پاکستان
پاکستانی وزیر اعظم عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کورونا پازیٹو
عمران خان نے دو دن پہلے ہی چین کی ویکسین لگوائی تھی ۔ ان کے کورونا متاثر ہونے کے بعد لوگوں نے ویکسین کی افادیت پر سوال کھڑے کر دئے ہیں۔
اسلام آباد: پاکستان کے وزیراعظم عمران خان جان لیوا وبا کورونا وائرس سے متاثر پائے گئے، ان کی کورونا جانچ پازیٹو آئی ہے۔ 68 سالہ عمران خان کے کورونا متاثر ہونے کی خبر کے چند گھنٹوں بعد یہ خبر آئی کہ عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی بھی کورونا متاثر پائی گئی ہیں۔
ٹؤٹر پر وزیراعظم عمران خان کے معاون خصوصی برائے امور صحت ڈاکٹر فیصل سلطان نے تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ عمران خان نے کورونا ٹسٹ کرایا تھا اور ان کا ٹسٹ مثبت آیا ہے جس کے بعد وزیراعظم نے خود کو گھر میں قرنطینہ کرلیا ہے۔ ٹویٹر پر بشریٰ بی بی کے کورونا متاثر ہونے کی خبر آئی۔
عمران خان نے دو روز قبل ہی کورونا سے بچاؤ کی ویکسین لگوائی تھی۔ اس موقع پر انہوں نے پاکستان عوام سے اپیل کی کہ کورونا وبا کی تیسری لہر کے پیش نظر ایس اوپیز پر مکمل عمل درآمد کو یقینی بنایا جائے۔ ویکسین لگوانے کے بعد کورونا متاثر ہونے کی خبر نے پاکستان میں ان لوگوں کو ایک ہتھیار دے دیا ہے جو ویکسین کی افادیت پر سوال اٹھاتے رہے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ اس ویکسین کا کیا فائدہ ہے جب اس کے لگوانے کے دو دن بعد ہی وزیر اعظم کورونا متاثر ہو گئے۔
طبی اور سرکاری ستح پر اس کی وضاحت کی گئی کہ کسی بھی ویکسین کے اثر کا پتہ پہلی خوراک کے دو دن بعد نہیں لگتا۔ دوسری خوراک کے بھی کچھ دنوں بعد ہی اس کا اثر نظر آ تا ہے۔(قومی آواز)
پاکستان
عمران خان کی پی ٹی آئی خیبر پختونخوا پر وفاقی قبضے کے خلاف قانونی جنگ لڑنے کے لیے تیار
اسلام آباد، پاکستان کے سابق وزیر اعظم عمران خان کی جماعت پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) خیبر پختونخوا پر وفاقی حکومت کے کنٹرول کے خلاف قانونی چیلنج دینے کی تیاری کر رہی ہے۔ اس صوبے میں اب تک پی ٹی آئی کی حکومت تھی۔
پی ٹی آئی کے مرکزی سکریٹری اطلاعات شیخ وقاص اکرم نے الجزیرہ کو بتایا کہ پارٹی منگل کو عدالت میں صوبے میں ایمرجنسی قوانین کے نفاذ، شہری آزادیوں کی معطلی اور گورنر راج کے خلاف درخواست دائر کرے گی۔ پارٹی کے سکریٹری جنرل سلمان اکرم راجا کی سربراہی میں قانونی کمیٹی نے درخواست تیار کر لی ہے، تاہم اکرم نے یہ نہیں بتایا کہ اسے سپریم کورٹ میں دائر کیا جائے گا یا وفاقی آئینی عدالت میں۔
وفاقی حکومت کے اس اقدام سے پاکستان میں سیاسی کشیدگی کا ایک نیا محاذ کھل گیا ہے۔ حکومت اور پی ٹی آئی اس معاملے پر ایک دوسرے سے مختلف موقف اختیار کیے ہوئے ہیں۔ یہ پیش رفت ایسے وقت ہوئی ہے جب پی ٹی آئی اپنے قید رہنما عمران خان کی رہائی کے لیے حکام پر دباؤ ڈالنے کی غرض سے اسلام آباد کی جانب تاخیر سے شروع ہونے والے لانگ مارچ میں مصروف تھی۔ عمران خان تین سال سے زیادہ عرصے سے جیل میں ہیں۔
