تازہ ترین
’’پی ڈی پی اقتدار میں آکر عوام دشمن جماعت ثابت ہوئی‘‘: عمر عبداللہ
خبراردو:
نیشنل کانفرنس کے نائب صدر اور سابق وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے سوموار کو الیکشن ریلیوں کے حوالے سے وسطی کشمیر کے بیروہ اور ٹنگمرگ علاقوں میں عوام جلسوں سے خطاب کیا۔ اس موقعے پر این سی نائب صدر عمر عبداللہ نے دعویٰ کرتے ہوئے کہا کہ نیشنل کانفرنس نے پارلیمانی انتخابات کیلئے وادی کی تینوں نشستوں سے ایسے اُمیدوار کھڑے کئے ہیں جو پارلیمنٹ میں جاکر صحیح معنوں میں یہاں کے عوام کی ترجمانی کرسکے، نہ کہ پی ڈی پی کے ممبران پارلیمان کی طرح جنہوں نے کبھی کشمیریوں کی بات کرنے کی زہمت گوارا نہیں کی ۔ عمر عبداللہ نے کہا کہ پی ڈی پی والے آج پھر سے عوام سے ووٹ مانگنے نکلے ہیں ، لیکن پہلے ہمیں دیکھنا ہوگا کہ ان لوگوں نے ریاست کا کیا حال کیا۔ ’’محبوبہ مفتی کہتی ہیں کہ وہ بھاجپا کیساتھ دوبارہ ہاتھ نہیں ملائیں گی، خدارا مجھے بتایئے ہم آپ کی بات پر یقین کیسے کریں؟آپ نے تو یہی بات 2014میں بھی کی، ہر ایک انتخابی جلسے میں کہا کہ بی جے پی کو روکنے کیلئے پی ڈی پی کو جتوانا ضروری ہے اور کشمیر کے لوگ آپ کی ان باتوں میں بہہ گئے اور آج اس کا خمیازہ بھگت رہے ہیں۔‘‘
انہوں نے کہا کہ’’ ہم نے اُس وقت مرحوم مفتی محمد سعید کے سامنے دوستی کا ہاتھ بڑھایا اور کہا کہ مفتی مرحوم جس راستے پر آپ جارہے ہیں وہ ریاست کو تباہی کی اور لے جائیگا، خدارا بھاجپا کیساتھ اتحاد مت کیجئے، ہم آپ کو وزیر اعلیٰ بننے کیلئے غیر مشروط حمایت دینگے، ہمیں کوئی چیز نہیں چاہئے ، آپ 6سال ریاست کو چلایئے۔‘‘ لیکن افسوس کی بات ہے کہ پی ڈی پی والوں نے اس وقت کہا کہ نیشنل کانفرنس والوں کی جیب خالی ہے اور کانگریس والے ہمیں کچھ نہیں دے سکتے۔ مرحوم مفتی نے کہا کہ ہم بی جے پی سے سیلاب زدگان کیلئے ریلیف لائیں گے، بے روزگاروں کیلئے روزگار لائیں گے، ہسپتالوں کیلئے ڈاکٹر اور سکولوں کیلئے ٹیچر لائیں، حریت سے بات کرنی ہے، ہمیں افسپا ہٹانا ہے، ہمیں پاکستان کیساتھ بات کرنی ہے اور بھاجپا ہمیں بجلی پروجیکٹ واپس دیگی۔ آج ہم سوال پوچھے ہیں کہ کون سا پاور پروجیکٹ واپس آیا؟ کون بے روزگار نوجوان روزگار لے کے بیٹھا ہے؟ کس سیلاب زدہ کو اضافی ریلیف ملا( جس ریلیف کا تعین ہماری حکومت نے کیا اس کے علاوہ کچھ نہیں ملا، معاملہ وہیں ٹھپ ہوا)، افسپا ہٹانے کی بات تو دور پی ڈی پی حکومت نے یہاں این آئی اے کی کارروائیوں میں اشتراک کیا، فوجی انخلاء کی بات کرنے والوں نے یہاں پیلٹ گن سے کتنے نوجوان نابینا بناڈالے۔ حریت کیساتھ بات تو دور کی بات آج ان کا قافیہ حیات رنگ کرکے رکھ دیا گیاہے۔
