تازہ ترین
سابق وزیراعلیٰ عمر عبداللہ کی پی ایس اے کے تحت نظر بندی
بہن کا عدالت عظمیٰ سے رجوع
موصوف کو حراست میں رکھناسیاسی حریفوں کو طاقت سے دبانے کے عمل کا حصہ:سارہ عبداللہ پائلٹ
سرینگر: جموں وکشمیر کے سابق وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کی پبلک سیفٹی ایکٹ (پی ایس اے) کے تحت نظر بندی کو اُنکی بہن سارہ عبداللہ پائلٹ نے عدالت عظمیٰ سے رجوع کیا اور اس ضمن میں باضابط طور پر ایک درخواست بھی دائر کردی۔انہوں نے سابق وزیر اعلیٰ کی نظر بندی کو آزادی اظہار سمیت انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی سے تعبیر کیا۔
یاد رہے کہ اس وقت جموں وکشمیر کے3سابق وزرائے اعلیٰ ڈاکٹر فاروق عبداللہ،عمر عبداللہ اور محبوبہ مفتی سمیت متعدد مین اسٹریم لیڈران پبلک سیفٹی ایکٹ (پی ایس اے) نظر بند ہیں۔کشمیر نیوز سروس(کے این ایس) مانیٹر نگ ڈیسک کے مطابق جموں و کشمیر کے سابق وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کی بہن سارہ عبداللہ پائلٹ نے اپنے بھائی(عمر عبداللہ) کی غیرقانونی طور پر حراست اور پبلک سیفٹی ایکٹ کے تحت ان پر عائد کیے گئے الزامات کے خلاف سپریم کورٹ آف انڈیا میں درخواست دائر کردی۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق سارہ عبداللہ پائلٹ نے کہا کہ ان کے بھائی کو حراست میں رکھنا آزادی اظہار سمیت انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہے اور یہ تمام سیاسی حریفوں کو طاقت سے دبانے کے عمل کا حصہ ہے۔واضح رہے کہ جموں کشمیر کے سابق وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کو 5اگست کو آرٹیکل 370 کے ذریعے جموں وکشمیر کو حاصل خصوصی حیثیت ختم کیے جانے کے بعد سے مستقل حراست میں رکھا گیا ہے۔
گذشتہ چھ ماہ تک عمر عبدااللہ کو بغیر کسی الزام کے حراست میں رکھا گیا تھا لیکن گزشتہ ہفتے پبلک سیفٹی ایکٹ کے تحت ان پر مختلف الزامات عائد کیے گئے تاکہ حراست کو جواز فراہم کیا جا سکے۔سارہ عبداللہ نے سپریم کورٹ میں دائر اپنی درخواست میں موقف اپنایا کہ گزشتہ ماہ کے دوران حراست میں لئے گئے تمام افراد کے خلاف اسی طرح سے گرفتاری کے حکم نامے جاری کیے گئے۔ان کا کہنا تھا کہ حکم کے مطابق حکومتی پالیسی کو تنقید کا نشانہ بنانا بھارتی ریاست پر تنقید کے مترادف ہے، یہ جمہوری سیاست کی کھلی خلاف ورزی اور بھارت کے آئین کی پامالی ہے۔انہوں نے عمر عبداللہ کی تمام تقاریر، خطاب اور پیغامات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ پہلی مرتبہ حراست کے بعد سے اب تک انہوں نے صرف اور صرف امن اور تعاون کا مطالبہ کیا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق سارہ عبداللہ کا کہنا تھا کہ ان کے بھائی پر جھوٹے اور من گھڑت الزامات عائد کیے گئے ہیں اور انہیں عوام میں مقبولیت اور ان پر حاصل اثر و رسوخ کی وجہ سے الزامات کا نشانہ بنایا گیا۔نجی نیوز چینل این ڈی ٹی وی کی ایک رپورٹ کے مطابق عمر عبداللہ پر الزام عائد کیا گیا کہ انہوں نے شدت پسندی اور انتخابات کے بائیکاٹ کے مطالبات کے دوران اپنا اثر و رسوخ استعمال کرتے ہوئے لوگوں کو ووٹ ڈالنے کی ترغیب دی۔
