دنیا
چھ روزہ عرب اسرائیل جنگ، جس نے مشرقِ وسطیٰ کو بدل کر رکھ دیا
بعض تاریخ دان اور ماہرین کہتے ہیں کہ اسرائیل کو 1967 کی جنگ میں جو کامیابی حاصل ہوئی تھی وہ عرب اسرائیل تنازع کے حل کے لیے نتیجہ خیز ثابت نہیں ہوسکی بلکہ اس نے صورتِ حال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔
پانچ جون 1967 کو اسرائیل اور عرب ممالک کے مابین شروع ہونے والی جنگ یوں تو صرف چھ دن جاری رہی تھی لیکن اس نے مشرقِ وسطیٰ اور عرب اسرائیل تنازع کے مستقبل کا رخ متعین کر دیا تھا۔
اس جنگ کو ختم ہوئے 54 سال مکمل ہو گئے ہیں۔
تاریخ پر نظر رکھنے والے بین الاقوامی امور کے ماہرین کے مطابق اس جنگ نے اسرائیل کے اپنے پڑوسی عرب ممالک کے ساتھ تعلقات کی راہ بھی متعین کی اور ساتھ ہی امریکہ کے ساتھ اس کے تعلقات بھی ایک نئے دور میں داخل ہوئے۔ اس لیے مبصرین تاریخ کے اس اہم واقعے کے سیاق و سباق اور اس میں حصہ دار بننے والی عالمی طاقتوں کے کردار پر نظر ڈالنے کی ضرورت ایک بار پھر محسوس کر رہے ہیں۔
تاریخی پس منظر
1967 کی عرب اسرائیل جنگ وہ تیسرا موقع تھا جب عرب ممالک اور اسرائیل آمنے سامنے آئے تھے۔اس سے قبل سن 1948 میں عرب اسرائیل جنگ اور 1956 میں مصر کے ساتھ سوئز کینال پر تنازعہ پیدا ہو چکا تھا۔
تاریخ دانوں کے مطابق، پہلی عالمی جنگ تک فلسطین کا علاقہ سلطنتِ عثمانیہ میں شامل تھا۔ جنگ کے بعد 1922 میں اس وقت کے عالمی تنازعات حل کرنے کے لیے قائم کی گئی عالمی تنظیم ‘لیگ آف نیشنز’ نے فلسطین کو برطانیہ کے حوالے کردیا تھا۔ اس انتظام کو ’فلسطین مینڈیٹ‘ کہا جاتا ہے۔ غزہ کا علاقہ بھی اس میں شامل تھا۔
بعدازاں 1947 میں اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی نے اس مینڈیٹ کے اختتام سے قبل ہی فلسطین کو عربوں اور یہودیوں کے لیے الگ الگ ریاستوں میں تقسیم کرنے کے منصوبے کی منظوری دی۔
برطانوی مینڈیٹ 15 مئی 1948 کو ختم ہوا اور اسی دن جنگ کا آغاز ہوا جس کے نتیجے میں اسرائیل کا قیام عمل میں آیا۔ اس جنگ کی ابتدا ہی میں پڑوسی عرب ملک مصر کی افواج غزہ میں داخل ہوگئیں۔ البتہ جنگ کے زور پکڑ جانے کے بعد عربوں کے ہاتھ سے بہت سے علاقے نکل گئے۔
اقوامِ متحدہ نے عربوں اور یہودیوں کے لیے الگ الگ ریاست کا جو فارمولاپیش کیا تھا اس میں یروشلم کو متحد رکھنے کے لیے شہر کو اپنی نگرانی میں ایک بین الاقوامی انتظام کے تحت لانے کی تجویز دی تھی۔ لیکن اس فارمولے پر عمل نہیں ہوسکا۔ بلکہ یروشلم کا حصول اس تنازع کا محور بن گیا۔
بعد ازاں 1949 میں اردن اور اسرائیل نے شہر کی تقسیم کا ایک بندوبست تسلیم کرلیا جس میں مشرقی یروشلم اور قدیم شہر کا علاقہ اردن کے زیرِ کنٹرول آگیا۔ اس کے علاوہ مغربی کنارہ بھی اردن کے پاس ہی تھا۔
مغربی یروشلم اور انیسویں صدی میں تعمیر ہونے والے شہر کے علاقے ریاستِ اسرائیل کے زیرِ انتظام آگئے۔ اس تقسیم کے باعث مغربی یروشلم میں آباد بہت سے مسلمانوں کو اپنا گھر بار چھوڑ کر ہجرت کرنا پڑی۔
مشرقِ وسطیٰ میں اس کے بعد ایک اور بین الاقوامی بحران نے اس وقت جنم لیا جب 26 جولائی 1956 کو مصر کے صدر جمال عبدالناصر نے نہرِ سوئز کو قومیانے کا فیصلہ کیا۔ اس فیصلے سے قبل اس اہم آبی گزر گاہ کا انتظام فرانس اور برطانیہ کی مشترکہ ‘سوئز کینال کمپنی’ کے پاس تھا۔
مصر کی سوویت یونین سے بڑھتی قربت
دوسری جانب جمال عبدالناصر کی سوویت یونین سے قربت بڑھ رہی تھی۔ سن 1955 میں ناصر نے کمیونسٹ ملک چیکو سلوواکیہ سے اسلحے کی خریداری کا معاہدہ طے پانے کا اعلان کیا۔ یہ معاہدہ دراصل سوویت یونین کے ساتھ ہی تھا۔
