تجزیہ
پنچائت چناؤ غیرسیاسی ہوں
عاصم محی الدین
سرمائی دارالحکومت میں گذشتہ مہینے ریاستی وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی نے گورنر این این وہرا سے بند کمرے میں ملاقات کی۔ انہوں نے میٹنگ میں ریاست کے حالات پر تبادلہ خیال کیا تاہم پنچایتی چناؤ منعقد کرانے کا ایجنڈا سرفہرست تھا۔ سیکریٹریٹ واپس آنے کے بعد وزیراعلیٰ نے اعلان کیا کہ ریاست میں 15فروری سے پنچائتی چناؤ منعقد ہونگے۔ چناؤ کی تاریخ کا اعلان کے بعد حکومت نے انتخابات منعقد کرانے کیلئے اہلکاروں اور مشینری کو متحرک کردیا جو کہ طویل اور پیچیدہ عمل ہے۔ ریاست میں آخری پنچائتی چناؤ 2011میں منعقد ہوئے حالانکہ نامساعدحالات اور علیحدگی پسندوں کے بائیکاٹ کال کے باوجود بھی لوگوں نے انتخابات میں بڑھ چڑھ کرحصہ لیا۔ ووٹ ڈالنے والے دیہاتی یہ تسلیم کرتے ہیں کہ کشمیر ایک سیاسی مسئلہ ہے اوراس کومذاکرات کے ذریعہ ہی حل کیاجاسکتا ہے تاہم ان کا اسرار ہے کہ ووٹ ڈالنے کی وجوہات روز مرہ کے مسائل جیسے پانی،بجلی اور سڑک ہے۔ پنچائت کی مدت 2016میں ختم ہوگئی اور حکومت نئے چناؤ کرانے کی منصوبہ بندی کررہی تھی لیکن وادی میں حزب کمانڈر برہانی وانی کی موت کے بعد حالات قابو سے باہر ہوگئے جس کے دوران 95افراد مارے گئے ، ہزاروں زخمی ہوئے اور سنگین حالات کے پیش نظر حکومت نے انتخابات کو ملتوی کیا۔ 2017میں سرینگر لوک سبھا سیٹ کے انتخاب کے دوران حالات پھر خراب ہوئے اور عوام پولنگ سٹیشنوں سے دور رہے جس کے باعث پنچائتی چناؤ پھر نہیں ہوسکے۔ پُرتشدد واقعات کی وجہ سے حکومت نے الیکشن کمیشن آف انڈیا اور مرکزی وزارت داخلہ سے صلح و مشورہ کے بعد اننت ناگ لوک سبھا سیٹ کیلئے چناؤ کرانا منسوخ کیا ۔ یہ سیٹ محبوبہ مفتی کے وزیر اعلیٰ بننے کے بعد خالی ہوگئی ہے۔ ایسا محسوس ہورہا ہے کہ وادی میں موجودہ سنگین حالات،جس میں جنگجو مخالف کاروائیاں اور معرکہ آرائیاںآئے روز ہورہی ہیں،حکومت پنچائت چناؤ کرانے کا فیصلہ کرچکی ہے حالانکہ متعدد سیاسی جماعتیں اس کی مخالفت کررہی ہیں۔ ریاست کی بڑی سیاسی جماعتوں این سی،کانگریس، برسراقتدار بی جے پی، پی ڈی پی اور پی سی نے پہلے ہی کارکنوں کو چناؤ میں حصہ لینے کیلئے تیار کرنے کو کہا ہے۔ حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ چناؤ کو مرحلہ وار بنیادوں پر انجام دیا جائیگا۔ چناؤ پہلے ان جگہوں میں منعقد ہونگے جہاں صورتحال پرامن ہے خاص کر جموں اور شمالی کشمیر کے علاقوں میں۔ سرکاری اہلکاروں کاکہنا ہے کہ صورتحال کا جائزہ لینے کے بعد جنوبی کشمیر میں چناؤ ہونگے حالانکہ وہاں ابھی بھی حالات پُرتناؤ ہیں۔ علیحدگی پسندوں اورجنگجوؤں نے لوگوں کو چناؤ سے دور رہنے کیلئے خبردار کیا ہے،حزب المجاہدین نے ووٹ ڈالنے والوں کیخلاف تیزاب استعمال کرنے کی دھمکی دی ہے۔ حزب المجاہدین آپریشنل کمانڈر ریاض نائیکو اپنے کمانڈر سمیر ٹائیگر کو ایک آڈیوبیان میں کہتا ہے کہ جو لوگ چناؤ میں حصہ لینگے، ان کی آنکھوں میں تیزاب ڈالاجائے۔ ریاض نائیکو کے بیان میں سنا جاسکتا ہے کہ 2016میں چھروں سے کئی نوجوانوں کی آنکھوں کی روشنی چلی گئی اور کئی نوجوانوں نے اپنی زندگیاں کھودیں اور جو چناؤ لڑینگے ، ان کابھی ایسا ہی حال کیاجائیگا۔ صوتی کلپ میں نائیکو دوسرے کمانڈر سے کہتا ہے کہ اس بار چناؤ میں حصہ لینے والوں کونہ مارا جائیگا اور نہ ہی ان کی مارپیٹ کی جائے گی بلکہ ’ہم ان کے گھروں میں جاکر ان کی آنکھوں میں تیزاب ڈالینگے تاکہ وہ عمر بھرکیلئے اپنے کنبوں پر بوجھ بنے رہیں‘۔نائیکو کاکہنا ہے کہ لوگ پنچائتی چناؤ کے اثرات کے بے خبر ہیں اور انہیں سیاسی ایجنٹ اپنے مفادات کیلئے استعمال کرتے ہیں۔ علیحدگی پسند لیڈر سید علی گیلانی نے بھی لوگوں سے پنچائتی چناؤ سے دور رہنے کو کہا ہے۔ چناؤ میں حصہ لینے والوں کی آنکھوں میں حزب کے تیزاب ڈالنے پر نیشنل کانفرنس کے کارگذار صدر اور سابق وزیراعلیٰ عمر عبداللہ نے ٹویٹ کرکے جنگجوؤں کی نکتہ چینی کی ہے۔ ’یہ پیلٹ نہیں ایسڈ ہے، کسی نہ کسی طریقے سے لوگوں کو اندھا بنانے کی دھمکیاں دی جارہی ہیں‘۔سرکاری اہلکاروں کاکہناہے کہ ریاست میں 4500پنچائتوں کا چناؤ ہوگا اور یہ تعداد 2011میں کئے گئے چناؤ سے زیادہ ہے جو ایک سال بعد منعقد ہوئے، جس کے دوران جنوبی کشمیر میں 3نوجوانوں کی ماورائے عدالت ہلاکت ہونے کے بعد حالات خراب ہوئے ۔ وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی نے پنچائت چناؤ کرانے کے اعلان کے بعد جموں میں ایک تقریب میں کہاکہ پنچائت چناؤ کے بعد حکومت ریاست میں میونسپل چناؤ کرانے کا سوچ رہی ہے۔ پنچائتی چناؤ منعقد کرانے کے حکومتی فیصلہ کے تناظر میں سراغرساں ایجنسیوں نے حکومت کو خبردار کیا ہے کہ ریاست اور خاص کر وادی میں انتخاب کرانے سے حالات خراب ہونگے ۔200سے زائد مقامی اور غیر ملکی جنگجوؤں کی موجودگی سے چناؤ کو خطرہ ہے اور خاص کر شمالی کشمیر میں جہاں برہانی وانی کے مارے جانے کے بعد متعدد مقامی نوجوانوں نے بندوق اٹھاکر جنگجوؤں کی صفوں میں شمولیت اختیار کی ہے تاہم حکومت چناؤ کرانے کیلئے کمربستہ دکھائی دے رہی ہے۔ چند ہفتہ قبل جموں میں وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی کی سربراہی میں یونیفائڈ ہائی کمانڈ کی میٹنگ منعقد ہوئی جس میں فوج کے اعلیٰ افسران اور سیکورٹی ایجنسیوں کے سربراہوں نے شرکت کی اور ریاستی کی مجموعی صورتحال پر غوروخوض ہوا۔ ذرائع کاکہنا ہے کہ میٹنگ میں پنچائت انتخابات کیلئے سیکورٹی سرفہرست رہی اور چناؤ کیلئے حفاظتی انتظامات کے بارے میں اعلیٰ افسران سے رپورٹ حاصل کیں۔ چناؤ منعقدکرانے سے قبل سرکار کی ذمہ داری لوگوں کی حفاظت ہے جبکہ ماضی میں منعقدہوئے انتخابات کے دوران تشدد میں اضافہ ہوا ۔سیاسی تجزیہ کاروں کاماننا ہے کہ حالات قابو سے باہر ہونگے جس طرح سرینگر پارلیمنٹ سیٹ کے ضمنی چناؤ کے دوران گذشتہ برس ہوئے اور ووٹ ڈالنے کے دن کئی شہری جان گنوابیٹھے۔ متعدد ایجنسیوں کی طرف سے فیڈبیک ملنے کے باوجود الیکشن کمیشن نے چناؤ منعقد کرائے اور کئی شہری مارے گئے ۔اس بار حکومت کو چاہئے کہ وہ سنجیدگی سے سیکورٹی حالات کا مشاہدہ کریں اور جہاں الیکشن منعقد کرانے کیلئے حالات موزوں نہیں ہیں وہاں صورتحال کو مد نظر رکھنے کے بعد ہی چناؤ کو ہری جھنڈی دکھائے ۔انتخابی عمل کیلئے حکومت اپنی آنکھیں بند نہیں کرسکتی۔ جنگجو قیادت کو یہ احساس کرنا چاہئے کہ پنچائت چناؤ میں حصہ لینے والے لوگ عام شہری ہیں اور انہیں مارنے سے ان کا کوئی مقصد پورانہیں ہوگا اور نہ وہ حکومت پر دباؤ بناسکتے ہیں۔ لوگ پنچائتی چناؤ میں اپنے روزمرہ مسائل حل کرنے اور بنیادی ضروریات کوکم کرنے کیلئے حصہ لیتے ہیں تاکہ سیاستدانوں پر انحصار کم ہو۔ اگر حکومت پنچائت چناؤ کو کامیابی اور عوامی شرکت کویقینی بناناچاہتی ہے اس کیلئے سیکورٹی اورسیاسی تجزیہ نگاروں کا ریاست اور مرکز کو مشورہ ہے کہ وہ پنچائت انتخابات کو سیاست کی نظر نہ کریں اورآخرکار عوام کو ہی اس کا خمیازہ بھگتناپڑتا ہے۔ چناؤ میں لوگوں کی بھاری شرکت کو بعض اوقات ریاست اور مرکزی حکومت ڈھول پیٹنے میں استعمال کرتی ہے اور علیحدگی پسندوں کی اہمیت کم کرنے کیلئے بھاری عوامی شرکت کو مختلف وجوہات دیتی ہے۔ 25ہزار پنچوں اور سرپنچوں کی تنظیم جموں وکشمیر پنچائت کانفرنس نے حکومت سے کہا ہے کہ وہ ان چناؤ کوسیاست کیلئے استعمال نہ کریں اور کہا کہ وہ مناسب سیکورٹی کی فراہمی کے بعد ہی چناؤ میں حصہ لینگے۔ پنچائت کانفرنس کے چیئرمین شفیق میر نے کہاکہ ’ہم پنچائتی چناؤ میں حصہ لینے کیلے تیار ہیں لیکن ریاستی حکومت کو پرامن ماحول کو یقینی بنانا ہوگا‘۔ متعدد بار پنچائت ممبران خصوصی طور پر سرپنچوں کو سیکورٹی فراہم نہ کرنے سے وہ لنگڑے بن جاتے ہیں۔ شفیق میر نے بی جے پی اور پی ڈی پی مخلوط حکومت پر علاقائی، مذہبی اور سیاسی جذبات کااستحصال کرکے امن کو تباہ کرنے کاالزام عائد کیا۔ انہوں نے کہاکہ ’دونوں جماعتوں کے اقتدار میں آنے کے بعد یو ٹرن لینے سے عوام میں جمہوری اداروں سے پوری طرح اعتماد اٹھ چکا ہے۔انہوں نے کہا کہ گذشتہ 5برسوں کے دوران 15سرپنچ اور پنچ مارے گئے اور 2 درجن پنچائت لیڈران حملوں میں زخمی ہوئے۔ شفیق میر نے کہاکہ ان ہلاکتوں کی ذمہ داری حکومت پرہے اور بار بار گذارشات کے باوجودبھی سیکورٹی فراہم نہیں کی گئی۔ ہزاروں پنچائت ممبران کو اگرچہ سیکورٹی فراہم کرنا ناممکن ہے تاہم ریاستی اور مرکزی حکومتوں کو پنچائت چناو کو سیاسی رنگ دینے سے گریز کرنا چاہئے۔ یہ چناؤ غیر سیاسی جماعتوں کی بنیادوں پر منعقدہورہے ہیں اور حکومت کویہ واضح کرنا چاہئے کہ وہ ان چناؤ کے ذریعہ فنڈوں کی فراہمی کیلئے ایک طریقہ کار پورا کررہی ہے۔ گذشتہ پنچائتی چناؤ میں پنچوں اور سرپنچوں کی بڑی تعداد ہونے کے باوجودان کو اختیارات نہیں دئے گئے جس کے سبب ان کا پنچائتی نمائندہ بننابے کارہوگیا۔ اس بار پنچائتی ممبران کو بااختیار بنایاجاناچاہئے تاکہ وہ زمینی سطح پر کئے جانے والے وعدوں کو پوراکرسکیں۔
تجزیہ
کاکروچ جنتا پارٹی کا احتجاج، بڑھتی ہوئی جی ڈی پی اور روزگار کے مواقع میں کمی
از: جینت رائے چودھری
نئی دہلی، دوپہر ڈھل چکی ہے، دہلی کی دھندلی دھوپ میں ہزاروں نوجوان لڑکے اور لڑکیاں جمع ہیں، وہ ایک ایسے احتجاج میں شریک ہیں، جو کئی دنوں سے جاری ہے، لیکن جمعہ کو کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) کی جانب سے وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کے مطالبے پر ملک گیر تحریک کے اعلان کے بعد اس میں نئی جان آ گئی ہے،جن پتھ پر واقع عالیشان امپیریل ہوٹل سے جے پور کے سوائی مان سنگھ کی تعمیر کردہ اٹھارویں صدی کے اوائل کی رصد گاہ جنتر منتر کی جانب جانے والی تنگ سڑک کو پولیس نے بیریکیڈ لگا کر بند کر دیا ہے۔
فسادات پر قابو پانے والی پولیس کی تین قطاریں تعینات ہیں، لیکن اس کے باوجود دہلی اور اس کے آس پاس کی یونیورسٹیوں کے طلبہ بلکہ گوہاٹی سے پونے تک مختلف شہروں سے آئے نوجوان، پولیس کی ناکہ بندی سے بچتے ہوئے احتجاج میں شامل ہو رہے ہیں۔ اس احتجاج نے اب عالمی توجہ حاصل کر لی ہے۔
