دنیا
چھ روزہ عرب اسرائیل جنگ، جس نے مشرقِ وسطیٰ کو بدل کر رکھ دیا
بعض تاریخ دان اور ماہرین کہتے ہیں کہ اسرائیل کو 1967 کی جنگ میں جو کامیابی حاصل ہوئی تھی وہ عرب اسرائیل تنازع کے حل کے لیے نتیجہ خیز ثابت نہیں ہوسکی بلکہ اس نے صورتِ حال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔
پانچ جون 1967 کو اسرائیل اور عرب ممالک کے مابین شروع ہونے والی جنگ یوں تو صرف چھ دن جاری رہی تھی لیکن اس نے مشرقِ وسطیٰ اور عرب اسرائیل تنازع کے مستقبل کا رخ متعین کر دیا تھا۔
اس جنگ کو ختم ہوئے 54 سال مکمل ہو گئے ہیں۔
تاریخ پر نظر رکھنے والے بین الاقوامی امور کے ماہرین کے مطابق اس جنگ نے اسرائیل کے اپنے پڑوسی عرب ممالک کے ساتھ تعلقات کی راہ بھی متعین کی اور ساتھ ہی امریکہ کے ساتھ اس کے تعلقات بھی ایک نئے دور میں داخل ہوئے۔ اس لیے مبصرین تاریخ کے اس اہم واقعے کے سیاق و سباق اور اس میں حصہ دار بننے والی عالمی طاقتوں کے کردار پر نظر ڈالنے کی ضرورت ایک بار پھر محسوس کر رہے ہیں۔
تاریخی پس منظر
1967 کی عرب اسرائیل جنگ وہ تیسرا موقع تھا جب عرب ممالک اور اسرائیل آمنے سامنے آئے تھے۔اس سے قبل سن 1948 میں عرب اسرائیل جنگ اور 1956 میں مصر کے ساتھ سوئز کینال پر تنازعہ پیدا ہو چکا تھا۔
تاریخ دانوں کے مطابق، پہلی عالمی جنگ تک فلسطین کا علاقہ سلطنتِ عثمانیہ میں شامل تھا۔ جنگ کے بعد 1922 میں اس وقت کے عالمی تنازعات حل کرنے کے لیے قائم کی گئی عالمی تنظیم ‘لیگ آف نیشنز’ نے فلسطین کو برطانیہ کے حوالے کردیا تھا۔ اس انتظام کو ’فلسطین مینڈیٹ‘ کہا جاتا ہے۔ غزہ کا علاقہ بھی اس میں شامل تھا۔
بعدازاں 1947 میں اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی نے اس مینڈیٹ کے اختتام سے قبل ہی فلسطین کو عربوں اور یہودیوں کے لیے الگ الگ ریاستوں میں تقسیم کرنے کے منصوبے کی منظوری دی۔
برطانوی مینڈیٹ 15 مئی 1948 کو ختم ہوا اور اسی دن جنگ کا آغاز ہوا جس کے نتیجے میں اسرائیل کا قیام عمل میں آیا۔ اس جنگ کی ابتدا ہی میں پڑوسی عرب ملک مصر کی افواج غزہ میں داخل ہوگئیں۔ البتہ جنگ کے زور پکڑ جانے کے بعد عربوں کے ہاتھ سے بہت سے علاقے نکل گئے۔
اقوامِ متحدہ نے عربوں اور یہودیوں کے لیے الگ الگ ریاست کا جو فارمولاپیش کیا تھا اس میں یروشلم کو متحد رکھنے کے لیے شہر کو اپنی نگرانی میں ایک بین الاقوامی انتظام کے تحت لانے کی تجویز دی تھی۔ لیکن اس فارمولے پر عمل نہیں ہوسکا۔ بلکہ یروشلم کا حصول اس تنازع کا محور بن گیا۔
بعد ازاں 1949 میں اردن اور اسرائیل نے شہر کی تقسیم کا ایک بندوبست تسلیم کرلیا جس میں مشرقی یروشلم اور قدیم شہر کا علاقہ اردن کے زیرِ کنٹرول آگیا۔ اس کے علاوہ مغربی کنارہ بھی اردن کے پاس ہی تھا۔
مغربی یروشلم اور انیسویں صدی میں تعمیر ہونے والے شہر کے علاقے ریاستِ اسرائیل کے زیرِ انتظام آگئے۔ اس تقسیم کے باعث مغربی یروشلم میں آباد بہت سے مسلمانوں کو اپنا گھر بار چھوڑ کر ہجرت کرنا پڑی۔
