کھیل
ڈینس للی:آسٹریلیا کا اب تک کا سب سے خونخوار اور تیز طرار گیند باز
نئی دہلی، ڈینس للی کا شمار عالمی کرکٹ کے خطرناک اور تیز ترین باؤلرز میں ہوتا ہے۔ ایک ایسے وقت میں جب کرکٹ کی پوری تاریخ میں تیز گیند بازی اپنے عروج پر تھی،آسٹریلیائی سپر فاسٹ گیند باز ڈینس للی، ایک ایسے خطرناک گیند باز تھے جن کا ہر کرکٹ شیدائی ان کی گیند بازی سے متاثر تھا۔ سب سے مکمل تیز گیند باز سمجھے جانے والے للی 70 اور 80 کی دہائی کے اوائل میں آسٹریلیائی ٹیم میں’’ اپنی نسل کے سب سے شاندار اور تیز گیند بازقرار دیئے گئے ہیں۔ انہوں نے اپنے کیرئیر کی شروعات ایک تیز گیند باز کے طور پر کلاسیکل سائیڈ آن ایکشن اور لمبے رن اپ کے ساتھ کی۔
ڈینس کیتھ للی 18 جولائی 1949 کو سبیاکو، پرتھ میں پیدا ہوئے ۔ للی نے بیلمے پرائمری اسکول اور بیلمونٹ سیکنڈری اسکول میں تعلیم حاصل کی۔ 15 سال کی کم عمری میں پرتھ کرکٹ کلب کے ساتھ کھیلنا شروع کیا۔ چار سال بعد، انہوں نے اپنا پہلا میچ کوئینز لینڈ کے خلاف برسبین میں کھیلا اور سلامی بلے باز سیم ٹرمبل کی وکٹ لی، جو فرسٹ کلاس کرکٹ میں ان کا پہلا شکار تھے۔
ڈینس للی بلاشبہ کھیل کی تاریخ میں تیز گیند بازوں کی ٹاپ کلاس میں شامل ہیں۔ انہیں ایک متحرک، بے رحم اور پرعزم فاسٹ باؤلر مانا جانا ہے۔ ڈینس للی نے اپنی جارحانہ گیند بازی سے حریف ٹیم کے بلے بازوں کو دہشت اور خوف کےماحول میں رکھا۔یہ ایک ایسے گیند باز تھے جنہوں نے تاریخ کے کسی بھی کھلاڑی کو آسانی کے ساتھ اپنی لائن اپ برقرار رکھنے کا موقع نہیں دیا۔
للی نے اپنے بولنگ پارٹنر جیف تھامسن کے ساتھ مل کر بلے بازوں پر تباہی مچائی۔ للی اپنی آتش فطرت اور کبھی ہار نہ ماننے کے رویے کے لیے مشہور تھے۔سخت فٹنس کے نظام کو اپناتے ہوئے، انہوں نے مکمل طور پر فٹ ہونے کے لیے جدوجہد کی ۔ للی ایک ایسے وقت میں میدان میں آئے جب گراہم میکنزی کی ریٹائرمنٹ کے بعد آسٹریلیائی فاسٹ باؤلنگ کی حالت خراب تھی۔ وہ پہلی بار 1969 میں ویسٹرن آسٹریلیا کے لیے کھیلے اور نسبتاً کم عمر اور غیر تجربہ کار ہونے کے باوجود، للی خطرناک رفتار پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتے تھے۔ ایک سال کے اندر اندر انہوں نے نیوزی لینڈ میں آسٹریلیائی ٹیم -بی کے لیے اوسط سے زیادہ کارکردگی پیش کی۔ اس کے بعد وہ 1971 میں ایڈیلیڈ میں انگلینڈ کے خلاف چھٹے ٹیسٹ میں آسٹریلیا کے لیے منتخب ہوئے۔ انہوں نے موقع کا بھرپور فائدہ اٹھایا اور 84 رن دے کر 5 وکٹیں حاصل کیں، جس سے ایک اعلیٰ درجے کے تیز گیند باز کے ابھرنے کی تصدیق ہوئی۔اس میں کوئی شک نہیں کہ ڈینس للی کو کرکٹ کی تاریخ کے عظیم گیند بازوں میں سے ایک شمار کیا جاتا ہے۔ انہوں نے اپنی تیز اور منفرد گیند بازی کے ایکشن سے بلے بازوں کی مشکلات میں ہمیشہ اضافہ کیا۔جب انہیں گیند بازی کی ذمہ داری سونپی جاتی تو ان کے لئے خاص فیلڈنگ کا اہتمام کیا جاتا تھا۔
جاری یو این آئی۔ ایم جے۔
کھیل
سروچی سنگھ اور کمل جیت سنگھ نے ہندوستان کو ایشیائی کھیلوں میں دوسرا طلائی تمغہ دلایا
آئیچی-ناگویا (جاپان)، ہندوستان کی سروچی سنگھ اور کمل جیت سنگھ کی جوڑی نے جمعہ کو ایشیائی کھیلوں کے نشانہ بازی مقابلے میں 10 میٹر ایئر پسٹل مکسڈ مقابلے میں جنوبی کوریا کو پیچھے چھوڑتے ہوئے طلائی تمغہ حاصل کیا۔ یہ ایشیائی کھیلوں میں ہندوستان کا دوسرا تمغہ ہے۔
