اہم خبریں
کشمیر میں خواتین ریڈیو جوکیز(ار جے)
ساحل اقبال
دنیا کے ساتھ ساتھ کشمیری خواتین بھی ہر شعبہ میں نمائیا کارکردگی کا مُظاہرا کر رہی ہیں، پھر چائے وہ کھیلوں کا میدان ہو، سیاست ہو ،سقافت ہوا،صحافت ہو یاکوئی اور بڑا ادارہ ہو، یہاں تک کی کشمیری خواتین کی اونچی پرواز انہیں ہواؤں سے بھی باتیں کرواتی ہے۔ کشمیر کی انہی باصلاحیت خواتین میں سے چند ایک ایسی خواتین ہے جو ہر گھر کی آواز بنی ہوئی ہیں، صبح سے لےکر شام تک یہ خواتین کشمیری عوام کے مُرجیائے ہوئے چہرون پر مُسکراہٹ برقرار رکھنے میں ہمیشہ آگے رہتی ہیں۔جی ہاں ہم بات کر رہے ہیں کشمیر کی اپنی خواتین ریڈیو جوکیز (ار جے) کی ، جو ریڈیوں پردن کی شروعات مورنگ شو سے کرتی ہیں اور دن کا اختتام ایننگ شو سے۔ اس دوران وہ اپنے سننے والوں تک ہر چھوٹی بڈی خبر پہنچانے کے ساتھ ساتھ ان کی تفری بھی کرتی ہیں،۔ ان خواتین میں سے کوئی صبح اپنے سننے والوں کو خوش خبری دیتی ہے تو کوئی تھکاوٹ بھرے دن کا اختام اپنے منفرد انداز سے کرتی ہے، اسٹوڈیو سے لوگوں کے دلوں تک پہنچنے والی ان خواتین کو وادی کے ہرگاؤں، شہراورہر قصبہ جات میں سنا جاتا ہیں . انہی خواتین ریڈیو جوکیز میں سے ہم اج آپ کی ملاقات چند ایک سے کروانے جا رہے ہیں۔
بیگ مورنگ بیئٹز صبح 8سے 11فرحوما کے ساتھ
(ار جے فرحوما اقبال)

RJ Faruhma/facebook
سرینگر کے رنگ ریٹ علاقے سے تعلق رکھنے والی فرحوما ، 92.7 Big FM کی ریڈیو جو کی (ار جے )ہے ،
انہوں نے اپنی ابتدائی تعلیم سرینگر سے حاصل کی ہے، جس کے بعد انہوں نے دہلی یونیورسٹی سے صحافت میں پوسٹ گریجویشن کی ڈگری حاصل کی، اپنی صلاحیتوں کی وجہ سے فرحوما ڈیگری ختم کرتے ہی ، ’این ’ڈی‘ ٹی ‘’وی ‘ کے ساتھ وابستہ ہوگئی، اس کے بعد انہوں نے مختلف ملکی اور غیر ملکی اداروں کے ساتھ کام کیا، جن میں home shop 18، کے ساتھ ساتھ دبئی اور ملیشیا میں بطور کنٹنٹ ریٹرکام کیا۔
کشمیر واپس آنے پر ان کی کامیابی کو دیکھتے ہوئے آل انڈیاریڈیو سیرینگر میں ان کا انٹرویو لیا گیا ، ریڈیو پر بات کرتے ہوئے لوگوں نے فرحوما کی آواز کو کافی زیادہ پسند کیا، اور انہیں ریڈیو براڈکاسٹر بننے کی صلاحیت دے ڈالی۔
اس پر غور کرتے ہوئے فر حوما نے ایک نجی ایف ایم سٹیشن میں عرصی ڈالی، اور اس طرح سے ان کا ریڈیو جوکی بننے کا سفر شروع ہوا اور پچھلے دو سالوں سے وہ لگاتار اپنے سننے والوں کو اپنی مٹی اور با عصر آواز سے موضوض کر رہی ہیں۔
گھر میں اگرچہ کوئی بھی افراد خانہ صحافت سے تعلق نہیں رکھتا تھا تاہم صحافت کا پیشہ چننے میں فرحوما کوگھر والوں کا پورا پورا سپورٹ حاصل ہوا ،
خبر اردو سے بات کرتے ہوئے انہوں نے بتایا، ”میں نے اپنے کیریئر میں دنیا بھر میں کام کیا مگر کشمیر میں ریڈیو جوکی بننا ایک الگ بات ہے، اور مجھے لگتا ہے میں بہت خوش قسمت ہوں جو لوگوں نے مجھے بہت جلدی کھلے دل سے تسلیم کرلیا۔
انہوں نے کہا، میں بہت جلدی لوگوں کی نظر میں آنا شروع ہو گئیں، مجھے میرے کام پے فکر ہے،
فرحومانے بتایا،” اپنے کیریئر میں مجھے کبھی بھی اس بات کا احساس نہیں ہوا کہ میں ایک میل ڈومینیٹیڈ پروفیشن میں کام کر رہی ہو ،میں جہاں بھی گئی مجھے میرے کام سے پہچانا گیا ،انہوں نے کہا پہلے پہل جب وہ صحافت کے پیشے سے وابستہ تھیں تووہ بھی لوگوں کی تنقید کا نشانہ بنیں ،
