تجزیہ
پنچائت چناؤ غیرسیاسی ہوں
عاصم محی الدین
سرمائی دارالحکومت میں گذشتہ مہینے ریاستی وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی نے گورنر این این وہرا سے بند کمرے میں ملاقات کی۔ انہوں نے میٹنگ میں ریاست کے حالات پر تبادلہ خیال کیا تاہم پنچایتی چناؤ منعقد کرانے کا ایجنڈا سرفہرست تھا۔ سیکریٹریٹ واپس آنے کے بعد وزیراعلیٰ نے اعلان کیا کہ ریاست میں 15فروری سے پنچائتی چناؤ منعقد ہونگے۔ چناؤ کی تاریخ کا اعلان کے بعد حکومت نے انتخابات منعقد کرانے کیلئے اہلکاروں اور مشینری کو متحرک کردیا جو کہ طویل اور پیچیدہ عمل ہے۔ ریاست میں آخری پنچائتی چناؤ 2011میں منعقد ہوئے حالانکہ نامساعدحالات اور علیحدگی پسندوں کے بائیکاٹ کال کے باوجود بھی لوگوں نے انتخابات میں بڑھ چڑھ کرحصہ لیا۔ ووٹ ڈالنے والے دیہاتی یہ تسلیم کرتے ہیں کہ کشمیر ایک سیاسی مسئلہ ہے اوراس کومذاکرات کے ذریعہ ہی حل کیاجاسکتا ہے تاہم ان کا اسرار ہے کہ ووٹ ڈالنے کی وجوہات روز مرہ کے مسائل جیسے پانی،بجلی اور سڑک ہے۔ پنچائت کی مدت 2016میں ختم ہوگئی اور حکومت نئے چناؤ کرانے کی منصوبہ بندی کررہی تھی لیکن وادی میں حزب کمانڈر برہانی وانی کی موت کے بعد حالات قابو سے باہر ہوگئے جس کے دوران 95افراد مارے گئے ، ہزاروں زخمی ہوئے اور سنگین حالات کے پیش نظر حکومت نے انتخابات کو ملتوی کیا۔ 2017میں سرینگر لوک سبھا سیٹ کے انتخاب کے دوران حالات پھر خراب ہوئے اور عوام پولنگ سٹیشنوں سے دور رہے جس کے باعث پنچائتی چناؤ پھر نہیں ہوسکے۔ پُرتشدد واقعات کی وجہ سے حکومت نے الیکشن کمیشن آف انڈیا اور مرکزی وزارت داخلہ سے صلح و مشورہ کے بعد اننت ناگ لوک سبھا سیٹ کیلئے چناؤ کرانا منسوخ کیا ۔ یہ سیٹ محبوبہ مفتی کے وزیر اعلیٰ بننے کے بعد خالی ہوگئی ہے۔ ایسا محسوس ہورہا ہے کہ وادی میں موجودہ سنگین حالات،جس میں جنگجو مخالف کاروائیاں اور معرکہ آرائیاںآئے روز ہورہی ہیں،حکومت پنچائت چناؤ کرانے کا فیصلہ کرچکی ہے حالانکہ متعدد سیاسی جماعتیں اس کی مخالفت کررہی ہیں۔ ریاست کی بڑی سیاسی جماعتوں این سی،کانگریس، برسراقتدار بی جے پی، پی ڈی پی اور پی سی نے پہلے ہی کارکنوں کو چناؤ میں حصہ لینے کیلئے تیار کرنے کو کہا ہے۔ حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ چناؤ کو مرحلہ وار بنیادوں پر انجام دیا جائیگا۔ چناؤ پہلے ان جگہوں میں منعقد ہونگے جہاں صورتحال پرامن ہے خاص کر جموں اور شمالی کشمیر کے علاقوں میں۔ سرکاری اہلکاروں کاکہنا ہے کہ صورتحال کا جائزہ لینے کے بعد جنوبی کشمیر میں چناؤ ہونگے حالانکہ وہاں ابھی بھی حالات پُرتناؤ ہیں۔ علیحدگی پسندوں اورجنگجوؤں نے لوگوں کو چناؤ سے دور رہنے کیلئے خبردار کیا ہے،حزب المجاہدین نے ووٹ ڈالنے والوں کیخلاف تیزاب استعمال کرنے کی دھمکی دی ہے۔ حزب المجاہدین آپریشنل کمانڈر ریاض نائیکو اپنے کمانڈر سمیر ٹائیگر کو ایک آڈیوبیان میں کہتا ہے کہ جو لوگ چناؤ میں حصہ لینگے، ان کی آنکھوں میں تیزاب ڈالاجائے۔ ریاض نائیکو کے بیان میں سنا جاسکتا ہے کہ 2016میں چھروں سے کئی نوجوانوں کی آنکھوں کی روشنی چلی گئی اور کئی نوجوانوں نے اپنی زندگیاں کھودیں اور جو چناؤ لڑینگے ، ان کابھی ایسا ہی حال کیاجائیگا۔ صوتی کلپ میں نائیکو دوسرے کمانڈر سے کہتا ہے کہ اس بار چناؤ میں حصہ لینے والوں کونہ مارا جائیگا اور نہ ہی ان کی مارپیٹ کی جائے گی بلکہ ’ہم ان کے گھروں میں جاکر ان کی آنکھوں میں تیزاب ڈالینگے تاکہ وہ عمر بھرکیلئے اپنے کنبوں پر بوجھ بنے رہیں‘۔نائیکو کاکہنا ہے کہ لوگ پنچائتی چناؤ کے اثرات کے بے خبر ہیں اور انہیں سیاسی ایجنٹ اپنے مفادات کیلئے استعمال کرتے ہیں۔ علیحدگی پسند لیڈر سید علی گیلانی نے بھی لوگوں سے پنچائتی چناؤ سے دور رہنے کو کہا ہے۔ چناؤ میں حصہ لینے والوں کی آنکھوں میں حزب کے تیزاب ڈالنے پر نیشنل کانفرنس کے کارگذار صدر اور سابق وزیراعلیٰ عمر عبداللہ نے ٹویٹ کرکے جنگجوؤں کی نکتہ چینی کی ہے۔ ’یہ پیلٹ نہیں ایسڈ ہے، کسی نہ کسی طریقے سے لوگوں کو اندھا بنانے کی دھمکیاں دی جارہی ہیں‘۔