اس کے ساتھ ہی سوویت یونین سے تعلقات مزید بہتر کرنے کے لیے ناصر نے معاہدۂ بغداد میں شامل ہونے سے بھی انکار کر دیا۔ یہ معاہدہ بعد میں سینٹرل ٹریٹی آرگنائزیشن یا ’سینٹو‘ کہلایا۔ امریکہ کی مدد سے قائم ہونے والا یہ اتحاد مشرقِ وسطیٰ میں سوویت یونین کے بڑھتے قدم روکنے کے لیے تشکیل دیا گیا تھا اور اس میں ترکی، عراق، ایران، پاکستان اور برطانیہ بھی شامل تھے۔
مصر کے ساتھ 1955 میں ہونے والے معاہدے کے بعد سوویت یونین کو مشرقِ وسطیٰ میں قدم جمانے کا موقع مل گیا۔
جمال عبدالناصر کے سوویت یونین کے ساتھ بڑھتے ہوئے مراسم کے باعث امریکہ اور برطانیہ نے دریائے نیل پر اسوان ڈیم تعمیر کے منصوبے کے لیے مصر کو وعدے کے مطابق مالی معاونت فراہم کرنے سے انکار کردیا۔ جمال عبدالناصرکے لیے یہ منصوبہ انتہائی اہم تھا اور اس میں ناکامی کی صورت میں ان کی عوامی مقبولیت متاثر ہوسکتی تھی۔
اس لیے ردِ عمل میں جمال عبدالناصر نے نہر سوئز پر مارشل لا نافذ کر کے سوئز کینال کمپنی کا انتظام حکومت کی تحویل میں لے لیا۔ اس کمپنی میں فرانس اور برطانیہ کی بڑی سرمایہ کاری تھی۔ جمال نے اس اقدام کے ساتھ ہی یہ عندیہ بھی دیا کہ نہرِ سوئز سے گزرنے والے بحری جہازوں سے اسوان ڈیم کی تعمیر کے لیے رقم بھی وصول کی جائے گی۔
اب فرانس اور برطانیہ کو یہ خطرہ لاحق ہوگیا کہ کہیں جمال عبدالناصر نہرِ سوئز کو بند ہی نہ کر دیں۔ اس صورت میں خلیجِ فارس سے مغربی یورپ کو تیل کی فراہمی رک سکتی تھی۔
اس بحران کو حل کرنے کے لیے سفارتی کوششیں بے نتیجہ ثابت ہوئیں تو تاریخ دانوں کے مطابق برطانیہ اور فرانس نے نہرِ سوئز سے ملحقہ علاقے کا کنٹرول حاصل کرنے اور جمال عبدالناصر کو اقتدار سے بے دخل کرنے کے لیے ایک خفیہ منصوبہ بنایا۔
جمال عبدالناصر کے خلاف اس منصوبے میں ساتھ دینے کے لیے انہیں اسرائیل کی صورت میں ایک علاقائی اتحادی پہلے ہی میسر تھا کیوں کہ نہرِ سوئز سے متعلق اقدام سے قبل ہی ناصر نے اسرائیل کے لیے آبنائے تیران کو بند کردیا تھا۔
آبنائے تیران خلیجِ عقبہ کے ذریعے اسرائیل کو بحیرۂ احمر سے ملاتی ہے اور اسرائیل کے لیے تزویراتی اور تجارتی اعتبار سے انتہائی اہمیت کا حامل بحری راستہ ہے۔
اس کے علاوہ 1955 سے 1956 کے دوران مصر کے حمایت یافتہ کمانڈو اسرائیلی علاقوں میں کارروائیاں بھی کر رہے تھے۔
اسرائیل کی نہرِ سوئز کی جانب پیش قدمی
اسرائیل نے 10 اکتوبر 1956 کو مصر پر حملہ کرکے نہرِ سوئز کی جانب پیش قدمی شروع کر دی تھی۔ منصوبے کے مطابق برطانیہ اور فرانس نے اسرائیل اور مصری افواج سے نہرِ سوئز کا علاقہ خالی کرنے کا مطالبہ کیا اور ساتھ ہی اقوامِ متحدہ کی جانب سے جنگ بندی کے احکامات پر عمل درآمد کے لیے اپنی فوجیں میدان میں اتار دیں۔
امریکہ کو خدشہ تھا کہ فرانس اور برطانیہ کے براہِ راست اس تنازع کا حصہ بننے سے سوویت یونین کو بھی خطے میں مداخلت کا موقع مل سکتا ہے۔ اس لیے امریکہ نے اقوامِ متحدہ میں ایک قرارداد پیش کی جس کے بعد 22 دسمبر کو برطانیہ اور فرانس نے اپنی افواج کو واپس بلالیا اور مارچ 1957 میں اسرائیلی فوج بھی واپس چلی گئی۔
اس تنازع کے بعد جمال عبدالناصر عرب اور مصری قوم پرستوں کے ہیرو کے طور پر سامنے آئے۔ اسرائیل کو نہرِ سوئز کے استعمال کا حق تو نہ مل سکا لیکن اس کے لیے آبنائے تیران کا بحری راستہ کھل گیا جب کہ برطانیہ اور فرانس کا مشرقِ وسطیٰ پر اثر و رسوخ بہت محدود ہوگیا۔
چھ روزہ جنگ کیسے شروع ہوئی؟
نہرِ سوئز کے بحران کے بعد اسرائیل اور مصر کی سرحد پر واقع جزیرہ نما سینا میں اقوامِ متحدہ کی ایمرجنسی فورس تعینات کر دی گئی تھی۔
سوئز بحران کے بعد عرب دنیا میں مصر ایک قائد کے طور پر سامنے آیا اور 1958 میں اس نے شام کے ساتھ مل کر ‘یونائیٹڈ عرب ری پبلک’ قائم کرلیا۔ لیکن فیصلہ سازی میں مصر کو حاصل برتری نے شامیوں میں شکایات پیدا کیں اور یہ اتحاد ستمبر 1961 میں ختم ہوگیا۔ البتہ مصر نے 1971 تک یہ نام برقرار رکھا۔