وہ کہتی ہے کہ اب کشمیر کی سوسائٹی اس چیز سے بہت آگے نکل آئی ہے اب یہاں کام کے لحاظ سے مرد اور عورت یکساں ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ اگر انہیں کبھی آن لائن تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے تو وہ اسے اپنی کامیابی سمجھتی ہیں، ان کے مطابق لوگ تب ہی کسی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہیں جب وہ کسی پوزیشن پہ فائز ہو اور تنقید کرنے والے وہاں نہ پہنچ پائے ہوں۔
کشمیر میں ریڈیو جوکی کے مستقبل کے حوالے سے بات کرتے ہوئے انہوں نے بتایا ،”مجھے لگتا ہے کشمیر میں ریڈیو جاکی کا مستقبل کافی روشن ہے کیونکہ کشمیر کے ہر گھر میں ریڈیو سنا جاتا ہے“۔
انہوں نے کہا کہ یہ بات سچ ہے کہ کشمیر میں بہت کم ریڈیو اسٹیشنز ہے جس کی وجہ سے ریڈیو جوکیز کے لئے بہت کم جگہ ہے، انہوں نے کہا،” آرٹیکل 370 کے خاتمے کے بعد اب کشمیر میں بھی پرائیویٹائزیشن ہونے جا رہی ہے جس کی وجہ سے کافی ریڈیو اسٹیشنز کھولنے کا امکان ہے جہاں پر ریڈیو جوکی کا شوق رکھنے والے لوگوں کے لئے روزگار کے مراحل بڑھ سکتے ہیں“۔
ریڈیو جوکی کا شوق رکھنے والی خواتین سے مخاطب ہوکر انہوں نے کہا ،”میری صلاح ان نوجوان خواتین سے یہ رہے گی کہ اگر انہیں لگتا ہے کہ وہ اس شعبے میں آگے آ سکتی ہیں اور ان میں وہ بات ہے تو انہیں
لوگوں کی باتوں کی فکر کرنے کی ضرورت نہیں ہے، انہیں چاہیے کہ اپنے آپ پر اعتماد کریں اور محنت اور لگن سے آگے بڑھے یقین کامیابی ان کے قدم چومے گی۔
رافیا کا مافیا
رافیا رحیم کا دیہاتی لڑکی سے لے کر ‘میرچی رافیا تک کا سفر

RJ Rafia/Facebook
وسطی کشمیر کے شہر چہار ِ شریف کی رہنے والی 25 سالہ رافیا رحیم ، ضلع بڈگام سے پہلی آر جے ہے اور اس میدان میں سب سے کم عمر بھی۔ ریڈیو مرچی 98.3 ایف ایم پر اس کا دوپہر کا شو رافیا کا مافیا سامعین میں کافی مشہور ہوگیا ہے۔
کشمیر یونورسٹی میں صحافت کے سوبے میں داخلے سے بہت پہلے ، رافیا نے دوردرشن پر گڈ مارننگ جے اینڈ کے کی میزبانی کی ، یہ ایک ایسا پروگرام ہے جس میں معاشرتی امور پر بحث ہوتی ہے۔
یہی وہ وقت تھا جب براہ راست پروگرام کی میزبانی کرنے اور مختلف شعبوں کے ماہرین سے بات چیت نے ان کی اس مہارت میں چمک لائی۔
ریڈیاوشو نے نہ صرف رافیاکو “پہچان” بخشی بلکہ ان لوگ جو اس سے قبل جموں وکشمیر میں مرد غالب پیشہ میں شامل ہونے کے ان کے فیصلے پر سوال کھڑے کرتے تھے کو بھی کڑا جواب دیا ۔
“مجھے اکثر کہا جاتا تھا کہ میں اپنی تعلیم مکمل کروں اور ٹیچر کی نوکری کے لئے درخواست دوں۔ لیکن میرے ابو نے ہمیشہ میرا ساتھ دیا… رحیم نے کہا ، ”
اپنی تعلیم مکمل کرنے کے بعد ، انہوں نے مقامی روزنامہ کے ساتھ کام کرتے ہوئے پرنٹ میڈیا میں اپنی قسمت آزمائی۔ تاہم ، وہاں کام کرنے کے کچھ مہینوں بعد ، 2016 کے موسم گرما میں جب وادی پانچ ماہ طویل ہڑتال کی زد میں تھی ، رافیا نے کام کی تلاش میں نئی دہلی کی اوڈان بھری۔
گھر سے دور رہنے کا یہ ان کا پہلا تجربہ تھا ، اور وہ بھی بنا کسی یار و مددت گار۔ انہوں نے کہا ، “یہ ایک چیلنج تھا لیکن میں پرعزم تھی۔
ایک ماہ تک جدوجہد کرنے کے بعد ، رافیا نے بتایا کہ انہیں نوئیڈا میں مقیم اے پی این نیوز اینڈ میڈیا میں بطور نیوز اینکر / رپورٹر ملازمت ملی۔ کچھ مہینوں تک وہاں کام کرنے کے بعد ، وہ چھوڑ دیا اور بنگلور روانہ ہوگئی جہاں آن لائن نیوز پورٹل ، لوجیکل انڈیا میں بطور سب ایڈیٹر ، چند ماہ کام کیا۔