غازی آباد کے 21 سالہ انجینئرنگ کے طالب علم کوستوو دت نے کہا، “میں اس لیے آیا ہوں کیوں کہ پیر کے روز طلبہ کو بلاوجہ بری طرح پیٹا گیا۔ ہمارا تعلیمی نظام ٹوٹ چکا ہے۔ طلبہ صرف امتحانات میں شفافیت کا مطالبہ کر رہے تھے، پھر ان کے ساتھ مجرموں جیسا سلوک کیوں کیا گیا؟”
چند ہفتے قبل سی جے پی نے مئی میں منعقد ہونے والے نیشنل ایلیجبلٹی کم انٹرنس ٹیسٹ (نیٹ) میں مبینہ پرچہ لیک ہونے اور دیگر بے ضابطگیوں کے خلاف احتجاج شروع کیا تھا۔ پیر کو پولیس کی کارروائی، جس میں متعدد طلبہ کو دوڑا کر مارا گیا اور درجنوں زخمی ہوئے، جن میں کئی کی آنکھوں اور سر پر چوٹیں آئیں، کے بعد یہ احتجاج مزید شدت اختیار کر گیا۔
لیکن ہندوستان کے نوجوانوں کے لیے ناقص امتحانی نظام اور پولیس سے تصادم دراصل برسوں سے بڑھتی ہوئی بے چینی کا آخری سبب ثابت ہوا۔ 1990 کی دہائی سے ملک کی نوجوان آبادی، تعلیم کی شرح اور مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) میں مسلسل اضافہ ہوا، مگر روزگار کے مواقع اسی رفتار سے پیدا نہیں ہو سکے، جس کے نتیجے میں نوجوانوں میں شدید مایوسی جنم لیتی رہی۔
ہندوستان میں 15 سے 29 برس کی عمر کے تقریباً 36 کروڑ 70 لاکھ نوجوان ہیں، جو دنیا کی سب سے بڑی نوجوان آبادیوں میں شمار ہوتے ہیں۔ ایک وقت میں اسے ملک کا “یوتھ ڈیوڈنڈ” قرار دیا جاتا تھا، لیکن اس صلاحیت کو معاشی ترقی میں تبدیل کرنا اتنا آسان ثابت نہیں ہوا۔
اگرچہ ہندوستان کی جی ڈی پی کئی برسوں تک سات فی صد سے زیادہ کی رفتار سے بڑھتی رہی، لیکن سینٹر فار مانیٹرنگ انڈین اکانومی کے تازہ اعداد و شمار کے مطابق رواں سال جون میں بے روزگاری کی شرح تقریباً 6.64 فی صد رہی۔
اعلیٰ تعلیم یافتہ نوجوانوں میں یہ شرح اس سے بھی زیادہ ہے۔ عظیم پریم جی یونیورسٹی کی رواں سال جاری کردہ رپورٹ کے مطابق 25 سے 29 برس کی عمر کے گریجویٹس میں بے روزگاری کی شرح تقریباً 20 فیصد ہے۔
جواہر لعل نہرو یونیورسٹی کے سابق پروفیسر معاشیات ڈاکٹر بسواجیت دھر نے یو این آئی سے کہا، “یہ احتجاج اس بات کی علامت ہے کہ ہم اپنی نوجوان آبادی کو وہ معاشی مواقع فراہم کرنے میں ناکام رہے ہیں جن کا وعدہ ایک زیادہ تعلیم یافتہ نسل سے کیا گیا تھا۔”
‘اسٹیٹ آف ورکنگ انڈیا 2026’ رپورٹ کے مطابق 05-2004سے 2023 تک ہر سال تقریباً 50 لاکھ نئے گریجویٹس سامنے آئے، لیکن ان میں سے صرف 28 لاکھ کو روزگار مل سکا۔ ان میں بھی مستقل تنخواہ والی ملازمت حاصل کرنے والوں کی تعداد بہت کم رہی، جس کے نتیجے میں گریجویٹ بے روزگاری میں اضافہ اور آمدنی کی رفتار میں کمی دیکھی گئی۔
کانپور سے تعلق رکھنے والی پوسٹ گریجویٹ طالبہ پریتی مشرا، جو جنوبی مشرقی دہلی میں ایک پیئنگ گیسٹ رہائش گاہ میں رہتی ہیں اور مختلف سرکاری و یونیورسٹی ملازمتوں کے امتحانات دے رہی ہیں، کہتی ہیں، “جہاں ملازمتیں موجود بھی ہیں وہاں ابتدائی تنخواہ اتنی کم ہے کہ والدین کو ہماری مالی مدد جاری رکھنی پڑتی ہے۔”
ہیومن ریسورس کمپنیوں کے مطابق ملک کے کئی حصوں میں انجینئروں کی ابتدائی تنخواہ آج بھی تقریباً 30 ہزار روپے ماہانہ ہے، اور گزشتہ آٹھ سے دس برس میں اس میں کوئی خاص اضافہ نہیں ہوا۔ پریتی مشرا کہتی ہیں، “معیاری ملازمتیں بہت کم ہیں، اسی لیے مسابقتی امتحانات کی دوڑ لگی ہوئی ہے اور اب نوجوانوں کو یہ خوف بھی ہے کہ ان امتحانات میں بھی ان کے ساتھ ناانصافی ہو رہی ہے۔”