وزیر داخلہ محسن نقوی نے پیر کو حکومتی اقدام کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ افغانستان سے ملحقہ سرحد رکھنے والے خیبر پختونخوا میں دہشت گردی سے مؤثر طور پر نمٹنے کے لیے وفاقی کنٹرول ضروری ہے۔
انہوں نے پیر کو پشاور میں کہا، ”آپ جتنے بھی وسائل لے آئیں اور کچھ بھی کر لیں، جب تک وہاں کی حکومت اس لڑائی کی قیادت نہیں کرے گی، کوئی جنگ نہیں جیتی جا سکتی۔”
اتوار کو صدر آصف علی زرداری نے صوبے میں ایمرجنسی اور گورنر راج نافذ کرتے ہوئے پی ٹی آئی حکومت معطل کر دی تھی۔ پارٹی 2013 سے خیبر پختونخوا میں حکومت کر رہی ہے۔
وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے پیر کو تصدیق کی کہ معطل وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی اور ان کی کابینہ کے بعض ارکان کو احتیاطی حراست میں لے لیا گیا ہے۔ سہیل آفریدی عمران خان کی رہائی کے مطالبے کے ساتھ اسلام آباد کی جانب مارچ کی قیادت کر رہے تھے۔ تاہم، ان مشکلات کے باوجود پی ٹی آئی رہنماؤں کا کہنا ہے کہ احتجاج جاری رہے گا۔
شیخ وقاص اکرم نے کہا، ”لانگ مارچ ختم نہیں ہوا ہے، لیکن پارٹی کے خلاف ایک تاریخی کریک ڈاؤن شروع ہو گیا ہے۔”
اتوار کو جاری کیے گئے اعلان کے مطابق، صوبائی حکومت ”دہشت گردی کے خطرے سے مؤثر طور پر نمٹنے کے لیے مطلوبہ ذمہ داری، عزم اور ارادے کا مظاہرہ کرنے میں ناکام رہی ہے۔”
پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف لیجسلیٹو ڈیولپمنٹ اینڈ ٹرانسپیرنسی (پلڈاٹ) کی جوائنٹ ڈائریکٹر آسیہ ریاض نے الجزیرہ کو بتایا کہ وفاقی حکومت کا موقف واضح ہے۔ ان کے مطابق، کابینہ کے اجلاس کے بعد صوبائی حکومت پر دہشت گردی کے خلاف لڑائی سے ”جان بوجھ کر الگ ہونے” کا الزام لگایا گیا، جسے ایمرجنسی کے نفاذ کی آئینی بنیاد قرار دیا گیا ہے۔ تاہم، لاہور یونیورسٹی آف مینجمنٹ سائنسز (لمز) کے اعزازی فیکلٹی رکن اور وکیل حسن عبداللہ نیازی نے اس دلیل سے اختلاف کیا۔
جاری۔ یو این آئی۔ ع ا۔
پاکستان
پاکستان کے سابق فوجیوں کے مبینہ بیان میں فرعون کا حوالہ، 1971 کی تاریخ دہرانے سے خبردار
خیبر پختونخوا میں گورنر راج اور ہنگامی اقدامات پر تنقید، فوجی وردی کو اقتدار نہیں بلکہ امانت قرار دیا؛ بیان کی صداقت کی آزادانہ تصدیق نہیں ہوسکی
اسلام آباد: پاکستان کے سابق فوجیوں کی تنظیم سے منسوب ایک مبینہ پریس ریلیز میں قرآنی آیت کا حوالہ دیتے ہوئے ملک میں سیاسی مخالفین کے خلاف مبینہ کارروائیوں اور اختیارات کے استعمال پر تنقید کی گئی ہے۔ بیان میں فرعون کی مثال پیش کرتے ہوئے خبردار کیا گیا ہے کہ پاکستان کو 1971 جیسے تاریخی بحران کی جانب دھکیلنے والے اقدامات سے گریز کیا جانا چاہیے۔
11 اکتوبر 2026 کی تاریخ درج اس پریس ریلیز میں تنظیم ویٹرنز آف پاکستان (VOP) کی مرکزی ایگزیکٹو کمیٹی کی جانب سے خیبر پختونخوا میں گورنر راج اور ہنگامی اقدامات کی مذمت کا دعویٰ کیا گیا ہے۔
