جموں و کشمیر
کشمیر: زعفران کی فصل پر زوال کی چھایا، کسان بے بسی کا شکار
سری نگر، وادیٔ کشمیر کی مشہور زعفران صنعت جو صدیوں سے یہاں کی معیشت، ثقافت اور شناخت کا حصہ رہی ہے، امسال شدید بحران سے دوچار ہے۔
کاشتکاروں کے مطابق اگرچہ اس سال موسم زعفران کی کاشت کے لیے موافق رہا، تاہم پیداوار میں غیر معمولی کمی نے ان کو سخت مالی مشکلات کے بھنور میں پھنسا دیا ہے۔
انہوں نے امسال پیداوار میں غیر معمولی کمی ہونے پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اس کی مختلف وجوہات بیان کی ہیں۔
پلوامہ کے مشہور زعفران کاشتکار نثار احمد نے یو این آئی سے بات کرتے ہوئے کہا: ‘زعفرانی صنعت کی تباہی میں سب سے بڑا کردار متعلقہ سرکاری محکموں کی ناقص منصوبہ بندی کا ہے،اگر حکومت نے بروقت اریگیشن سسٹم (آبپاشی کے نظام) کو فعال بنایا ہوتا، تو آج وادی میں زعفران کی یہ قیمتی صنعت زوال کا شکار نہ ہوتی’۔
انہوں نے تفصیلات فراہم کرتے ہوئے بتایا: ‘ سال 2010-11 میں مرکزی سرکار نے ’زعفران مشن‘ کے تحت کروڑوں روپے کی خطیر رقم جموں و کشمیر حکومت کو فراہم کی تھی تاکہ زعفرانی اراضی میں آبپاشی کے جدید نظام کو متعارف کرایا جائے’۔
انہوں نے کہا: ‘تب بھی اریگیشن کا مسئلہ اہم تھا اور آج بھی وہی سب سے بڑی ضرورت ہے۔ مگر افسوس کی بات ہے کہ متعلقہ ایجنسیاں اس مشن کو کامیابی کے ساتھ آگے بڑھانے میں ناکام رہیں’۔
نثار احمد نے بتایا: ‘زعفران مشن کا مقصد یہ تھا کہ پانی کی فراہمی کو یقینی بنا کر زعفرانی کھیتوں کو خشک سالی کے اثرات سے محفوظ رکھا جائے۔ تاہم، زمینی سطح پر اس منصوبے کا کوئی نمایاں اثر دیکھنے کو نہیں ملا۔کروڑوں روپے خرچ کرنے کے باوجود نہ تو آبپاشی کے نظام میں بہتری آئی، نہ ہی زعفرانی زمینوں کی دیکھ بھال کے لیے کوئی مؤثر قدم اٹھایا گیا’۔
انہوں نے کہا کہ ماحولیاتی تبدیلی نے اس صنعت کو تباہی کے دہانے پر پہنچا دیا ہے،گزشتہ سال بھی پیداوار اتنی زیادہ نہیں تھی جتنی سرکاری اعداد و شمار میں ظاہر کی گئی۔
ان کے مطابق، غیر متوقع بارشوں، خشک سالی اور درجہ حرارت میں غیر معمولی اتار چڑھاؤ نے زعفران کے پھولوں کی افزائش پر براہِ راست منفی اثر ڈالا ہے۔
انہوں نے واضح طور پر کہا: ‘پانپور اور اس کے ملحقہ علاقوں میں کسی بھی جگہ نہ تو کوئی بڑی انڈسٹری موجود ہے اور نہ ہی زمین کی کھدائی کی جا رہی ہے’۔
ان کے بقول، اصل مسئلہ پانی کی عدم دستیابی اور زمین کی کمزور ہوتی زرخیزی ہے، نہ کہ صنعتی سرگرمیاں۔