اس کے باوجود ہندوستان میں اعلیٰ تعلیم میں داخلے کی شرح سن 2000 کے تقریباً 10 فی صد سے بڑھ کر 2026 میں 30 فی صد تک پہنچ گئی ہے، جس کا مطلب ہے کہ ملک میں پہلے سے کہیں زیادہ تعلیم یافتہ نوجوان موجود ہیں۔
کوستوو دت کہتے ہیں، “یہ تمام باتیں ہمیں پریشان کرتی ہیں۔ میرے والد کسان ہیں اور انہوں نے قرض لے کر ہم بہن بھائیوں کو پڑھایا ہے۔ کیا ہمیں ایسی ملازمت ملے گی جس سے ہمارے خاندان کی حالت بہتر ہو سکے؟ یا پھر ہمیں ملازمتوں میں امتیاز اور امتحانات میں دھوکے کا سامنا کرنا پڑے گا؟”
اسی دوران ہجوم میں زور دار نعرے گونجنے لگتے ہیں۔ سی جے پی کے رہنما ابھیجیت دیپکے اعلان کرتے ہیں کہ اب سب لوگ کھڑے ہو کر قومی ترانہ گائیں۔
پسینے اور شاید فخر سے چمکتے ہوئے چہرے روشن ہو اٹھتے ہیں جب وہاں موجود مجمع قومی ترانہ ‘جن گن من ‘ گاتا ہے۔
طلباء کو ضرورت پڑنے پر قابو میں رکھنے کے لیے لاٹھیوں کے ساتھ گھومنے والے پولیس اہلکار بھی مودب انداز میں کھڑے ہو جاتے ہیں۔ دہلی کے ابر آلود آسمان سے سورج بھی چند لمحوں کے لیے جھانکنے لگتا ہے۔
یواین آئی۔ م س ۔ م الف
اہم خبریں
اسکولی لائبریریوں میں مبینہ ‘علیحدگی پسند مواد’ پر جموں و کشمیر حکومت کی بڑی کارروائی، 8 تعلیمی افسران معطل، اعلیٰ سطحی تحقیقات کا حکم
جموں و کشمیر حکومت نے سرکاری اسکولوں کی لائبریریوں میں مبینہ طور پر علیحدگی پسند مواد پر مشتمل کتابوں کی شمولیت کے معاملے میں بڑی کارروائی کرتے ہوئے محکمہ اسکولی تعلیم کے آٹھ افسران کو معطل کر دیا ہے، ایک کنٹریکچول ملازم کی خدمات ختم کر دی ہیں، دو کتابوں کے مصنفین اور پبلشرز کو بلیک لسٹ کرنے کا حکم دیا ہے اور پورے معاملے کی اعلیٰ سطحی تحقیقات شروع کر دی ہیں۔
یہ کارروائی جموں و کشمیر پیپلز فورم (جے کے پی ایف) کی جانب سے ان کتابوں کے خلاف سخت اعتراضات سامنے آنے کے چند روز بعد عمل میں آئی ہے۔ فورم نے اپنی تفصیلی رپورٹ میں دعویٰ کیا تھا کہ سرکاری اسکولوں کی لائبریریوں کے لیے منتخب کی گئی ایک کتاب میں سزا یافتہ دہشت گرد مقبول بٹ کو “شہید” قرار دیا گیا ہے، بھارت کو “قابض ریاست” کہا گیا ہے، “انڈین آکیوپائیڈ کشمیر (IOK)” کی اصطلاح استعمال کی گئی ہے اور متعدد علیحدگی پسند رہنماؤں کے بارے میں ایسا مواد شامل کیا گیا ہے جسے فورم نے ملک مخالف قرار دیا۔ فورم نے یہ سوال بھی اٹھایا تھا کہ سمگر شکشا اسکیم کے تحت ایسی کتابوں کو آخر کس بنیاد پر اسکولی طلبہ کے لیے موزوں قرار دے کر سرکاری لائبریریوں کے لیے منظور کیا گیا۔
اس معاملے پر کارروائی کرتے ہوئے محکمہ اسکولی تعلیم نے حکومتی حکم نامہ نمبر 257-JK(Edu) آف 2026 جاری کیا، جس میں کہا گیا کہ متعلقہ کتابوں میں “انتہائی نامناسب مواد” موجود ہے اور ابتدائی طور پر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ان کتابوں کی سفارش کرنے والی ماہرین کمیٹی کے ارکان نے سنگین غفلت، فرائض میں کوتاہی اور مطلوبہ جانچ پڑتال نہیں کی۔
حکم نامے کے مطابق “Personalities and Legends of J&K” اور “Great Personalities of Jammu and Kashmir” نامی کتابیں سمگر شکشا کے تحت خریدی گئی سینکڑوں کتابوں میں سے ہائر سیکنڈری (سریز-4) ایکسپرٹ کمیٹی نے منتخب کی تھیں، تاہم اعتراضات سامنے آنے کے بعد انہیں فوری طور پر واپس لے لیا گیا۔
