ہندوستان
چھتیس گڑھ میں سڑک حادثے میں 18 مزدوروں کی موت، چار زخمی، سائی نے اظہار افسوس کیا
کاواردھا، چھتیس گڑھ کے کبیردھام ضلع کے ککڈور تھانہ علاقے کے باہپانی گاؤں کے نزدی پیر کو ان کی پک اپ گاڑی الٹ جانے سے 18 قبائلی مزدوروں کی موت اور چار دیگر زخمی ہو گئے۔ دریں اثنا، ریاست کے وزیر اعلی وشنو دیو سائی نے حادثے پر گہرے دکھ کا اظہار کیا ہے۔
بتایا جاتا ہے کہ تمام قبائلی کارکن تندو کے پتے توڑنے جنگل گئے تھے، وہاں سے واپسی کے دوران پک اپ گاڑی بے قابو ہو کر الٹ گئی اور گہری کھائی میں جاگری۔
اس حادثے میں 18 افراد ہلاک اور چار مزدور زخمی ہو گئے۔ یہ حادثہ ککدور تھانہ کے باہپالی گاؤں کے نزدیک پیش آیا۔
کبیردھام کے پولیس سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر ابھیشیک پلاو نے اس واقعہ کی تصدیق کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حادثے کی اطلاع ملتے ہی پولیس ٹیم کو موقع پر روانہ کردیا گیا۔
دریں اثناء وزیر اعلیٰ سائی نے اس المناک واقعہ پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا ہے۔
مسٹر سائی نے ایکس پر لکھا ہے کہ کبیر دھام ضلع کے کوکدور تھانہ علاقے کے باہپانی گاؤں کے نزدیک پک اپ کے الٹ جانے سے 18 گاوں والوں کی موت اور چار کے زخمی ہونے کی افسوسناک خبر موصول ہونے پر وہ افسردہ ہیں۔ زخمیوں کے بہتر علاج کے لیے ضلعی انتظامیہ کو ضروری ہدایات دے دی گئی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ وہ بھگوان سے مرحوم کی روح کے سکون کی پرارتھنا کرتے ہیں اور ان کے اہل خانہ سے دلی تعزیت کا اظہار کرتے ہیں۔ میں زخمیوں کی جلد صحت یابی کی خواہش کرتا ہوں۔
اس واقعے میں مرنے والوں کے نام درج ذیل ہیں: 1۔ ملا بائی (48) شوہر بنجاری، 2. ٹکو بائی (40) شوہر گلاب سنگھ، 3. سرداری (45) ولد سلاب گونڈ، 4. جنیا بائی (35) شوہر جناؤ گونڈ، 5. منگیا بائی (60) شوہر بجرو ماراوی 6. جھنگلو بائی (62) شوہر دھنیرام، 7. سیا بائی (50) شوہر تریت گونڈ، 8. کرن (15) ولد شیو ناتھ، 9. پٹورین بائی (35) شوہر دیارام گونڈ، 10. دھنایا بائی (48) شوہر سریداری گونڈ، 11۔ شانتی بائی (35) شوہر شیو ناتھ، 12۔ پیاری بائی (40) شوہر پھول چند، 13. سونم بائی (16) ولد پھول چند، 14. وسمت بائی (45)، 15. لیلا بائی (35) شوہر مان سنگھ، 16. پرسدیا بائی (30) شوہر رام چندر، 17. بھارتی ( 13) ولد مان سنگھ اور 18. سنتی بائی (45) شوہر مدن سنگھ (تمام کا تعلق شیڈولڈ ٹرائب سے تھا)۔
یو این آئی۔ م ع۔ 1719
ہندوستان
طلبہ پر کارروائی کے معاملے پر حکومت کو گھیرتے ہوئے راہل کا مضمون، کھڑگے اور پرینکا نے حمایت کی
نئی دہلی، کانگریس کے سابق صدر اور لوک سبھا میں اپوزیشن کے رہنما راہل گاندھی نے طلبہ کے احتجاج کے دوران پولیس کی کارروائی کو لے کر حکومت پر حملہ کرتے ہوئے ایک انگریزی روزنامے میں مضمون لکھا ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ نوجوانوں کی آواز دبانے کے لیے ان کے خلاف کارروائی کی گئی ہے، جس پر حکومت کو جواب دینا ضروری ہے۔
مسٹر گاندھی کے اس مضمون کی حمایت کرتے ہوئے کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے اور پارٹی کی جنرل سکریٹری پرینکا گاندھی واڈرا نے کہا ہے کہ طلبہ کے خلاف کارروائی کے لیے وزیر داخلہ امت شاہ ذمہ دار ہیں۔
انگریزی روزنامے ’دی ہندو‘ میں شائع اپنے مضمون میں مسٹر گاندھی نے طلبہ پر طاقت کے استعمال کا ذکر کرتے ہوئے کہا ہے کہ اپنے مستقبل کے بارے میں سوال پوچھنے والے طلبہ پر پیلٹ گن، کیل لگی لاٹھیاں اور آنسو گیس استعمال کی گئی۔
انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی حقیقت سے پوری طرح کٹ چکے ہیں اور طلبہ کی یہ تحریک ان کے لیے ایک انتباہ ہے کہ ملک کے نوجوان بیدار ہو چکے ہیں۔
مسٹر گاندھی نے کہا کہ نوجوانوں کے درمیان وزیر اعظم کی شبیہ تباہ ہو چکی ہے اور اسے دوبارہ بحال نہیں کیا جا سکتا۔
ملک کے نوجوان مسٹر مودی، مسٹر شاہ یا کسی افسر کو ان کے اقدامات کے نتائج سے بچنے نہیں دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن نوجوانوں کے ساتھ کھڑی ہے اور ان مبینہ جرائم کو سزا کے بغیر نہیں جانے دے گی۔
