بھی مشکل تھا۔ خاورپورہ، تنگدھار، بگبیلا اور آس پاس کے دیہات کے مریضوں کو اس کیمپ سے فائدہ ملا۔
انہوں نے کہا، “یہ سچی ہمت، فرض کی ادائیگی اور خدمت کا حقیقی مطلب ہے۔ اس پوری کوشش نے ایک بات پوری طرح سے ثابت کر دی ہے کہ جب عزم مضبوط ہو، تو کتنی ہی بڑی دشواری کیوں نہ ہو، ہندستانی فوج کے انسانی خدمت کے راستے میں رکاوٹ نہیں بن سکتی۔” مسٹر سنہا نے کہا کہ سرینگر اور تنگدھار میں کی گئیں 364 سرجریاں صرف طبی اعداد و شمار نہیں ہیں، بلکہ ان سے لوگوں کی زندگی بدلی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہندستانی فوج کے ڈاکٹروں کی قیادت میں کی گئی ہر سرجری کسی شخص کو اس کی عزتِ نفس لوٹانے اور نئی امید جگانے کی کہانی بنی۔
لیفٹیننٹ گورنر نے بتایا کہ قومی سطح پر ‘آپریشن درشٹی’ کے تحت 10 شہروں میں ڈیڑھ لاکھ سے زائد لوگوں کی آنکھوں کی جانچ کی جا چکی ہے اور 3,500 سے زائد سرجریاں کی گئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ‘آپریشن درشٹی’ نے فوج اور مقامی برادریوں کے درمیان اعتماد کو مضبوط کیا ہے اور یہ ثابت کیا ہے کہ ہندستانی فوج صرف دفاعی فورس ہی نہیں، بلکہ ہمدردی اور علاج کا ذریعہ بھی ہے۔ انہوں نے معاون عملے، ایئر فورس کے پائلٹوں اور ان جوانوں کی ہمت کو سلام کیا، جنہوں نے آلات پہنچائے، زیر زمین ‘آپریشن تھیٹر’ تیار کیے اور مخالف حالات میں پیچیدہ سرجریوں کو ممکن بنایا۔ انہوں نے کہا، “ہندستانی فوج صرف بیرونی خطرات سے ملک کی حفاظت کرنے والی طاقت نہیں ہے، بلکہ ضرورت کے وقت جموں و کشمیر کے عام شہریوں کے لیے امداد، ہمدردی اور علاج کا ذریعہ بھی ہے۔ آنکھوں کی روشنی لوٹا کر فوج نے مریضوں کو امن، اعتماد اور یکجہتی کی نئی نظر دی ہے۔” لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ سرینگر میں منعقدہ 11 واں کیمپ اس سفر کا اختتام نہیں، بلکہ اس کا تسلسل ہے۔
انہوں نے امید ظاہر کی کہ ‘آپریشن درشٹی’ ملک کے مزید قریوں اور قصبوں تک پہنچے گا، جس سے معیاری صحت کی سہولیات صرف بڑے شہروں تک محدود نہیں رہیں گی۔ انہوں نے کہا کہ تنگدھار کیمپ ملک کے دور دراز علاقوں کے لیے ایک متاثر کن مثال ہے۔ لیفٹیننٹ گورنر نے کہا، “آپریشن درشٹی کے تجربے سے ہمیں یہ اعتماد ملتا ہے کہ مضبوط عزم، بہتر منصوبہ بندی اور ہمدردی کے ساتھ جدید طبی سہولیات ملک کے ہر کونے تک پہنچائی جا سکتی ہیں۔ یہی ‘سب کا ساتھ، سب کا وکاس، سب کا وشواس’ کا عزم ہے اور محترم وزیراعظم نریندر مودی کی قیادت میں یہ یقینی بنایا جا رہا ہے کہ کوئی بھی شہری پیچھے نہ چھوٹے۔”
اس موقع پر لیفٹیننٹ گورنر نے کیمپ کے دوران اہم خدمات انجام دینے والے دفاعی فورسز کے ڈاکٹروں اور طبی عملے کو بھی اعزاز سے نوازا۔ انہوں نے مستفیدین کو آپریشن کے بعد استعمال کی جانے والی کٹس بھی تقسیم کیں۔
یواین آئی۔الف الف
-
دنیا1 week agoروبیو کی آرکٹک اتحادی ممالک کے وزرائے خارجہ سے ملاقات، سلامتی اور سرمایہ کاری پر تبادلہ خیال
-
دنیا1 week agoکم جونگ ان نے شمالی کوریا کے نظریاتی طریقہ کار کو جدید بنانے پر زور دیا
-
ہندوستان1 week agoعالمی کشیدگی کے وقت کثیرالجہتی کو مضبوط کرنا ضروری: جے شنکر
-
ہندوستان1 week agoخواتین کی سکیورٹی یقینی بنائے بغیر بڑے منصوبوں کا کوئی مطلب نہیں : پرینکا
-
جموں و کشمیر1 week agoوقفہ صفر میں جنوبی کشمیر میں شاہراہ پر پابندیوں کا معاملہ اٹھایا گیا
-
دنیا1 week agoسعودی اپیل کے بعد حوثیوں پر حملوں کے لیے امریکی جنگی طیاروں کی تیاری شروع ہو گئی تھی، لیکن ٹرمپ نے فیصلہ بدل دیا
-
دنیا1 week agoروس-یوکرین امن معاہدے کی شرائط پر بات چیت جاری : ٹرمپ
-
ہندوستان7 days agoہندوستان نے جموں و کشمیر پر او آئی سی کے رابطہ گروپ کے بیان کو مسترد کر دیا
-
دنیا6 days agoایران کی وارننگ، امریکہ کے دوبارہ حملے کی صورت میں جنگ بحر ہند تک پھیل سکتی ہے
-
دنیا1 week agoیمن کے بندرگاہی شہر موخا پر سعودی فضائی حملوں میں چھ افراد ہلاک
-
ہندوستان7 days agoانتخابی کمیشن میں مبینہ اختلافات کی رپورٹ پر اپوزیشن کا چیف الیکشن کمشنر سے استعفیٰ کا مطالبہ
-
ہندوستان6 days agoلداخ میں چھٹے شیڈول کو نافذ کر کے پولیس فائرنگ میں شہید نوجوانوں کو ملے انصاف: کانگریس