جب ان سے پوچھا گیا کہ اگر حکومت زعفران کے کھیتوں کو پانی فراہم کرے تو کیا اس صنعت کو دوبارہ زندہ کیا جا سکتا ہے، تو نثار احمد نے مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے کہا: ‘اب یہ صنعت زوال پذیر ہو چکی ہے۔ اگر حکومت آج سے بھی کام شروع کرے، تو بھی اس کو بچانا بہت مشکل ہے۔ زمین کی زرخیزی ختم ہو رہی ہے، اور پھولوں کی پیداوار میں وہ قوت نہیں رہی جو پہلے تھی’۔
انہوں نے بتایا کہ گزشتہ سال ایک کنال زمین سے تقریباً دو کلو زعفران کے پھول نکلے تھے، لیکن امسال صرف آدھا کلوگرام پھول ہی حاصل ہوا۔یہ اعداد و شمار اس بات کی عکاسی کرتے ہیں کہ زعفران کی صنعت کتنی تیزی سے تباہی کی جانب بڑھ رہی ہے۔
پلوامہ ضلع کے پانپور علاقے کے کسان مشتاق احمد، جو گذشتہ دو دہائیوں سے زعفران کی کاشت سے وابستہ ہیں، نے یو این آئی کو بتایا کہ اس سال کسانوں میں امید تھی کہ موسم کی بہتر صورتحال کے باعث فصل عمدہ ہوگی، مگر نتیجہ اس کے برعکس نکلا۔ ان کے بقول، ’امسال بارش بھی مناسب ہوئی، گرمی بھی موسم کے مطابق رہی، اور تمام قدرتی حالات سازگار تھے، اس کے باوجود زعفران کے پھول بہت کم نکلے۔
زعفران کشمیر کی ایک قدیم ترین اور قیمتی فصل مانی جاتی ہے، جس کی کاشت بنیادی طور پر پانپور، کھریو، وئن، اور پلوامہ کے دیگر علاقوں میں ہوتی ہے۔ ’زعفران کشمیر‘ کو بین الاقوامی سطح پر جغرافیائی اشاریہ جی آئی ٹیگ بھی حاصل ہے، جو اس کی انفرادیت اور معیار کو عالمی سطح پر تسلیم کرتا ہے۔
مشتاق احمد نے یو این آئی کو بتایا: ‘ اس سال قدرتی طور پر ہر چیز بہتر رہی۔ موسم بھی ساز گار رہا اور ہم نے امید کی تھی کہ اس بار زعفران کی اچھی فصل نکلے گی، مگر ایسا نہیں ہوا’۔
انہوں نے کہا: ‘ہمارے پاس 16 کنال زعفران کی اراضی ہے۔ پچھلے سال اس اراضی سے تقریباً 30 کلوگرام زعفران کے پھول نکلے تھے، جب کہ اس سال بمشکل ایک کلوگرام پھول حاصل ہوئے ہیں’۔
مشتاق احمد کے مطابق زعفران کی کم پیداواری کی سب سے بڑی وجہ ماحولیاتی آلودگی ہے۔
انہوں نے کہا: ‘ پانپور اور اس کے مضافات میں اراضی مافیا سرگرم ہے جو قیمتی زعفرانی زمینوں سے مٹی نکال کر دیگر مقاصد کے لیے استعمال کر رہا ہے’۔
انہوں نے مزید بتایا کہ ‘آس پاس علاقوں میں قائم فیکٹریاں بھی فضائی اور زمینی آلودگی کا باعث بن رہی ہیں، جس سے زعفران کی افزائش کی صلاحیت کم ہوتی جا رہی ہے’۔
مشتاق احمد نے بتایا کہ حال ہی میں چیف سیکریٹری کی زیرِ صدارت ایک اعلیٰ سطحی میٹنگ منعقد ہوئی جس میں زعفرانی اراضی کی کھدائی کے خلاف سخت کارروائی کے احکامات جاری کیے گئے۔
انہوں نے کہا: ‘یہ ایک خوش آئند قدم ہے، مگر زمینی سطح پر اب تک کوئی نمایاں تبدیلی نظر نہیں آتی۔ کھدائی کرنے والوں کے خلاف کارروائی صرف کاغذوں تک محدود ہے’۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اگر حکومت نے فوری اور ٹھوس اقدامات نہ کیے تو زعفران کی یہ صنعت ’مکمل زوال‘ کا شکار ہو جائے گی۔