بیان کے مطابق، تنظیم کی مرکزی ایگزیکٹو کمیٹی نے ایک ہنگامی اجلاس میں ان اقدامات کو آئین، وفاق اور عوام کی خواہشات کے منافی قرار دیا۔ اس میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ منتخب حکومت کو برطرف کرنے اور اس کے رہنماؤں کو حراست میں لینے جیسے اقدامات سے لاکھوں پشتونوں کی آواز دبانے کی کوشش کی جارہی ہے۔
پریس ریلیز میں قرآن مجید کی سورۃ القصص کی آیت 4 کا حوالہ دیتے ہوئے فرعون کے طرزِ حکمرانی کا ذکر کیا گیا ہے، جس میں اس کے زمین میں سرکشی کرنے اور لوگوں کو گروہوں میں تقسیم کرکے ایک طبقے پر ظلم ڈھانے کا بیان ہے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ پاکستان ماضی میں بھی ایسے حالات کا سامنا کرچکا ہے۔ اس ضمن میں 1971 کے واقعات کا حوالہ دیتے ہوئے خبردار کیا گیا ہے کہ سیاسی اختلافات کا جواب طاقت کے بجائے مکالمے سے دیا جانا چاہیے۔
مبینہ پریس ریلیز میں کہا گیا ہے کہ ملک نے 1971 میں سیاسی بحران اور طاقت کے استعمال کی بھاری قیمت ادا کی تھی، جب مشرقی پاکستان الگ ہوکر بنگلہ دیش بن گیا۔ بیان میں متنبہ کیا گیا ہے کہ ماضی کی غلطیوں کو دہرانے سے ملک کے اتحاد اور استحکام کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔
بیان میں فوج، عدلیہ اور بیوروکریسی سے بھی اپیل کی گئی ہے کہ وہ آئینی حدود اور جمہوری اصولوں کو مقدم رکھیں۔ اس میں فوجی وردی کے حوالے سے کہا گیا ہے:
’’وردی ایک امانت ہے، تخت نہیں۔‘‘
تنظیم سے منسوب بیان میں سیاسی بحران کے حل کے لیے آئینی طریقہ کار، قومی اتحاد اور پُرامن جدوجہد پر زور دیا گیا ہے۔
پاکستان
تحریک انصاف تحریک ختم کرکے مذاکرات کے لیے آگے آئے، شہباز شریف
اسلام آباد، پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ایجی ٹیشن اور لانگ مارچ کی سیاست ترک کر کے مذاکرات کے لیے آگے آئیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ مسلسل احتجاج ملک کی اقتصادی ترقی اور بین الاقوامی امیج کو شدید نقصان پہنچا سکتا ہے۔
اسلام آباد اور راولپنڈی کے درمیان ٹریفک کو کم کرنے کے لیے بنائے جانے والے کشمیر چوک انڈر پاس کا سنگ بنیاد رکھنے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے، جناب شریف نے کہا، “میں اب بھی ان سے کہتا ہوں کہ ہوش میں آجائیں، اپنے لانگ مارچ اور دھرنے ختم کریں، جب یہ ختم ہو جائیں گے تو ہم ضرور آپ کے ساتھ بیٹھیں گے اور بات کریں گے تاکہ پاکستان آگے بڑھ سکے، یہ آپسی محنت اورپاکستانی قوم کی آواز ہے ۔”
تقریب میں وزیر داخلہ محسن نقوی، وزیر اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ، وزیر پارلیمانی امور طارق فضل چوہدری، وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری اور کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے چیئرمین سہیل اشرف سمیت متعدد ارکان پارلیمنٹ اور دیگر معززین نے شرکت کی۔
مسٹر شریف نے کہا کہ حکومت کی مخلصانہ کوششوں کے باوجود پی ٹی آئی نے ایک بار پھر دھرنوں اور لانگ مارچ کی سیاست کا سہارا لیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان مسلم لیگ نواز اور پاکستان پیپلز پارٹی کے نمائندوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی نے اپوزیشن کے ساتھ مذاکرات کیے تھے لیکن حتمی مسودہ تیار ہونے کے بعد تحریک انصاف کے آخری لمحات میں تبدیلی کے مطالبات کی وجہ سے یہ عمل تعطل کا شکار ہو گیا۔