عمر عبداللہ نے کہا کہ محبوبہ مفتی آئے روز این آئی اے کی کارروائی کیخلاف بیان بازی کررہی ہیں لیکن محبوبہ مفتی یہ نہیں کہتی ہیں کہ یہ سارے کیس اُن کے ہی دورِ حکومت میں لگے۔ ’’جس کیس کے تحت میرواعظ عمر فاروق،شبیر شاہ اور محمد یاسین ملک بند ہیں ، اُن کی اجازت کس نے دی ؟محبوبہ مفتی آج کس بات پر مگر مچھ کے آنسو بہا رہی ہیں؟جب آپ کی حکومت میں یہ سب کیس دائر ہورہے تھے تب آپ نے منہ نہیں کھولا۔ تب تو آپ مودی جی کی تعریفیں کرتی نہیں تھکتی تھیں،آپ نے یہاں تک کہہ ڈالا کہ ’جو واجپائی نے نہیں کیا وہ مودی کریں گے۔‘ جی ہاں!جو واجپائی نے ریاست کا بیڑا غرق نہیں کیا وہ مودی صاحب نے کر ڈالا۔1996کے بعد سے آج تک یہاں کبھی الیکشن میں تاخیر نہیں ہوئی لیکن مودی نے الیکشن مؤخر کر ہی ڈالے۔عمر عبداللہ نے کہا کہ مودی سے ملنے کے بعد محبوبہ مفتی نے کہاکہ جو مانگا وہ ملا ،جو نہیں مانگا وہ بھی ملا، جو مانگنا باقی ہے وہ بھی ملا ۔’’محبوبہ جی عوام کو بتایں کہ کیا ملا؟ہمارے قبرستان بھرے، ہمارے نوجوان مارے گئے، جب لوگوں نے پوچھا کہ نوجوان کیوں مررہے ہیں تو آپ نے کہاکہ یہ کیا ٹافی لانے گئے تھے؟یہ کیا دودھ لانے گئے تھے؟ جب آپ سے کہا گیا کہ فورسز کی زیادتیاں بند کروائے، تب آپ نے کہا کہ فوج اور سی آرپی ایف کے بندوق دکھانے کیلئے نہیں بلکہ استعمال کرنے کیلئے ہوتیں ہیں ، اور آج آپ مگر مچھ کے آنسو بہا رہی ہیں۔ ‘‘عمر عبداللہ نے کہا کہ میرے دورِ حکومت میں این آئی اے نے صرف ایک کارروائی کی اور اُس میں بھی سرحد پار سے گھر واپس لوٹ رہا کپوارہ کا لیاقت باعزت بری ہوا۔ لیاقت کو یو پی کی پولیس نے گرفتار کرکے ملی ٹنٹ جتلایا اور دلی پولیس کے حوالے کردیا اور اُسے تہاڑ جیل بھیجنے کی تیاریاں کی جارہی تھیں۔
ہم نے دلی میں این آئی اے کے ذریعے اُس کی تحقیقات کروائی اور اُسے بے گناہ ثابت کروایا۔ آج لیاقت صاحب آپنے گاؤں میں کہیں آزاد گھوم رہے ہونگے۔نیشنل کانفرنس نائب صدر نے کہا کہ ’’ہم طاقتوں کے سامنے نہیں جکتے ہیں، ہم دھوکہ نہیں دیتے، ہم اُن میں سے نہیں جو حکومت میں رہ کر ملی ٹینٹوں کو مارتے ہیں اور حکومت جانے کے بعد اُن کے گھر جاکر مگر مچھ کے آنسو بہاتے ہیں۔ہمارے دور میں جب حالات خراب ہوجاتے ہیں ہم اُن سے کچھ سیکھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ میرے دور میں بھی حالات خراب ہوئے۔ ہمیں ان خراب حالا ت کا اتنا افسوس ہوا کہ ہم نے دوبارہ ایسے حالات رونما نہیں ہونے دیئے۔
عمر عبداللہ نے کہا کہ یہ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں کہ نیشنل کانفرنس اور جماعت اسلامی کی ٹکر رہی ہے، لیکن ہم نے جماعت اسلام کیخلاف ظلم ہونے نہیں دیا، اُن پر پابندی لگنے نہیں دی، ہم نے یہ بہانہ نہیں بنایا کہ جب تک جماعت اسلامی پر پابندی نہیں لگتی تب تک حالات ٹھیک نہیں ہونگے،ہم نے 2014میں سب سے کامیاب الیکشن کروائے، اُس وقت جماعت اسلامی پر پابندی نہیں تھی۔اُن کا کہنا تھا کہ ’’جمعیت اہل حدیث کا ایک سینئر ممبر مشتاق احمد ویری بنا کسی وجہ کے 24فروری سے گرفتار ہیں، سننے میں آرہا ہے کہ جمعیت اہل حدیث کیخلاف بھی کارروائی ہوگی۔