تازہ ترین
کاروبار کھولنے میں جلدی کی تو زیادہ نقصان ہوگا، عالمی ادارہ صحت
عالمی ادارہ صحت کے ایک اہلکار نے خبردار کیا ہے کہ جو ممالک جلد لاک ڈاؤن میں نرمی کریں گے، وہ کرونا وائرس کے دوبارہ بڑھنے کا خطرہ مول لیں گے۔
مغربی بحر الکاہل کے لیے ڈبلیو ایچ او کے ڈائریکٹر ڈاکٹر تاکیشی کاسائی نے آن لائن نیوز کانفرنس میں کہا کہ یہ لاک ڈاؤن میں نرمی کرنے کا وقت نہیں ہے۔ اس کے بجائے ہمیں کچھ عرصے تک خود کو نئے طرز زندگی کے لیے تیار رہنے کی ضرورت ہے۔
انھوں نے یہ مشورہ ایک ایسے موقع پر دیا ہے جب امریکہ کی کئی ریاستوں میں کاروبار کھولنے کے لیے مظاہرے کیے جا رہے ہیں، جبکہ ایشیا اور یورپ کی کئی حکومتیں لاک ڈاؤن میں نرمی کرنے پر غور کر رہی ہیں۔
عالمی ادارہ صحت نے اپنے ایک وفد کو یورپی ملک بیلارس بھی بھیجا تاکہ وہ اس کے صدر الیگزینڈر لوکاشینکو پر زور دے کہ وہ اپنے ملک میں لاک ڈاؤن کریں۔ بیلارس کی حکومت نے اپنے شہریوں کو سماجی فاصلے کی ہدایت تک نہیں کی۔ صدر لوکاشینکو نے ماننے کے بجائے کہا ہے کہ ڈبلیو ایچ او والے ہم سے محبت نہیں کرتے۔ یہ بین الاقوامی ادارہ ہے جس میں بہت سی سیاست ہوتی ہے۔
امریکی ریاست ٹیکساس کے ری پبلکن گورنر ڈین پیٹرک نے پیر کو کہا کہ تھوڑا خطرہ مول لے کر کاروبار کھولنا پڑے گا۔ انھوں نے گزشتہ ماہ دیے گئے ایک انٹرویو کا بھی دفاع کیا جس میں انھوں نے کہا تھا کہ وبا کے دوران معیشت کی خاطر بزرگ شہریوں کو اپنی جان داؤ پر لگانے سے گریز نہیں کرنا چاہیے۔
ڈین پیٹرک نے کہا کہ ٹیکساس کی 2 کروڑ 90 لاکھ کی آبادی میں صرف 495 افراد وائرس سے ہلاک ہوئے ہیں جبکہ لاک ڈاؤن سے عام آدمی، چھوٹے کاروبار اور مارکیٹ تباہ ہورہی ہے۔
ادھر جنوبی کوریا میں پروفیشنل بیس بال لیگ 5 مئی سے شروع کی جا رہی ہے جس میں تماشائیوں کو اسٹیڈیم آنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ لیگ سے پہلے سول میں دو ٹیموں کا ایک میچ منعقد کیا گیا۔ لیگ میں میچز سے پہلے کھلاڑیوں کے درجہ حرارت جانچے جائیں گے اور انھیں میچ کے دوران ہاتھ ملانے یا گلے ملنے کی اجازت نہیں ہوگی۔
اٹلی یورپ میں کرونا وائرس سے سب سے زیادہ متاثر ملک ہے۔ اس کے وزیراعظم جوزپے کونٹی نے ایک فیس بک پوسٹ میں لکھا کہ ان کی حکومت ماہرین سے مشاورت کے بعد اس ہفتے کے آخر تک بتائے گی کہ رفتہ رفتہ ملک کیسے کھولا جائے گا۔ انھوں نے توقع ظاہر کی کہ اس پر 4 مئی سے عمل شروع ہوگا۔ وزیراعظم کونٹی نے کہا کہ اگرچہ ان کی خواہش ہے کہ پورا ملک ایک دم کھول دیا جائے لیکن ایسا کرنا غیر ذمے دارانہ اقدام ہوگا اور اب تک کے تمام کیے کرائے پر پانی پھیر دے گا۔
برطانوی پارلیمان کا طویل تعطیل کے بعد منگل کو دوبارہ اجلاس شروع ہو رہا ہے جس کے ساڑھے چھ سو ارکان میں سے صرف 50 حاضر ہوں گے، جبکہ باقی ارکان ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے کارروائی میں حصہ لیں گے۔
مسلمان ملکوں میں رمضان کے مقدس مہینے کی تیاریاں جاری ہیں جس کے سعودی عرب نے کرفیو میں نرمی کا اعلان کیا ہے، جبکہ پاکستان میں بھی مساجد میں اجتماعات کی اجازت دے دی گئی ہے۔
