تازہ ترین
کشتوار میں موت کا رقص،منی بس چناب میں لڑھک گئی 17 جاں بحق، 16 مسافر زخمی علاقے میں صف ماتم
خبراردو:
صوبہ جموں کے کشتوار علاقے میں جمعہ کو اُس وقت کہرام مچ گیا جب کیشان سے کشتوار جارہی ایک مسافر بردار گاڑی زیر نمبر JK17-0663سڑک سے لڑھک کر 250فٹ نیچے جاکر دریائے چناب میں جاگری۔ معلوم ہوا ہے کہ کشتوار کے ٹھٹ گام ٹھاکری کے مقام پر ایک مسافر بردار گاڑی زیر نمبر JK17-0663ڈرائیور کے قابو سے باہر ہوکر سڑک سے لڑھک گئی جس کے نتیجے میں گاڑی250فٹ گہری کھائی میں گر کر دریائے چناب کی نذر ہوئی۔ انہوں نے بتایا کہ اس موقعے پر گاڑی میں سوار سبھی مسافروں نے چیخ و پکار اُٹھائی جس کے نتیجے میں یہاں دل کو چیر دینے والی صدائیں بلند ہوئیں۔ معلوم ہوا ہے کہ اس دوران گاڑی دریائے چناب کی گہرائی میں دفن ہوکر رہ گئی جس کے نتیجے میں گاڑی میں سوار تمام مسافر گاڑی میں ہی پھنس کر رہ گئے۔
اس دوران پولیس، ڈیزاسٹر منیجمنٹ اور مقامی لوگوں نے فوراً حرکت میں آکر بچاؤ کارروائی کا آغاز کیا۔ انہوں نے بتایا کہ گاڑی میں پھنسے مسافروں کو باہر نکالنے اور راحت کاری کا کام انجام دینے کے لیے یہاں موجود تمام لوگوں نے ہنگامی بنیادوں پر کارروائی کا آغاز کیا۔ انہوں نے بتایا کہ اس دوران گاڑی میں سوار مسافروں میں سے 11مسافر موقعے پر ہی از جان ہوئے جبکہ 6دیگرزخمی ضلعی ہسپتال کشتوار میں زخموں کی تاب نہ لاکر دم توڑ بیٹھے جن میں اختر حسین ولد محمد رمضان بٹ ساکن کیشان، محمد یوسف ولد محمد مقبول راتھر ساکن سرگواری کیشان، مجیدہ بیگم زوجہ غلام حسن ساکن سرگواری کیشان، گردھاری لعل ولد ریجا رام ساکن منڈنہ انجولی، نذیر احمد ولد عبدالعزیز راتھر ساکن سرگواری کیشان، غلام محی الدین ولد غلام رسول راتھر ساکن ناگرن کیشان، طارق حسین ولد حسین احمد کھانڈے ساکن سرگواری کیشان، نذیر احمد ولد علی شاہ ساکن سرگواری (مالک گاڑی)، 22سالہ عمر احمد ولد عبدالمجید ساکن سرگواری، 28سالہ عبدالجبار ولد بہار احمد ساکن سراوا، 18سالہ نذیر احمد ولد حبیب اللہ ساکن گھٹ ڈوڈہ، 36سالہ قاسم احمد ولد تاج الدین ساکن سرگواری کیشان، 25سالہ محمد اشرف ولد عبدالرشید ساکن دربدان ٹھاکری، شاہینہ بیگم زوجہ غلام نبی ساکن سرواہ کیشان، 32سالہ مسرہ بیگم زوجہ نذیر احمد راتھر ساکن سرگواری کیشان اور 19سالہ وکرم کمار ولد اشوک کمار ساکن ٹھاکری شامل ہیں۔
اس موقعے پر جن افراد کو علاج و معالجے کی خاطر ضلعی ہسپتال کشتوار میں داخل کرایا گیا اُن میں اظہر حسین ولد محمد دین ساکن گگار کہرا، عائشہ دختر غلام نبی ساکن سرون، مدثر احمد ولد محمد ایوب بٹ ساکن بنون بونجوا، 35سالہ محمد اسماعیل ولد منگو گوجر ساکن کرنا سرگوار، 20سالہ عرفان حسین ولد محمد شفیع ساکن نگرانہ شامل ہیں۔ اس دوران صوبائی کمشنر جموں سنجیو ورما نے حادثے سے متعلق تفصیلات فراہم کرتے ہوئے بتایا کہ حادثے میں ابتدائی طور پر 11مسافر جاں بحق ہوئے تھے تاہم زخمیوں میں سے 15افراد نازک حالت میں مختلف ہسپتالوں میں زیر علاج ہے۔
ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ بس میں سوار 30مسافر تھے جن میں سے 11مسافروں کو نازک حالت میں فضائی سروس کے ذریعے جموں منتقل کیا گیا۔ انہوں نے بتایا کہ حادثے کے دوران مختلف افراد نازک حالت میں تھے جن میں سے 11افراد کو ہیلی کاپٹر کے ذریعے جموں کے میڈیکل کالج میں داخل کرایا گیا۔ اس دوران صوبائی انتظامیہ کی ہدایت پر ڈپٹی کمشنر کشتوار انگریز سنگھ رانا، ایس ایس پی کشتوار سمیت انتظامیہ کے اعلیٰ افسران جائے موقعے پر بچاؤ کارروائی کی نگرانی انجام دینے پر مامور کیے گئے۔ اطلاعات کے مطابق حادثے میں جاں بحق افراد کو بازیاب کرانے اور زخمیوں کو ہسپتال منتقل کرانے کے لیے پولیس، ڈیزاسٹر منیجمنٹ سمیت مقامی لوگوں کی بڑی تعداد نے بچاؤ کارروائی شروع کرتے ہوئے گاڑی میں پھنسے کئی لوگوں کو باہر نکال کر انہیں ہسپتال منتقل کیا۔
اس دوران ڈپٹی کمشنر کشتوار انگریز سنگھ رانا نے بتایا کہ حادثے میں کل ملاکر 17افراد جاں بحق ہوئے ہیں جبکہ 16دیگر شدید زخمی ہوئے ہیں جنہیں ضلع کشتوار سمیت جموں کے مختلف ہسپتالوں میں داخل کرایا گیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ انتظامیہ نے 11زخمیوں کو علاج ع معالجے کی خاطر جموں ائر لفٹ کیا گیا جہاں زخمیوں میں سے مزید ایک شخص زخموں کی تاب نہ لاکر دم توڑ بیٹھا جس کے ساتھ ہی حادثے میں ہلاکتوں کی کل تعداد 17تک پہنچ گئی۔ انہوں نے مزید بتایا کہ ریاستی سرکار نے حادثے میں جاں بحق افراد کے حق میں 5لاکھ روپے فی کس جبکہ زخمیوں کے لیے 50ہزار روپے فی کس واگذار کیے ہیں۔ KNS
ہندوستان
مودی حکومت کی پالیسیوں نے معاشی لبرلائزیشن کو برباد کر دیا: کھرگے
نئی دہلی، کانگریس صدر ملکارجن کھرگے نے مودی حکومت کی معاشی پالیسیوں پر شدید نکتہ چینی کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس حکومت نے عام لوگوں کے مفادات کو نظر انداز کر کے صارفین کے لیے متعدد اختیارات کی مسابقت کو ختم کر دیا ہے اور منتخب سرمایہ دار دوستوں کو فائدہ پہنچایا جا رہا ہے، جس سے معاشی لبرلائزیشن کی بنیاد برباد ہو گئی ہے۔
مسٹر کھرگے نے جمعہ کے روز سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ایکس’ پر لکھا کہ مودی حکومت کی معاشی پالیسیوں کا مقصد معیشت کا کنٹرول اپنے چہیتے سرمایہ دار دوستوں کے ہاتھوں میں سونپنا ہے، تاکہ بدلے میں منافع میں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کا حصہ برقرار رہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ مسابقت کو ختم کر کے اجارہ داری اور دو کمپنیوں کے غلبے والے نظام کو نافذ کر کے بی جے پی کے خزانے کو بھرنے کا کام کیا گیا ہے۔
کانگریس صدر نے کہا کہ ٹیلی کام کے شعبے میں 2014 سے پہلے 13 کمپنیاں تھیں، جبکہ اب صرف تین بڑی نجی کمپنیاں رہ گئی ہیں۔ اسی طرح اندرونِ ملک ہوا بازی کے شعبے میں 2014 سے پہلے سات کمپنیوں کے مقابلے اب صرف دو بڑی کمپنیاں رہ گئی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ڈیجیٹل ادائیگی، سیمنٹ اور فوڈ ڈیلیوری ایپس سمیت مختلف شعبوں میں حکومت کی ترجیح مسابقت کو ختم کرنا رہی ہے۔ مسٹر کھرگے نے کہا کہ کانگریس معاشی لبرلائزیشن کی بانی ہے، جبکہ بی جے پی پر اپنے منافع کے لیے ‘معاشی دہشت گردی’ نافذ کرنے کا الزام لگایا۔
