تازہ ترین
کام کی جگہوں پر چہرے کا احاطہ کرنا لازمی
کووِڈ۔19سے بچاؤ کے لئے2 میٹر کا جسمانی فاصلہ نا گزیر:ایڈ وائزی
سرینگر:حکومتی ایڈوائزری میں کہا گیا ہے کہ کووِڈ۔19سے بچاؤ کے لئے باقی لوگوں سے کم از کم دو میٹر کا جسمانی فاصلہ قائم کرنے اور بار بار پانی سے ہاتھ دھونے یا الکوحل پر مبنی ہینڈ سینٹائزر سے ہاتھ صاف کرنے سے انسان اس بیماری سے محفوظ رہ سکتا ہے۔
کے این ایس کے مطابق ایڈوائزی میں بتایا گیا ہے کہ عوامی مقامات اور کام کی جگہوں پر سماجی دوری کے لئے ایک اقدام کے طور پر چہرے کا احاطہ کرنا لازمی ہے۔
کووِڈ۔19 کی ابتدا میں ہی تشخیص سے یہ وبامزید پھیلنے روکی جاسکتی ہے۔لوگوں سے کہا گیا ہے کہ وہ ذمہ داری کا ثبوت دے کر جاری ایڈوائزری پر سختی سے کاربندرہیں اور کووِڈ۔19بیماری کی علامات ظاہر ہونے پر اسے نہ چھپائیں کیوں کہ اس سے ایسے افراد کے افراد خانہ کے ساتھ ساتھ اُن کی اپنی زندگی بھی خطرے میں پڑ سکتی ہے۔
بخار، کھانسی اور سانس لینے میں تکلیف کی علامات ظاہر ہوتے ہی کووِڈ۔19 ہیلپ لائینوں پر رابطہ قائم کر کے طبی مشورہ حاصل کی جاسکتی ہے۔جاری ایڈ وائزری میں کہا گیا ہے کہ کووِڈ۔19 ایک اِنتہائی پھیلنے والی بیماری ہے جو کسی کو بھی اپنی چپیٹ میں لے سکتی ہے اور اس سے بچنے کا بہتر طریقہ یہ ہے کہ وائرس سے دور رہ جائے۔
ایڈوائزری میں لوگوں سے کہا گیا ہے کہ وہ بیماری سے بچنے کے لئے گھروں میں رہیں اور سماجی دُوری پر عمل کریں۔ذاتی صفائی ستھرائی کے حوالے سے ایڈوائزری میں لوگوں سے کہا گیا ہے کہ وہ بار بار صابن اور پانی سے ہاتھ دھوئیں اور کھانسی چھینکتے وقت اپنا منھ ڈھانپ لیں۔
ایڈ وائزر ی میں لوگوں سے کہا گیا ہے کہ وہ کسی کے ایسے افراد کے رابطے میں نہ آئیں جو بخار یا کھانسی میں مبتلا ہو اور اگر کوئی بھی شخص بخار، کھانسی میں مبتلا ہو اور اُسے سانس لینے میں مشکل آتی ہوتو وہ طبی صلاح و مشور ہ لیں۔
لوگوں سے کہا گیا ہے کہ وہ کووِڈ۔19ہیلپ لائین نمبرات پر رابطہ قائم کرسکتے ہیں تاکہ انہیں ضرورت پڑنے پر صحیح طبی مشورہ دیا جاسکے۔لوگ کسی بھی ایمرجنسی کے دوران چوبیس گھنٹے کام کرنے والی مفت ایمبولنس خدمات سے اپنی دہلیز پر فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔اس ایمبولنس خدمت کا ٹول فری نمبر ہے 108۔حاملہ خواتین اور بیمار بچے ٹول فری نمبر 102 پر کال کر کے مفت ایمبونس خدمات سے فائدہ حاصل کرسکتے ہیں۔
لوگ عام قومی سطح کے ٹول فری ہیلپ لائن نمبر 1075 پر رابطہ کرسکتے ہیں۔لوگوں سے کہا کیا ہے کہ وہ حکومت کی طرف سے وقتاً فوقتاً جاری کی جانے والی ایڈوائزری پر سختی سے عمل کریں۔ لوگوں سے یہ بھی کہا گیا ہے کہ وہ سرکار کی جانب سے فراہم کی جانے والی جانکاری پر ہی بھروسہ کریں۔لوگوں سے کہا گیا ہے کہ وہ نہ افواہیں پھیلائیں اور نہ اُن پر کان دھریں۔
ہندوستان
گیانیش کمار استعفیٰ دیں، ہٹائے گئے ووٹروں کی فہرست عام کی جائے: کھرگے
نئی دہلی، کانگریس صدر ملکارجن کھرگے نے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفیٰ کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ووٹر لسٹ کی خصوصی تفصیلی نظرثانی (ایس آئی آر) کی کارروائی کے تحت ہٹائے گئے 13.3 کروڑ ووٹروں کے نام اور انہیں ووٹ دینے سے محروم کرنے کی وجہ عام کی جانی چاہیے۔