حکومت نے تحقیقات مکمل ہونے تک اس انتخابی عمل سے وابستہ آٹھ افسران، جن میں کوآرڈینیٹرز، اکیڈمک افسران، پرنسپلز اور لیکچررز شامل ہیں، کو معطل کر دیا ہے، جبکہ سمگر شکشا سے وابستہ ایک کنٹریکچول ملازم کی خدمات بھی ختم کر دی گئی ہیں۔ اس کے علاوہ ایک سینئر آئی اے ایس افسر کو انکوائری آفیسر مقرر کرتے ہوئے 30 دن کے اندر رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔
حکومت نے دونوں کتابوں کے مصنفین اور پبلشرز کو جموں و کشمیر میں بلیک لسٹ کرنے کے ساتھ ساتھ ان کے شائع کردہ تمام مواد کو بھی یونین ٹیریٹری سے واپس لینے کا حکم دیا ہے۔ اس پورے معاملے نے سرکاری فنڈز سے خریدی جانے والی تعلیمی کتابوں کی جانچ پڑتال کے نظام اور انہیں منظور کرنے والی ماہرین کمیٹیوں کی جوابدہی پر بھی سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
ادھر وزیر تعلیم، صحت اور سماجی بہبود سکینہ ایتو نے اس معاملے کو “ناقابل برداشت اور ناقابل قبول” قرار دیتے ہوئے وقت مقررہ تحقیقات کا حکم دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ محکمہ اسکولی تعلیم کے سیکریٹری کو فوری طور پر تحقیقات شروع کرنے کی ہدایت دے دی گئی ہے تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ متنازع مواد سرکاری اسکولوں کی کتابوں تک کیسے پہنچا۔ سکینہ ایتو نے واضح کیا کہ جو بھی اس معاملے میں قصوروار پایا جائے گا اسے قانون کے مطابق سخت سزا دی جائے گی اور کسی کو بھی بخشا نہیں جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت تعلیمی نظام کی ساکھ برقرار رکھنے اور طلبہ کو معیاری اور ذمہ دارانہ تعلیمی مواد فراہم کرنے کے لیے پوری طرح پرعزم ہے۔
دوسری جانب جموں و کشمیر اسمبلی میں قائد حزب اختلاف اور بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے سینئر رہنما سنیل شرما نے کتاب “Personalities and Legends of J&K” پر فوری پابندی عائد کرنے اور اسے تمام سرکاری لائبریریوں اور تعلیمی اداروں سے واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے ڈاکٹر نریندر سنگھ، سنیل سیٹھی اور زوراور سنگھ جموال کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یہ کتاب دہشت گردی، علیحدگی پسندی اور بھارت مخالف نظریات کو فروغ دینے کی کوشش ہے اور اسے سرکاری لائبریریوں تک پہنچانا ایک منظم سازش کی عکاسی کرتا ہے۔
سنیل شرما نے دعویٰ کیا کہ ہلال احمد اور سنتوش مینا کی تصنیف اور پیراڈائز پریس کی شائع کردہ یہ کتاب تاریخ کے نام پر نوجوان نسل کے ذہنوں کو متاثر کرنے کی کوشش کرتی ہے۔ ان کے مطابق کتاب میں دہشت گردی اور علیحدگی پسند سرگرمیوں سے وابستہ بعض شخصیات کو “لیجنڈز” اور “آزادی پسند” کے طور پر پیش کیا گیا ہے جبکہ بھارت اور اس کی سیکورٹی فورسز کے خلاف سرگرمیوں کو ہمدردانہ انداز میں بیان کیا گیا ہے۔
انہوں نے الزام لگایا کہ کتاب میں مقبول بٹ، ہاشم قریشی، مسرت عالم بھٹ، سید علی شاہ گیلانی، عبدالغنی لون اور محمد فاروق رحمانی سمیت متعدد علیحدگی پسند شخصیات کو غیر معمولی اہمیت دی گئی ہے، جو نہ صرف تاریخ کو مسخ کرنے کی کوشش ہے بلکہ نوجوانوں کو گمراہ کرنے کا ذریعہ بھی بن سکتی ہے۔