الزامات کے مطابق حریت رہنماؤں کی جانب سے انتخابات کے بائیکاٹ کے مطالبات کے دوران سابق مرکزی وزیر عمر عبداللہ عوام پر اپنا اثر و رسوخ استعمال کرتے ہوئے لوگوں کو ووٹ ڈالنے پر آمادہ کرنے کی صلاحیت رکھتے تھے اور اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا تھا کہ جب انہوں نے انتخابات میں حملوں اور بائیکاٹ کے مطالبات کے باوجود عوام سے ووٹ ڈالنے کا مطالبہ کیا تھا، تو ان کے حلقے میں لوگ بڑی تعداد میں ووٹ ڈالنے کیلئے نکلی تھی۔اپنی درخواست میں سارہ عبداللہ نے ان الزامات کو مضحکہ خیز الزامات قرار دیتے ہوئے کہا کہ عمرعبداللہ پر لوگوں کو انتخابات میں شرکت اور ووٹ کے جمہوری حق کے استعمال پر آمادہ کرنے کے الزامات ہیں۔
ان کا کہناتھا کہ اس کے علاوہ سابق وزیر اعلیٰ جموں و کشمیر پر یہ بھی الزام ہے کہ انہوں نے حکومت کی جانب سے آرٹیکل370 کے خاتمے کی مخالفت کی اور ٹوئٹر پر لوگوں کو اس کے خلاف آواز اٹھانے کی ترغیب دی لیکن ان الزامات کے خلاف ثبوت کے طور پر کسی بھی ٹوئٹر پوسٹ کا حوالہ نہیں دیا گیا۔
سی آر پی سی107 کے تحت عمر عبداللہ کو6ماہ تک حراست میں رکھا جا سکتا ہے جس کا خاتمہ 5فروری2020 کو ہوا تھا۔تاہم 5فروری کوحکومت نے عمر عبداللہ اور سابق خاتون وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی کے خلاف پبلک سیفٹی ایکٹ (پی ایس اے)کا استعمال کرتے ہوئے کسی ٹرائل کے بغیر مزید3ماہ تک حراست میں رکھنے کی منظوری دی تھی جس میں ایک یا دوسال تک توسیع کی جا سکتی ہے۔اس کے علاوہ متعدد دیگر مین اسٹریم لیڈران پر بھی پبلک سیفٹی ایکٹ کا اطلاق کرکے نظربند رکھا گیا ہے۔جن رہنماؤں کو نظر بند رکھا گیا،اُن میں علی محمد ساگر،سر تاج مدنی،نعیم اختر وغیرہ شامل ہے۔تاہم 20سے زیادہ سیاسی رہنماؤں کو رہا بھی کیا گیا،جن میں سے بیشتر کو اپنی رہائش گاہوں پر نظر بند رکھا گیا اور اُن کی آزاد نقل وحرکت پر تاحال بندشیں عائد ہیں۔کشمیر میں گزشتہ چھ ماہ سے سیاسی تعطل ہے جسکی وجہ سے ایک بڑا سیاسی خلا پیدا ہوگیا ہے،جس کو پر کرنا دہلی کیلئے کسی چیلنجز سے کم نہیں۔
ہندوستان
سودیشی جاگرن منچ کی حکومت سے امریکی ٹیرف کی دھمکیوں کے خلاف ڈٹے رہنے، لوگوں سے امریکی کمپنیوں کا بائیکاٹ کرنے کی اپیل
نئی دہلی، سودیشی جاگرن منچ (ایس جے ایم) نے امریکہ کی سینیٹ کی طرف سے حال ہی میں منظور کیے گئے اس قانون پر گہرے افسوس کا اظہار کیا ہے، جو امریکی صدر کو ان ملکوں پر 100 فیصد تک ٹیرف لگانے کا اختیار دیتا ہے جو روس سے بڑی مقدار میں تیل خریدتے ہیں تنظیم نے بدھ کے روز ایک بیان میں کہا کہ اس کا پختہ یقین ہے کہ کسی بھی ملک کو ہندوستان کی توانائی سکیورٹی اور خود مختار تجارتی پالیسی طے کرنے کا حق نہیں ہے۔ ایس جے ایم کے قومی شریک کنوینر اشونی مہاجن نے کہا، “اگرچہ ہم مانتے ہیں کہ اس قانون کو ابھی پورے قانون سازی کے عمل سے گزرنا باقی ہے اور ڈیوٹی خود بخود نافذ نہیں ہوگی، پھر بھی یہ واضح طور پر آزاد اور منصفانہ بین الاقوامی تجارت کے اصولوں اور ملکوں کے اپنی توانائی پالیسیاں طے کرنے کے خود مختار حق کے لیے ایک سنگین خطرہ پیدا کرتا ہے۔”
ایس جے ایم کا کہنا ہے کہ وہ اس معاملے پر حکومت ہند کے موقف کی مکمل حمایت کرتا ہے کہ روس سے خام تیل کی ہندوستان کی خریداری توانائی سکیورٹی، دستیابی، قیمت، سپلائی میں تنوع اور ہندوستانی صارفین کے مفادات پر مبنی ہے۔
