تازہ ترین
پہلے اتحاد اور ستائش اب سخت کاروائی کیوں؟ التجا مفتی کا سوال
سرینگر: جموں وکشمیر کی سابق وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی کی بیٹی التجا ء مفتی نے سوالیہ انداز میں کہا ہے کہ بھارتیہ جنتاپارٹی (بی جے پی) نے 2014میں اُنکی والدہ کیساتھ اتحاد کیوں کیا تھا؟اور وزیراعظم نریندر مودی نے سرعام ان کی تعریف کیوں کی تھی؟۔ محبوبہ مفتی کے ذاتی ٹویٹر ہینڈل پر ان کی بیٹی التجا مفتی نے لکھا کہ حکومتی ڈوزیئر میں ان کی والدہ کو کسی کی نہ سننے والی اور سازشی کہا گیا ہے۔
کشمیر نیوز سروس(کے این ایس) مانیٹر نگ ڈیسک کے مطابق جموں و کشمیر کی نظربند سابق وزیراعلی محبوبہ مفتی کی بیٹی التجا مفتی نے سوال کیا کہ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی)نے2014میں ان کی والدہ کے ساتھ اتحاد کیوں کیا تھا؟ اور وزیراعظم نریندر مودی نے سرعام ان کی تعریف کیوں کی تھی؟۔یاد رہے کہ حکام نے سابق وزرائے اعلی عمر عبداللہ اور محبوبہ مفتی کے خلاف پبلک سیفٹی ایکٹ عائد کیا ہے تاکہ انکی مدت نظربندی طویل کی جاسکے۔
حکومتی ڈوزیئر کے مطابق محبوبہ مفتی پر علیحدگی پسندوں کے ساتھ کام کرنے، ملک کے خلاف بیانات دینے اور جماعت اسلامی جیسی تنظیموں کی حمایت کرنے کا الزام عائد کیا گیا ہے جس پر ان کے خلاف غیر قانونی سرگرمیاں کی روک تھام کے ایکٹ کے تحت پابندی عائد ہے۔میڈیا رپورٹس کے مطابق محبوبہ مفتی کے ذاتی ٹویٹر ہینڈل پر ان کی بیٹی التجا مفتی نے لکھا ’حکومتی ڈوزیئر میں ان کی والدہ کو کسی کی نہ سننے والی اور سازشی کہا گیا ہے، ان کا موازنہ ایک ایسی قدیم ترین تاریخی شخصیت سے بھی کیا گیا ہے، جس نے اپنے مخالفین کو زہر دے کر اقتدار پر قبضہ کیا تھا‘۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق التجا مفتی نے پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کے جھنڈے کے سبز رنگ پر حکومت کے اعتراض پر سوال اٹھایا۔ انہوں نے بی جے پی پر نکتہ چینی کرتے ہوئے کہا کہ بی جے پی کے حلیف نتیش کمار کے جنتا دل یونائیٹڈ کا جھنڈا سبز ہے اور فوج بھی اسی رنگ کی وردی پہنتی ہے۔ التجا نے سوال کیا ’کیا وہی پارٹی معتبر اور قوم پرست ہے جو بی جے پی کی اتحادی ہے؟‘۔پی ڈی پی اور بی جے پی کے درمیان اتحاد 2014کے اسمبلی انتخابات کے بعد ہوا تھا اور جون2018میں ختم ہوا۔
جموں و کشمیر کے تمام رہنما گزشتہ برس4اگست کی شام سے حراست میں لئے گئے تھے۔ انکی حراست کے اگلے روز5اگست کو جموں و کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت کو ختم کر کے ریاست کو مرکز کے زیر انتظام دو علاقوں میں تقسیم کردیا تھا۔ مین اسٹریم سیاسی رہنماوں کے علاوہ علیحدگی پسند جماعتوں بشمول حریت کانفرنس، جماعت اسلامی اور لبریشن فرنٹ کے بیسیوں کارکنوں اور رہنما ؤں کو بھی گرفتار کیا گیا تھا۔