دوسری جانب شام، لبنان اور اُردن میں موجود فلسطینی گوریلا گروپوں کی کارروائیوں میں اضافہ ہو رہا تھا اور انہوں نے اسرائیلی مفادات کو نقصان پہنچانا شروع کر دیا تھا۔ شام کی جانب سے بھی فلسطینی مزاحمت کی حمایت میں اضافہ ہو رہا تھا۔
نومبر 1966 کو اسرائیل نے مغربی کنارے کے ایک گاؤں السموع پر فضائی حملہ کیا۔ اس وقت مغربی کنارہ اردن کے زیرِ انتظام تھا۔ اس حملے میں 18 ہلاکتیں ہوئیں اور 54 افراد زخمی ہوئے۔
اسی دوران اسرائیلی سرحد پر فلسطینی مزاحمت کاروں کی گوریلا کارروائیاں بڑھتی جارہی تھیں جنہیں شام کی حمایت حاصل تھی۔ ان جھڑپوں کی شدت میں بتدریج اضافہ ہوتا گیا اور اپریل 1967 میں اسرائیل اور شام کی فوجوں میں لڑائی شروع ہو گئی جس میں اسرائیلی فضائیہ نے شام کے چھ ’مِگ‘ جنگی طیارے گرا دیے۔
اسی دوران مئی میں سوویت یونین کی بعض خفیہ رپورٹس میں نشان دہی کی گئی کہ اسرائیل شام کے خلاف بڑی کارروائی کی منصوبہ بندی کر رہا ہے۔
انسائیکلوپیڈیا آف برٹینیکا کے مطابق اگرچہ یہ رپورٹس درست نہیں تھیں لیکن ان کی وجہ سے اسرائیل اور اس کے عرب پڑوسیوں میں کشیدگی مزید بڑھ گئی۔
عرب دنیا میں خود کو نمایاں رکھنے کے لیے جمال عبدالناصر اسرائیل سے متعلق جارحانہ پالیسی اپنائے ہوئے تھے۔ اس لیے مصر اور دیگر عرب ممالک میں ان سے بہت سی توقعات وابستہ کی جاتی تھیں۔
لیکن اسرائیل کے مغربی کنارے پر حملے اور شام کے جنگی طیارے گرانے کے بعد وہ اُردن اور شام کی مدد کے لیے میدان میں نہیں اترے جس کی وجہ سے انہیں عرب دنیا میں تنقید کا سامنا تھا۔
ان پر یہ الزام بھی عائد کیا جاتا تھا کہ وہ مصر اور اسرائیل کی سرحد پر سینا کے علاقے میں تعینات اقوامِ متحدہ کی ایمرجنسی فورس کے پیچھے چھپ رہے ہیں۔
اس صورتِ حال میں ناصر نے شام کی مدد کے لیے واضح اقدام کا فیصلہ کیا اور 14 مئی 1967 کو مصری افواج نے جزیرہ نما سینا میں پیش قدمی شروع کر دی۔
اس کے بعد 18 مئی کو ناصر نے اقوامِ متحدہ کی اسپیشل فورس کو سینا سے ہٹانے کے لیے باقاعدہ درخواست بھی دے دی اور 22 مئی سے اسرائیلی بحری جہازوں کے لیے خلیجِ عقبہ کو بند کر دیا۔ جنوبی اسرائیل کے شہر ایلات کی بندرگاہ پر اس بندش کے گہرے اثرات مرتب ہوئے۔
اسرائیل نے پہلے ہی خبردار کر دیا تھا کہ اگر خلیجِ عقبہ کو بند کیا گیا تو اس کے نتیجے میں جنگ شروع ہو سکتی ہے۔
اس تنازع کی بڑھتی ہوئی شدت کے پیشِ نظر امریکہ کے صدر لنڈن بی جونسن نے مصر اور اسرائیل کو جنگ میں پہل سے باز رہنے کا پیغام دیا اور ساتھ ہی خلیجِ عقبہ سے متصل آبنائے تیران کو کھولنے کے لیے ایک بین الاقوامی بندوبست کرنے میں تعاون کی بھی پیشکش کی۔ لیکن ان کی اس تجویز پر عمل نہیں ہوسکا۔
اسی اثنا میں اردن کے شاہ حسین نے 30 مئی 1967 کو مصر کے ساتھ مشترکہ دفاع کے معاہدے پر دستخط کر دیے اور اردن کی فوج کو مصر کی قیادت میں دے دیا۔ بعد میں عراق نے بھی اس اتحاد میں شمولیت اختیار کرلی۔
آپریشن فوکس
عرب ممالک کی تیاریوں کو دیکھتے ہوئے اسرائیل نے جنگ شروع کرنے کا فیصلہ کیا۔ پانچ جون کو اسرائیلی ڈیفنس فورسز (آئی ڈی ایف) نے ‘آپریشن فوکس’ کے نام سے فضائی حملہ شروع کیا۔ اس آپریشن میں اسرائیل کے 200 طیاروں نے حصہ لیا۔
اس آپریشن میں اسرائیل نے مصر کی ایئر فورس کے 90 فی صد طیارے زمین ہی پر تباہ کردیے۔ ایسا ہی ایک بڑا حملہ شام کی فضائیہ پر بھی کیا گیا۔ اسرائیل نے اپنی ان کارروائیوں کو ‘پری ایمپٹِو‘ یا پیشگی حملے قرار دیا۔
اس حملے کے بعد مصری فوج کے پاس فضائیہ کی مدد نہیں رہی اور وہ میدان میں حریف کے حملوں کا آسان ہدف بن گئی۔