مشرقِ وسطیٰ میں اس کے بعد ایک اور بین الاقوامی بحران نے اس وقت جنم لیا جب 26 جولائی 1956 کو مصر کے صدر جمال عبدالناصر نے نہرِ سوئز کو قومیانے کا فیصلہ کیا۔ اس فیصلے سے قبل اس اہم آبی گزر گاہ کا انتظام فرانس اور برطانیہ کی مشترکہ ‘سوئز کینال کمپنی’ کے پاس تھا۔
مصر کی سوویت یونین سے بڑھتی قربت
دوسری جانب جمال عبدالناصر کی سوویت یونین سے قربت بڑھ رہی تھی۔ سن 1955 میں ناصر نے کمیونسٹ ملک چیکو سلوواکیہ سے اسلحے کی خریداری کا معاہدہ طے پانے کا اعلان کیا۔ یہ معاہدہ دراصل سوویت یونین کے ساتھ ہی تھا۔
اس کے ساتھ ہی سوویت یونین سے تعلقات مزید بہتر کرنے کے لیے ناصر نے معاہدۂ بغداد میں شامل ہونے سے بھی انکار کر دیا۔ یہ معاہدہ بعد میں سینٹرل ٹریٹی آرگنائزیشن یا ’سینٹو‘ کہلایا۔ امریکہ کی مدد سے قائم ہونے والا یہ اتحاد مشرقِ وسطیٰ میں سوویت یونین کے بڑھتے قدم روکنے کے لیے تشکیل دیا گیا تھا اور اس میں ترکی، عراق، ایران، پاکستان اور برطانیہ بھی شامل تھے۔
مصر کے ساتھ 1955 میں ہونے والے معاہدے کے بعد سوویت یونین کو مشرقِ وسطیٰ میں قدم جمانے کا موقع مل گیا۔
جمال عبدالناصر کے سوویت یونین کے ساتھ بڑھتے ہوئے مراسم کے باعث امریکہ اور برطانیہ نے دریائے نیل پر اسوان ڈیم تعمیر کے منصوبے کے لیے مصر کو وعدے کے مطابق مالی معاونت فراہم کرنے سے انکار کردیا۔ جمال عبدالناصرکے لیے یہ منصوبہ انتہائی اہم تھا اور اس میں ناکامی کی صورت میں ان کی عوامی مقبولیت متاثر ہوسکتی تھی۔
اس لیے ردِ عمل میں جمال عبدالناصر نے نہر سوئز پر مارشل لا نافذ کر کے سوئز کینال کمپنی کا انتظام حکومت کی تحویل میں لے لیا۔ اس کمپنی میں فرانس اور برطانیہ کی بڑی سرمایہ کاری تھی۔ جمال نے اس اقدام کے ساتھ ہی یہ عندیہ بھی دیا کہ نہرِ سوئز سے گزرنے والے بحری جہازوں سے اسوان ڈیم کی تعمیر کے لیے رقم بھی وصول کی جائے گی۔
اب فرانس اور برطانیہ کو یہ خطرہ لاحق ہوگیا کہ کہیں جمال عبدالناصر نہرِ سوئز کو بند ہی نہ کر دیں۔ اس صورت میں خلیجِ فارس سے مغربی یورپ کو تیل کی فراہمی رک سکتی تھی۔
اس بحران کو حل کرنے کے لیے سفارتی کوششیں بے نتیجہ ثابت ہوئیں تو تاریخ دانوں کے مطابق برطانیہ اور فرانس نے نہرِ سوئز سے ملحقہ علاقے کا کنٹرول حاصل کرنے اور جمال عبدالناصر کو اقتدار سے بے دخل کرنے کے لیے ایک خفیہ منصوبہ بنایا۔
جمال عبدالناصر کے خلاف اس منصوبے میں ساتھ دینے کے لیے انہیں اسرائیل کی صورت میں ایک علاقائی اتحادی پہلے ہی میسر تھا کیوں کہ نہرِ سوئز سے متعلق اقدام سے قبل ہی ناصر نے اسرائیل کے لیے آبنائے تیران کو بند کردیا تھا۔
آبنائے تیران خلیجِ عقبہ کے ذریعے اسرائیل کو بحیرۂ احمر سے ملاتی ہے اور اسرائیل کے لیے تزویراتی اور تجارتی اعتبار سے انتہائی اہمیت کا حامل بحری راستہ ہے۔
اس کے علاوہ 1955 سے 1956 کے دوران مصر کے حمایت یافتہ کمانڈو اسرائیلی علاقوں میں کارروائیاں بھی کر رہے تھے۔
