تازہ ترین
ڈاڈسرہ ترال معرکے میں جاں بحق ہوئے کمانڈر کو گیلانی کا خراج عقیدت
خبراردو: حریت کانفرنس (گ) چیرمین سید علی گیلانی نے جنگجو کمانڈر ذاکر موسی کو اُن کی شہادت پر خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ جولوگ شعور کی بیداری کےساتھ اللہ کی سرزمین پر الہامی قانون نافذ کرنے کی جدوجہد میں اپنی جانیں پیش کرنے سے دریغ نہیں کرتے، ایسے افراد قوم کا بیش بہا سرمایہ ہوتے ہیں جن کی قربانیوں کی حفاظت کرنا قوم پر لازم آتی ہے۔
حریت(گ) چیرمین سید علی گیلانی نے جنگجو کمانڈر ذاکر موسیٰ کو خراج عقیدت ادا کرتے ہوئے کہا کہ جو لوگ شعور کی بیداری کے ساتھ اللہ کی سرزمین پر اللہ کا قانون نافذ کرنے کی جدوجہد میں اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرنے سے بھی دریغ نہیں کرتے، انہیں قوم کا بیش بہا سرمایہ قرار ایکر عوام سے ان قربانیوں کی حفاظت کرنے کی دردمندانہ درخواست کی۔ انہوں نے کہا کہ ہماری قوم کو اپنی مبنی برصداقت جدوجہد کے لیے یکسو اور یکجا ہوکر ہر سطح پر اپنے آپ کو تیار رکھنا ہوگا۔ حریت راہنما نے ٹہب پلوامہ میں ظہور احمد کو قابض فورسز کی طرف سے انتہائی بے دردی کے ساتھ قتل کئے جانے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ظہور احمد کا واحد قصور یہ ہے کہ وہ عسکری محاذ پر سرگرم ایک مجاہد کا بھائی تھا۔
ظہور احمد کی شہادت کو سیاسی انتقام گیری کی بدترین مثال قرار دیتے ہوئے کہا کہ اسطرح عسکریت پسندوں کے رشتہ داروں کو قابض فورسز کی طرف سے نشانہ بنائے جانے کا انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں کو سنجیدہ نوٹس لینا چاہیے۔ حریت چیرمین نے کہا کہ ریاست جموں کشمیر کو ایک فوجی چھاونی میں تبدیل کیا گیا ہے اور بھارت کے قابض افواج اور نیم فوجی دستوں کی طرف سے نہتے لوگوں کی قتل وغارت گری ایک معمول بن گیا ہے اور یہ طرز عمل کسی بھی جمہوری اور انسان دوست ملک کو زیب نہیں دیتا ہے۔
حریت راہنما نے ریاست میں بڑھتی ہوئی قتل وغارت گری پر اپنی گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ریاست کی موجودہ گھمبیر صورتحال تنازعہ کشمیر کی موجودگی کے باعث ہے لہٰذا ضرورت اس امر کی ہے کہ مسئلہ کشمیر کو ریاستی عوام کی عین مرضی کے مطابق حقِ خودارادیت واگزار کرنے میں مضمر ہے جس کے لیے بھارت کو یہاں کی زمینی صورتحال کو تسلیم کرتے ہوئے تنازعہ کشمیر کو حل کرنے کے لیے اپنی آمادگی کا اظہار کرنا چاہیے۔
دریں اثنا حریت (گ)چیرمین سید علی گیلانی کی ہدایت پر حریت کانفرنس کے سینئر راہنما وں پر مشتمل حریت کانفرنس کا ایک اعلیٰ سطحی وفد بشمول مولوی بشیر عرفانی، بلال صدیقی اور یاسمین راجہ نے کولگام اور شوپیان میں حال ہی میں شہید کئے گئے عرفان احمد بٹ اور یاور احمد ڈار نامی مجاہدین کے آبائی گھر جاکر اُن کے لواحقین کے ساتھ اپنی دلی ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کرنے کے لیے ان دیہات کا دورہ کیا۔
وفد میں شامل حریت راہنماو¿ں نے شہداءکے لواحقین تک حریت چیرمین سید علی گیلانی کا تعزیتی پیغام پہنچاتے ہوئے کہا کہ ان شہداءکا قرض چکانے کے لیے تحریک آزادی کو اپنے منطقی انجام تک پہنچانا ہم سب کی ذمہ داری ہے۔ قائدین نے اس مقعہ پر جملہ شہدائے کشمیر کو خراج عقیدت ادا کیا اور اس عہد کا اعادہ کیا کہ ہم اس مشن کو تکمیل تک پہنچانے کے وعدہ بند ہیں۔