سرکاری اہلکاروں کاکہناہے کہ ریاست میں 4500پنچائتوں کا چناؤ ہوگا اور یہ تعداد 2011میں کئے گئے چناؤ سے زیادہ ہے جو ایک سال بعد منعقد ہوئے، جس کے دوران جنوبی کشمیر میں 3نوجوانوں کی ماورائے عدالت ہلاکت ہونے کے بعد حالات خراب ہوئے ۔ وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی نے پنچائت چناؤ کرانے کے اعلان کے بعد جموں میں ایک تقریب میں کہاکہ پنچائت چناؤ کے بعد حکومت ریاست میں میونسپل چناؤ کرانے کا سوچ رہی ہے۔ پنچائتی چناؤ منعقد کرانے کے حکومتی فیصلہ کے تناظر میں سراغرساں ایجنسیوں نے حکومت کو خبردار کیا ہے کہ ریاست اور خاص کر وادی میں انتخاب کرانے سے حالات خراب ہونگے ۔200سے زائد مقامی اور غیر ملکی جنگجوؤں کی موجودگی سے چناؤ کو خطرہ ہے اور خاص کر شمالی کشمیر میں جہاں برہانی وانی کے مارے جانے کے بعد متعدد مقامی نوجوانوں نے بندوق اٹھاکر جنگجوؤں کی صفوں میں شمولیت اختیار کی ہے تاہم حکومت چناؤ کرانے کیلئے کمربستہ دکھائی دے رہی ہے۔ چند ہفتہ قبل جموں میں وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی کی سربراہی میں یونیفائڈ ہائی کمانڈ کی میٹنگ منعقد ہوئی جس میں فوج کے اعلیٰ افسران اور سیکورٹی ایجنسیوں کے سربراہوں نے شرکت کی اور ریاستی کی مجموعی صورتحال پر غوروخوض ہوا۔ ذرائع کاکہنا ہے کہ میٹنگ میں پنچائت انتخابات کیلئے سیکورٹی سرفہرست رہی اور چناؤ کیلئے حفاظتی انتظامات کے بارے میں اعلیٰ افسران سے رپورٹ حاصل کیں۔ چناؤ منعقدکرانے سے قبل سرکار کی ذمہ داری لوگوں کی حفاظت ہے جبکہ ماضی میں منعقدہوئے انتخابات کے دوران تشدد میں اضافہ ہوا ۔سیاسی تجزیہ کاروں کاماننا ہے کہ حالات قابو سے باہر ہونگے جس طرح سرینگر پارلیمنٹ سیٹ کے ضمنی چناؤ کے دوران گذشتہ برس ہوئے اور ووٹ ڈالنے کے دن کئی شہری جان گنوابیٹھے۔ متعدد ایجنسیوں کی طرف سے فیڈبیک ملنے کے باوجود الیکشن کمیشن نے چناؤ منعقد کرائے اور کئی شہری مارے گئے ۔اس بار حکومت کو چاہئے کہ وہ سنجیدگی سے سیکورٹی حالات کا مشاہدہ کریں اور جہاں الیکشن منعقد کرانے کیلئے حالات موزوں نہیں ہیں وہاں صورتحال کو مد نظر رکھنے کے بعد ہی چناؤ کو ہری جھنڈی دکھائے ۔انتخابی عمل کیلئے حکومت اپنی آنکھیں بند نہیں کرسکتی۔ جنگجو قیادت کو یہ احساس کرنا چاہئے کہ پنچائت چناؤ میں حصہ لینے والے لوگ عام شہری ہیں اور انہیں مارنے سے ان کا کوئی مقصد پورانہیں ہوگا اور نہ وہ حکومت پر دباؤ بناسکتے ہیں۔ لوگ پنچائتی چناؤ میں اپنے روزمرہ مسائل حل کرنے اور بنیادی ضروریات کوکم کرنے کیلئے حصہ لیتے ہیں تاکہ سیاستدانوں پر انحصار کم ہو۔ اگر حکومت پنچائت چناؤ کو کامیابی اور عوامی شرکت کویقینی بناناچاہتی ہے اس کیلئے سیکورٹی اورسیاسی تجزیہ نگاروں کا ریاست اور مرکز کو مشورہ ہے کہ وہ پنچائت انتخابات کو سیاست کی نظر نہ کریں اورآخرکار عوام کو ہی اس کا خمیازہ بھگتناپڑتا ہے۔ چناؤ میں لوگوں کی بھاری شرکت کو بعض اوقات ریاست اور مرکزی حکومت ڈھول پیٹنے میں استعمال کرتی ہے اور علیحدگی پسندوں کی اہمیت کم کرنے کیلئے بھاری عوامی شرکت کو مختلف وجوہات دیتی ہے۔ 25ہزار پنچوں اور سرپنچوں کی تنظیم جموں وکشمیر پنچائت کانفرنس نے حکومت سے کہا ہے کہ وہ ان چناؤ کوسیاست کیلئے استعمال نہ کریں اور کہا کہ وہ مناسب سیکورٹی کی فراہمی کے بعد ہی چناؤ میں حصہ لینگے۔ پنچائت کانفرنس کے چیئرمین شفیق میر نے کہاکہ ’ہم پنچائتی چناؤ میں حصہ لینے کیلے تیار ہیں لیکن ریاستی حکومت کو پرامن ماحول کو یقینی بنانا ہوگا‘۔ متعدد بار پنچائت ممبران خصوصی طور پر سرپنچوں کو سیکورٹی فراہم نہ کرنے سے وہ لنگڑے بن جاتے ہیں۔ شفیق میر نے بی جے پی اور پی ڈی پی مخلوط حکومت پر علاقائی، مذہبی اور سیاسی جذبات کااستحصال کرکے امن کو تباہ کرنے کاالزام عائد کیا۔ انہوں نے کہاکہ ’دونوں جماعتوں کے اقتدار میں آنے کے بعد یو ٹرن لینے سے عوام میں جمہوری اداروں سے پوری طرح اعتماد اٹھ چکا ہے۔انہوں نے کہا کہ گذشتہ 5برسوں کے دوران 15سرپنچ اور پنچ مارے گئے اور 2 درجن پنچائت لیڈران حملوں میں زخمی ہوئے۔ شفیق میر نے کہاکہ ان ہلاکتوں کی ذمہ داری حکومت پرہے اور بار بار گذارشات کے باوجودبھی سیکورٹی فراہم نہیں کی گئی۔ ہزاروں پنچائت ممبران کو اگرچہ سیکورٹی فراہم کرنا ناممکن ہے تاہم ریاستی اور مرکزی حکومتوں کو پنچائت چناو کو سیاسی رنگ دینے سے گریز کرنا چاہئے۔ یہ چناؤ غیر سیاسی جماعتوں کی بنیادوں پر منعقدہورہے ہیں اور حکومت کویہ واضح کرنا چاہئے کہ وہ ان چناؤ کے ذریعہ فنڈوں کی فراہمی کیلئے ایک طریقہ کار پورا کررہی ہے۔ گذشتہ پنچائتی چناؤ میں پنچوں اور سرپنچوں کی بڑی تعداد ہونے کے باوجودان کو اختیارات نہیں دئے گئے جس کے سبب ان کا پنچائتی نمائندہ بننابے کارہوگیا۔ اس بار پنچائتی ممبران کو بااختیار بنایاجاناچاہئے تاکہ وہ زمینی سطح پر کئے جانے والے وعدوں کو پوراکرسکیں۔
تجزیہ
کیا برکس سربراہ اجلاس ڈی ڈالرائزیشن کی سمت آگے بڑھے گا
جینت رائے چودھری
نئی دہلی، جیسے جیسے برکس سربراہ اجلاس قریب آ رہا ہے، دنیا بھر کے اسٹاک مارکیٹ کے کھلاڑیوں سے لے کر طاقتور مرکزی بینکوں کے سربراہوں تک سبھی کی نظریں ان ابھرتی ہوئی معیشتوں کے رہنماؤں کی میٹنگ میں سامنے آنے والے کسی بھی ایسے اقدام پر ہوں گی جن سے عالمی تجارت اور مالی لین دین میں امریکی ڈالر کی برتری کو خطرہ لاحق ہوتا دکھائی دیتا ہے۔
ڈی ڈالرائزیشن کا عمل اپنی سست رفتاری کے باوجود اس وقت توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے، جس کی بنیادی وجہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے وہ بیانات ہیں جن میں انہوں نے برکس ممالک کے گروہ کو نشانہ بناتے ہوئے یہ دھمکی دی تھی کہ اگر انہوں نے عالمی تجارت میں ڈالر کی برتری کو ختم کرنے کی کوشش کی تو ان پر 100 فیصد ٹیرف عائد کر دیا جائے گا۔ ماسکو، نئی دہلی یا بیجنگ کے رقم اور تجارتی منڈیوں کا انتظام سنبھالنے والے تمام متعلقہ وزراء اور حکام نے بارہا اس بات پر زور دیا ہے کہ برکس ممالک میں سے کوئی بھی ڈالر کے خلاف کسی قسم کی نظریاتی جنگ نہیں لڑ رہا ہے۔ تاہم، جغرافیائی اورسیاسی خطرات سے تجارت کو محفوظ رکھنے کے لیے ان کی پالیسیوں کا عملی اثر یقیناً اس مالیاتی ڈھانچے کو نقصان پہنچا رہا ہے جو دوسری جنگ عظیم کے بعد سے بین الاقوامی نظام کی بنیاد رہا ہے۔
اگرچہ رواں ہفتے کے آخر میں ہونے والے برکس سربراہ اجلاس میں ڈی ڈالرائزیشن پر واضح طور پر گفتگو نہ ہو، لیکن کانفرنس کے حاشیے پر ملک بہ ملک مذاکرات میں کرنسی کی منتقلی اور تجارتی نظام کے چھائے رہنے کا قوی امکان ہے۔ اصل رکن ممالک – ہندوستان، روس، چین، برازیل اور جنوبی افریقہ – کے رہنماؤں کی اپنے درمیان اور حال ہی میں برکس میں شامل ہونے والے متعدد دیگر ممالک جیسے ایران، سعودی عرب، مصر، انڈونیشیا، متحدہ عرب امارات اور ایتھوپیا کے رہنماؤں کے ساتھ کئی اہم دوطرفہ بات چیت کی توقع ہے۔
برکس کے اندرونی ارکان کے درمیان تجارتی حجم 2024 میں 1.17 کھرب امریکی ڈالر رہنے کا تخمینہ تھا اور اس میں 13 فیصد کے سالانہ اوسط سے اضافہ ہو رہا ہے۔ کل برآمدات کے لحاظ سے دنیا میں برکس کا حصہ 24 فیصد ہے۔ قومیت کی بنیاد پر قومی کرنسیوں میں ادائیگیوں کو طے کرنے کے لیے برکس ممالک کی مختلف کوششیں، جیسے ہندوستان اور روس کے درمیان روپیہ-روبل معاہدہ، یا چین کی جانب سے ڈالر کے بجائے یوآن میں خرید و فروخت کی کوششیں، اب تک بین الاقوامی تجارتی لین دین میں کسی بڑے ڈی ڈالرائزیشن کو تیز کرنے میں ناکام رہی ہیں۔ 2026 تک، عالمی سطح پر تجارت کی انوائسنگ اور تصفیے کا تقریباً 54 فیصد حصہ ڈالر میں ہی ہوتا ہے اور یہ صورتحال کئی سال سے برقرار ہے۔ درحقیقت یہ سال 2000 کے تقریباً 50 فیصد سے بڑھ کر یہاں تک پہنچا ہے۔