ان کا کہنا تھا: ‘سرکار کو چاہیے کہ پانپور اور ملحقہ علاقوں میں زعفرانی زمینوں کی کھدائی پر مکمل پابندی عائد کرے، فیکٹریوں سے نکلنے والے کوڑے کرکٹ کو کنٹرول کرے، اور ماحولیات کے تحفظ کے لیے عملی منصوبہ بندی کرے’۔
مشتاق احمد کے مطابق، سابق وزیر اعلیٰ مفتی محمد سعید کے دورِ حکومت میں زعفرانی اراضی پر کسی بھی قسم کی تعمیر یا زمین کے استعمال میں تبدیلی پر مکمل پابندی تھی۔اس وقت غیر قانونی تعمیرات کو منہدم کیا گیا تھا اور زعفران کے تحفظ کے لیے حقیقی کوششیں کی گئی تھیں، مگر آج صورت حال اس کے برعکس ہے
انہوں نے مزید کہا: ‘متعلقہ محکمے یا تو غیر فعال ہیں یا صرف خانہ پوری کر رہے ہیں۔ اس صنعت سے وابستہ ہزاروں خاندان اس وقت مالی بدحالی کا شکار ہیں’۔
مشتاق احمد کے مطابق، انہوں نے اس سال زعفران کی کاشت پر تقریباً دو لاکھ روپے خرچ کیے، مگر ساری رقم ضائع ہو گئی۔
انہوں نے کہا: ‘پانی دینا، زمین صاف کرنا، کھاد ڈالنا، مزدور رکھنا سب کچھ کیا، مگر نتیجہ کچھ نہیں نکلا۔ اس سال صرف دو فیصد پیداوار حاصل ہوئی ہے، جو کچھ نہ ہونے کے برابر ہے’۔
ماہرینِ زراعت کا کہنا ہے کہ اگر موجودہ حالات برقرار رہے تو زعفران کی زمینیں آنے والے پانچ سے سات برسوں میں بنجر ہو سکتی ہیں۔
دریں اثنا، یو این آئی نے اس حوالے سے جب چیف ایگریکلچر آفیسر پلوامہ، وحید الرحمن سے رابطہ کیا تو انہوں نے تسلیم کیا کہ زعفران کی پیداوار میں نمایاں کمی واقع ہوئی ہے۔ان کے مطابق، اس کی بنیادی وجہ موسمیاتی تبدیلی ہے۔
موصوف آفیسر کے مطابق گزشتہ سال موسمِ سرما میں برف باری نہ ہونے کے برابر تھی، جس کا براہِ راست اثر زمین کی نمی اور زرخیزی پر پڑا۔
انہوں نے مزید کہا کہ اس کے علاوہ بھی کئی دیگر عوامل ہیں جو اس فصل پر منفی اثرات مرتب ہونے کے باعث ہیں۔
یو این آئی ارشید بٹ، ایم افضل
جموں و کشمیر
جموں و کشمیر میں سی جی ڈی پالیسی نافذ، تمام 20 اضلاع میں گیس کنکٹیویٹی اور سنگل ونڈو منظوری
سری نگر، جموں و کشمیر حکومت نے جموں و کشمیر سٹی گیس ڈسٹری بیوشن (سی جی ڈی) پالیسی 2026 کو نافذ کردیا ہے، جس کے تحت تمام 20 اضلاع میں مرحلہ وار سی جی ڈی نیٹ ورک کی توسیع، مقررہ مدت میں سنگل ونڈو منظوری اور بڑے صنعتی علاقوں کو ترجیحی بنیاد پر گیس کنکٹیویٹی فراہم کرنے کا انتظام کیا گیا ہے۔
وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے جمعرات کو پالیسی کے نوٹیفکیشن کو جموں و کشمیر میں صاف ایندھن تک رسائی بڑھانے، صنعتی مسابقت کو مضبوط بنانے اور توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو جدید بنانے کی سمت ایک اہم قدم قرار دیا۔