اسرائیل کی نہرِ سوئز کی جانب پیش قدمی
اسرائیل نے 10 اکتوبر 1956 کو مصر پر حملہ کرکے نہرِ سوئز کی جانب پیش قدمی شروع کر دی تھی۔ منصوبے کے مطابق برطانیہ اور فرانس نے اسرائیل اور مصری افواج سے نہرِ سوئز کا علاقہ خالی کرنے کا مطالبہ کیا اور ساتھ ہی اقوامِ متحدہ کی جانب سے جنگ بندی کے احکامات پر عمل درآمد کے لیے اپنی فوجیں میدان میں اتار دیں۔
امریکہ کو خدشہ تھا کہ فرانس اور برطانیہ کے براہِ راست اس تنازع کا حصہ بننے سے سوویت یونین کو بھی خطے میں مداخلت کا موقع مل سکتا ہے۔ اس لیے امریکہ نے اقوامِ متحدہ میں ایک قرارداد پیش کی جس کے بعد 22 دسمبر کو برطانیہ اور فرانس نے اپنی افواج کو واپس بلالیا اور مارچ 1957 میں اسرائیلی فوج بھی واپس چلی گئی۔
اس تنازع کے بعد جمال عبدالناصر عرب اور مصری قوم پرستوں کے ہیرو کے طور پر سامنے آئے۔ اسرائیل کو نہرِ سوئز کے استعمال کا حق تو نہ مل سکا لیکن اس کے لیے آبنائے تیران کا بحری راستہ کھل گیا جب کہ برطانیہ اور فرانس کا مشرقِ وسطیٰ پر اثر و رسوخ بہت محدود ہوگیا۔
چھ روزہ جنگ کیسے شروع ہوئی؟
نہرِ سوئز کے بحران کے بعد اسرائیل اور مصر کی سرحد پر واقع جزیرہ نما سینا میں اقوامِ متحدہ کی ایمرجنسی فورس تعینات کر دی گئی تھی۔
سوئز بحران کے بعد عرب دنیا میں مصر ایک قائد کے طور پر سامنے آیا اور 1958 میں اس نے شام کے ساتھ مل کر ‘یونائیٹڈ عرب ری پبلک’ قائم کرلیا۔ لیکن فیصلہ سازی میں مصر کو حاصل برتری نے شامیوں میں شکایات پیدا کیں اور یہ اتحاد ستمبر 1961 میں ختم ہوگیا۔ البتہ مصر نے 1971 تک یہ نام برقرار رکھا۔
دوسری جانب شام، لبنان اور اُردن میں موجود فلسطینی گوریلا گروپوں کی کارروائیوں میں اضافہ ہو رہا تھا اور انہوں نے اسرائیلی مفادات کو نقصان پہنچانا شروع کر دیا تھا۔ شام کی جانب سے بھی فلسطینی مزاحمت کی حمایت میں اضافہ ہو رہا تھا۔
نومبر 1966 کو اسرائیل نے مغربی کنارے کے ایک گاؤں السموع پر فضائی حملہ کیا۔ اس وقت مغربی کنارہ اردن کے زیرِ انتظام تھا۔ اس حملے میں 18 ہلاکتیں ہوئیں اور 54 افراد زخمی ہوئے۔
اسی دوران اسرائیلی سرحد پر فلسطینی مزاحمت کاروں کی گوریلا کارروائیاں بڑھتی جارہی تھیں جنہیں شام کی حمایت حاصل تھی۔ ان جھڑپوں کی شدت میں بتدریج اضافہ ہوتا گیا اور اپریل 1967 میں اسرائیل اور شام کی فوجوں میں لڑائی شروع ہو گئی جس میں اسرائیلی فضائیہ نے شام کے چھ ’مِگ‘ جنگی طیارے گرا دیے۔
اسی دوران مئی میں سوویت یونین کی بعض خفیہ رپورٹس میں نشان دہی کی گئی کہ اسرائیل شام کے خلاف بڑی کارروائی کی منصوبہ بندی کر رہا ہے۔
انسائیکلوپیڈیا آف برٹینیکا کے مطابق اگرچہ یہ رپورٹس درست نہیں تھیں لیکن ان کی وجہ سے اسرائیل اور اس کے عرب پڑوسیوں میں کشیدگی مزید بڑھ گئی۔
عرب دنیا میں خود کو نمایاں رکھنے کے لیے جمال عبدالناصر اسرائیل سے متعلق جارحانہ پالیسی اپنائے ہوئے تھے۔ اس لیے مصر اور دیگر عرب ممالک میں ان سے بہت سی توقعات وابستہ کی جاتی تھیں۔