مسٹر کھرگے نے بدھ کے روز یہاں اپوزیشن پارٹیوں کے انڈیا اتحاد کی میٹنگ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کسی بھی حقیقی ہندوستانی شہری کو غیر شفاف، من مانی یا نا کافی نگرانی والی کارروائی کے ذریعے ووٹنگ کے حق سے محروم نہیں کیا جانا چاہیے۔ اگر نام ہٹائے گئے ہیں، تو یہ واضح ہونا چاہیے کہ کس کا نام ہٹایا گیا اور کیوں۔
انہوں نے کہا کہ آئین کے آرٹیکل 324 کی روح کے مطابق آزاد اور غیر جانبدار الیکشن کمیشن کے بغیر قابلِ اعتماد انتخابات ممکن نہیں ہیں۔ چیف الیکشن کمشنر کے دو ساتھی الیکشن کمشنروں نے 10 مہینے میں 14 بار اس کارروائی پر اعتراضات درج کیے ہیں لیکن ان کے اعتراضات پر توجہ نہیں دی گئی، اس لیے چیف الیکشن کمشنر کو عہدے سے ہٹایا جانا چاہیے یا انہیں خود استعفیٰ دینا چاہیے۔
کانگریس صدر نے الیکشن کمشنروں کی تقرری سے متعلق 2023 کے قانون کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ الیکشن کمیشن کی سلیکشن کمیٹی سے سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کو ہٹا کر مرکزی وزیر کو شامل کیا گیا۔ انہوں نے الیکشن کمشنروں کو ان کے سرکاری کاموں کے سلسلے میں دی گئی قانونی تحفظ کا بھی معاملہ اٹھایا اور سپریم کورٹ کے اس تبصرے کا ذکر بھی کیا، جس میں کہا گیا ہے کہ الیکشن کمیشن کا آزاد ہونا ہی نہیں، بلکہ اس کا آزاد دکھائی دینا بھی ضروری ہے۔
مسٹر کھرگے نے پہلی بار ووٹنگ کرنے والے نوجوانوں کے لیے فارم-6 میں کی گئی تبدیلیوں پر بھی سوال اٹھائے اور کہا کہ نوجوانوں کے لیے ووٹر رجسٹریشن کی کارروائی آسان اور قابلِ رسائی ہونی چاہیے نیز تمام غیر ضروری رکاوٹوں کو فوری طور پر ہٹایا جانا چاہیے۔ ای وی ایم کے سلسلے میں انہوں نے کہا کہ ووٹنگ بیلٹ پیپر سے کرائی جانی چاہیے، تاکہ انتخابی نظام میں لوگوں کا اعتماد اور بھروسہ بحال ہو سکے۔
انہوں نے پری-ایس آئی آر ووٹر لسٹ کو مستقبل کے انتخابات میں استعمال کرنے، ووٹر لسٹ میں اسمبلی اور بوتھ کی سطح پر نام جوڑنے، ہٹانے اور سدھار کی پوری جانکاری دینے نیز کسی جائز ووٹر کا نام ہٹانے سے پہلے نوٹس، وجہ اور مؤثر اپیل کا موقع دینے کا مطالبہ کیا۔
مسٹر کھرگے نے کہا کہ انتظامی خامیوں، نا کافی دستاویزات یا بیداری کی کمی کی وجہ سے اہل ووٹروں کو ووٹنگ کے حق سے محروم نہیں کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے الیکشن کمیشن کی ادارہ جاتی جواب دہی یقینی بنانے اور تمام سیاسی پارٹیوں کا اعتماد قائم کرنے والے نظام کو ضروری بتایا اور کہا کہ انتخابات میں شفافیت سے ہی جمہوریت مضبوط ہوگی۔
یواین آئی ایف اے
دنیا
ہیگستھ امریکی جنرل اور ایڈمرل کے عہدوں میں 20 فیصد کمی کریں گے
واشنگٹن، امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ جنرلوں اور ایڈمرلوں کے لیے مختص فوجی عہدوں کی تعداد میں 20 فیصد کمی کرنے کا اعلان کریں گے۔ پینٹاگون کے ایک عہدیدار نے الجزیرہ کو بتایا کہ اس فیصلے سے امریکی بری، بحری اور فضائی افواج کی اعلیٰ قیادت متاثر ہوگی۔
