تازہ ترین
پاکستان کا پلٹ کر وار: جنوبی افریقہ کو ورلڈ کپ سے باہرکر دیا
خبراردو: ورلڈ کپ 2019 کے 30ویں میچ میں پاکستان نے جنوبی افریقہ کو 49 رنز سے شکست دے کر ورلڈ کپ سے باہر کردیا، شاداب خان اور وہاب ریاض نے تین، محمد عامر دو وکٹیں حاصل کیں۔
تفصیلات کے مطابق لارڈز میں کھیلے جانے والے میچ میں پاکستان کی جانب سے دیے جانے والے 309 رنز ہدف کے تعاقب میں جنوبی افریقہ کی ٹیم مقررہ اوورز میں 9 وکٹوں کے نقصان پر 259 رنز بناسکی، فاف ڈوپلیسی کی نصف سنچری بھی ٹیم کو شکست سے نہ بچاسکی۔
محمد عامر نے ہاشم آملہ کو پہلے ہی اوور میں پویلین بھیج دیا، آملہ نے 2 رنز بنائے تھے، ڈی کوک نے حفیظ کی گیند پر کیچ ڈراپ ہونے کے بعد 47 رنز کی اننگز کھیلی۔
کپتان فاف ڈوپلیسی نے 63 رنز کی اننگز کھیلی، ایڈم مرکرم کو 7 رنز پر شاداب خان نے نشانہ بنایا، وینڈر ڈوسن 36 رنز بنا کر شاداب کی گیند پر حفیظ کو کیچ دے بیٹھے۔
ڈیوڈ ملر تین چانس ملنے کے باوجود بڑی اننگز نہ کھیل سکے اور 31 رنز پر شاہین آفریدی کی گیند پر بولڈ ہوئے، کرس مورس 16، ربادا 3 اور نگیڈی 1 رن پر وہاب ریاض کا نشانہ بنے۔
واضح رہے کہ جنوبی افریقہ کے لیے یہ میچ جتنا انتہائی اہم تھا شکست کے ساتھ ہی ورلڈ کپ میں پروٹیاز کا سفر تمام ہوگیا ہے، ایونٹ کے بقیہ میچز جنوبی افریقہ کھیلے گی۔
اس سے قبل ورلڈکپ کے 30ویں میچ میں پاکستان اور جنوبی افریقا کی ٹیمیں لارڈز کے اسٹیڈیم میں مد مقابل ہیں، دونوں ٹیموں کے لیے آج کا میچ انتہائی اہم ہے کیونکہ شکست کی صورت میں آگے کا سفر دشوار ہوجائے گا۔
قومی کرکٹ ٹیم کے کپتان سرفراز احمد نے ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کا اعلان کیا، پاکستان کی جانب سے فخر زمان اور امام الحق میدان میں آئے اور انہوں نے انتہائی محتاط انداز سے پروٹیز گیند بازوں کا سامنا کیا۔
جنوبی افریقا کے خلاف میچ میں قومی ٹیم میں دو تبدیلیاں کی گئیں، آل راؤنڈر شعیب ملک کی جگہ حارث سہیل اور فاسٹ باؤلر حسن علی کی جگہ شاہین آفریدی کو ٹیم میں شامل کیا گیا ہے۔
پاکستان کی اننگز
اننگز کے پندرہویں اور عمران طاہر نے اپنے پہلے اوور میں فخر زمان کو چوالیس کے انفرادی جبکہ 81 کے مجموعی اسکور پر پویلین بھیجا، پندرہویں اوور کے اختتام تک ایک چھکا اور 11 چوکے لگے۔
پاکستان کے دوسرے آؤٹ ہونے والے کھلاڑی امام الحق تھے جو 98 کے مجموعی اسکور پر 44 رنز بنا کر آؤٹ ہوئے، محمد حفیظ نے محتاط انداز سے کھیلنے کی کوشش کی مگر وہ بھی 143 کے مجموعی جبکہ 20 کے انفرادی اسکور پر آؤٹ ہوئے۔
بعد ازاں بابر اعظم اور حارث سہیل نے شاندار بیٹنگ کرتے ہوئے چوتھی وکٹ میں 81 رنز کی شراکت داری قائم کی اور ٹیم کی پوزیشن کو مضبوط بنایا، دونوں بلے بازوں نے اسی دوران اپنی اپنی نصف سنچریاں بھی مکمل کیں، اننگز کے 41.2 اوور میں بابر اعظم 69 رنز بناکر پویلین لوٹے یوں 224 پر پاکستان کے چار کھلاڑی آؤٹ ہوچکے تھے۔
نئے آنے والے بیٹسمین عماد وسیم 23 رنز بنا سکے جبکہ وہاب چار رنز بناکر آؤٹ ہوئے، حارث سہیل آخری اوور کی چوتھی گیند پر 89 رنز کی شاندر اننگز کھیل کر آؤٹ ہوئے، انہوں نے 59 گیندوں کا سامنا کرتے ہوئے 3 چھکے اور 9 چوکے لگائے۔
