ہندوستان
پنشن تنازعہ: سپریم کورٹ نےپنجاب حکومت کی سرزنش کی، بھاری معاوضے کا حکم دینے کا انتباہ
نئی دہلی، سپریم کورٹ نے پنشن اسکیم نافذ کرنے میں ناکامی پر جمعہ کو پنجاب حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا اور خبردار کیا کہ اگر وہ اب ناکام ہوئی تو عدالت اسے ہر درخواست گزار کو کم از کم 25 لاکھ روپے ادا کرنے کی ہدایت دے گی یہ وارننگ جسٹس ابھے اوکا اور جسٹس اجول بھویان کی بنچ نے چیف سیکرٹری پنجاب کے خلاف توہین عدالت کی درخواست کی سماعت کے دوران دی۔ درخواست میں ریاست کے ایڈیشنل ایڈوکیٹ جنرل کی جانب سے اسکیم پر عمل آوری کے حوالے سے کئے گئے پہلے وعدے کی خلاف ورزی کا الزام لگایا گیا تھا۔
عدالت نے پرائیویٹ طور پر چلائے جانے والے پنجاب حکومت سے ملحقہ اور ریاستی حکومت کے امداد یافتہ کالجوں کو پنشن بینیفٹ اسکیم 1986 پر عمل درآمد کرنے میں ناکامی اور اہل استفادہ کنندگان کو ان کے پنشنری حقوق سے محروم کرنے پر سخت تنقید کا نشانہ بنایا۔
سماعت کے دوران پنجاب حکومت کی طرف سے پیش ہوئے سینئر وکیل ابھیشیک منو سنگھوینے دلیل دی کہ کچھ عرضی گزاروں نے ریٹائرمنٹ کے وقت ہی اپنا کنٹریبیوٹری پروویڈنٹ فنڈ (سی پی ایف) نکال لیا تھا۔ انہوں نے متاثرہ افراد کے لیے ایک لاکھ روپے کے معاوضے کی تجویز دی۔ تاہم عدالت نے اس رقم کو ناکافی قرار دیتے ہوئے سختی سے مسترد کردیا۔
بنچ کی جانب سے جسٹس اوکا نے ریمارکس دیے کہ ایک لاکھ روپے کی دلیل ہمارے کانوں تک نہیں پہنچ رہی یت، ہم مناسب معاوضہ دیں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگر حکومت کارروائی کرنے میں ناکام رہتی ہے تو عدالت ریاست کو ہر درخواست گزار کو کم از کم 25 لاکھ روپے ادا کرنے کی ہدایت دے گی۔ یہ رقم اسکیم پر عمل درآمد نہ کرنے والے ذمہ داروں سے وصول کی جائے گی۔
درخواست گزاروں کے وکیل نے پنجاب ریپیل ایکٹ کو “مکمل طور پر غیر قانونی” قرار دیتے ہوئے ریاست کے موقف کی مخالفت کی اور کہا کہ پنشن کے تعین کے نتیجے میں ریٹائرڈ ملازمین کو ماہانہ 1.5 لاکھ روپے کی ادائیگی ہوگی۔
عدالت نے پنجاب کی جانب سے اپنی یقین دہانیوں پر عمل درآمد میں بار بار ناکامی پر بھی سخت ناراضگی کا اظہار کیا۔
جسٹس اوکا نے خبردار کیا، “اگر ریاست ڈٹی ہے، تو ہم جانتے ہیں کہ ریاست کے ساتھ کیسے نمٹنا ہے۔ عدالت کے ساتھ جس طرح کا سلوک کیا جا رہا ہے، ہم اسے نظر انداز نہیں کر سکتے۔ ہم پہلے بھی درج کر چکے ہیں کہ دھوکہ دیا گیا ہے”۔
پنجاب کے چیف سیکرٹری کے اے پی سنہا ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے پیش ہوئے۔
بنچ نے سوال کیا کہ کیا ایڈوکیٹ جنرل (اے جی) کے ماضی کے وعدوں کی کوئی اہمیت ہے اگر حکومت ان کے (عزائم) کو نظر انداز کرنا جاری رکھتی ہے۔ جسٹس اوکا نے کہا کہ اے جی کے کسی بھی بیان کے ساتھ متعلقہ ریاستی اہلکار کا حلف نامہ بھی ہونا چاہیے۔
اٹارنی جنرل کا دفاع کرتے ہوئے مسٹر سنگھوی نے کہا کہ کوششیں کی گئیں لیکن وہ کامیاب نہیں ہوئے۔
عدالت عظمیٰ نے تعمیل کا آخری موقع فراہم کرتے ہوئے معاملے کو 15 اپریل تک درج کرنے کی ہدایت کی۔
عدالت نے خبردار کیا کہ اگر کوئی حل نہیں نکلا تو وہ مالی معاوضے کی ہدایت کرتے ہوئے حتمی حکم جاری کرے گی۔
یو این آئی م ع۔ 1705
ہندوستان
اروناچل ہندستان کا اٹوٹ حصہ، سرحد کی صورتحال ہی چین کے ساتھ دوطرفہ تعلقات کی بنیاد:ہندستان