پاکستان
تحریک انصاف تحریک ختم کرکے مذاکرات کے لیے آگے آئے، شہباز شریف
اسلام آباد، پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ایجی ٹیشن اور لانگ مارچ کی سیاست ترک کر کے مذاکرات کے لیے آگے آئیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ مسلسل احتجاج ملک کی اقتصادی ترقی اور بین الاقوامی امیج کو شدید نقصان پہنچا سکتا ہے۔
اسلام آباد اور راولپنڈی کے درمیان ٹریفک کو کم کرنے کے لیے بنائے جانے والے کشمیر چوک انڈر پاس کا سنگ بنیاد رکھنے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے، جناب شریف نے کہا، “میں اب بھی ان سے کہتا ہوں کہ ہوش میں آجائیں، اپنے لانگ مارچ اور دھرنے ختم کریں، جب یہ ختم ہو جائیں گے تو ہم ضرور آپ کے ساتھ بیٹھیں گے اور بات کریں گے تاکہ پاکستان آگے بڑھ سکے، یہ آپسی محنت اورپاکستانی قوم کی آواز ہے ۔”
تقریب میں وزیر داخلہ محسن نقوی، وزیر اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ، وزیر پارلیمانی امور طارق فضل چوہدری، وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری اور کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے چیئرمین سہیل اشرف سمیت متعدد ارکان پارلیمنٹ اور دیگر معززین نے شرکت کی۔
مسٹر شریف نے کہا کہ حکومت کی مخلصانہ کوششوں کے باوجود پی ٹی آئی نے ایک بار پھر دھرنوں اور لانگ مارچ کی سیاست کا سہارا لیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان مسلم لیگ نواز اور پاکستان پیپلز پارٹی کے نمائندوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی نے اپوزیشن کے ساتھ مذاکرات کیے تھے لیکن حتمی مسودہ تیار ہونے کے بعد تحریک انصاف کے آخری لمحات میں تبدیلی کے مطالبات کی وجہ سے یہ عمل تعطل کا شکار ہو گیا۔
انہوں نے کہا کہ دھرنوں اور لانگ مارچ کی سیاست کا براہ راست معیشت پر اثر پڑے گا، برآمدات، مینوفیکچرنگ اور درآمدات متاثر ہوں گی۔ انہوں نے کہا کہ اگر کوئی کارکن یا انجینئر وقت پر فیکٹری یا دفتر نہ پہنچ سکے تو پورے ملک کو نقصان پہنچے گا۔
مسٹر شریف نے کہا کہ حکومت نے میکرو اکنامک استحکام کو بحال کیا ہے اور اجتماعی کوششوں کے ذریعے معاشی ترقی کی جانب کام کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ برآمدات، ترسیلات زر اور صنعتی پیداوار میں اضافہ جیسے اشارے مثبت ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ ان کامیابیوں کو نقصان پہنچانا ریاست کے مفادات کے خلاف ہوگا۔
انہوں نے کہا، “ہم ایسا نہیں ہونے دیں گے۔ قانون اپنا راستہ اختیار کرے گا۔ لوگوں کی جان و مال کی حفاظت ہماری ذمہ داری ہے، اور ہم اسے ہر ممکن طریقے سے یقینی بنائیں گے۔”
مسٹر شریف نے کشمیر چوک پروجیکٹ کو ایک ماہ کے اندر مکمل کرنے کا ہدف مقرر کرنے پر مسٹر نقوی اور ان کی ٹیم کی تعریف کی۔ منصوبے کی لاگت 1.6 بلین پاکستانی روپے تھی، جبکہ ٹھیکہ 1.4 بلین روپے میں دیا گیا تھا۔ چار سلپ روڈ بنائے جائیں گے۔ اس چوراہے پر فی الحال تقریباً 107,000 گاڑیاں چلتی ہیں اور خاص طور پر وی آئی پی کی نقل و حرکت کے دوران یہ ٹریفک جام کا شکار ہوتا ہے۔