پاکستان نے مقررہ پچاس اوورز میں 7 وکٹوں کے نقصان پر 308 رنز اسکور کیے، حارث سہیل 89 رنز کے ساتھ نمایاں بلے باز رہے جبکہ بابر اعظم نے 69، فخر زمان اور امام الحق نے 44 ، 44 رنز کی انگز کھیلی۔ جنوبی افریقا کے باؤلر نگیڈی تین اور عمران طاہر دو وکٹیں حاصل کر کے نمایاں باؤلر رہے۔
پوائنٹس ٹیبل
ایونٹ میں جنوبی افریقا کی ٹیم اب تک 6 میچز کھیل چکی ہے جن میں سے ایک میں کامیاب جبکہ 4 میچز میں ناکام رہی ہے جبکہ پاکستان ایک ہی میچ میں کامیابی حاصل کرسکی ہے۔ پوائنٹ اسکورنگ ٹیبل پر اس وقت جنوبی افریقا آٹھویں جبکہ پاکستان نویں نمبر پر ہے۔
واضح رہے کہ آئی سی سی ورلڈکپ کے لیے 10 ٹیمیں ایونٹ میں حصہ لے رہی ہیں جنہیں 2 گروپس میں تقسیم کرنے کے بجائے تمام ٹیمیں ایک دوسرے کے خلاف میچ کھیلیں گی۔
ایونٹ میں دفاعی چیمپیئن آسٹریلیا، بھارت، پاکستان، انگلینڈ، نیوزی لینڈ، جنوبی افریقہ، ویسٹ انڈیز، بنگلہ دیش، سری لنکا اور افغانستان شامل ہیں۔
آئی سی سی ورلڈکپ کے ایونٹ میں 48 میچز کھیلے جائیں گے، فائنل اور سیمی فائنل سے قبل تمام ٹیمیں 9،9 میچز کھیلیں گی جن میں سے 4 ٹیمیں سیمی فائنل میں جگہ بنائیں گی، 14 جولائی کو فائنل کھیلا جائے گا۔
ہندوستان
مودی حکومت کی پالیسیوں نے معاشی لبرلائزیشن کو برباد کر دیا: کھرگے
نئی دہلی، کانگریس صدر ملکارجن کھرگے نے مودی حکومت کی معاشی پالیسیوں پر شدید نکتہ چینی کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس حکومت نے عام لوگوں کے مفادات کو نظر انداز کر کے صارفین کے لیے متعدد اختیارات کی مسابقت کو ختم کر دیا ہے اور منتخب سرمایہ دار دوستوں کو فائدہ پہنچایا جا رہا ہے، جس سے معاشی لبرلائزیشن کی بنیاد برباد ہو گئی ہے۔
مسٹر کھرگے نے جمعہ کے روز سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ایکس’ پر لکھا کہ مودی حکومت کی معاشی پالیسیوں کا مقصد معیشت کا کنٹرول اپنے چہیتے سرمایہ دار دوستوں کے ہاتھوں میں سونپنا ہے، تاکہ بدلے میں منافع میں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کا حصہ برقرار رہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ مسابقت کو ختم کر کے اجارہ داری اور دو کمپنیوں کے غلبے والے نظام کو نافذ کر کے بی جے پی کے خزانے کو بھرنے کا کام کیا گیا ہے۔
کانگریس صدر نے کہا کہ ٹیلی کام کے شعبے میں 2014 سے پہلے 13 کمپنیاں تھیں، جبکہ اب صرف تین بڑی نجی کمپنیاں رہ گئی ہیں۔ اسی طرح اندرونِ ملک ہوا بازی کے شعبے میں 2014 سے پہلے سات کمپنیوں کے مقابلے اب صرف دو بڑی کمپنیاں رہ گئی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ڈیجیٹل ادائیگی، سیمنٹ اور فوڈ ڈیلیوری ایپس سمیت مختلف شعبوں میں حکومت کی ترجیح مسابقت کو ختم کرنا رہی ہے۔ مسٹر کھرگے نے کہا کہ کانگریس معاشی لبرلائزیشن کی بانی ہے، جبکہ بی جے پی پر اپنے منافع کے لیے ‘معاشی دہشت گردی’ نافذ کرنے کا الزام لگایا۔