لیکن اسرائیل کے مغربی کنارے پر حملے اور شام کے جنگی طیارے گرانے کے بعد وہ اُردن اور شام کی مدد کے لیے میدان میں نہیں اترے جس کی وجہ سے انہیں عرب دنیا میں تنقید کا سامنا تھا۔
ان پر یہ الزام بھی عائد کیا جاتا تھا کہ وہ مصر اور اسرائیل کی سرحد پر سینا کے علاقے میں تعینات اقوامِ متحدہ کی ایمرجنسی فورس کے پیچھے چھپ رہے ہیں۔
اس صورتِ حال میں ناصر نے شام کی مدد کے لیے واضح اقدام کا فیصلہ کیا اور 14 مئی 1967 کو مصری افواج نے جزیرہ نما سینا میں پیش قدمی شروع کر دی۔
اس کے بعد 18 مئی کو ناصر نے اقوامِ متحدہ کی اسپیشل فورس کو سینا سے ہٹانے کے لیے باقاعدہ درخواست بھی دے دی اور 22 مئی سے اسرائیلی بحری جہازوں کے لیے خلیجِ عقبہ کو بند کر دیا۔ جنوبی اسرائیل کے شہر ایلات کی بندرگاہ پر اس بندش کے گہرے اثرات مرتب ہوئے۔
اسرائیل نے پہلے ہی خبردار کر دیا تھا کہ اگر خلیجِ عقبہ کو بند کیا گیا تو اس کے نتیجے میں جنگ شروع ہو سکتی ہے۔
اس تنازع کی بڑھتی ہوئی شدت کے پیشِ نظر امریکہ کے صدر لنڈن بی جونسن نے مصر اور اسرائیل کو جنگ میں پہل سے باز رہنے کا پیغام دیا اور ساتھ ہی خلیجِ عقبہ سے متصل آبنائے تیران کو کھولنے کے لیے ایک بین الاقوامی بندوبست کرنے میں تعاون کی بھی پیشکش کی۔ لیکن ان کی اس تجویز پر عمل نہیں ہوسکا۔
اسی اثنا میں اردن کے شاہ حسین نے 30 مئی 1967 کو مصر کے ساتھ مشترکہ دفاع کے معاہدے پر دستخط کر دیے اور اردن کی فوج کو مصر کی قیادت میں دے دیا۔ بعد میں عراق نے بھی اس اتحاد میں شمولیت اختیار کرلی۔
آپریشن فوکس
عرب ممالک کی تیاریوں کو دیکھتے ہوئے اسرائیل نے جنگ شروع کرنے کا فیصلہ کیا۔ پانچ جون کو اسرائیلی ڈیفنس فورسز (آئی ڈی ایف) نے ‘آپریشن فوکس’ کے نام سے فضائی حملہ شروع کیا۔ اس آپریشن میں اسرائیل کے 200 طیاروں نے حصہ لیا۔
اس آپریشن میں اسرائیل نے مصر کی ایئر فورس کے 90 فی صد طیارے زمین ہی پر تباہ کردیے۔ ایسا ہی ایک بڑا حملہ شام کی فضائیہ پر بھی کیا گیا۔ اسرائیل نے اپنی ان کارروائیوں کو ‘پری ایمپٹِو‘ یا پیشگی حملے قرار دیا۔
اس حملے کے بعد مصری فوج کے پاس فضائیہ کی مدد نہیں رہی اور وہ میدان میں حریف کے حملوں کا آسان ہدف بن گئی۔
جنگ شروع ہونے کے تین دن کے اندر اسرائیل نے غزہ کی پٹی اور نہرِ سوئز کے مشرقی کنارے تک جزیرہ نما سینا کا سارا علاقہ حاصل کرلیا۔
اسرائیل نے اُردن کو جنگ کی صورت میں لاتعلق رہنے کا انتباہ کیا تھا۔ لیکن پانچ جون کو جنگ شروع ہوئی تو اردن نے مغربی یروشلم پر شیلنگ شروع کر دی۔
جوابی کارروائی میں اسرائیلی فورسز نے 7 جون تک اردن کی فوج کو مشرقی یروشلم سے پیچھے دھکیل دیا اور 1949 میں طے ہونے والے بندوبست کے تحت اردن کے زیر انتظام مشرقی یروشلم اور مغربی کنارے کا اکثر علاقہ بھی حاصل کرلیا۔ اس طرح یروشلم کا قدیم شہر پوری طرح اسرائیل کے کنٹرول میں آگیا۔
اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی جانب سے 7 جون کو جنگ بندی کی پیش کش کی گئی۔ اسرائیل اور اردن نے اسے فوراً قبول کرلیا اور مصر نے اگلے روز تک آمادگی ظاہر کردی لیکن شمالی اسرائیل پر بمباری جاری رکھی۔
اسرائیل نے 9 جون کو گولان کی پہاڑیوں پر حملہ کیا اور ایک دن کی گھمسان کی لڑائی کے بعد یہ پہاڑیاں بھی حاصل کرلیں۔ اس کے بعد شام نے بھی 10 جون کو جنگ بندی تسلیم کرلی۔
جنگ کے بعد کیا ہوا؟
چھ روز تک جاری رہنے والی اس جنگ میں عرب ممالک کو بہت زیادہ نقصان اٹھانا پڑا۔ اس جنگ میں مصر میں تقریباً 11 ہزار، اردن میں چھ ہزار اور شام میں ایک ہزار اموات ہوئیں اور اسرائیل میں 700 لوگ مارے گئے۔
عرب افواج کے جنگی ساز و سامان اور ہتھیاروں کا بھی بھاری نقصان ہوا۔ اس شکست کی وجہ سے عرب عوام اور سیاسی قیادت کے حوصلے پست ہوگئے۔
جنگ میں شکست کے بعد مصر کے صدر جمال عبدالناصر نے نو جون کو استعفٰی دے دیا۔ لیکن ان کے اس فیصلے کے خلاف مظاہرے ہوئے اور انہوں نے استعفی واپس لے لیا۔ جنگ میں ہونے والی کامیابی کے بعد اسرائیل خطے کی بڑی فوجی قوت بن کر سامنے آیا۔
چھ دن تک جاری رہنے والی اس جنگ کے بعد اسرائیل اور فلسطینیوں کے درمیان تنازع نے ایک نیا موڑ لیا۔
اس جنگ کی وجہ سے لاکھوں افراد بے گھر ہوئے اور تقریباً 10 لاکھ سے زائد پناہ گزین اسرائیل کے زیرِ کنٹرول علاقوں میں آگئے۔ اس کے نتیجے میں 1948 میں شروع ہونے والا پناہ گزینوں کا بحران مزید شدید ہوگیا۔ پناہ گزینوں کے اسی بحران نے بعد میں سیاسی بے چینی اور تشدد کی صورتِ حال کو بھی جنم دیا۔
جنگ کے بعد نومبر میں اقوامِ متحدہ نے ایک قرارداد منظور کی جس میں اسرائیلی سے پائیدار امن کے لیے جنگ کے دوران حاصل کیے گئے علاقوں سے دست بردار ہونے کے لیے کہا گیا تھا۔
بعد میں یہی قرارداد اسرائیل اور اس کے پڑوسی ممالک کے مابین تعلقات کی بنیاد بنی۔ اس قرارداد کو اسرائیل اور مصر کے درمیان ہونے والے کیمپ ڈیوڈ معاہدے اور فلسطینیوں کے ساتھ دو ریاستی حل کی کاوشوں کا نقطۂ آغاز بھی قرار دیا جاتا ہے۔
جنگ میں اگرچہ اسرائیل کے زیرِ کنٹرول علاقے میں تین گنا اضافہ ہوا لیکن یہ علاقے آج تک وجہِ نزاع بنے ہوئے ہیں۔
اسرائیل نے 1982 میں امن معاہدے کے تحت جزیرہ نما سینا کا علاقہ مصر کو واپس کر دیا تھا۔ اسرائیل 2005 میں غزہ کی پٹی سے بھی دست بردار ہوگیا تھا۔ تاہم چھ روزہ جنگ کے دوران ہونے والا گولان ہائٹس اور مغربی کنارے پر اس کا قبضہ 54 سال بعد آج بھی برقرار ہے۔
اسرائیل نے 1967 کی عرب اسرائیل جنگ میں اُردن سے مشرقی یروشلم اور قدیم شہر کا علاقہ حاصل کرنے کے بعد اسے متحدہ یروشلم قرار دے کر اپنا دارالحکومت بنانے کا اعلان کیا تھا۔ البتہ فلسطینی مشرقی یروشلم کو اپنی مستقبل کی ریاست کا دارالحکومت قرار دیتے ہیں۔اسرائیل کے اس اقدام کو تاحال بین الاقوامی سطح پر تسلیم نہیں کیا گیا۔ تاہم اسرائیل نے 1967 میں جو علاقے حاصل کیے تھے ان میں یہودی بستیوں کا قیام بھی ہر کچھ عرصے بعد تصادم کو جنم دیتا ہے.