یہی وہ وقت تھا جب ریڈیو مرچی کشمیر میں اپنا اسٹیشن قائم کرنے کا منصوبہ بنا رہا تھا۔ اس دوران کشمیر میں آڈیشن ہو رہے تھے، رافیا نے ریڈیو سٹیشن کے نام ایک ایمیل ارسال کیا اور ریڈیو سٹیشن میں کام کرنے کی خواہش جتائی،جس کے بعد انہیں اوڈیشن کے لئے دئلی بلایا گیا اور ان کی صلاحیتوں کو دیکھتے ہوئے انہیں سلیکٹ کر لیا گیا ۔
آج ، وہ ہفتے میں چھ دن ، شام 3-7 بجے تک اپنا شو چلاتی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ان کا مقصد اپنے پروگرام کے ذریعے لوگوں کو تفریح فراہم کرنا ہے۔ وہ یہی کوشش کرتی ہیں کہ ان کا پروگرام سننے کے بعد لوگوں کی پریشانی، اداسی اور تھکاوٹ دور ہوجائے۔ مختصراً یہ کہ وہ کشمیری سامعین کو تفریح فراہم کرنے کی خواہش رکھتی ہیں۔
رحیم نے خبر اردو کو بتایا “اس دوران بہت سارے لوگوں کی طرف سے انہیں تنقید کا نشانہ بنایا گیا لیکن انہیں نے کبھی ہمت نہیں ہاری۔ انہوں نے مزید کہا ”میرے ابو ہمیشہ میرے پیچھے کھڑے رہتے“ ۔ رافیا کے والد کا چند سال قبل ایک سڑک حادثے میں انتقال ہوگیا تھا۔

RK Mehak/facebook
خوش خبری دینے والی آر جے
(ار جے مہک)
مہک کا شو ، ان کے اپنے الفاظ میں ، مشہور ڈیل جھیل کے طلوع آفتاب کے شاندار رنگوں کی عکاسی کرتا ہے۔ ریڈیو مرچی میں اپنے مختصر قیام میں ، اس نے اپنی ایک الگ پہچان بنا لی ہے ، وہ صبح کے آٹھ بجے ہفتہ میں چھ دن مارننگ شو کرتی ہے۔
ان کے شو کے ایک حصے میں خوشخبری دینا بھی شامل ہے ۔جو کشمیر جیسی جگہ میں کوئی آسان کام نہیں ہے۔
سری نگر کے سنت نگر علاقے میں رہنے والی مہک نے اپنی ابتدائی تعلیم کنوٹ پرزننٹیشن اسکول سے حاصل کی ،جس کے بعد ایم آے ٹی سے گریجویشن کی اور بعد میں صحافت میں پوسٹ گریجویشن کی ۔
مہک جو پچھلے تین سال سے ریڈیو مرچی کا مورننگ شو کر رہی ہیں نے اپنے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا
”میں اس سے پہلے ہوم شاپ 18 اور دوردرشن کی اینکر اور پھر سی این این-آئی بی این کے ساتھ بطور رپورٹر کام کرتی تھی“۔
صحافت سے ریڈیو جوکی بننے کا سفر میرا بہت مشکل رہا، انہیوں نے کہا ” میں سی این این میں کافی سنجیدہ صحافت انجام دے رہی تھی ، لیکن میرا مارننگ شو بھی کافی زیادہ سنجیدہ ہی رہتا ہے جس میں مجھے اپنے سننے والوں تک دن بھر کی تازہ ترین خبریں پہنچانا پڑتی ہیں ۔
” ریڈیو مرچی میں ہر چیز مرچی والے انداز میں بولی اور پیش کرنی پڑتی ہے جو کہ ایک بڑاچالینج رہا“۔
حالانکہ یہ کافی زیادہ چلنجز سے بھرا ہوا ہے لیکن ایک آرجے جے بننا میرے لئے بڑی بات ہے
وہ اپنے سننے والوں سے ان کی پریشانیوں کو سننے کے لیے regularly باقاعدگی سے بات چیت کرتی رہتی ہے اور ماہرین کو ان کے حل کی فراہمی میں مصروف رختی ہے۔ انہوں نے کہا ، “میرا کام بہت جوش و خروش سے بھرا ہوا ہے … اس سے مجھے اپنے سامعین کے ساتھ بات چیت کرنے کی بہت زیادہ آزادی ملتی ہے۔”
نہوں نے بتایا ہے کی انہیں اس کام میں آنے کے بعد کئی بار آن لائن تنقید کا نشانہ بھی بنایا گیا جس پر وہ کبھی کبھار غصے میں آکر لوگوں کو جواب بھی دیتی ہے تاہم وہ ہمیشہ ایسے معاملے میں چپ رہنا ہی پسند کرتی ہے۔
وہ کہتی ہیں اگر چہ کشمیر میں ریڈیو جوکی کا اچھا مستقبل نظر آ رہا ہے مگر بہت کم اسٹیشن ہونے کی وجہ سے کا م ملنا مشکل ہو رہا ہے۔
سننے والوں کی پسندیدہ یہ ار جےہر گزرتے دن کے ساتھ مقبولیت حاصل کررہے ہیں۔
تین سے پانچ صوفی کے ساتھ
