تازہ ترین
ڈی ڈی سی انتخابات کے لئے ڈالے گئے ووٹوں کی گنتی کل
2181 اْمیدوار وں کے سیاسی قسمت کا فیصلہ بلٹ بکسوں میں محفوظ
ووٹ شماری کے لئے تمام طرح کے انتظامات مکمل کئے گئے: الیکشن کمشنر
سرینگر:جموں و کشمیر میں 2020کے ضلع ترقیاتی کونسل انتخابات کے ووٹوں کی گنتی منگل ہو رہی ہے جس کے ساتھ ہی2181امیدواروں کے قسمت کا فیصلہ ہوگا۔اس دورانووٹوں کی گنتی کے لئے پورے جموں و کشمیر میں پہلے ہی تمام طرح کے انتظامات مکمل کو حتمی شکل دی گئی ہے کشمی۔
اس دوران الیکشن کمشنر کے کے شرما نے بتایا کہ ووٹوں کی گنتی کے لئے تمام طرح کے انتظامات کو مکمل کیا گیا ہے۔ کشمیر نیوزسروس(کے این ایس) کے مطابق 22دسمبر2020 کو جموں کشمیر میں پہلی بار منعقد کرائے گئے ضلع ترقیاتی کونسل انتخابات 280نشستوں پر ووٹ شماری ہوگی۔
سٹیٹ الیکشن کمشنر نے جموں کشمیر کے 20اضلاع ہیڈ کوارٹروں پر ووٹوں کی گنتی کیلئے مراکز قائم کرلئے ہیں جن میں گرمی سمیت تمام طرح کا معقول انتظام کیا گیا ہے۔ اس دوران ووٹ شماری کیلئے مخصوص سرکاری عملے کی تربیت پہلے ہی دی گئی ہے۔ جموں کشمیر میں ڈی ڈی سی انتخابات کی 280نشستوں کیلئے 2181 اْمیدوار میدان میں قسمت آزامائی کر رہے ہیں جن میں وادی کے 1182اورجموں کے 999 امیدواروں کی قسمت کا فیصلہ ہوگا۔
جموں و کشمیر میں مزکورہ انتخابات کو 8مراحل میں تقسیم کیا گیا تھا جس دوران سبھی مرحلے پر امن طور اختتام پزیر ہوئے ہیں۔منعقدہ کل8مراحل میں عوامی شرکت بہتر رہی ہے جس دوران لوگوں نے سردی کے باجود اس ووٹنگ میں حصہ لیا ہے۔ پہلے مرحلے میں 43،دوسرے میں 43،تیسرے مرحلے میں 33 چوتھے میں 34پانچویں مرحلے37چھٹے مرحلے میں 31،ساتویں 31آخری مرحلے کے28نشستوں کے لئے ووٹ ڈالے گئے ہیں۔
ووٹنگ کا پہلا مرحلہ 28نومبر جبکہ آخری مرحلہ19دسمبرمنعقد ہوا ہے جس کے ساتھ ہی جموں و کشمیر میں ڈی ڈی سی انتخابات مکمل ہوئے ہیں۔اس دوران الیکشن کمشنر جموں و کشمیر کے کے شرمانے کہا ہے کہ جموں و کشمیر میں پہلی بار منعقد ہونے والے ڈی ڈی سی انتخابات کی ووٹ شماری کے لئے تمام تر انتظامات کو حتمی شکل دی گئی ہے۔انہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر کے تمام بیس اضلاع میں ووٹ شماری کا عمل منگل کی صبح ٹھیک نو بجے شروع ہوگا اور ہر ڈی ڈی سی حلقہ انتخاب میں ریٹرنگ افسر ووٹ شماری عمل کا انچارج ہوگا۔
موصوف کا کہنا تھا کہ شفافیت کو یقینی بنانے کے لئے ووٹ شماری کے پورے عمل کو مانیٹر اور ریکارڈ کیا جائے گا۔جموں و کشمیر میں ڈی دی سی انتخابات 5اگست2019کے بعد لئے گئے مرکزی سرکا کے فیصلے کے بعد سرکاری کی پہلی سیاسی سرگرمی تھی۔ان انتخابات کے لئے منتخب امیدواروں کو پانچ سال کے لئے منتخب کیا جائے گا۔ان انتخابات میں بی جی پی سمیت تمام سیاسی پارٹیوں نے اپنے نمائندے کھڑا کئے تھے جبکہ بھارتیہ جنتا پارٹی نے کشمیر میں تمام انتخابی حلقوں میں اپنے امیدوار کھڑے کئے تھے اور انتخابی مہم چلانے کے لئے نہ صرف پارٹی کے بعض لیڈراں کشمیر میں ہی خیمہ زن تھے بلکہ پارٹی نے کئی علاقوں بشمول جنوبی کشمیر میں انتخابی ریلیوں کا انعقاد بھی کیا۔پیپلز الائنس برائے گپکار اعلامیہ جس میں نیشنل کانفرنس، پی ڈی پی، پیپلز کانفرنس، سی پی آئی (ایم) وغیرہ شامل ہیں، نے مشترکہ طور اپنے امیدوار کھڑے کئے تھے۔
