ہندوستان
چناربک فیسٹیول کشمیری ادب و ثقافت کوقومی سطح پر فروغ دینے میں اہم رول ادا کرے گا:دھرمیندرپردھان
نئی دہلی/ سرینگر، کشمیر کی تاریخی،تہذیبی اور ادبی عظمت کا اعتراف کرتے ہوئے وزیر تعلیم دھر میندر پردھان نے کہا کہ کشمیری تہذیب اوریہاں کے ادب کوفروغ دینے کی ضرورت ہے تاکہ دوسری جگہوں کے لوگ بھی یہاں کی تہذیب وثقافت سے خاطر خواہ واقف ہوسکیں
اس امر کا اظہار انہوں نے قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان نئی دہلی اور نیشنل بک ٹرسٹ دہلی کے اشتراک سے چنار بک فیسٹیول 2025کا فتتاح کرتے ہوئے کیا۔اس کے علاوہ افتتاح لیفٹیننٹ گورنر آف کشمیر منوج سنہا، ڈیویڑنل کمشنر آف کشمیر وجے کمار ودھور ی اورآئی سی ایچ آر کے چیئرمین پروفیسر راگویندر تومر اور دیگر اہم شخصیات کے ذریعے ہوا۔
وزیر تعلیم نے نئی تعلیمی پالیسی (این ای پی2020)کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ مادری زبان اور علاقائی ادب کو فروغ دینا حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے۔نوجوانوں کو خاص طور پر خطاب کرتے ہوئے کہاکہ ٹیکنالوجی گرچہ ہمارے لیے مفید ہے لیکن اس کا استعمال ضرورت کے مطابق ہی کرناچاہیے اور نوجوانوں کو کتب بینی اور مطالعہ کی طرف زیادہ توجہ دینا چاہیے اس لیے کہ مطالعہ نہ صرف علم میں اضافے کا باعث ہوتاہے بلکہ شخصیت سازی میں بھی اہم کردار ادا کرتاہے۔
کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے اپنے خطاب میں وادی کشمیر کی قدیم تہذیب،علمی ورثے اور ادبی روایات کو اجاگر کیا،انھوں نے کہا کہ کشمیر صدیوں سے علم و ادب اور تصوف و ثقافت کر مرکز رہاہے اور آج بھی یہاں کے دانشور اورمصنفین اپنی تخلیقات سے دنیامیں روشنی پھیلا رہے ہیں۔انہوں نے کشمیر میں بک فیسٹیول کے انعقاد کو خوش آئند قدم قرار دیتے ہوئے کہاکہ اس قسم کے ادبی میلوں کے ذریعے نوجوانوں میں مطالعے کا ذوق پیدا کیا جاسکتاہے۔نئی نسل اس دوران منعقد ہونے والے مختلف قسم کے ثقافتی پروگراموں میں شریک ہوکر اپنی ادبی،سماجی اور ثقافتی معلومات میں اضافہ کرسکتے ہیں۔
آئی سی ایچ آر کے چیئر مین پروفیسر رگھوویندر تنورنے کہاکہ کشمیر کی علمی روایت،زبان وادب،فلسفے اور سماجی علوم کی زرخیز تاریخ رہی ہے اور یہاں کے دانشوروں نے ہمیشہ تحقیق و تخلیق کے میدان میں قابل ذکر کارنامہ انجام دیاہے۔انھوں نے چنار بک فیسٹیول کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ جلد ہی یہ فیسٹیول بین الاقوامی سطح پر اپنی شناخت قائم کرلے گا۔
این بی ٹی کے چیئر مین پروفیسر ملند سدھاکر مراٹھے نے افتتاحی تقریر کرتے ہوئے کہاکہ چنار بک فیسٹیول صرف کتابوں کی فراہمی تک محدود نہیں ہے، بلکہ اس میں مختلف النوع ثقافتی پروگرامز بھی شامل ہیں جو شرکا کے لیے علم،تخلیق اور تفریح کا حسین امتزاج پیش کریں گے۔انہوں نے مزید کہاکہ نیشنل بک ٹرسٹ کا مقصد کتابوں کے ذریعے قومی یکجہتی،فکری بیدار ی اورتخلیقی شعور کو فروغ دینا ہے اورچنار بک فیسٹیول اسی مشن کا ایک اہم حصہ ہے۔شکریے کی رسم ادا کرتے ہوئے این بی ٹی کے ڈائرکٹر یوراج ملک نے کہا کہ یہ ہمارے لیے فخر کی بات ہے کہ ہم مسلسل دوسری بار اس علمی وادبی فیسٹیول کا اہتمام کررہے ہیں۔انہوں نے کہاکہ ہم چاہتے ہیں کہ ہر آدمی پڑھے اورہر ہاتھ میں کتاب ہو۔