بی جے پی رہنما نے مطالبہ کیا کہ کتاب کی تمام کاپیاں فوری طور پر ضبط کر کے سرکاری لائبریریوں، تعلیمی اداروں اور عوامی گردش سے ہٹا دی جائیں۔ انہوں نے کتاب کی خریداری اور منظوری دینے والے افسران، اسکریننگ کمیٹیوں اور لائبریرینز کے خلاف قانونی کارروائی کا بھی مطالبہ کیا۔ اس کے علاوہ انہوں نے جموں و کشمیر کی تمام سرکاری اور اسکولی لائبریریوں کا مکمل آڈٹ کرانے کی اپیل کی تاکہ اگر کسی اور کتاب میں بھی ایسا متنازع یا مبینہ علیحدگی پسند مواد موجود ہو تو اسے بھی فوری طور پر ہٹا دیا جائے۔
اس پورے معاملے نے جموں و کشمیر میں سرکاری تعلیمی اداروں کے لیے کتابوں کے انتخاب، ان کی جانچ پڑتال اور منظوری کے نظام پر نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ حکومت نے 30 دن کے اندر تحقیقات مکمل کرنے کی ہدایت دی ہے، جس کے بعد ذمہ دار افراد کے خلاف مزید انتظامی اور قانونی کارروائی کیے جانے کا امکان ہے۔
تجزیہ
کنٹرول لائن پار کرنے والی ایک محبت کی کہانی
از: مجید جہانگیر
تھجل، اُڑی (کنٹرول لائن)، شمالی کشمیر کے ضلع بارہمولہ کے اُڑی سیکٹر میں ایک ماہ قبل پاک مقبوضہ کشمیر (پی او کے) سے کنٹرول لائن (ایل او سی) عبور کرتے ہوئے گرفتار کیے گئے ایک نوجوان کا معاملہ اب محض دراندازی کا واقعہ نہیں رہا۔
تفتیش کاروں کے مطابق یہ دراصل محبت کی ایک ایسی کہانی ہے جس نے 22 سالہ نوجوان کو دنیا کی سب سے زیادہ نگرانی والی سرحدوں میں سے ایک عبور کرنے پر مجبور کر دیا تاکہ وہ اپنی محبوبہ سے مل سکے۔
جو واقعہ ابتدا میں سرحد پار دراندازی معلوم ہوتا تھا، وہ کئی ہفتوں کی تحقیقات کے بعد ایک ایسی داستان میں تبدیل ہوگیا، جہاں محبت اور تجسس بظاہر کنٹرول لائن کے ساتھ ساتھ چلتے دکھائی دیتے ہیں۔
22 سالہ ذیشان احمد میر، جو پاک مقبوضہ کشمیر کے مظفرآباد کے علاقے پینکڑی کا رہائشی ہے، کو ہندوستانی فوج کے چوکس اہلکاروں نے اُڑی سیکٹر میں ہندوستانی حدود میں داخل ہونے کے فوراً بعد گرفتار کر لیا۔ اگرچہ اس کا سفر گرفتاری اور تفتیش پر ختم ہوا، لیکن حکام کا کہنا ہے کہ اس کے سرحد پار کرنے کے پس منظر میں ایک گہری ذاتی کہانی پوشیدہ ہے۔
حکام کے مطابق ذیشان کو سلی کوٹ کے قریب، جو کنٹرول لائن پر واقع ایک مضبوط حفاظتی گاؤں ہے، ہندوستانی حدود میں داخل ہونے کے فوراً بعد حراست میں لیا گیا۔ سلی کوٹ میں پوچھ گچھ کے دوران اس نے فوج کو بتایا کہ وہ اپنی دور کی رشتہ دار ایرم بانو سے ملنے آیا ہے، جس سے گزشتہ ایک سال سے اس کا اسنیپ چیٹ کے ذریعے رابطہ تھا۔ آن لائن دوستی وقت گزرنے کے ساتھ محبت میں بدل گئی، جو فاصلے اور دشمنی پر مبنی سرحد کے باوجود برقرار رہی۔
ایرم بانو، جو تھجل گاؤں کی رہائشی ہیں اور جن کا گاؤں پاک فوج کی چوکیوں سے تقریباً ایک کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے، نے بتایا کہ دونوں مسلسل سوشل میڈیا کے ذریعے رابطے میں تھے۔ ان کے مطابق ذیشان اکثر قانونی طریقے سے ویزا حاصل کرکے آنے کی بات کرتا تھا۔
انہوں نے کہاکہ “اس نے مجھ سے کہا تھا کہ وہ ویزا پر آئے گا۔ میں نے کبھی تصور بھی نہیں کیا تھا کہ وہ اتنا خطرناک راستہ اختیار کرے گا۔”
31 مئی کی صبح جب ذیشان نے کنٹرول لائن عبور کی تو وہ سلی کوٹ سے ایرم کو ایک پیغام بھیجنے میں کامیاب ہوگیا۔ اس کے بعد منظر کسی رومانوی فلم سے کم نہ تھا۔