چھ روزہ جنگ اور پاکستانی پائلٹ
پاکستان کی فضائیہ نے نومبر 1966 میں اردن کی رائل ایئر فورس کو تربیت اور مشاورت فراہم کرنے کے لیے اپنے کچھ پائلٹ وہاں بھیجے تھے۔
ترک خبر رساں ادارے ‘انادولو’ میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق فضائیہ کی تاریخ پر تین کتابوں کے مصنف ایئر کموڈور قیصر طفیل کا کہنا ہے کہ جب 5 جون 1967 کو جنگ کا آغاز ہوا تو پاکستانی پائلٹ سیف الاعظم اور ان کے ساتھیوں کو وہاں جنگی خدمات کی اجازت دی گئی۔
سیف الاعظم نے جنگ کے دوران تین اسرائیلی طیارے مار گرائے تھے جن میں سے ایک اُردن میں گرایا۔ اس کے بعد انہیں عراق منتقل کردیا گیا اور انہوں نے وہاں اسرائیل کے دو طیاروں کو نشانہ بنایا۔
بعض مبصرین کہتے ہیں کہ سیف الاعظم نے اسرائیل کے طیارے گرا کر عراق اور اُردن کی ایئر بیس بچا لیں ورنہ ان کا انجام بھی مصری فضائیہ جیسا ہوتا۔ لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ مصری فضائیہ کی مکمل تباہی کے بعد سیف الاعظم کی یہ کارکردگی تاریخ میں محض ایک علامتی حیثیت ہی رکھتی ہے کیوں کہ اس سے جنگ کے نتائج پر کوئی اثر نہیں پڑا تھا۔
بعد ازاں بنگلہ دیش کے قیام کے بعد سیف الاعظم بنگلہ دیش کی فضائیہ میں شامل ہوگئے۔ سن 1980 میں ریٹائرمنٹ کے بعد انہوں نے سول سروس میں شمولیت اختیار کی۔ بعد ازاں وہ بنگلہ دیش پارلیمنٹ کے رکن بھی رہے۔
سیف الاعظم شاید تاریخ کے وہ واحد پائلٹ ہیں جنھوں نے چار ممالک اردن، عراق، پاکستان اور بنگلہ دیش کے جنگی طیارے اڑائے اور دو مختلف ممالک بھارت اور اسرائیل کے طیارے گرائے۔
ان کی جنگی مہارت کے اعتراف میں عراق، اردن، پاکستان اور امریکہ کی جانب سے انہیں مختلف فوجی اعزازات سے نوازا گیا۔ سیف الاعظم کا انتقال 79 برس کی عمر میں گزشتہ برس 14 جون کو ڈھاکہ میں ہوا تھا۔
دنیا
ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کا نیا نقشہ شیئر کر کے اسے ’ٹرمپ اسٹریٹ‘ قرار دیا
واشنگٹن، امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ٹروتھ سوشل‘ پر آبنائے ہرمز کا ایک نیا نقشہ شیئر کرتے ہوئے اسے ’ٹرمپ اسٹریٹ‘ قرار دیا ہے۔ یہ پیش رفت واشنگٹن کی جانب سے ایران کی سات روزہ تجویز مسترد کیے جانے کے فوراً بعد ہوئی، جس کا مقصد تزویراتی اہمیت کی اس آبی گزرگاہ کو دوبارہ کھولنا اور ایران کے جوہری پروگرام پر مذاکرات بحال کرنا تھا۔
متعدد امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق ٹرمپ نے ایک بار پھر کہا کہ ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی اور سوال اٹھایا کہ آیا تہران امریکی مطالبات پر عمل کرے گا۔
امریکی میڈیا نے امریکی حکام کے حوالے سے یہ بھی رپورٹ کیا کہ ٹرمپ نے اپنے معاونین سے کہا ہے کہ وہ نومبر میں ہونے والے وسط مدتی انتخابات کے بعد ایران کے خلاف نئے حملے شروع کرنے کی توقع رکھتے ہیں۔
رپورٹس کے مطابق معاملے سے واقف امریکی حکام نے بتایا کہ ایرانی مذاکرات کاروں نے قطر کے ثالثوں کے ذریعے سات روزہ تجویز پیش کی تھی۔
اس تجویز کے تحت ایران آبنائے ہرمز دوبارہ کھولتا اور جوہری مذاکرات بحال کرتا، بشرطیکہ واشنگٹن ایرانی بندرگاہوں کی بحری ناکہ بندی ختم کر دیتا۔تاہم امریکی حکام نے تہران اور ثالثوں کو بتایا کہ امریکہ ناکہ بندی ختم کرنے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتا۔
ٹرمپ مسلسل خبردار کرتے رہے ہیں کہ ایران کے خلاف دوبارہ فوجی کارروائی کا امکان برقرار ہے، جبکہ واشنگٹن تہران پر اقتصادی اور سفارتی دباؤ بھی جاری رکھے ہوئے ہے۔
دریں اثنا، ایران کے اسلامی پاسداران انقلاب نے تصفیے کی نئی شرائط مسترد کر دی ہیں اور جون میں طے پانے والے ایک ابتدائی معاہدے کی بعض شرائط کی بحالی کا مطالبہ کیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق پاسداران انقلاب نے یہ بھی عندیہ دیا ہے کہ ایران ایک طویل جنگ کے لیے تیار ہے۔