یہی ہمارا خواب ہے اور اسی مشن کے تحت ہم لوگ کام کررہے ہیں۔اس افتتاحی تقریب میں مہمانان کے ہاتھوں کتاب ’جموں کشمیر اورلداخ‘ کے کشمیر ی ایڈیشن کا اجرابھی عمل میں آیا۔اس کتاب میں کشمیر کی تاریخ کو مفصل انداز میں بیان کیا گیاہے۔
افتتاحی تقریب کے بعد آتھر کارنر میں خسرو فاؤنڈیشن اور قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان کے اشتراک سے ایک مذاکرہ بعنوان ’تصوف کی معنویت(امیر خسرو سے شیخ العالم تک)‘ منعقد ہوا، جس کی نظامت ڈاکٹر حفیظ الرحمن نے کی اورپروفیسر اقبال حسنین(سابق وائس چانسلر کالیکٹ یونیورسٹی)،پروفیسر جی این خاکی(ڈائرکٹر انٹرنیشنل سینٹر فار اسپریچول اسٹیڈیز) اورجناب شانتنو مکھرجی (ڈائرکٹر خسرو فاؤ نڈیشن)نے موضوع سے متعلق بڑی اہم گفتگو کی او ر اس بات پر زور دیاکہ آج کے دور میں صوفیانہ افکار کو فروغ دینا وقت کی اہم ضرورت ہے تاکہ نفرت اور عدم برداشت کا مقابلہ کیا جاسکے۔اس مذاکرے میں ’عقیدے کی دراریں‘از پروفیسر اقبال حسنین کا اجرا بھی عمل میں آیا۔
قومی کونسل کے زیر اہتمام سہ روزہ سی اے بی اے۔ایم ڈی ٹی پی فیکلٹی ڈیولپمنٹ پروگرام (جموں کشمیر،لداخ،ہماچل پردیش اورپنجاب)کابھی آج آغاز ہوا۔استقبالیہ کلمات پیش کرتے ہوئے قومی کونسل کے ڈائرکٹر ڈاکٹر شمس اقبال نے کہاکہ یہ پہلاموقع ہے جب ہم فیکلٹی ممبران کے ساتھ بیٹھ رہے ہیں یہ ہمارے لیے بڑی خوشی کا لمحہ ہے۔انھوں نے فیکلٹی ڈیولپمنٹ پروگرام کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ اس طرح کے پروگرام اساتذہ کی پیشہ ورانہ مہارت میں اضافہ کرتے ہیں اورانھیں جدید تدریسی تکنیکوں سے روشناس کراتے ہیں۔انھوں نے کہاکہ آج کے دور میں کمپیوٹر اور ٹیکنالوجی کی تعلیم صرف فنی شعبے تک محدود نہیں رہی بلکہ یہ ہرمیدان میں کامیابی کی کنجی بن چکی ہے۔ان کے علاوہ سچن چاندلا(جوائنٹ ڈائرکٹر،نائیلٹ،چنڈی گڑھ)، ڈاکٹر مشتاق احمد لون(رکن گورننگ کونسل ممبر،این سی پی یوایل) اور پروفیسرعارفہ بشری (رکن گورننگ کونسل،این سی پی یو ایل)نے بھی متعلقہ موضوع پر اہم گفتگو کی۔اس پروگرام کی نظامت نصرت جہاں (آر اے،این سی یو ایل)کی اور شکر یے کی رسم اجمل سعید(اسسٹنٹ ایجوکیشن آفیسر،این سی پی یو ایل)نے ادا کی۔
یو این آئی۔ ع ا۔
ہندوستان
جے رام رمیش کا مودی حکومت پر ٹرمپ کو خوش کرنے کا الزام، امریکی کارروائی کو پالیسی رعایتوں سے جوڑا
نئی دہلی، کانگریس کے جنرل سکریٹری انچارج مواصلات جے رام رمیش نے جمعرات کے روز نریندر مودی حکومت پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی خوشامد کی پالیسی اپنانے کا الزام لگایا اور دلیل دی کہ ہندوستانی آئی ٹی پیشہ ور افراد کو نشانہ بنانے والے واشنگٹن کے حالیہ اقدامات نے ہندوستان کے لیے باہمی فوائد حاصل کیے بغیر رعایتیں دینے کے خطرات کو بے نقاب کر دیا ہے۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ایکس’ پر ایک پوسٹ میں مسٹر رمیش نے کہا، “دھونس جمانے والوں کی خوشامد کبھی فائدہ نہیں پہنچاتی، یہ بات جمعرات کو ہندوستانی آئی ٹی پیشہ ور افراد کو براہ راست نشانہ بنانے والے امریکی حکومت کے اقدامات سے ایک بار پھر ثابت ہو گئی ہے۔”