(ار جے صوفی)

RJ Sofie/facebook
شوپیان ضلع سے تعلق رکھنے والی ،سری نگر شہر کے میئر کی اہلیہ یو سرا، جن کا بروڈ کاسٹنگ نام ار جے صوفی ہے،پچھلے کئی سالوں سے ریڈیو اسٹیشن میں نہ صرف بطور ریڈیو جوکی بلکہ پروگرامنگ ہیڈ کے فرائض سرانجام دے رہی ہیں ،
یوسرا 93.5 Red FM پر اپنا تین سے پانچ کا شو کرتی ہیں،
یوسرا نے بنیادی تعلیم کان ویٹ پریزنٹیشن سکول سے حاصل کی ہے ،جس کے بعد ومنز کالج ایم اے روڈ سرینگر سے گریجویشن کی ڈگری حاصل کی، جس کے فوراً بعد ہی وہ ریڈیو سے منسلک ہو گئیں،
گھر کے ماحول کو دیکھتی ہوئی صوفی کے پاس صرف تین ہی راستے تھے ، اپنے والد کی طرح وکالت کا پیشہ اختیار کرلینا، یا سوشل ورکر بن کے سماجی خدمات انجام دینا،یا پھر صحافت۔ سوفی نے صحافت کو ترجیح دی،
خبر اردو سے بات کرتے ہوئے صوفی نے بتایا, “میں ریڈیو اسٹیشن کے فنانس ڈیپارٹمنٹ میں کام کرنے کی غرض سے گئی تھی،جہاں میری صلاحیتوں کو دیکھتے ہوئے اسٹیشن کی ویس پریزیڈنٹ نے مجھے کریٹیو ڈیپارٹمنٹ میں شامل کرلیا”،
میرے لحاظ سے ریڈیو جوکی بننا کوئی ماہرانہ کام نہیں ہے، مگر بہت کم ایسے لوگ ہوتے ہیں جو اس کام کو انجام دیے پاتے ہیں ،اس کام کے لیے آپ کے پاس وہ صلاحیت ہونی چاہیے جو اس کے لیے درکار ہے،
انہوں نے کہا”میل ڈومینیٹیڈ سوسائٹی میں جب بات آر جے یا کریٹیویٹی کی آتی ہے تو خواتین ہر لحاظ سب سے آگے ہیں”۔
وہ کہتی ہیں،سوشل میڈیا کے وجود میں آنے سے ہر شخص اپنی رائے کا اظہار کر سکتا ہے، وہیں کچھ لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں جنہیں دوسروں کو ٹرول کرنے میں مزہ آتا ہے ، اور خاص کر خواتین جو نمایاں کارکردگی کی وجہ سے ایک پبلک فیگر کی حیثیت رکھتی ہیں ان لوگوں کی تنقید کا اکثر نشانہ بنتی ہے۔
نوجوان خواتین جو اس شعبہ میں انا چاہتی ہیں انہیں صلہ دیتے ہوئے صوفی نے کہا ، ریڈیو میں آنے کے بہت کم ظرائیے ہیں ، اگر ہم بات کریں کشمیر کی تو یہاں پر بھی اس شعبے میں بہت کم لوگوں کو لیا جاتا ہے۔
انہوں نے کہا ”میری صلاح ان نوجوانوں کے لئے جو اس فیلڈ میں اگے انا چاتے ہیں سے یہی رہے گی کہ وہ اپنے اپ کو اس لایق بنائے کی وہ لوگوں کی نظر میں اسکے ، انہوں نے کہا کہ اج کل انٹرنیٹ پر بہت ساری سہولیت دستیاب ہیں جن کا استمال کر کے اپ لوگوں کی نطر میں اسکتے۔ اگر اپ میں ٹیلنٹ ہے تو اپ کو کوئی روک نہیں سکتا“۔
اہم خبریں
اسکولی لائبریریوں میں مبینہ ‘علیحدگی پسند مواد’ پر جموں و کشمیر حکومت کی بڑی کارروائی، 8 تعلیمی افسران معطل، اعلیٰ سطحی تحقیقات کا حکم
جموں و کشمیر حکومت نے سرکاری اسکولوں کی لائبریریوں میں مبینہ طور پر علیحدگی پسند مواد پر مشتمل کتابوں کی شمولیت کے معاملے میں بڑی کارروائی کرتے ہوئے محکمہ اسکولی تعلیم کے آٹھ افسران کو معطل کر دیا ہے، ایک کنٹریکچول ملازم کی خدمات ختم کر دی ہیں، دو کتابوں کے مصنفین اور پبلشرز کو بلیک لسٹ کرنے کا حکم دیا ہے اور پورے معاملے کی اعلیٰ سطحی تحقیقات شروع کر دی ہیں۔
یہ کارروائی جموں و کشمیر پیپلز فورم (جے کے پی ایف) کی جانب سے ان کتابوں کے خلاف سخت اعتراضات سامنے آنے کے چند روز بعد عمل میں آئی ہے۔ فورم نے اپنی تفصیلی رپورٹ میں دعویٰ کیا تھا کہ سرکاری اسکولوں کی لائبریریوں کے لیے منتخب کی گئی ایک کتاب میں سزا یافتہ دہشت گرد مقبول بٹ کو “شہید” قرار دیا گیا ہے، بھارت کو “قابض ریاست” کہا گیا ہے، “انڈین آکیوپائیڈ کشمیر (IOK)” کی اصطلاح استعمال کی گئی ہے اور متعدد علیحدگی پسند رہنماؤں کے بارے میں ایسا مواد شامل کیا گیا ہے جسے فورم نے ملک مخالف قرار دیا۔ فورم نے یہ سوال بھی اٹھایا تھا کہ سمگر شکشا اسکیم کے تحت ایسی کتابوں کو آخر کس بنیاد پر اسکولی طلبہ کے لیے موزوں قرار دے کر سرکاری لائبریریوں کے لیے منظور کیا گیا۔
