ہندوستان
کرناٹک ‘ہنی ٹریپ’ کیس: سپریم کورٹ پی آئی ایل پرسماعت کے لیے راضی
نئی دہلی، سپریم کورٹ کرناٹک حکومت کے ایک سینئر وزیر اور ججوں سمیت کئی دیگر افراد کو مبینہ طورپر ‘ہنی ٹریپ’ میں پھنسانے کے واقعہ کی تحقیقات کی ہدایت دینے کی درخواست پر مفاد عامی کی عرضی پر غور کرے گی۔
چیف جسٹس سنجیو کھنہ کی سربراہی والی بنچ نے درخواست گزار ونے کمار سنگھ کی عرضی پر سماعت کے لئے رضامندی ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ معاملے کی سماعت پیر یا منگل کو کی جائے گی۔
درخواست گزار دھنباد کی طرف سے پیش ہونے والے ایڈوکیٹ برون کمار سنگھ نے عدالت عظمیٰ سے جلد سماعت کی استدعا کرتے ہوئے معاملے کا خاص طور پر ذکر کرنے کے بعد یہ رضامندی ظاہر کی گئی۔
عرضی گزار نے دلیل دی کہ کرناٹک کی ریاستی مقننہ یعنی ودھان سودھا میں بہت سنگین اور پریشان کن الزامات لگائے گئے ہیں کہ ریاست کا وزیر اعلیٰ بننے کا خواہشمند ایک شخص کئی لوگوں کو ہنی ٹریپ میں پھنسانے میں کامیاب رہا ہے، جن میں جج بھی شامل ہیں۔
عرضی میں یہ ہدایت مانگی گئی ہے کہ واقعہ کی تحقیقات ایک آزاد ایجنسی یعنی سنٹرل بیورو آف انوسٹی گیشن یا ایک خصوصی تفتیشی ٹیم کے ذریعہ کی جائے، جس میں ایماندار پولیس افسران شامل ہوں اور جو ریاست کرناٹک کے کنٹرول یا اثر و رسوخ کے تابع نہ ہوں۔ تحقیقات کے بعد رپورٹ عدالت میں پیش کی جائے۔
درخواست میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ تحقیقات کی نگرانی اس عدالت یا سپریم کورٹ کے ریٹائرڈ جج کی سربراہی میں مانیٹرنگ کمیٹی کرے۔
پٹیشن میں کہا گیا کہ ’’مانیٹرنگ کمیٹی کو ان تمام عہدیداروں/افراد کے کردار کی بھی چھان بین کرنی چاہئے، جنہوں نے اس واقعہ سے براہ راست / بالواسطہ فائدہ اٹھایا۔”
پی آئی ایل میں کہا گیا ہے، ’’”الزامات ایک موجودہ وزیر کی طرف سے لگائے گئے ہیں، جنہوں نے خود کو ایک شکار کے طور پر پیش کیا ہے، جس سے سنگین الزامات کو اعتبار ملا ہے۔ یہی نہیں، حکومت کے ایک اور وزیر نے نہ صرف پہلے وزیر کی طرف سے لگائے گئے الزامات کو دہرایا ہے بلکہ الزام لگایا ہے کہ گھوٹالے کا پیمانہ اور تناسب اس وقت نظر آنے والے سے کم از کم دس گنا زیادہ ہے۔
درخواست گزار کا استدلال ہے کہ ہنی ٹریپنگ جیسے طریقوں سے سمجھوتہ کرنے والے جج عدالتی آزادی کے لئے شدید خطرہ پیداکرتے ہیں اور ادارے میں عوام کے اعتماد کو شدید کمزور کرتے ہیں۔
درخواست میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ “متعدد میڈیا رپورٹس اور سوشل میڈیا کی وجہ سے پہلے ہی کافی ہنگامہ برپا ہو چکا ہے، ایسے میں ضروری ہے کہ یہ عدالت ملک کے عدالتی نظام میں ساکھ اور عوام کے اعتماد کو بچانے کے لیے اقدامات کرے۔”
درخواست میں کہا گیا ہے، ’’اگر ججوں کو جانبدارانہ فیصلے دینے کے لئے بلیک میل کیا جاسکتا ہے یا انہیں مجبور کیا جاسکتا ہے تو قانون کی حکمرانی خود ہی تباہ ہو جائے گی، جس سے ظلم، بدعنوانی اور ناانصافی کو فروغ ملے گا۔ لوگوں کا عدلیہ پر اعتماد ان الزامات کے جواب میں فوری اور بغیر کسی سمجھوتہ کے کارروائی پر منحصر ہے۔