ہندوستان نے بار بار یہ واضح کیا ہے کہ جائز بین الاقوامی منڈیوں سے توانائی خریدنے کے ہمارے خود مختار حق کو کوئی تیسرا ملک طے نہیں کر سکتا۔ تنظیم نے کہا ہے کہ یہ پہلی بار نہیں ہے جب امریکہ میں آنے والے سامان پر غیر منصفانہ ڈیوٹی لگانے کی دھمکی دی گئی ہے۔ ایسی دھمکیاں امریکی صدر کے طور پر ڈونلڈ ٹرمپ کی دوسری مدت کار کے آغاز سے ہی ملتی رہی ہیں؛ درحقیقت، امریکہ میں آنے والے ہندوستانی سامان پر کبھی کبھی بھاری ڈیوٹی لگائی گئی ہے، جس سے ہماری برآمدات پر کافی اثر پڑا ہے۔ ان ٹیرف کو الگ الگ ناموں سے جانا گیا ہے— جیسے ریسیپروکل ٹیرف اور قومی سکیورٹی ڈیوٹی سے لے کر سیکشن 301 ڈیوٹی، سیکشن 232 ڈیوٹی، تادیبی ڈیوٹی (روسی تیل خریدنے کے لیے)، تجارتی خسارہ ڈیوٹی اور جبری مشقت ڈیوٹی— اور یہ فہرست کبھی ختم نہیں ہوتی۔
یو این آئی ۔ ایف اے
ہندوستان
امت شاہ کی تقریر نہیں، ہمیں جواب چاہیے: راہل
نئی دہلی، لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی نے طلباء کے خلاف پولیس کارروائی پر وزیر داخلہ امت شاہ سے پارلیمنٹ میں جواب دینے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ اب تقریر نہیں، سوالات کے جواب چاہیئں مسٹر گاندھی نے بدھ کے روز پارلیمنٹ ہاؤس کے احاطے میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا، “مسٹر شاہ نے بچوں پر گولی چلانے کا حکم دیا تھا یا نہیں۔ دونوں ہی صورتوں میں انہیں استعفیٰ دینا چاہیے۔ ہمیں اب امت شاہ کی تقریر نہیں چاہیے۔ ہمیں جواب چاہیے۔ ہمارے طلباء پر گولی کس نے چلائی؟ گولی چلانے کا حکم کس نے دیا؟ کس نے ایک طالب علم کی آنکھ کی بینائی چھینی؟ کیلوں والی لاٹھیوں کے استعمال کا حکم کس نے دیا؟”
انہوں نے دعویٰ کیا کہ یہ حکم وزارتِ داخلہ سے آیا تھا۔ انہوں نے سوال کیا کہ کیا مسٹر شاہ نے بچوں پر گولی چلانے کا حکم دیا تھا یا نہیں۔ مسٹر گاندھی نے کہا کہ دونوں ہی صورتوں میں مسٹر شاہ کو استعفیٰ دینا چاہیے۔
اپوزیشن لیڈر نے کہا، “سچ یہ ہے کہ امت شاہ کی امیج کا غبارہ پھٹ چکا ہے۔ ان کے اندر پارلیمنٹ آنے کی ہمت ہی نہیں ہے۔”
مسٹر گاندھی نے میڈیا سے بھی سوال کیا کہ جب مسٹر شاہ بولتے ہیں تو کیا میڈیا انہیں بیچ میں روکتا ہے؟ انہوں نے پوچھا، “امت شاہ میں ایسی کیا خاص بات ہے کہ پورا میڈیا خاموشی سے کھڑا رہتا ہے؟” انہوں نے کہا کہ جب ملک کے طلباء وزیر اعظم نریندر مودی اور مسٹر شاہ سے نہیں ڈر رہے ہیں تو میڈیا کو بھی ان سے ڈرنا نہیں چاہیے۔
لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر نے کہا، “مسٹر شاہ میں پارلیمنٹ آنے کی ہمت ہی نہیں ہے۔ وہ 20 دنوں سے غائب ہیں۔ اپنے چیمبر میں بیٹھے رہتے ہیں لیکن ایوان میں نہیں آتے۔ ان کے قافلے میں تقریباً 30 گاڑیاں چلتی ہیں، گھر کے آگے ہزاروں پولیس والے کھڑے رہتے ہیں کہ کوئی بچہ نہ آ جائے۔ ان کی شبیہ والے غبارے کی ہوا نکل چکی ہے۔ اب زبردستی اس میں ہوا بھرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔”
یو این آئی ایف اے
جموں و کشمیر
معروف کشمیری مصنف سروا نند کول ‘پریمی’، ان کے چھوٹے بیٹے ویریندر کول کے قتل کیس میں جموں و کشمیر میں نو مقامات پر چھاپے