آج یہاں ہوئے مقابلے میں ہندوستانی جوڑی نے مجموعی طور پر 484.6 اسکور کے ساتھ سرفہرست مقام حاصل کیا۔ کمل جیت اور سروچی نے شروعات سے ہی اچھی برتری بنا لی تھی، لیکن جنوبی کوریا مسلسل ہندوستانی نشانہ بازوں پر دباؤ بنائے ہوئے تھا۔ تاہم ہندوستانی جوڑی نے دباؤ میں کوئی غلطی نہیں کی اور جنوبی کوریا کو 6.6 پوائنٹس کے فرق سے شکست دے کر طلائی تمغہ اپنے نام کرلیا۔ جنوبی کوریا 478 اسکور کے ساتھ دوسرے جبکہ ایران 415.8 اسکور کے ساتھ تیسرے مقام پر رہا۔
یو این آئی۔ ایم جے
کھیل
سلطان واریئرز بارہمولہ نے افتتاحی چنار پریمیئر لیگ کا خطاب جیت لیا
سری نگر، سلطان واریئرز بارہمولہ نے افتتاحی چنار پریمیئر لیگ (سی پی ایل) کرکٹ ٹورنامنٹ 2026 کا خطاب جیت لیا۔ اس نے بارہمولہ کے جنرل بپن راوت اسٹیڈیم میں کھیلے گئے شاندار فائنل میں رمزی اسپورٹس سری نگر کو شکست دی۔
پہلے بلے بازی کرتے ہوئے سلطان واریئرز نے مقررہ اوورز میں 9 وکٹوں کے نقصان پر 182 رنز بنائے، جس کے جواب میں رمزی اسپورٹس سری نگر کی پوری ٹیم 142 رنز پر آؤٹ ہوگئی۔ اس طرح سلطان واریئرز نے شاندار کامیابی کے ساتھ خطاب اپنے نام کر لیا۔
سلطان واریئرز کے عاقب کھانڈے کو میچ جیتنے والی کارکردگی پر ’مین آف دی میچ‘ قرار دیا گیا، جبکہ ان کے ساتھی کھلاڑی عاصم بشیر کو پورے ٹورنامنٹ میں مسلسل عمدہ کارکردگی پر ’مین آف دی سیریز‘ کا اعزاز دیا گیا۔
فوج کی سری نگر چنار کور کی جانب سے منعقد کیے گئے اس ٹورنامنٹ میں ریکارڈ تعداد میں ٹیموں نے شرکت کی۔ مقابلے کے لیے 130 ٹیموں نے رجسٹریشن کرائی تھی، جن میں سے کشمیر وادی کے مختلف علاقوں سے 79 ٹیموں کا انتخاب کیا گیا۔
تقریب میں جموں و کشمیر کے چیف سیکریٹری اتل ڈلو کے علاوہ بارہمولہ میں تعینات ڈیگر ڈویژن کے جنرل آفیسر کمانڈنگ اور مقامی برادری کی ممتاز شخصیات نے شرکت کی۔
منتظمین نے کہا کہ سی پی ایل 2026 نے پوری کشمیر وادی کے کرکٹ ٹیلنٹ کو اپنی صلاحیتوں کے اظہار کا موقع فراہم کیا اور خاص طور پر نوجوانوں کے درمیان ہندوستانی فوج اور مقامی برادری کے تعلقات کو مضبوط بنانے کے لیے ایک پلیٹ فارم کے طور پر کام کیا۔
دفاعی ترجمان نے کہا کہ سی پی ایل 2026 کا کامیاب انعقاد خطے کے کھیلوں کے کیلنڈر میں ایک اہم سنگِ میل ہے۔ اس کے ذریعے وادی کے مختلف علاقوں سے تعلق رکھنے والے باصلاحیت نوجوان کرکٹرز کو اپنی صلاحیتیں دکھانے کا موقع ملا۔
یواین آئی۔ ظ ا
کھیل
بابر اعظم کی سات سال بعد ڈومیسٹک فرسٹ کلاس کرکٹ میں واپسی
اسلام آباد، پاکستان کے ٹیسٹ کپتان بابر اعظم موجودہ پریذیڈنٹس ٹرافی گریڈ ون فرسٹ کلاس ٹورنامنٹ میں آئل اینڈ گیس ڈیولپمنٹ کمپنی لمیٹڈ (او جی ڈی سی ایل) کی نمائندگی کریں گے۔ انہیں ٹیم نے بطور گیسٹ کھلاڑی شامل کیا ہے۔
ذرائع کے مطابق بابر نے پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) سے درخواست کی تھی کہ انہیں کسی ٹیم میں شامل کیا جائے تاکہ وہ طویل فارمیٹ میں اپنی فارم بہتر کرسکیں۔ اس کے بعد بورڈ نے انہیں او جی ڈی سی ایل کے ساتھ جوڑ دیا۔ بابر نے دسمبر 2022 کے بعد سے ٹیسٹ کرکٹ میں کوئی سنچری نہیں بنائی۔ اس کے بعد سے 39 اننگز میں وہ صرف آٹھ نصف سنچریاں بناسکے ہیں، جبکہ 2023 کے آغاز سے ٹیسٹ میں ان کی اوسط 30.43 رہی ہے۔