ایک سرکاری ترجمان نے بتایا کہ وزرا کی کونسل کی منظوری کے بعد جاری کی گئی اس پالیسی میں گھریلو صارفین، تجارتی اداروں، صنعتوں اور ٹرانسپورٹ شعبے میں پائپڈ نیچرل گیس (پی این جی) اور کمپریسڈ نیچرل گیس (سی این جی) کے استعمال کو فروغ دینے کے لیے واضح، سرمایہ کار دوست اور مقررہ مدت پر مبنی فریم ورک قائم کیا گیا ہے۔
پالیسی کے تحت جموں و کشمیر کے تمام 20 اضلاع میں سٹی گیس ڈسٹری بیوشن نیٹ ورک کو مرحلہ وار توسیع دی جائے گی، جس سے صارفین تک زیادہ صاف اور قابل اعتماد قدرتی گیس پہنچے گی اور روایتی ایندھن سے منتقلی میں مدد ملے گی۔
پالیسی کا ایک اہم مقصد سنگل ونڈو اور مقررہ مدت میں منظوری کے نظام کے ذریعے منصوبوں کے نفاذ کو آسان اور تیز بنانا، سی این جی اسٹیشن قائم کرنے کے طریقہ کار کو ہموار کرنا اور رائٹ آف وے کے معیارات کو یکساں بنانا ہے۔ اس کے علاوہ بڑے صنعتی علاقوں، جن میں کٹھوعہ، سانبہ اور پلوامہ کے صنعتی علاقے شامل ہیں، کو ترجیحی بنیاد پر گیس کنکٹیویٹی فراہم کی جائے گی، تاکہ صنعتی ترقی کو فروغ ملے اور قابل اعتماد توانائی تک رسائی بہتر ہو۔
پی این جی اور سی این جی کے بنیادی ڈھانچے کی توسیع سے محفوظ، صاف اور زیادہ سستی توانائی کے متبادل دستیاب ہونے، ایندھن کی لاگت کم کرنے، صنعتی کارکردگی اور مسابقت بہتر بنانے اور ابھرتے ہوئے صاف توانائی کے شعبے میں سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی کی توقع ہے۔
پالیسی میں مقامی روزگار، اپرنٹس شپ اور ہنرمندی کی ترقی کو بھی فروغ دینے کا انتظام کیا گیا ہے، جس سے گیس ڈسٹری بیوشن کے بنیادی ڈھانچے اور متعلقہ خدمات کی تعمیر، آپریشن اور دیکھ بھال کے شعبوں میں روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔
وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے وزیر برائے خوراک، شہری رسد و امور صارفین ستیش شرما اور متعلقہ محکمہ کو پالیسی کے نوٹیفکیشن پر مبارکباد دیتے ہوئے اسے جموں و کشمیر میں صاف ستھری ترقی، پائیدار ترقی اور جدید توانائی کے نظام کی جانب ایک اہم قدم قرار دیا۔
وزیر اعلیٰ نے کہاکہ ”سٹی گیس ڈسٹری بیوشن پالیسی سے صاف اور قابل اعتماد توانائی تک رسائی کو وسعت دینے میں مدد ملے گی، جبکہ صنعت اور سرمایہ کاری کے لیے سازگار ماحول بھی پیدا ہوگا۔ یہ جموں و کشمیر کے لیے زیادہ صاف، مؤثر اور پائیدار توانائی کے مستقبل کی تعمیر کی جانب ایک اہم قدم ہے۔”
یواین آئی۔ ط ا
جموں و کشمیر