مسٹر کھرگے نے دعویٰ کیا کہ حکومت کی معاشی پالیسیوں سے مائیکرو، اسمال اینڈ میڈیم انٹرپرائزز (ایم ایس ایم ای) اور دیگر چھوٹے و درمیانے درجے کی صنعتوں کو نقصان پہنچا ہے نیز ملک کے نوجوانوں کو شدید بے روزگاری کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
یواین آئی ایف اے
ہندوستان
انڈیا اتحاد کے رہنماؤں سے جمعہ کی رات آٹھ بجے ملاقات کریں گی مرمو
نئی دہلی، انڈیا اتحاد کے رہنما جمعہ کی رات آٹھ بجے صدرِ جمہوریہ دروپدی مرمو سے ملاقات کر کے ووٹر لسٹ کی خصوصی تفصیلی نظرثانی (ایس آئی آر) کےعمل کے ذریعے دھاندلی کرنے اور الیکشن کمیشن کے طریقہ کار سے متعلق مسائل پر اپنے خدشات پیش کریں گے۔
ذرائع کے مطابق انڈیا اتحاد کے رہنماؤں نے 30 ستمبر کو یہاں منعقدہ میٹنگ میں صدرِ جمہوریہ سے ملاقات کر کے ان مسائل پر ان کے سامنے اپنا موقف رکھنے کا فیصلہ کیا تھا۔ اتحاد کے رہنما ایس آئی آر کے عمل اور چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے طریقہ کار سے متعلق اپنے خدشات سے صدرِ جمہوریہ کو آگاہ کرنا چاہتے ہیں۔
اس سلسلے میں صدرِ جمہوریہ سے ملاقات کے لیے پہلی بار دو اکتوبر کو مکتوب بھیج کر وقت مانگا گیا تھا۔ راشٹرپتی بھون کی طرف سے وفد میں شامل ہونے والے رہنماؤں کے نام مانگے جانے کے بعد اتحاد نے پانچ اکتوبر کو دوبارہ مکتوب بھیجا اور سات، آٹھ یا نو اکتوبر میں سے کسی بھی دن ملاقات کا وقت دینے کی درخواست کی تھی۔
انڈیا اتحاد کے رہنما چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار پر ووٹر لسٹ میں مبینہ دھاندلیوں کے تعلق سے سوال اٹھاتے ہوئے ان کے استعفے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ اس معاملے پر اتحاد کے اراکینِ پارلیمنٹ نے مظاہرے اور مارچ بھی نکالے ہیں۔
کانگریس نے الیکشن کمیشن کے خلاف اپنے احتجاج کو تیز کرنے کے لیے تقریباً ڈیڑھ ماہ تک جاری رہنے والی تحریک کے پروگرام کی بھی توثیق کی ہے۔ کانگریسی رہنما راہل گاندھی اور پرینکا گاندھی واڈرا کو پولیس مظاہرے کے دوران مسلسل دو بار حراست میں بھی لے چکی ہے۔
یواین آئی ایف اے
ہندوستان
ہندوستان نے امریکہ کے پی ای آر ایم پروگرام پر روک پر تشویش کا اظہار کیا، کہا – یہ دونوں ممالک کے مفادات کے خلاف
نئی دہلی، ہندوستان نے امریکی محکمہ محنت کے مستقل لیبر سرٹیفیکیشن پروگرام (پی ای آر ایم) سے جڑے فیصلے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسے دونوں ممالک کے مفادات کے خلاف بتایا ہے۔
امریکہ کی جانب سے جمعرات کی رات اس قدم کے اعلان کے بعد وزارتِ خارجہ نے جمعہ کے روز ایک بیان جاری کر کے کہا کہ اس قدم سے متاثرہ کمپنیوں کے اہل ملازمین کے گرین کارڈ کے عمل پر اثر پڑ سکتا ہے۔ تاہم پی ای آر ایم درخواستوں پر روک سے موجودہ ایچ-1بی ویزا یا ویزا ہولڈرز اور ان کے زیرِ کفالت افراد کی حیثیت پر خود بخود کوئی اثر نہیں پڑتا۔