ان کے برعکس انڈونیشیا کی حکومت نے کہا ہے کہ وہ شہریوں کو عید پر سفر کرنے سے روکے گی۔ مقامی ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ اگر عید پر لاکھوں لوگ سفر کریں گے تو کرونا وائرس تیزی سے پھیل سکتا ہے۔
جرمنی کی حکومت نے بھی میونخ کے مقبول اکتوبرفیسٹ بئیر فیسٹول کو منسوخ کر دیا ہے جس میں شرکت کے لیے ہر سال دو لاکھ غیر ملکی سیاح بھی آتے ہیں۔ حکام نے اس فیصلے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ کرونا وائرس کے ساتھ زندگی گزارنے کا مطلب احتیاط کا مظاہرہ کرنا ہے۔
ہندوستان
انڈیا اتحاد کے رہنماؤں سے جمعہ کی رات آٹھ بجے ملاقات کریں گی مرمو
نئی دہلی، انڈیا اتحاد کے رہنما جمعہ کی رات آٹھ بجے صدرِ جمہوریہ دروپدی مرمو سے ملاقات کر کے ووٹر لسٹ کی خصوصی تفصیلی نظرثانی (ایس آئی آر) کےعمل کے ذریعے دھاندلی کرنے اور الیکشن کمیشن کے طریقہ کار سے متعلق مسائل پر اپنے خدشات پیش کریں گے۔
ذرائع کے مطابق انڈیا اتحاد کے رہنماؤں نے 30 ستمبر کو یہاں منعقدہ میٹنگ میں صدرِ جمہوریہ سے ملاقات کر کے ان مسائل پر ان کے سامنے اپنا موقف رکھنے کا فیصلہ کیا تھا۔ اتحاد کے رہنما ایس آئی آر کے عمل اور چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے طریقہ کار سے متعلق اپنے خدشات سے صدرِ جمہوریہ کو آگاہ کرنا چاہتے ہیں۔
اس سلسلے میں صدرِ جمہوریہ سے ملاقات کے لیے پہلی بار دو اکتوبر کو مکتوب بھیج کر وقت مانگا گیا تھا۔ راشٹرپتی بھون کی طرف سے وفد میں شامل ہونے والے رہنماؤں کے نام مانگے جانے کے بعد اتحاد نے پانچ اکتوبر کو دوبارہ مکتوب بھیجا اور سات، آٹھ یا نو اکتوبر میں سے کسی بھی دن ملاقات کا وقت دینے کی درخواست کی تھی۔
انڈیا اتحاد کے رہنما چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار پر ووٹر لسٹ میں مبینہ دھاندلیوں کے تعلق سے سوال اٹھاتے ہوئے ان کے استعفے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ اس معاملے پر اتحاد کے اراکینِ پارلیمنٹ نے مظاہرے اور مارچ بھی نکالے ہیں۔
کانگریس نے الیکشن کمیشن کے خلاف اپنے احتجاج کو تیز کرنے کے لیے تقریباً ڈیڑھ ماہ تک جاری رہنے والی تحریک کے پروگرام کی بھی توثیق کی ہے۔ کانگریسی رہنما راہل گاندھی اور پرینکا گاندھی واڈرا کو پولیس مظاہرے کے دوران مسلسل دو بار حراست میں بھی لے چکی ہے۔
یواین آئی ایف اے
ہندوستان
ہندوستان نے امریکہ کے پی ای آر ایم پروگرام پر روک پر تشویش کا اظہار کیا، کہا – یہ دونوں ممالک کے مفادات کے خلاف
نئی دہلی، ہندوستان نے امریکی محکمہ محنت کے مستقل لیبر سرٹیفیکیشن پروگرام (پی ای آر ایم) سے جڑے فیصلے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسے دونوں ممالک کے مفادات کے خلاف بتایا ہے۔
امریکہ کی جانب سے جمعرات کی رات اس قدم کے اعلان کے بعد وزارتِ خارجہ نے جمعہ کے روز ایک بیان جاری کر کے کہا کہ اس قدم سے متاثرہ کمپنیوں کے اہل ملازمین کے گرین کارڈ کے عمل پر اثر پڑ سکتا ہے۔ تاہم پی ای آر ایم درخواستوں پر روک سے موجودہ ایچ-1بی ویزا یا ویزا ہولڈرز اور ان کے زیرِ کفالت افراد کی حیثیت پر خود بخود کوئی اثر نہیں پڑتا۔