تاہم قطر کے وزیر اعظم اور وزیر خارجہ شیخ محمد بن عبدالرحمٰن آل ثانی نے سفارت کاری جاری رہنے کی امید ظاہر کی ہے۔ انہوں نے آبنائے ہرمز کی صورت حال کو ’’بہت مشکل اور چیلنجنگ‘‘ قرار دیتے ہوئے آبی گزرگاہوں کے معاملے میں ’’جوڑ توڑ اور بلیک میلنگ‘‘ ختم کرنے کا مطالبہ کیا۔انہوں نے کہا کہ ایران اور امریکہ کے درمیان بالواسطہ مذاکرات میں ’’کچھ مثبت پیش رفت‘‘ ہوئی ہے اور امید ظاہر کی کہ سفارت کاری دونوں فریقوں کو کسی حل تک پہنچا سکتی ہے۔
ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے بھی کہا ہے کہ تہران آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے اور اقوام متحدہ کے جوہری معائنہ کاروں کو ملک میں آنے کی اجازت دینے کے لیے تیار ہے، بشرطیکہ واشنگٹن کے ساتھ مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کی اس کی تجویز قبول کی جائے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
پزشکیان کا آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے اور اقوام متحدہ کے جوہری معائنہ کاروں کو ایران آنے کی اجازت دینے پر آمادگی کا اعلان
نیویارک، ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ تہران آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے اور اقوام متحدہ کے جوہری معائنہ کاروں کو ایران آنے کی اجازت دینے کے لیے تیار ہے۔ ان کے مطابق یہ تجویز امریکہ کے ساتھ ایران کے جوہری پروگرام پر مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کی کوشش کا حصہ ہے۔
سی بی ایس نیوز کے پروگرام ’فیس دی نیشن‘ کو انٹرویو دیتے ہوئے پزشکیان نے کہا کہ اگر واشنگٹن تہران کی آبنائے ہرمز کھولنے اور جوہری مذاکرات بحال کرنے کی تازہ تجویز قبول کرتا ہے تو ایران ’’اپنے ہر وعدے کی پابندی کرے گا‘‘۔
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اس ہفتے تجویز پیش کی تھی کہ آبنائے ہرمز کو سات روز کے اندر دوبارہ کھولا جا سکتا ہے اور وسیع تر جوہری معاہدے کی جانب ابتدائی قدم کے طور پر امریکہ کے ساتھ مذاکرات بھی بحال کیے جا سکتے ہیں۔ یہ تجویز نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر پیش کی گئی تھی، تاہم واشنگٹن نے ابھی تک اس پر کوئی باضابطہ جواب نہیں دیا ہے۔
پزشکیان نے کہا کہ امریکہ کے ساتھ براہ راست ملاقات مشکل ہوگی، کیونکہ دونوں ملکوں کے درمیان پہلے سے ہی ’’بداعتمادی کی فضا‘‘ موجود ہے۔
انہوں نے کہا، ’’جب تک وہ ہمارے خلاف روزانہ عائد کیے جانے والے اقدامات بند نہیں کرتے، ان پر اعتماد کرنا مشکل ہے۔ وہ ہر روز ہم پر پابندیاں بڑھاتے ہیں، ہر روز ہمیں دھمکیاں دیتے ہیں، ہر روز ہم پر حملے کرتے ہیں اور تحریری معاہدوں کی پاسداری بھی نہیں کرتے۔ تو اگر وہ مذاکرات میں شامل ہوتے ہیں تو کیا وہ واقعی اپنے وعدے پورے کریں گے؟‘‘
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے نیویارک کے دورے کے دوران ایرانی حکام سے ملاقات پر آمادگی ظاہر کی تھی، تاہم دونوں رہنماؤں کے درمیان براہ راست ملاقات نہیں ہو سکی۔ اس کے بجائے ثالثوں کے ذریعے بالواسطہ رابطے ہوئے۔
پزشکیان نے کہا کہ ایران جون میں امریکہ کے ساتھ طے پانے والی مفاہمتی یادداشت کی طرف واپس آنا چاہتا ہے۔ اس سے چند روز قبل ہی انہوں نے کہا تھا کہ ایران واشنگٹن کے سامنے نہیں جھکے گا۔انہوں نے چین کی جانب سے اس معاہدے کو بحال کرنے کی حمایت کا خیرمقدم کرتے ہوئے ایکس پر لکھا کہ ’’ایران بھی اس مؤقف کی حمایت کرتا ہے اور اس مفاہمت کی طرف واپس جانے کی اہمیت پر زور دیتا ہے۔‘‘
اس ہفتے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے دوران ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات کی بحالی کے امکانات پیدا ہوئے تھے، تاہم بدھ کو عالمی ادارے سے خطاب میں پزشکیان نے دوٹوک انداز میں کہا تھا کہ ایران امریکہ کے سامنے ’’گھٹنے نہیں ٹیکے گا‘‘۔
ایک روز بعد انہوں نے فاکس نیوز سے کہا کہ ایران جنگ جاری رکھنا ’’نہیں چاہتا‘‘، تاہم اسے ختم کرنا واشنگٹن کے ہاتھ میں ہے۔