درخواست گزار نے استدلال کیا کہ ایک غیر جانبدار اور آزاد ایجنسی کی سربراہی میں سپریم کورٹ کی نگرانی میں تحقیقات ہی سچائی سے پردہ اٹھانے اور عدالتی نظام پر عوام کا اعتماد بحال کرنے کا واحد راستہ ہے۔
درخواست میں کہا گیا کہ “اس سے کم کچھ بھی فرض سے دستبردار ہو گا اور عدلیہ کی آزادی پر مزید حملوں کی کھلی دعوت ہو گی۔ جمہوریت کا تقاضا ہے کہ اس معاملے کو فوری، سنجیدگی اور انصاف کے ساتھ حل کیا جائے جس کا وہ حقدار ہے۔”
کرناٹک کے تعاون کے وزیر کے این راجنا نے اسمبلی میں یہ کہہ کر ریاست میں ایک بڑا تنازعہ کھڑا کر دیا ہے کہ حال ہی میں انہیں ہنی ٹریپنگ کی کوشش کا نشانا بنایا گیاتھا۔ ان کے علاوہ دیگر تمام جماعتوں کے 48 لیڈروں کو نشانہ بنایا گیا۔
ان کا ردعمل اس وقت آیا جب بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے ایم ایل اے باسن گوڑا پاٹل یتنال نے ایم ایل ایز کو ہنی ٹریپنگ میں پھنسانے کا معاملہ اٹھایا اور کہا کہ کانگریس کے کئی وزراء کو منظم گروہوں کے ذریعہ نشانہ بنانے کی افواہیں ہیں۔
یواین آئی۔الف الف
ہندوستان
مسٹر کووند کی سوانح عمری جدوجہد، عزم اور کامیابی کی ایک متاثر کن کہانی : لوک سبھا اسپیکر
نئی دہلی، وزیر اعظم نریندر مودی نے آج یہاں سابق صدر رام ناتھ کووند کی سوانح عمری ‘ٹرائمف آف دی انڈین ریپبلک: مائی لائف، مائی اسٹرگلس’ نامی کتاب کا اجرا کیا لوک سبھا اسپیکر اوم برلا اس موقع پر موجود تھے اور کہا کہ اس کتاب کا اجراء فخر کی بات ہے معززین سے خطاب کرتے ہوئے برلا نے کہا کہ سابق صدرجمہوریہ رام ناتھ کووند کی سوانح عمری، جو اعلیٰ آئینی نظریات کا مظہر ہے، عزم، جدوجہد اور کامیابیوں کی ایک متاثر کن کہانی ہے۔ تعلیم کے حصول کے دورانمسٹر کووند کو اپنی ابتدائی زندگی میں درپیش مشکلات اور چیلنجوں کے بارے میں بات کرتے ہوئے، انہوں نے کہا کہ ایک عاجز اور معاشی طور پر کمزور پس منظر سے ملک کے اعلیٰ ترین آئینی عہدے تک کا سفر ان کے غیر معمولی عزم کو ظاہر کرتا ہے اور یہ عزم آنے والی نسلوں کے لیے ایک لازوال ترغیب کا ذریعہ رہے گا۔
مسٹر برلا نے مزید کہا کہ مسٹر کووند نے آئینی اقدار کے تئیں اپنی غیر متزلزل وابستگی کے ذریعے ایک وکیل کے طور پر ایک انمٹ نشان چھوڑا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ بطور ممبر پارلیمنٹ ان کا دور ان کی درج فہرست ذاتوں اور درج فہرست قبائل کی فلاح و بہبود، سماجی انصاف اور عوامی زندگی میں قابلیت کے لیے ایک سنہری باب ہے۔
گورنر کے طور پر مسٹر کووند کے دور کا ذکر کرتے ہوئے مسٹر برلا نے کہا کہ انہوں نے اعلیٰ تعلیم کے میدان میں شفافیت، معیار اور تکنیکی اختراع کو ایک نئی سمت دی۔ ہندوستان کے صدر کے طور پر، انہوں نے ہندوستانی جمہوریت کی آئینی روایات کو مضبوط کرتے ہوئے، سماجی ہم آہنگی اور جامع ترقی کے لیے ایک غیر متزلزل عزم کا مظاہرہ کیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ کئی ممالک کے اپنے دوروں کے ذریعے انہوں نے ہندوستان کے بین الاقوامی سفارتی تعلقات کو مضبوط بنانے میں بھی اپنا حصہ ڈالا۔
مسٹر برلا نے یہ بھی کہا کہ کووڈ-19 وبائی مرض کے پیش نظر، مسٹر کووند نے ہمت، اتحاد اور ملک کے لوگوں میں اعتماد پیدا کیا اور راشٹرپتی بھون کو عوام کے لیے مزید قابل رسائی بنایا۔ انہوں نے اسے مسٹر کووند کی اہم کامیابیوں میں سے ایک قرار دیا۔