نئی دہلی ہندستان نے اروناچل پردیش کو اپنا ناقابلِ تقسیم اور اٹوٹ حصہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ چین کے ساتھ اس کے دوطرفہ تعلقات سرحد کی صورتحال پر مبنی ہوں گے اور سرحدی صورتحال کا ان تعلقات پر براہِ راست اثر ہوگا۔
وزارتِ خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے منگل کے روز یہاں میڈیا بریفنگ میں سوالات کے جواب دیتے ہوئے یہ بات کہی۔ دراصل چین کی جانب سے اروناچل پردیش اور اس کے کچھ مقامات کے نام تبدیل کرنے کے ردعمل میں ہندستان نے حال ہی میں اروناچل پردیش کی 27 اہم جگہوں کو سروے آف انڈیا کے نقشے میں سرکاری طور پر نشان زد کر دیا ہے۔ اس پر چین کی طرف سے منفی ردعمل سامنے آیا ہے۔ چین کے اس ردعمل کے بارے میں پوچھے جانے پر مسٹر جیسوال نے کہا کہ اروناچل پردیش ہندستان کا ناقابلِ تقسیم اور اٹوٹ حصہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے اور کوئی بھی اس ناقابلِ تردید سچائی کو بدل نہیں سکتا۔
دونوں ممالک کے درمیان سرحد پر صورتحال کے بارے میں پوچھے گئے سوال کے جواب میں ترجمان نے کہا کہ ہندستان سرحد سے جڑے معاملات کو انتہائی سنجیدہ مانتا ہے اور سرحد پر امن و استحکام اس کی ترجیح ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ سرحد کی صورتحال کا ہندستان اور چین کے تعلقات پر براہِ راست اثر پڑے گا۔ ترجمان نے کہا، “ہندستان اور چین کے درمیان سرحدی علاقوں سے جڑے معاملات میں، ہم نے ہمیشہ چین کے ساتھ بات چیت میں اس بات پر زور دیا ہے کہ ہم ان مسائل کو بے حد سنجیدہ مانتے ہیں اور ان علاقوں میں امن و استحکام برقرار رکھنا سب سے زیادہ اہم ہے۔ ہم نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ سرحدی معاملات کی صورتحال ہمارے وسیع دوطرفہ تعلقات کی صورتحال کی عکاسی کرے گی۔ اس بات کو 06 اگست کو حال ہی میں منعقدہ ‘ہند-چین سرحدی معاملات پر مشاورت اور ہم آہنگی کے ورکنگ میکانزم’ کی 36ویں میٹنگ میں بھی دہرایا گیا۔ اس میٹنگ میں دونوں فریقوں نے کھلی اور واضح بات چیت کی اورحقیقی کنٹرول لائن (ایل اے سی) پر صورتحال کا جائزہ لیا۔”
مسٹر جیسوال نے کہا کہ میٹنگ میں ہندستان نے اس بات پر زور دیا کہ دوطرفہ تعلقات کی ہمہ گیر ترقی کے لیے سرحدی علاقوں میں امن و استحکام برقرار رکھنا انتہائی ضروری ہے۔ اس بات پر اتفاق ہوا کہ لائن آف ایکچوئل کنٹرول پر غلط فہمی اور غلط اندازوں سے بچنے نیز باقی بچے ہوئے مسائل کو حل کرنے کے لیے ورکنگ میکانزم کی میٹنگوں، مقامی کمانڈر سطح کی میٹنگوں اور دیگر میکانزم سمیت موجودہ سفارتی اور فوجی ذرائع کا استعمال جاری رکھا جائے گا۔
یو این آئی ایف اے
ہندوستان
سندوش کمار نے نِرملا سیتارمن کے تبصرے راجیہ سبھا کے ریکارڈ سے ہٹانے کا مطالبہ کیا
نئی دہلی، کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا (سی پی آئی) کے راجیہ سبھا رکنِ پارلیمنٹ پی سندوش کمار نے وزیر خزانہ نِرملا سیتارمن کے ذریعہ پارلیمنٹ میں کمیونسٹ تحریک کے خلاف کیے گئے مبینہ قابلِ اعتراض تبصروں کو راجیہ سبھا کے ریکارڈ سے ہٹانے کا مطالبہ کیا ہے انہوں نے اس سلسلے میں راجیہ سبھا کے چیئرمین سی پی رادھا کرشنن کو منگل کے روز خط لکھا ہے۔