تاہم، تجارتی انوائسنگ اور تصفیے مستحکم رہنے کے باوجود غیر ملکی زر مبادلہ کے ذخائر میں ڈالر کے حصے میں تدریجی لیکن یقینی کمی واقع ہو رہی ہے۔ سال 2000 میں تمام ممالک کے کل غیر ملکی زر مبادلہ کے ذخائر کا تقریباً 71 فیصد حصہ ڈالر کی شکل میں تھا۔ 2026 تک یہ کم ہو کر تقریباً 57 فیصد پر آ گیا ہے، جو ایک صدی کے چوتھائی حصے میں 14 فیصد کی کمی ہے۔ ریزرو بینک آف انڈیا کی مانیٹری پالیسی بنانے والی ٹیم کے ایک رکن نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کہا، “یہ واضح طور پر اس بات کی علامت ہے کہ متعدد ممالک کے مرکزی بینکرز ڈالر کا بڑا ذخیرہ رکھنے میں جیو پولیٹیکل خطرات کا جائزہ لے رہے ہیں اور دیگر کرنسیوں یا محفوظ ترین راستے یعنی سونے کی خریداری کے ذریعے اس خطرے کو تقسیم کر رہے ہیں۔”
عدم اعتماد کا یہ سلسلہ اب خود امریکہ میں مرکزی بینکوں کے ذریعے سونے کا بلین رکھنے تک پھیل چکا ہے۔ ڈچ سینٹرل بینک نے اس سال مارچ اور اگست کے درمیان شمالی امریکہ سے لندن میں 10 ارب امریکی ڈالر سے زائد مالیت کا تقریباً 86 ٹن سونا منتقل کیا۔ اس سے قبل، جنوری 2026 میں فرانس نے امریکہ میں موجود اپنے 129 ٹن سونے کو فروخت کر دیا، جو کہ اس کے ذخائر کا تقریباً 5 فیصد تھا۔ اس فروخت سے ملنے والی رقم سے فرانس نے یورپ میں بلین خریدا اور اسے اپنے مرکزی بینک کے والٹس میں محفوظ کر لیا۔ یہ عمل صدارت کے پہلے دور میں اٹھائے گئے اس قدم کی عکاسی کرتا ہے جب جرمنی کے بنڈس بینک نے 300 ٹن سونا فرینکفرٹ میں واقع اپنے والٹس میں منتقل کر دیا تھا.
منگل کے روز کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف نے موجودہ صورتحال کا خلاصہ بتاتے ہوئے کہا کہ اگرچہ برکس کسی ڈی ڈالرائزیشن کی پالیسی کے حق میں نہیں ہے، لیکن اس کے رکن ممالک—جن میں سے کئی پابندیوں کی وجہ سے ڈالر میں لین دین نہیں کر سکتے—”صرف وہی کر رہے ہیں جو ہمارے قومی مفادات کے عین مطابق ہے”، انہوں نے مزید کہا کہ “امریکی اقدامات نے ہی ڈالر پر اعتماد کو مجروح کیا ہے”۔ پیسکوف نے اشارہ کیا کہ پابندیوں کی وجہ سے مغربی مالیاتی منڈیوں سے تیزی سے الگ تھلگ کیے جانے کے مسئلے پر روس کا جواب متبادل ادائیگی کے ذرائع تیار کرنا رہا ہے۔
ہندوستان کے نقطہ نظر سے، یہ مسئلہ خاص طور پر پیچیدہ ہے کیونکہ نئی دہلی ایک طرف روسی خام تیل کا دنیا کا سب سے بڑا خریدار بن چکا ہے تو دوسری طرف وہ مغربی منڈیوں، ٹیکنالوجی اور سرمائے تک اپنی رسائی کو برقرار رکھنا چاہتا ہے۔ یہیں سے برکس زیادہ اہم ہو جاتا ہے۔ اگرچہ اس گروپ کے پاس کوئی ایک مشترکہ کرنسی، مرکزی بینک یا یورو زون جیسا ادارہ جاتی اتحاد نہیں ہے، لیکن یہ اپنے ارکان کو قومی کرنسیوں میں تجارت طے کرنے اور قومی کرنسیوں میں طے شدہ کرنسی تبدیل کرنے کی اجازت دیتا ہے۔ یہ تدریجی تبدیلیاں قومی کرنسیوں کو دوطرفہ اور کچھ کثیر جہتی تجارتی تصفیوں میں زیادہ قابل استعمال بناتی ہیں، اور اس کے ساتھ ادائیگی کا نظام زیادہ متنوع ہو جاتا ہے۔ یہ حقیقت کہ یہ لین دین موجودہ مغربی کنٹرول والے مالیاتی تصفیے کے ڈھانچے کے دائرہ کار سے باہر ہوتا ہے، واشنگٹن کے لیے شدید تشویش کا باعث ہے۔
جینت رائے چودھری
یواین آئی ایف اے
تجزیہ
نیپال کا تباہ کن سیلاب: وجوہات اوراثرات
خصوصی مضمون: ظفراقبال
نیپال اپنی جغرافیائی ساخت کے اعتبار سے دنیا کے انتہائی حساس ممالک میں شمار ہوتا ہے، ایک طرف ہمالیہ کی بلند و بالا برف پوش چوٹیاں، گلیشیئرز اور برفانی جھیلیں ہیں تو دوسری طرف گہری اور تنگ وادیاں، تیز بہاؤ والے دریا اور پہاڑی ڈھلوانیں، یہی جغرافیہ نیپال کو قدرتی حسن عطا کرتا ہے، لیکن اسے سیلاب، لینڈ سلائیڈنگ، برفانی تودوں اور زلزلوں جیسے خطرات سے بھی دوچار رکھتا ہے، حالیہ برسوں میں موسمیاتی تبدیلی نے ان خطرات کی نوعیت کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔
26 اگست 2026 کو نیپال کے رسووا ضلع اور اس سے ملحقہ علاقوں میں آنے والے اچانک سیلاب نے اس حقیقت کو ایک مرتبہ پھر نمایاں کردیا۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق بھوٹے کوشی اور ترشولی دریائی نظام میں پانی کا ایک انتہائی تیز اور اچانک ریلا آیا، جس سے مکانات، سڑکیں، پل، بجلی کے منصوبے، بازار اور سرحدی تنصیبات متاثر ہوئیں۔ عالمی ادارہ صحت کے مطابق رسووا، نواکوٹ، دھادنگ، چتوان، گورکھا اور تنہون سمیت کئی اضلاع متاثر ہوئے اور تقریباً 10 ہزار گھرانوں کو فوری امداد کی ضرورت پیش آئی۔
