تازہ ترین
چین سے سرحدی تنازع : بھارت نے ٹرمپ کی ثالثی کی پیشکش مسترد کردی
نریندر مودی اور ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان کوئی بات چیت نہیں ہوئی
سرینگر;;بھارت نے چین کے ساتھ سرحدی تنازع پر امریکی صدر کی ثالثی کی پیشکش یہ کہہ کر مسترد کردی کہ وہ مذکورہ معاملے پر بیجنگ کے ساتھ ’مسئلے کے حل‘ کے لیے کوشاں ہے ۔ واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ثالثی کی پیشکش اس وقت سامنے آئی تھی جب یہ خبریں سامنے آئیں کہ سیکڑوں چینی فوجی3 ہزار500 کلو میٹر لمبی سرحد کے ساتھ متنازع زون میں داخل ہوگئے ہیں ۔ اس دوران مرکزی حکومت نے واضح کیا ہے کہ وزیر اعظم نریندر مودی اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان حال ہی میں کوئی بات چیت نہیں ہوئی ہے ۔
کشمیر نیوز سروس مانیٹر نگ ڈیسک کے مطابق بھارتی وزارت خارجہ کے ترجمان انوراگ سریواستو سے میڈیا بریفنگ کے دوران ڈونلڈ ٹرمپ کے ٹوءٹ کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے صحافیوں کو بتایا کہ ’ہم اس مسئلے کو پرامن طریقے سے حل کرنے کے لیے چین کے ساتھ بات چیت کر رہے ہیں ‘ ۔
خبر رساں ادارے ’اے ایف پی‘ کے مطابق انوراگ سریواستو نے مزید کہا کہ ہمارے فوجیوں نے انتہائی ذمہ دارانہ انداز کے ساتھ بارڈر مینجمنٹ کے امور سنبھالے ۔ ترجمان وزارت خارجہ نے کہا کہ ’بھارت، چین کے ساتھ سرحدی علاقوں میں امن و سکون کی بحالی کے مقصد کے لیے پرعزم ہے، اس کے ساتھ ہی ہم بھارت کی خود مختاری اور قومی سلامتی کو یقینی بنانے کے اپنے عزم پر قائم ہیں ‘ ۔
خیال رہے کہ چین اور بھارت کی فوج لداخ میں ایک دوسرے کے مدمقابل ہیں اور کشیدگی میں مزید اضافے کا خطرہ ہے ۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق دونوں ممالک کی افواج لداخ کی وادی گالوان میں خیمہ زن ہیں اور ایک دوسرے پر متنازع سرحد پار کرنے کا الزام عائد کر رہی ہیں ۔ نئی دہلی میں بھارتی حکام نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا تھا کہ چین کی جانب سے تقریباً 80 سے 100 ٹینٹ نصب کردیے گئے ہیں جبکہ بھارت کی جانب سے بھی 60 خیمے لگائے گئے ہیں ۔
دوسری جانب چین کی وزارت خارجہ کے ترجمان کا کہنا تھا کہ’چین اپنی علاقائی خود مختاری کے تحفظ سمیت اپنے اور بھارت کے سرحدیعلاقوں میں امن اور استحکام قائم کرنے کے لیے پرعزم ہے‘ ۔ بھارتی فوج نے ایک بیان میں کہا تھا کہ چینی فوجیوں نے لائن آف ایکچول کنٹرول (ایل اے سی) کے ساتھ بھارت کے معمول کے گشت کو روک دیا ۔ بعد ازاں بھارت کے ریٹائرڈ فوجی افسران اور سفارت کاروں کے بیانات سے واضح ہوا کہ سرحد پر تنازع کی اصل وجہ بھارت کی جانب سے سڑکوں اور رن ویز کی تعمیر ہے ۔ چین اور بھارت کی فوج کے درمیان رواں ماہ کے اوائل میں بھی سرحدی علاقے سکم پر جھڑپ ہوئی تھی جس کے نتیجے میں متعدد فوجی زخمی ہوگئے تھے ۔
مغربی میڈیا کی رپورٹس میں بتایا گیا تھا کہ سرحدی ریاست سکم میں ناکولا سیکٹر کے قریب جھڑپ میں 7چینی اور4 بھارتی فوجی زخمی ہوگئے ۔ بھارت اور چین کی سرحدیں ہمالیہ سے ملتی ہیں اور دونوں ممالک میں طویل عرصے سے سرحدی تنازع جاری ہے، دونوں ایک دوسرے پر الزامات عائد کرتے رہتے ہیں ۔
چین، بھارت کے شمال مشرقی علاقے میں 90 ہزار مربع کلومیٹر کا دعویٰ کرتا ہے جبکہ بھارت کا کہنا ہے کہ چین نے مغربی ہمالیہ میں اس کے 38 ہزار مربع کلومیٹر پر قبضہ کر رکھا ہے اور اس سرحدی تنازع پر دونوں ممالک کے متعلقہ حکام درجنوں ملاقاتیں کرچکے ہیں لیکن اس کا کوئی حل نہیں نکل سکا ۔