جنگ شروع ہونے کے تین دن کے اندر اسرائیل نے غزہ کی پٹی اور نہرِ سوئز کے مشرقی کنارے تک جزیرہ نما سینا کا سارا علاقہ حاصل کرلیا۔
اسرائیل نے اُردن کو جنگ کی صورت میں لاتعلق رہنے کا انتباہ کیا تھا۔ لیکن پانچ جون کو جنگ شروع ہوئی تو اردن نے مغربی یروشلم پر شیلنگ شروع کر دی۔
جوابی کارروائی میں اسرائیلی فورسز نے 7 جون تک اردن کی فوج کو مشرقی یروشلم سے پیچھے دھکیل دیا اور 1949 میں طے ہونے والے بندوبست کے تحت اردن کے زیر انتظام مشرقی یروشلم اور مغربی کنارے کا اکثر علاقہ بھی حاصل کرلیا۔ اس طرح یروشلم کا قدیم شہر پوری طرح اسرائیل کے کنٹرول میں آگیا۔
اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی جانب سے 7 جون کو جنگ بندی کی پیش کش کی گئی۔ اسرائیل اور اردن نے اسے فوراً قبول کرلیا اور مصر نے اگلے روز تک آمادگی ظاہر کردی لیکن شمالی اسرائیل پر بمباری جاری رکھی۔
اسرائیل نے 9 جون کو گولان کی پہاڑیوں پر حملہ کیا اور ایک دن کی گھمسان کی لڑائی کے بعد یہ پہاڑیاں بھی حاصل کرلیں۔ اس کے بعد شام نے بھی 10 جون کو جنگ بندی تسلیم کرلی۔
جنگ کے بعد کیا ہوا؟
چھ روز تک جاری رہنے والی اس جنگ میں عرب ممالک کو بہت زیادہ نقصان اٹھانا پڑا۔ اس جنگ میں مصر میں تقریباً 11 ہزار، اردن میں چھ ہزار اور شام میں ایک ہزار اموات ہوئیں اور اسرائیل میں 700 لوگ مارے گئے۔
عرب افواج کے جنگی ساز و سامان اور ہتھیاروں کا بھی بھاری نقصان ہوا۔ اس شکست کی وجہ سے عرب عوام اور سیاسی قیادت کے حوصلے پست ہوگئے۔
جنگ میں شکست کے بعد مصر کے صدر جمال عبدالناصر نے نو جون کو استعفٰی دے دیا۔ لیکن ان کے اس فیصلے کے خلاف مظاہرے ہوئے اور انہوں نے استعفی واپس لے لیا۔ جنگ میں ہونے والی کامیابی کے بعد اسرائیل خطے کی بڑی فوجی قوت بن کر سامنے آیا۔
چھ دن تک جاری رہنے والی اس جنگ کے بعد اسرائیل اور فلسطینیوں کے درمیان تنازع نے ایک نیا موڑ لیا۔
اس جنگ کی وجہ سے لاکھوں افراد بے گھر ہوئے اور تقریباً 10 لاکھ سے زائد پناہ گزین اسرائیل کے زیرِ کنٹرول علاقوں میں آگئے۔ اس کے نتیجے میں 1948 میں شروع ہونے والا پناہ گزینوں کا بحران مزید شدید ہوگیا۔ پناہ گزینوں کے اسی بحران نے بعد میں سیاسی بے چینی اور تشدد کی صورتِ حال کو بھی جنم دیا۔
جنگ کے بعد نومبر میں اقوامِ متحدہ نے ایک قرارداد منظور کی جس میں اسرائیلی سے پائیدار امن کے لیے جنگ کے دوران حاصل کیے گئے علاقوں سے دست بردار ہونے کے لیے کہا گیا تھا۔
بعد میں یہی قرارداد اسرائیل اور اس کے پڑوسی ممالک کے مابین تعلقات کی بنیاد بنی۔ اس قرارداد کو اسرائیل اور مصر کے درمیان ہونے والے کیمپ ڈیوڈ معاہدے اور فلسطینیوں کے ساتھ دو ریاستی حل کی کاوشوں کا نقطۂ آغاز بھی قرار دیا جاتا ہے۔
جنگ میں اگرچہ اسرائیل کے زیرِ کنٹرول علاقے میں تین گنا اضافہ ہوا لیکن یہ علاقے آج تک وجہِ نزاع بنے ہوئے ہیں۔
اسرائیل نے 1982 میں امن معاہدے کے تحت جزیرہ نما سینا کا علاقہ مصر کو واپس کر دیا تھا۔ اسرائیل 2005 میں غزہ کی پٹی سے بھی دست بردار ہوگیا تھا۔ تاہم چھ روزہ جنگ کے دوران ہونے والا گولان ہائٹس اور مغربی کنارے پر اس کا قبضہ 54 سال بعد آج بھی برقرار ہے۔
اسرائیل نے 1967 کی عرب اسرائیل جنگ میں اُردن سے مشرقی یروشلم اور قدیم شہر کا علاقہ حاصل کرنے کے بعد اسے متحدہ یروشلم قرار دے کر اپنا دارالحکومت بنانے کا اعلان کیا تھا۔ البتہ فلسطینی مشرقی یروشلم کو اپنی مستقبل کی ریاست کا دارالحکومت قرار دیتے ہیں۔اسرائیل کے اس اقدام کو تاحال بین الاقوامی سطح پر تسلیم نہیں کیا گیا۔ تاہم اسرائیل نے 1967 میں جو علاقے حاصل کیے تھے ان میں یہودی بستیوں کا قیام بھی ہر کچھ عرصے بعد تصادم کو جنم دیتا ہے.