اس واقعے کی سب سے اہم خصوصیت یہ تھی کہ یہ روایتی مون سون سیلاب جیسا نہیں تھا۔ ابتدائی تحقیقات میں کسی غیر معمولی شدید بارش کو بنیادی سبب نہیں پایا گیا، بلکہ برفانی تودے، برف اور چٹانوں کے ملبے سے دریا کے عارضی طور پر بند ہونے اور پھر اس بندش کے اچانک ٹوٹنے کو اہم ممکنہ سبب قرار دیا گیا۔
عام سیلاب میں پانی کی سطح بتدریج بلند ہوتی ہے اور لوگوں کو کسی حد تک محفوظ مقامات پر منتقل ہونے کا وقت مل جاتا ہے۔ اس کے برعکس اچانک سیلاب (Flash Flood) چند منٹ یا مختصر مدت میں انتہائی تیزی سے آتا ہے۔ پہاڑی علاقوں میں اس کی رفتار اور تباہ کن قوت کئی گنا زیادہ ہوتی ہے کیونکہ پانی بلندی سے ڈھلوان کی طرف تیزی سے بہتا ہے اور راستے میں مٹی، پتھر، درخت، برف اور دیگر ملبہ بھی اپنے ساتھ بہا لے جاتا ہے۔
نیپال کی جغرافیائی ساخت ایسے سیلاب کو مزید خطرناک بنا دیتی ہے۔ یہاں بلند پہاڑوں کے درمیان دریا انتہائی تنگ اور گہری وادیوں سے گزرتے ہیں۔ جب اچانک بڑی مقدار میں پانی ان وادیوں میں داخل ہوتا ہے تو وہ ایک قدرتی “سرنگ” کی طرح پانی کے بہاؤ کو مرتکز کرکے اس کی رفتار اور طاقت میں اضافہ کر دیتی ہیں۔
26 اگست کے واقعے کے بارے میں ابتدائی تحقیقات سے یہ بات سامنے آئی کہ ہمالیہ کے بلند علاقے میں برفانی تودہ یا برف و چٹان کا ملبہ دریائے لہینڈے کھولا میں گرا اور اس نے دریا کے بہاؤ کو عارضی طور پر روک دیا۔ اس رکاوٹ کے نتیجے میں پانی جمع ہوتا گیا۔ بعد ازاں جب عارضی بند ٹوٹا تو پانی، برف، چٹان اور مٹی کا ایک زبردست ریلا نیچے کی جانب بہہ نکلا۔
نیپال کے محکمہ آب و ہوا و آب پاشی سے متعلق حکام نے سیٹلائٹ تصاویر کی ابتدائی بنیاد پر بتایا کہ دریا سے تقریباً 20 کلومیٹر اوپر ملبے نے پانی کا راستہ روکا، جس سے ایک عارضی جھیل بن گئی اور پھر وہ اچانک ٹوٹ گئی۔ پانی میں بڑی مقدار میں ملبہ شامل ہونے کی وجہ سے سیلاب کی تباہ کن طاقت کہیں زیادہ ہوگئی۔ابتدائی مرحلے میں ایک زلزلے کو بھی ممکنہ محرک سمجھا گیا تھا، لیکن بعد کی امریکی جیولوجیکل سروے کی تحقیقات نے اس مفروضے کو تبدیل کردیا۔ اضافی سیسمک ڈیٹا اور سیٹلائٹ تصاویر کے تجزیے سے یہ نتیجہ نکلا کہ جس لرزش کو ابتدا میں زلزلہ سمجھا گیا تھا، وہ دراصل گلیشیئر کے انہدام اور ملبے کے بہاؤ سے پیدا ہوئی تھی۔اس واقعے کی یہ خصوصیت خاص طور پر اہم ہے، کیونکہ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ہر اچانک پہاڑی سیلاب لازماً شدید بارش یا زلزلے کا نتیجہ نہیں ہوتا۔ کبھی گلیشیئر کے ایک بڑے حصے کا ٹوٹنا بھی ایسا سلسلہ شروع کرسکتا ہے جس کا اختتام ایک تباہ کن سیلاب پر ہوتا ہے۔
نیپال کے حالیہ سیلاب کو صرف ایک مقامی قدرتی حادثہ سمجھنا درست نہیں ہوگا۔ ہمالیائی خطہ موسمیاتی تبدیلی کے باعث تیزی سے تبدیل ہو رہا ہے۔ بڑھتے ہوئے درجہ حرارت سے گلیشیئرز پگھل رہے ہیں، برفانی جھیلوں کا حجم بڑھ رہا ہے اور بلند پہاڑوں کی چٹانوں اور برف کے درمیان استحکام متاثر ہو رہا ہے۔درجہ حرارت میں اضافے سے برف اور گلیشیئر کے اندر پانی کی مقدار بڑھ سکتی ہے۔ یہ پانی دراڑوں کے ذریعے اندر پہنچ کر برف اور چٹان کے درمیان رگڑ کم کرسکتا ہے۔ نتیجتاً وہ برفانی یا چٹانی ڈھانچے جو طویل عرصے تک مستحکم رہے ہوں، اچانک حرکت کرسکتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق ہمالیہ کے گرم ہوتے ماحول میں گلیشیئرز کے عدم استحکام، برفانی تودوں، لینڈ سلائیڈنگ اور سیلاب کا باہمی تعلق مستقبل میں مزید اہم ہوسکتا ہے۔
اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہر سیلاب براہِ راست موسمیاتی تبدیلی کا نتیجہ ہے۔ کسی مخصوص واقعے کے لیے محرک برفانی تودہ، جھیل کا پھٹنا، شدید بارش یا دوسری جغرافیائی تبدیلی ہوسکتی ہے۔ تاہم موسمیاتی تبدیلی ان پہاڑی نظاموں کے بنیادی استحکام کو متاثر کرکے ایسے واقعات کے لیے سازگار حالات پیدا کرسکتی ہے۔