اس معاملے پر کارروائی کرتے ہوئے محکمہ اسکولی تعلیم نے حکومتی حکم نامہ نمبر 257-JK(Edu) آف 2026 جاری کیا، جس میں کہا گیا کہ متعلقہ کتابوں میں “انتہائی نامناسب مواد” موجود ہے اور ابتدائی طور پر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ان کتابوں کی سفارش کرنے والی ماہرین کمیٹی کے ارکان نے سنگین غفلت، فرائض میں کوتاہی اور مطلوبہ جانچ پڑتال نہیں کی۔
حکم نامے کے مطابق “Personalities and Legends of J&K” اور “Great Personalities of Jammu and Kashmir” نامی کتابیں سمگر شکشا کے تحت خریدی گئی سینکڑوں کتابوں میں سے ہائر سیکنڈری (سریز-4) ایکسپرٹ کمیٹی نے منتخب کی تھیں، تاہم اعتراضات سامنے آنے کے بعد انہیں فوری طور پر واپس لے لیا گیا۔
حکومت نے تحقیقات مکمل ہونے تک اس انتخابی عمل سے وابستہ آٹھ افسران، جن میں کوآرڈینیٹرز، اکیڈمک افسران، پرنسپلز اور لیکچررز شامل ہیں، کو معطل کر دیا ہے، جبکہ سمگر شکشا سے وابستہ ایک کنٹریکچول ملازم کی خدمات بھی ختم کر دی گئی ہیں۔ اس کے علاوہ ایک سینئر آئی اے ایس افسر کو انکوائری آفیسر مقرر کرتے ہوئے 30 دن کے اندر رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔
حکومت نے دونوں کتابوں کے مصنفین اور پبلشرز کو جموں و کشمیر میں بلیک لسٹ کرنے کے ساتھ ساتھ ان کے شائع کردہ تمام مواد کو بھی یونین ٹیریٹری سے واپس لینے کا حکم دیا ہے۔ اس پورے معاملے نے سرکاری فنڈز سے خریدی جانے والی تعلیمی کتابوں کی جانچ پڑتال کے نظام اور انہیں منظور کرنے والی ماہرین کمیٹیوں کی جوابدہی پر بھی سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
ادھر وزیر تعلیم، صحت اور سماجی بہبود سکینہ ایتو نے اس معاملے کو “ناقابل برداشت اور ناقابل قبول” قرار دیتے ہوئے وقت مقررہ تحقیقات کا حکم دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ محکمہ اسکولی تعلیم کے سیکریٹری کو فوری طور پر تحقیقات شروع کرنے کی ہدایت دے دی گئی ہے تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ متنازع مواد سرکاری اسکولوں کی کتابوں تک کیسے پہنچا۔ سکینہ ایتو نے واضح کیا کہ جو بھی اس معاملے میں قصوروار پایا جائے گا اسے قانون کے مطابق سخت سزا دی جائے گی اور کسی کو بھی بخشا نہیں جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت تعلیمی نظام کی ساکھ برقرار رکھنے اور طلبہ کو معیاری اور ذمہ دارانہ تعلیمی مواد فراہم کرنے کے لیے پوری طرح پرعزم ہے۔
دوسری جانب جموں و کشمیر اسمبلی میں قائد حزب اختلاف اور بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے سینئر رہنما سنیل شرما نے کتاب “Personalities and Legends of J&K” پر فوری پابندی عائد کرنے اور اسے تمام سرکاری لائبریریوں اور تعلیمی اداروں سے واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے ڈاکٹر نریندر سنگھ، سنیل سیٹھی اور زوراور سنگھ جموال کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یہ کتاب دہشت گردی، علیحدگی پسندی اور بھارت مخالف نظریات کو فروغ دینے کی کوشش ہے اور اسے سرکاری لائبریریوں تک پہنچانا ایک منظم سازش کی عکاسی کرتا ہے۔