مسٹر کھرگے نے دعویٰ کیا کہ حکومت کی معاشی پالیسیوں سے مائیکرو، اسمال اینڈ میڈیم انٹرپرائزز (ایم ایس ایم ای) اور دیگر چھوٹے و درمیانے درجے کی صنعتوں کو نقصان پہنچا ہے نیز ملک کے نوجوانوں کو شدید بے روزگاری کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
یواین آئی ایف اے
ہندوستان
انڈیا اتحاد کے رہنماؤں سے جمعہ کی رات آٹھ بجے ملاقات کریں گی مرمو
نئی دہلی، انڈیا اتحاد کے رہنما جمعہ کی رات آٹھ بجے صدرِ جمہوریہ دروپدی مرمو سے ملاقات کر کے ووٹر لسٹ کی خصوصی تفصیلی نظرثانی (ایس آئی آر) کےعمل کے ذریعے دھاندلی کرنے اور الیکشن کمیشن کے طریقہ کار سے متعلق مسائل پر اپنے خدشات پیش کریں گے۔
ذرائع کے مطابق انڈیا اتحاد کے رہنماؤں نے 30 ستمبر کو یہاں منعقدہ میٹنگ میں صدرِ جمہوریہ سے ملاقات کر کے ان مسائل پر ان کے سامنے اپنا موقف رکھنے کا فیصلہ کیا تھا۔ اتحاد کے رہنما ایس آئی آر کے عمل اور چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے طریقہ کار سے متعلق اپنے خدشات سے صدرِ جمہوریہ کو آگاہ کرنا چاہتے ہیں۔
اس سلسلے میں صدرِ جمہوریہ سے ملاقات کے لیے پہلی بار دو اکتوبر کو مکتوب بھیج کر وقت مانگا گیا تھا۔ راشٹرپتی بھون کی طرف سے وفد میں شامل ہونے والے رہنماؤں کے نام مانگے جانے کے بعد اتحاد نے پانچ اکتوبر کو دوبارہ مکتوب بھیجا اور سات، آٹھ یا نو اکتوبر میں سے کسی بھی دن ملاقات کا وقت دینے کی درخواست کی تھی۔
انڈیا اتحاد کے رہنما چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار پر ووٹر لسٹ میں مبینہ دھاندلیوں کے تعلق سے سوال اٹھاتے ہوئے ان کے استعفے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ اس معاملے پر اتحاد کے اراکینِ پارلیمنٹ نے مظاہرے اور مارچ بھی نکالے ہیں۔
کانگریس نے الیکشن کمیشن کے خلاف اپنے احتجاج کو تیز کرنے کے لیے تقریباً ڈیڑھ ماہ تک جاری رہنے والی تحریک کے پروگرام کی بھی توثیق کی ہے۔ کانگریسی رہنما راہل گاندھی اور پرینکا گاندھی واڈرا کو پولیس مظاہرے کے دوران مسلسل دو بار حراست میں بھی لے چکی ہے۔
یواین آئی ایف اے
ہندوستان
ہندوستان نے امریکہ کے پی ای آر ایم پروگرام پر روک پر تشویش کا اظہار کیا، کہا – یہ دونوں ممالک کے مفادات کے خلاف
نئی دہلی، ہندوستان نے امریکی محکمہ محنت کے مستقل لیبر سرٹیفیکیشن پروگرام (پی ای آر ایم) سے جڑے فیصلے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسے دونوں ممالک کے مفادات کے خلاف بتایا ہے۔
امریکہ کی جانب سے جمعرات کی رات اس قدم کے اعلان کے بعد وزارتِ خارجہ نے جمعہ کے روز ایک بیان جاری کر کے کہا کہ اس قدم سے متاثرہ کمپنیوں کے اہل ملازمین کے گرین کارڈ کے عمل پر اثر پڑ سکتا ہے۔ تاہم پی ای آر ایم درخواستوں پر روک سے موجودہ ایچ-1بی ویزا یا ویزا ہولڈرز اور ان کے زیرِ کفالت افراد کی حیثیت پر خود بخود کوئی اثر نہیں پڑتا۔
ہندوستان نے کہا کہ پی ای آر ایم پروگرام، ایچ-1بی ویزا پروگرام سے مختلف ہے۔ متاثرہ کمپنیوں کے اہل ملازمین کی مستقل رہائش یعنی گرین کارڈ حاصل کرنے کے عمل پر اس کا کچھ اثر ہو سکتا ہے، لیکن اس سے موجودہ ایچ-1بی ویزا کی میعاد اپنے آپ ختم نہیں ہوتی۔