یو این آئی۔ الف الف ۔ م الف
ہندوستان
گیانیش کمار کے استعفیٰ کا مطالبہ کرتے ہوئے دہلی کانگریس کا احتجاج، کارکن گرفتار
نئی دہلی، دہلی پردیش کانگریس کے صدر دیویندر یادو کی قیادت میں کانگریس کارکنوں نے منگل کو چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفیٰ کا مطالبہ کرتے ہوئے احتجاج کیا اور الیکشن کمیشن کی طرف مارچ کرتے ہوئے گرفتاری کا مطالبہ کیا۔
یہ احتجاج اس وقت ہوا جب پولیس نے لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی اور اپوزیشن جماعتوں کے الیکشن کمیشن کی طرف مارچ کو روک دیا۔
کانگریس کارکنوں نے امبیڈکر بھون، 24 اکبر روڈ، راجیو بھون، گرودوارہ رکاب گنج روڈ اور ساؤتھ ایونیو سے الیکشن کمیشن کی طرف مارچ کیا۔ انہوں نے ’’ووٹ چور، گدی چھوڑ ‘‘ اور ’’گیانیش کمار استعفیٰ دو‘‘ جیسے نعرے لگائے۔
مسٹر یادو نے کہا کہ کانگریس ہر شہری کے حق رائے دہی کے تحفظ کی جدوجہد میں مسٹر گاندھی کے ساتھ کھڑی ہے اور گیانش کمار کے استعفیٰ تک احتجاج جاری رکھے گی۔ انہوں نے ایس آئی آر کے عمل کو روکنے، ای وی ایم کے بجائے بیلٹ پیپرز کے استعمال اور ووٹر لسٹوں میں مبینہ ہیرا پھیری کو روکنے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ بی جے پی حکومت جمہوری اداروں کو کمزور کررہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ کانگریس پارلیمنٹ سے لے کر سڑکوں تک جمہوریت اور آئین کے تحفظ کے لیے اپنی لڑائی جاری رکھے گی۔
یو این آئی۔ الف الف ۔ م الف
دنیا
ٹرمپ کے گولڈن ڈوم دفاعی منصوبے کے لیے فنڈنگ پر سوالات، کانگریس سے منظوری مشکل
واشنگٹن، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے قومی بیلسٹک میزائل دفاعی نظام کے لیے پیش کردہ گولڈن ڈوم منصوبے کو فنڈنگ کے حوالے سے بڑھتی ہوئی غیر یقینی صورتحال کا سامنا ہے، کیونکہ مالی سال 2027 کے لیے منصوبے کی زیادہ تر فنڈنگ ایک ایسے مفاہمتی پیکیج سے منسلک ہے جسے کانگریس سے منظور کرانا مشکل نظر آرہا ہے۔
کانگریشنل بجٹ آفس (سی بی او) کے مطابق میزائل دفاعی پروگرام کی ترقی اور آپریشن پر 20 برسوں کے دوران تقریباً 1.2 ٹریلین ڈالر لاگت آنے کا اندازہ ہے۔
پینٹاگون نے 350 ارب ڈالر کے مجوزہ مفاہمتی پیکیج کے ذریعے گولڈن ڈوم کے لیے 17 ارب ڈالر طلب کیے ہیں، جبکہ اس کے 1.15 ٹریلین ڈالر کے بنیادی بجٹ میں اس پروگرام کے لیے صرف 40 کروڑ ڈالر مختص کرنے کی درخواست کی گئی ہے۔
سینٹر فار اسٹریٹیجک اینڈ انٹرنیشنل اسٹڈیز کے میزائل ڈیفنس پروجیکٹ کے ڈائریکٹر تھامس کاراکو نے کہا کہ جمعرات کو نئے مالی سال کے آغاز کے وقت پروگرام کے لیے کوئی فنڈنگ موجود نہیں تھی۔
انہوں نے ’دی ہل‘ سے کہا، ’’یہ مالی سال 2027 کی تخصیصات سے بنے گا یا ختم ہوجائے گا، اور میں نے کہا تھا کہ گولڈن ڈوم کے لیے یہی سب سے فوری ضرورت ہے۔ یہ اس نقطۂ نظر سے زندگی اور موت کا معاملہ ہے۔ رقم کے بغیر کوئی پروگرام نہیں، صرف پاورپوائنٹ سلائیڈز ہیں۔‘‘
فنڈنگ کی حکمت عملی پر 29 ستمبر کو سینیٹ کی آرمڈ سروسز ذیلی کمیٹی کی سماعت میں بھی سوالات اٹھائے گئے، جہاں کاراکو نے گواہی دی۔