ادھر عباس عراقچی نے جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر امریکی خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف اور صدر ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر کے ساتھ بھی ملاقات کی، تاہم ان مذاکرات سے فوری طور پر کوئی پیش رفت سامنے نہیں آئی۔
ٹرمپ نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب میں کہا تھا کہ ایران کے ساتھ معاہدہ کرنے یا اسے ’’تباہ‘‘ کرنے کے حوالے سے انہیں ’’ایک بڑا فیصلہ‘‘ کرنا ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ امریکہ کے وسط مدتی انتخابات سے پہلے معاہدہ ہونے کا امکان نہیں ہے۔
آبنائے ہرمز سے متعلق ایران کی تجویز پر واشنگٹن کے جواب کے متوقع وقت کے بارے میں پوچھے جانے پر پزشکیان نے کہا کہ امریکہ کی جانب سے تجویز قبول کیے جانے کے فوراً بعد مذاکرات شروع کیے جا سکتے ہیں۔انہوں نے کہا، ’’اگر یہ پیغام امریکی صدر، ان کے انٹرویو لینے والوں یا مذاکرات میں شامل افراد تک پہنچتا ہے تو جیسے ہی وہ اسے قبول کریں گے، اسی دن سے عمل شروع ہو جائے گا۔‘‘
جاری۔ یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
ہسپانوی شہر لیئیدا میں عوامی مقامات پر برقع اور نقاب پر پابندی عائد کردی گئی
میڈرڈ، اسپین کے مشرق میں کاتالونیا علاقے کے شہر لیئیدا کے عوامی مقامات پر خواتین کے چہرے ڈھانپنے والی نقاب اور برقع پہننے پر پابندی عائد کر دی گئی۔
لیئیڈا میونسپل کونسل نے “شہری طرزِ عمل اور باہمی زندگی” کے ضوابط کو منظور کیا، جو چہرہ مکمل طور پر ڈھانپنے والے لباس، جیسے برقع یا نقاب کے استعمال پر پابندی عائد کرتا ہے۔
کتالونیا سوشلسٹ پارٹی (پی ایس سی) اور ‘کتالونیا کے لیے اتحاد’ (Junts) کی مقامی حکومت کے حامل لیئیڈا میں منظورہ ضابطے کے تحت برقع اور نقاب پہننے کی خلاف ورزی کرنے والوں کو 400 سے 750 یورو تک جرمانہ کیا جائے گا۔
عبادت گاہیں یا ایسی دوسری جگہیں جہاں اس قسم کے لباس کی اجازت ہو، اس پابندی سے مستثنیٰ رکھی گئی ہیں۔
میئر فیلیکس لاروسا نے کہا کہ یہ فیصلہ لیئیدا میں رہنے والی مسلم برادری کے رہنماؤں سے مشاورت کر کے کیا گیا، جہاں آبادی کا تقریباً 9 فیصد مسلمان ہے۔
برقع اور نقاب پر پابندی کا معاملہ یورپ میں ایک بار پھر اس وقت موضوعِ بحث بنا جب اٹلی کی وزیرِ اعظم جورجیا میلونی نے اس بارے میں بیانات دیے۔
اٹلی کی حکومت نے بھی آج اسکولوں میں برقع اور نقاب جیسے چہرہ ڈھانپنے والے ملبوسات کے استعمال پر پابندی لگانے والا ضابطہ منظور کر لیا۔
یو این آئی۔ ع ا۔
-
جموں و کشمیر1 week agoگوریز میں مجوزہ ’تنتر سائلنس‘ ریٹریٹ پر تنازع
-
دنیا1 week agoجنوبی کوریا کا آبنائے ہرمز میں جنگی کردار سنبھالنے سے انکار ، جنگی مقاصد کی تعنیاتی نہیں ہو گی
-
جموں و کشمیر1 week agoاپوزیشن لیڈر سنیل شرما کا جموں و کشمیر اسمبلی تحلیل کرنے کا مطالبہ
-
دنیا1 week agoباب المندب سے بحری جہازوں کی محفوظ آمدورفت کے لیے اٹلی جنگی بحری جہاز تعینات کرے گا
-
دنیا1 week agoامریکی ویزا سے انکار کے بعد اقوام متحدہ نے فلسطینی صدر عباس کو ویڈیو خطاب کی اجازت دی
-
دنیا1 week agoایران میں جنگ چھڑنے کے بعد حکومت کے حق میں بڑی ترین ریلی، لاکھوں ایرانی شہری یکجا ہوئے
-
دنیا1 week agoامریکہ کی سعودی عرب کو 48 ایف-35 طیارے فروخت کرنے کی ممکنہ منظوری
-
جموں و کشمیر1 week agoہائی کورٹ نے معزول حضرت بل امام کی عرضی پر نوٹس جاری کیا، 2024 کی عرضداشت پر غور کی ہدایت
-
دنیا1 week agoایرانی وزیر خارجہ عراقچی کا بین الاقوامی قانون کے بلاامتیاز نفاذ پر زور
-
دنیا6 days agoمیں پورے ایران کو ہوا میں اڑا سکتا ہوں:ٹرمپ
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں میں سالگرہ کی تقریب کے دوران 35 سالہ شخص قتل، 2 گرفتار
-
جموں و کشمیر1 week agoنو قائم شدہ جے کے فور سی متاثرین پر مرکوز طریقہ کار اختیار کرے گا