چھ روزہ جنگ اور پاکستانی پائلٹ
پاکستان کی فضائیہ نے نومبر 1966 میں اردن کی رائل ایئر فورس کو تربیت اور مشاورت فراہم کرنے کے لیے اپنے کچھ پائلٹ وہاں بھیجے تھے۔
ترک خبر رساں ادارے ‘انادولو’ میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق فضائیہ کی تاریخ پر تین کتابوں کے مصنف ایئر کموڈور قیصر طفیل کا کہنا ہے کہ جب 5 جون 1967 کو جنگ کا آغاز ہوا تو پاکستانی پائلٹ سیف الاعظم اور ان کے ساتھیوں کو وہاں جنگی خدمات کی اجازت دی گئی۔
سیف الاعظم نے جنگ کے دوران تین اسرائیلی طیارے مار گرائے تھے جن میں سے ایک اُردن میں گرایا۔ اس کے بعد انہیں عراق منتقل کردیا گیا اور انہوں نے وہاں اسرائیل کے دو طیاروں کو نشانہ بنایا۔
بعض مبصرین کہتے ہیں کہ سیف الاعظم نے اسرائیل کے طیارے گرا کر عراق اور اُردن کی ایئر بیس بچا لیں ورنہ ان کا انجام بھی مصری فضائیہ جیسا ہوتا۔ لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ مصری فضائیہ کی مکمل تباہی کے بعد سیف الاعظم کی یہ کارکردگی تاریخ میں محض ایک علامتی حیثیت ہی رکھتی ہے کیوں کہ اس سے جنگ کے نتائج پر کوئی اثر نہیں پڑا تھا۔
بعد ازاں بنگلہ دیش کے قیام کے بعد سیف الاعظم بنگلہ دیش کی فضائیہ میں شامل ہوگئے۔ سن 1980 میں ریٹائرمنٹ کے بعد انہوں نے سول سروس میں شمولیت اختیار کی۔ بعد ازاں وہ بنگلہ دیش پارلیمنٹ کے رکن بھی رہے۔
سیف الاعظم شاید تاریخ کے وہ واحد پائلٹ ہیں جنھوں نے چار ممالک اردن، عراق، پاکستان اور بنگلہ دیش کے جنگی طیارے اڑائے اور دو مختلف ممالک بھارت اور اسرائیل کے طیارے گرائے۔
ان کی جنگی مہارت کے اعتراف میں عراق، اردن، پاکستان اور امریکہ کی جانب سے انہیں مختلف فوجی اعزازات سے نوازا گیا۔ سیف الاعظم کا انتقال 79 برس کی عمر میں گزشتہ برس 14 جون کو ڈھاکہ میں ہوا تھا۔
دنیا
ایرانی پاسداران کے اعلیٰ کمانڈر نے عراق کا دورہ کرکے مسلح گروہوں کی تخفیفِ اسلحہ کے منصوبے پر بات چیت کی: ذرائع
عراق کی بڑی سیاسی جماعتوں پر مشتمل شیعہ اتحاد کوآرڈی نیشن فریم ورک کے ایک عراقی ذریعے نے الجزیرہ کو بتایا ہے کہ ایرانی پاسدارانِ انقلاب (آئی آر جی سی) کی القدس فورس کے کمانڈر اسماعیل قاآنی نے رواں ہفتے کے آغاز میں بغداد کا غیر اعلانیہ دورہ کیا۔
نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر ذریعے نے بتایا کہ قاآنی نے پیر کے روز عراقی سیاسی و سکیورٹی رہنماؤں اور شیعہ نیم فوجی گروہوں کے کمانڈروں کے ساتھ پسِ پردہ ملاقاتیں کیں، جن میں عراقی حکومت کے مسلح گروہوں کو غیر مسلح کرنے اور ہتھیار ریاست کے کنٹرول میں لانے کے منصوبے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
ذریعے کے مطابق، “تہران نے قاآنی کے ذریعے پیغام بھیجا کہ اس وقت گروہوں سے ہتھیار واپس نہ لیے جائیں۔” ذریعے نے مزید کہا کہ ایران کا اندازہ ہے کہ خطے میں ایک نئی جنگ شروع ہوسکتی ہے۔
ذرائع نے بتایا کہ ایرانی پیغام میں حکومت اور ان مسلح گروہوں کے درمیان تصادم سے بچنے کے لیے سیاسی سمجھوتہ تلاش کرنے پر زور دیا گیا جو اپنے ہتھیار حوالے کرنے سے انکار کررہے ہیں۔ ان کے مطابق عراقی سیاسی جماعتیں حکومتی منصوبے پر عمل درآمد کے لیے طاقت کے استعمال کی مخالف ہیں۔
عراقی وزیراعظم علی الزیدی کو بڑھتے ہوئے سیاسی اور سکیورٹی بحران کا سامنا ہے، جبکہ تمام ہتھیار ریاست کے کنٹرول میں لانے کے لیے 30 ستمبر کی مقررہ ڈیڈ لائن قریب آرہی ہے۔ انہوں نے پارلیمنٹ کو بتایا کہ ان کی حکومت 2024 میں امریکی قیادت والے اتحاد کے فوجی مشن کے ساتھ طے پانے والے معاہدے پر عمل درآمد کے لیے پُرعزم ہے، جس کے تحت ستمبر کے آخر تک اس مشن کی جنگی فوجی موجودگی ختم ہونا ہے۔
