تازہ ترین
چھترگام خونین معرکہ آرائی: لشکرکمانڈرنویڈجھٹ ساتھی سمیت جاں بحق؛ 3فوجی اہلکارزخمی ،مکمل رپورٹ
خبراردو:
وسطی ضلع بڈگام میں بدھ کوعلی الصبح اسوقت موبائل اٹرنیٹ سروس معطل کرنے کیساتھ ساتھ ریل سروس بھی روک دی گئی جب اس ضلع کے کاٹھپورہ چھترگام علاقہ میں موجودجنگجوؤں اورفوج وفورسزکے درمیان معرکہ آرائی شروع ہوئی ۔پولیس ذرائع نے بتایاکہ جنگجوؤں کی موجودگی سے متعلق مصدقہ اطلاع ملتے ہی فوج کی50آرآر،سی آرپی ایف اورریاستی پولیس کے اسپیشل آپریشن گروپ سے وابستہ اہلکاروں نے کاٹھ پورہ چھترگام گاؤں کوبدھ کوصبح صادق سے پہلے ہی چاروں اطراف سے محاصرے میں لے لیا۔ذرائع کے مطابق صبح کے وقت جب علاقے میں تلاشی کارروائی شروع کی گئی توایک مکان میں موجودجنگجوؤں نے اندھادھندفائرنگ شروع کردی ،جسکے نتیجے میں تین فوجی اہلکارزخمی ہوگئے جن کوفوری طوروہاں سے نکال کراسپتال منتقل کیاگیا۔پولیس ذرائع نے بتایاکہ محاصرے میں پھنسے جنگجوؤں کیخلاف سیکورٹی دستوں نے جوابی آپریشن عمل میں لایاتوطرفین کے درمیان شدیدگولی باری شروع ہوئی ۔مقامی لوگوں نے بتایاکہ جنگجوؤں اورفوج وفورسزکے درمیان گولی باری کی وجہ سے ہی یہاں لوگ جاگے اورپورے گاؤں میں ایسی دہشت پھیل گئی کہ کسی نے گھرسے باہرآنے کی جرات تک نہ کی ۔انہوں نے کہاکہ باہرگولیاں چلنے اوردھماکوں کی گونج نے خوف ودہشت کی صورتحال پیداکردی ۔تاہم اسکے باوجودنوجوان گھروں سے باہرآئے اورانہوں نے انکاؤنٹرکیخلاف مظاہرے شروع کردئیے ۔
پولیس ذرائع نے جنگجومخالف آپریشن کے دوران احتجاجی مظاہرے ہونے اورمشتعل افرادکی جانب سے سنگباری کئے جانے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایاکہ اس سب کے باوجودجنگجوؤں کیخلاف کارروائی جاری رکھی گئی ۔انہوں نے بتایاکہ ایک جانب فوج ،فورسزاورایس اؤجی اہلکارملکرجنگجوؤں کیخلاف نبردآزمارہے اوردوسری جانب پولیس وفورسزاہلکارمظاہرین کومنتشرکرنے کی کارروائی میں جٹ گئے ۔پولیس ذرائع نے بتایاکہ کچھ گھنٹوں تک گولی باری کاسلسلہ جاری رہنے کے بعدجب یہ سلسلہ تھم گیاتوفوج وفورسزاہلکاروں نے جھڑپ کے دوران تباہ شدہ مکان کے ملبے کی تلاشی لی ،اوریہاں سے مارے گئے دوجنگجوؤں کی نعشیں اوراسلحہ وگولی بارودبھی برآمدکیاگیا۔پولیس ترجمان نے بعدازاں اپنے جاری کردہ بیان میں بتایاکہ کاٹھ پورہ چھترگام بڈگام میں مارے گئے دونوں جنگجوؤں کی نعشوں کوپولیس لائنزبڈگام پہنچاگیاجہاں انکی شناخت کاعمل شروع کیاگیا۔
بیان میں بتایاگیاکہ مارے گئے ایک جنگجوکی شناخت لشکرطیبہ کے آپریشنل کمانڈراورسینئرصحافی شجاعت بخاری کی ہلاکت میں ملوث مطلوب ترین جنگجوکمانڈرنویدجٹ عرف حنزلہ کے بطورہوئی تاہم شام دیر گئے دوسرے جنگجو کی شناخت معراج الدین خان ولد مشتاق احمد خان ساکن نیو کالونی سوپور کے طور پر ہوئی۔ معلوم ہوا ہے کہ معراج الدین 5اکتوبر 2018کو جنگجوؤں کی صف میں شامل ہوا تھا۔ پولیس ترجمان نے بیان میں کہاکہ نویدجٹ عرف حنزلہ 2012میں کچھ ساتھیوں کے ہمراہ دراندازی کرکے کشمیرمیں داخل ہواتھا،اوریہاں سرگرم ہوگیا۔