انہوں نے کہا کہ دھرنوں اور لانگ مارچ کی سیاست کا براہ راست معیشت پر اثر پڑے گا، برآمدات، مینوفیکچرنگ اور درآمدات متاثر ہوں گی۔ انہوں نے کہا کہ اگر کوئی کارکن یا انجینئر وقت پر فیکٹری یا دفتر نہ پہنچ سکے تو پورے ملک کو نقصان پہنچے گا۔
مسٹر شریف نے کہا کہ حکومت نے میکرو اکنامک استحکام کو بحال کیا ہے اور اجتماعی کوششوں کے ذریعے معاشی ترقی کی جانب کام کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ برآمدات، ترسیلات زر اور صنعتی پیداوار میں اضافہ جیسے اشارے مثبت ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ ان کامیابیوں کو نقصان پہنچانا ریاست کے مفادات کے خلاف ہوگا۔
انہوں نے کہا، “ہم ایسا نہیں ہونے دیں گے۔ قانون اپنا راستہ اختیار کرے گا۔ لوگوں کی جان و مال کی حفاظت ہماری ذمہ داری ہے، اور ہم اسے ہر ممکن طریقے سے یقینی بنائیں گے۔”
مسٹر شریف نے کشمیر چوک پروجیکٹ کو ایک ماہ کے اندر مکمل کرنے کا ہدف مقرر کرنے پر مسٹر نقوی اور ان کی ٹیم کی تعریف کی۔ منصوبے کی لاگت 1.6 بلین پاکستانی روپے تھی، جبکہ ٹھیکہ 1.4 بلین روپے میں دیا گیا تھا۔ چار سلپ روڈ بنائے جائیں گے۔ اس چوراہے پر فی الحال تقریباً 107,000 گاڑیاں چلتی ہیں اور خاص طور پر وی آئی پی کی نقل و حرکت کے دوران یہ ٹریفک جام کا شکار ہوتا ہے۔
یو این آئی۔ الف الف ۔ م الف
-
دنیا1 week agoایرانی وزیر تیل مستعفی، نیشنل آئل کمپنی کے سربراہ قائم مقام وزیر مقرر
-
دنیا1 week agoیمن کی سرکاری فوج کا حوثیوں کے خلاف بڑا حملہ، باب المندب کے قریب ذباب پر قبضہ
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر سے تقریباً 150 بنگلہ دیشی شہری ملک بدر
-
ہندوستان1 week agoجی ایس ٹی میں اگلی نسل کی اصلاحات سے کاروبار میں آسانی بڑھے گی، اعتماد مضبوط ہوگا: مودی
-
پاکستان1 week agoعمران خان کی رہائی کے مطالبے پر ہزاروں حامیوں کا اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ شروع
-
ہندوستان1 week agoسی ای سی کے خلاف احتجاجی مظاہرے کی درخواست پر سپریم کورٹ غور کرے گی
-
ہندوستان1 week agoجے شنکر گھانا، کوٹ ڈی آئیوائر اور ایتھوپیا کے چھ روزہ دورے پر
-
ہندوستان1 week agoراہل نے مدھیہ پردیش میں اساتذہ کی بھرتی کی آسامیوں میں اضافہ اور دوسرے مرحلے کی کونسلنگ شروع کرنے کا مطالبہ کیا
-
ہندوستان1 week agoفارم-6 میں ہوئی غیر قانونی تبدیلی، گیانیش کمار نے اپنے عہدے کا غلط استعمال کیا: راہل
-
ہندوستان6 days agoوزیر اعظم مودی نے یوم فضائیہ پر جانبازوں کو سلام پیش کیا، ہندوستان کے آسمان کی حفاظت میں ان کی بہادری کو سراہا
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر: بارہمولہ میں پولیس نے موبائل، سم اور جراثیم کش دوا کی دکانوں پر جانچ مہم چلائی
-
جموں و کشمیر7 days agoعمر عبداللہ نے ایس آئی آر پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا جموں و کشمیر پہلے ہی انتخابی ‘ہیرا پھیری’ دیکھ چکا ہے