عمر عبداللہ نے بتایا کہ میں حیران ہوں کی ایسا کیوں کیا جارہا ہے، ہم نے کئی موقعوں پر ان لوگوں کیساتھ کام کیا ہے۔ اللہ مولانا شوکت صاحب کو مغفرت کرے، مجھے یاد ہے 2010میں جب حالات خراب ہوئے تھے، انہوں نے کہاکہ ’’جناب ہماری اور آپ کی سیاسی سوچ نہیں ملتی ہے، لیکن یہاں خون خرابہ ہوتے ہوئے ہم نہیں دیکھ سکتے، ہم حالات سازگار بنانے میں آپ کا ہاتھ بٹائیں گے ، اس لئے جب ایسی جماعتوں کیخلاف کارروائی ہوتی ہے تو ہم آواز اُٹھاتے ہیں ۔
ہندوستان
راہل گاندھی کی انا، بے ضابطگی اور بدتمیزی کی نذر ہو گیا پارلیمنٹ کا مانسون اجلاس: بی جے پی
نئی دہلی بھارتیہ جنتا پارٹی نے لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی کو غیر ذمہ دار قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ پارلیمنٹ کا مانسون سیشن ایک رہنما کی انا، بے ضابطگی اور بدتمیزی کی نذر ہو گیا بی جے پی رکنِ پارلیمنٹ روی شنکر پرساد نے جمعرات کے روز پارٹی ہیڈکوارٹر میں صحافیوں سے خطاب کرتے ہوئے مسٹر گاندھی کو غیر ذمہ دار، غیر سنجیدہ، بد نظم اور انا پرست قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان میں سیاسی شائستگی کی کوئی جگہ نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ مسٹر گاندھی بغیر کسی اجازت کے اپنی بہن کے ساتھ وزیر اعظم کی رہائش گاہ کے گیٹ پر جا بیٹھے۔ وہ کوئی عام انسان نہیں ہیں۔ ان کے والد وزیر اعظم تھے، ان کی دادی اور پرنانا بھی وزیر اعظم تھے۔ انہیں معلوم ہے کہ وزیر اعظم کی رہائش گاہ کے لیے سکیورٹی کے کتنے سخت انتظامات ہوتے ہیں۔ جب ہوم سکریٹری اور وزیر اعظم کے دفتر (پی ایم او) میں وزیرِ مملکت جتیندر سنگھ جی وہاں گئے، تو انہوں نے کہا کہ وہ بات چیت اور بحث کے لیے تیار ہیں۔
مسٹر پرساد نے کہا، ‘جب انہوں نے (مسٹر سنگھ) کہا کہ حکومت بحث کے لیے تیار ہے، تو مسٹر گاندھی نے کہا کہ انہیں وزیر کا استعفیٰ چاہیے۔ مسٹر گاندھی! ملک اور پارلیمنٹ کی سیاست آپ کی انا، مراعات یافتہ ہونے کے احساس اور اس سوچ کے دباؤ میں نہیں چلے گی کہ آپ اپنی مرضی سے کچھ بھی کر سکتے ہیں۔’ بی جے پی رہنما نے کہا کہ جمہوریت اس طرح کام نہیں کرتی اور شاید یہی آپ کی پارٹی کی موجودہ حالت کی وجہ بھی ہے۔ مسٹر گاندھی اپنی غلطیوں سے سیکھتے نہیں ہیں۔
اس کے بعد انہوں نے مطالبہ کیا کہ دہلی میں ہوئی پولیس کارروائی پر وزیرِ داخلہ جواب دیں۔ اس مطالبے پر انہوں نے ایوان کو چلنے نہیں دیا۔
انہوں نے کہا کہ کل وزیرِ داخلہ امت شاہ نے میڈیا کے سامنے کہا کہ میں 24 گھنٹے تک پوری بحث سننے اور ان کے تمام دلائل کا نقطہ بہ نقطہ جواب دینے کے لیے تیار ہوں۔ پارلیمانی امور کے وزیر کیرن رجیجو نے بزنس ایڈوائزری کمیٹی (بی اے سی) اور ایوان میں یہ معاملہ اٹھایا اور کہا، ‘ہم بحث کے لیے تیار ہیں۔ سب کچھ ایسے ہی چل رہا تھا کہ تبھی انہوں نے (مسٹر گاندھی) نے اپنا مطالبہ بدل دیا اور کہا کہ ہمیں دھرمیندر پردھان کا استعفیٰ چاہیے۔ یہ سلسلہ چلتا رہا، اور اسی کو مسئلہ بنایا گیا۔’