انہوں نے ہندوستانی پیشہ ور افراد کے خلاف مبینہ کارروائی کو صدر ٹرمپ کو خوش کرنے کی حکومت کی کوششوں سے جوڑتے ہوئے سوال اٹھایا کہ کیا دوطرفہ بات چیت کے حوالے سے نئی دہلی کا طریقہ کار ہندوستانی معاشی اور تکنیکی مفادات کا مناسب تحفظ کر رہا ہے۔
مسٹر رمیش نے الزام لگایا، “یہ اقدام مودی حکومت کی جانب سے یو پی آئی ایم ڈی آر چارجز عائد کر کے صدر ٹرمپ کو خوش کرنے کے فوراً بعد سامنے آیا ہے، جس سے واضح طور پر اور براہ راست امریکی کمپنیوں کو فائدہ پہنچے گا۔” تاہم انہوں نے اپنی پوسٹ میں اس طریقہ کار کی وضاحت نہیں کی جس کے ذریعے مرچنٹ ڈسکاؤنٹ ریٹ میں تبدیلیوں سے امریکی کمپنیوں کو براہ راست فائدہ پہنچے گا۔
مسٹر رمیش نے یہ بھی دلیل دی کہ واشنگٹن کے اقدامات کا جواب دینے کے لیے حکومت کے پاس قانونی اور ریگولیٹری آپشنز موجود ہیں، جن میں ڈیجیٹل پرسنل ڈیٹا پروٹیکشن ایکٹ، 2023 اور اس کے نفاذ کے ضابطے شامل ہیں۔
انہوں نے الزام لگایا کہ وزیر اعظم مودی “گیانیش گیٹ” کے گرد گھومنے والے ملکی سیاسی تنازع کی وجہ سے کارروائی کرنے سے ہچکچا رہے ہیں۔ “گیانیش گیٹ” الیکشن کمیشن آف انڈیا کے کام کاج اور ووٹر فہرستوں کی جاری خصوصی تفصیلی نظر ثانی (ایس آئی آر) پر چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے خلاف اپوزیشن کی مہم ہے۔
کانگریس رہنما کی اس مداخلت نے سیاسی بحث میں دو انتہائی متنازعہ امور کو ایک ساتھ لا کھڑا کیا ہے: امریکی امیگریشن اور معاشی پالیسیوں کے تحت ہندوستانی ٹیکنالوجی پیشہ ور افراد کے ساتھ سلوک، اور وہ شرائط جن پر مودی حکومت ٹرمپ انتظامیہ کے ساتھ روابط بڑھا رہی ہے۔ ہندوستانی آئی ٹی سروسز کمپنیاں اور ٹیکنالوجی پیشہ ور افراد طویل عرصے سے امریکی مارکیٹ تک رسائی پر منحصر رہے ہیں، جس کی وجہ سے ویزا ضابطہ، کام کی اجازت کی ضروریات اور متعلقہ اخراجات میں تبدیلیاں اس شعبے کے لیے انتہائی اہمیت کی حامل ہیں۔
کسی بھی اضافی پابندی یا مالی بوجھ کے اثرات دونوں ممالک میں کام کرنے والے ہندوستانی کارکنوں، مالکان اور ٹیکنالوجی کے کاروبار پر پڑ سکتے ہیں۔
مرچنٹ ڈسکاؤنٹ ریٹس (ایم ڈی آر) کے حوالے سے مسٹر رمیش کا اشارہ ڈیجیٹل ادائیگیوں کی پروسیسنگ سے متعلق چارجز سے ہے۔ یہ سوال کہ ان چارجز کا بوجھ کون اٹھاتا ہے، ادائیگی کی پروسیسنگ کے اخراجات کیسے تقسیم ہوتے ہیں اور کون سے سروس فراہم کنندگان مستفید ہوتے ہیں، تاجروں، صارفین اور ڈیجیٹل ادائیگیوں کے نظام میں کام کرنے والی کمپنیوں کے لیے اہم نتائج رکھتا ہے۔
مسٹر رمیش نے الزام لگایا کہ حکومت کے موقف سے امریکی کمپنیوں کو فائدہ ہوگا، لیکن ان کی پوسٹ میں اس مخصوص دعوے کو ثابت کرنے کے لیے مزید تفصیلات فراہم نہیں کی گئی تھیں۔
2023 میں نافذ العمل ہونے والا ڈیجیٹل پرسنل ڈیٹا پروٹیکشن ایکٹ ڈیجیٹل ذاتی ڈیٹا کی پروسیسنگ کے لیے ہندوستان کے قانونی ڈھانچے کو قائم کرتا ہے۔ یہ ایسے ڈیٹا کو سنبھالنے والے اداروں کے لیے ذمہ داریاں متعین کرتا ہے اور افراد کے لیے تحفظات فراہم کرتا ہے۔