نیپال کی ایک بڑی کمزوری اس کی انتہائی پیچیدہ جغرافیائی ساخت ہے۔ ملک کے شمال میں بلند ہمالیہ، درمیان میں پہاڑی علاقے اور جنوب میں نسبتاً ہموار ترائی کا خطہ ہے۔ بہت سے دریا بلند پہاڑوں سے نکل کر انتہائی تنگ وادیوں سے گزرتے ہیں۔اس صورتحال میں اگر اوپر کہیں پانی کا اچانک ذخیرہ بن جائے اور پھر وہ ٹوٹ جائے تو نیچے آباد علاقوں تک پانی پہنچنے میں بہت کم وقت لگ سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ روایتی سیلابی انتباہی نظام ایسے واقعات میں ناکافی ثابت ہوسکتا ہے۔عام طور پر سیلاب کی نگرانی بارش اور دریا کی سطح کی بنیاد پر کی جاتی ہے۔ لیکن اگر آسمان صاف ہو، بارش نہ ہورہی ہو اور اچانک کسی گلیشیئر یا ملبے کی رکاوٹ ٹوٹ جائے تو بارش پر مبنی نظام خطرے کی پیشگی اطلاع نہیں دے پاتا۔ حالیہ نیپالی سیلاب نے اسی کمزوری کو نمایاں کیا ہے۔اچانک سیلاب کا سب سے نمایاں اثر بنیادی ڈھانچے پر پڑتا ہے۔ حالیہ واقعے میں سڑکیں، پل، گھر، بازار، سرحدی تنصیبات اور پن بجلی کے بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچا۔ کئی علاقوں میں مواصلاتی رابطے اور بجلی کی فراہمی بھی متاثر ہوئی۔
نیپال کے لیے پن بجلی خاص اہمیت رکھتی ہے۔ ملک کے پہاڑی دریا بجلی پیدا کرنے کے لیے استعمال ہوتے ہیں اور متعدد منصوبے دریاؤں کے قریب تعمیر کیے گئے ہیں۔ لیکن یہی منصوبے اچانک آنے والے برفانی سیلاب، ملبے اور چٹانوں کے بہاؤ کی زد میں آسکتے ہیں۔ 2025 میں بھی اسی دریائی نظام میں گلیشیائی جھیل کے پھٹنے سے آنے والے سیلاب نے متعدد پن بجلی منصوبوں کو متاثر کیا تھا۔
قدرتی آفت کا سب سے بڑا نقصان انسانی جانوں کا ضیاع ہے۔ اچانک آنے والے سیلاب میں لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل ہونے کے لیے بہت کم وقت ملتا ہے۔ پانی کے ساتھ آنے والا ملبہ مکانات کو تباہ کرتا، گاڑیوں کو بہا لے جاتا اور سڑکوں کو ناقابل استعمال بنا دیتا ہے۔سیلاب کے بعد خطرات ختم نہیں ہوتے۔ صاف پانی کی فراہمی متاثر ہونے سے ہیضہ، اسہال اور دیگر آبی بیماریوں کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔ تباہ شدہ صحت مراکز کے باعث زخمیوں اور بیماروں کو علاج کی سہولت ملنا مشکل ہوجاتا ہے۔ عالمی ادارہ صحت نے حالیہ سیلاب کے بعد غیر محفوظ پانی و خوراک، متعدی بیماریوں، مچھروں سے پھیلنے والی بیماریوں اور ذہنی دباؤ جیسے خطرات کی نشاندہی کی ہے۔
نیپال کی معیشت میں سیاحت، تجارت، زراعت، پن بجلی اور سرحدی تجارت اہم شعبے ہیں۔ جب سڑکیں اور پل تباہ ہوتے ہیں تو نہ صرف مقامی آبادی متاثر ہوتی ہے بلکہ اشیا کی ترسیل اور تجارتی سرگرمیاں بھی رک جاتی ہیں۔سرحدی راستوں کی بندش کا اثر دونوں جانب پڑتا ہے۔ سیاح، زائرین، تاجر اور مقامی مزدور راستوں کے بند ہونے سے پھنس سکتے ہیں۔ پن بجلی منصوبوں کو نقصان پہنچنے سے بجلی کی پیداوار اور قومی آمدنی متاثر ہوسکتی ہے۔ یوں ایک مختصر دورانیے کا سیلاب طویل مدت تک اقتصادی سرگرمیوں کو متاثر کرسکتا ہے۔
نیپال میں آنے والے اچانک سیلاب کے اثرات صرف نیپال تک محدود نہیں رہتے۔ نیپال سے نکلنے والے کئی دریا ہندوستان میں داخل ہوتے ہیں اور گنگا کے وسیع دریائی نظام کا حصہ بنتے ہیں۔ بھوٹے کوشی، ترشولی اور ناراینی سمیت دریائی نظاموں میں اچانک بڑے پیمانے پر پانی اور ملبے کا اخراج ہندوستان کے بہار، اتر پردیش اور دیگر نشیبی علاقوں میں سیلاب کا خطرہ بڑھا سکتا ہے۔ حالیہ واقعے کے بعد ہندوستان کے بعض نشیبی علاقوں میں بھی سیلابی انتباہ جاری کیے گئے۔یہ صورتحال ہندوستان اور نیپال کے درمیان سرحد پار آبی تعاون کی اہمیت کو اجاگر کرتی ہے۔ سیلاب، گلیشیئر اور دریائی پانی سیاسی سرحدوں کا احترام نہیں کرتے، اس لیے دونوں ممالک کے درمیان حقیقی وقت میں موسمیاتی، سیٹلائٹ اور دریائی معلومات کا تبادلہ ناگزیر ہے۔
سب سے اہم ضرورت جدید ابتدائی انتباہی نظام کی ہے۔ صرف بارش اور دریا کی سطح کی نگرانی کافی نہیں۔ گلیشیئرز، برفانی جھیلوں، پہاڑی ڈھلوانوں اور ممکنہ برفانی تودوں کی بھی مسلسل نگرانی ضروری ہے۔مصنوعی سیاروں، ڈرونز، سیسمک آلات، ریموٹ سینسنگ اور خودکار پانی ماپنے والے آلات کو ایک مربوط نظام میں شامل کیا جانا چاہیے۔ ایسے مقامات کی نشاندہی کی جانی چاہیے جہاں برفانی جھیل کے پھٹنے یا گلیشیائی انہدام کا امکان زیادہ ہے۔دوسری طرف ہمالیائی علاقوں میں تعمیرات کی منصوبہ بندی بھی نئے سرے سے کرنا ہوگی۔