بی جے پی رہنما نے کہا کہ اس کے بعد مسٹر پردھان نے وزیر اعظم نریندر مودی کو اپنا استعفیٰ دے دیا۔ جب بحث کی بات آئی، تو مسٹر مودی کی قیادت میں حکومت نے دو بڑے قدم اٹھائے۔ نیشنل ایلیجیبلٹی کم اینٹرنس ٹیسٹ (نیٹ) پر ایک بہت سخت قانون لایا گیا، فاسٹ ٹریک کورٹ کا نظام قائم کیا گیا اور سزا نیز پیپر لیک گینگ سے نمٹنے کے لیے بھی کارروائی کی گئی۔
اس کے بعد، امتحان اور نیٹ میں اصلاحات کے لیے نندن نیلیکنی کی صدارت میں ایک اعلیٰ سطحی کمیٹی بنائی گئی۔
انہوں نے کہا، “ہم نے صاف کر دیا ہے کہ کوئی گولی نہیں چلائی گئی۔ اگر انہوں نے پارلیمنٹ میں مسٹر شاہ کی بات سنی ہوتی، تو انہیں اپنے سوالات کے جوابات مل جاتے، لیکن، انہوں نے ایوان کو چلنے ہی نہیں دیا۔ تب ان کی (مسٹر گاندھی) دو بے وقوفانہ باتیں سامنے آئیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر انہوں نے (وزیرِ داخلہ نے) گولی چلانے کا حکم دیا ہے، تو وہ استعفیٰ دیں اور اگر نہیں دیا ہے، تو وہ نااہل وزیر ہیں، تب استعفیٰ دیں۔” انہوں نے کہا کہ مسٹر گاندھی کو حکومت چلانے کی بنیادی سمجھ بھی نہیں ہے۔
مسٹر پرساد نے کہا کہ مسٹر شاہ 24 گھنٹے ایوان میں بیٹھنے کو تیار تھے، پھر بھی مسٹر گاندھی نے کہا کہ نہیں ہمیں ان کا استعفیٰ چاہیے، ان کی بحث سن کر کیا فائدہ۔ مسٹر گاندھی کی سرکشی سے ملک کی سیاست نہیں چلے گی۔
یو این آئی ایف اے
ہندوستان
کھڑگے نے اپنی ریلی کے بعد اسٹیج کی ’تطہیر‘ کا معاملہ راجیہ سبھا میں اٹھایا، نڈا نے افسوس کا اظہار کیا
نئی دہلی، راجیہ سبھا میں اپوزیشن کے لیڈر ملکارجن کھڑگے نے جمعرات کو ہلدوانی میں ان کی ریلی کے بعد اسٹیج کی ’تطہیر‘ کیے جانے کا معاملہ ایوان میں اٹھایا اور ذمہ دار افراد کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا ایوان کے لیڈر جگت پرکاش نڈا نے اس واقعے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اس معاملے کی تحقیقات کرائی جائیں گی مسٹر کھڑگے نے ایوان کی کارروائی شروع ہوتے ہی یہ معاملہ اٹھاتے ہوئے کہا کہ وہ ہلدوانی کے رام لیلا میدان میں ریلی کرنے گئے تھے۔ ریلی میں لاکھوں لوگ موجود تھے اور انہوں نے لوگوں کے مسائل پر بات کی، لیکن یہ جان کر انہیں بہت افسوس ہوا کہ بعد میں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے لوگوں نے ہون کرکے اس اسٹیج کی ’تطہیر‘ کی۔
انہوں نے کہا کہ وہ دلت ہیں، لیکن ایک آئینی عہدے پر فائز رہتے ہوئے اس ایوان میں اپوزیشن کے لیڈر ہیں۔