عراقی حکومت کی جانب سے ہتھیاروں پر ریاستی اجارہ داری قائم کرنے، ایران نواز مسلح گروہوں کو غیر مسلح کرنے اور تہران کے ساتھ بغداد کے تعلقات کے معاملات گزشتہ ماہ وزیراعظم الزیدی کے دورۂ امریکہ کے دوران بھی زیر بحث آئے تھے۔ مئی میں عہدہ سنبھالنے کے بعد یہ ان کا پہلا غیر ملکی دورہ تھا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات کے چند روز بعد الزیدی تہران گئے، جہاں انہوں نے ایرانی صدر مسعود پزشکیان سے بھی مذاکرات کیے۔
منگل کو الزیدی نے پارلیمنٹ کی سکیورٹی اور دفاعی کمیٹی کو آئینی تقاضوں کے مطابق ہتھیاروں کو ریاست تک محدود کرنے کے لیے قانون کا مسودہ تیار کرنے کی ہدایت کی۔ انہوں نے خبردار کیا کہ غیر منظم ہتھیار ریاست کے لیے سب سے خطرناک خطرہ ہیں کیونکہ وہ قانون کی بالادستی اور سکیورٹی اداروں کے اختیار کو کمزور کرتے ہیں۔
تاہم متعدد مسلح گروہوں نے ریاستی سکیورٹی فورسز میں ضم ہونے پر رضامندی ظاہر کی ہے، لیکن بعض طاقتور شیعہ نیم فوجی گروہوں، جن میں کتائب حزب اللہ اور حرکت النجباء شامل ہیں، کی جانب سے مزاحمت حکومت کی کوششوں کو ناکام بنا سکتی ہے۔
اس ماہ کے آغاز میں اسٹیٹ ایڈمنسٹریشن کولیشن کے اجلاس میں، جس میں اہم شیعہ جماعتوں کے علاوہ بعض سنی اور کرد سیاسی جماعتیں بھی شامل ہیں، ہتھیاروں کو ریاست کے کنٹرول تک محدود کرنے کی ضرورت پر زور دیا گیا۔ اتحاد نے ان اداروں کو، جو سرکاری اداروں سے باہر ملک کی سلامتی کے لیے خطرہ بننے والی سرگرمیوں میں ملوث ہیں، “غیر قانونی عناصر جن کے خلاف کارروائی ضروری ہے” قرار دیا۔
اتحاد نے حکومتی ڈیڈ لائن ختم ہونے کے بعد کسی بھی مسلح سرگرمی کے خلاف انسدادِ دہشت گردی قانون کے اطلاق کا بھی عندیہ دیا۔
دوسری جانب دیگر شیعہ رہنما کشیدگی کم کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ ذریعے نے الجزیرہ کو بتایا کہ حکمت تحریک کے سربراہ عمار الحکیم کشیدگی کم کرنے اور مسلح گروہوں کو ڈیڈ لائن کے باقی ماندہ ایک ماہ کے دوران ہتھیار ریاست کے کنٹرول میں دینے پر آمادہ کرنے کی کوششوں کی قیادت کررہے ہیں۔
عراقی سینٹر فار اسٹریٹجک اسٹڈیز کے سربراہ غازی فیصل نے کہا کہ عراقی مسلح گروہوں کی جانب سے اپنے ہتھیار برقرار رکھنا معاملے کو ایک وسیع تر سکیورٹی بحران میں تبدیل کرسکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ اگر یہ گروہ پڑوسی ممالک کو نشانہ بنانے کے لیے عراقی سرزمین اور اپنی فوجی صلاحیتوں کو استعمال کرتے رہے تو ان ممالک کو براہ راست جواب دینے یا خطرات کے ذرائع کا مقابلہ کرنے کے لیے مشترکہ سکیورٹی انتظامات قائم کرنے پر مجبور ہونا پڑ سکتا ہے۔
فیصل کے مطابق خلیج اور اہم بحری راستوں کی سلامتی کے لیے بننے والے نئے علاقائی سکیورٹی اتحاد بھی ان مسلح گروہوں کو محض عراقی سیاسی جماعتوں کے طور پر نہیں بلکہ علاقائی سکیورٹی کے ایک اہم فریق کے طور پر دیکھنے پر مجبور ہوسکتے ہیں۔
ان کے بقول، بحران سے نکلنے کا سب سے حقیقت پسندانہ راستہ یہ ہے کہ ہتھیاروں کو ریاست کے کنٹرول میں رکھنے کے اصول کو مضبوطی سے نافذ کیا جائے اور جنگ و امن کا فیصلہ صرف عراقی آئینی اداروں تک محدود ہو، کیونکہ جو ریاست طاقت کے استعمال کا مکمل اختیار اپنے پاس نہیں رکھتی، وہ اپنی قومی سلامتی کی مکمل ضمانت نہیں دے سکتی۔
گزشتہ ہفتے بغداد میں مسلح گروہوں کی جانب سے سعودی اور امریکی حملوں کا جواب دینے کی دھمکیوں کے پس منظر میں سکیورٹی کشیدگی میں اضافہ دیکھا گیا تھا۔ ان حملوں میں گزشتہ ماہ کے آخر میں پاپولر موبلائزیشن فورسز (PMF) کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا تھا۔
امریکی سینٹرل کمانڈ نے ایک بیان میں کہا تھا کہ اس نے 28 جولائی کو سعودی عرب کے ساتھ مل کر ان “ایران نواز دہشت گردوں” کے خلاف مشترکہ حملے کیے جوآئی آر جی سی کی ہدایت پر امریکی افواج اور سعودی توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے کی تیاری کررہے تھے۔