سرینگر، جموں و کشمیر کی اسٹیٹ انویسٹی گیشن ایجنسی (ایس آئی اے) نے بدھ کے روز معروف کشمیری شاعر و مصنف سروا نند کول ‘پریمی’ اور ان کے چھوٹے بیٹے ویریندر کول کے 1990 میں ہونے والے قتل کے سلسلے میں جموں و کشمیر میں نو مقامات پر چھاپے مارے۔
حکام نے بتایا کہ یہ تلاشی ضلع اننت ناگ کے ڈورو تھانے میں درج ایف آئی آر کے تحت لی گئی۔ اس کیس کی تحقیقات اب ایس آئی اے کے سپرد کر دی گئی ہیں۔
بدھ کے روز چلائے گئے اس آپریشن کے دوران تلاشی والے مقامات، برآمد شدہ مواد یا ثبوتوں کے حوالے سے تفصیلی معلومات کا ابھی انتظار ہے۔
مسٹر پریمی (65) اور ان کے بیٹے ویریندر (27) کو مئی 1990 میں جنوبی کشمیر کے ضلع اننت ناگ میں واقع ان کے آبائی گاؤں میں دہشت گردوں نے قتل کر دیا تھا۔ اس واقعے کے ایک ہفتے کے اندر ہی کول خاندان نے کشمیر چھوڑ دیا تھا۔
مسٹر پریمی ایک معروف شاعر، مصنف اور مترجم تھے، جنہوں نے تین درجن سے زائد کتابیں تصنیف کی تھیں۔ ان کی اہم ادبی تخلیقات میں ‘بھگود گیتا’ کا اردو میں، ‘رامائن’ کا کشمیری میں اور ربندر ناتھ ٹیگور کی ‘گیتانجلی‘ کا ترجمہ شامل ہے۔
یہ تازہ چھاپے ایس آئی اے کی جانب سے 1990 میں کشمیری پنڈت نرس سرلا بھٹ کے قتل سے جڑے ایک اور طویل عرصے سے زیر التواء کیس میں چارج شیٹ داخل کرنے کے ایک ماہ سے زائد عرصے بعد سامنے آئے ہیں۔
ایجنسی نے 29 جون کو سرینگر کی ایک خصوصی عدالت کے سامنے 737 صفحات پر مشتمل چارج شیٹ پیش کی تھی، جس میں محترمہ سرلا بھٹ کے اغوا اور قتل کے کیس میں جیل میں بند محمد یاسین ملک سمیت جموں کشمیر لبریشن فرنٹ (جے کے ایل ایف) کے پانچ کارندوں کے نام شامل ہیں۔ ملزمان میں سے تین کی موت ہو چکی ہے، جبکہ خورشید احمد چالکو فرار ہے اور اس کے پاکستان بھاگ جانے کا اندیشہ ہے۔
ایس آئی اے نے کشمیر میں دہشت گردی کے ابتدائی دور کے پرانے مقدمات کی تحقیقات کی کوششوں کے تحت سرلا بھٹ کیس کو دوبارہ کھولا تھا۔
یواین آئی۔الف الف
-
دنیا2 days agoایران کا فی الحال امریکہ کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں: ایرانی وزیر خارجہ
-
ہندوستان2 days agoطلبہ پر کارروائی کے معاملے پر حکومت کو گھیرتے ہوئے راہل کا مضمون، کھڑگے اور پرینکا نے حمایت کی
-
دنیا2 days agoسعودی عرب میں فیکٹری میں آگ کے سبب 16 بنگلہ دیشی مزدور ہلاک
-
دنیا2 days agoٹرمپ جوہری معاہدے کے بغیر ایران کے ساتھ تنازع ختم کرنے پر تیار: رپورٹ
-
دنیا21 hours agoایران نے خود کو ایک ‘ناقابل تسخیر طاقت’ ثابت کیا ہے: عراقچی
-
دنیا21 hours agoشام کے سابق صدر بشار الاسد کو سزائے موت سنادی گئی
-
جموں و کشمیر21 hours agoیومِ آزادی سے قبل جموں و کشمیر پولیس نے سرحدی سامبا میں طویل فاصلے کی گشت اور فرضی انسدادِ دہشت گردی مشق کی
-
دنیا1 day agoیمن میں حوثیوں کے المخا اور مارب پر بیلسٹک میزائل حملے
-
دنیا19 hours agoموساد کے سابق سربراہ کا انکشاف، ماضی میں ایران کی فردو جوہری تنصیب کا کئی بار دورہ کیا
-
دنیا1 day agoٹرمپ کا ایران سے معاوضے کا مطالبہ، آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
-
دنیا1 day agoایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
-
ہندوستان23 hours agoپارلیمنٹ کے احاطے میں اپوزیشن ارکانِ پارلیمنٹ کا احتجاج