اس پر مسٹر نڈا نے کہا کہ یہ ایک افسوسناک معاملہ ہے اور یہ صرف کانگریس ہی نہیں بلکہ پورے ملک کا معاملہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ کہا گیا ہے کہ اس میں بی جے پی کے لوگ شامل تھے۔ بی جے پی اس طرح کی سرگرمیوں کی حمایت نہیں کرتی اور اس معاملے کی تحقیقات کرائی جائیں گی۔
انہوں نے کہاکہ ’’میں واضح کرنا چاہتا ہوں کہ بی جے پی اس کی مذمت کرتی ہے اور ہمارے قومی صدر بھی یہاں موجود ہیں، وہ بھی اس معاملے کو دیکھیں گے۔ آپ کے جذبات کو ٹھیس پہنچی ہے، اس پر ہمیں افسوس ہے۔‘‘
مسٹر کھڑگے نے کہا کہ وہ اس معاملے کو سیاسی مسئلہ نہیں بناناچاہتے۔ انہوں نے کہا کہ وہ دلت ہیں لیکن کبھی کسی کے سامنے گڑگڑائے نہیں اور اپنے حقوق کے لیے جدوجہد کی ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ ان کی توہین کی گئی ہے۔
اس پر ایوان کے لیڈر نے کہا کہ وہ پہلے ہی واضح کر چکے ہیں کہ بی جے پی اس کی حمایت نہیں کرتی۔ یہ ملک کے لیے افسوس کا موضوع ہے اور اس معاملے کو سنسنی خیز نہ بنایا جائے۔ انہوں نے کہاکہ ’’مجھے بھی اتنا ہی دکھ ہے۔ ہم اس کی تحقیقات کریں گے۔ قصوروار کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔ ہم ان کے جذبات کا احترام کرتے ہیں۔‘‘
مسٹر کھڑگے نے کہا کہ وہ مطالبہ کرتے ہیں کہ یہ کام کرنے والے افراد کے خلاف ایف آئی آر درج کرکے انہیں گرفتار کیا جائے۔
اس پر چیئرمین نے کہا کہ ملک میں کوئی بھی چھوا چھوت کی حمایت نہیں کرتا۔ سب اس کی مذمت کرتے ہیں۔ انہوں نے حکومت سے درخواست کی کہ اس معاملے کی تحقیقات کرکے قصورواروں کو سزا دی جائے۔
یواین آئی۔ظ ا
دنیا
پینٹاگن کی امریکی حملوں کے جائزے میں 153 شہریوں کی ہلاکت کی تصدیق
واشنگٹن، امریکی وزارت دفاع (پینٹاگن) کے جائزے سے پتہ چلا ہے کہ یمن میں گزشتہ سال ایران کے حمایت یافتہ حوثی باغیوں کے خلاف تین امریکی فضائی حملوں میں 153 عام شہری ہلاک اور 243 زخمی ہوئے۔
یہ نتائج بدھ کو امریکی کانگریس کو بھیجی گئی شہری ہلاکتوں کی سالانہ رپورٹ میں سامنے آئے ہیں۔ جائزہ اپریل 2025 میں کیے گئے تین فضائی حملوں پر مرکوز تھا۔
حملوں میں یمنی دارالحکومت صنعا اور حوثیوں کے زیر کنٹرول راس عیسیٰ کی بندرگاہ اور اس کے اطراف کے علاقوں کو نشانہ بنایا گیا۔ اس وقت امریکی افواج حوثی باغیوں کے خلاف آپریشن کر رہی تھیں جو بحیرہ احمر میں تجارتی جہازوں اور اسرائیل پر حملہ کر رہے تھے۔
پینٹاگن کے جائزے کے مطابق تینوں حملوں میں مجموعی طور پر 153 شہری ہلاک اور 243 زخمی ہوئے۔ راس عیسیٰ بندرگاہ پر ہونے والا حملہ سب سے مہلک تھا، جس میں 80 افراد ہلاک اور 171 زخمی ہوئے۔ حملے کے بعد، جگہ پر زبردست آگ بھڑک اٹھی، جس سے کئی ٹینکر ٹرک تباہ ہوگئے۔ حوثی حامی المسیرہ ٹیلی ویژن چینل نے حملے کے بعد کی فوٹیج نشر کی۔