ہندوستان نے کہا کہ پی ای آر ایم پروگرام، ایچ-1بی ویزا پروگرام سے مختلف ہے۔ متاثرہ کمپنیوں کے اہل ملازمین کی مستقل رہائش یعنی گرین کارڈ حاصل کرنے کے عمل پر اس کا کچھ اثر ہو سکتا ہے، لیکن اس سے موجودہ ایچ-1بی ویزا کی میعاد اپنے آپ ختم نہیں ہوتی۔
وزارتِ خارجہ نے کہا ہے کہ ہندوستانی ٹیلنٹ کے امریکہ جانے سے دونوں ممالک کی معیشتوں کو فائدہ ہوتا ہے۔ اس سے ہندوستانیوں کو مواقع ملتے ہیں، جبکہ امریکی کمپنیوں کو ہنر مند ملازمین، نئی ٹیکنالوجی، تحقیق، جدت طرازی، پیداواری صلاحیت اور مسابقتی صلاحیت بڑھانے میں مدد ملتی ہے۔ اس سے امریکہ میں روزگار کے مواقع پیدا ہوتے ہیں اور شیئر ہولڈرز کے اثاثوں میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔
ہندوستان نے کہا کہ امریکہ کا یہ قدم دونوں ممالک کے مشترکہ اہداف کو آگے بڑھانے میں مدد نہیں کرتا۔ ہندوستان نے امریکی نائب صدر کے اس معاملے پر کیے گئے تبصروں پر بھی اعتراض ظاہر کیا۔ ہندوستان کے مطابق ایسے تبصرے غیر مناسب ہیں اور امریکہ کی معیشت نیز جدت طرازی میں ہندوستانی پیشہ ور افراد کی خدمات کو نظر انداز کرتے ہیں۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ ہندوستانی پیشہ ور افراد امریکہ کی معیشت اور جدت طرازی کے نظام میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ امریکہ کی تاریخ بھی ایسے تارکینِ وطن کی خدمات سے بنی ہے جنہوں نے اپنے کام، کاروبار اور نئے خیالات سے ملک کی ترقی میں مدد کی ہے۔ ہندوستان نے کہا کہ دردناک تاریخی اور نوآبادیاتی دور کی یاد دلانے والے الفاظ کا استعمال انتہائی قابلِ اعتراض ہے۔
وزارتِ خارجہ نے کہا کہ وہ اس معاملے سے جڑی صورتحال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہے۔
یواین آئی ایف اے
جموں و کشمیر
مشتبہ افراد اور دہشت گردانہ سرگرمیوں کی فوری اطلاع دیں: جموں و کشمیر پولیس کی عوام سے اپیل
جموں، جموں و کشمیر پولیس نے پونچھ ضلع کے بفلیاز میں پولیس-عوام شراکت داری گروپ (پی سی پی جی) کے اجلاس کے دوران شہریوں سے اپیل کی کہ وہ کسی بھی مشتبہ شخص یا دہشت گردانہ سرگرمی کے بارے میں فوری طور پر پولیس کو اطلاع دیں۔
یہ اجلاس ایڈیشنل ایس پی پونچھ ڈاکٹر اجے شرما کی صدارت میں منعقد ہوا، جس میں دیگر پولیس افسران بھی موجود تھے۔
اجلاس میں عوامی نمائندوں، سماجی کارکنوں، سابق فوجیوں، مذہبی نمائندوں اور مقامی باشندوں نے شرکت کی۔ اس کا مقصد پولیس اور عوام کے درمیان تال میل کو مضبوط بنانا اور منشیات، دہشت گردی کے خلاف کارروائی، خواتین و بچوں کی حفاظت، سائبر جرائم اور عوامی مسائل سے متعلق امور پر تبادلۂ خیال کرنا تھا۔
اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے ایڈیشنل ایس پی پونچھ ڈاکٹر اجے شرما نے عوام کی فعال شرکت کو سراہا اور کہا کہ امن و سلامتی برقرار رکھنے کے لیے شہریوں کی جانب سے بروقت اور قابل اعتماد معلومات فراہم کرنا انتہائی اہم ہے۔
منشیات کی لعنت کے حوالے سے انہوں نے زور دیا کہ اس کاروبار میں ملوث اصل سپلائرز اور منشیات فروخت کرنے والوں کی شناخت کرکے انہیں گرفتار کیا جائے۔ اس کے ساتھ ہی نشے کی لت سے چھٹکارا دلانے، بحالی اور کونسلنگ کے اقدامات کو بھی فروغ دیا جائے، تاکہ اصلاح کے خواہش مند افراد کو مدد فراہم کی جاسکے۔