مسٹر کھڑگے نے مسٹر گاندھی کے مضمون کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے اپنے مضمون کے ذریعے نوجوانوں کی آواز کو مضبوطی سے اٹھایا ہے۔ کانگریس صدر نے کہا کہ نوجوانوں کے ساتھ ہوئی زیادتی کا جواب حکومت کو دینا ہوگا۔
محترمہ واڈرا نے بھی مسٹر گاندھی کے الزامات کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ پارلیمنٹ سے محض 500 میٹر کی دوری پر طلبہ کے خلاف وحشیانہ کارروائی کی گئی اور اس کی ذمہ داری مسٹر شاہ کی ہے۔
انہوں نے راہل گاندھی کے حوالے سے کہا کہ اس معاملے میں صرف 2 امکانات ہیں—یا تو وزیر داخلہ نے طلبہ کے خلاف کارروائی کی اجازت دی، ایسی صورت میں وہ ذمہ دار ہیں، یا پھر انہیں اس کی اطلاع ہی نہیں تھی، تو یہ ان کی مکمل نااہلی کو ظاہر کرتا ہے۔ دونوں صورتوں میں وزیر داخلہ کی حیثیت سے اس واقعے کی ذمہ داری انہی کی ہے اور انہیں استعفیٰ دینا چاہیے۔
راہل گاندھی نے ایک اور تبصرے میں کہا کہ نوجوان خواتین کے ساتھ پولیس اہلکاروں نے مارپیٹ کی، کئی طلبہ زخمی ہوئے اور نابالغ طلبہ کی ہڈیاں تک ٹوٹنے کی بات سامنے آئی۔ انہوں نے سوال کیا کہ حکومت طلبہ کے سوالوں کا جواب اس طرح کیوں دے رہی ہے۔
انہوں نے الزام لگایا کہ واقعے کے تقریباً 20 دن بعد بھی وزیر داخلہ امت شاہ پارلیمنٹ میں اس معاملے پر جواب دینے نہیں آئے ہیں اور بحث کے لیے اپوزیشن کی جانب سے پیش کی گئی ہر تجویز کو مسترد کر دیا گیا ہے۔
مسٹر گاندھی نے کہا کہ وزیر داخلہ کی خاموشی محض کوتاہی نہیں ہے، بلکہ یہ تشدد کو منظوری دینے کے مترادف ہے۔ انہوں نے پورے معاملے کی سپریم کورٹ کی نگرانی میں تحقیقات کرانے کا مطالبہ کیا اور کہا کہ اپوزیشن طلبہ کو انصاف دلانے اور ذمہ دار لوگوں کی جواب دہی طے ہونے تک اپنی جدوجہد جاری رکھے گی۔
یو این آئی ایم جے
ہندوستان
راہل گاندھی کا مودی اور امت شاہ پر نوجوانوں کی آواز دبانے کا الزام
نئی دہلی، کانگریس کے سینئر رہنما اور لوک سبھا میں اپوزیشن رہنما راہل گاندھی نے وزیراعظم نریندر مودی اور مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ کو نشانہ بناتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ حکومت جین زی کی آواز کو دبانے کی کوشش کر رہی ہے۔
مسٹر راہل گاندھی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری ایک پوسٹ میں کہا، “مودی اور امت شاہ، آپ جین زی کو خاموش نہیں کرا سکتے۔ پہلے آپ نے ان کی ہڈیاں توڑیں، اب ان کے خلاف ایف آئی آر درج کر رہے ہیں اور ان کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس بند کرا رہے ہیں۔”
انہوں نے مزید کہا، “آپ ہندوستان کا ماضی ہیں، اس لیے ہندوستان کے مستقبل کے ساتھ اپنے رویے میں احتیاط برتیں۔”
راہل گاندھی کے اس بیان کو ملک میں حالیہ واقعات اور نوجوانوں کے خلاف کارروائیوں کے تناظر میں حکومت پر ایک سخت سیاسی حملہ تصور کیا جا رہا ہے۔
یو این آئی۔ م س
ہندوستان
حکومت بتائے، گولی چلانے کا حکم کس نے دیا : کانگریس
نئی دہلی، کانگریس نے کہا ہے کہ حکومت بتائے کہ دہلی میں احتجاج کر رہے طلبہ کے خلاف پولیس کارروائی اوران پر گولی چلانے کا حکم کس نے دیا پارٹی نے کہا کہ اس پورے معاملے میں ملک کے وزیرِ داخلہ امت شاہ کو جواب دینا چاہیے۔
ہمارا یہ بھی سوال ہے کہ وزیرِ داخلہ پارلیمنٹ سے کیوں بھاگ رہے ہیں اور اس مسئلے پر جواب دینے سے کیوں بچ رہے ہیں۔
کانگریس جنرل سکریٹری کے سی وینو گوپال نے جمعرات کو پارلیمنٹ ہاؤس کے احاطے میں صحافیوں سے کہا کہ دہلی میں طلبہ کے خلاف پولیس کارروائی اور گولی چلانے کا حکم کس نے دیا، اس سوال کا جواب وزیرِ داخلہ کو دینا چاہیے اور انہیں پارلیمنٹ میں آنا چاہیے، پارلیمنٹ آنے سے بھاگنا نہیں چاہیے۔
انہوں نے الزام لگایا کہ اپوزیشن کے رہنما کو پارلیمنٹ میں بولنے تک کی اجازت نہیں دی جا رہی ہے۔ حکومت کو طالب علموں پر ہوئی کارروائی کے لیے جوابدہ ہونا چاہیے اور پورے معاملے کی سچائی ملک کے سامنے رکھنی چاہیے۔
یو این آئی۔ ایف اے