سعودی وزارت خارجہ نے بھی عراق میں “ایران نواز دہشت گرد ملیشیاؤں” پر الزام عائد کیا تھا کہ انہوں نے سعودی عرب کے خلاف ڈرون حملے کرکے “غیر ذمہ دارانہ طور پر کشیدگی بڑھانے” کا راستہ اختیار کیا۔
تاہم عراقی حکومت اور سیاسی گروہوں کی کوششوں سے کشیدگی پر قابو پانے میں کامیابی ملی، جس کے نتیجے میں کشیدگی کم کرنے اور سفارتی سرگرمیوں کے لیے ایک راستہ کھلا ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
ہرمز پر امریکہ کا مکمل کنٹرول ہے: ٹرمپ
میری لینڈ، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ انہیں ایران پر بھروسہ نہیں ہے اور آبنائے ہرمز پر امریکہ کا مکمل کنٹرول ہے۔
مسٹر ٹرمپ نے یہاں نامہ نگاروں سے کہا کہ “میں ایران پر بھروسہ نہیں کرتا۔ آپ کیوں کہہ رہے ہیں کہ میں ایران پر بھروسہ کرتا ہوں؟ میں ایران پر بالکل بھروسہ نہیں کرتا۔ ایرانی فریق نے ہمیشہ جھوٹ بولا ہے،”
مسٹر ٹرمپ نے آبنائے ہرمز پر کنٹرول پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اگر ایران نے صورت حال کو تبدیل کرنے کی کوشش کی تو اس کی قیمت چکانا پڑے گی۔ انہوں نے کہا کہ آبنائے ہرمز پر ہمارا مکمل کنٹرول ہے۔ اس پر ان کا کوئی کنٹرول نہیں ہے۔ ہم اسے چلا رہے ہیں۔ اگر ایران نے کبھی کچھ کرنے کی کوشش کی تو اسے اڑا دیا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ امریکہ اس وقت مضبوط پوزیشن میں ہے اور دعویٰ کیا کہ ایران خطے میں اپنا سابقہ اثر و رسوخ کھو چکا ہے۔
انہوں نے کہا، “اس وقت ہم بہت اچھی پوزیشن میں ہیں۔ ہمارے پاس ایک ایسا ملک ہے جو 50 سال تک مشرق وسطیٰ میں بدمعاش تھا… اب وہ مغربی ایشیا میں بدمعاش نہیں رہا۔”
ان کے تبصرے فروری کے آخر میں امریکہ، اسرائیل اور ایران کے درمیان جنگ شروع ہونے کے بعد خطے میں جاری کشیدگی کے درمیان سامنے آئے ہیں۔ امریکہ اور ایران نے ابھی تک تنازع کے خاتمے کے لیے کسی حتمی معاہدے پر پہنچنا ہے، جبکہ آبنائے ہرمز کے ارد گرد جاری رکاوٹیں عالمی توانائی کی سپلائی کو خطرہ بنا رہی ہیں۔
آبنائے ہرمز عالمی توانائی کی سپلائی کے لیے ایک اہم سمندری راستہ ہے، جہاں سے دنیا کے خام تیل اور مائع قدرتی گیس کی سپلائی کا ایک بڑا حصہ عام حالات میں گزرتا ہے۔
ایران کے سرکاری نشریاتی ادارے پریس ٹی وی نے وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی کے حوالے سے بتایا کہ آبی گزرگاہ 28 فروری 2026 تک کھلی رہی۔ انہوں نے مغربی پابندیوں پر بھی تنقید کی۔
“یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ آبنائے ہرمز کے ارد گرد کی صورتحال اور وہاں جو کچھ ہوا وہ امریکی اور اسرائیلی حکومت کی فوجی جارحیت کی وجہ سے ہوا، جو ابھی تک جاری ہے”۔ “جہاں تک شرائط عائد کرنے کے ایران کے دعووں کا تعلق ہے، انہیں یہ معاملہ اپنی حکومت کے ساتھ اٹھانا چاہیے۔”
اسٹریٹجک آبی گزرگاہ پر کشیدگی تنازعہ کا ایک بڑا مرکز بنی ہوئی ہے۔ دریں اثنا، تہران اور عمان کے درمیان اس اہم آبنائے سے بحری جہازوں کی نقل و حرکت کے انتظامات پر بات چیت جاری ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
زمبابوے میں فیری الٹنے سے کم از کم 15 افراد ہلاک، درجنوں لاپتہ
ہرارے، زمبابوے کی سول پروٹیکشن یونٹ کے مطابق جھیل کاریبا میں گنجائش سے زیادہ مسافروں سے بھری ایک فیری الٹنے کے نتیجے میں کم از کم 15 افراد ہلاک جبکہ 27 لاپتہ ہوگئے ہیں۔
حکام کے مطابق کشتی منگل کو تیز لہروں کی زد میں آکر الٹ گئی۔ حادثے کے بعد کم از کم 77 افراد کو بچا لیا گیا۔
سول پروٹیکشن یونٹ نے بتایا کہ یہ کشتی شمالی شہر کاریبا کو جھیل میں واقع متعدد جزائر اور ماہی گیری کے کیمپوں سے ملانے کے لیے استعمال ہوتی تھی۔ حادثے کے وقت فیری اپنی مقررہ گنجائش 90 افراد سے زیادہ مسافروں کو لے جا رہی تھی۔