تاہم شا م دیر گئے جھڑپ میں مارے گئے دوسرے جنگجو کی شناخت سے متعلق تذبذب برقرار رہا جبکہ پولیس نے بھی مہلوک جنگجو کی شناخت کے حوالے سے کچھ بھی نہیں کہا۔اس دوران علاقہ میں جنگجومخالف مظاہرین اورپولیس وفورسزکے درمیان شدیدٹکراؤکی صورتحال پیداہوئی اورسنگباری کرنے والے مشتعل مظاہرین کومنتشرکرنے کیلئے فورسزنے آنسوگیس کے گولے داغے ،پیلٹ بندوق کااستعمال کیااورگولیوں کے کئی راؤنڈبھی فائرکئے ،جسکے نتیجے میں متعددمظاہرین کے زخمی ہوجانے کی اطلاع ہے ،جن میں سے گولی اورپیلٹ فائرلگنے سے زخمی ہوئے نصف درجن شہریوں کوسری نگرمنتقل کیاگیا۔
چھترگام اور ملحقہ علاقوں میں نوجوانوں کی بڑی تعداد نے فورسز کارروائی میں رخنہ ڈالنے کی خاطر یہاں موجود اہلکاروں پر سنگ باری کی جس کے جواب میں فورسز نے احتجاج کررہے نوجوانوں پر طاقت کا استعمال کرتے ہوئے انہیں منشتر کرنے کی کوشش کی۔ معلوم ہوا ہے کہ فورسز نے اس دوران احتجاجی مظاہرین کو منشتر کرنے کی غرض سے ٹیرگیس شلنگ، ہوائی فائرنگ اور پیلٹ گن کا استعمال کیا جس کے جواب میں کئی افراد زخمی ہوئے جن میں کئی افراد کو سرینگر کے مختلف ہسپتالوں میں منتقل کیا گیا جہاں ان کا علاج و معالجہ جاری ہے۔
ہندوستان
مودی حکومت کی پالیسیوں نے معاشی لبرلائزیشن کو برباد کر دیا: کھرگے
نئی دہلی، کانگریس صدر ملکارجن کھرگے نے مودی حکومت کی معاشی پالیسیوں پر شدید نکتہ چینی کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس حکومت نے عام لوگوں کے مفادات کو نظر انداز کر کے صارفین کے لیے متعدد اختیارات کی مسابقت کو ختم کر دیا ہے اور منتخب سرمایہ دار دوستوں کو فائدہ پہنچایا جا رہا ہے، جس سے معاشی لبرلائزیشن کی بنیاد برباد ہو گئی ہے۔
مسٹر کھرگے نے جمعہ کے روز سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ایکس’ پر لکھا کہ مودی حکومت کی معاشی پالیسیوں کا مقصد معیشت کا کنٹرول اپنے چہیتے سرمایہ دار دوستوں کے ہاتھوں میں سونپنا ہے، تاکہ بدلے میں منافع میں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کا حصہ برقرار رہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ مسابقت کو ختم کر کے اجارہ داری اور دو کمپنیوں کے غلبے والے نظام کو نافذ کر کے بی جے پی کے خزانے کو بھرنے کا کام کیا گیا ہے۔
کانگریس صدر نے کہا کہ ٹیلی کام کے شعبے میں 2014 سے پہلے 13 کمپنیاں تھیں، جبکہ اب صرف تین بڑی نجی کمپنیاں رہ گئی ہیں۔ اسی طرح اندرونِ ملک ہوا بازی کے شعبے میں 2014 سے پہلے سات کمپنیوں کے مقابلے اب صرف دو بڑی کمپنیاں رہ گئی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ڈیجیٹل ادائیگی، سیمنٹ اور فوڈ ڈیلیوری ایپس سمیت مختلف شعبوں میں حکومت کی ترجیح مسابقت کو ختم کرنا رہی ہے۔ مسٹر کھرگے نے کہا کہ کانگریس معاشی لبرلائزیشن کی بانی ہے، جبکہ بی جے پی پر اپنے منافع کے لیے ‘معاشی دہشت گردی’ نافذ کرنے کا الزام لگایا۔