فاروق عبداللہ نے نانا پاٹیکر کو ‘بہت اچھا دوست’ اور ‘بہت اچھا انسان’ قرار دے کر یاد کیا
سری نگر، نیشنل کانفرنس کے صدر اور جموں و کشمیر کے سابق وزیر اعلیٰ فاروق عبداللہ نے جمعرات کو معروف اداکار نانا پاٹیکر کو اپنا ”بہت اچھا دوست” اور ”بہت اچھا انسان” قرار دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے اپنی زندگی غریبوں اور ضرورت مندوں کی مدد کے لیے وقف کردی تھی۔
75 سالہ نانا پاٹیکر جمعرات کی صبح گوا میں واقع اپنی رہائش گاہ پر دل کا دورہ پڑنے سے انتقال کرگئے۔
عبداللہ نے صحافیوں سے کہاکہ ”وہ میرے بہت اچھے دوست تھے اور سب سے بڑھ کر ایک بہت اچھے انسان تھے۔ انہوں نے اپنی پوری زندگی غریبوں اور ضرورت مندوں کی مدد کی۔” انہوں نے کہاکہ ”وہ قبائلی دیہات میں پسماندہ لوگوں کے درمیان رہتے تھے اور ضرورت مند افراد کے مسائل حل کرنے کے لیے کام کرتے تھے۔”
اداکار کے ساتھ اپنی وابستگی کو یاد کرتے ہوئے عبداللہ نے کہا کہ نانا پاٹیکر کئی مرتبہ جموں و کشمیر آئے تھے۔
انہوں نے کہاکہ ”وہ بار بار یہاں آتے تھے اور مجھ سے ملاقات کرتے تھے۔ ایک مرتبہ وہ میری ایک شادی میں بھی آئے تھے، جہاں مجھے ان کے ساتھ رقص کرنے کا موقع ملا۔”
سابق وزیر اعلیٰ نے کہا کہ اداکار میں ”نرم دلی” کی ایک نایاب خوبی تھی اور انہوں نے کبھی مذہبی معاملات کو لوگوں کی مدد کی راہ میں حائل نہیں ہونے دیا۔
انہوں نے کہاکہ ”وہ کبھی مذہب نہیں دیکھتے تھے، بلکہ کسی شخص کے درد کو دیکھتے تھے اور اسے زیادہ سے زیادہ کم کرنے کی کوشش کرتے تھے۔”
عبداللہ نے کہا کہ معاشرے کے لیے نانا پاٹیکر کی خدمات کو فراموش نہیں کیا جائے گا۔
انہوں نے کہاکہ ”اللہ نے انہیں بہت نوازا تھا۔ انہوں نے لوگوں کی مدد کے لیے جو کچھ کرسکتے تھے، کیا اور ان کی خدمات کو کوئی فراموش نہیں کرسکتا۔ ان کی یاد ہمیشہ ہمارے ساتھ رہے گی۔”
اداکار کے انتقال پر اظہارِ افسوس کرتے ہوئے عبداللہ نے کہا کہ جمعرات کی صبح یہ خبر سن کر انہیں بہت دکھ ہوا اور انہوں نے آنجہانی کی روح کے لیے دعا کی۔
نانا پاٹیکر کی اداکاری کی صلاحیتوں کی تعریف کرتے ہوئے عبداللہ نے انہیں ایک شاندار اداکار قرار دیا اور کہا کہ ان کی آخری فلم، جس کی شوٹنگ انہوں نے حال ہی میں گوا میں مکمل کی تھی، ان کی صلاحیتوں کی بھی عکاسی کرے گی۔
یواین آئی۔ ط ا
جموں و کشمیر
جموں ایس او جی نے ‘خوف گینگ’ سے وابستہ گینگسٹرز کے دو ساتھیوں کو اسلحہ اور منشیات سمیت گرفتار کیا
جموں، جموں کی اسپیشل آپریشن گروپ (ایس او جی) نے ایک بڑی کارروائی کرتے ہوئے جمعرات کو ‘خوف گینگ’ سے وابستہ گینگسٹرز کے دو ساتھیوں کو اسلحہ، گولہ بارود اور منشیات سمیت گرفتار کرلیا۔