دریں اثنا، ساؤتھ ڈکوٹا سے ریپبلکن سینیٹر مائیک راؤنڈز نے سوال اٹھایا کہ پروگرام کو دو طرفہ تخصیصات کے بجائے مفاہمتی عمل پر انحصار کیوں کرنا پڑ رہا ہے۔ جبکہ مین سے آزاد سینیٹر اینگس کنگ نے کہا کہ یہ منصوبہ ’’امریکی حکومت کی جانب سے شروع کیے گئے اب تک کے سب سے مہنگے اور بڑے منصوبوں‘‘ میں سے ایک ہے، اس لیے یہ بات ’’بہت تشویش ناک‘‘ ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ نے روایتی بجٹ مختص کرنے کے عمل کے ذریعے اسے فنڈز فراہم نہیں کیے۔
ٹرمپ نے جنوری 2025 میں اعلان کیا تھا کہ پینٹاگون خلا میں نصب انٹرسیپٹرز اور میزائلوں کا سراغ لگانے اور انہیں راستے میں روکنے کے لیے سیٹلائٹس پر مشتمل ایک وسیع ملکی میزائل دفاعی نظام تیار کرے گا۔
ٹرمپ انتظامیہ کے مطابق اس نظام کا مقصد بیلسٹک اور ہائپرسونک میزائلوں، جدید کروز میزائلوں اور دیگر نئی نسل کے فضائی خطرات سے دفاع کرنا ہے۔
سی بی او نے مئی میں اندازہ لگایا تھا کہ گولڈن ڈوم پر 20 برسوں میں تقریباً 1.2 ٹریلین ڈالر لاگت آئے گی، جس میں خلا پر مبنی میزائل وارننگ اور ٹریکنگ نظام کے لیے 740 ارب ڈالر، زمینی دفاعی نظام کی مختلف تہوں کے لیے 270 ارب ڈالر، جبکہ سینسرز، تحقیق و ترقی اور دیگر سرگرمیوں کے لیے 180 ارب ڈالر شامل ہیں۔
پروگرام کی نگرانی کرنے والے اسپیس فورس کے جنرل مائیکل گوئٹلین نے مارچ میں اس کی تخمینی لاگت 185 ارب ڈالر بتائی تھی۔
کانگریس نے اس سے قبل جولائی 2025 میں ٹرمپ کے دستخط سے نافذ ہونے والے ’ون بگ بیوٹی فل بل ایکٹ‘ (او بی بی بی اے) کے ذریعے گولڈن ڈوم کے لیے 24.4 ارب ڈالر مختص کیے تھے۔
مارچ میں ایک مزید مفاہمتی بل کے ذریعے تعمیرات شروع کرنے کے لیے 22.5 ارب ڈالر فراہم کیے گئے تھے، تاہم گوئٹلین نے رواں موسم گرما میں کہا تھا کہ چھ ماہ سے بھی کم عرصے میں اس رقم کا 90 فیصد حصہ مختص کیا جاچکا ہے۔
جاری ۔ یو این آئی۔ ع ا۔
-
دنیا1 week agoایران کے پاس امریکہ کے ساتھ مذاکرات کی کوئی منصوبہ بندی نہیں :ایرانی میڈیا
-
دنیا1 week agoایران نے ثالثوں کے ساتھ مغربی ایشیا میں لڑائی ختم کرنے کے طریقوں پر تبادلہ خیال کیا: عراقچی
-
دنیا1 week agoٹرمپ نے ایران تنازع ختم ہونے کے اشارے دیے، تاہم نئے حملوں کا امکان مسترد نہیں کیا
-
جموں و کشمیر5 days agoسری نگر پولیس نے بین ریاستی منشیات نیٹ ورک کا پردہ فاش کیا، آٹھ افراد گرفتار
-
دنیا1 week agoعالمی قوانین کے زوال سے دنیا ’ہابسیائی‘ نظام کی طرف بڑھ سکتی ہے: جے شنکر
-
دنیا6 days agoقطری ثالثی کی امریکہ، ایران کے درمیان مذاکرات میں معمولی پیش رفت
-
دنیا1 week agoٹرمپ نے ایرانی ہرمز امن معاہدے کو مسترد کردیا، تیل کے بھاو 105 ڈالر سے تجاوز کر گئے
-
دنیا1 week agoیوکرین میں روسی حملوں میں آٹھ افراد ہلاک، درجنوں زخمی
-
دنیا1 week agoامریکہ گرین لینڈ میں نایاب معدنیات کی کان کنی کر سکتا ہے: روبیو
-
ہندوستان1 week agoاپوزیشن پر ای ڈی-سی بی آئی، عوام پر تھپڑ-لاٹھی-گولی: کھرگے
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر پولیس نے جعلی کرنسی کے ریکیٹ کا پردہ فاش کیا، تین افراد گرفتار
-
دنیا1 week agoغزہ میں اسرائیلی جنگ کے تین سال بعد تباہی کی ہولناک تصویر، سیٹلائٹ تصاویر سے تباہی کا پیمانہ نمایاں