ہندوستان نے کہا کہ پی ای آر ایم پروگرام، ایچ-1بی ویزا پروگرام سے مختلف ہے۔ متاثرہ کمپنیوں کے اہل ملازمین کی مستقل رہائش یعنی گرین کارڈ حاصل کرنے کے عمل پر اس کا کچھ اثر ہو سکتا ہے، لیکن اس سے موجودہ ایچ-1بی ویزا کی میعاد اپنے آپ ختم نہیں ہوتی۔
وزارتِ خارجہ نے کہا ہے کہ ہندوستانی ٹیلنٹ کے امریکہ جانے سے دونوں ممالک کی معیشتوں کو فائدہ ہوتا ہے۔ اس سے ہندوستانیوں کو مواقع ملتے ہیں، جبکہ امریکی کمپنیوں کو ہنر مند ملازمین، نئی ٹیکنالوجی، تحقیق، جدت طرازی، پیداواری صلاحیت اور مسابقتی صلاحیت بڑھانے میں مدد ملتی ہے۔ اس سے امریکہ میں روزگار کے مواقع پیدا ہوتے ہیں اور شیئر ہولڈرز کے اثاثوں میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔
ہندوستان نے کہا کہ امریکہ کا یہ قدم دونوں ممالک کے مشترکہ اہداف کو آگے بڑھانے میں مدد نہیں کرتا۔ ہندوستان نے امریکی نائب صدر کے اس معاملے پر کیے گئے تبصروں پر بھی اعتراض ظاہر کیا۔ ہندوستان کے مطابق ایسے تبصرے غیر مناسب ہیں اور امریکہ کی معیشت نیز جدت طرازی میں ہندوستانی پیشہ ور افراد کی خدمات کو نظر انداز کرتے ہیں۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ ہندوستانی پیشہ ور افراد امریکہ کی معیشت اور جدت طرازی کے نظام میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ امریکہ کی تاریخ بھی ایسے تارکینِ وطن کی خدمات سے بنی ہے جنہوں نے اپنے کام، کاروبار اور نئے خیالات سے ملک کی ترقی میں مدد کی ہے۔ ہندوستان نے کہا کہ دردناک تاریخی اور نوآبادیاتی دور کی یاد دلانے والے الفاظ کا استعمال انتہائی قابلِ اعتراض ہے۔
وزارتِ خارجہ نے کہا کہ وہ اس معاملے سے جڑی صورتحال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہے۔
یواین آئی ایف اے
-
جموں و کشمیر1 week agoسری نگر پولیس نے بین ریاستی منشیات نیٹ ورک کا پردہ فاش کیا، آٹھ افراد گرفتار
-
دنیا1 week agoقطری ثالثی کی امریکہ، ایران کے درمیان مذاکرات میں معمولی پیش رفت
-
دنیا1 week agoروس پر براہِ راست حملے کی صورت میں ہر قسم کے ہتھیار استعمال کرنےکا معاملہ ایجنڈے پر ہو گا :پوتن
-
ہندوستان1 week agoوندے بھارت نے چِناب پل اور کیبل اسٹڈ انجی پل کو 100 کلومیٹر کی رفتار سے عبور کیا
-
جموں و کشمیر7 days agoگاندھی کے عدم تشدد اور سودیشی کے نظریات آج بھی اہم ہیں: جموں کے ڈویژنل کمشنر
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر میراتھن اتحاد اور نوجوانوں کے متبادل خواہشات کا پیغام دیتی ہے: ایل جی سنہا
-
ہندوستان1 week agoشیئر بازاروں میں گراوٹ جاری، سینسیکس 49 پوائنٹس پھسلا
-
جموں و کشمیر1 week agoجاوید ڈار نے اسمبلی میں سی اے جی کی رپورٹیں پیش کیں
-
دنیا6 days agoخمیس مشیط کی جانب داغے گئے تین حوثی بیلسٹک میزائل تباہ
-
ہندوستان1 week agoڈیفنس اکاؤنٹس ڈیپارٹمنٹ کے 279ویں سالانہ دن پر کئی نئی پہل کی شروعات کریں گے راج ناتھ
-
جموں و کشمیر1 week agoاپوزیشن لیڈر کا عمر پر ریاستی حیثیت کی بحالی کے مطالبے کو ’سبوتاژ‘ کرنے کا الزام، جموں و کشمیر اسمبلی کا اجلاس ’بدقسمت‘ قرار
-
دنیا7 days agoامریکہ، ایران جنگ بندی معاہدے کی راہ میں بداعتمادی اور گہرے اختلافات حائل