لوک سبھا کے اسپیکر نے مزید کہا کہ صدر کے عہدے سے سبکدوش ہونے کے بعد بھی مسٹر کووند اپنی سوچ، عوامی زندگی میں بھرپور تجربہ اور سماجی انصاف کے لیے اپنی وابستگی کے ذریعے ملک، آئین اور سماج کے لیے اپنا حصہ ڈال رہے ہیں۔ انہوں نے یقین ظاہر کیا کہ ‘ٹرائمف آف دی انڈین ریپبلک: مائی لائف، مائی اسٹرگلس’ کے ذریعے قارئین مسٹر کووند کی زندگی کے اہم واقعات کے بارے میں جانیں گے، جو انہیں عوامی زندگی میں بامعنی کردار ادا کرنے کی ترغیب دیں گے۔ اپنے خطاب کے اختتام پر،مسٹر برلا نے کتاب کی اشاعت پر مسٹر رام ناتھ کووند کو دلی مبارکباد اور نیک خواہشات کا اظہار کیا۔
یو این آئی۔ْ ع ا۔
ہندوستان
سودیشی جاگرن منچ کی حکومت سے امریکی ٹیرف کی دھمکیوں کے خلاف ڈٹے رہنے، لوگوں سے امریکی کمپنیوں کا بائیکاٹ کرنے کی اپیل
نئی دہلی، سودیشی جاگرن منچ (ایس جے ایم) نے امریکہ کی سینیٹ کی طرف سے حال ہی میں منظور کیے گئے اس قانون پر گہرے افسوس کا اظہار کیا ہے، جو امریکی صدر کو ان ملکوں پر 100 فیصد تک ٹیرف لگانے کا اختیار دیتا ہے جو روس سے بڑی مقدار میں تیل خریدتے ہیں تنظیم نے بدھ کے روز ایک بیان میں کہا کہ اس کا پختہ یقین ہے کہ کسی بھی ملک کو ہندوستان کی توانائی سکیورٹی اور خود مختار تجارتی پالیسی طے کرنے کا حق نہیں ہے۔ ایس جے ایم کے قومی شریک کنوینر اشونی مہاجن نے کہا، “اگرچہ ہم مانتے ہیں کہ اس قانون کو ابھی پورے قانون سازی کے عمل سے گزرنا باقی ہے اور ڈیوٹی خود بخود نافذ نہیں ہوگی، پھر بھی یہ واضح طور پر آزاد اور منصفانہ بین الاقوامی تجارت کے اصولوں اور ملکوں کے اپنی توانائی پالیسیاں طے کرنے کے خود مختار حق کے لیے ایک سنگین خطرہ پیدا کرتا ہے۔”
ایس جے ایم کا کہنا ہے کہ وہ اس معاملے پر حکومت ہند کے موقف کی مکمل حمایت کرتا ہے کہ روس سے خام تیل کی ہندوستان کی خریداری توانائی سکیورٹی، دستیابی، قیمت، سپلائی میں تنوع اور ہندوستانی صارفین کے مفادات پر مبنی ہے۔
ہندوستان نے بار بار یہ واضح کیا ہے کہ جائز بین الاقوامی منڈیوں سے توانائی خریدنے کے ہمارے خود مختار حق کو کوئی تیسرا ملک طے نہیں کر سکتا۔ تنظیم نے کہا ہے کہ یہ پہلی بار نہیں ہے جب امریکہ میں آنے والے سامان پر غیر منصفانہ ڈیوٹی لگانے کی دھمکی دی گئی ہے۔ ایسی دھمکیاں امریکی صدر کے طور پر ڈونلڈ ٹرمپ کی دوسری مدت کار کے آغاز سے ہی ملتی رہی ہیں؛ درحقیقت، امریکہ میں آنے والے ہندوستانی سامان پر کبھی کبھی بھاری ڈیوٹی لگائی گئی ہے، جس سے ہماری برآمدات پر کافی اثر پڑا ہے۔ ان ٹیرف کو الگ الگ ناموں سے جانا گیا ہے— جیسے ریسیپروکل ٹیرف اور قومی سکیورٹی ڈیوٹی سے لے کر سیکشن 301 ڈیوٹی، سیکشن 232 ڈیوٹی، تادیبی ڈیوٹی (روسی تیل خریدنے کے لیے)، تجارتی خسارہ ڈیوٹی اور جبری مشقت ڈیوٹی— اور یہ فہرست کبھی ختم نہیں ہوتی۔
یو این آئی ۔ ایف اے
ہندوستان
امت شاہ کی تقریر نہیں، ہمیں جواب چاہیے: راہل