سرکاری بیان کے مطابق، جموں ایس او جی نے جموں اور سانبہ میں کارروائی کرتے ہوئے دو افراد کو گرفتار کیا اور ان کے قبضے سے تین آتشیں ہتھیار، جن میں دو پستول اور ایک دیسی ساختہ پستول (کٹا) شامل ہے، کے علاوہ ہیروئن (چِٹا) برآمد کی۔
گرفتار ملزمان کی شناخت سانبہ ضلع کے باری برہمنہ کے پلی کے رہنے والے ونش شرما اور باری برہمنہ کے پالی ٹانڈہ کے رہنے والے یوگیشور سنگھ کے طور پر ہوئی ہے۔
تحقیقات کے دوران ونش شرما کے مبینہ طور پر وکاس سالتھیا عرف وکی خوف اور روہت کمار عرف مکھن سے وابستہ ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔ یہ دونوں جموں خطے میں مبینہ طور پر اسلحہ کی سپلائی کے نیٹ ورک اور مجرمانہ سرگرمیوں سے منسلک ہیں۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ تحقیقات سے ونش شرما کے پنجاب میں مقیم گینگسٹرز کے ساتھ مبینہ روابط کا بھی انکشاف ہوا ہے اور ان کا منصوبہ غیر قانونی ہتھیار حاصل کرنے اور پنجاب میں ایک ہدف بنا کر حملہ کرنے کا تھا۔
بیان کے مطابق، مکمل نیٹ ورک کا پتہ لگانے اور دیگر ساتھیوں کی شناخت کے لیے مزید تحقیقات جاری ہیں۔
یواین آئی۔ ظ ا
-
جموں و کشمیر1 week agoسری نگر پولیس نے بین ریاستی منشیات نیٹ ورک کا پردہ فاش کیا، آٹھ افراد گرفتار
-
دنیا1 week agoقطری ثالثی کی امریکہ، ایران کے درمیان مذاکرات میں معمولی پیش رفت
-
دنیا1 week agoروس پر براہِ راست حملے کی صورت میں ہر قسم کے ہتھیار استعمال کرنےکا معاملہ ایجنڈے پر ہو گا :پوتن
-
جموں و کشمیر7 days agoگاندھی کے عدم تشدد اور سودیشی کے نظریات آج بھی اہم ہیں: جموں کے ڈویژنل کمشنر
-
ہندوستان7 days agoوندے بھارت نے چِناب پل اور کیبل اسٹڈ انجی پل کو 100 کلومیٹر کی رفتار سے عبور کیا
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر میراتھن اتحاد اور نوجوانوں کے متبادل خواہشات کا پیغام دیتی ہے: ایل جی سنہا
-
ہندوستان1 week agoگیانیش کمار استعفیٰ دیں، ہٹائے گئے ووٹروں کی فہرست عام کی جائے: کھرگے
-
دنیا6 days agoخمیس مشیط کی جانب داغے گئے تین حوثی بیلسٹک میزائل تباہ
-
ہندوستان1 week agoڈیفنس اکاؤنٹس ڈیپارٹمنٹ کے 279ویں سالانہ دن پر کئی نئی پہل کی شروعات کریں گے راج ناتھ
-
ہندوستان1 week agoشیئر بازاروں میں گراوٹ جاری، سینسیکس 49 پوائنٹس پھسلا
-
دنیا1 week agoایران امریکہ سے مذاکرات کی کوشش جاری رکھے گا: پیزشکیان
-
جموں و کشمیر1 week agoاپوزیشن لیڈر کا عمر پر ریاستی حیثیت کی بحالی کے مطالبے کو ’سبوتاژ‘ کرنے کا الزام، جموں و کشمیر اسمبلی کا اجلاس ’بدقسمت‘ قرار