عہدیدار کے مطابق ہیگستھ بدھ کو ورجینیا میں میرین کور بیس کوانٹیکو کے دورے کے دوران اپنے ’’اسٹیٹ آف دی فورس‘‘ خطاب میں اس فیصلے کا اعلان کریں گے۔ وہ یہ خطاب جونیئر افسران اور فوجی اہلکاروں کے سامنے کریں گے۔
ایسوسی ایٹڈ پریس نے پینٹاگون کے عہدیداروں کے حوالے سے بتایا کہ ہیگستھ تمام فوجی شعبوں کو تقریباً 800 جنرل اور فلیگ افسران کے عہدوں میں گزشتہ سال کی گئی 10 فیصد کمی کو دوگنا کرنے کی ہدایت دیں گے۔ اس طرح مجموعی کمی 20 فیصد ہوجائے گی اور اسے یکم جنوری 2027 تک مکمل کیا جانا ہے۔
فاکس نیوز کے مطابق نئی کٹوتیوں میں ایک اسٹار جنرل یا اس سے اوپر کے عہدے کے افسران، یا بحریہ میں مساوی رینک رکھنے والے افسران شامل ہو سکتے ہیں۔
واشنگٹن پوسٹ نے رپورٹ کیا کہ ان کٹوتیوں سے موجودہ اور ترقی کے منتظر ’’سینکڑوں فوجی رہنماؤں‘‘ کے کیریئر متاثر ہو سکتے ہیں۔ یہ اقدام ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب صدر ڈونلڈ ٹرمپ یا ہیگستھ نے جنوری 2025 میں حکومت سنبھالنے کے بعد دو درجن سے زائد اعلیٰ فوجی رہنماؤں کو برطرف کیا یا ریٹائرمنٹ پر مجبور کیا ہے۔
ان میں فوج کے اعلیٰ وردی پوش افسر جنرل رینڈی جارج بھی شامل ہیں، جنہیں اپریل میں عہدے سے ہٹا دیا گیا تھا۔ انتظامیہ نے چار اسٹار رینک رکھنے والی دونوں خواتین افسران کو بھی برطرف کیا، جبکہ متعدد دیگر اعلیٰ عہدے دار ریٹائرمنٹ یا استعفوں کے ذریعے عہدے چھوڑ چکے ہیں۔ فوج کے سیکریٹری ڈین ڈرِسکول نے بھی ہیگستھ کے ساتھ بار بار اختلافات کے بعد رواں ماہ استعفیٰ دیا۔
ہیگستھ نے گزشتہ سال اعلیٰ فوجی عہدوں میں کمی کی کوشش کا اعلان کرتے ہوئے کہا تھا کہ اس کا مقصد ’’قیادت کو بہتر اور منظم بنانے کے لیے غیر ضروری فوجی ڈھانچے‘‘ کو ختم کرنا ہے۔ مئی 2025 میں جاری ایک یادداشت میں انہوں نے کہا تھا کہ وہ فوج کو ’’غیر ضروری افسر شاہی کی تہوں‘‘ سے آزاد کرانا چاہتے ہیں۔
گزشتہ سال اسی عرصے میں ہیگستھ نے ’’ووک‘‘ ثقافت کے خاتمے کا اعلان کرتے ہوئے فوجیوں کے لیے نئی ہدایات بھی جاری کی تھیں، جن میں جسمانی فٹنس کے لیے ’’صنفی غیر جانب دار‘‘ یا ’’مردانہ معیار‘‘ مقرر کرنا شامل تھا۔
سینیٹ کی آرمڈ سروسز کمیٹی کے رینکنگ رکن اور رہوڈ آئی لینڈ سے تعلق رکھنے والے ڈیموکریٹ سینیٹر جیک ریڈ نے اس تازہ اقدام پر تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ اعلیٰ قیادت کے عہدوں کو ختم کرنے کا فیصلہ کانگریس سے مشاورت کے بعد ہونا چاہیے اور متوقع کٹوتیوں کو ’’ہر امریکی کے لیے باعث تشویش‘‘ قرار دیا۔
ریڈ نے کہا، ’’کانگریس وزیر دفاع پر واضح کر چکی ہے کہ انہیں اس ادارے سے مشاورت کرنی ہوگی اور اعلیٰ افسران کو ہٹانے اور ترقیوں کو روکنے کی وجوہات بتانی ہوں گی۔ اب تک ہمیں تسلی بخش جوابات نہیں ملے۔‘‘
انہوں نے مزید کہا، ’’ہماری فوج دنیا بھر میں بڑے پیمانے پر کارروائیاں کر رہی ہے اور افواج پہلے ہی دباؤ میں ہیں۔‘‘
امریکی قانون کے تحت جنرل افسران کے عہدوں کی تعداد مقرر کی جاتی ہے، تاہم اگر انتظامیہ کانگریس کو نامزدگیاں پیش نہ کرے تو یہ عہدے خالی رکھے جا سکتے ہیں۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