امریکی سینٹرل کمانڈ نے اس وقت کہا تھا کہ ان حملوں کا مقصد یمنی عوام کو نقصان پہنچانا نہیں تھا۔ کمانڈ کے مطابق، امریکی افواج نے ایران کے حمایت یافتہ حوثی باغیوں کے لیے ایندھن کے ایک ذرائع کو تباہ کرنے اور ان کی آمدنی کے ناجائز ذرائع کو متاثر کرنے کے لیے کارروائی کی۔ جائزے میں ان حملوں کے متاثرین کے خاندانوں کے لیے معاوضے یا بھتہ کی سفارش نہیں کی گئی۔ رپورٹ میں اس کی وجہ نہیں بتائی گئی۔
پینٹاگن کے مطابق ایسا معاوضہ امریکی فوجی کارروائیوں میں شہریوں کی ہلاکت یا زخمی ہونے کی صورت میں دیا جا سکتا ہے۔ یہ قانون کے تحت لازمی نہیں ہے اور غلط کام کا اعتراف نہیں کرتا۔
امریکی فوج پہلے بھی ایسے معاملات میں معاوضے کی پیشکش کر چکی ہے۔ 2021 میں افغانستان میں امریکی ڈرون حملے میں سات بچوں سمیت 10 افراد ہلاک ہوئے۔ اس واقعے کے بعد، پینٹاگون نے متاثرین کے خاندانوں کو اس طرح کے معاوضے کا وعدہ کیا.
پینٹاگن کا یہ جائزہ ٹرمپ انتظامیہ کی فوجی کارروائیوں میں شہریوں کی ہلاکت کے بارے میں امریکی کانگریس میں بڑھتی ہوئی تشویش کے درمیان سامنے آیا ہے۔ اس سال کے شروع میں ایران کے ساتھ جنگ کے ابتدائی دنوں میں ایک پرائمری اسکول کو نشانہ بنانے والے امریکی میزائل حملے میں مبینہ طور پر 168 افراد ہلاک ہوئے تھے۔
امریکی فوج نے پہلی بار 2023 میں حوثی باغیوں کے خلاف حملے شروع کیے تھے۔ یہ کارروائی اس وقت شروع ہوئی جب حوثی باغیوں نے بحیرہ احمر میں تجارتی جہازوں کو ڈرون اور میزائلوں سے نشانہ بنانا شروع کیا، جو عالمی تجارت کے لیے ایک اہم سمندری راستہ ہے، جو نہر سویز کے ذریعے بحیرہ روم سے جڑتا ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
-
دنیا3 days agoایران کا فی الحال امریکہ کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں: ایرانی وزیر خارجہ
-
دنیا3 days agoسعودی عرب میں فیکٹری میں آگ کے سبب 16 بنگلہ دیشی مزدور ہلاک
-
جموں و کشمیر2 days agoیومِ آزادی سے قبل جموں و کشمیر پولیس نے سرحدی سامبا میں طویل فاصلے کی گشت اور فرضی انسدادِ دہشت گردی مشق کی
-
دنیا3 days agoٹرمپ جوہری معاہدے کے بغیر ایران کے ساتھ تنازع ختم کرنے پر تیار: رپورٹ
-
ہندوستان3 days agoطلبہ پر کارروائی کے معاملے پر حکومت کو گھیرتے ہوئے راہل کا مضمون، کھڑگے اور پرینکا نے حمایت کی
-
دنیا2 days agoایران نے خود کو ایک ‘ناقابل تسخیر طاقت’ ثابت کیا ہے: عراقچی
-
جموں و کشمیر22 hours agoاسپورٹس کوٹا پر مبنی ملازمتیں: جے اینڈ کے بی جے پی نے اعلیٰ سطحی جانچ کا مطالبہ کیا، احتجاجی کھلاڑیوں کی حمایت کی
-
دنیا3 days agoتجربہ کار آئی آر جی سی کمانڈر محسن رضائی ایران کے قومی سلامتی کے سربراہ مقرر
-
دنیا2 days agoشام کے سابق صدر بشار الاسد کو سزائے موت سنادی گئی
-
دنیا3 days agoکیسپین سمندر معاہدے کا مستقبل ایران کی پارلیمنٹ طے کرے گی: اسماعیل بقائی
-
دنیا2 days agoایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
-
ہندوستان2 days agoپارلیمنٹ کے احاطے میں اپوزیشن ارکانِ پارلیمنٹ کا احتجاج