سنیل شرما نے دعویٰ کیا کہ ہلال احمد اور سنتوش مینا کی تصنیف اور پیراڈائز پریس کی شائع کردہ یہ کتاب تاریخ کے نام پر نوجوان نسل کے ذہنوں کو متاثر کرنے کی کوشش کرتی ہے۔ ان کے مطابق کتاب میں دہشت گردی اور علیحدگی پسند سرگرمیوں سے وابستہ بعض شخصیات کو “لیجنڈز” اور “آزادی پسند” کے طور پر پیش کیا گیا ہے جبکہ بھارت اور اس کی سیکورٹی فورسز کے خلاف سرگرمیوں کو ہمدردانہ انداز میں بیان کیا گیا ہے۔
انہوں نے الزام لگایا کہ کتاب میں مقبول بٹ، ہاشم قریشی، مسرت عالم بھٹ، سید علی شاہ گیلانی، عبدالغنی لون اور محمد فاروق رحمانی سمیت متعدد علیحدگی پسند شخصیات کو غیر معمولی اہمیت دی گئی ہے، جو نہ صرف تاریخ کو مسخ کرنے کی کوشش ہے بلکہ نوجوانوں کو گمراہ کرنے کا ذریعہ بھی بن سکتی ہے۔
بی جے پی رہنما نے مطالبہ کیا کہ کتاب کی تمام کاپیاں فوری طور پر ضبط کر کے سرکاری لائبریریوں، تعلیمی اداروں اور عوامی گردش سے ہٹا دی جائیں۔ انہوں نے کتاب کی خریداری اور منظوری دینے والے افسران، اسکریننگ کمیٹیوں اور لائبریرینز کے خلاف قانونی کارروائی کا بھی مطالبہ کیا۔ اس کے علاوہ انہوں نے جموں و کشمیر کی تمام سرکاری اور اسکولی لائبریریوں کا مکمل آڈٹ کرانے کی اپیل کی تاکہ اگر کسی اور کتاب میں بھی ایسا متنازع یا مبینہ علیحدگی پسند مواد موجود ہو تو اسے بھی فوری طور پر ہٹا دیا جائے۔
اس پورے معاملے نے جموں و کشمیر میں سرکاری تعلیمی اداروں کے لیے کتابوں کے انتخاب، ان کی جانچ پڑتال اور منظوری کے نظام پر نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ حکومت نے 30 دن کے اندر تحقیقات مکمل کرنے کی ہدایت دی ہے، جس کے بعد ذمہ دار افراد کے خلاف مزید انتظامی اور قانونی کارروائی کیے جانے کا امکان ہے۔
جموں و کشمیر
بارہمولہ میں منشیات سے متعلق بیداری پروگرام: ماہرین نے بڑھتی ہوئی منشیات کی لت کو قومی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیا
بارہمولہ کے بوائز ہائر سیکنڈری اسکول میں جمعرات کے روز منشیات سے متعلق ایک بیداری پروگرام کامیابی کے ساتھ منعقد کیا گیا۔ یہ پروگرام نشہ مکت بھارت ابھیان کے تحت سول ڈیفنس بارہمولہ کی جانب سے، ایس ڈی آر ایف/ڈیزاسٹر رسپانس ڈویژن بارہمولہ کے تعاون سے منعقد ہوا۔
اس پروگرام میں گیارہویں اور بارہویں جماعت کے طلبہ کی بڑی تعداد نے جوش و خروش کے ساتھ شرکت کی، جو نوجوانوں میں منشیات کے استعمال اور اس کے نقصانات کے حوالے سے بڑھتی ہوئی آگاہی اور تشویش کی عکاسی کرتا ہے۔ پروگرام کا آغاز ایک تعارفی نشست سے ہوا جس میں مقامی اور قومی سطح پر منشیات کے بڑھتے رجحان، اہم خطراتی عوامل اور بروقت روک تھام کی اہمیت پر روشنی ڈالی گئی۔
ماہرین کی ٹیم میں ڈاکٹر بالی (ڈویژنل وارڈن، سول ڈیفنس بارہمولہ)، محترمہ روحیلا (سینئر سائیکالوجسٹ)، جناب عابد سلیم (کلینیکل سائیکالوجسٹ) اور جناب ایوب (سیکٹر وارڈن، سول ڈیفنس) شامل تھے۔ ان ماہرین نے طلبہ کو منشیات کے جسمانی، نفسیاتی اور سماجی اثرات سے آگاہ کیا اور بروقت بیداری اور احتیاطی تدابیر کی اہمیت پر زور دیا۔
اس پروگرام کا مقصد طلبہ کو منشیات کی بڑھتی ہوئی وبا کے خطرات سے آگاہ کرنا، انہیں معلومات سے بااختیار بنانا اور ایک منشیات سے پاک معاشرے کی تعمیر میں فعال کردار ادا کرنے کی ترغیب دینا تھا۔