تاہم، یہ قانون کسی دوسرے ملک کے خلاف جوابی کارروائی کے لیے عام مقصد کا ذریعہ نہیں ہے۔ اس ایکٹ یا اس کے ضابطہ پر مبنی کسی بھی ردعمل کو حالات پر لاگو ہونے والے مخصوص احکام پر مبنی ہونا پڑے گا اور ہندوستان کی قانونی ذمہ داریوں کے مطابق رہنا ہوگا۔
“گیانیش گیٹ” کا حوالہ الیکشن کمیشن کے طرز عمل اور ووٹر فہرستوں کی نظر ثانی پر کانگریس اور بی جے پی کے درمیان وسیع تر تصادم کی بھی عکاسی کرتا ہے۔ اپوزیشن جماعتوں نے ایس آئی آر کے عمل پر سوال اٹھائے ہیں اور چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار سے جواب دہی کا مطالبہ کیا ہے، جبکہ پول پینل نے اپنے طریقوں کا دفاع کیا ہے۔
اس تنازع کو واشنگٹن کے ساتھ ہندوستان کے روابط سے جوڑ کر مسٹر رمیش نے مودی حکومت پر اپنے سیاسی حملے کو اندرونی انتخابی مسائل سے آگے بڑھا کر خارجہ تعلقات اور معاشی پالیسی سے نمٹنے تک وسعت دینے کی کوشش کی ہے۔
مسٹر رمیش نے ڈیٹا پروٹیکشن قانون کی ان مخصوص دفعات کی نشاندہی نہیں کی جن کا حکومت سہارا لے سکتی ہے، اور نہ ہی انہوں نے واشنگٹن کے اقدامات کے جواب میں ہندوستان کے لیے جوابی اقدامات کی وضاحت کی۔ اس کے باوجود ان کے تبصروں نے مودی حکومت پر اپنی وسیع تر تنقید کے حصے کے طور پر ہندوستانی ٹیکنالوجی پیشہ ور افراد کے تحفظ، امریکی مارکیٹ میں ہندوستانی کاروبار کے ساتھ سلوک اور ہندوستان اور امریکہ کے معاشی روابط کی شرائط کو شامل کرنے کے کانگریس کے ارادے کا اشارہ دیا ہے۔
یو این آئی ایف اے
ہندوستان
ہندستان اور لائبیریا نے سمندری جہازوں اور ملاحوں پر حملوں کی شدید مذمت کی، فوری طور پرروک لگانے کا مطالبہ کیا
نئی دہلی، ہندستان اور لائبیریا نے خلیجی خطے اور اس کے آس پاس کے علاقوں نیز بحیرہ اسود میں گزشتہ چند دنوں میں تجارتی جہازوں اور ملاحوں پر ہوئے حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے انہیں فوری طور پر روکے جانے کا مطالبہ کیا ہے۔
اقوام متحدہ میں ہندستان کے مستقل مشن نے جمعرات کی دیر رات سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ میں کہا کہ دونوں ملکوں نے ایک مشترکہ بیان میں کہا ہے کہ ان حملوں سے سمندری تجارت متاثر ہوتی ہے اور بے گناہ لوگوں کی جانیں جاتی ہیں۔ ایسے افعال کو کسی بھی طرح درست نہیں ٹھہرایا جا سکتا۔ دونوں ملکوں نے خطے میں امن و استحکام برقرار رکھنے کے لیے ان حملوں کو فوری طور پر روکنے کی اپیل کی۔
ہندستان اور لائبیریا نے کہا ہے کہ وہ ایسے حملوں کو دوبارہ ہونے سے روکنے کے لیے باہمی تعاون بڑھانے اور ملاحوں کے حقوق کے تحفظ میں ایک دوسرے کی مدد کے لیے تیار ہیں۔
ہندستان اور لائبیریا نے حملوں میں جان گنوانے والے ملاحوں کے اہل خانہ سے تعزیت کا اظہار کیا۔ ساتھ ہی، زخمیوں کی جلد صحتیابی کی خواہش کی۔
قابل ذکر ہے کہ ہندستان اور لائبیریا نے گزشتہ ماہ سمندری جہازوں اور ملاحوں کی سکیورٹی کے لیے دوست ممالک کے گروپ ایس 4 کی شروعات کی تھی۔
یواین آئی۔الف الف
ہندوستان
جنتر منتر پر مظاہرے کے لیے 10 دن پہلے درخواست کی شرط بے تکی: کانگریس