حکام نے سرکردہ تاجروں اور وکلا کو بھی حراست میں لیاہے۔ادھر میڈیا رپورٹس کے مطابق سابق وزیر اعلی محبوبہ مفتی کے خلاف جموں و کشمیر حکومت کے پبلک سیفٹی ایکٹ کے ڈوزیئر میں کہا گیا ہے کہ، پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی)کا سبز پرچم،’بنیاد پرستی‘کی عکاسی کرتا ہے۔
1999میں جب پی ڈی پی تشکیل دی گئی تھی، تو انہوں نے قلم اور سیاہی دوات کے ساتھ پارٹی کی علامت کے طور پر سبز پرچم اپنایا تھا۔ اس علامت کو الیکشن کمیشن نے باضابطہ طور پر تسلیم کیا تھا اور انہوں نے اس نشان پر تمام انتخابات لڑے۔میڈیا رپورٹس کے مطابق جموں و کشمیر پولیس کی جانب سے تیار کیے گئے ڈوزیئر میں محبوبہ مفتی کے بارے میں لکھا گیا ہے کہ وہ ایک سرگرم اور خطرناک خاتون کے طور پر پہچانی جاتی ہیں، جو خطرناک طرح کے کئی سازشوں میں ملوث ہیں۔
رپورٹس کے مطابق وہ خفیہ ایجنسیز کے ذریعہ دائر متعدد خفیہ رپورٹس کی تصدیق سے علیحدگی پسندی کو فروغ دیتی رہی ہیں۔ڈوزیئر کا یہ بھی کہنا ہے کہ محبوبہ نے بانڈ پر دستخط کرنے سے انکار کردیا تھا جس میں کہا گیا تھا کہ وہ دفعہ370کو ختم کرنے کے بارے میں بات نہیں کریں گی۔اس پرمحبوبہ کی بیٹی التجا مفتی کی جانب سے سخت ردعمل کا اظہار کیا گیاہے۔محبوبہ مفتی کے ذاتی ٹویٹر ہینڈل پر ان کی بیٹی التجا مفتی نے لکھا کہ حکومتی ڈوزیئر میں ان کی والدہ کو کسی کی نہ سننے والی اور سازشی کہا گیا ہے، ان کا موازنہ ایک ایسی قدیم ترین تاریخی شخصیت سے بھی کیا گیا ہے جس نے اپنے مخالفین کو زہر دے کر اقتدار پر قبضہ کیا تھا۔
جموں و کشمیر
دہلی میں مودی کے حامی کشمیری نوجوان پر حملے کے خلاف سری نگر میں احتجاج
سری نگر، نئی دہلی کے کناٹ پلیس میں کانگریس کے احتجاج کے دوران سری نگر کے رہائشی فہیم نذیر شاہ پر مبینہ حملے کے خلاف جمعہ کو کشمیری نوجوانوں کے ایک گروپ نے سری نگر میں احتجاج کیا اور اس واقعے میں ملوث افراد کے خلاف سخت قانونی کارروائی کا مطالبہ کیا۔
احتجاجی نوجوان ہاتھوں میں پلے کارڈز اٹھائے ہوئے تھے اور کانگریس کے خلاف نعرے لگا رہے تھے۔ انہوں نے شہر کے مرکزی علاقے کی جانب مارچ کرنے کی کوشش کی، تاہم پولیس نے انہیں روک دیا۔
وزیراعظم نریندر مودی کے حامی فہیم نذیر شاہ پر مبینہ طور پر جمعرات کو اس وقت حملہ کیا گیا، جب وہ ایک پلے کارڈ لے کر کانگریس کے احتجاجی مقام پر پہنچے۔ پلے کارڈ پر ”وزیراعظم اور وزیر داخلہ سے معافی مانگو” درج تھا۔ وہاں انہوں نے نعرے بھی لگائے۔ اس واقعے کے بعد، بالخصوص بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی جانب سے شدید مذمت کی گئی۔