اپنے بیان میں ڈاکٹر عنایت میر، چیف وارڈن سول ڈیفنس بارہمولہ، نے کہا کہ منشیات کی لت کو جو روایتی طور پر ایک صحت عامہ کا مسئلہ سمجھا جاتا تھا، اب ایک سنجیدہ سماجی، تزویراتی اور قومی سلامتی کے چیلنج کے طور پر دیکھنا ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ خاص طور پر سرحدی اور حساس علاقوں میں ابھرتے رجحانات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ منشیات کا پھیلاؤ محض اتفاقی نہیں بلکہ ایک منظم حکمت عملی کے تحت معاشروں کو اندر سے کمزور کرنے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے، جو ہائبرڈ جنگ کا حصہ ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ منشیات کے منظرنامے میں تبدیلی فردی مسئلے سے بڑھ کر اجتماعی کمزوری کی شکل اختیار کر چکی ہے۔ نوجوانوں کی صلاحیتوں کا زوال، سماجی ڈھانچے کی کمزوری اور انسانی کمزوریوں کا استعمال اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ معاشرتی استحکام کو متاثر کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ اس تناظر میں منشیات کا پھیلاؤ ایک ایسا ہتھیار بن چکا ہے جو کم نظر آتا ہے مگر اس کے اثرات انتہائی گہرے ہوتے ہیں۔
ڈاکٹر میر نے زور دیا کہ منشیات کی لت کو صرف طبی مسئلہ سمجھنے کے بجائے ایک سماجی اور تزویراتی خطرہ سمجھا جائے جس کے لیے فوری اور مربوط اقدامات ناگزیر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کسی بھی قوم کی طاقت صرف اس کی سرحدوں میں نہیں بلکہ اس کے معاشرے کی صحت، مضبوطی اور یکجہتی میں ہوتی ہے۔ نوجوانوں کا تحفظ، سماجی ہم آہنگی کا فروغ اور منشیات کے نیٹ ورکس کا خاتمہ قومی سلامتی کے اہم تقاضے ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر بروقت اقدامات نہ کیے گئے تو یہ خاموش وبا ایک مستقل خطرے میں تبدیل ہو سکتی ہے۔
پروگرام کے اختتام پر طلبہ اور ماہرین کے درمیان ایک باہمی تبادلہ خیال ہوا، جس میں اجتماعی ذمہ داری، باشعور فیصلے اور نوجوانوں کی فعال شرکت کی اہمیت کو اجاگر کیا گیا۔
اہم خبریں
عالمی توانائی بحران کے خدشات کے باوجود دہلی کے گردواروں میں لنگر کی روایت جاری
امریکہ، اسرائیل اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی اور عالمی توانائی بحران کے باعث شہر میں کُکنگ گیس کی قلت کے خدشات بڑھنے کے باوجود دہلی کے گردواروں نے فیصلہ کیا ہے کہ ان کے لنگر خانے چوبیس گھنٹے جاری رہیں گے اور صدیوں پرانی لنگر کی روایت کسی بھی صورت میں متاثر نہیں ہونے دی جائے گی۔
قومی دارالحکومت کے اہم گردواروں، جن میں گردوارہ رکاب گنج صاحب، گردوارہ بنگلا صاحب اور گردوارہ سیس گنج صاحب شامل ہیں، کے کمیونٹی کچن ہر ہفتے تقریباً 40 ہزار افراد کو کھانا فراہم کرتے ہیں جبکہ ہفتے کے آخر میں یہ تعداد ایک لاکھ سے بھی تجاوز کر جاتی ہے۔ ان گردواروں کی انتظامیہ اور رضاکاروں نے فیصلہ کیا ہے کہ لنگر سیوا مسلسل جاری رکھی جائے گی۔ اس مقصد کے لیے گیس کے استعمال میں احتیاط، پائپ لائن گیس کی فراہمی اور ہنگامی منصوبہ بندی جیسے اقدامات کیے جا رہے ہیں تاکہ کوئی بھی زائر بھوکا واپس نہ جائے۔
یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب کمرشل ایل پی جی سلنڈروں کی کمی کے باعث شہر کے کئی ہوٹل اور ریستوران اپنے کام بند کرنے پر مجبور ہو چکے ہیں جبکہ متعدد دیگر بندش کے دہانے پر ہیں۔