ادھر اردو نیوز18کی ایک رپورٹ کے مطابق حکومت کے ذراءع نے جمعے کو کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان حال ہی میں کوئی بات چیت نہیں ہوئی ہے ۔ یہ واضح تب ہوا ہوئی ہے جب ڈونلڈ ٹرمپ نے واشنگٹن میں کہا کہ انہوں نے مشرقی لداخ میں چین کے ساتھ چل رہے ہندستان کے سرحد ی تنازعہ کو لیکر مودی سے بات کی ہے ۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے منگل کو ہندستان اور چین کی سرحدی تنازعہ کو حل کرنے کیلئے ثالثی کی پیشکش کی تھی ۔ ایک ذراءع نے کہا، مودی اور ٹرمپ کے درمیان آخری بات چیت 4 اپریل کو ملیریا کی دوائی کے موضوع پر ہوئی تھی ۔ جمعرات کو وزارت خارجہ نے واضح کیا کہ بھارت چین کے ساتھ حالیہ سرحدی تنازعہ کے حل کے لئے قائم میکانزم اور سفارتی رابطوں کے ذریعے چین سے براہ راست مذاکرات کر رہا ہے ۔
اس میں ہندوستان کو کسی تیسرے فریق کی ضرورت نہیں ہے ۔ ٹرمپ نے پندرہ دن سے بھی کم عرصے میں دوسری بار مودی کے ساتھ بات چیت کی تصدیق کی ہے ۔ دونوں لیڈران کے درمیان فون پر ہوئی بات چیر کا بیورا ن نہ تو وہاءٹ ہاوَس اور نہ ہی وزیر اعظم دفتر نے جاری کیا ہے ۔ لیکن ٹرمپ کے عوامی تبصرے سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ اور مودی باقاعدگی سے ایک دوسرے سے بات کرتے ہیں ۔
دنیا
امریکہ ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی غیر معینہ مدت تک برقرار رکھ سکتا ہے: پیٹ ہیگسیتھ
واشنگٹن، وزیرِ دفاع پیٹ ہیگسیتھ کا کہنا ہے کہ امریکی فوج جب تک ضرورت ہو، ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی برقرار رکھ سکتی ہے۔
مسٹر ہیگسیتھ نے صحافیوں کو بتایا کہ ”امریکہ کی بحریہ اس طرح کی ناکہ بندی کو غیر معینہ مدت تک برقرار رکھ سکتی ہے کیونکہ ہم بحری جہازوں کو اسی طرح تبدیل کرتے رہیں گے، جیسا کہ ہم کرتے آئے ہیں اور آئندہ بھی کرتے رہیں گے۔”
یو این آئی۔ م ع
جموں و کشمیر
اننت ناگ میں آسمانی بجلی گرنے سے دو افراد ہلاک
سرینگر، حکام نے بتایا کہ جمعرات کے روز جنوبی کشمیر کے ضلع اننت ناگ کے علاقے لرنو کے گوڑن علاقے میں آسمانی بجلی گرنے سے دو نوجوان ہلاک اور دو دیگر زخمی ہو گئے۔
متوفین کی شناخت بلال احمد بتانا اور فیضان احمد چاڈ کے طور پر ہوئی ہے، جو دونوں میتھنڈو کے باشندے تھے۔
زخمیوں شریف احمد بتانا اور سجاد احمد بتانا کو پی ایچ سی لرنو منتقل کیا گیا، جہاں ان کی حالت مستحکم بتائی جاتی ہے۔
رپورٹس کے مطابق یہ چاروں نوجوان لہوان سے گوڑن کی طرف جا رہے تھے جب علاقے میں آسمانی بجلی گری۔
یو این آئی۔ م س۔ م الف
دنیا
زیلنسکی کا امریکہ سے مزید پیٹریاٹ میزائل فراہم کرنے کا مطالبہ، کہا 10 فیصد سے روسی حملے روکے جاسکتے ہیں
کیف، یوکرین کے صدر ولودیمیر زیلنسکی نے امریکہ سے مزید پیٹریاٹ انٹرسیپٹر میزائل فروخت کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ روس کے بیلسٹک میزائل حملوں میں نمایاں اضافے کا مقابلہ کرنے کے لیے کیف کے پاس مطلوبہ دفاعی نظام کا صرف ایک معمولی حصہ موجود ہے۔
زیلنسکی نے سی این این کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہا کہ اس وقت یوکرین کے پاس امریکی ذخیرے میں موجود پیٹریاٹ انٹرسیپٹر میزائلوں کا تقریباً ایک فیصد ہے۔ ان کے مطابق اگر یہ مقدار بڑھا کر 5 فیصد کردی جائے تو یوکرین موسم سرما گزارنے میں کامیاب ہوسکتا ہے، جبکہ 10 فیصد میزائل ملنے سے روس کی جانب سے یوکرین کو نشانہ بنانے والے تمام بیلسٹک میزائلوں کو تباہ کیا جاسکتا ہے۔