امریکی سپریم کورٹ نے تارکین وطن کو تیسرے ممالک بھیجنے کی اجازت دے دی
واشنگٹن، امریکی سپریم کورٹ نے منگل کو نچلی عدالت کے اس حکم کو عارضی طور پر روک دیا جس نے امریکی حکام کو تارکین وطن کو ان کے آبائی ممالک کے علاوہ تیسرے ممالک میں ڈی پورٹ کرنے سے روک دیا تھا، جس سے انتظامیہ کو ملک بدری کا عمل دوبارہ شروع کرنے کی اجازت دی گئی تھی۔
عدالت نے درخواست منظور کرتے ہوئے 25 فروری 2026 کے حکم اور میساچوسٹس کی وفاقی عدالت کے فیصلے پر روک لگا دی، جس نے پہلے امریکہ سے تارکین وطن کی دوسرے ممالک میں ملک بدری پر عارضی پابندی عائد کی تھی۔
امریکی اٹارنی جنرل ٹوڈ بلانچ نے گزشتہ ہفتے کہا تھا کہ محکمہ انصاف میساچوسٹس کی عدالت کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل کرے گا۔
سپریم کورٹ نے یہ بھی اعلان کیا کہ وہ تیسرے ممالک میں تارکین وطن کو تیزی سے ملک بدر کرنے کی ٹرمپ انتظامیہ کی پالیسی کی قانونی حیثیت پر دسمبر میں سماعت کرے گی۔ سونیا سوٹومائیر، ایلینا کاگن اور کیتنجی براؤن جیکسن نے اس فیصلے کی مخالفت کی۔ یو ایس ڈپارٹمنٹ آف ہوم لینڈ سیکیورٹی (ڈی ایچ ایس) کے جنرل کونسلر جیمز پرسیول نے اس فیصلے کو محکمے کی ایک اور “فتح” قرار دیا اور تارکین وطن سے رضاکارانہ طور پر امریکہ چھوڑنے کی اپیل کی۔ انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ایکس’ پر کہا کہ تیسرے ممالک کو ڈی پورٹ کرنے کی پالیسی دوبارہ نافذ ہو گئی ہے۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 47ویں صدر کی حیثیت سے حلف اٹھانے کے دن ہی غیر قانونی امیگریشن کو روکنے اور بڑے پیمانے پر ملک بدری شروع کرنے کا وعدہ کیا تھا۔ انہوں نے امریکی سرحد پر بحران سے نمٹنے کے لیے ملک بھر میں ہنگامی حالت کا اعلان بھی کیا۔
یو این آئی۔ ع ا۔
-
دنیا1 week agoمیں پورے ایران کو ہوا میں اڑا سکتا ہوں:ٹرمپ
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر کے ایل جی نے جاں بحق پی ایس آئی کی اہلیہ کو تقرری نامہ دیا
-
دنیا1 week agoروبیو کی آرکٹک اتحادی ممالک کے وزرائے خارجہ سے ملاقات، سلامتی اور سرمایہ کاری پر تبادلہ خیال
-
دنیا1 week agoکم جونگ ان نے شمالی کوریا کے نظریاتی طریقہ کار کو جدید بنانے پر زور دیا
-
ہندوستان1 week agoعالمی کشیدگی کے وقت کثیرالجہتی کو مضبوط کرنا ضروری: جے شنکر
-
ہندوستان1 week agoخواتین کی سکیورٹی یقینی بنائے بغیر بڑے منصوبوں کا کوئی مطلب نہیں : پرینکا
-
جموں و کشمیر1 week agoوقفہ صفر میں جنوبی کشمیر میں شاہراہ پر پابندیوں کا معاملہ اٹھایا گیا
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر میں سرکاری ملازمتوں کی 40,672 آسامیاں خالی
-
دنیا1 week agoسعودی اپیل کے بعد حوثیوں پر حملوں کے لیے امریکی جنگی طیاروں کی تیاری شروع ہو گئی تھی، لیکن ٹرمپ نے فیصلہ بدل دیا
-
ہندوستان7 days agoہندوستان نے جموں و کشمیر پر او آئی سی کے رابطہ گروپ کے بیان کو مسترد کر دیا
-
دنیا1 week agoروس-یوکرین امن معاہدے کی شرائط پر بات چیت جاری : ٹرمپ
-
دنیا1 week agoیمن کے بندرگاہی شہر موخا پر سعودی فضائی حملوں میں چھ افراد ہلاک