مزکورہ انتخابات میں امیدواروں نے جیت درج کرنے کے لئے زبردست مہم چلائی ہے۔تاکہ وہ جیت درج کریں گے۔قابل ذکر بات یہ ہے ان انتخابات میں لوگوں کی ایک اچھی خاصی تعداد نے حصہ لیا ہے ہر امیدوار نے ووٹران کو اپنی طرف راغب کرنے میں کوئی کسر باقی نہیں چھوڑی ہے اب کسی سر پر پھول اورکس کے کوکانٹوں کا ہار ملے گا،یہ منگل کے روز ہی پتہ چلے گا۔(کے این ایس)
ہندوستان
جنتر منتر پر مظاہرے کے لیے 10 دن پہلے درخواست کی شرط بے تکی: کانگریس
نئی دہلی، کانگریس نے جنتر منتر پر مظاہرے کے لیے 10 دن پہلے درخواست دینے کی شرط پر اعتراض ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ کسی واقعے پر فوری احتجاج کے لیے لوگوں کو اتنے دن انتظار کرنے پر مجبور نہیں کیا جا سکتا۔
کانگریس کے اتر پردیش انچارج راجندر پال گوتم نے بدھ کے روز یہاں پارٹی ہیڈکوارٹر میں ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ یہ خبر حیران کن ہے کہ جنتر منتر پر کسی بھی مظاہرے کے لیے کم از کم 10 دن پہلے درخواست دینی ہوگی۔ انہوں نے دہلی پولیس کے اس فرمان پر اعتراض ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ اگر آج کسی کے ساتھ ظلم ہو جائے، کسی کا بے رحمی سے قتل ہو جائے یا جمہوریت پر حملہ کر دیا جائے تو کیا لوگوں کو اس کے احتجاج کے لیے 10 دن انتظار کرنا ہوگا؟
انہوں نے کہا کہ انہیں نہیں لگتا کہ سپریم کورٹ یا کسی حکومت نے ایسا کوئی قانون بنایا ہے یا بنا سکتی ہے کہ ایک آزاد ملک میں لوگ اپنے بنیادی حقوق کا استعمال کرنے کے لیے اتنے دن انتظار کریں۔
کانگریسی رہنما نے کہا کہ آئین شہریوں کو اظہارِ رائے کی آزادی دیتا ہے اور دھرنا- مظاہرے کے ذریعے حکومت پر دباؤ بنانے کا حق بھی دیتا ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ بھارتیہ جنتا پارٹی تحقیاقی ایجنسیوں کا استعمال کر رہی ہے اور الیکشن کمیشن کو بی جے پی کی ‘بی ٹیم’ بنا دیا گیا ہے۔
مسٹر گوتم نے کہا کہ جواب دہی سے بچنے کے لیے وزیرِ داخلہ امت شاہ پولیس کو آگے کر دیتے ہیں اور گزشتہ دو دنوں میں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی کے ساتھ پولیس نے جس طرح کا سلوک کیا، وہ شرمناک ہے۔
یواین آئی ایف اے
ہندوستان
سعودی عرب کے ہوائی اڈوں پر حملوں کی ہندوستان نے شدید مذمت کی
نئی دہلی، ہندوستان نے سعودی عرب کے ابہا بین الاقوامی ہوائی اڈے اور ریاض کے کنگ خالد بین الاقوامی ہوائی اڈے کو نشانہ بنا کر گزشتہ چند دنوں میں کیے گئے حملوں کی مذمت کی ہے۔
وزارتِ خارجہ نے جمعرات کے روز ایک بیان جاری کر کے کہا کہ ان حملوں میں شہریوں کی موت اور کئی لوگوں کے زخمی ہونے کی اطلاع ملی ہے۔ ہندوستان نے کہا کہ شہری انفراسٹرکچر کو نشانہ بنانا مکمل طور پر ناقابلِ قبول ہے۔
ہندوستان نے حملوں میں جاں بحق ہونے والے لوگوں کے خاندانوں کے ساتھ دلی تعزیت کا اظہار کیا اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کی دعا کی۔ ہندوستان نے سعودی عرب کے عوام اور حکومت کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے ان کے ساتھ کھڑے رہنے کا اعادہ کیا۔