مسٹر کھرگے نے دعویٰ کیا کہ حکومت کی معاشی پالیسیوں سے مائیکرو، اسمال اینڈ میڈیم انٹرپرائزز (ایم ایس ایم ای) اور دیگر چھوٹے و درمیانے درجے کی صنعتوں کو نقصان پہنچا ہے نیز ملک کے نوجوانوں کو شدید بے روزگاری کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
یواین آئی ایف اے
ہندوستان
انڈیا اتحاد کے رہنماؤں سے جمعہ کی رات آٹھ بجے ملاقات کریں گی مرمو
نئی دہلی، انڈیا اتحاد کے رہنما جمعہ کی رات آٹھ بجے صدرِ جمہوریہ دروپدی مرمو سے ملاقات کر کے ووٹر لسٹ کی خصوصی تفصیلی نظرثانی (ایس آئی آر) کےعمل کے ذریعے دھاندلی کرنے اور الیکشن کمیشن کے طریقہ کار سے متعلق مسائل پر اپنے خدشات پیش کریں گے۔
ذرائع کے مطابق انڈیا اتحاد کے رہنماؤں نے 30 ستمبر کو یہاں منعقدہ میٹنگ میں صدرِ جمہوریہ سے ملاقات کر کے ان مسائل پر ان کے سامنے اپنا موقف رکھنے کا فیصلہ کیا تھا۔ اتحاد کے رہنما ایس آئی آر کے عمل اور چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے طریقہ کار سے متعلق اپنے خدشات سے صدرِ جمہوریہ کو آگاہ کرنا چاہتے ہیں۔
اس سلسلے میں صدرِ جمہوریہ سے ملاقات کے لیے پہلی بار دو اکتوبر کو مکتوب بھیج کر وقت مانگا گیا تھا۔ راشٹرپتی بھون کی طرف سے وفد میں شامل ہونے والے رہنماؤں کے نام مانگے جانے کے بعد اتحاد نے پانچ اکتوبر کو دوبارہ مکتوب بھیجا اور سات، آٹھ یا نو اکتوبر میں سے کسی بھی دن ملاقات کا وقت دینے کی درخواست کی تھی۔
انڈیا اتحاد کے رہنما چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار پر ووٹر لسٹ میں مبینہ دھاندلیوں کے تعلق سے سوال اٹھاتے ہوئے ان کے استعفے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ اس معاملے پر اتحاد کے اراکینِ پارلیمنٹ نے مظاہرے اور مارچ بھی نکالے ہیں۔
کانگریس نے الیکشن کمیشن کے خلاف اپنے احتجاج کو تیز کرنے کے لیے تقریباً ڈیڑھ ماہ تک جاری رہنے والی تحریک کے پروگرام کی بھی توثیق کی ہے۔ کانگریسی رہنما راہل گاندھی اور پرینکا گاندھی واڈرا کو پولیس مظاہرے کے دوران مسلسل دو بار حراست میں بھی لے چکی ہے۔
یواین آئی ایف اے
ہندوستان
ہندوستان نے امریکہ کے پی ای آر ایم پروگرام پر روک پر تشویش کا اظہار کیا، کہا – یہ دونوں ممالک کے مفادات کے خلاف
نئی دہلی، ہندوستان نے امریکی محکمہ محنت کے مستقل لیبر سرٹیفیکیشن پروگرام (پی ای آر ایم) سے جڑے فیصلے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسے دونوں ممالک کے مفادات کے خلاف بتایا ہے۔
امریکہ کی جانب سے جمعرات کی رات اس قدم کے اعلان کے بعد وزارتِ خارجہ نے جمعہ کے روز ایک بیان جاری کر کے کہا کہ اس قدم سے متاثرہ کمپنیوں کے اہل ملازمین کے گرین کارڈ کے عمل پر اثر پڑ سکتا ہے۔ تاہم پی ای آر ایم درخواستوں پر روک سے موجودہ ایچ-1بی ویزا یا ویزا ہولڈرز اور ان کے زیرِ کفالت افراد کی حیثیت پر خود بخود کوئی اثر نہیں پڑتا۔
ہندوستان نے کہا کہ پی ای آر ایم پروگرام، ایچ-1بی ویزا پروگرام سے مختلف ہے۔ متاثرہ کمپنیوں کے اہل ملازمین کی مستقل رہائش یعنی گرین کارڈ حاصل کرنے کے عمل پر اس کا کچھ اثر ہو سکتا ہے، لیکن اس سے موجودہ ایچ-1بی ویزا کی میعاد اپنے آپ ختم نہیں ہوتی۔