دریاؤں کے قدرتی راستوں، سیلابی میدانوں اور انتہائی خطرناک وادیوں میں بے ہنگم تعمیرات مستقبل کی تباہ کاریوں کو کئی گنا بڑھا سکتی ہیں۔ سیلابی خطرے کے نقشے تیار کرکے نئی آبادیوں اور بنیادی ڈھانچے کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنا ضروری ہے۔
نیپال کا حالیہ اچانک سیلاب اس بات کا واضح انتباہ ہے کہ ہمالیائی خطے میں قدرتی آفات کی نوعیت تبدیل ہورہی ہے۔ یہ محض مون سون کی بارش سے پیدا ہونے والا روایتی سیلاب نہیں تھا بلکہ برفانی انہدام، ملبے کے بہاؤ، عارضی دریائی بندش اور اچانک پانی کے اخراج جیسے عوامل نے اسے انتہائی تباہ کن بنا دیا۔اس سانحے کا سب سے بڑا سبق یہ ہے کہ آنے والے برسوں میں ہمالیہ کو صرف سیلاب کے نہیں بلکہ “اچانک اور غیر متوقع” سیلابوں کے خطرے کے لیے تیار ہونا ہوگا۔ موسمیاتی تبدیلی، گلیشیئرز کا عدم استحکام اور پہاڑی علاقوں میں بڑھتی انسانی سرگرمیاں ایک دوسرے سے جڑ کر نئے خطرات پیدا کررہی ہیں۔
نیپال کے لیے ضروری ہے کہ وہ جدید سائنسی نگرانی، مؤثر ابتدائی انتباہ، محفوظ تعمیرات اور مقامی آبادی کی تربیت پر سرمایہ کاری کرے۔ ہندوستان، چین اور نیپال کو بھی مشترکہ ہمالیائی خطرات کے لیے باقاعدہ معلوماتی اور امدادی نظام قائم کرنا چاہیے۔ اگر پیشگی انتباہ، سائنسی تحقیق اور علاقائی تعاون کو ترجیح دی جائے تو قدرتی آفات کو مکمل طور پر روکنا ممکن نہ ہونے کے باوجود ان سے ہونے والی انسانی اور معاشی تباہی کو بڑی حد تک کم کیا جاسکتا ہے۔
(یواین آئی)
تازہ ترین
یوم آزادی اور مسلمان
یوم آزادی ہر قوم کی تاریخ میں ایک اہم سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔ یہ وہ دن ہوتا ہے جب ایک قوم غلامی کی زنجیروں کو توڑ کر آزادی کی نعمت حاصل کرتی ہے۔ ہندوستان کے لیے ۱۵ اگست کا دن اسی اہمیت کا حامل ہے۔ یہ دن ہمیں اپنے اسلاف کی قربانیوں کی یاد دلاتا ہے اور ساتھ ہی یہ احساس بھی دلاتا ہے کہ آزادی کے بعد ہماری ذمہ داریاں کیا ہیں، خصوصاً مسلمانوں کی حیثیت سے ہم پر کیا فرائض عائد ہوتے ہیں۔
مسلمانان ہند نے آزادی کی جدوجہد میں نمایاں کردار ادا کیا اور بے شمار قربانیاں پیش کیں۔ لیکن آزادی کے بعد اصل امتحان شروع ہوتا ہے، کیونکہ آزادی کے ساتھ ذمہ داریاں بھی وابستہ ہوتی ہیں۔ قرآنِ مجید میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے: “إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالإِحْسَانِ” (سورۃ النحل: ۹۰) یعنی اللہ تمہیں عدل اور احسان کا حکم دیتا ہے۔ یہ آیت ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ ایک مسلمان کی بنیادی ذمہ داری انصاف اور بھلائی کو فروغ دینا ہے، خواہ وہ کسی بھی معاشرے میں رہتا ہو۔
ایک مسلمان کی حیثیت سے سب سے پہلی ذمہ داری یہ ہے کہ وہ اپنے ملک کے آئین اور قوانین کی پاسداری کرے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: “المسلمون على شروطهم” (سنن ابی داؤد) یعنی مسلمان اپنے معاہدوں کی پابندی کرتے ہیں۔ اس حدیث کی روشنی میں یہ بات واضح ہوتی ہے کہ جس ملک میں ہم رہتے ہیں، اس کے قوانین اور اصولوں کا احترام کرنا ہماری دینی ذمہ داری ہے۔
یوم آزادی ہمیں اتحاد اور یکجہتی کا پیغام دیتا ہے۔ قرآن میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: “وَاعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللَّهِ جَمِيعًا وَلَا تَفَرَّقُوا” (سورۃ آل عمران: ۱۰۳) یعنی سب مل کر اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لو اور تفرقہ میں نہ پڑو۔ مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ نہ صرف آپس میں اتحاد برقرار رکھیں بلکہ دیگر برادریوں کے ساتھ بھی بھائی چارہ اور ہم آہنگی کو فروغ دیں۔