وزارتِ خارجہ نے کہا ہے کہ ہندوستانی ٹیلنٹ کے امریکہ جانے سے دونوں ممالک کی معیشتوں کو فائدہ ہوتا ہے۔ اس سے ہندوستانیوں کو مواقع ملتے ہیں، جبکہ امریکی کمپنیوں کو ہنر مند ملازمین، نئی ٹیکنالوجی، تحقیق، جدت طرازی، پیداواری صلاحیت اور مسابقتی صلاحیت بڑھانے میں مدد ملتی ہے۔ اس سے امریکہ میں روزگار کے مواقع پیدا ہوتے ہیں اور شیئر ہولڈرز کے اثاثوں میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔
ہندوستان نے کہا کہ امریکہ کا یہ قدم دونوں ممالک کے مشترکہ اہداف کو آگے بڑھانے میں مدد نہیں کرتا۔ ہندوستان نے امریکی نائب صدر کے اس معاملے پر کیے گئے تبصروں پر بھی اعتراض ظاہر کیا۔ ہندوستان کے مطابق ایسے تبصرے غیر مناسب ہیں اور امریکہ کی معیشت نیز جدت طرازی میں ہندوستانی پیشہ ور افراد کی خدمات کو نظر انداز کرتے ہیں۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ ہندوستانی پیشہ ور افراد امریکہ کی معیشت اور جدت طرازی کے نظام میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ امریکہ کی تاریخ بھی ایسے تارکینِ وطن کی خدمات سے بنی ہے جنہوں نے اپنے کام، کاروبار اور نئے خیالات سے ملک کی ترقی میں مدد کی ہے۔ ہندوستان نے کہا کہ دردناک تاریخی اور نوآبادیاتی دور کی یاد دلانے والے الفاظ کا استعمال انتہائی قابلِ اعتراض ہے۔
وزارتِ خارجہ نے کہا کہ وہ اس معاملے سے جڑی صورتحال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہے۔
یواین آئی ایف اے
-
جموں و کشمیر1 week agoسری نگر پولیس نے بین ریاستی منشیات نیٹ ورک کا پردہ فاش کیا، آٹھ افراد گرفتار
-
دنیا1 week agoقطری ثالثی کی امریکہ، ایران کے درمیان مذاکرات میں معمولی پیش رفت
-
دنیا1 week agoروس پر براہِ راست حملے کی صورت میں ہر قسم کے ہتھیار استعمال کرنےکا معاملہ ایجنڈے پر ہو گا :پوتن
-
جموں و کشمیر7 days agoگاندھی کے عدم تشدد اور سودیشی کے نظریات آج بھی اہم ہیں: جموں کے ڈویژنل کمشنر
-
ہندوستان1 week agoوندے بھارت نے چِناب پل اور کیبل اسٹڈ انجی پل کو 100 کلومیٹر کی رفتار سے عبور کیا
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر میراتھن اتحاد اور نوجوانوں کے متبادل خواہشات کا پیغام دیتی ہے: ایل جی سنہا
-
دنیا6 days agoخمیس مشیط کی جانب داغے گئے تین حوثی بیلسٹک میزائل تباہ
-
ہندوستان1 week agoڈیفنس اکاؤنٹس ڈیپارٹمنٹ کے 279ویں سالانہ دن پر کئی نئی پہل کی شروعات کریں گے راج ناتھ
-
جموں و کشمیر1 week agoجاوید ڈار نے اسمبلی میں سی اے جی کی رپورٹیں پیش کیں
-
ہندوستان1 week agoشیئر بازاروں میں گراوٹ جاری، سینسیکس 49 پوائنٹس پھسلا
-
دنیا1 week agoایران امریکہ سے مذاکرات کی کوشش جاری رکھے گا: پیزشکیان
-
جموں و کشمیر1 week agoاپوزیشن لیڈر کا عمر پر ریاستی حیثیت کی بحالی کے مطالبے کو ’سبوتاژ‘ کرنے کا الزام، جموں و کشمیر اسمبلی کا اجلاس ’بدقسمت‘ قرار