وزارتِ خارجہ نے کہا ہے کہ ہندوستانی ٹیلنٹ کے امریکہ جانے سے دونوں ممالک کی معیشتوں کو فائدہ ہوتا ہے۔ اس سے ہندوستانیوں کو مواقع ملتے ہیں، جبکہ امریکی کمپنیوں کو ہنر مند ملازمین، نئی ٹیکنالوجی، تحقیق، جدت طرازی، پیداواری صلاحیت اور مسابقتی صلاحیت بڑھانے میں مدد ملتی ہے۔ اس سے امریکہ میں روزگار کے مواقع پیدا ہوتے ہیں اور شیئر ہولڈرز کے اثاثوں میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔
ہندوستان نے کہا کہ امریکہ کا یہ قدم دونوں ممالک کے مشترکہ اہداف کو آگے بڑھانے میں مدد نہیں کرتا۔ ہندوستان نے امریکی نائب صدر کے اس معاملے پر کیے گئے تبصروں پر بھی اعتراض ظاہر کیا۔ ہندوستان کے مطابق ایسے تبصرے غیر مناسب ہیں اور امریکہ کی معیشت نیز جدت طرازی میں ہندوستانی پیشہ ور افراد کی خدمات کو نظر انداز کرتے ہیں۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ ہندوستانی پیشہ ور افراد امریکہ کی معیشت اور جدت طرازی کے نظام میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ امریکہ کی تاریخ بھی ایسے تارکینِ وطن کی خدمات سے بنی ہے جنہوں نے اپنے کام، کاروبار اور نئے خیالات سے ملک کی ترقی میں مدد کی ہے۔ ہندوستان نے کہا کہ دردناک تاریخی اور نوآبادیاتی دور کی یاد دلانے والے الفاظ کا استعمال انتہائی قابلِ اعتراض ہے۔
وزارتِ خارجہ نے کہا کہ وہ اس معاملے سے جڑی صورتحال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہے۔
یواین آئی ایف اے
-
جموں و کشمیر1 week agoسری نگر پولیس نے بین ریاستی منشیات نیٹ ورک کا پردہ فاش کیا، آٹھ افراد گرفتار
-
دنیا1 week agoقطری ثالثی کی امریکہ، ایران کے درمیان مذاکرات میں معمولی پیش رفت
-
دنیا1 week agoروس پر براہِ راست حملے کی صورت میں ہر قسم کے ہتھیار استعمال کرنےکا معاملہ ایجنڈے پر ہو گا :پوتن
-
ہندوستان1 week agoوندے بھارت نے چِناب پل اور کیبل اسٹڈ انجی پل کو 100 کلومیٹر کی رفتار سے عبور کیا
-
جموں و کشمیر7 days agoگاندھی کے عدم تشدد اور سودیشی کے نظریات آج بھی اہم ہیں: جموں کے ڈویژنل کمشنر
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر میراتھن اتحاد اور نوجوانوں کے متبادل خواہشات کا پیغام دیتی ہے: ایل جی سنہا
-
ہندوستان1 week agoشیئر بازاروں میں گراوٹ جاری، سینسیکس 49 پوائنٹس پھسلا
-
دنیا6 days agoخمیس مشیط کی جانب داغے گئے تین حوثی بیلسٹک میزائل تباہ
-
ہندوستان1 week agoڈیفنس اکاؤنٹس ڈیپارٹمنٹ کے 279ویں سالانہ دن پر کئی نئی پہل کی شروعات کریں گے راج ناتھ
-
جموں و کشمیر1 week agoجاوید ڈار نے اسمبلی میں سی اے جی کی رپورٹیں پیش کیں
-
دنیا1 week agoایران امریکہ سے مذاکرات کی کوشش جاری رکھے گا: پیزشکیان
-
جموں و کشمیر1 week agoاپوزیشن لیڈر کا عمر پر ریاستی حیثیت کی بحالی کے مطالبے کو ’سبوتاژ‘ کرنے کا الزام، جموں و کشمیر اسمبلی کا اجلاس ’بدقسمت‘ قرار