مسٹر کمار نے کہا کہ انکم ٹیکس (ترمیم) آرڈیننس 2026 کو منسوخ کرنے کے مطالبے پر ہونے والی بحث کے دوران وزیر خزانہ نے سی پی آئی (ایم) کے رکنِ پارلیمنٹ جان برٹاس کے حوالے سے کمیونسٹوں کو “ٹوٹل کائر” بتاتے ہوئے پوری کمیونسٹ تحریک پر تبصرہ کیا۔ سی پی آئی کے رکنِ پارلیمنٹ نے ان تبصروں پر سخت اعتراض ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ سیاسی اختلاف کو ذاتی اہانت یا کسی پوری سیاسی تحریک کی تذلیل تک محدود نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ کمیونسٹوں نے ملک کی جدوجہدِ آزادی میں حصہ لیا، جیل گئے اور انگریزی حکومت کے مظالم اور جبر کا سامنا کیا نیز جمہوریت، مزدوروں کے حقوق، سماجی انصاف اور عوام کے حقوق کی جدوجہد میں اہم قربانیاں دیں۔
سی پی آئی کے رکنِ پارلیمنٹ نے چیئرمین سے پارلیمانی ضوابط اور قائم کردہ روایتوں کے مطابق قابلِ اعتراض تبصروں کو سرکاری ریکارڈ سے ہٹانے کی اپیل کی۔ انہوں نے کہا کہ پارلیمنٹ کے وقار کو برقرار رکھنے کے لیے تلخ سیاسی بحث تو قابلِ قبول ہے لیکن کسی نظریے یا سیاسی تحریک کے خلاف ذاتی اہانت اور قابلِ اعتراض تبصرے مناسب نہیں ہیں۔
یو این آئی ایف اے
ہندوستان
پارلیمنٹ کے احاطے میں اپوزیشن ارکانِ پارلیمنٹ کا احتجاج
نئی دہلی، کانگریس اور اپوزیشن جماعتوں کے ارکانِ پارلیمنٹ نے چڑھاوا چوری اور طلبہ پر پولیس کارروائی کے معاملے پر حکومت سے جواب طلب کرنے کے اپنے مطالبات کی حمایت میں منگل کے روز پارلیمنٹ کی کارروائی شروع ہونے سے پہلے پارلیمنٹ ہاؤس کے احاطے میں احتجاج کیا۔
مظاہرین ارکانِ پارلیمنٹ ہاتھوں میں بینرز اور تختیاں تھامے حکومت مخالف نعرے لگاتے رہے۔ احتجاجی ارکانِ پارلیمنٹ وزیرِ داخلہ امت شاہ سے پولیس کارروائی پر جواب دینے اور چڑھاوا چوری کے معاملے کی وسیع پیمانے پر تحقیقات کرانے کا مطالبہ کر رہے تھے۔
بارش کی بوچھاڑوں کے درمیان احتجاج کرنے والے ارکانِ پارلیمنٹ میں کانگریس کی پرینکا گاندھی واڈرا، سماج وادی پارٹی کے اکھلیش یادو، اودھیش پرساد، ترنمول کانگریس کی پرتیما منڈل، جھارکھنڈ مکتی مورچہ، شیو سینا (ادھو گروپ) اور دیگر کئی جماعتوں کے ارکانِ پارلیمنٹ موجود تھے۔
یواین آئی۔الف الف
-
دنیا1 day agoایران کا فی الحال امریکہ کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں: ایرانی وزیر خارجہ
-
دنیا1 day agoسعودی عرب میں فیکٹری میں آگ کے سبب 16 بنگلہ دیشی مزدور ہلاک
-
ہندوستان1 day agoطلبہ پر کارروائی کے معاملے پر حکومت کو گھیرتے ہوئے راہل کا مضمون، کھڑگے اور پرینکا نے حمایت کی
-
دنیا9 hours agoٹرمپ کا ایران سے معاوضے کا مطالبہ، آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
-
دنیا1 day agoٹرمپ جوہری معاہدے کے بغیر ایران کے ساتھ تنازع ختم کرنے پر تیار: رپورٹ
-
دنیا1 day agoتجربہ کار آئی آر جی سی کمانڈر محسن رضائی ایران کے قومی سلامتی کے سربراہ مقرر
-
دنیا9 hours agoایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
-
دنیا8 hours agoکولمبیا میں زلزلے سے ہلاکتوں کی تعداد 132 ہو گئی، صدر کا قومی ایمرجنسی کا اعلان
-
ہندوستان7 hours agoپارلیمنٹ کے احاطے میں اپوزیشن ارکانِ پارلیمنٹ کا احتجاج
-
جموں و کشمیر5 hours agoیومِ آزادی سے قبل جموں و کشمیر پولیس نے سرحدی سامبا میں طویل فاصلے کی گشت اور فرضی انسدادِ دہشت گردی مشق کی
-
دنیا9 hours agoیمن میں حوثیوں کے المخا اور مارب پر بیلسٹک میزائل حملے
-
ہندوستان7 hours agoسندوش کمار نے نِرملا سیتارمن کے تبصرے راجیہ سبھا کے ریکارڈ سے ہٹانے کا مطالبہ کیا