ایرم نے بتایاکہ “صبح جب مجھے اس کا پیغام ملا تو میں کھڑکی سے کود کر سیدھی سلی کوٹ کی طرف بھاگی۔ جب میں گاؤں کے قریب دروازے تک پہنچی تو میں نے اسے دیکھا۔ وہ فوجی اہلکاروں کو پوری بات بتا چکا تھا اور میں نے بھی اس کی بات کی تصدیق کر دی۔ اس وقت میں خود پر قابو نہ رکھ سکی اور رونے لگی۔”
یہ ملاقات مختصر رہی۔ کچھ ہی دیر بعد حکام کی اطلاع پر ایرم کے اہلِ خانہ بھی وہاں پہنچ گئے۔ ایرم کے مطابق اسی روز ان کے گھر والوں کو پہلی بار ان کے تعلق کے بارے میں معلوم ہوا۔ فوجیوں نے دونوں کو چند لمحوں کے لیے ایک ساتھ رہنے کی اجازت بھی دی۔
ذیشان کے لیے یہ سفر آسان نہیں تھا۔ وہ صرف چپلیں پہنے ہوئے تھا اور اس کے پاس صرف موبائل فون اور شناختی کارڈ تھا۔
دشوار گزار راستے طے کرتے ہوئے ایک موقع پر اس کا سامنا ایک تیندوے سے بھی ہوا۔
ایرم نے بتایاکہ “بعد میں اس نے مجھے بتایا کہ راستے میں اسے ایک تیندوا ملا تھا۔ خوش قسمتی سے اس کے منہ میں پہلے ہی کوئی شکار تھا، اس لیے وہ آگے بڑھ گیا، ورنہ کچھ بھی ہو سکتا تھا۔”
تمام خطرات کے باوجود ذیشان نے اپنا سفر جاری رکھا، کیونکہ وہ اپنے اہلِ خانہ کی جانب سے اس کی طے شدہ شادی سے ْپہلے اپنی محبوبہ سے ملنا چاہتا تھا۔
ذیشان اس وقت بارہمولہ ضلع جیل میں عدالتی تحویل میں ہے۔ مختلف تحقیقاتی اداروں نے دونوں سے پوچھ گچھ کی ہے اور ان کے ڈیجیٹل رابطوں کا بھی جائزہ لیا ہے۔ ایرم کے مطابق تفتیش کاروں نے ان کی کہانی کو حقیقی قرار دیا ہے۔
انہوں نے آہستہ لہجے میں کہاکہ “ہم اس سے ملنے بارہمولہ جیل گئے تھے، لیکن ہمیں اس سے ملاقات کی اجازت نہیں ملی۔”
اُڑی میں ایرم کے گھر سے سامنے پھیلے پہاڑوں کے پار وہ بستیاں صاف دکھائی دیتی ہیں جہاں ذیشان رہتا تھا۔ صاف موسم میں وہ علاقہ ان کی طرف سے نظر آ جاتا ہے۔ ایرم آج بھی اس کی سلامتی کے لیے دعا کرتی ہیں اور ایک پُرامن مستقبل کی امید لگائے بیٹھی ہیں۔
یواین آئی۔ ظ ا
-
دنیا3 days agoایران کا فی الحال امریکہ کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں: ایرانی وزیر خارجہ
-
دنیا2 days agoایران نے خود کو ایک ‘ناقابل تسخیر طاقت’ ثابت کیا ہے: عراقچی
-
جموں و کشمیر2 days agoیومِ آزادی سے قبل جموں و کشمیر پولیس نے سرحدی سامبا میں طویل فاصلے کی گشت اور فرضی انسدادِ دہشت گردی مشق کی
-
ہندوستان4 days agoطلبہ پر کارروائی کے معاملے پر حکومت کو گھیرتے ہوئے راہل کا مضمون، کھڑگے اور پرینکا نے حمایت کی
-
دنیا4 days agoسعودی عرب میں فیکٹری میں آگ کے سبب 16 بنگلہ دیشی مزدور ہلاک
-
دنیا2 days agoشام کے سابق صدر بشار الاسد کو سزائے موت سنادی گئی
-
جموں و کشمیر1 day agoاسپورٹس کوٹا پر مبنی ملازمتیں: جے اینڈ کے بی جے پی نے اعلیٰ سطحی جانچ کا مطالبہ کیا، احتجاجی کھلاڑیوں کی حمایت کی
-
دنیا4 days agoٹرمپ جوہری معاہدے کے بغیر ایران کے ساتھ تنازع ختم کرنے پر تیار: رپورٹ
-
دنیا3 days agoکیسپین سمندر معاہدے کا مستقبل ایران کی پارلیمنٹ طے کرے گی: اسماعیل بقائی
-
دنیا3 days agoایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
-
دنیا3 days agoتجربہ کار آئی آر جی سی کمانڈر محسن رضائی ایران کے قومی سلامتی کے سربراہ مقرر
-
جموں و کشمیر2 days agoیومِ آزادی سے قبل کشمیر بھر میں کثیر سطحی سکیورٹی انتظامات