اسلام امن، محبت اور رواداری کا مذہب ہے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: “المسلم من سلم المسلمون من لسانه ويده” (صحیح بخاری) یعنی مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرے لوگ محفوظ رہیں۔ اس حدیث کی روشنی میں ہمیں یہ سمجھ آتا ہے کہ ایک اچھا مسلمان وہی ہے جو معاشرے میں امن اور سکون کا ذریعہ بنے۔
تعلیم کی اہمیت پر بھی قرآن و حدیث میں بہت زور دیا گیا ہے۔ قرآن کی پہلی وحی ہی “اقْرَأْ” (پڑھو) کے حکم سے شروع ہوتی ہے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: “طلب العلم فريضة على كل مسلم” (سنن ابن ماجہ) یعنی علم حاصل کرنا ہر مسلمان پر فرض ہے۔ اس لیے مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ دینی اور عصری تعلیم دونوں پر توجہ دیں تاکہ وہ اپنے فرائض کو بہتر انداز میں ادا کر سکیں اور ملک کی ترقی میں حصہ لے سکیں۔
سماجی ذمہ داریوں کے حوالے سے قرآن میں ارشاد ہوتا ہے: “وَتَعَاوَنُوا عَلَى الْبِرِّ وَالتَّقْوَى” (سورۃ المائدہ: ۲) یعنی نیکی اور تقویٰ کے کاموں میں ایک دوسرے کی مدد کرو۔ اس آیت کی روشنی میں مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ اپنے معاشرے کی اصلاح کے لیے کام کریں، غریبوں اور محتاجوں کی مدد کریں، اور انصاف کے قیام کے لیے جدوجہد کریں۔
سیاسی شعور بھی ایک اہم ذمہ داری ہے۔ اسلام ہمیں مشورے اور اجتماعی فیصلوں کی تعلیم دیتا ہے۔ قرآن میں ارشاد ہے: “وَأَمْرُهُمْ شُورَىٰ بَيْنَهُمْ” (سورۃ الشوریٰ: ۳۸) یعنی ان کے معاملات آپس کے مشورے سے طے ہوتے ہیں۔ اس اصول کی روشنی میں مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ جمہوری عمل میں حصہ لیں، اپنے ووٹ کا صحیح استعمال کریں اور ایسے نمائندوں کا انتخاب کریں جو انصاف اور دیانت کے ساتھ کام کریں۔
یوم آزادی کا تقاضا ہے کہ ہم اپنے ماضی کی قربانیوں کو یاد رکھتے ہوئے حال میں اپنی ذمہ داریوں کو سمجھیں اور مستقبل کے لیے بہتر منصوبہ بندی کریں۔ مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ اپنے دین کی تعلیمات پر عمل کرتے ہوئے ایک مثالی شہری بنیں، ملک کی ترقی میں حصہ لیں اور امن و امان کے قیام میں اپنا کردار ادا کریں۔
آزادی ایک عظیم نعمت ہے، اور اس کی حفاظت ہم سب کی ذمہ داری ہے۔ اگر مسلمان قرآن و سنت کی تعلیمات پر عمل کرتے ہوئے اپنی قومی اور سماجی ذمہ داریوں کو ادا کریں، تو نہ صرف وہ خود ترقی کریں گے بلکہ پورے ملک کی خوشحالی اور استحکام میں بھی اہم کردار ادا کریں گے۔ یہی یوم آزادی کا حقیقی پیغام ہے اور یہی ہماری کامیابی کا راستہ ہے۔
محمد حفیظ الدین
سکریٹری،گنجریا اتحادویلفیئر سوسائٹی
hafiznoori1987@gmail.com
-
جموں و کشمیر1 week agoسری نگر پولیس نے بین ریاستی منشیات نیٹ ورک کا پردہ فاش کیا، آٹھ افراد گرفتار
-
دنیا1 week agoقطری ثالثی کی امریکہ، ایران کے درمیان مذاکرات میں معمولی پیش رفت
-
دنیا7 days agoروس پر براہِ راست حملے کی صورت میں ہر قسم کے ہتھیار استعمال کرنےکا معاملہ ایجنڈے پر ہو گا :پوتن
-
ہندوستان7 days agoوندے بھارت نے چِناب پل اور کیبل اسٹڈ انجی پل کو 100 کلومیٹر کی رفتار سے عبور کیا
-
دنیا1 week agoہیگستھ امریکی جنرل اور ایڈمرل کے عہدوں میں 20 فیصد کمی کریں گے
-
جموں و کشمیر6 days agoگاندھی کے عدم تشدد اور سودیشی کے نظریات آج بھی اہم ہیں: جموں کے ڈویژنل کمشنر
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر میراتھن اتحاد اور نوجوانوں کے متبادل خواہشات کا پیغام دیتی ہے: ایل جی سنہا
-
ہندوستان1 week agoگیانیش کمار استعفیٰ دیں، ہٹائے گئے ووٹروں کی فہرست عام کی جائے: کھرگے
-
دنیا6 days agoخمیس مشیط کی جانب داغے گئے تین حوثی بیلسٹک میزائل تباہ
-
ہندوستان1 week agoڈیفنس اکاؤنٹس ڈیپارٹمنٹ کے 279ویں سالانہ دن پر کئی نئی پہل کی شروعات کریں گے راج ناتھ
-
ہندوستان1 week agoشیئر بازاروں میں گراوٹ جاری، سینسیکس 49 پوائنٹس پھسلا
-
ہندوستان7 days agoکھرگے- راہل نے گاندھی اور شاستری کو یومِ پیدائش پر خراجِ عقیدت پیش کیا