زیلنسکی نے کہا، “اس سال ہمارے پاس 2025 کے مقابلے میں ڈھائی گنا کم انٹرسیپٹرز ہیں،” اور روس اب پہلے کے مقابلے میں ہر ماہ تقریباً دوگنا بیلسٹک میزائل داغ رہا ہے۔انہوں نے کہا، “اگر وہ ہمیں 5 فیصد فروخت کرسکتے ہیں تو ہم موسم سرما گزار لیں گے اور لوگوں کی جانیں بچ جائیں گی۔ اگر وہ ہمیں 10 فیصد دیں تو ہم تمام روسی بیلسٹک میزائل تباہ کردیں گے۔ میرے پاس ایک فیصد ہے۔”
حالیہ ہفتوں میں روسی بیلسٹک میزائل حملوں میں شدت آئی ہے، جبکہ کیف ان حملوں سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے علاقوں میں شامل ہے۔ زیلنسکی نے کہا کہ یوکرین کو تقریباً ہر رات حملوں کا سامنا ہے اور ہر ماہ کئی بڑے حملے ہورہے ہیں، جس سے شہری شدید تھکن اور دباؤ کا شکار ہیں۔
اقوام متحدہ کے مطابق جولائی 2026 یوکرین کے شہریوں کے لیے اپریل 2022 کے بعد سب سے زیادہ ہلاکت خیز مہینہ رہا۔
پیٹریاٹ انٹرسیپٹر میزائلوں کی قلت حالیہ امریکہ-ایران جنگ کے باعث بھی مزید بڑھ گئی ہے، جس کے دوران امریکہ اور خلیجی ممالک نے ایرانی میزائلوں اور ڈرونز کے خلاف بڑی تعداد میں انٹرسیپٹرز استعمال کیے۔
زیلنسکی نے کہا کہ اضافی میزائل حاصل کرنا اب روزانہ کی ترجیح بن چکا ہے اور اس مقصد کے لیے اتحادیوں کے ساتھ مسلسل رابطے اور مذاکرات جاری ہیں۔
انہوں نے کہا، “میں ہر روز اسی کے لیے جیتا ہوں: ایک فیصد سے پانچ فیصد تک۔ میرے پاس کچھ مہینے ہیں اور لاکھوں فون کالز ہیں۔”
انہوں نے بتایا کہ وہ مختلف اقسام کی امداد کے بدلے میزائل حاصل کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ تاہم انہوں نے بعض معاہدوں کی تفصیلات بتانے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ یہ قانونی ہیں لیکن ان پر عوامی طور پر بات نہیں کی جاسکتی۔
یو این آئی۔ ع ا۔
-
جموں و کشمیر3 days agoیومِ آزادی سے قبل جموں و کشمیر پولیس نے سرحدی سامبا میں طویل فاصلے کی گشت اور فرضی انسدادِ دہشت گردی مشق کی
-
ہندوستان4 days agoطلبہ پر کارروائی کے معاملے پر حکومت کو گھیرتے ہوئے راہل کا مضمون، کھڑگے اور پرینکا نے حمایت کی
-
دنیا4 days agoسعودی عرب میں فیکٹری میں آگ کے سبب 16 بنگلہ دیشی مزدور ہلاک
-
دنیا3 days agoایران کا فی الحال امریکہ کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں: ایرانی وزیر خارجہ
-
دنیا3 days agoایران نے خود کو ایک ‘ناقابل تسخیر طاقت’ ثابت کیا ہے: عراقچی
-
جموں و کشمیر1 day agoاسپورٹس کوٹا پر مبنی ملازمتیں: جے اینڈ کے بی جے پی نے اعلیٰ سطحی جانچ کا مطالبہ کیا، احتجاجی کھلاڑیوں کی حمایت کی
-
دنیا4 days agoٹرمپ جوہری معاہدے کے بغیر ایران کے ساتھ تنازع ختم کرنے پر تیار: رپورٹ
-
دنیا3 days agoشام کے سابق صدر بشار الاسد کو سزائے موت سنادی گئی
-
دنیا3 days agoکیسپین سمندر معاہدے کا مستقبل ایران کی پارلیمنٹ طے کرے گی: اسماعیل بقائی
-
دنیا2 days agoموساد کے سابق سربراہ کا انکشاف، ماضی میں ایران کی فردو جوہری تنصیب کا کئی بار دورہ کیا
-
دنیا3 days agoایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
-
ہندوستان3 days agoسندوش کمار نے نِرملا سیتارمن کے تبصرے راجیہ سبھا کے ریکارڈ سے ہٹانے کا مطالبہ کیا