سری نگر میں احتجاج کرنے والوں نے سوال کیا کہ سیاسی خیالات کا اظہار کرنے پر فہیم شاہ کو نشانہ کیوں بنایا گیا؟ انہوں نے کہا کہ ہر شہری کو تشدد کے خوف کے بغیر اپنی رائے ظاہر کرنے کا حق حاصل ہے۔
ایک احتجاجی نے سوال کیاکہ ”کیا ان کا قصور یہ تھا کہ وہ کشمیری یا مسلمان ہیں، یا انہوں نے وزیراعظم کی حمایت میں بینر اٹھایا تھا؟” انہوں نے مطالبہ کیا کہ کشمیریوں کا احترام کیا جائے اور وہ جہاں بھی جائیں، ان کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے۔
ایک دوسرے احتجاجی نے کہا کہ فہیم شاہ کے ساتھ اظہارِ یکجہتی اور انہیں انصاف دلانے کے مطالبے کے لیے یہ مظاہرہ منعقد کیا گیا۔ انہوں نے مرکزی وزیر داخلہ اور دہلی انتظامیہ سے اپیل کی کہ اس واقعے کے ذمہ دار افراد کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے۔
یواین آئی۔ ظ ا
ہندوستان
اتر پردیش میں راجیہ سبھا کی تمام 10 نشستوں پر بلا مقابلہ انتخاب، بی جے پی کے 8 اور سماجوادی پارٹی کے 2 امیدوار کامیاب
لکھنؤ، اتر پردیش میں راجیہ سبھا کی تمام 10 سیٹوں پر بلامقابلہ انتخاب ہو گیا ہے۔ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے آٹھ اور سماج وادی پارٹی (ایس پی) کے دو امیدواروں کو منتخب قرار دیا گیا ہے۔ ووٹنگ کی ضرورت نہیں تھی کیوں کہ تمام نشستوں پر امیدواروں کی تعداد نشستوں کی تعداد کے برابر تھی۔ کاغذات نامزدگی کی جانچ پڑتال اور دستبرداری کا عمل مکمل ہونے کے بعد ریٹرننگ آفیسر نے تمام 10 امیدواروں کو بلا مقابلہ منتخب قرار دے دیا۔
بعد ازاں اسمبلی میں منتخب اراکین اسمبلی کو سرٹیفکیٹ پیش کیے گئے۔ بی جے پی کے منتخب امیدواروں میں ودیا ساگر سونکر، پرینکا سنگھ راوت، گوپی کرشنا پانڈے، دھرمپال سنگھ، رادھاکانت اوجھا، پرکاش پال، رام پرتاپ سنگھ چوہان اور شروتی گنگوار شامل ہیں، جب کہ سماج وادی پارٹی کے پروفیسر رام گوپال یادو اور دھن راج پریمل ناتھوپوانی راجپوت سبھا کے لیے منتخب ہوئے۔ چوں کہ ان راجیہ سبھا سیٹوں کے لیے کوئی اور امیدوار مقابلہ نہیں کر رہا تھا، اس لیے الیکشن بغیر ووٹ کے ختم ہو گیا۔ الیکشن کے بعد اتر پردیش سے بی جے پی کے آٹھ اور سماج وادی پارٹی کے دو نمائندے راجیہ سبھا کے لیے منتخب ہوئے۔
یو این آئی۔ این یو۔ م الف
فن و ادب
ریکھا کی ادکاری ہندی سنیما کی تاریخ کا ایک یادگار باب
ممبئی،
ریکھا محض ایک اداکارہ نہیں بلکہ ہندی سنیما کی تاریخ کا ایک یادگار باب ہیں۔ ان کی اداکاری، شخصیت اور فن آنے والی نسلوں کے لیے بھی اہمیت رکھتے ہیں۔ ان کا فلمی سفر اس حقیقت کی گواہی دیتا ہے کہ اصل عظمت صرف شہرت حاصل کرنے میں نہیں، بلکہ اپنے فن کے ذریعے وقت کی حدود سے آگے نکل جانے میں ہے۔
ریکھا کی زندگی کامیابی، جدوجہد، تنہائی، شہرت اور خود کو نئے انداز میں پیش کرنے کی ایک طویل داستان ہے۔ انہوں نے بچپن کی مشکلات سے نکل کر ہندوستانی فلمی دنیا میں وہ مقام حاصل کیا جس تک پہنچنا ہر فنکار کے لیے ممکن نہیں ہوتا۔