نئی دہلی، لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی نے طلباء کے خلاف پولیس کارروائی پر وزیر داخلہ امت شاہ سے پارلیمنٹ میں جواب دینے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ اب تقریر نہیں، سوالات کے جواب چاہیئں مسٹر گاندھی نے بدھ کے روز پارلیمنٹ ہاؤس کے احاطے میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا، “مسٹر شاہ نے بچوں پر گولی چلانے کا حکم دیا تھا یا نہیں۔ دونوں ہی صورتوں میں انہیں استعفیٰ دینا چاہیے۔ ہمیں اب امت شاہ کی تقریر نہیں چاہیے۔ ہمیں جواب چاہیے۔ ہمارے طلباء پر گولی کس نے چلائی؟ گولی چلانے کا حکم کس نے دیا؟ کس نے ایک طالب علم کی آنکھ کی بینائی چھینی؟ کیلوں والی لاٹھیوں کے استعمال کا حکم کس نے دیا؟”
انہوں نے دعویٰ کیا کہ یہ حکم وزارتِ داخلہ سے آیا تھا۔ انہوں نے سوال کیا کہ کیا مسٹر شاہ نے بچوں پر گولی چلانے کا حکم دیا تھا یا نہیں۔ مسٹر گاندھی نے کہا کہ دونوں ہی صورتوں میں مسٹر شاہ کو استعفیٰ دینا چاہیے۔
اپوزیشن لیڈر نے کہا، “سچ یہ ہے کہ امت شاہ کی امیج کا غبارہ پھٹ چکا ہے۔ ان کے اندر پارلیمنٹ آنے کی ہمت ہی نہیں ہے۔”
مسٹر گاندھی نے میڈیا سے بھی سوال کیا کہ جب مسٹر شاہ بولتے ہیں تو کیا میڈیا انہیں بیچ میں روکتا ہے؟ انہوں نے پوچھا، “امت شاہ میں ایسی کیا خاص بات ہے کہ پورا میڈیا خاموشی سے کھڑا رہتا ہے؟” انہوں نے کہا کہ جب ملک کے طلباء وزیر اعظم نریندر مودی اور مسٹر شاہ سے نہیں ڈر رہے ہیں تو میڈیا کو بھی ان سے ڈرنا نہیں چاہیے۔
لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر نے کہا، “مسٹر شاہ میں پارلیمنٹ آنے کی ہمت ہی نہیں ہے۔ وہ 20 دنوں سے غائب ہیں۔ اپنے چیمبر میں بیٹھے رہتے ہیں لیکن ایوان میں نہیں آتے۔ ان کے قافلے میں تقریباً 30 گاڑیاں چلتی ہیں، گھر کے آگے ہزاروں پولیس والے کھڑے رہتے ہیں کہ کوئی بچہ نہ آ جائے۔ ان کی شبیہ والے غبارے کی ہوا نکل چکی ہے۔ اب زبردستی اس میں ہوا بھرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔”
یو این آئی ایف اے
-
جموں و کشمیر1 day agoیومِ آزادی سے قبل جموں و کشمیر پولیس نے سرحدی سامبا میں طویل فاصلے کی گشت اور فرضی انسدادِ دہشت گردی مشق کی
-
ہندوستان3 days agoطلبہ پر کارروائی کے معاملے پر حکومت کو گھیرتے ہوئے راہل کا مضمون، کھڑگے اور پرینکا نے حمایت کی
-
دنیا2 days agoایران کا فی الحال امریکہ کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں: ایرانی وزیر خارجہ
-
دنیا1 day agoایران نے خود کو ایک ‘ناقابل تسخیر طاقت’ ثابت کیا ہے: عراقچی
-
دنیا3 days agoٹرمپ جوہری معاہدے کے بغیر ایران کے ساتھ تنازع ختم کرنے پر تیار: رپورٹ
-
دنیا2 days agoسعودی عرب میں فیکٹری میں آگ کے سبب 16 بنگلہ دیشی مزدور ہلاک
-
دنیا2 days agoتجربہ کار آئی آر جی سی کمانڈر محسن رضائی ایران کے قومی سلامتی کے سربراہ مقرر
-
دنیا1 day agoشام کے سابق صدر بشار الاسد کو سزائے موت سنادی گئی
-
دنیا1 day agoموساد کے سابق سربراہ کا انکشاف، ماضی میں ایران کی فردو جوہری تنصیب کا کئی بار دورہ کیا
-
دنیا2 days agoیمن میں حوثیوں کے المخا اور مارب پر بیلسٹک میزائل حملے
-
دنیا2 days agoٹرمپ کا ایران سے معاوضے کا مطالبہ، آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
-
دنیا2 days agoایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