دہشت گردی کے خلاف کارروائی کے موضوع پر ایڈیشنل ایس پی نے خبردار کیا کہ ملک دشمن عناصر نوجوانوں کو گمراہ کرنے کے لیے منشیات، ہتھیاروں، دہشت گردی، مذہب اور دیگر جذباتی معاملات کا استحصال کرسکتے ہیں۔
انہوں نے شہریوں سے اپیل کی کہ وہ کسی بھی مشتبہ شخص، نقل و حرکت، آمد و رفت یا دہشت گردانہ سرگرمی کی فوری اطلاع پولیس کو دیں۔ انہوں نے واضح طور پر کہا کہ دہشت گردوں کو پناہ، حمایت یا کسی بھی قسم کی مدد فراہم نہ کی جائے۔
انہوں نے ماضی میں دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں، بشمول آپریشن سرپ وناش، میں مقامی باشندوں کے اہم کردار کو بھی تسلیم کیا۔
ایڈیشنل سپرنٹنڈنٹ آف پولیس نے پہاڑی اور دشوار گزار علاقوں میں درپیش سلامتی کے چیلنجوں کے پیش نظر نگرانی مزید سخت کرنے، مؤثر معلومات جمع کرنے اور انہیں بروقت متعلقہ حکام تک پہنچانے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔
انہوں نے عوام سے غیر قانونی کان کنی، درختوں کی غیر مجاز کٹائی، تجاوزات اور جنگلاتی یا پہاڑی زمین کو غیر قانونی طور پر صاف کرنے کے واقعات کی اطلاع دینے کی اپیل کی۔
مویشیوں کی اسمگلنگ پر گہری تشویش ظاہر کرتے ہوئے انہوں نے متعلقہ افسران کو ہدایت دی کہ اس معاملے میں کسی قسم کی نرمی نہ برتی جائے اور خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی یقینی بنائی جائے۔
مقامی تنازعات کے حوالے سے انہوں نے باشندوں کو مشورہ دیا کہ وہ ایف آئی آر اور جوابی ایف آئی آر درج کرانے کے ذریعے معمولی معاملات کو بلاوجہ طول دینے سے گریز کریں اور جہاں ممکن ہو، چھوٹے تنازعات کو پُرامن طریقے سے حل کریں۔
یواین آئی۔ ظ ا
-
جموں و کشمیر1 week agoسری نگر پولیس نے بین ریاستی منشیات نیٹ ورک کا پردہ فاش کیا، آٹھ افراد گرفتار
-
دنیا1 week agoقطری ثالثی کی امریکہ، ایران کے درمیان مذاکرات میں معمولی پیش رفت
-
دنیا1 week agoروس پر براہِ راست حملے کی صورت میں ہر قسم کے ہتھیار استعمال کرنےکا معاملہ ایجنڈے پر ہو گا :پوتن
-
ہندوستان1 week agoوندے بھارت نے چِناب پل اور کیبل اسٹڈ انجی پل کو 100 کلومیٹر کی رفتار سے عبور کیا
-
جموں و کشمیر7 days agoگاندھی کے عدم تشدد اور سودیشی کے نظریات آج بھی اہم ہیں: جموں کے ڈویژنل کمشنر
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر میراتھن اتحاد اور نوجوانوں کے متبادل خواہشات کا پیغام دیتی ہے: ایل جی سنہا
-
دنیا6 days agoخمیس مشیط کی جانب داغے گئے تین حوثی بیلسٹک میزائل تباہ
-
ہندوستان1 week agoڈیفنس اکاؤنٹس ڈیپارٹمنٹ کے 279ویں سالانہ دن پر کئی نئی پہل کی شروعات کریں گے راج ناتھ
-
جموں و کشمیر1 week agoجاوید ڈار نے اسمبلی میں سی اے جی کی رپورٹیں پیش کیں
-
ہندوستان1 week agoشیئر بازاروں میں گراوٹ جاری، سینسیکس 49 پوائنٹس پھسلا
-
دنیا1 week agoایران امریکہ سے مذاکرات کی کوشش جاری رکھے گا: پیزشکیان
-
جموں و کشمیر1 week agoاپوزیشن لیڈر کا عمر پر ریاستی حیثیت کی بحالی کے مطالبے کو ’سبوتاژ‘ کرنے کا الزام، جموں و کشمیر اسمبلی کا اجلاس ’بدقسمت‘ قرار