‘خوب صورت’ کی زندہ دل منجو ہو، ‘امراو جان’ کی غم زدہ شاعرہ، ‘گھر’ کی دکھ سہنے والی عورت یا ‘خون بھری مانگ’ کی مضبوط کردار والی ہیروئن، ریکھا نے ہر کردار میں اپنی الگ شناخت قائم کی۔
بالی وڈ کی امراؤ جان، قاتل نگاہیں اور نمکین رنگت والی مشہور اداکارہ ریکھا دس اکتوبر 1954 کو مدراس کے ایک گھرانے میں پیدا ہوئیں۔ اُن کا حقیقی نام بھانو ریکھا گنیشن ہے۔ان کے والد جیمنی گنیشن اور ان کی ماں تیلگو اداکارہ پشپ دیوی نے باقاعدہ شادی نہیں کی تھی۔ بچپن سے ہی تیلگو فلموں سے اپنا فلمی سفر شروع کرنے والی ریکھا کو کافی جدوجہد کرنی پڑی۔
ریکھا نے محض گیارہ سال کی عمر میں تیلگو فلم میں اداکاری سے اپنےکیرئیر کاآغاز کیا، 1969 میں ہندی فلم ‘دو شکاری’ کی ہیروئن کے روپ میں جلوہ گر ہوئیں اور جلد ہی فلمی دنیا پر راج کرنے لگیں۔
سال 1976 میں انہوں نے پہلی بار امیتابھ بچن کے ساتھ فلم ‘دو انجانے’ میں کام کیا اور فلم کو امر کردیا۔ اس کے بعد یہ جوڑی نٹور لال، خون پسینہ، مقدر کا سکندر اور بہت سی فلموں میں ایک ساتھ نظر آئی ۔
1978 میں فلم ‘مقدرکا سکندر’ نے ریکھا کو شہرت کی بلندیوں پر پہنچادیا اورانہیں فلم فیئر ایوارڈ سے بھی نوازا گیا۔
جاری یو این آئی۔ ایم جے
-
جموں و کشمیر1 week agoسری نگر پولیس نے بین ریاستی منشیات نیٹ ورک کا پردہ فاش کیا، آٹھ افراد گرفتار
-
دنیا1 week agoروس پر براہِ راست حملے کی صورت میں ہر قسم کے ہتھیار استعمال کرنےکا معاملہ ایجنڈے پر ہو گا :پوتن
-
جموں و کشمیر1 week agoگاندھی کے عدم تشدد اور سودیشی کے نظریات آج بھی اہم ہیں: جموں کے ڈویژنل کمشنر
-
ہندوستان1 week agoوندے بھارت نے چِناب پل اور کیبل اسٹڈ انجی پل کو 100 کلومیٹر کی رفتار سے عبور کیا
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر میراتھن اتحاد اور نوجوانوں کے متبادل خواہشات کا پیغام دیتی ہے: ایل جی سنہا
-
دنیا7 days agoخمیس مشیط کی جانب داغے گئے تین حوثی بیلسٹک میزائل تباہ
-
ہندوستان1 week agoکھرگے- راہل نے گاندھی اور شاستری کو یومِ پیدائش پر خراجِ عقیدت پیش کیا
-
دنیا1 week agoایران امریکہ سے مذاکرات کی کوشش جاری رکھے گا: پیزشکیان
-
دنیا1 week agoامریکہ، ایران جنگ بندی معاہدے کی راہ میں بداعتمادی اور گہرے اختلافات حائل
-
دنیا1 week agoمعاہدہ نہ ہونے پر وسط مدتی انتخابات کے بعد ایران پر دوبارہ فوجی کارروائی ممکن: ٹرمپ
-
دنیا1 week agoفلائی دبئی طیارے کے کاک پٹ حملے میں ایران کا تعلق ثابت ہوا تو ’بہت سخت‘ کارروائی ہوگی: ٹرمپ
-
دنیا1 week agoیمن میں تعز کی لڑائی تیز، حوثی ٹھکانوں پر تین گھنٹے میں 20 فضائی حملے