خبر رساں ایجنسی یو این آئی (UNI) سے بات کرتے ہوئے گردوارہ حکام نے یقین دلایا کہ سپلائی میں مشکلات کے باوجود لنگر میں کھانے کی فراہمی بلا تعطل جاری رہے گی۔
گردوارہ انتظامیہ کے رکن ہرمیّت سنگھ کالکا نے بتایا کہ گردواروں کے کچن پائپ نیچرل گیس (PNG) کی پائپ لائن سے منسلک ہیں، اس لیے فی الحال ایندھن کی کوئی فوری کمی نہیں ہے۔
انہوں نے کہا:
“جب کووڈ-19 کے دوران پوری دنیا بند تھی، تب بھی ہم نے تمام انتظامات سنبھالے اور اس وقت بھی لنگر سیوا چوبیس گھنٹے جاری رکھی۔ مارچ کے آخر اور اپریل میں ہمارے دو بڑے پروگرام بھی طے ہیں جن میں بیساخی بھی شامل ہے۔”
کالکا نے مزید بتایا کہ اگرچہ کچن پائپ نیچرل گیس پر چل رہے ہیں، لیکن احتیاط کے طور پر کمرشل گیس سلنڈروں کا ذخیرہ بھی رکھا گیا ہے۔
انہوں نے کہا:
“تمام انتظامات کے باوجود ہم نے سیواداروں کو ہدایت دی ہے کہ وسائل کا ضیاع نہ ہو۔ ہم ہر چیز کو بہتر طریقے سے سنبھال رہے ہیں اور ابھی تک کوئی مسئلہ پیش نہیں آیا۔”
احتیاطی اقدام کے طور پر گردوارہ انتظامیہ نے وزارتِ پٹرولیم و قدرتی گیس کو بھی خط لکھا ہے تاکہ گیس سلنڈروں کی فراہمی بلا تعطل جاری رکھی جا سکے اور لنگر سیوا میں کوئی رکاوٹ پیدا نہ ہو۔
مرکزی وزیر ہردیپ سنگھ پوری کے نام لکھے گئے خط میں کالکا نے کہا کہ دہلی سکھ گردوارہ مینجمنٹ کمیٹی کے زیر انتظام تمام تاریخی گردواروں میں روزانہ عقیدت مندوں کو لنگر پیش کیا جاتا ہے۔
خط میں کہا گیا ہے:
“دنیا میں موجودہ جنگی صورتحال کے باعث گیس ایجنسیوں کی جانب سے سلنڈروں کی سپلائی متاثر ہو رہی ہے جس سے گردواروں میں لنگر کی تقسیم متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔”
انہوں نے وزارت سے اپیل کی کہ ڈی ایس جی ایم سی (DSGMC) کو گیس سلنڈروں کی مسلسل فراہمی یقینی بنائی جائے تاکہ تاریخی گردواروں میں لنگر کی روایت بغیر کسی رکاوٹ کے جاری رہ سکے۔
(مصنف: پرویندر سندھو)
-
دنیا4 days agoایران کا فی الحال امریکہ کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں: ایرانی وزیر خارجہ
-
جموں و کشمیر3 days agoیومِ آزادی سے قبل جموں و کشمیر پولیس نے سرحدی سامبا میں طویل فاصلے کی گشت اور فرضی انسدادِ دہشت گردی مشق کی
-
ہندوستان4 days agoطلبہ پر کارروائی کے معاملے پر حکومت کو گھیرتے ہوئے راہل کا مضمون، کھڑگے اور پرینکا نے حمایت کی
-
دنیا4 days agoسعودی عرب میں فیکٹری میں آگ کے سبب 16 بنگلہ دیشی مزدور ہلاک
-
جموں و کشمیر2 days agoاسپورٹس کوٹا پر مبنی ملازمتیں: جے اینڈ کے بی جے پی نے اعلیٰ سطحی جانچ کا مطالبہ کیا، احتجاجی کھلاڑیوں کی حمایت کی
-
دنیا4 days agoٹرمپ جوہری معاہدے کے بغیر ایران کے ساتھ تنازع ختم کرنے پر تیار: رپورٹ
-
دنیا3 days agoایران نے خود کو ایک ‘ناقابل تسخیر طاقت’ ثابت کیا ہے: عراقچی
-
دنیا3 days agoشام کے سابق صدر بشار الاسد کو سزائے موت سنادی گئی
-
دنیا3 days agoموساد کے سابق سربراہ کا انکشاف، ماضی میں ایران کی فردو جوہری تنصیب کا کئی بار دورہ کیا
-
دنیا4 days agoتجربہ کار آئی آر جی سی کمانڈر محسن رضائی ایران کے قومی سلامتی کے سربراہ مقرر
-
دنیا3 days agoکیسپین سمندر معاہدے کا مستقبل ایران کی پارلیمنٹ طے کرے گی: اسماعیل بقائی
-
دنیا3 days agoایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