ان کی خراب فارم پاکستان کرکٹ میں مسلسل بحث کا موضوع بنی ہوئی ہے۔ حالیہ انگلینڈ دورے میں پاکستان کو تین ٹیسٹ کی سیریز میں 0-3 سے شکست ہوئی، جبکہ لارڈز اور ایجبسٹن ٹیسٹ میں انگلینڈ کے تیز گیندبازوں نے شارٹ گیند کے خلاف بابر کی کمزوری کا فائدہ اٹھایا۔ تاہم گزشتہ پانچ ٹیسٹ میں وہ چار نصف سنچریاں بناچکے ہیں اور گزشتہ ماہ ویسٹ انڈیز کے خلاف دوسرے ٹیسٹ میں ان کا اسکور 88 رنز رہا، جس سے پاکستان نے جولائی 2023 کے بعد پہلی بار بیرون ملک ٹیسٹ جیتا۔
بابر نے آخری بار 2019 میں ڈومیسٹک فرسٹ کلاس ٹورنامنٹ کھیلا تھا، جب انہوں نے سینٹرل پنجاب کی کپتانی کرتے ہوئے فائنل میں ناردرن کو شکست دے کر قائداعظم ٹرافی جیتی تھی۔ حالیہ برسوں میں ٹیسٹ اور آئی سی سی ٹورنامنٹس میں پاکستان کی خراب کارکردگی کے بعد پاکستانی کھلاڑیوں کے ڈومیسٹک فرسٹ کلاس کرکٹ میں زیادہ حصہ لینے کا مطالبہ کیا جاتا رہا ہے۔ اس سیزن میں شاہین شاہ آفریدی اور سلمان آغا سمیت کئی دیگر بین الاقوامی کھلاڑی بھی پریذیڈنٹس ٹرافی میں حصہ لے رہے ہیں۔
پی سی بی کے سینٹرل کنٹریکٹ کے تحت اے کیٹیگری کے ٹیسٹ ماہر کھلاڑیوں کے لیے سالانہ کم از کم چھ، اے بی کیٹیگری کے ٹیسٹ اور ون ڈے ماہر کھلاڑیوں کے لیے چار، جبکہ بی سی کیٹیگری کے وائٹ بال ماہر کھلاڑیوں کے لیے کم از کم دو فرسٹ کلاس میچ کھیلنا ضروری ہے۔ پاکستان اس وقت آئی سی سی ٹیسٹ رینکنگ میں نویں نمبر پر ہے اور ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ کی نو ٹیموں کی جدول میں آخری مقام پر ہے۔ وہ گزشتہ چار آئی سی سی ٹورنامنٹس میں ناک آؤٹ مرحلے تک بھی نہیں پہنچ سکا ہے۔
یو این آئی۔ م س
-
جموں و کشمیر1 week agoگوریز میں مجوزہ ’تنتر سائلنس‘ ریٹریٹ پر تنازع
-
دنیا1 week agoجنوبی کوریا کا آبنائے ہرمز میں جنگی کردار سنبھالنے سے انکار ، جنگی مقاصد کی تعنیاتی نہیں ہو گی
-
جموں و کشمیر1 week agoاپوزیشن لیڈر سنیل شرما کا جموں و کشمیر اسمبلی تحلیل کرنے کا مطالبہ
-
دنیا1 week agoباب المندب سے بحری جہازوں کی محفوظ آمدورفت کے لیے اٹلی جنگی بحری جہاز تعینات کرے گا
-
دنیا1 week agoایران میں جنگ چھڑنے کے بعد حکومت کے حق میں بڑی ترین ریلی، لاکھوں ایرانی شہری یکجا ہوئے
-
دنیا1 week agoامریکی ویزا سے انکار کے بعد اقوام متحدہ نے فلسطینی صدر عباس کو ویڈیو خطاب کی اجازت دی
-
دنیا1 week agoامریکہ کی سعودی عرب کو 48 ایف-35 طیارے فروخت کرنے کی ممکنہ منظوری
-
جموں و کشمیر1 week agoہائی کورٹ نے معزول حضرت بل امام کی عرضی پر نوٹس جاری کیا، 2024 کی عرضداشت پر غور کی ہدایت
-
دنیا1 week agoایرانی وزیر خارجہ عراقچی کا بین الاقوامی قانون کے بلاامتیاز نفاذ پر زور
-
دنیا6 days agoمیں پورے ایران کو ہوا میں اڑا سکتا ہوں:ٹرمپ
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں میں سالگرہ کی تقریب کے دوران 35 سالہ شخص قتل، 2 گرفتار
-
جموں و کشمیر1 week agoنو قائم شدہ جے کے فور سی متاثرین پر مرکوز طریقہ کار اختیار کرے گا