قابلِ ذکر ہے کہ منگل اور بدھ کے روز مبینہ طور پر حوثی باغیوں کے حملوں میں جان و مال کا کافی نقصان ہوا ہے۔
یواین آئی ایف اے
ہندوستان
جنتر منتر پر مظاہرے کی اجازت کے تعلق سے یوتھ کانگریس کی عرضی پر جمعہ کو سماعت
نئی دہلی، دہلی ہائی کورٹ میں چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے خلاف جنتر منتر پر مظاہرے کی اجازت دینے سے دہلی پولیس کے انکار کو چیلنج کرنے والی یوتھ کانگریس کی عرضی پر جمعہ کے روز سماعت ہو سکتی ہے۔
یوتھ کانگریس نے بتایا کہ تنظیم کے سینئر ایڈوکیٹ سنجے گھوش نے بدھ کے روز دہلی ہائی کورٹ کے کارگزار چیف جسٹس نتن واسودیو سامبرے کی بنچ کے سامنے عرضی کا ذکر کیا تھا۔ عدالت نے اس کے بعد معاملے کو جمعہ کے روز سماعت کے لیے فہرست بند کیا ہے۔ یوتھ کانگریس نے امید ظاہر کی ہے کہ معاملے پر جمعہ کے روز سماعت ہوگی۔
عرضی یوتھ کانگریس کے قومی صدر ادے بھانو چب کے ذریعے تنظیم کے لیگل سیل کے چیئرمین ایڈوکیٹ روپیش سنگھ بھدوریا نے دائر کی ہے۔ اس میں دہلی پولیس کے یکم اکتوبر کے اس حکم کو چیلنج کیا گیا ہے جس میں 25 ستمبر کو مجوزہ 100 سے 150 لوگوں کے پرامن مظاہرے کی اجازت دینے سے انکار کیا گیا تھا۔
یوتھ کانگریس نے کہا کہ اس نے مظاہرے کے دوران سکیورٹی، ٹریفک، نظم و ضبط اور امن و قانون سے جڑی تمام شرائط پر عمل کرنے کا یقین دلایا تھا۔
عرضی کے مطابق پرامن اجتماع اور اظہارِ رائے کے بنیادی حق کو انتظامی صوابدید کی بنیاد پر من مانے طریقے سے پابند نہیں کیا جا سکتا۔ یوتھ کانگریس نے کہا ہے کہ ایسے امتناع آئینی، ضرورت کے مطابق اور متناسب ہونے چاہئیں۔
یواین آئی ایف اے
-
جموں و کشمیر1 week agoسری نگر پولیس نے بین ریاستی منشیات نیٹ ورک کا پردہ فاش کیا، آٹھ افراد گرفتار
-
دنیا1 week agoقطری ثالثی کی امریکہ، ایران کے درمیان مذاکرات میں معمولی پیش رفت
-
دنیا7 days agoروس پر براہِ راست حملے کی صورت میں ہر قسم کے ہتھیار استعمال کرنےکا معاملہ ایجنڈے پر ہو گا :پوتن
-
ہندوستان7 days agoوندے بھارت نے چِناب پل اور کیبل اسٹڈ انجی پل کو 100 کلومیٹر کی رفتار سے عبور کیا
-
دنیا1 week agoہیگستھ امریکی جنرل اور ایڈمرل کے عہدوں میں 20 فیصد کمی کریں گے
-
جموں و کشمیر7 days agoگاندھی کے عدم تشدد اور سودیشی کے نظریات آج بھی اہم ہیں: جموں کے ڈویژنل کمشنر
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر میراتھن اتحاد اور نوجوانوں کے متبادل خواہشات کا پیغام دیتی ہے: ایل جی سنہا
-
دنیا6 days agoخمیس مشیط کی جانب داغے گئے تین حوثی بیلسٹک میزائل تباہ
-
ہندوستان1 week agoگیانیش کمار استعفیٰ دیں، ہٹائے گئے ووٹروں کی فہرست عام کی جائے: کھرگے
-
ہندوستان1 week agoڈیفنس اکاؤنٹس ڈیپارٹمنٹ کے 279ویں سالانہ دن پر کئی نئی پہل کی شروعات کریں گے راج ناتھ
-
ہندوستان1 week agoشیئر بازاروں میں گراوٹ جاری، سینسیکس 49 پوائنٹس پھسلا
-
ہندوستان7 days agoکھرگے- راہل نے گاندھی اور شاستری کو یومِ پیدائش پر خراجِ عقیدت پیش کیا