حکام نے کہا کہ کشتی میں موجود مسافروں اور عملے کی حتمی تعداد ابھی معلوم نہیں ہوسکی، تاہم رجسٹرڈ ٹکٹوں کی بنیاد پر کم از کم 114 بالغ مسافروں اور عملے کے پانچ ارکان کی موجودگی کی تصدیق ہوئی ہے۔
حکام کے مطابق کشتی میں ٹکٹ خریدنے کی عمر سے کم تعداد میں بچے بھی سوار ہوسکتے تھے جن کا ابھی تک حساب نہیں لگایا جاسکا۔
زمبابوے کی قومی پولیس نے بتایا کہ امدادی اور تلاش کی کارروائیاں جاری ہیں۔
سرکاری نشریاتی ادارے زیڈ بی سی نے ایسی ویڈیو نشر کی جس میں تیز رفتار کشتیاں جھیل میں الٹی ہوئی کشتی کی جانب جاتی دکھائی دیں جبکہ ایک ہیلی کاپٹر اوپر پرواز کر رہا تھا۔ رپورٹ کے مطابق تلاش اور امداد کے لیے زیر آب کارروائی کرنے والی ٹیم بھی وسیع جھیل میں تعینات کی گئی ہے۔
حادثے کے عینی شاہد میکسٹن کانہیما نے خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کو بتایا کہ کشتی خراب موسم کے دوران روانہ ہوئی تھی اور ممکنہ طور پر ایک بڑی لہر کشتی سے ٹکرائی، جس کے باعث اس کے انجن بند ہوگئے۔انہوں نے کہا، ’’جب ہم پانی میں تھے تو ایک ہنگامی اشارہ نظر آیا، جس کے بعد قریب موجود کشتیوں نے مدد کے لیے رخ کیا۔‘‘
کانہیما کے مطابق ماتوسادونا نیشنل پارک نے امدادی کارروائی میں مدد کے لیے ایک ہیلی کاپٹر فراہم کیا، جبکہ بڑی کشتیاں اور مقامی علاقے اور فوج کے غوطہ خور بھی امدادی سرگرمیوں میں شریک ہوئے۔
انہوں نے کہا، ’’لوگ مشکل میں تھے… پانی میں لاشیں موجود تھیں اور یہ ایک انتہائی افسوسناک منظر تھا۔ جن لوگوں کو بچایا جاسکتا تھا، انہیں بچا لیا گیا۔‘‘
ان کے مطابق خراب موسم کے باعث امدادی کارروائی میں کچھ تاخیر ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ حادثے کی جگہ تک پہنچنے میں وقت لگا اور بدقسمتی سے کئی قیمتی جانیں ضائع ہوگئیں۔
جھیل کاریبا زمبابوے اور زیمبیا کی سرحد پر دارالحکومت ہرارے سے 300 کلومیٹر سے زیادہ شمال مشرق میں واقع ہے۔ حجم کے اعتبار سے یہ دنیا کی سب سے بڑی مصنوعی جھیل ہے۔
یہ جھیل 1950 کی دہائی کے اواخر اور 1960 کی دہائی کے اوائل میں دریائے زمبیزی کا راستہ روکنے کے لیے ڈیم تعمیر کرکے بنائی گئی تھی۔ پانی بھرنے کے بعد وجود میں آنے والی یہ وسیع جھیل اب 200 کلومیٹر سے زیادہ طویل اور بعض مقامات پر 40 کلومیٹر تک چوڑی ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
-
دنیا2 days agoایران کا فی الحال امریکہ کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں: ایرانی وزیر خارجہ
-
دنیا3 days agoسعودی عرب میں فیکٹری میں آگ کے سبب 16 بنگلہ دیشی مزدور ہلاک
-
دنیا1 day agoایران نے خود کو ایک ‘ناقابل تسخیر طاقت’ ثابت کیا ہے: عراقچی
-
جموں و کشمیر1 day agoیومِ آزادی سے قبل جموں و کشمیر پولیس نے سرحدی سامبا میں طویل فاصلے کی گشت اور فرضی انسدادِ دہشت گردی مشق کی
-
دنیا3 days agoٹرمپ جوہری معاہدے کے بغیر ایران کے ساتھ تنازع ختم کرنے پر تیار: رپورٹ
-
ہندوستان3 days agoطلبہ پر کارروائی کے معاملے پر حکومت کو گھیرتے ہوئے راہل کا مضمون، کھڑگے اور پرینکا نے حمایت کی
-
دنیا2 days agoتجربہ کار آئی آر جی سی کمانڈر محسن رضائی ایران کے قومی سلامتی کے سربراہ مقرر
-
دنیا1 day agoشام کے سابق صدر بشار الاسد کو سزائے موت سنادی گئی
-
دنیا1 day agoموساد کے سابق سربراہ کا انکشاف، ماضی میں ایران کی فردو جوہری تنصیب کا کئی بار دورہ کیا
-
ہندوستان2 days agoپارلیمنٹ کے احاطے میں اپوزیشن ارکانِ پارلیمنٹ کا احتجاج
-
ہندوستان2 days agoسندوش کمار نے نِرملا سیتارمن کے تبصرے راجیہ سبھا کے ریکارڈ سے ہٹانے کا مطالبہ کیا
-
دنیا2 days agoکیسپین سمندر معاہدے کا مستقبل ایران کی پارلیمنٹ طے کرے گی: اسماعیل بقائی