نئی دہلی، کانگریس نے جنتر منتر پر مظاہرے کے لیے 10 دن پہلے درخواست دینے کی شرط پر اعتراض ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ کسی واقعے پر فوری احتجاج کے لیے لوگوں کو اتنے دن انتظار کرنے پر مجبور نہیں کیا جا سکتا۔
کانگریس کے اتر پردیش انچارج راجندر پال گوتم نے بدھ کے روز یہاں پارٹی ہیڈکوارٹر میں ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ یہ خبر حیران کن ہے کہ جنتر منتر پر کسی بھی مظاہرے کے لیے کم از کم 10 دن پہلے درخواست دینی ہوگی۔ انہوں نے دہلی پولیس کے اس فرمان پر اعتراض ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ اگر آج کسی کے ساتھ ظلم ہو جائے، کسی کا بے رحمی سے قتل ہو جائے یا جمہوریت پر حملہ کر دیا جائے تو کیا لوگوں کو اس کے احتجاج کے لیے 10 دن انتظار کرنا ہوگا؟
انہوں نے کہا کہ انہیں نہیں لگتا کہ سپریم کورٹ یا کسی حکومت نے ایسا کوئی قانون بنایا ہے یا بنا سکتی ہے کہ ایک آزاد ملک میں لوگ اپنے بنیادی حقوق کا استعمال کرنے کے لیے اتنے دن انتظار کریں۔
کانگریسی رہنما نے کہا کہ آئین شہریوں کو اظہارِ رائے کی آزادی دیتا ہے اور دھرنا- مظاہرے کے ذریعے حکومت پر دباؤ بنانے کا حق بھی دیتا ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ بھارتیہ جنتا پارٹی تحقیاقی ایجنسیوں کا استعمال کر رہی ہے اور الیکشن کمیشن کو بی جے پی کی ‘بی ٹیم’ بنا دیا گیا ہے۔
مسٹر گوتم نے کہا کہ جواب دہی سے بچنے کے لیے وزیرِ داخلہ امت شاہ پولیس کو آگے کر دیتے ہیں اور گزشتہ دو دنوں میں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی کے ساتھ پولیس نے جس طرح کا سلوک کیا، وہ شرمناک ہے۔
یواین آئی ایف اے
-
جموں و کشمیر1 week agoسری نگر پولیس نے بین ریاستی منشیات نیٹ ورک کا پردہ فاش کیا، آٹھ افراد گرفتار
-
دنیا1 week agoقطری ثالثی کی امریکہ، ایران کے درمیان مذاکرات میں معمولی پیش رفت
-
دنیا1 week agoروس پر براہِ راست حملے کی صورت میں ہر قسم کے ہتھیار استعمال کرنےکا معاملہ ایجنڈے پر ہو گا :پوتن
-
جموں و کشمیر7 days agoگاندھی کے عدم تشدد اور سودیشی کے نظریات آج بھی اہم ہیں: جموں کے ڈویژنل کمشنر
-
ہندوستان7 days agoوندے بھارت نے چِناب پل اور کیبل اسٹڈ انجی پل کو 100 کلومیٹر کی رفتار سے عبور کیا
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر میراتھن اتحاد اور نوجوانوں کے متبادل خواہشات کا پیغام دیتی ہے: ایل جی سنہا
-
دنیا6 days agoخمیس مشیط کی جانب داغے گئے تین حوثی بیلسٹک میزائل تباہ
-
ہندوستان1 week agoڈیفنس اکاؤنٹس ڈیپارٹمنٹ کے 279ویں سالانہ دن پر کئی نئی پہل کی شروعات کریں گے راج ناتھ
-
جموں و کشمیر1 week agoجاوید ڈار نے اسمبلی میں سی اے جی کی رپورٹیں پیش کیں
-
ہندوستان1 week agoشیئر بازاروں میں گراوٹ جاری، سینسیکس 49 پوائنٹس پھسلا
-
دنیا1 week agoایران امریکہ سے مذاکرات کی کوشش جاری رکھے گا: پیزشکیان
-
جموں و کشمیر1 week agoاپوزیشن لیڈر کا عمر پر ریاستی حیثیت کی بحالی کے مطالبے کو ’سبوتاژ‘ کرنے کا الزام، جموں و کشمیر اسمبلی کا اجلاس ’بدقسمت‘ قرار
